Monday, December 31, 2018

itni mohbbat karo na (season 2) episode 8

Itni mohnnat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 8

"تم گھر کے اندر کیسے اور میرے کمرے میں یہ اس طرح"
حیا کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی

"یاد نہیں تم ہی نے تو چیلنج کیا تھا کہ تمہیں تمہارے گھر آکر  تمہیں چھو کر دکھاو گا اور بدلے میں مجھے"
معاویہ بیڈ سے اٹھتے ہی بولنے لگا

ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ حیا نے دوڑ کر دروازے کی طرف پہنچنا چاہا،، مگر اس کا ارادہ بھانپ کر معاویہ لپک کر وہ اس کے پاس پہنچا اور جھٹکے سے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے خود سے قریب کیا ایک دم حیا معاویہ کے قریب ہوئی اور حیا کے ہونٹ معاویہ کے گال پر ٹچ ہوئے سب اچانک ایک ہی لمبے ہوں میں ہوا معاویہ نے حیا کو دیوار سے لگایا اس سے پہلے وہ چیخ مارتی، معاویہ نے اس کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھکر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا ہے
خوف سے حیا کی آنکھیں پھیل گئیں کیوکہ وہ اس کے کمرے میں رات کے وقت اس کے بہت نزدیک کھڑا تھا، اگر وہ ذرا بھی مزاحمت کرتی تو وہ پتا نہیں کیا کرسکتا تھا یہ سوچ آتے ہی وہ خوف سے کانپنے لگی 

"نو بےبی آواز بالکل نہیں نکلنی چاہیے تمھاری،  اگر ذرا سی بھی آواز نکلی تو پھر جو میں تمہارے ساتھ کروں گا، اس کی پوری پوری ذمہدار تم خود ہی ہو گئی" معاویہ نے اپنے ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹاتے ہوئے کہا اور گہری نے نگاہوں سے وہ اس کو بے حد نزدیک تھی دیکھ رہا تھا،،، تین ملاقاتوں میں وہ جتنا پٹر پٹر بول رہی تھی اس کی بانسبت آج اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی

"تمہیں آج تک سب نے یہ بتایا ہوگا کہ تم کتنی خوبصورت ہو اور واقعی اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے، مگر کسی نے تمہیں یہ نہیں بتایا ہوگا تم کتنی بڑی بے وقوف ہوں، تو تمہیں آج میں بتاؤں گا تم کتنی کم عقل ہو تاکہ تم دوبارہ اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی دوسرے کو اپنے گھر آنے کی دعوت نہ دے سکوں"
ہاتھوں کی مٹھی میں حیا کے بالوں کو جھگڑ کر معاویہ نے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا وہ اس کے اتنے قریب آکر بول رہا تھا کہ حیا کو اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی

"آج معاویہ مراد تمہارے حسن کو خراج بھی دے گا اور اپنے طریقے سے داد وصول کرے گا اور تم پر اپنے حق کی مہر بھی چھوڑ کر جائے گا"
اس کی باتیں حیا مزید خوفزدہ کر رہی تھی اتنا خوف اس نے زندگی میں کبھی محسوس نہیں کیا تھا خوف سے اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا

"تو مس حیا تم نے کہا تھا کہ ہاتھ لگانا تو دور کی بات میں تمہیں چھو بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ تم کو اندازہ نہیں ہے لڑکوں سے اتنی بڑی بڑی باتیں کرنا کس قدر مہنگا پڑ سکتا ہے"
مٹھی سے بال آزاد کرتا ہوا معاویہ نے حیا کی تھوڑی انگوٹھے اور  انگلیوں کی مدد سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا معاویہ کے ہونٹ اور حیا کے ہونٹوں میں مشکل سے ایک انچ کا فاصلہ تھا حیا نے بے ساختہ خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لی اور وہ بغیر آواز کے رونے لگی وہ چند منٹ تک اس کو یوں ہی دیکھتا رہا
وہ اس کو ہر روپ میں اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ہنستے ہوئے غصہ کرتے ہوئے لڑتے ہوئے نروس ہوتے ہوئے ڈرتے ہوئے اور اب روتے ہوئے وہ مبہوت سا اس کو دیکھے گیا۔۔۔ ہونٹوں سے بھٹک کر اس کی نظر گردن تک گئی دل میں آئی ہوئی خواہش کو دبا کر،،، وہ اس کے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کرنے لگا

"پولیس والے اتنے بھی برے نہیں ہوتے کہ ہر کسی کو لوٹ کا مال سمجھ کر اس کو ہتھیانے بیٹھ  جائے"
معاویہ حیا کے کرتے کے اوپر کے دو کھلے ہوئے بٹن بند کرتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا
معاویہ نے فاصلہ قائم کیا تو حیا نے اپنی آنکھیں کھولیں

معاویہ نے اپنی پاکٹ سے ایک رنگ نکالی اور حیا کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے رنگ پہنانے لگا، حیا نے بےساختہ اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا جس پر معاویہ کے ہاتھ کی گرفت سخت ہوگئی اور ایک سنجیدہ نگاہ معاویہ نے حیا پر ڈالی وہ دوبارہ سے سہم گئی معاویہ نے رنگ حیا کی انگلی میں پہنا دیں

"یہ رنگ اب تمہاری انگلی سے اترنی نہیں چاہیے چند دن ہے تمہارے پاس اپنا مائنڈ اچھی طرح تیار کرلو، بہت جلد اپنے پیرنٹس کو لے کر آؤں گا۔۔۔ اب تم اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ اور تمہیں خواب بھی صرف میرے دیکھنے کی اجازت ہے" معاویہ نے ہڈ اپنے سر پر ڈالا اور کھڑکی کے راستے سے باہر نکل گیا حیا کافی دیر تک شاک میں کھڑکی کو دیکھتی رہی پھر وہی زمین پر اکڑو بیٹھ گئی

****

"ہیلو کہاں ہیں میری پرنسسز"  تھوڑی دیر بعد حیا کے کانوں میں زین کی آواز آئی

"بابا"
 حیا ایک جھٹکے سے اٹھی اور روم کا دروازہ کھولتے ہی تیزی سے باہر نکلی
زین کو سامنے دیکھ کر اس کی جان میں جان آئیی

"بابا"
وہ دوڑتی ہوئی جا کر زین کے گلے لگ گئی اور زور زور سے رونے لگی

ایسی افتاد پر زین بھی ایک دم بوکھلا گیا ہے

"ارے کیا ہوا میری جان،، کیا ہوا حیا"
وہ زین کے سینے میں منہ چھپائے زور روڈ سے رو رہی تھی۔۔۔ جس پر زین پریشان ہو گیا، حور بھی روم سے باہر آ گئی

"کیا ہوا اسے تم نے ڈانٹا ہے حور"
زین سنجیدگی سے حور سے پوچھنے لگا

"میں تو روم میں تھی اپنے، ابھی تم دونوں کی آوازیں سن کر آئی ہوں۔۔۔۔ حیا کیا ہوا دیکھو یہاں پر میری طرف کیا ہوا ہے بیٹا"
حور زین کو جواب دے کر حیا سے پوچھنے لگی،، مگر اس نے زین کو بہت زور سے پکڑا ہوا تھا اور مسلسل روئے جا رہی تھی

"جاو حور پانی لے کر آو،، حیا یہاں دیکھو میری طرف کیا ہوا ہے بیٹا"
حور کچن کی طرف گئی تو زین نے حیا کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا

"بابا کیوں چلے گئے تھے مجھے اکیلا چھوڑ کر"
حیا نے روتے ہوئے کہا

"تو میری جان بابا آگئے ہے نا آپ کے پاس، اس طرح کیوں رو رہی ہو حیا پلیز بتاؤ، مجھے پریشانی ہورہی ہے بیٹا"
زین نے حیا کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

زین واقعی حیا کو اس طرح روتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا، وہ تو اس سے پہلے بھی کتنی دفعہ جاتا رہا ہے مگر حیا نے کبھی اس طرح react نہیں کیا جیسے آج کر رہی تھی
جبکہ آنا تو اسے صبح تھا مگر شام میں ہی میٹنگ سے فارغ ہو کر رات کی فلائٹ سے گھر پہنچنے کا ارادہ کیا ایئرپورٹ پر تھا تو حور کو فون کرکے بتا چکا تھا اپنے انے کا اور حیا کو اس نے خود بتانے سے منع کیا تھا وہ خود اچانک سے آکر اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا مگر اس طرح رو کر حیا نے اس کو ہی سرپرائز دے دیا

"حیا پانی پیو اور چلو روم میں اپنے تمھارے بابا تھکے ہوئے آئے ہیں اور تم اس طرح پریشان کر رہی ہوں"
حور نے اسے زین سے الگ کرتے ہوئے پانی پلایا

زین اور حور دونوں ہی اس کو روم اسکے روم میں لے کر گئے وہ بیڈ پر لیٹی تو اس کی نگاہ کھڑکی پر پڑی

"پلیز یہ کھڑکی بند کر دیجئے"
حیا کے کہنے پر زین اور حور نے ایک دوسرے کو دیکھا حور نے آگے بڑھ کر کھڑکی بند کردی

"حور تم کمرے میں جاو میں یہی پر ہو حیا کے پاس"
زین چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا

"نہیں تم فلائٹ لے کر آئے ہو جا کر ریسٹ کروں، میں حیا کے پاس ہو"
حور نے زین کے احساس سے بولا

"میری ریلیکس ہو کونسا پیدل چل کر آیا ہوں، جاو تم سو جاؤ" زین نے دوبارہ کہا

"بابا آپ یہاں آکر بیٹھے میرے پاس" حیا نے آنکھیں کھول کر زین کو اپنے برابر میں بیٹھنے کا کہا شاید وہ بری طرح ڈر چکی تھی

"اوکے ریلیکس ہو کر سوجاو میں کہیں نہیں جا رہا"
زین بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا

حور جانتی تھی کہ اب اس کے یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں، زین نے اب ساری رات یہی رہنا ہے وہ روم میں چلی آئی

حیا آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی تھی زین کھڑکی کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کر کیا بات ہو سکتی ہے

*****

"کیسی طبیعت ہے آپ ساحر کی"
اویس شیرازی نے حامد سے پوچھا

"سر طبعیت بہتر ہے اب،،، ساحر سر ابھی سوئے ہیں
حامد نے اویس شیرازی کو بتایا حامد اس کا خاص بندہ تھا

"کون ہے وہ جس نے اویس شیرازی کے بیٹے کی یہ حالت کی ہے"
اویس شیرازی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

"سر کوئی نیا اے۔ایس۔پی آیا ہے معاویہ مراد، کوئی چھوٹا موٹا بندہ نہیں ہے میں نے معلوم کروایا ہے۔۔۔ وہ مراد انڈسٹریز کے مالک خضر مراد کا بیٹا ہے"
حامد نے مودب انداز میں کھڑے ہو کر اویس شیرازی کو معلومات فراہم کی

"مراد انڈسٹریز معاویہ مراد"
اویس شیرازی نے نام دوہرایا

"اور اس سے دو دن پہلے جس نے ساحر پر ہاتھ اٹھایا تھا وہ کون ہے"
اویس شیرازی نے حامد سے دوبارہ پوچھا

"سر اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔۔۔ وہ یونیورسٹی کے اندر کا لڑکا نہیں تھا۔۔۔۔ جلد معلوم کرکے آپ کو ساری انفارمیشن دوں گا"

"اور کام کیسا جا رہا ہے 20 دن کا وقت ہے مال آگے سپلائی کرنے کے لئے مگر بہت احتیاط سے کام لینا پڑے گا کیوکہ اس وقت پولیس اور میڈیا ایکٹو ہیں اور اس نے اے۔ایس۔پی کے ایمان کی قیمت کا بھی پتا لگا"
اپنی بات مکمل کر کے اویس شیرازی نے سامنے رکھا مشروب کا گلاس ہاتھ میں لیا اور حامد کو ویاں سے جانے کا اشارہ کیا

****

معاویہ نے روم میں آکر اپنی شرٹ اتاری ویسے ہی ڈور ناک ہوا

"کم ان"
معاویہ نے دوبار شرٹ پہنتے ہوئے کہا

خضر اندر روم میں آیا، معاویہ خضر کو دیکھ کر چونکا کیونکہ وہ کبھی بھی اس کے روم میں نہیں آتا تھا

"کہاں سے آرہے ہو اتنی رات میں"
خضر نے غور سے اس کے ہاتھوں کو دیکھا جو شرٹ کے بٹن بند کرنے میں مصروف تھے

"ضروری کام سے گیا تھا"
معاویہ نے مختصر سا جواب دیا

"کس نوعیت کا ضروری کام تھا پوچھ سکتا ہوں"
خضر غور سے معاویہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جیسے کچھ سوچ رہا ہو

"ایسے ہی دوست سے ملنے گیا اور ایک کیس کے بارے میں کچھ ضروری معلومات اسے دینی تھی وہی دیکھ کر آرہا ہوں"
معاویہ نے سنجیدگی سے خضر کو جواب دیا

"دوست کا نام"
خضر نے پوچھا

"آپ نہیں جانتے کچھ دن پہلے ہی ہماری دوستی ہوئی ہے، آئیے بیٹھ کر بات کرتے ہیں معاویہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا

"ویسے حیرت کی بات ہے نئے دوست ذرا مشکل سے ہی بناتے ہو تم"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"ڈیڈ بہت جلد آپ کو ملوآؤ گا اس سے۔۔۔۔ کیا آپ میرے دوست کے متعلق ہی بات کرنے آئے ہیں" معاویہ نے اکتا کر پوچھا

"نہیں تمہارے دوست کے متعلق بات کرنے نہیں آیا ہوں۔۔۔ میں تم سے صرف یہ پوچھنے آیا ہوں،، آج تم اویس شیرازی کے بیٹے کو یونیورسٹی سے مارتے ہوئے لے کر گئے تھے اور جیل میں بند کر کے اس پر تشدد کیا"
خضر نے معاویہ سے پوچھا

"اسے تشدد کرنا نہیں کہتے ڈیڈ، اس نے غلطی کی تھی جس پر میں نے اس کو اس کی غلطی کی چھوٹی سی سزا دی ہے"
معاویہ نے نارمل انداز میں خضر کو جواب دیا

"تمہیں معلوم ہوئی اویس شیرازی کوئی عام بندہ نہیں ہے اس کے کن کن لوگوں سے تعلقات ہیں۔ ۔۔  تمہیں اندازہ ہے اس بات کا اس کے بیٹے کو مار کر تم نے کیا غلطی کی ہے،،، تمہیں اندازہ نہیں ہوگا وہ غصّے میں کیا کچھ کرسکتا ہے"
خضر اب معاویہ پر شروع ہوچکا تھا

"اگر وہ عام بندہ نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب  ہرگز نہیں کہ اس کا بیٹا کچھ بھی کرتا پھرے اور اس سے کوئی پوچھ  گج نہیں کی جائے۔۔۔ ویسے تو مجھے امید ہے،  جتنی خاطر توازہ میں نے اس کے بیٹے کی، کی ہے وہ اب تک انسان کا بچہ بن گیا ہوگا اور اگر پھر بھی وہ نہیں سدھرے گا تو میں دوبارہ اس کے بیٹے کا علاج کروں گا"
معاویہ نے سنجیدگی سے خضر سے کہا

"جیسے تمہاری مرضی باپ ہو سمجھانا میرا فرض تھا، ویسے بھی تم نے تو قسم کھائی ہوئی ہے میری کچھ بھی نہ ماننے کی۔۔۔ خیر چلتا ہوں" خضر اٹھتا ہوا بولا معاویہ بھی کھڑا ہو گیا

"ویسے جس دوست سے تم مل کر آرہے ہو اس طرح کی دوستیاں صحت کے لیے مفید نہیں ہوتیں آئندہ خیال رکھنا" خضر نے غور سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے بولا

"کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپ کی بات"
معاویہ نے ناسمجھی سے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا

"مطلب یہ کہ تم قد میں مجھ سے بڑھ گئے ہو مگر باپ میں ہوں تمہارا"
خضر نے معاویہ کے قریب آ کر اس کے چہرے کا رخ اپنے ہاتھ سے آئینے کی طرف کرتے ہوئے کہا اس کے گال پر لپ اسٹک کا نشان واضح نظر آ رہا تھا پھر معاویہ کے ہاتھ کی ہتھیلی کھولی

خضر نے معاویہ کے چہرے پر نظر ڈالی تو معاویہ نے جھینپ کر نظر نیچے جھکا لی خضر کمرے سے باہر چلا گیا معاویہ نے دوبارہ آئینے کی طرف دیکھا اور اپنے گال پر لپ اسٹک کے نشان پر ہاتھ پھر اسے وہ منظر یاد آیا تو اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔ ہاتھ پر موجود حیا کے لپ اسٹک کے نشان پر معاویہ نے اپنے ہونٹ رکھے اور سونے کے لیے لیٹ گیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment