U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 2
صبح آنکھ کھلتے ہی وہ اپنا شولڈر ہلکے سے دباتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی مگر رات والا منظر یاد آنے پر طبیعت پر چھائی ہوئی سستی ایک تم بھاگ گئی۔۔۔۔ اس نے اپنے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اٹھ کر واش روم اور ٹیرس کا جائزہ لیا پھر اپنے روم سے باہر نکل کر ایک نظر سیڑھیوں سے نیچے ہال پر ڈالی
"یہ کیا ہوا تھا کل رات کون آیا تھا اس طرح میرے روم میں اور کیا کہہ رہا تھا وہ۔۔۔۔ کہیں یونیورسٹی میں سے کسی کی شرارت تو نہیں"
سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے وہ واپس روم میں آئی اور کل والا واقعہ سوچنے لگی
"کہیں میرا خواب تو نہیں تھا، نہیں خواب کیسے ہوسکتا ہے میں نے محسوس کیا ہے اسے۔۔۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا"
وہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی
"کیا بابا کو بتانی چاہیے یہ بات۔۔۔ یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں اس طرح میرے کمرے میں کسی کا آنا۔ ۔۔ مگر بابا کو بتانے کا تو مطلب یہ کہ مزید اپنے اوپر پابندی لگوانا"
وہ خود ہی اپنی سوچ کی نفی کرتی ہوئی اٹھ کر واشروم چلی گئی
تعبیر نے جب ہوش سنبھالا تھا تو اپنے پاس باپ (وہاج صدیقی) کو ہی اکلوتے رشتے کی صورت میں پایا تھا۔۔۔ ماں اس کی تبھی فوت ہوگئی تھی جب وہ ایک سال کی تھی۔۔۔۔ مگر وہاج صدیقی نے اسے کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اپنی ساری زندگی اپنے بزنس اور بیٹی کے نام صرف کردی وہ چھ سال پہلے ہی امریکہ سے دوبارہ اپنے ملک پاکستان ہمیشہ کے لئے شفٹ ہوئے تھے اور اپنا کاروبار یہی جما لیا تھا وہ ایک مشہور بزنس مین ہونے کے ساتھ ایک نرم دل انسان تھے۔۔۔
تعبیر کو بچپن سے ہی وہاج صدیقی سے پیار محبت توجہ ملی تھی مگر اس کے باوجود وہ کوئی بگڑی ہوئی نواب زادی نہیں تھی بلکہ خوش مزاج نرم دل اور حساس لڑکی تھی اور دو ماہ پہلے ہی اس کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا
****
"ارے عائشہ تم اندر آو"
مریم نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے عائشہ کو پاہ کر خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔ عائشہ اپنا چھوٹا سا بیگ اور گود میں اپنی بیٹی دعا کو لے کر اس کے گھر کے اندر آئی
"کیسی ہو تم۔۔ لاو اسنو وائٹ مجھے دے دو، یہ ارتضیٰ نے اس کا نام رکھا ہے معلوم ہے جب سے دعا کو دیکھ کر آیا ہے تب سے ضد لگائی ہوئی ہے کہ مجھے اسنو وائٹ چاہیے"
مریم نے دعا کو گود میں لیٹے ہوئے اپنے بیٹے کی بات بتائی تو عائشہ پھیکا سا مسکرائی
"کیا ہوا عائشہ تم ٹھیک ہونا"
عائشہ کا کملایا ہوا چہرہ دیکھ کر مریم نے پوچھا
"نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں مریم بلکہ آب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا میرے ساتھ"
مریم کے پوچھنے کی دیر تھی عائشہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کر رونے لگی
"ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ اس طرح رو کر مجھے کیوں پریشان کر رہی ہوں"
مریم نے بچی کو صوفے پر لٹاتے ہوئے عائشہ سے پوچھا
"کتنا بھروسہ کیا تھا میں نے اسرار پر اسے اچھا انسان سمجھا تھا۔۔۔ انوار بھائی کی بات نہیں مانی اس سے شادی کی،،، اور اس نے مجھے میرے بھائی کے سامنے شرمندہ کر دیا"
مریم اٹھ کر اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئی اور اس کو پانی پلایا
"کل جیل میں ملنے بلایا تھا اس نے بھائی کو اور بتایا کہ اس کے دوستوں نے اسے چوری کے الزام میں پھنسا دیا ہے وہ بے گناہ ہے لیکن فی الحال وہ میری اور اپنی بیٹی کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا"
عائشہ مریم کو بتاتے ہوئے مزید رونے لگی
"اچھا اچھا چپ ہو جاؤ پریشان مت ہو اللہ سے بہتر کرے گا"
مریم نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا
"کیسے پریشان نہ ہوں نزہت بھابی نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے مریم۔۔۔ بھائی بھی خاموش تھے مجھے اپنے گھر سے جاتا دیکھ کر کچھ نہیں بول مجھے تنہا کر دیا سب نے مل کر"
عائشہ روتے ہوئے بتا رہی تھی مریم کو اپنی دوست پر ترس آیا
"اس طرح کیوں سوچ رہی ہوں میں ہونا تمہارے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی ذات ہے تم پریشان نہیں ہوں" نزہت بھابھی سے میں بات کروں گی چلو تم رو نہیں دیکھو دعا کیسے پریشان ہو کر تمہیں دیکھ رہی ہے"
مریم نے اس کی توجہ دعا کی طرف دلاتے ہوئے کہا
"بدقسمت ہے یہ بھی پیدا ہوتے ہی اس کے باپ نے ہمیں چھوڑ دیا اور اس کے بعد میرے بھائی نے مجھ سے منہ موڑ لیا"
عائشہ کو اس سب میں دعا کا قصور لگنے لگا
"بس کرو عائشہ کیسی دقیہ نوسی باتیں کر رہی ہو پڑھی لکھی ہوکر۔۔۔ غلطی تمہاری تھی تم نے اسرار کا انتخاب کیا اور بد قسمت تم اس معصوم کو کہہ رہی ہو۔۔۔ خبردار جو اب تم نے دعا کیلئے اپنے منہ سے ایسے الفاظ نکالے تو"
مریم نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا
"واو مما اسنو وائٹ ہمارے گھر آئی ہے" ارتضیٰ اسکول سے گھر آکر چہکتا ہوا بولا
"ارتضیٰ جاؤ پہلے چینج کرکے منہ دھو کر آؤ"
مریم نے بیٹے کو سمجھایا
"مما شی از سو کیوٹ۔۔۔۔ اس کی آیسز دیکھیں ذرا"
وہ ایکسائٹڈ ہوکر دعا کو اپنے پاس بٹھاتا ہوا بولا
"عائشہ وہاں پر بیڈ روم ہے تم تھوڑی دیر جاکر ریسٹ کرو مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہم شام میں بات کرتے ہیں"
مریم نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کو مشورہ دیا
"آنٹی آپ کی اسنو وائٹ میں اپنے پاس رکھ لوں"
ارتضیٰ نے بڑی لجاہت سے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"عائشہ تم تھوڑی دیر سو جاو دعا کو تھوڑی دیر مجھے دے دو ورنہ یہ میری اولاد تمہیں سکون نہیں لینے دے گی"
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا عائشہ اثبات میں سر ہلا کر روم کی طرف چلی گئی
****
مشعل اسکول سے گھر لوٹی تو چپ چپ تھی ہانی سے بھی زیادہ بات نہیں کی دل مار کر تھوڑا بہت دوپہر کا کھانا کھایا اور لیٹ گئی
"کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو"
اکا نے اسے لیٹے ہوئے دیکھ کر پوچھا جب وہ کسی بات پر پریشان ہوتی تو اسی طرح چپ ہو جاتی تھی
"اکا انسان ہوں کبھی کبھی تھک جاتی ہوں پریشان کیا ہونا۔۔۔اور ویسے بھی پریشانیوں نے پیچھا چھوڑا کہاں ہے۔۔۔ بس کبھی کبھی کم ہوجاتی ہیں"
مایوس لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ آنکھوں کے اوپر رکھا یقینا اس نے آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کی کوشش تھی
"ہوا کیا ہے پہلے تو مجھے یہ بتاو۔۔۔ تم ایسی مایوسیوں کی باتیں جبھی کرتی ہوں جب پریشان ہوتی ہوں اسکول میں کوئی بات ہو گئی ہے کیا"
آکا نے اپنا اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا
"اسکول میں کوئی کیا کہے گا علیم بھائی کے پاس گئی تھی انہیں کرایا دینے کے لیے۔۔۔۔کرایہ تو انہوں نے لے لیا مگر صاف لفظوں میں مکان خالی کرنے کے لئے کہہ دیا ہے، میری منت سماجت کرنے پر بھی وہ نہیں مانے۔ ۔۔۔ میں نے اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگی ہر رات مانگتی ہو مگر پھر بھی امتحانات ختم نہیں ہوتے۔۔۔۔ صرف ایک ہفتے کا وقت دیا ہے انہوں نے گھر خالی کرنے کے لئے کہاں جائیں گے ہم لوگ"
آکا کو بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو چکی تھی
"اچھا خاصا فرید میرا خرچہ بھیج دیا کرتا تھا دو مہینے سے اس نے وہ بھی بند کردیا ہے اس کو فون کروں گی کل۔۔۔ تم پریشان مت ہو اور مشعل یہ امتحان نہیں ہے بیٹا یہ آزمائش ہوتی ہے جو اللہ اپنے بندوں سے لیتا ہے، اس طرح گھبراؤ نہیں تم کتنی بہادر ہو کیسے کڑے وقت کا سامنا کیا ہے تم نے۔۔۔ اللہ کوئی نہ کوئی حل نکال دے گا تم پریشان مت ہو"
آکا نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا، فرید ان کا بیٹا تھا جو کہ ہر مہینے انہیں جیب خرچ کے طور پر دبئی سے چند ہزار روپے بھیج دیا کرتا تھا مشعل قریبی اسکول میں جاب کرتی تھی اسطرح کھینچ تان کر گزر بسر ہو ہی جاتی تھی۔۔۔۔ مگر دو مہینے سے فرید نے پیسے نہیں بھجوائے تھے جس کی وجہ سے مالک مکان نے آپ گھر خالی کرنے کا کہہ دیا
"میں بہادر نہیں ہو ہوں آکا اس کڑے وقت میں اگر آپ میرا ساتھ نہ دیتی تو۔۔۔۔ خیر فرید کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں اس بیچارے کے پاس خود کہا جاب ہے جو ہم بھی اسے پریشان کریں۔۔ جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا ویسے بھی دربدر کی ٹھوکروں کا راستہ میں نے خود اپنی زندگی میں اپنے لئے منتخب کیا ہے" تلخی سے کہتے ہو اس نے آنکھوں سے ہاتھ اٹھایا
"میں نے ابھی کیا کہا ہے مشعل، مایوس مت ہو خدا کی زات سے۔۔۔۔ اس نے آزمائش دی ہے وہی نکالے گا اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں ہانی کو دیکھ کر آتی ہوں کب سے ٹی وی پر کارٹون لگائے بیٹھا ہے"
آکا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
****
"ایک سگریٹ تو دے یار"
پان کے کھوکے پر کھڑے ہوکر مزمل نے اجمل (پان والے) سے سگریٹ مانگی
"بھائی کوئی شرم ہوتی ہے کچھ لحاظ ہوتا ہے چار ماہ سے ادھار کی سگریٹ پیتے ہوئے تیری عزت نفس تجھے کچوکے نہیں لگاتی"
اجمل نے مزمل کو گھورتے ہوئے کہا
"اگر یہ شرم دلانے کی کوشش ہے تو بالکل فضول کوشش ہے۔۔۔زیادہ مرنے کی ضرورت نہیں ہے ادھار کی پی رہا ہوں فری کی نہیں۔۔۔ جس دن نوکری ملی تو سارا ادھار برابر کرونگا بھاگو گا نہیں تیرے پیسے لے کر"
مزمل نے خود سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر ماچس کی تیلی سے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا
"چار ماہ ہوگئے ہیں بھائی تجھے مکھیاں مارتے ہوئے۔۔۔ یو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھنے سے نہ تجھے کوئی نوکری ملنے والی اور نہ چھوکری"
اجمل تپ کر بولا
"جگر سادہ سی بات ہے اپنے سے نہ کسی کے ترلے منتیں ہوتے ہی نہ جی حضور۔۔۔ چاہے وہ نوکری کے لئے ہو چاہے چھوکری کے لئے"
مزمل نے اپنی شرٹ کے کالر کھڑے کرتے ہوئے شاہانہ انداز میں کہا
"حالت تیری فقیروں جیسی ہے اور انداز تیرے بادشاہوں والا کیا بات ہے"
اجمل نے اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے کہا
گھٹنوں سے پھٹی ہوئی جینز بد رنگ سی شرٹ جو کہ شاید اتنی بار دھل چکی تھی کہ اپنا اصلی رنگ بھی کھو چکی تھی اس پر بڑھی ہوئی شیو اور اچھا خاصے لمبے بال۔۔۔۔ حلیہ سے وہ پورا لفنگا لگتا تھا
****
چھناکے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز پر سوتے ہوئے ارتضیٰ کی آنکھ کھلی وہ پھرتی سے اٹھتا ہوا روم سے باہر نکلا
"آمی کیا کر رہی ہیں آپ، دکھائے ہاتھ لگی تو نہیں"
ٹوٹے ہوئے واس کے ٹکڑوں سے بچتا ہوا وہ مریم کے پاس آ کر بولا
"ارتضیٰ ایک ہفتہ ہو گیا ہے ہمہیں یہاں شفٹ ہوئے ابھی تک سیٹنگ نہیں ہوئی گھر کی۔۔۔۔ کتنی بار میں نے کہا اک میڈ ارینج کردو مگر تم تو سنتے ہی نہیں ہوں"
مریم اور اسے اسلام آباد سے یہاں شفٹ ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا
"امی آفس کے کام میں لگا ہوا تھا آج ہی بندوبست کرتا ہوں۔۔۔۔ مگر آپ کو ضرورت ہی کیا ہے ان سب کاموں کو ہاتھ لگانے کی"
وہ کانچ کے ٹکڑے اکٹھا کرکے مریم کو مخاطب کرتے ہوئے بولا
"مجھے تو تمہاری بالکل سمجھ میں نہیں آتی ارتضیٰ۔۔۔ اچھا خاصا ہمارا یہاں پر اپنا گھر ہے تو اس کرائے کے گھر میں کیوں لے کر آئے ہو آخر تم"
مریم نے جھنجھلاتے ہوئے اس سے سوال کیا
"آپ کو میں نے یہاں آنے سے پہلے اپنا پلان بتایا تو تھا گھر کو نئے سرے سے دوبارہ رینویٹ کروا رہا ہوں اور دوسری وجہ بھی آپ کو اچھی طرح معلوم ہے"
کانچ کا ٹکڑا ڈسٹبن میں پھینکتا ہوا مریم کے پاس آ کر بولا
"مس کر رہی ہیں گھر کو"
وہ مریم کے ہاتھ تھامتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"کیوں تمہیں اپنا گھر یاد نہیں آتا" الٹا مریم نے اس سے سوال کیا
"مما آپ کو سب پتہ تو ہے آپ پھر بھی ایسے سوال کر رہی ہیں"
ارتضیٰ نے مریم کے ہاتھ چھوڑے، مریم اس کی آنکھوں میں شکوہ دیکھ کر مسکرائی
"اچھا بابا نہیں کر رہی ایسے سوالات جاو فرش ہوکر آو میں ناشتہ بناکر لاتی ہوں"
مریم نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا خود اٹھ کر کچن میں چلی گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 2
صبح آنکھ کھلتے ہی وہ اپنا شولڈر ہلکے سے دباتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی مگر رات والا منظر یاد آنے پر طبیعت پر چھائی ہوئی سستی ایک تم بھاگ گئی۔۔۔۔ اس نے اپنے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اٹھ کر واش روم اور ٹیرس کا جائزہ لیا پھر اپنے روم سے باہر نکل کر ایک نظر سیڑھیوں سے نیچے ہال پر ڈالی
"یہ کیا ہوا تھا کل رات کون آیا تھا اس طرح میرے روم میں اور کیا کہہ رہا تھا وہ۔۔۔۔ کہیں یونیورسٹی میں سے کسی کی شرارت تو نہیں"
سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے وہ واپس روم میں آئی اور کل والا واقعہ سوچنے لگی
"کہیں میرا خواب تو نہیں تھا، نہیں خواب کیسے ہوسکتا ہے میں نے محسوس کیا ہے اسے۔۔۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا"
وہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی
"کیا بابا کو بتانی چاہیے یہ بات۔۔۔ یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں اس طرح میرے کمرے میں کسی کا آنا۔ ۔۔ مگر بابا کو بتانے کا تو مطلب یہ کہ مزید اپنے اوپر پابندی لگوانا"
وہ خود ہی اپنی سوچ کی نفی کرتی ہوئی اٹھ کر واشروم چلی گئی
تعبیر نے جب ہوش سنبھالا تھا تو اپنے پاس باپ (وہاج صدیقی) کو ہی اکلوتے رشتے کی صورت میں پایا تھا۔۔۔ ماں اس کی تبھی فوت ہوگئی تھی جب وہ ایک سال کی تھی۔۔۔۔ مگر وہاج صدیقی نے اسے کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اپنی ساری زندگی اپنے بزنس اور بیٹی کے نام صرف کردی وہ چھ سال پہلے ہی امریکہ سے دوبارہ اپنے ملک پاکستان ہمیشہ کے لئے شفٹ ہوئے تھے اور اپنا کاروبار یہی جما لیا تھا وہ ایک مشہور بزنس مین ہونے کے ساتھ ایک نرم دل انسان تھے۔۔۔
تعبیر کو بچپن سے ہی وہاج صدیقی سے پیار محبت توجہ ملی تھی مگر اس کے باوجود وہ کوئی بگڑی ہوئی نواب زادی نہیں تھی بلکہ خوش مزاج نرم دل اور حساس لڑکی تھی اور دو ماہ پہلے ہی اس کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا
****
"ارے عائشہ تم اندر آو"
مریم نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے عائشہ کو پاہ کر خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔ عائشہ اپنا چھوٹا سا بیگ اور گود میں اپنی بیٹی دعا کو لے کر اس کے گھر کے اندر آئی
"کیسی ہو تم۔۔ لاو اسنو وائٹ مجھے دے دو، یہ ارتضیٰ نے اس کا نام رکھا ہے معلوم ہے جب سے دعا کو دیکھ کر آیا ہے تب سے ضد لگائی ہوئی ہے کہ مجھے اسنو وائٹ چاہیے"
مریم نے دعا کو گود میں لیٹے ہوئے اپنے بیٹے کی بات بتائی تو عائشہ پھیکا سا مسکرائی
"کیا ہوا عائشہ تم ٹھیک ہونا"
عائشہ کا کملایا ہوا چہرہ دیکھ کر مریم نے پوچھا
"نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں مریم بلکہ آب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا میرے ساتھ"
مریم کے پوچھنے کی دیر تھی عائشہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کر رونے لگی
"ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ اس طرح رو کر مجھے کیوں پریشان کر رہی ہوں"
مریم نے بچی کو صوفے پر لٹاتے ہوئے عائشہ سے پوچھا
"کتنا بھروسہ کیا تھا میں نے اسرار پر اسے اچھا انسان سمجھا تھا۔۔۔ انوار بھائی کی بات نہیں مانی اس سے شادی کی،،، اور اس نے مجھے میرے بھائی کے سامنے شرمندہ کر دیا"
مریم اٹھ کر اس کے لیے پانی کا گلاس لے کر آئی اور اس کو پانی پلایا
"کل جیل میں ملنے بلایا تھا اس نے بھائی کو اور بتایا کہ اس کے دوستوں نے اسے چوری کے الزام میں پھنسا دیا ہے وہ بے گناہ ہے لیکن فی الحال وہ میری اور اپنی بیٹی کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا"
عائشہ مریم کو بتاتے ہوئے مزید رونے لگی
"اچھا اچھا چپ ہو جاؤ پریشان مت ہو اللہ سے بہتر کرے گا"
مریم نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا
"کیسے پریشان نہ ہوں نزہت بھابی نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے مریم۔۔۔ بھائی بھی خاموش تھے مجھے اپنے گھر سے جاتا دیکھ کر کچھ نہیں بول مجھے تنہا کر دیا سب نے مل کر"
عائشہ روتے ہوئے بتا رہی تھی مریم کو اپنی دوست پر ترس آیا
"اس طرح کیوں سوچ رہی ہوں میں ہونا تمہارے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی ذات ہے تم پریشان نہیں ہوں" نزہت بھابھی سے میں بات کروں گی چلو تم رو نہیں دیکھو دعا کیسے پریشان ہو کر تمہیں دیکھ رہی ہے"
مریم نے اس کی توجہ دعا کی طرف دلاتے ہوئے کہا
"بدقسمت ہے یہ بھی پیدا ہوتے ہی اس کے باپ نے ہمیں چھوڑ دیا اور اس کے بعد میرے بھائی نے مجھ سے منہ موڑ لیا"
عائشہ کو اس سب میں دعا کا قصور لگنے لگا
"بس کرو عائشہ کیسی دقیہ نوسی باتیں کر رہی ہو پڑھی لکھی ہوکر۔۔۔ غلطی تمہاری تھی تم نے اسرار کا انتخاب کیا اور بد قسمت تم اس معصوم کو کہہ رہی ہو۔۔۔ خبردار جو اب تم نے دعا کیلئے اپنے منہ سے ایسے الفاظ نکالے تو"
مریم نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا
"واو مما اسنو وائٹ ہمارے گھر آئی ہے" ارتضیٰ اسکول سے گھر آکر چہکتا ہوا بولا
"ارتضیٰ جاؤ پہلے چینج کرکے منہ دھو کر آؤ"
مریم نے بیٹے کو سمجھایا
"مما شی از سو کیوٹ۔۔۔۔ اس کی آیسز دیکھیں ذرا"
وہ ایکسائٹڈ ہوکر دعا کو اپنے پاس بٹھاتا ہوا بولا
"عائشہ وہاں پر بیڈ روم ہے تم تھوڑی دیر جاکر ریسٹ کرو مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہم شام میں بات کرتے ہیں"
مریم نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کو مشورہ دیا
"آنٹی آپ کی اسنو وائٹ میں اپنے پاس رکھ لوں"
ارتضیٰ نے بڑی لجاہت سے عائشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"عائشہ تم تھوڑی دیر سو جاو دعا کو تھوڑی دیر مجھے دے دو ورنہ یہ میری اولاد تمہیں سکون نہیں لینے دے گی"
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا عائشہ اثبات میں سر ہلا کر روم کی طرف چلی گئی
****
مشعل اسکول سے گھر لوٹی تو چپ چپ تھی ہانی سے بھی زیادہ بات نہیں کی دل مار کر تھوڑا بہت دوپہر کا کھانا کھایا اور لیٹ گئی
"کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو"
اکا نے اسے لیٹے ہوئے دیکھ کر پوچھا جب وہ کسی بات پر پریشان ہوتی تو اسی طرح چپ ہو جاتی تھی
"اکا انسان ہوں کبھی کبھی تھک جاتی ہوں پریشان کیا ہونا۔۔۔اور ویسے بھی پریشانیوں نے پیچھا چھوڑا کہاں ہے۔۔۔ بس کبھی کبھی کم ہوجاتی ہیں"
مایوس لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ آنکھوں کے اوپر رکھا یقینا اس نے آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کی کوشش تھی
"ہوا کیا ہے پہلے تو مجھے یہ بتاو۔۔۔ تم ایسی مایوسیوں کی باتیں جبھی کرتی ہوں جب پریشان ہوتی ہوں اسکول میں کوئی بات ہو گئی ہے کیا"
آکا نے اپنا اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا
"اسکول میں کوئی کیا کہے گا علیم بھائی کے پاس گئی تھی انہیں کرایا دینے کے لیے۔۔۔۔کرایہ تو انہوں نے لے لیا مگر صاف لفظوں میں مکان خالی کرنے کے لئے کہہ دیا ہے، میری منت سماجت کرنے پر بھی وہ نہیں مانے۔ ۔۔۔ میں نے اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگی ہر رات مانگتی ہو مگر پھر بھی امتحانات ختم نہیں ہوتے۔۔۔۔ صرف ایک ہفتے کا وقت دیا ہے انہوں نے گھر خالی کرنے کے لئے کہاں جائیں گے ہم لوگ"
آکا کو بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو چکی تھی
"اچھا خاصا فرید میرا خرچہ بھیج دیا کرتا تھا دو مہینے سے اس نے وہ بھی بند کردیا ہے اس کو فون کروں گی کل۔۔۔ تم پریشان مت ہو اور مشعل یہ امتحان نہیں ہے بیٹا یہ آزمائش ہوتی ہے جو اللہ اپنے بندوں سے لیتا ہے، اس طرح گھبراؤ نہیں تم کتنی بہادر ہو کیسے کڑے وقت کا سامنا کیا ہے تم نے۔۔۔ اللہ کوئی نہ کوئی حل نکال دے گا تم پریشان مت ہو"
آکا نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا، فرید ان کا بیٹا تھا جو کہ ہر مہینے انہیں جیب خرچ کے طور پر دبئی سے چند ہزار روپے بھیج دیا کرتا تھا مشعل قریبی اسکول میں جاب کرتی تھی اسطرح کھینچ تان کر گزر بسر ہو ہی جاتی تھی۔۔۔۔ مگر دو مہینے سے فرید نے پیسے نہیں بھجوائے تھے جس کی وجہ سے مالک مکان نے آپ گھر خالی کرنے کا کہہ دیا
"میں بہادر نہیں ہو ہوں آکا اس کڑے وقت میں اگر آپ میرا ساتھ نہ دیتی تو۔۔۔۔ خیر فرید کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں اس بیچارے کے پاس خود کہا جاب ہے جو ہم بھی اسے پریشان کریں۔۔ جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا ویسے بھی دربدر کی ٹھوکروں کا راستہ میں نے خود اپنی زندگی میں اپنے لئے منتخب کیا ہے" تلخی سے کہتے ہو اس نے آنکھوں سے ہاتھ اٹھایا
"میں نے ابھی کیا کہا ہے مشعل، مایوس مت ہو خدا کی زات سے۔۔۔۔ اس نے آزمائش دی ہے وہی نکالے گا اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں ہانی کو دیکھ کر آتی ہوں کب سے ٹی وی پر کارٹون لگائے بیٹھا ہے"
آکا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
****
"ایک سگریٹ تو دے یار"
پان کے کھوکے پر کھڑے ہوکر مزمل نے اجمل (پان والے) سے سگریٹ مانگی
"بھائی کوئی شرم ہوتی ہے کچھ لحاظ ہوتا ہے چار ماہ سے ادھار کی سگریٹ پیتے ہوئے تیری عزت نفس تجھے کچوکے نہیں لگاتی"
اجمل نے مزمل کو گھورتے ہوئے کہا
"اگر یہ شرم دلانے کی کوشش ہے تو بالکل فضول کوشش ہے۔۔۔زیادہ مرنے کی ضرورت نہیں ہے ادھار کی پی رہا ہوں فری کی نہیں۔۔۔ جس دن نوکری ملی تو سارا ادھار برابر کرونگا بھاگو گا نہیں تیرے پیسے لے کر"
مزمل نے خود سگریٹ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر ماچس کی تیلی سے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا
"چار ماہ ہوگئے ہیں بھائی تجھے مکھیاں مارتے ہوئے۔۔۔ یو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھنے سے نہ تجھے کوئی نوکری ملنے والی اور نہ چھوکری"
اجمل تپ کر بولا
"جگر سادہ سی بات ہے اپنے سے نہ کسی کے ترلے منتیں ہوتے ہی نہ جی حضور۔۔۔ چاہے وہ نوکری کے لئے ہو چاہے چھوکری کے لئے"
مزمل نے اپنی شرٹ کے کالر کھڑے کرتے ہوئے شاہانہ انداز میں کہا
"حالت تیری فقیروں جیسی ہے اور انداز تیرے بادشاہوں والا کیا بات ہے"
اجمل نے اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے کہا
گھٹنوں سے پھٹی ہوئی جینز بد رنگ سی شرٹ جو کہ شاید اتنی بار دھل چکی تھی کہ اپنا اصلی رنگ بھی کھو چکی تھی اس پر بڑھی ہوئی شیو اور اچھا خاصے لمبے بال۔۔۔۔ حلیہ سے وہ پورا لفنگا لگتا تھا
****
چھناکے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز پر سوتے ہوئے ارتضیٰ کی آنکھ کھلی وہ پھرتی سے اٹھتا ہوا روم سے باہر نکلا
"آمی کیا کر رہی ہیں آپ، دکھائے ہاتھ لگی تو نہیں"
ٹوٹے ہوئے واس کے ٹکڑوں سے بچتا ہوا وہ مریم کے پاس آ کر بولا
"ارتضیٰ ایک ہفتہ ہو گیا ہے ہمہیں یہاں شفٹ ہوئے ابھی تک سیٹنگ نہیں ہوئی گھر کی۔۔۔۔ کتنی بار میں نے کہا اک میڈ ارینج کردو مگر تم تو سنتے ہی نہیں ہوں"
مریم اور اسے اسلام آباد سے یہاں شفٹ ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا
"امی آفس کے کام میں لگا ہوا تھا آج ہی بندوبست کرتا ہوں۔۔۔۔ مگر آپ کو ضرورت ہی کیا ہے ان سب کاموں کو ہاتھ لگانے کی"
وہ کانچ کے ٹکڑے اکٹھا کرکے مریم کو مخاطب کرتے ہوئے بولا
"مجھے تو تمہاری بالکل سمجھ میں نہیں آتی ارتضیٰ۔۔۔ اچھا خاصا ہمارا یہاں پر اپنا گھر ہے تو اس کرائے کے گھر میں کیوں لے کر آئے ہو آخر تم"
مریم نے جھنجھلاتے ہوئے اس سے سوال کیا
"آپ کو میں نے یہاں آنے سے پہلے اپنا پلان بتایا تو تھا گھر کو نئے سرے سے دوبارہ رینویٹ کروا رہا ہوں اور دوسری وجہ بھی آپ کو اچھی طرح معلوم ہے"
کانچ کا ٹکڑا ڈسٹبن میں پھینکتا ہوا مریم کے پاس آ کر بولا
"مس کر رہی ہیں گھر کو"
وہ مریم کے ہاتھ تھامتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"کیوں تمہیں اپنا گھر یاد نہیں آتا" الٹا مریم نے اس سے سوال کیا
"مما آپ کو سب پتہ تو ہے آپ پھر بھی ایسے سوال کر رہی ہیں"
ارتضیٰ نے مریم کے ہاتھ چھوڑے، مریم اس کی آنکھوں میں شکوہ دیکھ کر مسکرائی
"اچھا بابا نہیں کر رہی ایسے سوالات جاو فرش ہوکر آو میں ناشتہ بناکر لاتی ہوں"
مریم نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا خود اٹھ کر کچن میں چلی گئی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment