Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 46
زین آفس پہنچا تو اشعر پہلے ہی موجود تھا کل کی بانسبت وہ کافی سیریس لگ رہا تھا
"کیا ہو گیا ہے منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا صبح صبح" زین نے اشعر کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر پوچھا
"کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی"
اشعر نے زبردستی کا مسکرا کر جواب دیا
"اشعر جب سے ہم تینوں میں دوستی ہوئی ہے وہ دوستی اتنی گہری ہے کہ ہم تینوں اپنی پرسنل پرابلمز بآسانی بغیر ہچکچائے ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے ہیں کیا مجھے دوبارہ اپنا سوال دہرانے کی ضرورت پڑے گی"
زین نے دوبارہ اس سے سیریز ہونے کی وجہ دریافت کرنی چاہیے
"کل تانیہ کا فون آیا تھا اس نے منع کردیا ہے کہ ممی کو اس کے گھر نہیں بھیجوں۔ ۔۔۔۔ اس کی آواز اور باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کافی ڈسٹرب ہے،، ای تھنک بلال اس سے سخت خفا ہے وہ مزید سے خفا نہیں کر سکتی اس لیے سب کچھ ختم کرنے کا کہہ رہی ہے"
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا
"بلال کا دماغ تو میں ٹھیک کردوں گا تم فی الحال ان دونوں بہن بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور تانیہ میڈم وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی ہیں کہ ان کے بھائی زندہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرے۔۔۔ ۔ اگر تم نے آنٹی سے بات کر لی ہے تو ایک دو دن کے لیے کوئی بہانہ بنا کے روک دو"
زین نے کچھ سوچتے ہوئے اشعر سے کہا
تھوڑی دیر بعد بلال بھی افس آگیا سلام دعا کے بعد پھر ان تینوں کی کوئی خاص بات نہیں ہوئی
**
"کیا میں اندر آ جاؤ حور"
خضر نے بیڈ روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لیتے ہوئے کہا
"خضر بھائی آپ آئیے پلیز"
وہ جو کہ اپنے کپڑے ورڈروب سے نکال رہی تھی جھجکتے ہوئے بولی اسے کل والا منظر بھلائے نہیں بھول رہا تھا اس لیے نظر مسلسل جھکی ہوئی تھی
"کیسی طبیعت ہے تمہاری"
خضر جھکی نظروں کی وجہ تو جانتا تھا مگر کب تک اس سے بات نہیں کرتا اس لئے کچھ سوچ تو اس کے روم میں اس کے پاس آیا
"جی اب کافی بہتر ہے پہلے سے"
وہ ایک ڈریس نکال کر آئرن اسٹینڈ کے پاس جاتے ہوئے کہنے لگی
"مگر مجھے تو کوئی خاص طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔۔۔ گھر میں بند رہو گی تو مزید طبیعت خراب ہو گی چلو کہی باہر چلتے ہیں تمہاری طبیعت تو اچھا اثر پڑے گا"
خضر نے اچانک باہر جانے کا پروگرام بنایا
"باہر؟؟ نہیں باہر جانے کو تو بالکل بھی موڈ نہیں ہو رہا ہے میرا"
اس نے بےساختہ انکار کرتے ہوئے کہا وہ پہلے بھی کبھی اس کے ساتھ اکیلے اس طرح نہیں گئی تھی، اب تو شادی شدہ تھی تو کیسے جا سکتی تھی
"کیوں کیا وجہ ہے جو تمہارا باہر جانے کا موڈ نہیں ہو رہا؟؟ میں تمہارے خیال سے آیا ہوں حور،، کہ تمہیں باہر لے کر جاؤں گا اور تمہاری طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا موڈ بھی فریش ہو جائے گا۔۔۔ مگر اب تم نے احساس کرنا ہی چھوڑ دیا ہے دوسروں کا ایک انسان کے پیچھے خوار ہوتے ہوئے" خضر نے برا مانتے ہوئے کہا
"ایسی بات نہیں ہے خضر بھائی، احساس کی کیوں بات کر رہے ہیں سبھی لوگوں کا احساس ہے مجھے"
حور کو سمجھ میں نہیں آیا انہیں کیسے منع کریں
"اگر اتنا ہی احساس ہے تو دس منٹ میں گاڑی میں آو میں ویٹ کر رہا ہوں" خضر کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا اور وہ بے دلی سے کپڑے پریس کرنے لگی
**
"ارے واہ بھئی آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ہمارے گھر میں"
فضا نے باہر کا دروازہ کھولا تو سامنے زین کو کھڑے دیکھتے ہوئے خوش دلی سے کہا
"اتنے بڑے لوگ بھی نہیں ہیں کہ بہنوں سے نہ ملنے آسکے،، کیا حال ہیں"
زین نے قدم بڑھاتے ہوئے فضا سے حال پوچھا
"ایک دم فٹ آپ سنائے بیگم کیسی ہیں آپ کی"
فضا نے ڈرائنگ روم میں اندر آتے ہوئے زین سے پوچھا
"وہ بھی ٹھیک ہے میکے میں ہے۔۔۔ آجکل میں آجائے گی"
زین نے صوفے پر بیٹھے ہوئے جواب دیا
"میں اور تانیہ سوچ رہے تھے حور بھابھی سے ملنے کے لئے،، چلیں یہ بھی اچھا ہے اگر وہ گھر آ جائیں گی تو ہم دونوں وہی آکر مل لیں گے"
فضا نے اپنا پلان بتایا
"کیوں نہیں بالکل ضرور آنا اور میاں جی کہاں ہیں تمہارے آفس سے تو نکل گئے تھے"
زین نے بلال کا پوچھا
اوپر روم میں ہیں۔۔۔ میں بلا کر آتی ہوں"
فضا اٹھنے لگی
"نہیں رہنے دو اسے آج میں اس سے ملنے نہیں آیا تانیہ کہاں ہے"
زین نے فضا کو اٹھتے دیکھ کر تانیہ کا پوچھا
"وہ اپنے نوٹس بنا رہی تھی چلیں میں اس کو بلاتی ہوں اور چائے لے کر آتی ہوں"
فضا دوبارہ اٹھنے لگیں
"چائے رہنے دو فضا۔۔۔ تانیہ سے کہو مجھے اس سے بہت ضروری بات کرنی ہے مگر گھر پر نہیں، اس سے کہو میں ویٹ کر رہا ہوں اور بلال کو بھی بتا دینا کہ میں تانیہ کو لے کر باہر جا رہا ہوں"
زین نے فضا سے کہا
"ٹھیک ہے میں تانیہ کو بولتی ہوں اور آج رات کا کھانا اپ یہی کھائیں گے،،، بھابھی کا بہانہ بنا کر انکار کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے"
فضا بولتے ہوئے روم سے نکل گئی
***
"ردا بھی ہمارے ساتھ آ جاتی تو کتنا اچھا ہوتا"
حور کو یوں خضر کے ساتھ اکیلے جانا مناسب نہیں لگا اس لیے بولی
"میں نے اسے آفر کی تھی مگر وہ اسے فرینڈ کی طرف جانا تھا"
خضر نے گاڑی سگنل پر روکتے ہوئے کہا
مگر حور جو کسی گاڑی کو دیکھ رہی تھی اس کے تعقب میں دیکھتے ہوئے خضر چونکا،،، وہ گاڑی زین کی تھی جس میں زین کے ساتھ وہی لڑکی تھی جو اس دن ہسپتال میں حور کے پاس بھی بیٹھی ہوئی تھی
"کیا دیکھ رہی ہوں" خضر نے حور سے پوچھا
"وہ تانیہ ہے شاید اسکارف میں شاہ کے ساتھ"
حور نے تانیہ کو پہچانتے ہوئے اپنی ہی خیال میں گم ہو کر کہا
"نام تو مجھے نہیں معلوم ہے ہاں مگر میں نے اس لٹرکی کو اور زین کو ایک ساتھ کئی دفعہ دیکھا ہے۔۔۔۔ یہ وہی ہے جو دن اسپتال میں بھی وہاں موجود تھی"
حور نے بے یقینی سے خضر کو دیکھا اور دیکھتی رہے گی
"کئی دفعہ ایک ساتھ"
حور کا دماغ اس بات پر اٹک گیا
"کہاں کھو گئی ہو" خضر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
"کہیں نہیں ہاں یہ وہی ہے اسپتال والی شاہ کے فرینڈ بلال بھائی کی بہن"
حور کی نظر زین کی گاڑی پر پڑی جو کہ اب مخالف سمت پر نکل گئی تھی
**
"ہم لوگ یہاں کیوں آئے ہیں زین بھائی"
تانیہ نے ہوٹل میں اندر آتے ہوئے پوچھا
"کیوں میرے ساتھ آنے میں مسئلہ ہے تمہیں کوئی"
زین نے آبرو اچکا کر اس سے پوچھا
"نہیں وہ بات نہیں ہے، میں اس لئے نہیں کہہ رہی،، آپ تو میرے لئے بالکل بلال بھائی جیسے ہیں"
تانیہ نے جلدی سے کہا کہیں زین کو برا نہ لگ جائے
"میں بلال کی جیسا نہیں بلال کی طرح ہوں تمہارا ثانیہ رانیہ آپی کا بھائی چلو بیٹھو"
زین نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد زین نے تانیہ سے پوچھا
اشعر کو کیوں منع کیا تم نے فون کرکے"
زین کے پوچھنے پر تانیہ ایک دم گڑبڑا گئی اور نظریں جھکا گئی
"میرا تمہیں یہاں لانے کا یہی مقصد تھا تاکہ ہم اس موضوع پر آسانی سے بات کرلیں۔۔۔۔ دیکھو تم میری چھوٹی بہن ہو، میں کبھی تمہارا برا نہیں چاہوں گا اور نہ تمہارے ساتھ برا ہونے دوں گا،، اشعر ہر لحاظ سے اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا ہے، تم یہ بالکل بھی نہیں سمجھنا کہ میں اس کی دوستی ہی خاطر تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں تا کہ اس کی تعریفے کرکے اسکے نمبر بڑھاو۔ ۔۔۔ بلال اور اشعر ان دونوں سے پہلے میرے لیے تم اہمیت رکھتی ہوں، اگر اشعر میں مجھے کوئی برائی نظر آتی تو میں اس کے قدم بہت پہلے ہی روک دیتا جب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے ۔۔۔۔وہ ہر لحاظ سے تمہارے لئے پرفیکٹ ہے جو بے وقوفی تم نے فون پر منع کرکے کی ہے پلیز آگے سے میری ریکویسٹ ہے کہ تم کوئی بھی الٹا کام نہیں کروں گی، نہ انکار کروں گی"
زین نے تانیہ کو نرم لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا
"آپ کو نہیں پتہ بلال بھائی مجھ سے بہت ناراض ہیں وہ میری شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے ہیں،، میں اپنے ساتھ ان کا یہ رویہ برداشت نہیں کرسکتی تکلیف ہو رہی ہے مجھے"
تانیہ نے روتے ہوئے کہا
"اس گدھے کو میں سمجھا لوں گا اسکی فکر تم نہیں کرو وہ خوشی خوشی مان جائے گا تم رونا بند کرو پلیز"
زین نے ٹشو تانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس سے تھام کر وہ آنسو صاف کرنے لگی
دور سے دو آنکھیں بے یقینی سے منظر دیکھ رہی تھی
"ویسے تمہارا شاہ بھی بہت اچھا کھلاڑی ہے رولانے کے بعد انسو صاف کرنے کا فن اچھی طرح جانتا ہے"
خضر کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ حال کی دنیا میں واپس لوٹی
"چلیں خضر بھائی گھر چلیں"
حور نے بے دلی سے خضر سے کہا۔۔۔ اس کے کہنے پر ہی خضر نے گاڑی زین کی گاڑی کی طرف موڑی تھی
"ایسے نہیں ہم باہر پہلے ڈنر کریں گے تم اپنا موڈ ٹھیک کرلو اور چلو آؤ گاڑی میں آکے بیٹھو"
"نہیں مجھے کوئی خاص بھوک نہیں لگ رہی اپ گھر چلیں"
حور کو وہاں مزید روکنے کا دل نہیں چاہا
"گھر چلیں گے لیکن ڈنر کرنے کے بعد" خضر نے گاڑی سٹارٹ کردی
"کہہ تو رہی ہو نہیں کرنا مجھے ڈنر سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ہے آپ کو" حور کے لہجے میں بیزاری دیکھ کر اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑ لی
ویسے بھی آج اس نے ہاتھ میں آئے ہوئے موقعے کو گنوانے کی بجائے اس موقع کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment