Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 5

U r mine
Zeenia sharjeel
Epi # 5

کل رات ہی وہ لوگ اس عالی شان کوٹھی میں موجود کوارٹر میں شفٹ ہوئے تھے کوارٹر دو کمروں کے ساتھ اٹیچ باتھ اور کچن پر مشتمل تھا کمرے چھوٹے مگر صاف ستھرے تھے۔۔۔ رات کا کھانا بھی ایک سرونٹ آکر انہیں دے گیا تھا،، شاید جگہ تبدیل ہونے کی وجہ سے مشعل کی آنکھ رات کو کافی دیر سے لگی اور ابھی بھی طلوع آفتاب سے پہلے کا وقت تھا تب اس کی آنکھ کھلی۔۔۔ وہ اٹھ کر کواٹر کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی سامنے لان پر گھاس دیکھ کر اس پر چہل قدمی کرنے لگی سامنے بڑی کوٹھی کو دیکھ کر وہ اندر رہنے والے مکینوں کا سوچنے لگی

"بڑے بڑے گھروں میں بسنے والے بڑے بڑے لوگ، جن کو نوکروں پر نظر رکھنے کے لیے بھی ایک نوکر چاہیے وقت کی رفتار سے بھی زیادہ تیز بڑھنے والے یہ لوگ، انکا تو اپنوں سے منسلک رشتوں کے لئے وقت نکالنا بھی مشکل ہوتا ہوگا پتہ نہیں یہ لوگ رشتے کیسے نبھاتے ہونگے"
مشعل نے چہل قدمی کرتے ہوئے تلخی سے سوچا اور سر جھٹکا

"مگر ولی تو امیر نہیں تھا وہ کیوں مجھ کو بیچ راستے میں چھوڑ گیا، اسے تو میرا ساتھ نبھانا چاہیے تھا۔۔۔ خود سے بھی زیادہ اعتبار کیا تھا میں نے اس پر۔۔۔۔ کیا کیا خواب دکھائے تھے اس نے۔۔۔۔ کیا کیا وعدے کئے تھے مجھ سے بے شک کوئی خواب پورا نہ کرتا کوئی وعدہ وفا نہ کرتا مگر مجھے اس طرح چھوڑ کر تو نہ جاتا"

سوچوں کا دھارا اچانک ماضی کی طرف چلا گیا اپنی سوچوں میں گم وہ اس کوٹھی کے قریب آگئی ایک دم سے چونکی اور دوبارہ مڑی اور جلدی جلدی قدم بڑھا کر کواٹر کی طرف جانے لگی کہیں کوئی دیکھ کر سوال جواب ہی نہ شروع کر دے

مشعل کو واپس جاتے دیکھ کر آریش نے پردہ سائڈ پر کیا اور اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو کہ کواٹر کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔۔ اچانک نیند سے اس کی آنکھ کھولی تھی تو گھڑی میں اس نے ٹائم دیکھا اجالا ہونے ہی والا تھا اب سونا بیکار تھا کیو نا آج میٹنگ میں دی جانے والی پریزنٹیشن پر ایک نظر ڈال لے یہی سوچ کر وہ بیڈ سے اٹھ کر ٹیبل سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھانے لگا مگر کھڑکی سے باہر لان میں نظر پڑی تو اس کو کوئی لڑکی لان میں چہل قدمی کرتی ہوئی نظر آئی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ کھڑکی کی طرف بڑھا مگر کسی لڑکی کو یوں کھڑکی میں کھڑے ہو کر دیکھنا بھی معیوب لگتا تھا یہی سوچ کر وہ پردے کی آڑ سے اسے دیکھنے لگا

"کون ہو سکتی ہے یہ لڑکی جو کل رات کواٹر میں شفٹ ہوئی ہے خاتون آکا ان کی بیٹی مگر یہ لڑکی کہیں سے بھی نوکر ٹائپ تو نہیں لگ رہی"
وہ ملگجے اندھیرے میں غور سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے سوچنے لگا گورا رنگ، خوبصورت نقوش، مناسب قد، اسمارٹ فیگر، کمر تک آتے بال۔۔۔ مگر وہ اسے اپنے آپ میں نہیں لگ رہی تھی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی چلتے چلتے وہ مزید اس کے کمرے کے قریب آئی اپنے خیالات سے باہر نکلی تو جانے کے لئے واپس مڑ گئی

"ایسی بھی کیا سوچیں لاحق ہوگئی ان محترمہ کو"
اریش نے مشعل کے بارے میں سوچا

"وہ جو بھی سوچ رہی ہو مگر میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں لاحول ولاقوۃ"

اپنے اوپر لاحول پڑھ کر، اس نے سر جھٹکا اور لیپ ٹاپ اٹھا کر واپس بیڈ پر بیٹھ گیا

***

کل والے واقعے کے بعد تعبیر کافی سہم گئی تھی اس لیے وہ آج یونیورسٹی بھی نہیں جا سکی دوسرا وہاج نے بھی اس کو منع کردیا کہ جب تک کوئی بوڈیگارڈ کا ارینج نہیں ہو جاتا اس کو باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے تابی کو رہ رہ کر کل والا واقعہ یاد آئے جا رہا تھا کیسے اس کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، کیسے اس کو وہ آدمی گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں لے جا رہے تھے، کیسے اس اجنبی نے اس کی جان بچائی اور کیسے اس اجنبی نے اس کے لئے گولی کھائی۔۔۔۔ تابی واش روم کی طرف گئی اور باسکٹ میں رکھی اپنی شرٹ دیکھنے لگے جس پر اس اجنبی کا خون لگا ہوا تھا

"اور اگر وہ مجھے نہ بچاتا تو آج میرا کیا حشر ہو رہا ہوتا۔۔۔۔ پتہ بھی نہیں کہ میں آج زندہ بھی ہوتی کہ نہیں۔۔۔ وہ خود اب پتہ نہیں کیسا ہوگا کتنا خون بہہ رہا تھا اس کے کندھے سے"
تابی مزمل کو یاد کرتے ہوئے سوچنے لگی

"حلیہ سے تو پورا موالی جیسا لگتا تھا مگر کام hero والا کر گیا"
سوچوں کا ارتکاز موبائل کی بیل نے توڑا۔۔۔ موبائل پر نظر ڈالی تو پرائیویٹ کولنگ لکھا ہوا نظر آیا

"پرائیویٹ کالنگ یہ کیسا عجیب نمبر ہے"
وہ کال ریسیو کرتے ہوئے سوچنے لگی

"ہیلو کون"
تابی نے پوچھا

"ایک رات نہیں آسکا تمہارے پاس تو تم ایک دن میں ہی مجھے بھول گئی۔۔۔ تم تو بہت ہی بے وفا ہو اسنو وائٹ"
موبائل میں سے جو آواز ابھری اس کی آواز سن کر تابی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔ اسے چند دن پہلے والا وہ ہیولا یاد آیا جو رات کو اس کے کمرے میں موجود تھا مگر تابی کا دماغ اس کی بات پر الجھ گیا

"تم وہی ہو نا جو اس رات میرے بیڈ روم میں موجود تھے۔۔ کیوں آئے تھے تم اور کیا چاہتے ہو"
تابی نے اس سے اپنی بات کی تصدیق چاہی اور ساتھ ہی سوال کیا

"اس رات تو تم نے مجھے دیکھ لیا تھا۔۔۔ اس رات ہی نہیں میں تو ہر رات تمہارے بیڈروم میں آتا ہوں۔۔۔ تاکہ تمہاری صورت دیکھ کر میرے پورے دن کا آغاز اچھا ہو سکے۔۔۔ کل رات سے میں شہر سے باہر ہو یقین مانو صبح کا آغاز بالکل اچھا نہیں ہوا،، اس لئے آج کال کر رہا ہوں۔۔۔ دیدار یار نہ سہی کم ازکم یار کی آواز سن کر ہی گزارا کر لو"
اس کے لہجے میں ہلکی ہلکی شوخی کی رمق موجود تھی جیسے وہ تابی سے بات کر کے بہت انجوائے کر رہا ہو

"کیا بکواس کر رہے ہو تم ایسا نہیں ہوسکتا تم ہر رات کیسے آسکتے ہو میرے بیڈروم میں"
خوف سے تابی کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اس نے بے یقینی کی کیفیت میں اس سے پوچھا

"یقین نہیں آرہا تمہیں میری بات کا اسنووائٹ،، ویسے تمہیں یقین بھی کیسے آئے گا تم تو سوتی کی اتنی گہری نیند میں ہوں کہ تمہیں کچھ بھی پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔ ورنہ میں تو ہر رات تمہارے پاس آ کر کافی دیر تک تمہیں دیکھتا ہوں اور جانے سے پہلے تمہاری سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں منتقل کر کے جاتا ہوں یہی ڈوس تو میرے لیے پورے دن انرجی کا کام کرتی ہے"
خمار آلود لہجے میں بولتا ہوا وہ تابی کے چاروں طباق روشن کر گیا

"شٹ اپ تمہیں شرم آنی چاہیے کسی لڑکی سے اس طرح فضول گفتگو کرتے ہوئے"
تعبیر کو اس کی بات پر ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں آیا اس کی نیند اتنی بھی پکی نہیں دی کہ کوئی اتنی بڑی جسارت کرے اور اس کی آنکھ نہ کھلے

"شرم کیسی میری جان، کسی غیر سے تھوڑی ایسی باتیں کر رہا ہوں جو شرم آئے۔۔۔ تم تو میری ہو نا اس دن باور کروا کر تو گیا تھا تمہیں یو آر ماین"
تعبیر کو چند دن پہلے اپنے کان میں کی جانے والی سرگوشی یاد آئی اس نے فورا کال کاٹ دی

پسینے سے نم ہوتی ہوئی ہاتھ کی ہتھیلیوں کو اپنی شرٹ سے رگڑا ریموٹ اٹھا کر ایل ای ڈی پر سیکیورٹی کیمرہ آن کیا
ہفتے پہلے کی رات کے 12 بجے کے بعد ویڈیو لگائی۔۔۔۔ وہ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے مسلسل ناخن چبائے جا رہی تھی اور بے چینی سے جہاں جہاں کیمرے نسب تھے اسکرین پر ان جگہوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ٹھیک رات کے تین بجے کے ٹائم کے بعد تین بج کے بیس منٹ کا ٹائم شو ہو رہا تھا یعنی بیس منٹ کے لیے سارے کیمرے بن کئے گئے تھے

"یعنی وہ پورے بیس منٹ میرے روم میں موجود تھا"
یہ سوچ آتے ہی تابی کا دل زور سے دھڑکنے لگا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریمور اٹھا کر اس نے اگلے دن رات کے تین بجے کی ویڈیو لگائیں مگر 2.55 کے بعد سوا تین بجے کا ٹائم شو ہو رہا تھا خوف سے اس کا وجود کاںنپنے لگا

"کوئی اتنی سکیورٹی کے باوجود میرے روم میں اس طرح کیسے آ سکتا ہے اور وہ یہاں آکر کیا کرتا ہے"
وہ یہ سوچ کر مزید خوفزدہ ہو گئی

***

"اور بھئی کیا حال ہے تمہارا طبیعت کیسی ہے اب"
کل وہاج کے دو آدمی مزمل کو زخمی حالت میں اسپتال لے کر آئے تھے

تابی نے وہاج کو پورا قصہ بتایا کہ کیسے اس اجنبی نے ان دو آدمیوں سے اس کو بچایا تو وہاج نے ہی اسپتال کا پورا خرچہ اٹھایا اور اچھے سے اس کا ٹریٹمنٹ کروایا اور آج اسپیشلی اس سے خود ملنے آیا

"اللہ کا کرم ہے سر آپ بتائے میڈم کیسی ہیں اب" 
مزمل نے وہاج کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"کیا تم ہمیں۔۔۔ میرا مطلب ہے تعبیر یا مجھے جانتے ہو"
 وہاج سمجھ گیا وہ میڈم تابی کو کہہ رہا تھا اور اسی کی خیریت پوچھ رہا تھا۔۔۔ تعارف کرائے بناء اسکا تابی کے لیے وہاج سے پوچھنا،،، وہاج کو کنفیوز کر گیا

"جاننے کے لئے تو ایک لمحہ لگتا ہے سر۔۔۔ ویسے بھی میں کل تکلیف میں ضرور تھا مگر ہوش و حواس قائم تھے میرے۔۔ میڈم نے آپ کو بابا کہا اس وجہ سے آپ سے میڈم کی خیریت پوچھی" مزمل وضاحت دیتے ہوئے بولا

"اوہ اچھا اچھا ہاں تابی بھی ٹھیک ہے۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ تم نے کیسے اس کی جان بچائی اسی کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں میں"
وہاج کو وہ کافی تیز لگا

"بچانے والی ذات تو اوپر والے کی ہے۔۔۔ بس وہی کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا دیتا ہے"
مزمل نے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا

"بے شک، تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ ویسے کام کیا کرتے ہو تم" وہاج نے کچھ سوچتے ہوئے مزمل سے پوچھا

4 مہینے پہلے قمر سومرو (سیاستدان) کے خاص ملازموں سے تھا مگر کچھ وجوہات کے بناء وہاں سے نوکری چھوڑی۔ ۔۔ فلالحال جاب کی تلاش میں  ہوں"
مزمل نے وہاج کو بتایا

"ٹھیک ہے مزمل ایسا ہے کہ ابھی تم ریسٹ کرو، میرا یہ کارڈ ہے اسے رکھ لو جب مکمل صحت یاب ہوجاؤ تو تم مجھ سے ضرور ملنا"
وہآج نے اس کو اپنے والٹ سے نکال کر  کاٹ دیا جو مزمل نے سر ہلا کر تھام لیا اور وہاج جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment