Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 7
"بھائی مجھے آپ سے کچھ کام تھا اگر آپ کے پاس ٹائم ہو تو پلیز"
معاویہ یونیفارم پہنا ہوا گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک صنم کی آواز پیچھے سے سنائی دی
"اگر ٹائم نہیں بھی ہوا تو میں اپنی بہن کے لئے ٹائم نکالوں گا میری بہن بہت کم اپنے بھائی کو مخاطب کرتی ہے"
معاویہ نے پلٹ کر صنم کو دیکھتے ہوئے کہا اور قدم اس کی طرف بڑھائے
"آؤ یہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں" معاویہ نے صنم کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر وہی لان میں چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"ہاں بولو صنم کیا کہنا چاہ رہی تھی تم"
معاویہ نے صنم کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا
"بھائی وہ میں کہنا چاہ رہی تھی کہ۔۔۔۔"
صنم اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے کشمکش میں پڑ گئی کہ معاویہ کو کیسے بتائے
"تمہیں جو بھی بات کرنی ہے وہ بلاجھجک مجھ سے کہو گھبرانے کی ضرورت نہیں" معاویہ نے اس کو نروس دیکھ کر، اس کا ہاتھ تھامتے کہا
"بھائی میری یونیورسٹی میں ایک لڑکا ہے ساحر دوسرے ڈیپارٹمنٹ کا ہے ایک مہینے سے مجھے تنگ کر رہا ہے"
صنم نے ڈرتے ہوئے معاویہ سے کہا صنم کی بات سن کر غصے میں معاویہ کے ماتھے کی موجود نس ابھری، صنم نے مزید بات جاری رکھتے ہوئے کہا
"شروع میں وہ صرف ڈپارٹمنٹ تک میرا پیچھا کرتا تھا پھر اس نے فضول باتیں اور جملے کسنے شروع کردیئے، میں اس کو ابھی بھی اگنور کرتی اگر وہ میرا راستہ نہ روکتا اور کل جب اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر زبردستی مجھے گاڑی میں بٹھانا چاہا۔۔۔۔"
صنم رونے لگی معاویہ سے ضبط کرنا مشکل ہوگیا
"بھائی اگر وہ مہربان شخص بیچ میں آ کر اس ساحر سے مجھے نہ بچاتا تو۔۔۔"
"یہ سب پہلے کیو نہیں بتایا تم نے مجھے"
معاویہ نے اس کی بات سن کر غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا
"مجھے ڈر لگ رہا تھا کہیں آپ غصے میں۔۔۔۔۔ پہلے میں نے سوچا یونیورسٹی جانا چھوڑ دو مگر پھر پیپر سر پر تھے، پورے سال کی محنت ضائع ہوجاتی مگر اب اس کی بڑھتی ہوئی بدتمیزی کی وجہ سے بتایا" صنم نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"چلو یونیورسٹی کے لئے تیار ہو جاؤ، آج تمہیں یونیورسٹی میں چھوڑ کر آتا ہوں"
معاویہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
"بھائی آپ مجھے یونیورسٹی چھوڑنے جائے گے"
صنم نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"تو اس میں اتنی حیرانگی کی کونسی بات ہے دس منٹ میں تیار ہو کر آؤ"
معاویہ نے ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
****
"صنم ساحر کا پورا نام کیا ہے اور کونسے ڈپارٹمنٹ میں ہوتا ہے وہ" معاویہ نے یونیورسٹی کے پاس گاڑی روکتے ہوئے کہا
"بھائی ایک بات مانیں گے پلیز"
صنم نے ڈیپارٹمنٹ کا نام بتاتے ہوئے کہا
"پلیز آپ آرام سے بات سمجھائیے گا" معاویہ اپنی بہن کی سافٹ نیچر جانتا تھا اس لئے اطمینان دلاتے ہوئے بولا
"اوکے صنم میں ایسا ہی کروں گا اسے ارام سے سمجھاو گا، اب تم اپنی کلاس میں جاو"
صنم بھی اپنے بھائی کی نیچر اور غصہ اچھی طرح جانتی تھی مگر اب وہ صرف ساحر کے لئے افسوس ہی کرسکتی تھی،، صنم گاڑی سے اتر کر اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف چلی گئی
معاویہ نے گاڑی سے اتر کر ایک دو اسٹوڈنٹس سے ساحر کا پوچھا، ساحر اسے مل گیا معاویہ اس کے پاس گیا
"کیا تمہارا نام ساحر شیرازی ہے"
معاویہ نے سامنے کھڑے ہوئے لڑکے کو غور سے جائزہ لیتے ہوئے دیکھ کر پوچھا جو کہ اپنے حلیہ سے ہی کسی بڑے باپ کی بگڑی ہوئی اولاد لگ رہا تھا
"ہاں ہے تو"
اس نے ایسے جواب دیا جیسے احسان کر رہا ہوں
"تو یہ"
معاویہ نے زور دار مکہ اس کے منہ پر دے مارا جس سے وہ دور جا گرا اور اس کی ناک اور منہ سے خون نکلنے لگا
سارے لوگ دیکھ کر جمع ہوگئے معاویہ نے اس کا گریبان پکڑ کر اسے اٹھایا اور گھسیٹتا ہوا کار تک لایا
"کون ہو تم، کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے، تمہیں پتہ نہیں ہے میں کس کا بیٹا ہوں"
وہ پورے راستے بولتے ہوئے جا رہا تھا معاویہ چپ کرکے ڈرائیونگ کرتا رہا اور پولیس اسٹیشن کے باہر گاڑی روک کر ویسے ہی اسے گریبان سے پکڑ کرو کر باہر نکال کے لایا
"انسپیکٹر سعد اس کو لاک اپ کرو، نیا مہمان ہے یہ۔۔۔ اس کی اچھی طرح خاطر توازہ کرو، کوئی کمی نہیں آنی چاہیے، ،،، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں"
معاویہ نے ساحر کو آگے دھکیلتے ہوئے کہا اور چیئر پر بیٹھ گیا
****
"کیا کر رہی تھی میری کیوٹ سی پیاری سی وائف" حور نے جیسے ہی فون اٹھایا زین کی آواز کانوں میں پڑی تو اس کے ماتھے پر موجود بل ختم ہوئے
"تم بھی ناں بس فون پر شروع ہو جایا کرو"
حور نے فون کو گھورتے ہوئے کہا
"سامنے بھی شروع نہیں ہونے دیتی اب فون پر تو پابندی نہیں لگاو یار"
زین نے اس کو مزید چھیڑتے ہوئے کہا
"شاہ تمھاری بیٹی اور جوان"
حور نے بھولنا چاہا
"ہاں یار میری بیٹی جوان ہو چکی ہے، میں جوان بیٹی کا باپ ہو، ائی نو۔ ۔۔۔ تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں بیوی سے باتیں کرنا چھوڑ دو اور اپنے اوپر بڑھاپا طاری کرلوں"
زین حور کی بات کاٹتے ہو بولا
"یہ کب کہ رہی ہوں میں تھوڑا کنٹرول کرو اور یہ بتاؤ ابھی فون کیسے کیا ہے"
حور نے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
"ابھی ابھی میٹنگ سے فارغ ہو یہ بتاؤ تم کیا کر رہی تھی وہ میری پرنسس کالج گئی کے نہیں"
زین نے حور سے پوچھا
"چلی گی ہے تمہاری پرینسیز کالج کل رات کو پتہ ہے کتنی دیر سے گھر آئی ہے"
حور نے کل رات کا احوال سنایا
"یار تم فضا اور بلال کو بلا لیتی نہ یا تم ان کے پاس چلی جاتی ہیں اور وہ ہادی کے ساتھ گئی تھی پھر ٹینشن کس بات کی"
زین نے حور کو ریلیکس کرتے ہوئے کہا
"شاہ تم بھی نہ پتہ نہیں کیسی باتیں کرتے ہو، اب دور اتنا بھی ماڈرن نہیں ہوا ہے اور ہمیں بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے حیا اب بڑی ہوگئی ہے۔۔۔۔ اس کو یوں اتنی رات تک ہادی کے ساتھ گھر انا۔۔۔۔ صرف تمہاری پرمیشن کی وجہ سے میں چپ رہی ہو مگر یہ ٹھیک نہیں ہے"
حور نے رسانیت سے زین کو سمجھایا
"حور ہادی ہمہارے سامنے پلا بڑھا ہے،، گھر کا بچہ ہے کیا تمہیں اس پر بھروسہ نہیں ہے" زین نے حور کو سمجھانا چاہا
"بات بھروسے کی نہیں ہے ہادی بہت عزیز ہے مجھے بالکل حیا کی طرح،،، مگر خیر تم میرا پوائنٹ اف ویو نہیں سمجھ رہے ہو، یہ بتاؤ کب تک واپسی ہے تمہاری"
حور نے زین سے پوچھا
"انشاءاللہ کل صبح تک آجاؤں گا ok فون رکھتا ہوں جب تک کے لیے اپنا خیال رکھنا"
زین نے رابطہ منقطقتہ کرتے ہوئے کہا
*****
"ہاں سعد اقبال نے کیا رپورٹ دی ہے بابر کے بارے میں، کچھ خاص بات پتہ چلی"
معاویہ نے فائل بند کرتے ہوئے انسپیکٹر سعد سے پوچھا
"یہ سارے فون ریکارڈز اور باقی کی ڈیٹیلز ہیں بابر کی اور تین دن کے بعد اعظم نامی بندے نے اسے اس ایڈریس پر ملنے کو کہا ہے"
سعد نے پیپر معاویہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے پھر تیار رہنا یہ اعظم نامی بندہ مجھے چاہیے، کسی بھی صورت یہ ہاتھ سے نہیں نکلنا نہیں چاہیے، شاید اس کے ذریعہ ہمہیں غائب ہوئی لڑکیوں کا کچھ سوراک ملے"
معاویہ نے پیپر دیکھتے ہوئے سعد کو کہا
"جی سر جی تین دن بعد اعظم آپ کو سلاخوں کے پیچھے ملے گا"
انسپیکٹر سعد نے معاویہ سے کہا
"اور اس لنگور کی خاطر داری کی" معاویہ نے ساحر کے بارے میں دریافت کیا
"سر جی میں نے تو کافی ہاتھ صاف کیا ہے، باقی آپ بتادیں کیا کرنا ہے"
سعد نے سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
"چلو چل کر دیکھتے ہیں بل نکلے ہیں یا پھر کچھ ابھی باقی ہیں" معاویہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
"اے ASP تو سمجھتا کیا ہو خود کو تو جانتا نہیں ہے میرے باپ کو، کس سے پنگا لیا ہے تو نے، دو گھنٹے کے اندر تیرا ٹرانسفر دوسری جگہ پر نہ کروا دیا تو میرا نام بدل دینا"
ساحر نے دھمکی دیتے ہوئے معاویہ سے کہا
"انسپکٹر سعد بلیڈ لے کر آو اور اس کی آدھی مونچھ کاٹ دو تاکہ آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر خود اپنا نام تجویز کر لے"
معاویہ کے بولنے پر سعد فورا بلیڈ لینے چلا گیا
"تم اپنے ساتھ بہت برا کر رہے ہو ASP بہت پچھتاؤ گے تم" ساحر نے چیختے ہوئے معاویہ سے کہا
کرسی پر بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے وہ مزید کو مزاحمت نہ کرسکا اور سعد نے معاویہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کی آدھی مونچھ کاٹ دی۔۔۔۔۔ سوجھے ہوئے اور نیل پڑے ہوئے چہرے پر آدھی مونچھ میں اس کی شکل اچھی خاصی مضائحکہ خیز لگ رہی تھی"
ساحر اب غصہ میں معاویہ کو گھور رہا تھا
"بلیڈ یہاں دو سعد اور اس کی رسیاں کھولو"
سعد جانے لگا تبھی معاویہ آواز دے کر سعد سے کہا
"تمہیں پتہ ہے ساحر تمہاری یہ کارٹونوں والی حالت کس وجہ سے ہوئی ہے۔۔۔۔ صنم میری اکلوتی بہن ہے، جس کا تم نے ہاتھ پکڑنے کی غلطی نہیں گناہ کیا ہے۔۔۔ اس گندے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا نہ تم نے" معاویہ نے بلیڈ اس کے ہاتھ پر رکھ کر گہرا کٹ لگاتے ہوئے پوچھا
پولیس اسٹیشن ساحر کی چیخوں کی آواز سے گونج اٹھا
"نہیں پلیز مجھے معاف کردو مجھے پتا نہیں تھا میں اس سے معافی مانگ لوں گا"
ساحر کی 5 منٹ پہلے والی ساری اکڑ نکل چکی تھی
"نہیں ساحر اب ایسا غضب بالکل نہیں کرنا اب تم مجھے صنم کے اس پاس بھٹکتے ہوئے نظر آئے تو تمہارے یہ دونوں ہاتھ میں کندھے اکھاڑ دونگا اور سیریسلی ایسا کرکے مجھے ذرا افسوس نہیں ہوگا"
معاویہ نے اس کے دوسرے ہاتھ پر بھی بلیڈ سے گہرا کٹ لگاتے ہوئے کہا وہ چیخیں مار مار کے رونے لگا
"آئندہ کبھی بھی اسے اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا پلیز آپ مجھے مت مارنا" ساحر رو رو کے معافیاں مانگ رہا تھا
"صرف اسے ہی نہیں اگر تم نے یونیورسٹی یا پھر باہر کسی بھی اپنی باجی کو چھیڑا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا جو تمہاری سوچ سے بھی زیادہ درد ناک ہوگا۔۔۔۔ ابھی میں نے صرف وارننگ دینے کے طور پر تمہاری آدھی مونچھے کاٹ کر تمہیں آدھا مرد بنایا ہے، اگر اگلی بار تمھاری اونچھی حرکت میری نظر سے گزری تو آگے تم خود سمجھ دار ہو"
معاویہ نے خون والا بلیٹ اسکی شرٹ سے صاف کرتے ہوئے کہا
"سرجی ساحر شیرازی کی بیل کروانے کے لیے وکیل آیا ہے آپ سے ملنا چاہتا ہے"
سعد نے معاویہ کو بتایا تو معاویہ لاکپ سے باہر نکل گیا
****
"ہادی تم نے اسموکنگ کی ہے" ہادی کے روم میں آتے ہی حیا نے چیخ کر کہا
"ارے یار آئستہ تو بولا کرو حلق میں پورا لاؤڈ اسپیکر فٹ ہے تمھارے کوئی نہیں پی میں نے سگریٹ وگرٹ" ہادی نے روم میں باہر نظر ڈالتے ہوئے کہا جہاں پہ فضا حور اور بلال بیٹھے ہوئے تھے
"زیادہ جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے تمہاری شرٹ سے مجھے یہاں تک سگریٹ کی سمیل آ رہی ہے تمہیں پتہ ہے نہ کتنی چڑ ہے مجھے اسموکنگ سے"
حیا نے ہادی کو گھورتے ہوئے کہا
"حیا تھوڑی دیر پہلے فراز آیا تھا وہ اسموکنگ کر رہا تھا جبھی آرہی ہوگی سمیل۔۔۔ جب زین انکل تمہاری خاطر سگریٹ چھوڑ سکتے ہیں تو میری کیا مجال ہے جو میں سگریٹ کو ہاتھ بھی لگاؤ"
ہادی نے حیا کے چہرے کو اپنی نظروں کی حصار میں لیتے ہوئے کہا اف وائٹ پریلوٹ پر لیمن کلر کے کرتے میں وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی
"ویسے تم کچھ زیادہ ہی خوش قسمت نہیں ہوں" ہادی نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"کس معاملے میں بھلا"
حیا نے ناسمجھی سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
"محبت کے معاملے میں اتنے سارے لوگوں کی جو محبت سمیٹے ہوئے ہو"
ہادی اب دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
"تو شاید میں ہوں میں اس قابل کہ مجھ سے محبت کی جائے"
حیا نے اترا کر کہا اور مسکرا دی
"اس میں کوئی شک نہیں، آنٹی انکل کے ساتھ ساتھ بابا مما اور عدیل تم سے بہت محبت کرتے ہیں اور میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں"
ہادی اس کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بیڈ کے نیچے اس کے پاس گھٹنے ٹکا کر بیٹھا
"حیا"
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، جب حور کی آواز پر ہادی ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
"چلو بیٹا گھر چلتے ہیں رات ہونے والی ہے"
حور نے حیا سے کہا
"میں چھوڑ دیتا ہوں آنٹی آپ دونوں کو"
حیا کو آٹھتا دیکھ کر ہادی نے کہا
"کیا ضرورت ہے بیٹا ایک گلی چھوڑ کر ہی تو گھر ہے ہم چلے جائیں گے تو ریسٹ کرو"
حور نے منع کرنا چاہا
"نہیں ٹھیک کہ رہا ہے ہادی چھوڑ آئے گا رات ہو گئی ہے" فضا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
****
گھر کے گیٹ کے پاس چھوڑ کر ہادی وہی سے گھر چلا گیا وہ دونوں اندر پہنچی شیر خان نے آنکھیں مسلتے ہوئے گیٹ کھولا حیا کی نظر بل ڈوگ پر پڑی جو کہ سو رہا تھا حیا نفی میں گردن ہلاتی رہ گئی
وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوئی حور کے موبائل پر زین کی کال آنے لگی تو حور اپنے روم میں چلی گئی،،، حیا بھی اپنے روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور دروازہ بند کرلیا مگر دو قدم بڑھتے ہیں اسے کسی انہونی کا احساس ہوا جیسے روم میں کوئی موجود ہے ناک کے نتھنوں سے سگریٹ کی اسمیل ٹکرائی تو اس نے مزید آگے بڑھ کر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ ان کی سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔ وہ سکون سے اس کے بیڈ پر لیٹا ہوا سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھا اور اس کی نظریں سامنے دیوار پر حیا کی انلارج تصویر پر مرکوز تھی
جاری ہے
Monday, December 31, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment