itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Last episode
تانیہ کا موبائل کافی دیر سے بج رہا تھا تانیہ نوٹس بنانے میں مصروف تھی موبائل پر نظر پڑی تو اسکرین پر اشعر کا نام جگمگا رہا تھا
"ہیلو"
تانیہ نے کال ریسیو کی
"کیسی ہیں آپ تانیہ"
اشعر نے کال اٹھانے پر شکر ادا کیا اور خیریت پوچھی
"میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں"
تانیہ نے جھجکتے ہوئے اس کی خیریت پوچھی اس دن بڑی دل گرفتہ ہو کر اس نے اشعر کو قصہ ختم کرنے کا کہہ دیا تھا مگر خود اس قصے کو دل سے ختم نہیں کر سکی تھی۔۔۔ اس کے بعد وہ آج اشعر کی آواز سن رہی تھی
"پرسوں تک تو مجھے خود اپنی خبر نہیں تھی مگر کل جب آپ کے بھائی کو عقل آئی اور اس نے گلے لگا کر مجھے زندگی کی نوید دی تو اپنے آپ کو ٹھیک محسوس کررہا ہوں اور تانیہ ایک بات یاد رکھیے گا۔۔۔ میں وہ انسان ہوں جو کسی چیز کی کمٹمنٹ کرلے تو پیچھے ہٹنا مجھے پسند نہیں۔۔ ۔ آگے زندگی میں بھی میں، میں آپ سے یہی امید رکھنا چاہتا ہوں،، کیا میں آپ سے کوئی امید رکھ سکتا ہوں"
آشعر نے تانیہ سے سوال کیا
"جی میں کوشش کروں گی آپ کی امیدوں پر پورا اتروں اور آپ کو شکایت کا موقع نہ دوں"
تانیہ نے آہستہ سے جواب دیا
"تو پھر میں ممی کو آپ کے گھر بھیج دو؟؟ پلیز یہ مت پوچھئے گا کس لئے"
اشعر نے ریسٹورنٹ والی بات یاد کرتے ہوئے کہا
"جی مجھے پتہ ہے کس لیے بھیجنا ہے" تانیہ کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا مگر پھر وہ پچھتائی
"اچھا کس لیے بھیجنا چاہتا ہوں میں ممی کو،، ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے"
اشعر نے شرارتاً پوچھا
"میلاد کا بلاوا دینے کے لیے"
تانیہ نے کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کردی دوسری طرف اشعر مسکرانے لگا
*****
"اف یہ پھر آگئ سلوا، دکھانے اپنا جلوہ۔۔۔ اس کو تو میں چھوڑو گی نہیں قسم سے اگر آج اس نے کچھ چھچھورپن کیا تو"
فضا جو ابھی سیڑھیوں سے اتر کر اپنے روم سے آئی تھی،، ڈرائنگ روم میں سلوا کو دیکھ کر کچن میں آتے ہوئے جل کر بولی
"اوفو فضا آہستہ بولو اسے کہیں تمہاری آواز ہی نہ چلی جائے کیا سوچے گی"
تانیہ جو کہ کینٹ سے چائے کے کپ نکال رہی تھی فضا کے بولنے پر ایک دم سے بولی
"ارے جاتی ہے تو جاۓ آواز بلکہ میں تو چاہتی ہوں پتہ چلیں اسے میرے خیالات،، اس دن تم نے دیکھا نہیں تھا کہ کیسے آگے پیچھے منڈلا رہی تھی بلال کے"
فضا کو دعوت والا دن یاد کر کے نئے سرے سے غصہ آیا
"اچھا چھوڑو یار کوئی اچھی سی بات کرو اور موڈ ٹھیک کرو اپنا"
تانیہ نے فضا کا دھیان بٹانے کے لئے کہا
"اچھی بات سننی ہے تو سنو میری شہزادی۔۔۔۔ تمہاری ہونے والی ساس کا فون آیا تھا۔۔۔۔ بہت جلد رشتہ لے کر آرہی ہیں وہ اشعر بھائی کا تمہارے لیے"
فضا نے تانیہ کے بازو پر اپنا کندھا ٹکراتے ہوئے کہا
"تم دونوں یہاں کھڑی ہوئی باتیں بنا رہی ہو اور ممانی اور سلوا کب سے وہ اکیلے بیٹھی ہیں"
بلال نے کچن میں آکر تانیہ اور فضا کو کہا جو کہ باتیں کر رہی تھی
"جی بھائی میں تو بس جاہی رہی تھی" تانیہ فورا کچن سے باہر نکل گئی
"وہ اکیلی کہاں تھی تم تھے تو اسے کمپنی دینے کے لئے وہ کیا کہتے ہیں حق میزبانی نبھانے کے لئے"
فضا بول ہی رہی تھی بلال نے ایک دم فضا کو کھینچ کر خود سے قریب کیا
"مجھے سلوا سے یا کسی سے بھی کوئی غرض نہیں ہے۔۔۔۔ تم مہمان بنو میرے دل کی،،، اگر اچھا میزبان ثابت نہیں ہوا تو نام بدل دینا"
بلال نے فضا کے گالوں پر اپنے ہونٹ مس کرتے ہوئے کہا وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوئی بلال کچن سے باہر نکل گیا
*****
ممانی اور سلویٰ کے جانے کے بعد بلال اپنے روم میں آگیا ابھی وہ بیڈ پر لیٹا ہی تھا اسے فضا کی آواز آئی
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو"
آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے فضا مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ میں کیک پکڑے اسے دیکھ رہی تھی
"ہہمم تو تمہیں یاد تھا آج کا دن"
بلال نے مسکراتے ہوئے کہا
"یاد کیوں نہیں ہوگا"
فضا نے مسکراتے ہوئے کہا کیک سامنے رکھا اور knife اسکے ہاتھ میں پکڑائی،،، بلال نے مسکراتے ہوئے کیک کاٹا چھوٹا سا ٹکرا فضا کو کھلایا۔۔۔ اس کے بعد فضا نے بھی کیک کا ٹکڑا بلال کے منہ میں ڈالا
"کیک سے زیادہ انگلیاں میٹھی ہیں" بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر فضا نے گھورنے پر اکتفاد کیا
"اور میرا گفٹ"
بلال نے معنی خیزی سے پوچھا
"زیارہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے بلال، تمہارا گفٹ اسی روم میں چھپایا ہوا ہے ڈھونڈ لو"
فضا کی تھوڑی دیر پہلے والی خوشگواریت ختم ہو گئی تھی اور اپنی ٹون میں واپس آچکی تھی
"کیا مطلب چھپایا ہوا ہے اس طرح کون گفٹ دیتا ہے" بلال نے حیرت سے کہا
"اس روم میں تمہارا گفٹ رکھا ہوا ہے جو تمھیں ڈھونڈ کر نکالنا ہے چلو شاباش لگ جاؤ کام سے"
فضا نے صوفے پر آرام سے بیٹھتے ہوئے جواب دیا اور بلال نے اپنی نرالی بیوی کو تاسف سے دیکھا
بلال نے وارڈروب کا دروازہ کھولا
"تمہیں کیا لگتا ہے اتنی بیوقوف ہوں جو تمہارا گفٹ یہاں چھپا کر رکھو گی" فضا نے بلال کی عقل پر افسوس کرتے ہوئے کہا
بلال نے ڈیوائیڈر، ڈریسر اور ساری ڈراس چیک کی وہاں پر بھی کچھ نہیں تھا،،، فضا اس کی ایک ایک کاروائی سے مخطوط ہو رہی تھی۔۔۔ بلال نے جھلا کر بیٹھ کے نیچے جھانکا وہاں پر ایک پیکٹ رکھا ہوا تھا جس پر گفٹ ریپر چڑھا ہوا تھا۔۔۔ بلال پیکٹ نکال کر فضا کو دیکھنے لگا تو فضا مسکرانے لگی
"اور میرا دوسرا گفٹ"
بلال فضا کے پاس اکر گہری نظروں سے اسے دیکھ کر کہنے لگا
"گفٹ گفٹ ہوتا ہے اور وہ ایک ہی ہوتا ہے،، جو تمہیں مل چکا تھا اس لیے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے" فضا جانے لگی تو بلال نے اسے روک کر خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
"پر مجھے تو آج دوسرا گفٹ بھی چاہیے"
ؑبلال اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے بولا
"بلال تم اوور ہو رہے ہو"
فضا نے اسے دور ہٹانا چاہا
"نہیں اب تم اوور ہو رہی ہوں"
بلال نے مزید گھیرا تنگ کیا
"ہمدردی اور ترس کھا کر تم نے مجھ سے شادی کی اور تم کہہ رہے ہو کہ میں اوور ہو رہی ہوں"
بولتے ہوئے فضا کا گلا رؤندھا، مگر آنسو اس نے آنکھوں سے باہر نہیں آنے دیئے۔۔۔ اس نے بلال کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹائے
"کیوں کھاو گا میں تم ترس اپاہچ ہو تم لنگڑی لولی ھو جو تم پر ترس کھایا جائے یا ہمدردی کی جائے۔۔۔۔ تم آج بتاو فضا اپنی محبت کا کیا ثبوت دوں تمہیں"
بلال نے اس سے کہا
"کون سی محبت کی بات کر رہے ہو تم"
فضا نے حیرانگی سے پوچھا
"اسی محبت کی جو تمہیں کبھی نظر نہیں آئی"
بلال نے دوبارہ فضا کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں" فضا نے بے یقینی سے بولا
"ٹھیک ہے پھر تو تمہیں مجھے ایک موقع دینا چاہیے۔۔ تاکہ میں اپنی محبت کا تمہیں یقین دلا سکو۔۔۔ ویسے بھی میرے جذبوں کی سچائی کا اندازہ تم اس وقت اس بات سے لگا لو کہ تم میری بیوی بن کر میرے سامنے کھڑی ہو"
بلال نے بولتے ہوئے فضا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے،،، فضا اپنے دل سے بغاوت کر کے بلال کی محبت پر ایمان لے آئی
*****
"خلع لینے کا شوق چڑھا ہوا ہے تمہیں،، خلع چاہیے تمہیں مجھ سے،،، جواب دو"
گھر پہنچتے ہی زین نے اپنا اف کیا ہوا موبائل کھولا اور حور کا بازو وہ اپنے ہاتھ میں جگڑتے ہوئے بولا
"تمہیں لگتا ہے شاہ کے میں تم سے خلع لے سکتی ہو"
حور نے افسوس سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"پھر وہاں پر یہ سب کیا ڈرامہ ہوا تھا"
زین نے حور کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے کہا جس میں نرمی کی بجائے سختی تھی
"تم مجھ پر شک کر رہے ہو شاہ"
حور نے آنکھوں میں شکوہ لیے ہوئے اس سے کہا
"اور تم کیا کر رہی تھی کل رات جواب دو"
زین نے سختی دکھاتے ہوئے اس کو مزید اپنے سے قریب کیا
"بات مت کرو مجھ سے اس موضوع پر، تم بہت برے ہو"
حور نے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا اور آنکھوں میں ایک دم آئے ہوئے آنسو صاف کیے زین اس کو دیکھتا رہا
"حور یہاں دیکھو میری طرف"
زین نے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناکر حور کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا
"بس اتنا یقین ہے تمہیں اپنے شاہ پر"
زین سنجیدگی سے حور سے پوچھ رہا تھا اب اس کے لہجے میں ہلکی سی بھی غصے کی رمق نہیں تھی
"تو پھر کیوں موجود تھے تم وہاں پر تانیہ کے ساتھ"
وہ اب منہ بناکر اس سے پوچھ رہی تھی اس طرح سے وہ زین کو بالکل بچپن والی پری لگی
"تانیہ نے اشعر کے لئے انکار کردیا تھا وہی اس کو سمجھانے کے لئے لے کر گیا تھا
زین نے حور کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"کیا اشعر بھائی اور تانیہ"
حور نے حیرت سے زین کے سینے سے سر اٹھا کر اسکو دیکھا تو زین نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے
"اشعر پسند کرتا ہے تانیہ کو مگر تانیہ نے بلال کی ناراضگی کی وجہ سے اشعر کو انکار کردیا تھا۔۔۔ اس لیے اس کو سمجھانے کے لئے وہاں لے کر گیا تھا
زین حور کو بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ تک لایا اور بیڈ پر لیٹاتے ہوئے کہنے لگا
"مگر بلال بھائی نے کیوں انکار کردیا اشعر بھائی تو ہر لحاظ سے تانیہ کے لیے پرفیکٹ ہیں"
زین نے اس کا دوپٹہ سائڈ پر رکھا
"کیونکہ بلال کا دماغ خراب ہوگیا تھا"
زین نے بولتے ہوئے حور کے ہونٹ کے نیچے تل پر اپنے ہونٹ رکھے
"اور اس سے پہلے کیوں ملتے رہے تھے تم تانیہ سے"
حور کا دماغ اب بھی خضر والی بات پر اٹکا ہوا تھا
"کس نے خناس بھرا ہے تمہارے دماغ میں"
حور کی بات سن کر زین کی پیشانی پر بل بڑے وہ اپنا سر اٹھاتے ہوئے بولا
"جواب دو،، کیا پوچھ رہا ہوں میں"
حور کی چپ رہنے پر زین نے دوبارہ پوچھا
"خضر بھائی نے کہا تھا انہوں نے کئی بار تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے" حور نے ڈرتے ہوئے جواب دیا
"تم تو کل رات فون پر کہہ رہی تھی کہ تم نے دیکھا ہے مجھے،، ایک منٹ خضر بھی وہاں موجود تھا یعنی تم خضر کے ساتھ وہاں پر تھیں"
زین نے اٹھتے ہوئے کہا حور نے اسکی شرٹ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
"شاہ پلیز ناراض مت ہونا اور نہ ہی غصہ کرنا"
حور نے بیچارگی سے کہا
"اور تم اپنے خضر بھائی کی باتوں پر یقین کرنا اور شوہر پر شک کرنا،،، میں نے بچپن سے ہی صرف ایک لڑکی کو چاہا ہے حور وہ تم ہو۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں کسی اور میں Involve ہو سکتا ہوں، کہاں کمی دکھی ہے تمہیں میرے پیار میں"
وہ آب سنجیدگی سے حور سے پوچھ رہا تھا
"اچھا نہ ایم سوری معاف نہیں کرو گے اپنی پری کو" حور نے بیچارگی سے کہا
"خالی خالی سوری سے تو بالکل بھی معاف نہیں کروں گا اب سخت سے سخت پنیشمنٹ کے لئے تیار ہو جاؤ"
زین نے معنی خیزی سے کہا اور اس کی گردن پر جھگ گیا
"میرے جانے کے بعد تم نے گھر کی کیا حالت بنا رکھی ہے شاہ،، کتنی بے ترتیبی ہے پورے کمرے میں"
حور نے زین کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
"ہاں یار وہ بعد میں مل کر سیٹ کرلیں گے نہ ہم دونوں"
خمار آلود آواز میں وہ حور کے ہونٹوں کو فوکس کرتے ہوئے کہہ رہا تھا
"شاہ اس دن تم کہہ رہے تھے کہ بلال بھائی اور فضا کو ڈنر پر بلائیں گے تو کیوں نہ ہم کل انوائٹ کرلیں ان لوگوں کو"
حور نے اپنی شہادت والی انگلی زین کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے زین سے کہا
"وہ بھی بات میں ڈیسایڈ کرلیتے ہیں"
اس نے حور کی انگلی کو چومتے ہوئے پیچھے ہٹایا،، دوبارہ جھکا
"شاہ میں سوچ رہی تھی کیوں نہ ہم۔۔۔"
"شٹ اپ حور، اگر اب تم نے کچھ بھی بولا، تو پھر دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
زین نے حور کو گھورتے ہوئے وان کیا
اب حور نے اپنا منہ بلکل بند کرلیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی وہ صرف وارنگ نہیں دے رہا ہے۔۔۔۔ مشکل سے پانچ منٹ گزرے ہوگے کے زین کا موبائل بچ پڑا،، زین نے دوبارہ سر اٹھا کر حور کو گھورا
"اب میں نے کچھ نہیں بولا"
اس نے ہنسی دباتے ہوئے زین کے موبائل کی طرف اشارہ کیا
زین دوبارہ موبائل of کرنے لگا مگر نمبر دیکھ کر کال ریسیو کرلی
"ہیلو۔۔۔ جی بات کر رہا ہو۔ ۔۔ بولیے" زین اٹھ کر بیٹھا اور سنجیدگی سے بات سننے لگا
"اوکے میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں"
کال ڈسکانٹ کر کے وہ اٹھا اور شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا
"کیا ہوا زین کس کا فون تھا"
حور نے بیڈ سے اٹھ کر زین کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ہاں تم دروازہ اچھی طرح لاک کر لینا،، میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے وہ کیز اور والٹ اٹھاتا ہوا سنجیدگی سے بولا
"سب ٹھیک ہے زین تم کب تک آؤ گے واپس"
حور نے اس کو جاتا ہوا دیکھ کر پوچھا"
"تھوڑی دیر لگ جائے شاید دروازہ لاک کرلو"
حور سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا
****
حور جوکہ کافی دیر سے یہ سوچ رہی تھی کہ زین کہا گیا ہے اس وقت وہ اتنا الجھا ہوا لگ رہا تھا کہ وہ پوچھ بھی نہیں سکی بعد میں کال کی تو وہ ریسیو نہیں کر رہا تھا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل پر کال آئی
"السلام علیکم ماما کیسی ہیں آپ" اسماء کی کال دیکھتے ہوئے حور کا زہن زین سے آسماء کی طرف گیا
"وعلیکم السلام ٹھیک ہو تم اور زین گھر پہنچ گئے تھے آسماء نے حور سے پوچھا
"جی گھر تو پہنچ گئے تھے مگر شاہ ابھی کسی کام سے نکلا ہے بس اسی کا انتظار کر رہی ہوں ماما آپ کہاں ہیں اس وقت"
حور کو ظفر مراد کی بات یاد آئی تو اس کو آسماء کی فکر ہوئی
"مجھے ارشد بھائی اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے تم میری فکر نہ کرو میں بالکل ٹھیک ہوں" آسماء نے حور کو اطمینان دلایا
"ماما آج بہت برا ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،، تایا ابو تو بہت ناراض ہیں ہم سے"
حور کو آج کے سارے قصے پر افسوس ہوا
"بیٹا کبھی کبھی بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے چھوٹی چھوٹی ناراضگی برداشت کرنی پڑتی ہیں" آسماء نے حور کو سمجھایا
"ٹھیک کہہ رہیں آپ۔۔ تایا ابو نے کتنی آسانی سے خلع کے پیپرز بنوالیے، انہوں نے زرا بھی میرے بارے میں نہیں سوچا"
حور کو افسوس ہوا
"دیکھو حور میں تمہارا دل تمہارے تایا ابو یا ان کے گھر والوں سے برا نہیں کرنا چاہتی ہوں، مگر اب تم شادی شدہ ہو تمہیں یہ حقیقت معلوم ہونی چاہیے تاکہ آگے زندگی میں تمہارے ساتھ خدا نا خاستہ کوئی مسئلہ نہ ہو،، پتہ نہیں یہ سب تمہیں زین نے بتایا ہے کہ نہیں۔۔"
پھر انہوں نے حور کو زین سے اپنے ہونے والی ساری باتوں کے ساتھ ساتھ ظفر مراد اور خضر کی ہونے والی بھی ساری باتیں بتائیں۔۔۔۔ حور کو ساری باتیں سن کر بہت زیادہ دکھ ہوا مگر جس بات پر اس کا دل برا ہوا وہ یہ کہ خضر نے زین کو میسج کر کے وہاں بلایا تھا
*****
"کیا ہوا ڈاکٹر اشفاق کیسی ہیں میری مدد"
زین نے اسپتال آتے ہی ڈاکٹر سے نادیہ بیگم کے بارے میں پوچھا
"آپ کو کافی دیر سے کال کر رہے تھے مگر کال ریسیو نہیں کی گئی۔۔۔ ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے ان کی حالت اچانک بگڑ گئی بیپی شوٹ کرنے کی وجہ سے وہ کومے میں چلے گئے ہیں۔۔۔ کنڈیشن ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں آیا آپ دعا کریں ان کے لئے"
ڈاکٹر اشفاق پروفیشنل انداز میں زین کو کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔۔۔ زین وہی سن ہوکر کھڑا رہ گیا
دو گھنٹے بعد زین کو جو خبر دی گئی وہ اس کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھی اس کی اماں اس کی جنت اس کو چھوڑ کر دنیا سے جاچکی تھی۔۔۔ بلال اور اشعر بھی وہی اس کے پاس موجود تھے ساری فارمیلیٹیز ان دونوں نے یہ نبھائی،، زین کو اپنا بھی ہوش نہیں تھا کب ڈیڈ باڈی کو اسپتال سے گھر لایا گیا، کون کون اس سے ملا، کس کس نے دلاسہ دیا، کون کیا کہہ رہا تھا، وہ سب خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا ہوش جب آیا جب بلال نے اس کو آخری بار چہرہ دیکھنے کے لیے کہا۔۔۔ تب وہ رویا بلال اور اشعر نہیں ہی اس کو سنمبھالا
دوسری طرف حور جو زین کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھی جس طرح بلال اور اشعر اس کو لے کر آئے اور جو خبر اشعر نے اس کو سنائی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا نادیہ بیگم کا چہرہ بار بار حور کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا ان کے جملے حور کے کانوں میں گونجنے لگے
"میں آج بہت خوش ہوں زین کا میرے سوا کوئی نہیں ہے دنیا میں لیکن اب تم آ گئی ہو۔۔۔ اس لئے میں مطمئن ہوں، اس کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑنا، حور وعدہ کرو مجھ سے"
حور کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے
"میں خود کیسے رہ سکتی ہوں آپ کے بیٹے کی بناء۔۔۔۔ میں کبھی بھی اس کو خود سے دور نہیں کروں گی"
اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچا اور قدم دوسرے کمرے کی طرف بڑھائے جہاں زین موجود تھا۔۔۔ وہ اس کے پاس جانا چاہتی تھی، اس کا دکھ بانٹنا چاہتی تھی، اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی مگر کمرے میں موجود آفس ورکرز اور دوسرے مرد دیکھ کر واپس پلٹ آئی
****
سب لوگ تقریبا چلے گئے تھے گھر میں صرف بلال اور اشعر اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے۔۔۔ شازیہ تانیہ اور فضا حور کے پاس روم میں ہی موجود تھی اس کی ماما اور ماموں تھوڑی دیر پہلے ہی گئی تھی جبکہ زین کے ساتھ بلال اور اشعر دوسرے کمرے میں موجود تھے
"اشعر تم انٹی کو گھر چھوڑنے جاؤ گے تو تانیہ اور فضا کو بھی ڈراپ کر دینا میں ابھی یہی ہو زین کے پاس"
بلال نے اشعر سے کہا
"ٹھیک ہے میں ممی تانیہ اور بھابھی کو ڈراپ کرکے آتا ہوں تھوڑی دیر میں" اشعر بولا
"تم دونوں کو بھی گھر جانا چاہیے آنٹی فضا اور تانیہ کیسے رہے گیں رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔۔ مجھے تو آپ رہنا ہے ہمیشہ اماں کے بغیر"
زین نے ان دونوں کی باتیں سن کر جواب دیا
"کیسی باتیں کر رہے ہو تم تمہیں لگتا ہے کہ ہم اس گھڑی میں تمہارا ساتھ چھوڑیں گے بلال نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا
"مجھے پتا ہے تم لوگ زندگی میں کبھی بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑوں گے۔۔۔۔ حور ہے تو میرے پاس تم لوگ فکر نہیں کرو"
زین کے کہنے پر وہ دونوں زین سے مل کر چلے گئے
****
زین جب روم میں آیا تو حور بیڈ پر آنکھیں بند کی ہوئے لیٹی تھی سارا دن تھکن ہونے کے باعث اس کی آنکھ لگ گئی تھی اس لیے جاتے ہوئے شازیہ نے فضاء اور تانیہ کو بھی اس سے ملنے سے منع کر دیا تھا تاکہ اس کے آرام میں خلل نہ پڑے
کسی احساس کے تحت حور کی آنکھ کھولی تو سامنے زین بکھرا بکھرا سا کھڑا تھا۔۔۔ سارے دن کے بعد اتنے قریب سے حور اس کو اب دیکھ رہی تھی۔۔۔
"شاہ"
حور اٹھ کر بیٹھی اس سے پہلے وہ اٹھ کر اس کے پاس آتی زین نے آگے بڑھ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے حور کی گود میں اپنا سر رکھ دیا اس کا غم ایک بار پھر تازہ ہونے لگا
"حور اماں چلی گئیں مجھے چھوڑ کر"
جن آنسوؤں کو بلال اور اشعر کے سنبھلہ دینے پر اس نے روک لیا تھا اب وہ حور کی گود میں سر رکھ کر دوبارہ نکل آئے وہ بچوں کی طرح حور کی گود میں سر رکھ کر رو رہا اور حور کے آنسو زین کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے
"ایسے مت بولو شاہ میں ہونا تمہارے پاس اس طرح مت رو پلیز مجھے تکلیف ہورہی ہے اور اماں بھی تمہیں اسطرح دیکھ کر دکھی ہوگیںں"
حور نے زین کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
کافی دیر تک وہ زین کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی،، زین شاید اس کی گود میں ہی سو چکا تھا۔۔۔۔ حور نے بھی بیڈ کے کراون سے سر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں
****
رات سے صبح ہو گئی خضر سوچوں کے بھنور میں ڈوبا ہوا تھا
"ہر بار زبردستی تم اس طرح حور کو نہیں لے کر جاسکتے زین۔۔۔۔ آج کے بعد تم کبھی بھی حور کو مجھ سے نہیں چھین سکو گے"
اس نے پسٹل دراز سے نکالی اور گھر سے باہر نکل گیا
****
صبح حور کی آنکھ کھلی تو زین کو بیڈ پر لیٹے ہوئے دیکھا وہ بھی جاگ رہا تھا
"کب اٹھے تم۔ ۔۔ مجھے کیوں نہیں اٹھایا"
حور نے اٹھتے ہوئے کہا
"ابھی آنکھ کھلی ہے تھوڑی دیر پہلے" زین نے حور کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
"ٹھیک ہے پھر میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں"
حور نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا
"نہیں ناشتے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا بس ایک کپ اسٹرونگ سی چائے لونگا"
وہ بھی بیڈ سے اترتے ہوئے بولا
"شاہ میں ناشتہ بنانے جا رہی ہوں، مجھے اس وقت بہت زور کی بھوک لگی ہوئی ہے لیکن اگر تم نے کچھ نہیں کھایا تو میں بھی ناشتہ نہیں کروں گی"
حور نے سنجیدگی سے کہا اور بیڈ روم سے باہر چلی گئی
دوپہر میں قرآن خوانی تھی وہ چارہی تھی کہ زین کچھ کھالے پھر شام تک لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔۔۔۔ ناشتہ بنانے کے خیال سے وہ کچن میں گئی
دروازے پر بیل بجی تو زین دروازہ کھولنے کی نیت سے باہر گیا دروازہ کھولا تو سامنے خضر کو کھڑا پایا ابھی وہ خضر کو دیکھ کر اس کے آنے کی وجہ سمجھ بھی نہیں پایا تھا خضر اسے دھکا دے کر اندر آ گیا
"کون ہے شاہ"
حور بھی کچن سے باہر نکل آئی اور سامنے خضر کو دیکھ کر ٹھٹک گئی
"تم ہر بار حور کو مجھ سے چھین کر نہیں لے جاسکتے زین، تمھارے پاس دو آپشن ہے اب بتاؤ اس کی زندگی سے جانا چاہتے ہو یا اس دنیا سے"
آخری بات کہتے ہوئے خضر نے پسٹل نکال کر زین کے سینے پر رکھی
"حور میری بیوی اور میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا تم دوسرا آپشن خوشی سے استعمال کرسکتے ہو"
زین نے اس کے پسٹل کا رخ اپنے سر پر کیا
"یعنی تم اس دنیا سے جانا پسند کرو گے آگر تمہاری اسی میں خوشی ہے۔۔۔"
ابھی خضر بول ہی رہا تھا
"چٹاخ"
حور نے زور دار تھپڑ خضر کے منہ پر مارا
"ہمت کیسے ہوئی آپ کی میرے شوہر پر پسٹل تاننے کی کیا کرنے جارہے تھے آپ۔۔۔۔ اس کو ماریں گے آپ۔۔۔ بولیں؟ حور نے خضر کا گریبان پکڑ کر پوچھا اور خضر سکتے کے عالم میں کھڑا ہو کر حور کو دیکھ رہا تھا اسے یقین نہیں آیا کہ حور نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا ہے دوسری طرف زین کی بھی یہی حالت تھی
"شوہر ہے یہ میرا،، زندگی ہے میری،، مجھ سے میری زندگی چھیننا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔ کیوں؟؟ بولیے آج، کیوں چاہتے ہیں آپ ایسا"
حور شاید اپنے حواسوں میں نہیں تھی اس کا گریبان پکڑ کر چیخ کر بولی
"اس نے بھی تو تمہیں مجھ سے چھینا ہے حور"
خضر ٹرانس کی کیفیت میں بولا
"بھائی کا مطلب سمجھتے ہیں آپ؟؟ بولیے بھائی کہتی ہوں میں آپ کو۔۔۔ بلکہ کہتی ہی نہیں مانتی ہوں۔۔۔اس کو مارنا ہے نہ آپ نے مار دیجیے گا مگر اس سے پہلے مجھے مار دیجیے"
حور زین کے سامنےآئی خضر کا پسٹل والا ہاتھ تھام کر رخ اپنی طرف کیا"
"حور کیا کر رہی ہو ہٹو سامنے سے گولی چل جائے گی"
حور نے پسٹل کا رخ اپنی طرف کیا تو زین حور کو کندھے سے تھام کر بولا
"نہیں شاہ آج انہیں وہ کرنے دو جن سے ان کی زندگی میں سکون اجائے۔۔۔ مار ڈالیں آپ کے خضر بھائی میرے شوہر کو بھی مگر اس سے پہلے مجھے"
حور روتے ہوئے کہہ رہی تھی
خضر نے پسٹل والا ہاتھ حور کے ہاتھ سے چھڑا کر نیچے کیا،، اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ حور کو دیکھ رہا تھا پھر وہ زیادہ دیر رکا نہیں وہاں سے چلا گیا
"حور کیا کرنے والی تھی۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو" زین نے حور کو گلے لگاتے ہوئے کہا وہ اب بھی زین کے گلے لگ کر رو رہی تھی زین نے حور کا چہرہ اوپر کر کے آنسو صاف کیے اور اسکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے
"چلو اندر"
پیار کا رشتہ ان دونوں میں قائم تھا ہی اور اعتبار کا بھی قائم ہوچکا تھا
****
"خضر بیٹا یہاں اتنے اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہو" فاطمہ نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا
"خضر کیا ہوا تمہیں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ"
فاطمہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے خضر کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا
"امی میں بہت برا ہونا، بہت برا ہوں میں۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ خود کو حق پر سمجھا، آپ کی نافرمانی کی، ہمیشہ ضد لگائی۔۔۔۔ جو چیز میری تھی ہی نہیں اس کو پانے کے لئے صحیح غلط سب بھول گیا اور آج دیکھیں میری کیا حالت ہو گئی ہے"
وہ فاطمہ کے گلے لگ کر روتے ہوئے کہنے لگا
"نہیں میری جان تم میرے بہت پیارے بیٹے ہو، سب سے اچھے بیٹے۔۔۔ ایسے دل چھوٹا نہیں کرو"
فاطمہ بھی اس کو ساتھ لگائے کوئی ہراساں ہوئی
ظفر مراد اندر کمرے میں آئے تو اندر کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئے
"کیا ہوا ہے آپ دونوں کو اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں"
انہوں نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا
"آپ دیکھیں نہ اسے کیا ہو گیا ہے، کس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔۔۔ مجھے بھی پریشان کر رہا ہے"
فاطمہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے شوہر سے کہا
"خضر اگر میں چپ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے ہمت ہار دی ہے۔ ۔۔۔ حور اب زین سے خود طلاق بھی لے گی اور بہت جلد خود چل کر اس گھر میں خود آئے گی"
ظفر مراد نے خضر سے کہا
"ابو آپ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس سے حور کو پریشانی ہو۔۔۔۔ وہ زین کے ساتھ خوش ہے اور میں اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں
خضر چہرہ صاف کرتے ہوئے ظفر مراد سے بولا
"اور میں تمہیں بھی خوش دیکھنا چاہتی ہوں میری جان۔۔۔۔ خضر تمہیں اس طرح دیکھ کر میرا دل بہت دکھ رہا ہے"
فاطمہ ایک دفعہ پھر ہراساں ہوئی
"امی میں خوش ہوں بلکہ آپ کی مرضی اور خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔۔۔ مگر مجھے تھوڑا وقت لگے گا پلیز"
خضر کہتا ہوا روم سے باہر چلا گیا
****
7 ماہ بعد
فضا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہو رہی تھی۔۔۔ بلال چلتا ہوا اس کے پاس آیا
"ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تمہاری تیاری۔۔۔۔ فضا ہمہیں وہاں پر مہمانوں سے پہلے پہنچنا ہے پلیز جلدی جلدی تیار ہو"
بلال نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
"اگر میں لیٹ ہو رہی ہونا تو تمہاری وجہ سے لیٹ ہو رہی ہو۔۔۔ اس لئے زیادہ شور کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
فضا نے دوپٹہ اگے پھیلا کر اڑتے ہوئے
کہا
ان سات ماہ میں یہ تبدیلی آئی تھی کہ وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی اور وجہ یہ تھی چند مہینوں بعد وہ ماں کے مقام پر فائز ہونے والی تھی
"چلو جی تمہارے لیٹ ہونے میں بھی مجھ معصوم کا قصور ہے"
بلال نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"تو تمہیں لگی ہوئی تھی کہ مہندی لگوا کر آو مہندی لگوا کر آو۔۔۔۔ پتہ بھی ہے نا شادی والے گھر میں کتنے کام ہوتے ہیں"
وہ سارا ملبہ بلال پر گراتے ہوئے بولی
"اچھا دکھاؤ تو مہندی کیسی لگی ہے"
وہ فضا کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا اور مہندی کے ڈیزائن کو غور سے دیکھتے ہوئے اس کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا
"بلال مہندی کی خوشبو بعد میں سونگ لینا ہم اب بھی لیٹ ہو رہے ہیں"
فضا نے مسکراتے ہوئے کہا اور بلال نے اس کو گھور کر دیکھا
*****
"افوہو حور تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔ دو بار فون آ چکا ہے اشعر کا سب پہنچ گئے ہیں اور ہم ہی لیٹ ہیں" زین نے دوبارہ کمرے میں آکر حور کو بتایا مگر اس کی تیاری تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
5منٹ ویٹ کرو شاہ بس تھوڑی سی تیاری رہتی ہے"
حور نے اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا
"سویٹ ہارٹ اگر پانچ منٹ کے بعد بھی تمہارے پانچ منٹ ختم نہیں ہوئے تو میں اشعر کو معذرت کا فون کرکے آج کا پروگرام کینسل کر دوں گا"
زین اس کو پیار سے وان کیا
"شاہ تمہیں پتہ ہے نا کتنی محنت کرنی پڑتی ہے تیار ہونے میں اور اب تم اوپر سے بار بار آکر مجھے ڈسٹرب کر رہے ہو اگر تم نے اشعر بھائی کو معذرت کا فون کیا نہ تو وہ اپنی شادی کا پروگرام کینسل کردیں گے۔۔۔ تمہارے بغیر تو وہ گھڑی بالکل نہیں چڑھنے والے"
حور نے زین کو تسلی سے جواب دیا اب تک اسے بلال اور اشعر کے ساتھ زین کی دوستی کا اندازہ ہو چکا تھا
"تو میری جان اپنے اشعر بھائی پر ترس کھاؤ اور جلدی جلدی تیار ہو"
زین اس پر محبت بھری نظر ڈال کر باہر نکل گیا حور بیٹھ کر آپنی سینڈل کے اسٹریپ بن کرنے لگی
*****
زین اور حور بینکوئٹ میں داخل ہوئے تو بلال اور فضا کو وہی اپنا منتظر پایا
"کافی جلدی نہیں آگئے آپ لوگ آج بارات کے فنکشن میں"
فضا نے زین اور حور کو دیکھتے ہوئے کہا
"اگر میں حور کو پروگرام کینسل کرنے کی دھمکی نہیں دیتا تو اسے مزید میک اپ میں 2 گھنٹے لگانے سے۔۔۔۔مجھ شریف انسان کو تو پندرہ منٹ چاہیے تیار ہونے میں"
"کوئی بات نہیں دوست تمہارا غم اور میرا غم ملتا جلتا ہے یہاں پر بھی یہی حال ہے"
بلال نے اپنا رونا رویا
"بالکل دنیا میں دو ہی تو شریف انسان ہے آپ اور زین بھائی،، چلو حور تانیہ سے ملواتی ہوں"
فضا نے تب کر کہا حور ان کو وہاں سے لے کر چلی گی
"تم بھی چلو اشعر بار بار تمہارا پوچھ رہا تھا"
زین اور بلال بھی وہاں سے اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے
آج اشعر اور تانیہ کی شادی تھی تانیہ دلہن بن کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی نکاح کے بعد جب اسے لا کر اشعر کے پہلو میں بٹھایا گیا تو سب نے ان دونوں کی جوڑی کو سراہا۔۔۔۔۔۔۔ زین اور حور، فضا اور بلال جب اسٹیج پر تانیہ اور اشعر کو مبارکباد دینے پہنچے تو فوٹوگرافر نے ان تینوں جوڑی کو تصویر کی صورت اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا
ختم شد❤
Wednesday, December 12, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment