محبّت برسادینا تو ۔۔۔❤
از ایمن نعمان
قسط 7
گل رعنا خوفزدہ سی سن کھڑی رہی اپنے پیچھے ہوتی آہٹ کو محسوس کر کے ۔۔
اسکے پیروں کی جان نکلنے کو تھی۔۔۔
وہ جیسے تیسےہمت کرکے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑی بھی دیکھنے کے لئے ۔۔
اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر گل کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے پورے وجود کا خون نچڑتا محسوس ہوا۔۔
شاباش! کرلی کوشش بھاگنے کی ہو گیا تمہارا شوق پورا ؟؟
سامنے کھڑا شخص تین تالیاں بجاکر تمسخر انہ انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔
وہ برق رفتاری سے بھاگنے کو تھی جب حسام ایک ہی جست لگا کر اس تک پہنچا تھا ۔۔۔
خوف اور سراسیمگی سے کانپتی سسکتی گل کو اٹھا کر چند ہی لمحوں میں آدھا اپنے شانے پر ڈالا تھا ۔۔
مجھے جانے دو چھوڑ دو مجھے رحم کرو مجھ پہ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا ؟؟؟
تمہیں جانے دوں ؟؟
اور رحم بھی کروں ؟؟
واہ ڈائیلاگ تو بہت اچھے مار لیتی ہوں ۔۔
ویسے اب تک مجھ جیسے کتنوں کو آپنی ان دو کوڈی کی باتوں کہ جال میں پھانس چکی ہو ؟؟
وہ بہت ہی آرام سے گلے رانا کی ذات کی دھجیاں اڑا رہا تھا اور ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ دونوں بچپن کے دوست ہوں۔ ۔۔
تمنے مجھے کیا کچا کھلاڑی سمجھ رکھا تھا ؟؟
جو بڑے مزے سے بھگ رہی تھیں ؟؟؟
میں وہ شخص ھوں جو سوتا تو ہے مگر سوتا نہیں ۔۔۔
سوتے ہوئے میں بھی جاگتا ہے ۔۔۔
تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم میری قید سے اتنی آسانی سے چھٹکارا اختیار کر سکتی ہوں ؟؟؟
ہاہاہا ۔۔۔
بھول ہے تمہاری وہ اس کو شانے پہ ڈالے گھر کے اندر لے جاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ۔۔
اس کو بد دعائیں اور کوسنے دیتے ہوئے زاروقطار پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ۔۔۔
تم جیسی سے معافی مانگ بھی کون رہا ہے ؟۔؟
وہ" تم جیسی "پہ زور دے کے بولا ۔۔
اس کی باتیں گل رانا کو اندر تک چھلنی کر رہی تھی ۔ ۔۔
حسام اس کو بیڈروم میں لایا اور بیٹھ پہ پھیکنے کے انداز میں گرا چھوڑا۔
پھر واپس پلٹ کر دروازے کا لاک لگانے لگا ۔۔۔
گل رعنا نے جیسے ہی حسّام کو روم کا دروازہ لاک کرتے دیکھا اسکی آنکھوں میں وحشت سی اتر آی ۔۔
تو گویا اسکی عزت کا جنازہ نکلنے کو تھا ۔۔۔
خوف و ہراس اسکے خوبصورت چہرے پے ناچ رہے تھے ۔۔۔
وہ حسام کے اسکی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ڈر اور سراسیمگی سےسمٹ کر بیڈ کے کونے سے جالگی۔ ۔۔
مم ۔۔ممم میرے قریب مت آنا ۔۔۔
وہ وحشت زدہ سی کہہ رہی تھی ۔۔
ہاں میں تو جیسے تمھیں صرف دیکھنے کے لیے تو اتنے لاکھوں روپے برباد کرکے خرید کر لایا ہوں ۔۔
دیکھو تم مجھ سے نکاح کرلو پھر چاہے جتنا بھی میرے وجود سے اپنی ہوس پوری کرنا ہو کر لینا میں تمھیں روکونگی نہیں ۔۔۔
وہ بےبسی سے اسکے اگے گڑگڑاہ کر کہنے لگی ۔۔۔
مگر سامنے موجود شخص کے سینے میں دل نہیں شاید وہ جذبات سے آری انسان تھا ۔۔۔
وہ اب اپنی شرٹ اتار کہ سائیڈ پہ رکھے صوفے پر اچھال چکا تھا۔ ۔۔
تمھیں اتنا تو پتا ہی ہوگا کہ کوٹھے سے لائی گئ عورت کو دوسرے لفظوں میں کیا کہتے ہیں؟ ؟۔
وہ تمسخرانہ انداذ میں کہتا بیڈ پہ نیم دراز ہوچکا تھا۔ ۔۔
اب ان دونوں کے درمیان بس ہاتھ بھر کا فاصلہ ہی تھا۔ ۔
مجھے بھلے ہی نکاح کے دوسرے دن ہی چھوڑدینا مگر ابھی مجھ پر تھوڑا ہی ترس کھالو ۔۔۔
او سویٹ ہارٹ ابھی تم دیکھنا میں تم پہ کتنی مہربانیاں کرتا ہوں۔ ۔۔
وہ معنے خیزی سے کہتا اسکے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لے چکا تھا۔ ۔
۔ ۔
حسام کی نظریں اب اسکے نرم و گداز گلابی پیروں پہ تھیں۔ ۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر ایک ہی لمحے میں گل کا پائوں کھینچ کر خود سے بے پناہ قریب کیا تھا۔ ۔
بہت برداشت کرلی تمہاری منمانی اب تم میری منمانیاں برداشت کروگی۔ ۔۔
تم ایک گٹھیا انسان ہو بلکہ انسان کے بھیس میں وہشی درندے ہو۔ ۔
وہ روتی بلکتی کہہ رہہی تھی۔ ۔
کیا کہا میں جانور ہوں میں بھیڑیا ہوں؟ ؟
اب دکھائونگا میں سہی طرح سے اپنی حیوانیت ۔۔
یہ کہہ کر اسنے گل رعنا کے چہرے اور گردن پے اپنے دانتوں سے جگا جگا کآٹنا شروع کردیا۔ ۔
حد یہ کہ اسکے پورے وجود پر کسی بھوکے شیر کی طرح پل پڑا تھا۔ ۔
اس معصوم کو مزاہمت کرنے تک کا بھی حق نہ دیا تھا۔ ۔
وہ نازک و دھان پان سی گڑیا حسام کی درندگی کچھ گھنٹے ہی جھیل پائی تھی اور پھر بے جان سی ہوکر ہوش و خرد کی دنیا سے بےگانی ہوتی چلی گئ۔ ۔۔۔
❤
ماضی🌼
حنا شرجیل کو اپنے سامنے دیکھ کر دنگ سی رہ گئی تھی ۔۔
جبکہ شرجیل حنا کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
میس مے آئی۔ سٹ ہئیر؟ ؟؟
شرجیل نے حنا کو غائب دماغ پا کر اپنا سوال دوبارہ دہرایا تھا ۔۔
جی ضرور ۔۔
وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی ۔۔
کیا میں آپ سے تھوڑی دیر آپ کا قیمتی وقت ادھار مانگ سکتا ہوں ؟؟
شرجیل شائستگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
حنا مدہوش سی ہو کر اس کی مدھر آواز میں کھو سی گئی اسکو اپنے اردگرد سب کچھ تھمتا محسوس ہوا۔۔۔
مس اگر آپ نے مجھ پہ مکمل رسرچ کر لی ہے تو واپس ہوش کی دنیا میں آجائیں ؟؟
وo چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔۔
جی جی کہیں ؟؟
وہ اس کی اپنے چہرے کے آگے چٹکی بجانے پر چونکی تھی اور اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میرے پیچھے کل کیوں آئی تھی ؟؟
معین کے پیچھے آپ وہاں تک بالکل بھی نہیں آئ تھی کیونکہ میں کئی دن سے نوٹ کر رہا ہوں آپ میرے تعاقب میں ہے ۔۔
وہ جتاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
جی ہاں میں بالکل آپ ہی کی وجہ سے روز تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی ہوتی ہو محض صرف آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ۔۔
وہ سچائی سے گویا ہوئی ۔۔
مبادہ اگر وہ سچ نہ کہتی تو پھر شاید زندگی میں کبھی وہ شرجیل کو اپنے سامنے نہ دیکھ پاتی ۔۔
محترمہ وجہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے اتنی تکلیف کیوں ڈھاتی ہیں ؟
وہ بہت گہری نظروں سے حنا کہ چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
❤
آدم عمر میں سب بچوں سے بڑا تھا جبکہ حورم گھر میں سب سے چھوٹی بچی تھی ۔۔
آدم شروع سے سخت مزاج اور سنجیدہ رہنے والا بچہ تھا ۔۔۔
حورم کی پیدائش کے وقت وہ تیرہ سال کا تھا جب چاچی اس گلاب کی پنکھڑی جیسی بچی کو ہاسپٹل سے گھر لے کر آئیں تھی ۔۔۔
سب بچے خوشی سے اس ننھی گل گوتھنی کی طرف دوڑے تھے مگر ان سب کےپہنچنے سے پہلے ہی آدم نے اس کو اپنی چاچی کی گود میں سے جھپٹنے کے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
چاچی یہ صرف میری گڑیا ہے ۔۔
اور یہ صرف اور صرف میرے پاس ہی رہے گی ۔۔
ہاہا چاچی کی جان یہ تمہاری ہی ہے رکھ لو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس ۔۔۔
حنا اس کے گلابی پھولے پھولے گالوں پر چٹا چٹ پیار کر کے بولی۔۔
نہیں چاچی غلط بات ہم بھی کھیلیں گے یہ ہماری بھی گڑیا ہے ۔۔
زید اور راحم جلدی سے برا منا کر بولے ۔
جبکہ تین سالہ ننھی زمل تالیاں بجاتی ٹکر ٹکر سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔
حنا نے پیار بھری نظروں سے سب بچوں کو دیکھا اور پھر سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہاں بھئی یہ سب کی ہے سب کھیلنا ۔۔
نہیں چاچی یہ بس میری حورم ہے ۔۔
آدم نے اس کا نام بھی منٹوں میں خود ہی رکھ لیا تھا ۔۔
ارے لڑکے نام تو اس کے اماں بابا کو رکھنے دے ۔۔
زارا نے سمجھانا چاہا اپنے ضدی بیٹے کو ۔۔
امی بس یہ میری حورم ہے وہ اس کو لے کر بغیر کسی کی سنے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
8سالہ زید اور چھ سالہ راہم اپنے اس اکڑو بھائی کو
ننھی حورم کو لے جاتا دیکھتے رہ گئے ۔۔
چاچی جب حورم بھائی کی فرینڈ ہے تو پھر زمل میری فرینڈ ہے ۔۔۔
جائو راحم تم بھی اب میری فرینڈ سے مت کھیلنا ۔۔۔
زید بھی زمل کا ہاتھ پکڑے اسکو اپنی بنائی ہوئی ٹرین کے پاس لے گیا ۔۔
جبکہ راحم آنکھوں میں بڑے بڑے موتی جیسے آنسو لیے کبھی زارہ تو کبھی حنا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
پھر وقت آہستہ آہستہ سرکتا رہا آدم حورم کو کسی کانچ کی گڑیا کی طرح سینچ سینچ کر رکھتا جب بھی حناء اس کو کسی بھی کام سے لینے آتی آدم صاف کہہ دیتا کہ ۔۔
مجھے بتا دیں جو بھی کام حورم کاہے میں خود کر دوں گا ۔۔
حنا لاکھ کہتی رہ جاتی کہ۔ ۔
بیٹا یہ تمہیں رات بھر تنگ کرے گی اور پھر صبح تمہیں اسکول بھی تو جانا ہوگا لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
مگر آدم یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ آپ چھوڑ دے وہ مجھے بالکل بھی تنگ نہیں کرتی ۔۔
حتیٰ کہ حورم کی تمام تر ذمہ داری کھلانے پلانے سے لے کر اس کو شاور دلانا سب کام وہ خود ہی کرتا تھا ۔۔
اسکول جاتے وقت بھی حورم کو بڑی مشکل سے دل پہ بھاری پتھر رکھ کے وہ حنا کو دیتا تھا اور جاتے جاتے بھی اس کو پلٹ کر دیکھتا اور روز کہتا کہ ۔۔
چاچی اس کو کسی کو بھی دینا نہیں میں آکر خود لونگا اس کو بس ۔۔
اور حنا بس مسکرا کر رہ جاتی ۔۔
وہ حورم کے لئے انتہا سے زیادہ پو سیسو اور کئیرنگ تھا۔۔
حورم کسی اور کے ساتھ کھیلنا تو دور کی بات اگر کسی کی وجہ سے اس کو خراش بھی آ جاتی تو آدم چراغ پا ہو جاتا ۔۔
جبکہ حورم بڑی ہورہی تھی وہ سب کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی باقی سب بچوں کے ساتھ ملکر مستی کرنا چاہتی تھی مگر آدم کے روکنے ٹوکنے پر دل مسوس کر رہ جاتی ۔۔
وہ آدم کی حد سے زیادہ روک ٹوک سے سہمتیں جا رہی تھی ۔۔
آدم اس سے جتنی شدید محبت کرتا تھا اتنی ہی سختی بھی کرتا تھا یا شاید سختی اس کی فطرت کا حصہ تھی جو اس کے ہر ہر انداز سے جھلکتی تھی ۔۔
آدم 21 سال کا ہوچکا تھا جب کہ حورم محض نو سال کی تھی جب ایک دن حناء نے آدم کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی جٹھانی زارہ سے بات کرنے کا سوچا وہ کئی دنوں سے پریشان تھی ۔۔
بھابھی حورم اب بڑی ہو رہی ہے اس کا اب آدم کے ساتھ اس کے کمرے میں رہنا مجھے بالکل بھی مناسب نہیں لگ رہا مناسب تو خیر پہلے بھی نہیں لگتا تھا مگر میں آدم کے مزاج اور اس کا حورم سے شدید لگاؤ کی وجہ سے خاموش ہو جاتی تھی۔۔
میں پہلے بھی کئی دفعہ آدم سے اس بارے میں بات کر چکی ہوں مگر حناءیقین جانو وہ حورم کے لئے بہت زیادہ جذباتی ہے۔۔
بلکہ تم شاید میری بات پہ یقین نہ کرو میں نے تو خود ایک فیصلہ کیا تھا کہ میں اب اس کے بابا سے بات کروں گی تاکہ وہی اس کو سمجھائین گے خود۔ ۔
اور پھر انہوں نے اپنی جیٹھانی سے ڈھکے چھپے لفظوں میں بات کی جس پر وہ خود بھی پریشان تھی ۔۔۔
حنا میں کیا کروں وہ حورم کو لے کر اس طرح بھی حیو کرتا ہے جیسے سب اس کے دشمن ہو اور وہ واحد اس کا خیر خواہ پیدا ہوا ۔
بھابی میں جانتی ہوں مگر اب حورم کا اس کے ساتھ رہنا کچھ مناسب نہیں ہے ۔۔۔
پہلے حورم چھوٹی تھی مگر اب وہ بڑی ہو رہی ہے ۔۔
باہر کھڑا آدم ساری باتیں سن چکا تھا خاموشی سے واپس پلٹ کر اپنے اور حورم کے مشترکہ کمرے میں آیا اور پهر دل پہ بھاری پتهر رکھ کے اپنا کچھ ضروری سامان لے کر دوسرے کمرے میں شفٹ ہو گیا۔۔
یہ سب اس نے جس طرح کیا تھا یہ صرف وہ جانتا تھا اور اس کا خدا ۔۔۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا حورم 17 سال کی ہوچکی تھی وہ سب کے ساتھ خوب کھیلتی مستی کرتی اسکو تو گویا آزادی مل گئی تھی ۔۔
مگر آدم کے سامنے وہ پھر سے سہم سی جاتی آدم کی حد درجہ روک ٹوک اور بے پناہ خیال رکھنا اس کو بہت ہی ایریٹیڈ کرنے لگا تھا ۔۔
وہ آدم سے چھپتی پھرتی جب وہ گھر میں ہوتا ۔۔
مگر آدم اس کے ہر ہر فیل پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔
بیٹا میں تمہاری چاچی سے حورم کے لئے بات کر رہی ہوں اس کو اپنے گھر کی رونق بنانے کے لئے ۔۔
تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟؟
آدم گم سم سا ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے حورم کے متعلق کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔ ۔۔
آپ دیکھلیں جیسا آپ کو مناسب لگے ۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ امی حورم کا رشتہ راحم کے لئے طے بھی کرائی تھیں اور منگنی کی انگوٹھی بھی ہاتھ میں ڈال آئی تھیں ۔۔
وہ اپنی لاعلمی میں ہی رہا تھا کہ ایک دن جب روزہ افطار کرتے وقت امی راہم سے بولی ۔۔
بیٹا کل میرے ساتھ بازار چلنا اور حورم کے لیے اپنی مرضی سے شاپنگ کر لینا اس کی عیدی لے کر جانی ہے ۔۔
حورم کی شاپنگ راحم کیوں کرے گا آخر؟؟؟
اس کو حیرت ہوئی اس کی حورم کی شاپنگ راحم کی پسند کی کیوں ہو گی ؟؟؟
آدم کی تیوریاں چڑھ گئی تھیں۔ ۔۔
ارے بیٹا اتنا تو حق بنتا ہی ہے میرے لاڈلے کا اس کی خیر سے منگیتر ہے وہ۔ ۔
کیا کہا آپ نے ابھی؟؟؟
آدم کرسی دکھیل کے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
ارے بھائی آپ کو نہیں پتہ کیا ماما حورم کو انگوٹھی پہنا کر آئی ہے راحم کی ۔۔
زید بڑے ہو جاؤ راحم کی نہیں راہم کے نام کی ۔۔
امی نے اس کے جملے کی تصحیح کی ۔۔
مجھے کسی نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔
مجه سے پوچھے بغیر ہی اتنا اہم فیصلہ کیسے لے لیا آپ لوگوں نے ۔۔۔
آدم کے چہرے پر بڑھتا تناؤ دیکھ کر زارہ جلدی سے بولیں ۔۔۔
بیٹا میں حنا سے بات کرنے گئی تھی تب ہی حنا نے ہی مجھے کہا تھا کہ پہلے تم سے پوچھ لو جب تم سے میں نے پوچھا تو تم نے حامی بھر لی تھی۔ ۔
آدم کچھ بھی کہے بغیر لاؤنج سے واک آؤٹ کر دیا تھا ۔۔۔
❤
جاری۔ ہے۔ ۔
Friday, December 28, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment