Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 4

U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 4

تابی سو کر اٹھی بالوں کی اونچے پونی بنا کر جیسے ہی اس کی نظر دائیں طرف ڈریسر پر پڑی تو خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئی

"یو آر مائین"
ڈریسر پر بڑا بڑا لپ اسٹک سے لکھا ہوا تھا

"یعنی کل رات میرے کمرے میں کوئی آیا تھا۔۔۔ مطلب وہی دوبارہ آیا تھا"
اسے تین دن پہلے رات والا منظر یاد آیا جب وہ اس کے اوپر جھکا ہوا تھا اور کانوں میں یہی لفظ کہہ رہا تھا خوف سے اس نے جھرجھری لی

"نہیں مجھے بابا کو بتانا چاہیے"
وہ فیصلہ کرتے ہوئے اٹھی

****

"وہاج صاحب آپ کو خبر دینی تھی کل رات جو اسلحہ آنے والا تھا"
فضل کے بولنے پر وہاج نے قہر آلود نظروں سے گھور کر فضل کو دیکھا

"کتنی بار کہا ہے گھر میں ایسی باتوں سے گریز کیا کرو جاو یہاں سے"
وہاج نے ڈ پٹنے والے انداز میں فضل سے کہا تو فضل وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ وہاج نہیں چاہتا تھا کہ تابی کے کان میں کوئی بھی ایسی بات پڑے اس وجہ سے وہ بہت احتیاط برتتا تھا اور اس نے ملازموں کو بھی خاص ہدایت دی ہوئی تھی

"گڈ مارننگ بابا کیسے ہیں آپ۔۔۔ کب واپس آئے"
تابی نے صوفے پر بیٹھے ہوئے وہاج سے کہا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی

"گڈ مارننگ بیٹا۔۔۔ آج صبح ہی واپسی ہوئی ہے، پہلے آپ یہ بتاؤ کہ آپ نشاء کے گھر کیوں نہیں رکی رات میں"
وہاج کو اسلحہ کی خرید کے لیے شہر سے باہر جانا تھا اور جب بھی ایسا ہوتا تھا تو وہ تعبیر کو احتیاط کے طور پر اس کی دوست نشاء کے گھر بھجوا دیتا۔۔۔۔ نشا کے باپ سے بھی اس کی اچھی علیک سلیک تھی

"نشاء کا خود اپنی کزن کے ساتھ اسٹے کا پروگرام تھا اس وجہ سے میں نے اس کو نہیں بتایا کہ میرا بھی تمہارے گھر آنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔۔ آپ بہت بزی رہنے لگے ہیں بابا اپنی بیٹی کو تو بھول ہی گئے ہیں"
تعبیر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

"بیٹا پتہ تو ہے تمہیں اپنے بابا کی کاروباری مصروفیت کا، مگر نیکسٹ سنڈے کا دن پورا میری بیٹی کے نام پرامس"
وہاج نے تعبیر کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے وعدہ کیا

"بابا مجھے ایک اور بات کرنی تھی"
تعبیر نے وہاج کو بتانے کا ارادہ کیا

"ارے ہاں آج شام کو ہی آپ کے اکاؤنٹ میں آپ کی پاکٹ منی آجائے گی"
وہاج نے اپنا اہم فریضہ یاد کرتے ہوئے کہا

"بابا مجھے پاکٹ منی کی ضرورت نہیں ہے مجھے دوسری بات کرنی تھی آپ سے، دراصل ہفتے دس دن سے یونیورسٹی کے آنے اور جانے کے ٹائم پر مجھے احساس ہوتا ہے جیسے کوئی کار کو واچ کر رہا ہے جسے میں نے اپنا وہم تصور کرکے جھٹک دیا مگر پھر رات کو مجھے فیل ہوا کہ کوئی میرے بیڈروم میں آیا ہو"
تعبیر نے تین دن پہلے والی بات کو گول کرکے وہاج کو باقی ساری بات بتائی جس سے وہاج ایک لمحے کو سکتے میں آگیا

"تابی اتنی بڑی بات اور تم مجھے اب بتا رہی ہوں۔۔۔ اتنی سیکیورٹی کے باوجود کوئی گھر کیسے پہنچ سکتا ہے"
وہاج کے لئے یہ واقعی تشویش والی بات تھی 

"اسی وجہ سے نہیں بتا رہی تھی ہوگیے نا آپ پریشان"
تعبیر نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"تابی بچوں جیسی باتیں نہیں کرو۔۔۔ آج سے تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں بلکہ فضل کے ساتھ یونیورسٹی جاؤں گی"
وہاج نے تعبیر پر حکم صادر کیا اور باقی گھر کے ملازموں اور واچ مین سے بھی پوچھ گچھ کا ارادہ رکھا

"بابا آپ کو پتہ ہے نا اس بڑی بڑی مونچھوں والے فضل سے مجھے کتنی چڑ ہے میں اس کے ساتھ بالکل نہیں جاونگی"
تعبیر چڑتے ہوئے کہا

"بیٹا احتیاط کے لئے کہہ رہا ہوں آج ایڈجسٹ کرلو پھر میں آپ کے لئے باڈی گارڈ کا انتظام کر دوگا"
وہاج کے کہنے پر وہ منہ بنا کر اٹھ گئی اور یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے باہر نکل گئیی

****

"او بھیا آج صبح صبح کیسے دیدار کروا دیے تو نے"
اجمل نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا

"بس جانی ایک حسین پری خواب میں آئی تو صبح صبح آنکھ لگی۔۔۔ سوچا آج ناشتہ تیرے ساتھ ہی کر لو"
مزمل نے بڑی سی انگڑائی لیتے ہوئے اجمل کو رواداد سنائی

"بھیا غریب اور بے روزگار آدمی کا خوابوں میں ہی پریاں دیکھنے کا حق ہے لہذا کوئی کام کاج ڈھونڈ اور اگر جوتے نہیں گھسے جاتے۔۔۔ تو میرا مشورہ مان اور ایک پان کا اسٹال تو بھی کھول لے۔۔۔۔ پری نا سہی گلی کے نکّڑ پر جو نرگس رہتی ہے قدوس صاحب کی بیٹی وہ تو مل ہی جائے گی"
اجمل نے اپنی طرف سے بھلا مشورہ دیا اور اس کے مشورے پر مزمل کا منہ کڑوا ہوگیا

"نرگس، وہ غریبوں کی راکھی ساون۔۔۔۔ خدا کو مان یار اب اتنے بھی برے دن نہیں ہیں۔۔۔ اور پان کے اسٹال کی بھی تو نے خوب کہی۔۔۔ یہ پنواڑی والا کام تجھے ہی مبارک ہو۔۔۔۔ ناشتہ کروانا ہے تو کرا نہیں تو دل مت جلا"
مزمل نے جلتے ہوئے کہا

"میں نے تو نیک مشورہ دیا تھا بھیا۔۔۔ اب تجھے کوئی میڈم شیڈم تو ملنے سے رہی،،  چھوٹے دو گرما گرم چائے لے آ"
اجمل نے سامنے ہی ہوٹل پر آواز لگاتے ہوئے کہا

صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے معمول سے کم ٹریفک تھا ایسے میں اچانک فائر کی آواز آئی مزمل اور اجمال فورا نیچے بیٹھ گئے ایک دم بھگدڑ مچ گئی۔۔۔۔ مین روڈ پر ایک گاڑی سے دو آدمی نکلے اور اپنے سامنے والی گاڑی کے اوپر اس میں سے ایک ادمی نے ڈرائیور پر فائر کیے۔۔۔۔ گاڑی کا ڈرائیور خونم خان اور زخمی ہوگیا گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے

وہ دونوں آدمی گاڑی کے سامنے آئے گاڑی کا دروازہ کھول کر کار میں چھپی ہوئی لڑکی کو بالوں سے کھینچ کر باہر نکالا، سب لوگ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے مگر آگے بڑھنے کی ہمت کسی میں نہیں ہوئی کیونکہ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں اسلحہ تھا اور اپنی جان کا رسک لینے کے لیئے کوئی بھی تیار نہ تھا

"چھوڑو مجھے پلیز کوئی ہلپ کرو میری"
تعبیر روتے ہوئے چلا رہی تھی اور ان میں سے ایک آدمی اس کو بازو سے کھینچتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف لے جا رہا تھا دوسرا آدمی ہاتھ میں ہتھیار پکڑا ہوا اس کے پیچھے چل رہا تھا

"کیا کر رہا ہے مزمل، پاگل ہو گیا ہے کیا" مزمل کو اٹھتا دیکھ کر اجمل گھبرا کر بولا

"تو دیکھتا جا بس" مزمل چائے کا کپ لے کر ان کی طرف بڑھا

"آوئے وہی رک جا"
پسٹل پکڑے شخص نے مزمل کو سامنے سے آتا دیکھ کر وارن کیا

"لڑکی کہہ رہی ہے اس کو چھوڑ دو"
مزمل چائے کا سپ لیتے ہوئے باری باری ان دونوں کو دیکھ کر ایسے کہنے لگا جیسے لڑکی کی بات ان دونوں نے نہیں سنی ہو

"کیوں بہن ہے یہ تیری۔۔۔ یا باپ لگتا ہے تو اس کا"
تعبیر کا ہاتھ پکڑا ہوا آدمی مزمل کو دیکھ کر بولا

"میں نے اس سے جو رشتہ بنانا ہوگا وہ میں طے کرلوں گا۔۔۔ تو ہاتھ چھوڑ اسکا"
تعبیر کا بازو پکڑے ہوئے آدمی سے کہنے کے ساتھ ہی مزمل نے، اس کے برابر والے آدمی پر  گرم چائے کپ سمیت اچھالی۔۔۔۔ گرم چاۓ اچانک منہ پر پڑنے سے وہ ایکدم بلبلا اٹھا تو مزمل نے اس کو زور دار لات ماری جس سے پسٹل اس کے ہاتھ سے دور جاگری۔۔۔۔
مزمل نے ایک لمحہ ضائع کئے بناء دوسرے شخص کے منہ پر پوری طاقت سے زوردار مکا مارا وہ آدمی اپنی گاڑی سے ٹکرایا

"میڈم آب شکل نہیں دیکھیے بھاگیں"
مزمل تعبیر کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا تو تعبیر کو ہوش آیا ہوں زور سے سر ہلا کر مزمل کے ساتھ بھاگنے لگی

پہلے آدمی نے اپنا پسٹل اٹھایا اور ان کا نشانہ لینا چاہا دوسرے ساتھی نے اس کی پسٹل کر وہ نیچے کیا

"کیا کر رہے ہو لڑکی زندہ چاہئے پکڑو ان دونوں کو"
وہ دونوں بھی ان کے پیچھے بھاگے

مزمل تعبیر کا ہاتھ پکڑے بہت تیز بھاگ رہا تھا، تھوڑی دور جاکر تعبیر نے اس سے اپنا ہاتھ چڑھایا اور مختلف سمت بھاگنے لگی

"کیا کر رہی ہو وہاں آگے راستہ بند ہے وہ لوگ آسانی سے پکڑ لے گے"
مزمل نے چیختے ہوئے کہا

"کردی نہ مدد بہت بہت شکریہ، اب اپنے راستے جاو"
تابی نے اپنی من مانی کرتے ہوئے کہا اور گلی میں بھاگنے لگی

"بیوقوف لڑکی"
مزمل کو تعبیر کے اوپر بہت غصہ آیا اور وہ بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا

"ادھر مڑے ہیں وہ دونوں جلدی آؤ"
وہ دونوں آدمی بھی مزمل اور تعبیر کے پیچھے بھاگے

گلی کے آخر میں پہنچ کر جب تعبیر کو راستہ سمجھ میں نہ آیا تو سامنے بڑے سے گیٹ کو عبور کر کے اندر داخل ہوگئی۔۔۔۔ مزمل اس کی عقل پر ماتم کرتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا وہ ایک قبرستان تھا۔۔۔

تعبیر نے چاروں طرف نظر دوڑائی واپس کہاں جاتی وہ مزید آگے بھاگی ایک گہرا گڑھا گدا ہوا تھا تعبیر وہی پر رک گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی

"لوگوں سے سنا تھا لیکن آج دیکھ بھی لیا واقعی خوبصورت لڑکیوں کی عقل انکے گھٹنوں میں ہوتی ہے"
مزمل تعبیر کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے بولا

"کیا مطلب ہے تمہارا یعنی تم نے مجھے بے وقوف کہاں"
تعبیر نے غصے سے شخص کو دیکھا جو حلیے سے پورا لوفر لگ رہا تھا

"خوبصورت بھی تو کہا ہے وہ آپ نے نوٹ نہیں کیا"
مزمل نے اس کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا

"‏شٹ اپ اپنا راستہ ناپو جاو یہاں سے"
تعبیر اسکا تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا احسان بھول کر غصے میں بولی

"میڈم وہ دونوں آپ کو اور مجھے اوپر پہنچانے کے لئے یہاں پر آتے ہوں گے۔۔۔ آپ نے یہاں پر آکر ان کا کام اور بھی آسان کردیا ہے اب جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا کریں"
مزمل نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا

"تمہیں کس حکیم نے مشورہ دیا کہ یہاں میرے پیچھے آو مرنے کے لیے جو مجھے کرنا ہوگا میں کر لو گی دماغ مت کھاو زیادہ"
تعبیر نے بدلحاظی کی انتہا کرتے ہوئے بولا

"موت سے تو ہر ایک کو ڈر لگتا ہے۔۔۔ اب بندہ حسن کے ساتھ ایسا سلوک دیکھے تو تھوڑا جذباتی ہو ہی جاتا ہے"
مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا اس کی نظر اس گڑھے پر گئی جو تعبیر کے بالکل پیچھے تھا
گیٹ کھلنے کی آواز پر مزمل تعبیر کے پاس کھڑا ہوگیا۔۔۔ وہ دونوں آدمی اندر داخل ہوئے، تو تعبیر کو ایک دفعہ پھر موت اپنی آنکھوں کے سامنے منڈلاتی ہوئی نظر آئی جبکہ مزمل نے سرنڈر کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کر لیے۔۔۔۔ مگر اس آدمی نے پھر بھی پسٹل اوپر کر کے نشانہ لیا تو مزمل نے تعبیر کے سامنے دیوار بن کر اسے باہوں کے حصار میں لیا جس سے گولی مزمل کے کندھے پر لگی۔۔۔۔ گولی لگنے پر وہ مزید تعبیر پر جھکا،، تعبیر کا بیلنس بگڑا وہ دونوں گڑھے میں جاگرے

مزمل تعبیر کے اوپر گرا ہوا تھا اس کے کندھے سے خون نکل کر تعبیر کے کپڑوں میں جذب ہو رہا تھا۔۔۔۔ خوف کے مارے تعبیر کی سسکیاں نکلنے لگی

"گھبرائیے نہیں میڈم آپ کو کچھ نہیں ہوگا"
اس کی اپنی جان پر بنی ہوئی تھی لیکن تعبیر کو روتا دیکھ کر وہ اسے دلاسا دینے لگا

مزید دو گولیاں چلنے کی آواز آئی اور اس کے بعد قدموں کی آواز قریب آنے لگی

"تابی۔۔۔ تابی بیٹا کہاں ہو تم"
وہاج کی آواز تعبیر کے کانوں میں پڑی

"بابا پلیز ہمہیں یہاں سے نکالیں"
تعبیر نے روتے ہوئے کہا

وہاج کے ساتھ دو گارڈز گڑھے کے پاس پہنچے انہوں نے مزمل کو نکالا اس کے بعد وہاج نے آگے ہاتھ بڑھا کر تعبیر کو نکالا

"تابی ٹھیک ہے میرا بچہ"
وہاج نے تعبیر کے رنگے ہوئے خون کے کپڑوں کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے کہا

"بابا میں ٹھیک ہوں"
تابی روتے ہوئے وہاج کے گلے لگ گئی

"یو باسٹرڈ گولی مار دو اس کو بھی"
وہاج نے مزمل کے گریبان پکڑتے ہوئے کہا

دونوں گارڈز نے مزمل کو پکڑا ہوا تھا مزمل کی گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی تھی

"نہیں بابا اس نے تو میری جان بچائی ہے بلکہ میری وجہ سے اس کو گولی لگی ہے"
ایک دم تابی نے آگے بڑھ کر بولا۔۔۔۔ تابی کی آواز پر مزمل نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا اور پھر اس کی آنکھیں دھندلانے لگی

"اسپتال لے جاو اسے جلد سے جلد اور فوری ٹریٹمنٹ کراو اس کا"
وہاج نے اپنے گارڈ سے کہا اور تابی کو لے کر وہاں سے چلا گیا وہ تو شکر ہے فضل کا کہ اس نے زخمی ہونے کے باوجود وہاج کو فورا کال کرکے ساری صورتحال کا بتا دیا تھا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment