U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 3
"اریش بابا میں اندر آ سکتی ہو"
اریش ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا جب جینی اس کے روم کا دروازہ ناک کرکے بولی
"یس کم ان"
اریش نے دروازہ دیکھتے ہوئے کہا
"اریش بابا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"
جینی جو کہ پچاس سالہ شفیق خاتون تھی اور کافی سالوں سے اریش کے پاس نوکری کے فرائض انجام دے رہی تھی، قابل اعتبار ہونے کی وجہ سے ارریش ان کی بہت عزت کرتا تھا
"پلیز جینی بیٹھیے اگر کوئی پرابلم ہے تو بتائے"
اریش نے انہیں صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خود بھی صوفے پر بیٹھ گیا
"اریش بابا روزی کا ہم نے بتایا تھا ناں آپ کو اس کو ہماری ضرورت ہے ہمیں اس کے پاس جانا ہوگا اس وجہ سے ہم یہاں پر مزید کام نہیں کر سکتے" جینی کی بیٹی روزی جو کہ ماں بننے والی تھی اور اس وقت اسے اپنی ماں کی ضرورت تھی جینی نے اپنی نوکری چھوڑنے کی وجہ اریش کو بتائی
"وہ تو ٹھیک ہے جینی لیکن اگر آپ چلے جائے گیں تو پھر گھر کو کون سنمھاے گا۔۔۔ دیکھا نہیں آپ نے ایک دن آپ کو کوئی کام ہوتا ہے یا آپ بیمار ہو جاتی ہیں تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور مجھے گھر میں بے ترتیبی بالکل پسند نہیں، بہت پرابلم ہوجائے گی میرے لئے"
آریش سوچتے ہوئے کہنے لگا
"اریش بابا اتنے سالوں سے ہم نے آپ کے پاس کام کیا ہے آپ کو اس طرح پریشان چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔ ہم نے اس کا بھی ارینج کر لیا ہے، آکا بہت اچھی ہے میری جگہ وہ یہاں کا چارج سنبھال لیں گی اسکے لیے آپ فکر مند نہ ہوں"
جینی نے اریش کو پروبلم کا سلوشن بتاتے ہوئے کہا
"آکا۔۔۔ یہ آکا کون ہیں۔ ۔۔ نہیں نہیں میں ایسے کسی کو نہیں رکھ سکتا نہ بھروسہ کرسکتا ہوں خیر میں کچھ نہ کچھ سوچوں گا کیا کرنا ہے"
اریش نے فورا انکار کردیا
"بابا آکا میرا مطلب ہے بتول بی بی وہ میرے محلے کی ہی خاتون ہیں۔۔۔ صاف ستھری سفید پوش اور ضرورت مند بھی ہیں مگر میں ان کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ان کو یہاں رکھنے کے لئے نہیں کہہ رہی ہوں، آپ کو بھی ضرورت ہے اور وہ قابل اعتبار ہیں ان کی گارنٹی میں آپ کو دے سکتی ہوں باقی جیسا آپ مناسب سمجھے"
جینی نے اپنی بات مکمل کر کے آریش کے جواب کا انتظار کیا
"اگر آپ گرانٹی لے رہی ہیں تو پھر ٹھیک ہی مل لیتے ہیں پھر بتول بی بی میرا مطلب ہے آکا سے"
آریش نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کیونکہ آفس کے سو بکھیڑے اس کے بعد گھر کے لیے وہ کہاں سے کوئی قابل اعتماد انسان ڈھونڈتا
"اریش بابا ایک بات اور ہے دراصل وہ آکا کا گھر کرائے کا تھا، جو وہ کل پرسوں میں خالی کر رہی ہیں اگر اپنی فیملی کے ساتھ وہ یہی کوارٹر میں رہ لیں"
جینی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
"ٹھیک ہے مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں مگر آپ انہیں میری نیچر اور گھر کے رولز کا سمجھا دئیے گا اور آپ یہ رکھئے پلیز"
اریش نے اٹھ کر درازس سے چیک بک سے چیک نکال کر جینی کو تھماتے ہوئے کہا
"ارے نہیں اریش بابا سیلری تو ہمیں مل چکی ہے اس کی ضرورت نہیں ہے" جینی نے انکار کرتے ہوئے کہا
"یہ میں آپ کو نہیں بلکہ روزی کو دے رہا ہوں بھائی ہونے کی حیثیت سے، آپ اسے میری طرف سے دی دیئے گا اور بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک آپ کہہ سکتی ہیں" اریش نے مسکرا کر کہا۔۔۔جینی نے تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے چیک لے لیا اور روم سے نکل گئی
اریش کے ماں باپ کا انتقال دو سال پہلے اگے پیچھے ہو گیا تھا اس کی دو بہنیں بھی تھی اور دونوں شادی شدہ اور اپنی اپنی فیملیوں میں بزی۔۔۔۔ اریش ایک سنجیدہ نیچر کا انسان تھا ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کے باوجود اس میں اس میں شو بازی یا دکھاوا ہرگز نہیں تھا۔ ۔۔ یہی وجہ تھی کہ 29 سال کا ہونے باوجود ابھی تک کنوارہ تھا دونوں بہنوں نے بہت چاہا اسکی شادی ہوجائے مگر اریش کو اپنے سرکل میں ایسی کوئی لڑکی دل کو نہیں بھائی جسے شریک حیات بنایا جائے۔۔۔ اپنا اشتہار لگا دی لڑکیاں اسے بےحد ناپسند تھی
***
"ہانی منہ کھولو جلدی سے"
مشعل نے اسے نوالہ بنا کر کھلانا چاہا
"پر مما ہانی کو اسپینش پسند نہیں"
ہانی نے منہ بنا کر بولا تو مشعل نے اس کو گھور کر دیکھا
"آپ کو معلوم ہے اسپینش کتنا ضروری ہوتا ہے اس میں کتنے پروٹین اور آئرن ہوتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے" مشعل نے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا
"مما آئیرن اور پروٹین چکن میں بھی ہوتے ہیں اور ہانی کو چکن کھانا ہے آپ نے کل بھی کہا تھا کہ چکن بنائے گی"
ہانی نے معصومیت سے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ہانی نیکسٹ ٹائم چکن بنالو گی، ابھی آپ اسپینش کھاؤ شاباش میرا بیٹا" مشعل نے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا ہانی کی یہ اچھی عادت تھی کہ وہ ضد نہیں کرتا تھا
"مجھے تم ہی کچھ بتانا ہے"
آکا نے جب دیکھا کہ مشعل ہانی کھانا کھلا چکی ہے تب انہوں نے مشعل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو مشعل نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا
"وہ ہماری گلی کے آخر میں جو جینی رہتی ہے نا۔۔۔۔ اس نے ایک جاب بتائی ہے جاب بھی کیا ہے سمجھو فری میں ہماری رہائش کا مسئلہ ہی حل ہو گیا، نوکروں پر نظر رکھنی ہے اور سیلری بہت اچھی ہے"
آکا نے اپنی طرف سے مشعل کو خوشخبری دی
"اور وہ نوکری کرے گا کون"
مشعل نے اپنے دونو ہاتھ میز پر رکھ کر پوچھا
"تم تو اسکول میں جاب کر رہی ہو اور دو مہینے بعد ہانی کا بھی ایڈمیشن کروا دوں گی، تو میں سارا دن گھر میں کیا کروں گی دیکھو سب سے بڑی بات یہ ہے۔۔۔ اس گھر میں صاف ستھرا کواٹر ہے سمجھو اس طرح ہماری رہائش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا"
اکا نے خوشی خوشی مشعل کو ساری بات بتائی
"کیا ہوگیا ہے آپ کو اس عمر میں آپ نوکری کریں گے اور وہ بھی نوکروں والے کام اس سے تو بہتر ہے میں فرید کو کال کر دیتی ہوں وہ آپ کو آکر لے جائے"
مشعل ان کی بات سن کر ہتھے سے اکھڑ گئی
"ارے بیوقوف میں کونسا وہاں جھاڑو پوچھا کر رہی ہوں بس سپروائزر بن کر نوکروں پر نظر رکھنی ہے یوں سمجھو مفت کے پیسے مل رہے ہیں۔۔۔ اور یہ فرید کی دھمکی مجھے نہیں دو اگر میں وہاں چلی گئی تو اس کی بیوی ایسے ہی نہیں کھلائے گی بدلے میں وہ مجھ سے جھاڑو پوچھا ضرور کرائے گی اور ویسے بھی میں جینی سے بات کر چکی ہوں تم کچھ نہیں بولوں گی اب"
اکا نے بات ختم کرنے والا انداز اختیار کیا
"مجھے نہیں اچھا لگے گا اس طرح آپ کسی کے گھر میں۔۔۔ اس سے تو بہتر ہے آپ کی جگہ میں کام کر لیتی ہوں وہاں پر"
مشعل نے بے بس ہو کر کہا پرسوں آنہیں گھر خالی کرنا تھا دوسری جگہوں کے کرائے اور ایڈوانس دیکھ کر وہ چپ ہوگئی اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں بچا تھا
"تم آرام سے اپنی جاب کرو بی بی نوکری چھوڑ کر گھر میں رہوں گی تو میری تم سے زیادہ دنوں تک نہیں بننے والی۔۔۔ صرف ہانی کے ساتھ میرا گزارا ممکن ہے اور کسی کو برداشت نہیں کرتی میں اپنے سر پر"
اکا نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے مشعل سے کہا جس پر مشعل اکا کے گلے لگ گئی
"کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر مجھے آپ کا سہارا نہیں ہوتا تو میرا کیا ہوتا"
مشعل نے افسردگی سے کہا
"اچھا بس زیادہ افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے خوشی ہے اللہ پاک نے ہمارے لیے نیا راستہ کھول دیا اور رہائش کا مسئلہ حل کر دیا۔۔۔ دیکھا تم نے میں نے کہا تھا۔۔۔ اللہ ایک در بند کرتا ہے تو دوسرا کھول دیتا ہے کبھی اس کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے"
اکا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
"بے شک"
مشعل مسکرا کر برتن اٹھانے لگی
***
"ارتضیٰ چھوڑو اسے مجھے دے دو دعا کو وہ گر جائے گی تمہاری گود سے"
ارتضیٰ دعا کو گود میں اٹھاتا ہوا روم میں آیا تو مریم نے اس کو دیکھ کر بولا
"مما میں اسے کبھی گرنے نہیں دوں گا یہ میری اسنووائٹ ہے"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"بیٹا عائشہ آنٹی ابھی گھر پر موجود نہیں ہے اگر وہ رو گئی تو اسے چپ کرانا مشکل ہوجائے گا"
مریم نے دعا کو ارتضیٰ سے لےکر واکر میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عائشہ مریم کے شوہر یاور کے ساتھ اسرار سے ملاقات کے لئے پولیس اسٹیشن گئی تھی مریم اور یاور نے عائشہ کے انوار بھائی اور بھابی کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ عائشہ اور دعا کا اس مشکل وقت ہے اسے آپ کی ضرورت ہے مگر انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا اس کو ایدھی سینٹر چھوڑ آو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔۔۔
عائشہ ویسے بھی کافی بیمار رہنے لگی تھی اس نے بھی مریم سے یہی کہا کہ وہ ایدھی سینٹر جانا چاہتی ہے جس پر مریم نے اسے خوب سنائی اور دوسرا مریم کا شوہر یاور بھی رحمدل طبیعت کا انسان تھا اس نے عائشہ کو بہن بنا کر اپنے گھر میں جگہ دی، پچھلے چار ماہ سے وہ مریم کے پاس ہی تھی۔۔۔۔ دعا بھی اور مریم اور ارتضیٰ سے کافی ہل چکی تھی مگر سب سے زیادہ اٹیچ ہو ارتضیٰ سے تھی کیونکہ ارتضیٰ اسکول سے آنے کے بعد اپنے ساتھ اسے لگائے رکھتا۔۔۔ دروازے کی دستک پر مریم نے دروازہ کھولا گیا اور عائشہ اندر آئے
"کیا ہو عائشہ کچھ معلوم ہوا اسرار بھائی کی کب تک سزا ختم ہوگئی" مریم نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ شاید کوئی عائشہ کے لئے اچھی خبر ہو
"میں نے امید چھوڑ دی ہے کچھ بھی اچھا ہونے کی۔ ۔۔۔ اب کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا"
یاور اپنے روم میں جا چکا تھا عائشہ مایوس ہو کر بولی
"کیسی مایوسی کی باتیں کررہی ہوں عائشہ سب ٹھیک ہوجائے گا"
مریم کو اس کی حالت دیکھ کر ترس آیا اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولی
"مریم میری ایک بات مانو گی"
عائشہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں مریم سے کہا
"یہاں سے جانے کے علاوہ کچھ بھی کہو گی تو میں مانو گی"
مریم اس کو دیکھ کر بولی عائشہ نے مریم کا ہاتھ تھام لیا
"میری بیٹی کا بہت خیال رکھنا مریم" عائشہ ایک دم رونے لگی
"پاگل ہو جو اس طرح رو رہی ہو۔۔۔ کیوں دل چھوٹا کر رہی ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا"
مریم کو اپنی دوست پر ترس آیا اسے تسلی دیتے ہوئے بولی
"تم پہلے بتاؤں تم رکھوں گی میری بیٹی کا خیال"
عائشہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا
"اپنی جان سے بھی زیادہ آج سے یہ تمہاری نہیں میری بیٹی ہے"
ارتضیٰ دعا کو گود میں اٹھاتا ہوا لایا تو مریم نے دعا کو اپنی گود میں لیتے ہوئے عائشہ سے کہا
"نہیں مما اسنووائٹ میری ہے"
ارتضیٰ مریم کا جملہ سن کر فورا بولا
"ہاں میری جان یہ اسنووائٹ تمہاری ہے اور ہمیشہ تمہاری رہے گی"
مریم نے اپنے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے کہا پھر عائشہ کو مسکرا کر دیکھا تو عائشہ کے چہرے پر اطمینان اترنے لگا
***
"ہر وقت اپنے کام میں مگن رہنا یہ نہیں کہ ماں کے لئے بھی ٹائم نکال لیا کرو"
مریم دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی
"اوکے یہ ٹائم میری مما کے نام۔۔۔ نہیں کرتا میں کوئی اور کام"
ارتضیٰ جو کہ اپنا لیپ ٹاپ پر کسی کام میں بزی تھا مریم کے شکوے پر مسکرا کر لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولا
"اب کریں کیا بات کرنی ہے آپ کو" مریم کو بیڈ پر بٹھا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھنے لگا
"اپنے شہر میں آنے کے بعد میں اپنے گھر کو مس کر رہی ہوں ارتضیٰ۔۔۔ تمہیں اندازہ ہے نا کتنی پیاری یادیں جڑی ہوئی ہیں ہماری اپنے گھر سے"
مریم افسردہ ہوتے ہوئے بولی
"اداس کیوں ہو رہی ہیں آپ۔۔۔ لے چلوں گا آپ کو تھوڑی دیر کے لئے گھر، اپنا گھر میں بھی مس کرتا ہوں مگر ماما کچھ وجوہات ہیں جس کی بنا پر میں فی الحال یہاں شفٹ ہوا ہوں بہت جلد ہم اپنے گھر میں ہوں گے"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"آپ بابا کو مس کر رہی ہیں"
مریم کی کیفیت دیکھتے ہوئے ارتضیٰ نے مریم سے پوچھا
یاور جس کا چار سال پہلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوچکا تھا بہت مشکل وقت تھا جس میں مریم اور ارتضیٰ نے ایک دوسرے کو سنبھالا۔۔۔۔ مریم کو جب بھی یاور کی یاد آتی تو اداس ہو جاتی ہے پھر ڈھیر ساری باتیں ارتضیٰ اور مریم یاور کی کرتے
"تمہارے بابا کی تو کب یاد نہیں آتی وہ ہم سے دور ہیں لیکن ہماری باتوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے مگر جو زندہ ہو کر بھی دور ہے۔۔۔۔ تم سے اور مجھ سے آج مجھے اس کی یاد آرہی ہے تم مس نہیں کرتے اسے"
مریم نے بات کا رخ پلٹا
"یاد تو انھیں کیا جاتا ہے جن کو بھلایا جائے۔۔۔ وہ بھی بہت جلد آپ کے پاس ہوگی اور ہم تینوں اپنے گھر میں"
مریم نے ارتضیٰ کی آنکھیں اور لہجہ دیکھا اسے یقین ہو گیا وہ اپنا کہا جلد پورا کرے گا
"پتہ نہیں اسے ہم یاد بھی ہوں گے کہ نہیں۔ ۔۔ اسے ہمارے بارے میں معلوم بھی ہوگا کہ نہیں کہیں یہ تو نہیں اسے کچھ بتایا ہی نہ گیا ہو"
مریم نے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا
"اگر اسے علم نہیں ہوگا تو معلوم ہوجائے گا اور اگر وہ سب بھول گئی ہوگی تو یاد کرانا بھی مشکل نہیں اور جو حقیقت ہے اسے تو جاننا پڑے گا جاننا تو کیا ماننا بھی پڑے گا۔۔۔۔ آپ یقین رکھیں مما سب ٹھیک ہو جائے گا"
ارتضیٰ نے مریم سے کہا اور دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھام لیا مریم سر ہلا کر رہ گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 3
"اریش بابا میں اندر آ سکتی ہو"
اریش ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا جب جینی اس کے روم کا دروازہ ناک کرکے بولی
"یس کم ان"
اریش نے دروازہ دیکھتے ہوئے کہا
"اریش بابا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"
جینی جو کہ پچاس سالہ شفیق خاتون تھی اور کافی سالوں سے اریش کے پاس نوکری کے فرائض انجام دے رہی تھی، قابل اعتبار ہونے کی وجہ سے ارریش ان کی بہت عزت کرتا تھا
"پلیز جینی بیٹھیے اگر کوئی پرابلم ہے تو بتائے"
اریش نے انہیں صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خود بھی صوفے پر بیٹھ گیا
"اریش بابا روزی کا ہم نے بتایا تھا ناں آپ کو اس کو ہماری ضرورت ہے ہمیں اس کے پاس جانا ہوگا اس وجہ سے ہم یہاں پر مزید کام نہیں کر سکتے" جینی کی بیٹی روزی جو کہ ماں بننے والی تھی اور اس وقت اسے اپنی ماں کی ضرورت تھی جینی نے اپنی نوکری چھوڑنے کی وجہ اریش کو بتائی
"وہ تو ٹھیک ہے جینی لیکن اگر آپ چلے جائے گیں تو پھر گھر کو کون سنمھاے گا۔۔۔ دیکھا نہیں آپ نے ایک دن آپ کو کوئی کام ہوتا ہے یا آپ بیمار ہو جاتی ہیں تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور مجھے گھر میں بے ترتیبی بالکل پسند نہیں، بہت پرابلم ہوجائے گی میرے لئے"
آریش سوچتے ہوئے کہنے لگا
"اریش بابا اتنے سالوں سے ہم نے آپ کے پاس کام کیا ہے آپ کو اس طرح پریشان چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔ ہم نے اس کا بھی ارینج کر لیا ہے، آکا بہت اچھی ہے میری جگہ وہ یہاں کا چارج سنبھال لیں گی اسکے لیے آپ فکر مند نہ ہوں"
جینی نے اریش کو پروبلم کا سلوشن بتاتے ہوئے کہا
"آکا۔۔۔ یہ آکا کون ہیں۔ ۔۔ نہیں نہیں میں ایسے کسی کو نہیں رکھ سکتا نہ بھروسہ کرسکتا ہوں خیر میں کچھ نہ کچھ سوچوں گا کیا کرنا ہے"
اریش نے فورا انکار کردیا
"بابا آکا میرا مطلب ہے بتول بی بی وہ میرے محلے کی ہی خاتون ہیں۔۔۔ صاف ستھری سفید پوش اور ضرورت مند بھی ہیں مگر میں ان کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ان کو یہاں رکھنے کے لئے نہیں کہہ رہی ہوں، آپ کو بھی ضرورت ہے اور وہ قابل اعتبار ہیں ان کی گارنٹی میں آپ کو دے سکتی ہوں باقی جیسا آپ مناسب سمجھے"
جینی نے اپنی بات مکمل کر کے آریش کے جواب کا انتظار کیا
"اگر آپ گرانٹی لے رہی ہیں تو پھر ٹھیک ہی مل لیتے ہیں پھر بتول بی بی میرا مطلب ہے آکا سے"
آریش نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کیونکہ آفس کے سو بکھیڑے اس کے بعد گھر کے لیے وہ کہاں سے کوئی قابل اعتماد انسان ڈھونڈتا
"اریش بابا ایک بات اور ہے دراصل وہ آکا کا گھر کرائے کا تھا، جو وہ کل پرسوں میں خالی کر رہی ہیں اگر اپنی فیملی کے ساتھ وہ یہی کوارٹر میں رہ لیں"
جینی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
"ٹھیک ہے مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں مگر آپ انہیں میری نیچر اور گھر کے رولز کا سمجھا دئیے گا اور آپ یہ رکھئے پلیز"
اریش نے اٹھ کر درازس سے چیک بک سے چیک نکال کر جینی کو تھماتے ہوئے کہا
"ارے نہیں اریش بابا سیلری تو ہمیں مل چکی ہے اس کی ضرورت نہیں ہے" جینی نے انکار کرتے ہوئے کہا
"یہ میں آپ کو نہیں بلکہ روزی کو دے رہا ہوں بھائی ہونے کی حیثیت سے، آپ اسے میری طرف سے دی دیئے گا اور بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک آپ کہہ سکتی ہیں" اریش نے مسکرا کر کہا۔۔۔جینی نے تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے چیک لے لیا اور روم سے نکل گئی
اریش کے ماں باپ کا انتقال دو سال پہلے اگے پیچھے ہو گیا تھا اس کی دو بہنیں بھی تھی اور دونوں شادی شدہ اور اپنی اپنی فیملیوں میں بزی۔۔۔۔ اریش ایک سنجیدہ نیچر کا انسان تھا ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کے باوجود اس میں اس میں شو بازی یا دکھاوا ہرگز نہیں تھا۔ ۔۔ یہی وجہ تھی کہ 29 سال کا ہونے باوجود ابھی تک کنوارہ تھا دونوں بہنوں نے بہت چاہا اسکی شادی ہوجائے مگر اریش کو اپنے سرکل میں ایسی کوئی لڑکی دل کو نہیں بھائی جسے شریک حیات بنایا جائے۔۔۔ اپنا اشتہار لگا دی لڑکیاں اسے بےحد ناپسند تھی
***
"ہانی منہ کھولو جلدی سے"
مشعل نے اسے نوالہ بنا کر کھلانا چاہا
"پر مما ہانی کو اسپینش پسند نہیں"
ہانی نے منہ بنا کر بولا تو مشعل نے اس کو گھور کر دیکھا
"آپ کو معلوم ہے اسپینش کتنا ضروری ہوتا ہے اس میں کتنے پروٹین اور آئرن ہوتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے" مشعل نے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا
"مما آئیرن اور پروٹین چکن میں بھی ہوتے ہیں اور ہانی کو چکن کھانا ہے آپ نے کل بھی کہا تھا کہ چکن بنائے گی"
ہانی نے معصومیت سے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ہانی نیکسٹ ٹائم چکن بنالو گی، ابھی آپ اسپینش کھاؤ شاباش میرا بیٹا" مشعل نے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا ہانی کی یہ اچھی عادت تھی کہ وہ ضد نہیں کرتا تھا
"مجھے تم ہی کچھ بتانا ہے"
آکا نے جب دیکھا کہ مشعل ہانی کھانا کھلا چکی ہے تب انہوں نے مشعل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو مشعل نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا
"وہ ہماری گلی کے آخر میں جو جینی رہتی ہے نا۔۔۔۔ اس نے ایک جاب بتائی ہے جاب بھی کیا ہے سمجھو فری میں ہماری رہائش کا مسئلہ ہی حل ہو گیا، نوکروں پر نظر رکھنی ہے اور سیلری بہت اچھی ہے"
آکا نے اپنی طرف سے مشعل کو خوشخبری دی
"اور وہ نوکری کرے گا کون"
مشعل نے اپنے دونو ہاتھ میز پر رکھ کر پوچھا
"تم تو اسکول میں جاب کر رہی ہو اور دو مہینے بعد ہانی کا بھی ایڈمیشن کروا دوں گی، تو میں سارا دن گھر میں کیا کروں گی دیکھو سب سے بڑی بات یہ ہے۔۔۔ اس گھر میں صاف ستھرا کواٹر ہے سمجھو اس طرح ہماری رہائش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا"
اکا نے خوشی خوشی مشعل کو ساری بات بتائی
"کیا ہوگیا ہے آپ کو اس عمر میں آپ نوکری کریں گے اور وہ بھی نوکروں والے کام اس سے تو بہتر ہے میں فرید کو کال کر دیتی ہوں وہ آپ کو آکر لے جائے"
مشعل ان کی بات سن کر ہتھے سے اکھڑ گئی
"ارے بیوقوف میں کونسا وہاں جھاڑو پوچھا کر رہی ہوں بس سپروائزر بن کر نوکروں پر نظر رکھنی ہے یوں سمجھو مفت کے پیسے مل رہے ہیں۔۔۔ اور یہ فرید کی دھمکی مجھے نہیں دو اگر میں وہاں چلی گئی تو اس کی بیوی ایسے ہی نہیں کھلائے گی بدلے میں وہ مجھ سے جھاڑو پوچھا ضرور کرائے گی اور ویسے بھی میں جینی سے بات کر چکی ہوں تم کچھ نہیں بولوں گی اب"
اکا نے بات ختم کرنے والا انداز اختیار کیا
"مجھے نہیں اچھا لگے گا اس طرح آپ کسی کے گھر میں۔۔۔ اس سے تو بہتر ہے آپ کی جگہ میں کام کر لیتی ہوں وہاں پر"
مشعل نے بے بس ہو کر کہا پرسوں آنہیں گھر خالی کرنا تھا دوسری جگہوں کے کرائے اور ایڈوانس دیکھ کر وہ چپ ہوگئی اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں بچا تھا
"تم آرام سے اپنی جاب کرو بی بی نوکری چھوڑ کر گھر میں رہوں گی تو میری تم سے زیادہ دنوں تک نہیں بننے والی۔۔۔ صرف ہانی کے ساتھ میرا گزارا ممکن ہے اور کسی کو برداشت نہیں کرتی میں اپنے سر پر"
اکا نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے مشعل سے کہا جس پر مشعل اکا کے گلے لگ گئی
"کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر مجھے آپ کا سہارا نہیں ہوتا تو میرا کیا ہوتا"
مشعل نے افسردگی سے کہا
"اچھا بس زیادہ افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے خوشی ہے اللہ پاک نے ہمارے لیے نیا راستہ کھول دیا اور رہائش کا مسئلہ حل کر دیا۔۔۔ دیکھا تم نے میں نے کہا تھا۔۔۔ اللہ ایک در بند کرتا ہے تو دوسرا کھول دیتا ہے کبھی اس کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے"
اکا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
"بے شک"
مشعل مسکرا کر برتن اٹھانے لگی
***
"ارتضیٰ چھوڑو اسے مجھے دے دو دعا کو وہ گر جائے گی تمہاری گود سے"
ارتضیٰ دعا کو گود میں اٹھاتا ہوا روم میں آیا تو مریم نے اس کو دیکھ کر بولا
"مما میں اسے کبھی گرنے نہیں دوں گا یہ میری اسنووائٹ ہے"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"بیٹا عائشہ آنٹی ابھی گھر پر موجود نہیں ہے اگر وہ رو گئی تو اسے چپ کرانا مشکل ہوجائے گا"
مریم نے دعا کو ارتضیٰ سے لےکر واکر میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عائشہ مریم کے شوہر یاور کے ساتھ اسرار سے ملاقات کے لئے پولیس اسٹیشن گئی تھی مریم اور یاور نے عائشہ کے انوار بھائی اور بھابی کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ عائشہ اور دعا کا اس مشکل وقت ہے اسے آپ کی ضرورت ہے مگر انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا اس کو ایدھی سینٹر چھوڑ آو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔۔۔
عائشہ ویسے بھی کافی بیمار رہنے لگی تھی اس نے بھی مریم سے یہی کہا کہ وہ ایدھی سینٹر جانا چاہتی ہے جس پر مریم نے اسے خوب سنائی اور دوسرا مریم کا شوہر یاور بھی رحمدل طبیعت کا انسان تھا اس نے عائشہ کو بہن بنا کر اپنے گھر میں جگہ دی، پچھلے چار ماہ سے وہ مریم کے پاس ہی تھی۔۔۔۔ دعا بھی اور مریم اور ارتضیٰ سے کافی ہل چکی تھی مگر سب سے زیادہ اٹیچ ہو ارتضیٰ سے تھی کیونکہ ارتضیٰ اسکول سے آنے کے بعد اپنے ساتھ اسے لگائے رکھتا۔۔۔ دروازے کی دستک پر مریم نے دروازہ کھولا گیا اور عائشہ اندر آئے
"کیا ہو عائشہ کچھ معلوم ہوا اسرار بھائی کی کب تک سزا ختم ہوگئی" مریم نے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ شاید کوئی عائشہ کے لئے اچھی خبر ہو
"میں نے امید چھوڑ دی ہے کچھ بھی اچھا ہونے کی۔ ۔۔۔ اب کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا"
یاور اپنے روم میں جا چکا تھا عائشہ مایوس ہو کر بولی
"کیسی مایوسی کی باتیں کررہی ہوں عائشہ سب ٹھیک ہوجائے گا"
مریم کو اس کی حالت دیکھ کر ترس آیا اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولی
"مریم میری ایک بات مانو گی"
عائشہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں مریم سے کہا
"یہاں سے جانے کے علاوہ کچھ بھی کہو گی تو میں مانو گی"
مریم اس کو دیکھ کر بولی عائشہ نے مریم کا ہاتھ تھام لیا
"میری بیٹی کا بہت خیال رکھنا مریم" عائشہ ایک دم رونے لگی
"پاگل ہو جو اس طرح رو رہی ہو۔۔۔ کیوں دل چھوٹا کر رہی ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا"
مریم کو اپنی دوست پر ترس آیا اسے تسلی دیتے ہوئے بولی
"تم پہلے بتاؤں تم رکھوں گی میری بیٹی کا خیال"
عائشہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا
"اپنی جان سے بھی زیادہ آج سے یہ تمہاری نہیں میری بیٹی ہے"
ارتضیٰ دعا کو گود میں اٹھاتا ہوا لایا تو مریم نے دعا کو اپنی گود میں لیتے ہوئے عائشہ سے کہا
"نہیں مما اسنووائٹ میری ہے"
ارتضیٰ مریم کا جملہ سن کر فورا بولا
"ہاں میری جان یہ اسنووائٹ تمہاری ہے اور ہمیشہ تمہاری رہے گی"
مریم نے اپنے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے کہا پھر عائشہ کو مسکرا کر دیکھا تو عائشہ کے چہرے پر اطمینان اترنے لگا
***
"ہر وقت اپنے کام میں مگن رہنا یہ نہیں کہ ماں کے لئے بھی ٹائم نکال لیا کرو"
مریم دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی
"اوکے یہ ٹائم میری مما کے نام۔۔۔ نہیں کرتا میں کوئی اور کام"
ارتضیٰ جو کہ اپنا لیپ ٹاپ پر کسی کام میں بزی تھا مریم کے شکوے پر مسکرا کر لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولا
"اب کریں کیا بات کرنی ہے آپ کو" مریم کو بیڈ پر بٹھا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھنے لگا
"اپنے شہر میں آنے کے بعد میں اپنے گھر کو مس کر رہی ہوں ارتضیٰ۔۔۔ تمہیں اندازہ ہے نا کتنی پیاری یادیں جڑی ہوئی ہیں ہماری اپنے گھر سے"
مریم افسردہ ہوتے ہوئے بولی
"اداس کیوں ہو رہی ہیں آپ۔۔۔ لے چلوں گا آپ کو تھوڑی دیر کے لئے گھر، اپنا گھر میں بھی مس کرتا ہوں مگر ماما کچھ وجوہات ہیں جس کی بنا پر میں فی الحال یہاں شفٹ ہوا ہوں بہت جلد ہم اپنے گھر میں ہوں گے"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"آپ بابا کو مس کر رہی ہیں"
مریم کی کیفیت دیکھتے ہوئے ارتضیٰ نے مریم سے پوچھا
یاور جس کا چار سال پہلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوچکا تھا بہت مشکل وقت تھا جس میں مریم اور ارتضیٰ نے ایک دوسرے کو سنبھالا۔۔۔۔ مریم کو جب بھی یاور کی یاد آتی تو اداس ہو جاتی ہے پھر ڈھیر ساری باتیں ارتضیٰ اور مریم یاور کی کرتے
"تمہارے بابا کی تو کب یاد نہیں آتی وہ ہم سے دور ہیں لیکن ہماری باتوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے مگر جو زندہ ہو کر بھی دور ہے۔۔۔۔ تم سے اور مجھ سے آج مجھے اس کی یاد آرہی ہے تم مس نہیں کرتے اسے"
مریم نے بات کا رخ پلٹا
"یاد تو انھیں کیا جاتا ہے جن کو بھلایا جائے۔۔۔ وہ بھی بہت جلد آپ کے پاس ہوگی اور ہم تینوں اپنے گھر میں"
مریم نے ارتضیٰ کی آنکھیں اور لہجہ دیکھا اسے یقین ہو گیا وہ اپنا کہا جلد پورا کرے گا
"پتہ نہیں اسے ہم یاد بھی ہوں گے کہ نہیں۔ ۔۔ اسے ہمارے بارے میں معلوم بھی ہوگا کہ نہیں کہیں یہ تو نہیں اسے کچھ بتایا ہی نہ گیا ہو"
مریم نے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا
"اگر اسے علم نہیں ہوگا تو معلوم ہوجائے گا اور اگر وہ سب بھول گئی ہوگی تو یاد کرانا بھی مشکل نہیں اور جو حقیقت ہے اسے تو جاننا پڑے گا جاننا تو کیا ماننا بھی پڑے گا۔۔۔۔ آپ یقین رکھیں مما سب ٹھیک ہو جائے گا"
ارتضیٰ نے مریم سے کہا اور دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھام لیا مریم سر ہلا کر رہ گئی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment