itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 5
صبح وہ جوگنگ کرکے وہ واپس آیا تو ناعیمہ ٹیبل پر صنم اور خضر کو ناشتہ سرو کر رہی تھی۔۔۔ ٹاؤل سے منہ گردن پر آیا ہوا پسینہ صاف کرکے وہ وہی بیٹھا ناعیمہ نے معاویہ کی طرف جوس کا گلاس بڑھایا جسے معاویہ نے تھام لیا
"کب تک یہ پولیس کی نوکری کرنے کا ارادہ ہے تمہارا،، اکیلے مجھ سے بزنس نہیں سنبھلتا۔۔۔ اپنا شوق پورا کر کے بزنس میں میرا ہاتھ بٹاو"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا، جو چہرے پر بیزاری لائے ہوئے مشکل سے اپنے باپ کی باتیں سن رہا تھا
"میری نوکری میرے خواب کے ساتھ میرا شوق ہے ڈیڈ،، مجھے بزنس میں خاص انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔ یہ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہو تو پھربار بار ایک بات کو دھرانے کا کیا مقصد"
معاویہ نے کلاس سے سپ لیتے ہوئے کہا
"میری بات کا مقصد صرف یہ ہے کہ خوابوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اس لیے اپنی آنکھوں کو کھولو اور ہوش کی دنیا میں قدم رکھو تمہاری اس جاب کا کوئی خاص فیوچر نہیں ہے اس لئے چند دنوں میں تم میرا بزنس جوائن کر رہے ہو"
خضر نے ناشتہ جاری رکھنے کے ساتھ اپنی بات مکمل کی
"ڈیڈ وہ کمزور لوگ ہوتے ہیں جو خواب دیکھتے ہیں لیکن اپنے کم ہمت ہونے کی وجہ سے ان کو پائے تکمیل تک نہیں پہنچاتے ہیں اور ساری زندگی خوابوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے آس پاس کی حقیقتوں کو فراموش کردیتے ہیں،،، میں اپنے دیکھے ہوئے خوابوں کو خود تعبیر کی شکل دینے والوں میں سے ہو۔۔۔ ان شارٹ آپ کہہ سکتے ہیں میں معاویہ مراد ہو خضر مراد نہیں"
معاویہ نے اپنی بات مکمل کر کے جوس کا گلاس خالی کیا
خضر نے چائے کا کپ پٹخنے کے انداز میں ٹیبل پر رکھا، وہ خوب سمجھتا تھا کہ معاویہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے ویسے بھی پورے گھر میں صرف اسی کی ہمت ہوتی تھی کہ وہ اس کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھے
"دیکھ رہی ہو اس کی زبان یہ تربیت ہے تمہاری، ذرا تمیز سکھائی اسے تم نے کہ باپ سے کیسے بات کی جاتی ہے"
اب خضر کی توپوں کا رخ ناعیمہ کی طرف ہوگیا
"آپ مام کو کیوں بیچ میں لا رہے ہیں یہ ان کی تربیت ہی ہے کہ جو مجھے بہت کچھ کرنے سے روکتی ہے"
معاویہ نے تیز آواز میں کہا
"معاویہ تمیز سے بات کرو اپنے ڈیڈ سے بلکہ فورا سوری کہو"
ناعیمہ نے معاویہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"سوری مائی فٹ" شیشے کے گلاس کو زمین پر پھینکتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
*****
"گڈ مارننگ بابا"
حیا ڈھیلے ڈھالے شرٹ اور ٹراؤزر میں مبلوس ناشتے کی ٹیبل پر آئی
"گڈ مارننگ مائی پرنسس یہاں بیٹھو بابا کے پاس"
زین نے اپنے برابر والی کرسی پر اشارہ کرتے ہوئے بولا
"تو پھر آپ آفس کے کام سے باہر جارہے ہیں ہیں" حیا نے زین کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے منہ لٹکا کر بولا وہ جب بھی آفس کے کام سے باہر جاتا تھا تو حیا کو اسی طرح اپنے پاس بٹھا کر بہت سی باتوں کی تلقین کرتا تھا
"دو دن کی تو بات ہے، دو دن بعد بابا آپنی بیٹی کی آنکھوں کے سامنے ہونگے"
زین نے حیا کے سر پر اپنا سر ٹکاتے ہوئے کہا
"میں آپ کو مس کرو گی ہمیشہ کی طرح"
حیا آنے افسردہ ہوتے ہوئے کہا
"یہ وہ منظر تھا جو حور ہر دفعہ زین کے گھر سے باہر جانے کے وقت دیکھتی تھی
"اپنا اور اپنی مما کا بہت خیال رکھنا کھانا وقت پر کھانا اور مما کو بالکل پریشان نہیں کرنا" زین اس کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر ہمیشہ کی طرح ساری باتیں آرام سے سمجھا رہا تھا
"پھر ایسے تو بالکل مزہ نہیں آئے گا تھوڑا سا تو پریشان کروں گی نہ مما کو"
حیا کے معصومیت سے بولنے پر وہ تینوں ہی مسکرا دیے۔۔۔ زین نے اٹھتے ہوئے حیا کا ماتھا چوما اور حور کی طرف آیا
"اپنا خیال رکھنا کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو شیر خان یا نسیمہ کو کہہ دینا، ہادی یا بلال میں سے کوئی چکر لگا لیا کرے گا،، کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے فورا کال کرنا"
وہ ہمیشہ کی طرح آنکھوں میں نرم تاثر لیے ہوئے حور سے باتیں کر رہا تھا
"آہم آہم اور آخری سب سے امپورٹنٹ بات کرنی ہے وہ بھی جلدی سے کرلیں میں آنکھیں بند کر لیتی ہوں"
حیا نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تو زین ہنس دیا جبکہ حور شرم سے سرخ ہوگئی
"حیا ہر وقت فضول گوئی سے پرہیز کیا کرو ورنہ مار کھاؤ گی تم مجھ سے"
حور نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا
"اوکے میں رات کو کال کروں گا خدا حافظ"
حور کے گال کو اپنی دو انگلیوں سے چھوتا ہوا زین گھر سے باہر نکل گیا
*****
"ہادی میں کہہ رہی تھی تم"
فضا جیسے ہی روم میں داخل ہوئی ہادی نے تیزی سے کوئی چیز ڈراز میں رکھی مگر فضا کی تیز نگاہوں سے یہ حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکی
"جی ماما کیا کہہ رہی تھی آپ"
ہادی نے نارمل انداز اپناتے ہوئے فضا سے پوچھا
"عدیل کے بارے میں بات کر رہی تھی اسے اسٹیڈیز میں تھوڑا سا پرابلم ہو رہا ہے اس کے لیے کوئی اچھا سا ٹیوٹر ارینج کر دو"
فضا نے بھی نارمل انداز میں کام کی بات کی
"اس پڑھاکو کو بھی کوئی پروبلم ہو سکتی ہے بھلا۔۔۔ چلیں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے میں ارینج کر دوں گا اج کل میں" ہادی نے فضا کو جواب دیا
"اچھا ایسا ہے زین بھائی تو گئے ہوئے ہیں میں تھوڑی دیر کے لئے حور کے پاس جا رہی ہوں تمہارے بابا آفس سے آئے تو بتا دینا"
فضا نے اٹھتے ہوئے کہا
"آپ ابھی کیوں جا رہی ہیں۔۔۔ آئی مین رات میں مجھے اور حیا کو شادی کے فنکشن میں جانا ہے تب انٹی اکیلی ہو گئی اسی وقت چلی جائیے گا تاکہ انہیں بھی اکیلے پن کا احساس نہ ہو"
ہادی نے فضا کو مشورہ دیا
"چلو یہ بھی ٹھیک ہے تمہارے بابا آئیں گے تو پھر انہی کے ساتھ چلی جاؤ گی" فضا نے مسکراتے ہوئے کہا اور کھڑی ہو کر جانے لگی دروازے تک پہنچ کر اچانک رکی
"ویسے ہادی جو رنگ تم نے حیا کیلئے لے کر آئے ہو وہ اسے کب دو گے" فضا نے اچانک ہادی سے سوال کیا
"کونسی رنگ مما" ہادی ایک دم اپنی چوری پکڑے جانے پر گڑبڑآیا
"وہی رنگ جو ابھی میرے آنے سے پہلے تم دیکھ رہے تھے،، اور میرے آنے پر تم نے دراز میں چھپائی ہے"
فضا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،،
تو ہادی ایک دم سٹپٹا گیا
"ماما وہ تو بس ایسے ہی بس میں نے یوں ہی اپ پلیز"
اسے اپنی چوری پکڑے جانے پر سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بولے
"کیا یہ، وہ، میں، لگا رکھی ہے جو بات ہے آرام سے بولو میں حیا نہیں ہوں جو اتنا کنفیوز ہو رہے ہو تم"
فضا نے شرارت آنکھوں میں سمائے ہوئے اس سے بولا
"اس لئے تو کنفیوز ہو رہا ہوں آپ کے سامنے کیا بولوں اگر حیا سامنے ہوتی تو کنفیوز تھوڑی ہوتا"
ہادی دھیرے سے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
"عمر بڑھنے کی وجہ سے تمہاری بڑبڑاہٹ مجھے صحیح سے سنائی نہیں دے رہی ذرا اونچا بولو"
فضا اس کے پاس آ کر بیٹھ کر کہنے لگی
"آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں حیا کے لیے لایا ہوں"
ہادی نے حیرت سے فضا سے پوچھا
"اس لیے کہ میں تمہاری ماں ہو"
فضا دونوں ہاتھ باندھ کر مسکرا کر کہنے لگی جس پر ہادی بھی ہنس دیا
"آپ کو کیا لگتا ہے آئی مین حیا مان جائے گی"
ہادی نے فضا سے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
"کیوں نہیں مانے گی میرے بیٹے جیسا ہینڈسم اسے اس دنیا میں اور کوئی مل ہی نہیں سکتا"
فضا نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا جس پر ایک بار پھر فضا اور ہادی دونوں مسکرا دیے
*****
اکثر ایسا ہی ہوتا تھا خضر اور معاویہ کے درمیان نارمل بات کا آغاز ہوتا مگر اختتام اس کا لڑائی پر ہوتا تھا، شروع شروع میں یہ دیکھ کر گھر کے نوکر سہم جاتے تھے مگر اب وہ بھی ان کی لڑائی کے عادی ہوگئے تھے۔۔۔۔ گھر میں صرف ایک ہی وجود تھا جو بچپن سے لے کر آج تک پہلے دن کی طرح خضر کے ناعیمہ اور معاویہ کے چیخنے نے پر بری طرح سہم جاتا تھا اور وہ وجود تھا صنم کا،،، یہی وجہ تھی اس کی شخصیت میں کانفیڈنس کی کمی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کافی ریزرو نیچر کی مالک تھی۔۔۔۔ آج اسے معاویہ سے ضروری بات کرنی تھی مگر ٹیبل پر موجود جو تماشہ ہو چکا تھا اس کے بعد وہ معاویہ کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرکے یونیورسٹی جانے کی تیاری کرنے لگی
****
معاویہ غصہ میں کمرے میں آیا اور اپنا یونیفارم پہن کر جانے کی تیاری کرنے لگا جبھی اس کے کمرے میں ناعیمہ آئی
"یہ کیا طریقہ ہے معاویہ اپنے ڈیڈ سے بات کرنے کا۔۔۔ تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہے گھر کے نوکر اور دوسرے کیا سوچیں گے میری تربیت کا ہی پاس رکھ لیا کرو تم کم ازکم"
ناعیمہ نے روم میں آتے ہی معاویہ سے ناراض لہجے میں کہا
"مام ریلکس کوئی کچھ نہیں سوچتا اور آپ بھی زیادہ نہیں سوچا کریں اور احساس کی کیا بات کر رہی ہیں آپ، کبھی انہوں نے زندگی میں ہمارا احساس کیا ہے جو آج میں ان کا احساس کروں،، آپ کی تربیت کا ہی پاس رکھا ہوا ہے میں نے نہیں تو میں"
معاویہ نے بات ادھوری چھوڑ کر اپنا سر جھٹکا
"نہیں تو کیا کرو گے تم جواب دو"
نائمہ نے گھور کر معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"ایسے بنٹے ہوئے انسان کو شادی ہی نہیں کرنی چاہیے تھی، نہ ہی وہ کبھی خود سکون سے رہے ہیں اور نہ انہوں نے کبھی ہمیں سکون دیا ہے،، نفرت ہے مجھے اپنے باپ سے اور اس سے بھی زیادہ نفرت اس عورت سے ہے جس کی وجہ سے آپ نے میں نے اور صنم نے ساری زندگی محرومیوں میں گزاری"
معاویہ کو دیکھے بغیر ہی اپنے باپ کی اس کزن سے نفرت تھی جس کی وجہ سے اس کی ماں کو زندگی میں وہ مقام نہیں مل سکا تھا جس کی وہ مستحق تھی
"اس میں حور کا کوئی قصور نہیں ہے اور پلیز معاویہ چپ ہوجاو اب زندگی بھر ایک ہی بات کے پیچھے لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا"
ناعیمہ نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا
"کاش یہ بات آپ خضر مراد کو بھی سمجھا سکتی"
معاویہ کہتا ہوا اپنے روم سے نکل گیا
*****
خضر نے فاطمہ بیگم کے کہنے پر ناعیمہ سے شادی تو کر لی مگر وہ شادی کے بعد ناعیمہ کو لے کر امریکہ چلا گیا ماں باپ نے بہت چاہا کہ وہ واپس آجائے مگر وہ واپس نہ آیا۔۔۔۔ اس کے آنے کا انتظار کرتے کرتے فاطمہ بیگم اس دنیا سے چلی گئی تو وہ بیوی بچوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پاکستان آگیا اور دو سال پہلے ہی ظفر مراد کا بھی انتقال ہوچکا
*****
بچپن میں جب وہ اپنے دوستوں کو ان کے باپ کے ساتھ کھیلتا ہوا بات کرتا ہوا اور شرارتیں کرتا ہوا دیکھتا تھا،، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا باپ بھی اس کے ساتھ ایسے ہی کھیلے،، اس نے کوشش بھی کرنی چاہی مگر خضر نے ہمیشہ اپنے بچوں سے فاصلہ قائم رکھا بچوں سے ہی نہیں بلکہ ناعیمہ سے بھی لیے دیے انداز میں بات کرتا تھا یا کوئی کام کی بات کرلی ورنہ افس کا غصہ اکثر چیخ و پکار کر کے لڑائی جھگڑے کرکے وہ گھر میں ہی نکالتا،،، پتہ نہیں اس کو کونسی فرسٹریشن تھی جو اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔ جب کبھی فاطمہ بیگم امریکا آتی تو اکثر اپنے بیٹے کو نصیحت کرتی رہتی جس کا خضر پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا،، ایک دن باتوں ہی باتوں میں فاطمہ بیگم نے حور کا ذکر کیا تب معاویہ کو پتہ چلا کہ اس کے باپ کی کوئی کزن تھی جس سے وہ محبت کرتا تھا مگر وہ شادی نہیں کر سکا یہی وجہ تھی کہ معاویہ کو اپنے باپ کے ساتھ ساتھ اس عورت سے بھی بغیر دیکھے نفرت ہو گئی
****
"کیا اس نے تمہارا راستہ روکا"
فریحہ نے حیرت سے آنکھیں کھول کر کہا
"وہ تو شکر ہے سامنے سے سر امجد آگئے اور انہوں نے مجھے آواز دے کر بلا لیا"
صنم نے ساحر والی حرکت فریحہ کو بتائی
"میں نے پہلے ہی کہا تھا تم سے اپنے بھائی کو بتاؤں وہ پولیس میں ہے اچھی طرح درگت بنائے گا اس گھٹیا انسان کی"
فریحہ نے ساتھ چلتے ہوئے صنم کو مشورہ دیا
"فریحہ تمہیں بھائی کا غصے کا اندازہ نہیں ہے وہ اس کی درگت نہیں بلکہ قیمہ بنادیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ بات زیادہ بڑھے"
صنم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
"دیکھو صنم ایسے تو یہ مسئلہ ختم نہیں ہونے والا ہے، اس ساحر کے باپ کو کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں سمجھو اس لئے بھی یونیورسٹی کی انتظامیہ کوئی ایکشن نہیں لیتی اس کے خلاف اور تمہیں یاد ہے باٹنی کی جو مریم تھی کتنا تنگ کیا تھا اسے ساحر نےاس بیچاری کو،،، اس کی وجہ سے مریم نے اپنی اسٹیڈیز تک چھوڑ دی تھی۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو ساحر کوئی اور قدم اٹھائے گا تب سوچوں گی، میری مانو تو اپنے بھائی کو سب بتاؤں"
فریحہ نے اسے مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا
"شاید تم ٹھیک ہے رہی ہوں مجھے بھائی سے بات کرنی چاہیے"
صنم اور فریحہ باتیں کرتے ہوئے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر آئی
"چلو یار میں تو چلی تمہارا ڈرائیور نہیں آئی ابھی تک" فریحہ نے صنم سے پوچھا
"ہاں آنے والا ہے تم جاو،، کل ملتے ہیں" صنم نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
فریحہ کے جانے کے بعد وہ وہیں کھڑی ہو گئی ڈرائیور کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔ جب اچانک ساحر نے اس کی قریب اپنی گاڑی آ کر روکی اور اترتا ہوا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا
"آئیے میں صنم آج ہمہیں خدمت کا موقع دیں،، میں آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ دیتا ہوں"
اس نے مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے صنم سے کہا
"میرا ڈرائیور آنے والا ہے آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے" صنم نے ساحر کو بولا اور وہاں سے جانے کے لئے قدم آگے بڑھائے
"سمجھنے کی کوشش کریں میں زیادہ وقت نہیں لوں گا آپ کا"
ساحر نے صنم کو جاتا دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
ہاتھ چھوڑو میرا پلیز"
اس کی حرکت پر وہ رو دینے والی ہوگی اور مدد طلب نظروں سے آنے جانے والوں کو دیکھنے لگی
"سیدھی طرح چل کے گاڑی میں بیٹھ جائے ورنہ تماشہ صرف آپ کا ہی بنے گا"
ساحر نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا
ایک دم ساحر کی گاڑی کے پیچھے دوسری گاڑی آ کر رکی
"چھوڑو اس لڑکی کا ہاتھ"
ہادی نے گاڑی سے نکلتے ہوئے ساحر سے کہا
"کیوں کیا تمہیں پکڑنا ہے"
ساحر خباثت سے مسکراتے ہوئے بولا
"غلطی ہو گئی مجھے پہلے تمہارا منہ توڑنا چاہیے تھا اور پھر اس کے بعد تم سے بات کرنی چاہیے تھی"
یہ کہتے ہوئے ہادی نے زوردار تھپڑ ساحر کے منہ پر مارا
اسی اثناء میں صنم فورا ہادی کے پیچھے جا کر کھڑی ہوگئی
جائیے گاڑی میں بیٹھے آپ"
ہادی نے صنم کو کہا وہ فورا اس کی گاڑی کی طرف بڑھی
"تو نے مجھے تھپڑ مارا ہے تو جانتا نہیں ہے مجھے ساحر نے غصے میں ہادی سے کہا
"تم جیسے کمینوں کی کیٹگری کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔۔ آئندہ کسی بھی لڑکی کو چھیڑنے سے پہلے تھپڑ ضرور یاد رکھنا"
ہادی اس کو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کردی
"آپ پریشان مت ہوں اب وہ آپ کو تنگ نہیں کرے گا،، آپ مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائے میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دیتا ہوں"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا جو بس روئے جا رہی تھی۔۔۔۔ روتے ہوئے اس نے اپنے گھر کا پتہ بتایا
"آپ رونا بند کریں پلیز یہ لیجئے"
ہادی نے گاڑی میں رکھی ہوئی پانی کی بوتل صنم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جیسے صنم نے تھام لیا اور تھوڑا سا پانی پیا
"یہ لیجیے آگیا آپ کا گھر"
ہادی نے گاڑی روکتے ہوئے کہا
"آپ کا بہت بہت شکریہ اگر آپ آج نہ ہوتے تو"
صنم نے بھولنا چاہا
"تو میری جگہ کوئی اور ہوتا"
ہادی نے مسکراتے ہوئے صنم سے کہا صنم بھی اس کو دیکھ کر مسکرائی
آپ پلیز اندر آئے" صنم نے جھجکتے ہوئے کہا
وہ ہر کسی سے بات نہیں کرتی تھی مگر وہ اس کا محسن تھا
"نہیں میںم اب مجھے اجازت دیجئے"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا
"تھینکیو مجھے گھر تک ڈراپ کرنے کے لیئے"
گاڑی سے اتر کر صنم گاڑی کے اندر جھانکتے ہوئے ہادی کو بولی
ہادی نے سر ہلکا سا خم کیا اور گاڑی اسٹارٹ کردی عدیل کے لیے ٹیوٹر کا کسی اور دن کا سوچتے ہوئے گاڑی اس نے گھر کی طرف موڑ لی
جاری ہے
Friday, December 28, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment