Monday, December 31, 2018

itni mohbbat karo na (season 2) episode 6

itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 6



"کتنی بورنگ شادی ہے"
سوہنی نے منہ بناتے ہوئے بولا

"ظاہری بات ہے کون سی ہمارے کزن کی شادی ہے جو ہم انجوائے کریں گے"
فری پوز بنا کر اپنی تصویر کھینچتے ہوئے بولی

"اگر مجھے اندازہ ہوتا یہاں آکر بور ہونا ہے تو میں آج نہیں آتی زرش کو دیکھو نظر ہی نہیں آرہی ہے اپنی کزن کے ساتھ کیسے گھومے جا رہی ہے" حیا نے اپنی بوریت کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کیا

"اوہو بوریت دور کرنے کے لئے میرے پاس ایک آئیڈیا ہے کیوں نہ ہم ایک گیم کھیلں" فری نے موبائل رکھتے ہوئے تجویز دی

"اس بینکیوٹ میں گیم کھیلیں کہیں تمہارا دماغ چل تو نہیں گیا"
سوہنی نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا

"ارے پہلے پوری بات میری سن تو لو ڈمبو"
فری نے جھنجھلاتے ہوئے کہا اور پاس پڑے ٹیبل سے پانی کی منرا بوتل اٹھائی

"کیوں نہ ہم truth and dare کھیلیں"
اس نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"ویسے آئیڈیا تو اتنا برا نہیں ہے"
حیا نے متاثر ہوتے ہوئے کہا

فری نی ٹیبل سے بوتل اٹھائی اور لیٹا کر اسکو گھمایا۔۔۔ کورک والی سائڈ اتفاق سے حیا کے اوپر آئی اور حیا کا منہ او شیپ میں کھل گیا

"چلو بھی حیا اب تم dare کے لئے تیار ہو جاؤ اور تمہارا dare ہے کہ وہ اس سائیڈ پر بلیک ڈنر سوٹ میں جو dashing person دکھ رہا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے اپنی پاکٹ میں لائٹر رکھا ہے وہ لائٹر نکال کر تمہیں لانا ہے مگر اس کو پتہ نہ چلے"
سوہنی نے اس کو ڈیئر بتاتے ہوئے معاویہ کی طرف اشارہ کیا

"یو مین اس دو ٹکے کے پولیس والے کے پاس سے لائٹر لانا ہے"
حیا نے ایسی شکل بناکے کہا جیسے اسے کے ٹو کے پہاڑ پر چڑھنے کا کہہ دیا ہو

"کیا ہوا لگتا ہے کافی مشکل ڈیئر مل گیا ہے تمہیں شاید"
فری نے حیا کی شکل دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا

"خیر اب ایسا بھی کوئی مشکل نہیں ہے"
حیا نہ آنکھیں بند کرکے دوبارہ کھولیں اور چیئر سے اٹھتے ہوئے معاویہ کی طرف قدم بڑھائیں

معاویہ جوکہ رش ہونے کی وجہ سے تھوڑا سائیڈ پر ہوکر موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا،، حیا اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے آئی معاویہ کی پشت حیا کی طرف تھی اس وجہ سے اس کی نظر حیا پر نہیں پڑھی اور حیا اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، دبے پاؤں معاویہ کے بالکل قریب آئی اس نے معاویہ کی پاکٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا، معاویہ نے پلٹ کر ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا بے ساختہ ہلکی سی چیز حیا کے منہ سے نکلی

"آخر ایسی کونسی چیز ہے جس کی وجہ سے تمہیں اس دو ٹکے کے پولیس والے کے پاس آنا پڑا"
حیا کا نازک ہاتھ ابھی بھی اس کے مضبوط ہاتھ میں تھا

"کیا مطلب ہے تمہارا، دماغ تو خراب نہیں ہے۔۔۔ بھلا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے تمہارے پاس آکر کسی چیز کے لینے کی،، تم جیسے کو تو میں اچھی طرح جانتی ہوں بس لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کے بہانے چاہیے ہوتے ہیں"
حیا نے اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے کہا

"یعنی چوری اور اوپر سے سینہ زوری"
معاویہ نے اپنا موبائل جیب میں رکھتے ہوئے حیا کو دلچسپ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

"چوری؟؟؟؟ چوری کیسی میں تو یہاں سے گزرتے ہوئے جا رہی تھی"
حیا نے بات بناتے ہوئے بولا

"جب چور کو کوئی بہانہ نہیں سمجھ میں آتا تو بالکل ایسی ہی وضاحتیں دیتا ہے"
حیا کا نروس ہوتا ہوا روپ معاویہ کے دل کو اور بھی بھارہا تھا

"ای مسٹر اپنی حد میں رہو اگر میں کچھ بول نہیں رہی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم بار بار مجھے چور کہہ کر مخاطب کرو"
حیا کو اب غصہ آنے لگا

"میرا نام مسٹر نہیں معاویہ ہے اور میں ابھی تک اپنی حد میں ہی ہوں ویسے چور کو چور ہی کہا جاتا ہے کترینہ کیف نہیں"
معاویہ اس کے پل پل بدلتی کیفیت کو انجوائے کر رہا تھا اس لئے جان بوجھ کر بات کو تول دے رہا تھا

"تمہارا نام معاویہ ہو یا پھر x y z مجھے کیا لینا دینا،،، اپنی حد میں ہو یہ تمہاری صحت کے لئے بہتر ہے اور ہاں کر رہی تھی میں چوری کیا کر لو گے تم"
حیا نے مزید تپ کر کہا

"میرے نام سے آگے زندگی میں جاکر تمہیں ہی لینا دینا ہوگا۔۔۔ ویسے تم ایک پولیس والے کے سامنے اپنا اقبال جرم قبول کر رہی ہوں اور پولیس والا بھی وہ جو کہ 10 مار کر ایک گنتا ہے"
اس نے حیا کو ڈرانا چاہا

"تم۔ ۔۔۔ تم مجھے مارو گے"
حیا کو بدتمیز تو پہلے ہی لگا تھا مگر اس درجہ بدتمیز ہوگا وہ سوچ نہیں سکتی تھی

"تو تم چاہتی ہوں میں تمہیں پیار کرو"
معاویہ نے گہری نظریں حیا کے چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے کہا

"میرا مطلب تھا تمہیں ایک لڑکی پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے شرم نہیں آئے گی"
حیا نے اس کی بات پر ایک دم گڑبڑا کر کہا

"چور چور ہوتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت ان کی پٹائی لگاتے ہوئے شرم کیسی"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا

"ہاتھ لگانا تو دور کی بات تم مجھے چھو بھی نہیں سکتے"
اس کی باتیں حیا کو مزید طیش دلائے جا رہی تھی

"انٹرسٹنگ ویری انٹرسٹنگ چیلنجز تو مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں چھو کر تمہیں یہی دیکھاو یا تمہارے گھر پر"
معاویہ نے چوائس اس کو دی، حیا اس کے ڈھیٹ پن پر غش کھا کر رہ گئی

"ہاہاہا تم میرے گھر آنے کی بات کر رہے ہو،، اگر تم نے میرے گھر پر قدم بھی رکھا تو صبح تک تمہارا قیمہ بنا ہوا  ملے گا"
زین نے چند دن پہلے گلی میں چوری ہونے کی وجہ سے ایک بل ڈوگ خریدا تھا جس کی شکل دیکھ کر ہی روح فنا ہونے لگ جاتی تھی

"اوکے ہماری اگلی ملاقات اب تمہارے گھر پر ہوگی۔۔۔۔ چیلنج مکمل ہونے کے بعد داد میں اپنے طریقے سے وصول کروں گا یہ یاد رکھنا"
معاویہ نے حیا کے گلوس لگے ہوئے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا اور مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا

 حیا دانت پیس کر اس کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی

****

"کیا ہوا حیا بار بار پیچھے مڑ کر کیا دیکھ رہی ہو"
 کار ڈرائیو کرتے ہوئے ہادی نے بار بار حیا کو مڑ کر دیکھنے کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا

"نہیں ویسے ہی کچھ خاص نہیں"
اس وقت تو حیا کو پتا نہیں چلا، اس دو ٹکے کے پولیس والے سے کیا کیا بول گئ مگر اب سوچ کر ٹینشن ہو رہی تھی،،، کہیں وہ سچی میں ہی آنا جائے اور زین بھی گھر پر نہیں تھا یہ سوچ کر اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا

"کیا ہوا تم ٹھیک ہو"
ہادی نے اس کو کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا

"ہاں بھلا مجھے کیا ہونا ہے"
حیا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

"تو پھر اتنی چپ چپ کیوں ہو بات کرو نہ کوئی"
ہادی نے ایک نظر اس کو دیکھ کر ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

"ہادی اگر کسی سے کوئی غلطی آئی مین بےوقوفی میں کوئی غلطی ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے" حیا نے ان ڈائریکٹ میں اپنی کی ہوئی بیوقوفی کا حل تلاشنا چاہا

"تو پھر اس غلطی کو آئی مین بیوقوفی میں کی گئی غلطی کو فورا ہادی سے شیئر کر لینا چاہیے"
ہادی نے کٹ سے کار موڑتے ہوئے کہا

"کیا مطلب ہادی سے شئیر کرنا چاہیے۔۔۔ کوئی مجھ سے غلطی تھوڑی ہوئی ہے، تمھارا مطلب تم مجھے بہت بےوقوف سمجھ رہے ہو جو میں غلطی کروں گی"
وہ الٹا اس پر چڑھ دوڑی اتنے میں حیا کا گھر آیا ہادی نے اس کے گھر کے پاس گاڑی روکی

"حیا اگر کچھ کارنامہ انجام دیا ہے تو فورا مجھے بتاؤ اس کے بعد روتی ہوئی میرے پاس مت آنا"
ہادی نے جانچتی ہوئی نظروں سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا میں نے،، تمہیں تو شاید دنیا کی سب سے بڑی بےوقوف ہی میں لگتی ہوں جاؤ اب اپنے گھر واپس"
حیا نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا اور گیٹ سے اندر چلی گئی۔۔۔۔ ہادی حیا کو جاتا ہوا دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتا ہوا رہ گیا اور کار اسٹارٹ کردی

"شیر خان تمہیں یہاں سونے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں ڈیوٹی کرنے کے لئے"
حیا نے اونگتے ہوئے چوکیدار کو کہا

"چھوٹی بی بی ابھی ہی آنکھ لگی تھی"
شیر خان نے صفائی دیتے ہوئے کہا

"اور یہ بل ڈوگ کی رسی کھول دو اور اب تمہاری بالکل آنکھ نہیں لگنی چاہیے صبح تک"
شیر خان کو وان کرتی ہوئی وہ اندر چلی گئی

 گھر آکر اس نے ایک ایک روم کا جائزہ لیا تو دل کے اندر سے ڈر جاتا رہا جیسے ہی ریلیکس ہوئی

"حیا"
اپنے نام پر بری طرح اچھل پڑی مگر سامنے حور کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آ گئی

"ماما آپ نے تو جان ہی نکال دی تھی میری"
اس نے دوبارہ اپنے آپ کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا

"ایک تو اتنا لیٹ ای ہو اوپر سے گھر میں چہل قدمی شروع کردی ہے کیوں ہر وقت پریشان کرتی رہتی ہو"
شاید وہ نیند سے جاگی تھی


"اوکے بابا سوری آپ جا کر سو جائیں میں بھی اپنے روم میں جا رہی ہوں" اس نے حور کو اپنے روم میں بھیجتے ہوئے خود اپنے روم کا رخ کیا

کمرے میں پہنچی تو موبائل بجنے لگا موبائل نکالا تو ہادی کا میسج آیا تھا جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

"کیا تم ناراض ہو مجھ سے"

"تو کیا نہیں ہونا چاہیے"
حیا نے ٹائپ کیا

"بالکل نہیں ہونا چاہیے ورنہ میری ساری رات جاگتے جاگتے گزر جائے گی"
میسج پڑھ کر حیا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

"اتنے اچھے نہیں ہو تم چپ کر کے سو جاؤ نیند آ رہی ہے مجھے بھی"
حیا نے میسج کرنے کے بعد اپنا موبائل of کردیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment