Monday, December 10, 2018

episode 47

Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 47



"کہاں پر ہے سب لوگ"
بلال نے کچن میں آتے ہوئے فضا سے سوال کیا 

"ماموں جان بیڈ پر لیٹے ہوئے غالبا ٹی وی دیکھ رہے ہیں ثانیہ اپنے سسرال میں موجود ہے،،رانیہ آپی بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں مصروف ہیں،،، میں تمہارے سامنے کچن میں کھانا بنا رہی ہوں"
فضا نے مصروف انداز میں مگر تفصیل سے ایک ایک بندے کا بلال کو بتایا 

"تم کبھی بھی میری کسی بات کا سیدھے انداز میں جواب نہیں دینا"
بلال نے فضا کو گھورتے ہوئے کہا 

"تو تم بھی سیدھے انداز میں جس کا پوچھنا چاہ رہے ہو ڈائریکٹ اسی کو پوچھو۔۔۔۔ تم نے خود ہی تو کہا ہے کہ سب کہاں پر ہیں،، تو میں نے سب کا بتادیا"
فضا نے مسکراتے ہوئے بلال سے کہا مگر یہ مسکراہٹ دل جلانے والی مسکراہٹ سے کم نہیں تھی،، جسے دیکھ کر آیک پل بلال نے گھور کر فضا کو دیکھا مگر پھر اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آنے لگی جسے وہ چھپا گیا 

"پوری فلم ہو تم" بلال سیلڈ کی پلیٹ میں سے کھیرا اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا

"بالکل وہ بھی تین گھنٹے کی ایکشن سے بھرپور"
فضا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا 

"اور اگر میرا رومنٹک فلم دیکھنے کا دل چاہے تو"
بلال میں بخور اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا 

"ہاہاہا رومانٹک فلم وہ بھی کچن میں" فضا نے ہنستے ہوئے کہا 

"بیڈروم کوئی ہمارا دوسرے ملک میں تھوڑی ہے جو جانے میں ٹائم لگے" 
بلال نے قریب آکر اس کا بازو کھینچتے ہوئے کہا 

"بلال ابھی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے کھانا بنانے دو، ماموں کے پاس بیٹھو وہ اکیلے ہیں" 
فضا نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا 

"اوکے ابھی فری نہیں ہوتا مگر رات کو تو فری ہونے کی اجازت ہے نا مجھے"
بلال نے لو دیتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے پوچھا

"بلال پلیز جاو کچن سے"
فضا نے دوبارہ کہا   

"تمہاری طرح تمہاری آنا بھی عزیز  ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار میں اس کا بھرم رکھو ویسے ہو تم بہت ظالم بیوی" 
بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا اور ایک اور کھیرا اٹھا کر منہ میں ڈالا 

"شاید ظالم ہوں مگر تم سے کم اور اگر آب تم نے دوبارہ کھیرا اٹھایا تو میں تمہیں کچن سے دھکے دے کر نکال دوں گی سیٹنگ خراب نہیں کرو" 
فضا نے وان کرتے ہوئے بلال کو کہا 

"کیوں کیا کوئی مہمان آرہا ہے"
بلال نے پوچھا 

"ہاں زین بھائی آئے تھے شام میں وہی تانیہ کو لے کر باہر گئے ہیں،، کہہ رہے تھے ضروری بات کرنی ہے تو میں نے انہیں کہہ دیا کہ رات کا ڈنر ہمارے ساتھ ہی کریے گا" فضا بلال کو تفصیل سے بتانے لگی 

"ہہمم ٹھیک ہے میں ابو کے پاس جا کر بیٹھتا ہوں"
بلال کچن سے باہر نکل گیا    

**

خضر اور حور گھر پہنچے تو خلاف توقع فاطمہ اور اسماء ایک ساتھ بیٹھی ہوئی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی 

"کہاں سے آ رہی ہو حور اس وقت کوئی فکر کوئی احساس ہے تمہیں کتنی دیر ہو گئی ہے"
آسماء نے حور کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر سنانا شروع کردی 

"کیا ہوگی چچی حور میرے ساتھ گئی تھی بلکہ میں خود اس کو لے کر گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے" خضر جو کہ حور کے پیچھے ہی آرہا تھا آسماء کو دیکھ کر بولا 

"کون سے ایسے غم لگے ہوئے ہیں اسے جو گھر میں اس کی طبیعت بہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔۔۔۔ بی بی یہ گھر بسانے والی لڑکیوں کے طور طریقے  نہیں ہوتے ہیں کب تک تمہارا یہاں پڑے رہنے کا ارادہ ہے اور تم خضر میں نے پہلے بھی کہا تھا اپنی راہیں درست سمت پر کرلو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ماں کی بات" فاطمہ نے حور کو کھری کھری سنائیں اور ساتھ ہی بیٹے کو بھی جھاڑا 


"کیا شور مچا رکھا ہے آپ لوگوں نے اس گھر میں،، ایسا کیا ہوگیا جو اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے"
ظفر مراد اپنے بیڈروم سے آوازیں سن کر باہر آئے

"ابو میں حور کو تھوڑی دیر کے لیے باہر لے کر چلا گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے شاید امی اور چاچی کو یہ بات ناگوار گزری ہے" ایک نظر اس نے حور کی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا

"اگر وہ حور کو باہر لے کر گیا تھا تو اس میں ایسی کون سی آفت ٹوٹ پڑی ہے جو آپ دونوں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے"
ظفر مراد خضر کو جاتا دیکھ کر فاطمہ آسماء کی طرف رخ موڑتے ہوئے بولے 

"کوئی اچھی لڑکیوں کے لچھن نہیں ہوتے شادی شدہ ہوکر بھی کزنز کے ساتھ اکیلے سیر سپاٹوں کے لئے نکل جائیں پیچھے کوئی فکر ہی نہ ہو" 
فاطمہ نے حور کو گھورتے ہوئے بولا

"حور اندر جو بیٹا آپ"
ظفر مراد نے حور کو دیکھ کر بولا وہ آنسو صاف کرتی ہوئی فورا اندر چلی گئی

"اور آپ دونوں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں حور مجھ پر بھاری نہیں ہے اور اگر خضر اسے باہر لے کر جانا چاہے یا وہ خود خضر کے ساتھ جانا چاہے تو آپ دونوں میں سے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ جو بھی کچھ ہو رہا ہے میری آنکھیں کھلی ہوئی ہے اور سارے فیصلوں کا حق بھی میں رکھتا ہوں لہذا آئندہ اس گھر میں اس طرح کے ڈراموں سے گریز کریے گا" 
ظفر مراد یہ کہ کر وہاں سے چلے گئے اور ان کے پیچھے فاطمہ بھی،، اسماء وہی صوفے پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگی 

**

"تانیہ اور شاہ۔۔۔۔۔ نہیں میں کیا سوچ رہی ہوں شاہ ایسا نہیں ہے مجھے بالکل ایسا نہیں سوچنا چاہیے اس کے بارے میں۔۔۔۔ مگر خضر بھائی تو کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بہت بار ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔۔۔ اس کے آگے سوچیں حور کا دل ڈوبونے کے لئے کافی تھی

"شاہ نے تو کہا تھا کہ مجھے لینے آئے گا پھر اب تو رات ہوگئی ہے آیا کیوں نہیں اب تک۔ ۔۔ کال کرکے پوچھتی ہوں" اس نے اسماء کا موبائل اٹھایا اور زین کے نمبر اس پر کال ملائی مگر بیل جاتی رہی وہ حور کی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا حور کا دل اور بھی ڈوبنے لگا اتنے میں اسماء روم میں آئی 

"امی مجھے خضر بھائی لے کر گئے تھے میں نے انہیں منع بھی کیا تھا،، مگر وہ بہت اصرار کر رہے تھے تو میں انکار نہیں کر سکی"  حور نے آسماء کو بتانا چاہا

"رہنے دو،، جاو جاکر کھانا کھاؤ آرام کرنا ہے مجھے"
انہوں نے حور کو وضاحت دینے سے منع کیا اور وہاں سے جانے کے لئے کہا خود بیڈ پر لیٹ گئی 


**

زین تانیہ کو گھر چھوڑنے آیا تو فضا اور بلال نے اسے کھانے پر روک لیا۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر مسعود انکل اور بلال کے ساتھ باتوں میں ٹائم اندازہ نہیں ہوا ہے وہاں سے اٹھا تو گھڑی 11 بجا رہی تھی۔۔۔ ٹائم دیکھ کر اس نے حور کو کل لانے کا سوچا کیونکہ سارا دن آفس میں بھی کافی ٹف گزرا تھا یہی سوچ کر وہ گاڑی گھر کی طرف لے گیا۔ گھر پہنچ کر چینج کیا اور بیڈ پر لیٹا تو موبائل پر نظر پڑی توcall missed شو ہو رہی تھی جسے دیکھ کر زین کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور وہ کال ملانے لگا 

***

اسماء کب کی سو چکی کی تھی،، پر نیند حور کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی یہ سوچ کر اس کا دل برا ہو رہا تھا کہ زین نے کہا تھا کہ وہ آج سے لینے آئے گا تو وہ کیوں نہیں آیا اور اس نے کال بھی ریسیو نہیں کی بھلا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی مصروفیت ہوسکتی ہے۔۔۔۔ حور کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آگیا جب زین روتی ہوئی تانیہ کو ٹشو دینے لگا سوچوں کا ارتکاز موبائل کی بیل نے توڑا۔۔۔۔ اسماء کی نیند نہ خراب ہو حور میں پہلی بیل پر کال ریسیو کر لی 

"بڑی بےصبری سے انتظار کیا جا رہا تھا سویٹ ہارٹ" 
فورا کال ریسیو کرنے پر زین کی چہکتی ہوئی آواز حور کے کانوں سے ٹکرائی

"تو اب جاکر فرصت ملی ہے تمہیں کہ بیوی کو کال کر لو" حور نے اس کی بات کو اگنور کرکے طنز کیا 

"ہاہاہا نہ حال نہ خیریت فل بیویوں والا اسٹائل۔۔۔۔ ایسے ہی تھوڑی نہ پیار آتا ہے تم پر" 
زین کے لہجے میں شوخی کا عنصر نمایاں تھا 

"آئے کیوں نہیں آج تم لینے" 
حور نے دماغ میں اٹھتا ہوا سوال پوچھا

"انتظار کیا میرا"
زین نے الٹا اس سے سوال کیا 

"یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے"
حور نے جواب دیا 

یعنی انتظار کیا تھا مگر اقرار کبھی نہیں کرنا ہے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا،،، حور خاموش رہی  

"یار آج کا دن کافی ٹف گزرا پورا دن بزی رہا ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی گھر آیا ہوں"
زین اپنی رو میں بولتا چلا جا رہا تھا اور اسے خبر نہیں تھی کہ حور کے دل پر کیا گزر رہی ہے 

"کیا تم اب فری ہو کر گھر پر آئے ہو،،، یعنی اتنی دیر تک تم۔۔۔"
حور کے دل کو کچھ ہوا وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی 

"کل آؤنگا جان تمہارے پاس شام تک ریڈی رہنا میرا کونسا دل لگ رہا ہے تمہارے بغیر"
زین نے آنکھیں موندتے ہوئے حور سے کہا

"بھاڑ میں گئی جان۔۔۔۔ کل بھی آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جہاں آج سارا دن بزی رہے ہو کل بھی وہی چلے جانا میری بلا سے" حور نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا 

"اف اتنا غصہ سویٹ ہارٹ ایک دم پھلجڑی لگ رہی ہو گی اس وقت۔۔۔ اوکے میں آ رہا ہوں لینے کے لئے مشکل سے ادھا گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں" 
زین اس کی بات پر آنکھیں کھولتے ہوئے کہا حور کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر اسی وقت اسکو لے کر آنے کا ارادہ کیا 

"کہا نا اب مت آنا نہ ابھی، نہ کل اور نہ کبھی"
حور کو دوبارہ رونا آنے لگا 

"کیا ہو گیا ہے یار حور بزی تھا،، اس وجہ سے نہیں آسکا تھا۔۔۔۔ ابھی آ تو رہا ہوں نا لینے"
زین کو حیرت ہوئی حور کی آواز سے وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ رو رہی ہے 

"کہا بزی تھے تم اب تک،، اپنی اس حسین مصروفیات کے بارے میں بتاؤ مجھے۔۔۔ کیا کر رہے تھے اتنی دیر تک" 
اسماء کی سونے کی وجہ سے حور نے ہلکی آواز میں مگر غصے میں زین سے  پوچھا 

"حسین مصروفیت؟؟ کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔۔ واقعی میرے سر پر سے گزر رہی ہیں اس وقت تمہاری باتیں"
زین کو واقعی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے 

"ہاں تم اتنے ہی تو ناسمجھ ہو کہ تم کو میری باتیں ہی سمجھ میں نہیں آ رہی اور تمہارے سر پر سے گزر رہی ہیں"
حور نے سر جھٹکتے ہوئے کہا 

"حور تمہیں جو کہنا ہے وہ ڈایئریکٹ  کہو اس طرح پہیلیاں مت بجھاو۔۔۔۔ میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں پلیز" 
زین نے چڑتے ہوئے کہا

"آج تانیہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے باہر تم"
حور نے ہلکی آواز میں لیکن غصے میں کہا 

"یہاں تانیہ کا کیا ذکر؟؟ ہاں لے کر گیا تھا اس کو باہر کچھ ضروری کام تھا۔۔۔ مگر تم اتنا ہائپر کس بات پر ہو رہی ہوں"
زین کو اب بھی حور کے غصے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی

"واقعی۔۔۔ صرف آج سے ضروری کام تھا؟ ؟ جہاں تک مجھے علم ہے اس سے پہلے بھی تمہیں ضروری کام پڑتے رہے ہیں تانیہ سے۔۔۔۔ آج تو میں نے تمہیں دیکھا ہے تو اقرار کرنا پڑا تمہیں"
اب کے حور کی بات سن کر زین کا دماغ بھک سے اڑ گیا 

"کیا بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔ کیا مطلب سمجھو میں تمہاری اس بکواس کا"
اب کے زین نے غصے میں کہا

"اب تو میری ساری باتیں بکواس ہی لگیں گی تمہیں" حور نے دوبارہ آنسو پونچھتے ہوئے کہا

"حور یہ بہت اچھا ہے تمہارے لئے کہ تم اس وقت میرے سامنے نہیں ہو۔۔۔۔۔ مگر میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ یہ فطور تمہارے دماغ میں خود آیا ہے یا کسی نے بھرا ہے۔۔۔۔ صرف اس بات کا جواب دو مجھے"
زین کو اب واقعی غصہ پر کنٹرول  نہیں ہورہا تھا 

"میں تمہارے آگے تمہاری کسی بھی بات کا جواب دہ نہیں ہوں"
حور کو بھی غصہ آنے لگا یعنی چوری اوپر سے سینہ زوری

"آ رہا ہوں میں کل تم اب جواب بھی دوں گی اور تمہاری اس قینچی جیسی زبان کا علاج بھی کرتا ہوں میں"
زین نے غرا کر کہا کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر اچھالا 


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment