Thursday, December 27, 2018

itni mohbbat karo na (season 2) episode 4

Itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 4


"ارے سنبھل کے میرے بچے"
حیا جیسے ہی گرنے لگی زین نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا

"مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے آج سے پہلے جب کبھی غرارہ تم نے پہنا نہیں۔۔۔ تو اب کیا ضرورت تھی اس کو پہننے کی سنبمالا تم سے جا نہیں رہا"
حور نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ ڈل گولڈن کلر کے غرارے میں تیار کھڑی تھی ایک نظر دل بھر کے دیکھو اور دل ہی دل میں ماشا اللہ کہا اور نظریں ہٹالیں

"مما زرش کی بڑی بہن کی مہندی کا فنکشن ہے آج سب فرینڈز نے غرارہ ہی ڈیسائڈ کیا تھا۔۔۔ اس لئے تو ہادی کے ساتھ جا کر چار گھنٹے دماغ کھپا کر یہ غرارہ لے کر آئی ہوں اور آپ کہہ رہی ہیں کیا ضرورت تھی پہننے کی"
حیا نے حور سے ناراض ہوتے ہوئے کہا

"تو بیٹا ایسا کرو پھر اپنے بابا کو ساتھ ہی لے جاؤ تاکہ جب جب تم گرو وہ تمہیں سنبھال لیں"
حور کے بولنے پر زین مسکرا دیا

"بابا کی کیا ضرورت ہادی ہوگا نہ وہاں پر"
حیا کے منہ سے نکلا تو بے ساختہ زین نے چونک کر حیا کو دیکھا

"ارے دیکھیں نام لیا اور کال آگئی ہادی کے بچے کی"
حیا نے کال کاٹتے ہوئے کہا

"حیا تمیز سے بات کیا کرو وہ بڑا ھے تم سے"
حور نے اس کو ٹوکا

"مما باقی کی نصیحتیں آنے کے بعد اوکے بابا بائے"
حیا زین اور حور سے مل کر، دونوں ہاتھوں سے غرارہ سنبھالتی ہوئی باہر نکل آئی

"کیا ہوا کیا سوچ رہے ہو شاہ"
حور نے زین کو کھویا ہوا دیکھا تو پوچھا

"کچھ نہیں ایسے خیال آیا کتنی بڑی ہوگئی ہے نا ہماری بیٹی،، کتنی سی تھی آج سے 18 سال پہلے جب ہماری زندگی میں آئی تھی اور اب دیکھو ماشااللہ"
آخری الفاظ کہتے ہوئے زین کا لہجہ تھوڑا بھیگا جیسے اس نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا ہو مگر حور کی آنکھیں نم ہوگئیں

"شاہ اس وقت تم مجھے ایک جوان بیٹی کے باپ لگ رہے ہو اور تھوڑے بوڑھے بوڑھے بھی"
آخری کی بعد میں حور نے مذاق کا رنگ دیتے ہوئے کہا تاکہ افسردگی کا اثر زائل ہوسکے جس میں وہ کامیاب ہوگئی کیوکہ زین اسکی بات پر مسکرا دیا

*****

"گاڑی سے اترنے کے بعد وہ ہادی کا ہاتھ تھام کر چل رہی تھی کیوکہ غرارہ بار بار اس کے پیر میں آرہا تھا اور اوپر سے اونچی پینسل ہیل وہ کافی اپنے آپ میں الجھی ہوئی لگ رہی تھی

"جب اتنے مسئلے تھے تو یہ شامیانہ پہننے کی ضرورت کیا تھی"
ہادی نے اس کو پریشان حال دیکھ کر کہا

"تمہیں میرا ہاتھ پکڑنا اگر اتنا برا لگ رہا ہے تو صاف بولو میں نہیں پکڑتی میں تمہارا ہاتھ"
حیا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

"بس بن گیا تمہارا منہ، اچھا لاؤ دو اپنا ہاتھ"
ہادی نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

"نہیں اب مجھے تمہارا ہاتھ نہیں تھامنا پیچھے ہٹاو اپنا ہاتھ۔۔۔۔ کوئی اور مدد کو تیار ہوجائے گا تو اس کا ہاتھ تھامو گی میں" 
حیا نے اسکا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا

'کوئی اور تھام کر تو دیکھائے تمہارا ہاتھ بتاؤں گا اس کو بھی اور تمہیں بھی۔۔۔۔ تمہیں پریشان دیکھ کر بولا تھا میں اور یہ ہاتھ میں ساری زندگی کے لئے تھام سکتا ہوں"
ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا

ہادی کے ایک دم اس طرح کہنے سے حیا نے حیرت سے ہادی کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا حیا نے جھینپ کر اپنی پلکیں نیچے جھکائی


*****

اتفاق سے حیا کی دوست کا بھائی ہادی کا بھی دوست تھا اس لئے وہ دونوں ہی فنکشن میں انوائٹ تھے۔۔۔ دونوں وہاں پہنچ کر اپنے اپنے فرینڈز کے ساتھ بیٹھ گئے

"یار زرش کے بہنوئی کو دیکھو کیا پرسنالٹی ہے"
سوہنی نے ان دونوں سے کہا

"ہاں یار لوگ تو بڑا ڈیشنگ رہا ہے"
فری نے بھی اس کی بات کی تائید کی

"میں نے سنا ہے یہ موصوف پولیس میں ہیں"
سوہنی نے ان دونوں کی معلومات میں اضافہ کیا

"کیا پولیس میں" حیا نے برا سا منہ بنا کر کہا

"اب اس میں ایسا منہ بنانے کی کیا بات ہے بھلا"
فری نے حیا سے کہا

"زہر سے بھی زیادہ زہریلے لگتے مجھے پولیس والے چڑ ہے مجھے ان لوگوں سے"
حیا نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا

"غنڈے اور چور تو پکڑے جاتے نہیں ہیں ان لوگوں سے عام عوام پر ہی ان کا سارا رعب چل رہا ہوتا ہے۔۔۔ جلاد جیسی صفت ہوتی ہے ان لوگوں کی اور مجھے یقین ہے رومینس میں بھی بالکل ٹھس ہوتے ہونگے"
حیا کی کہنے کی دیر تھی پچھلی سیٹ پر سے ایک زور دار قہقے کی آواز آئی۔۔۔حیا سمیت ان دونوں نے بھی اپنے پیچھے مڑ کر ٹیبل پر دیکھا جس پر بہت سارے مرد بیٹھے ہوئے تھے اور دلچسپ نظروں سے حیا کو دیکھ رہے تھے کیونکہ تازہ تازہ تبصرہ اسی نے کیا تھا۔۔۔ ایک دم ان سب کے دیکھنے پر وہ بری طرح گھبرا گئی۔۔۔ مگر اس کی نظریں دوبارہ ہٹنا بھول گئی کیونکہ وہ مال والا نوجوان بھی اسی ٹیبل پر موجود تھا جو اسی کو بہت سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا

"سر جی یہ تو وہی میڈم ہے جو ہمیں مال میں ملی تھی"
سعد نے ہنستے ہوئے کہا

"سعد کیا تمہیں اپنے دانتوں سے پیار ہے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا

"جی سر جی بالکل ہے"
سعد نے گڑبڑاتے ہوئے کہا

"تو اب یہ مجھے باہر نکلتے ہوئے نظر نہ آئے"
معاویہ نے اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

"جی سر جی سمجھ گیا"
سعد نے اپنے دانت اندر کرلیے

سب کی نظریں اپنے اوپر پڑنے سے وہ اہک دم گھبرا کر اٹھی اور زرش کے پاس اسٹیج پر جانے لگی تبھی ایک دم معاویہ اس کے سامنے آیا۔۔۔۔ اس کے اچانک سامنے آنے سے حیا دو قدم پیچھے ہوئی،، غرارہ اس کے پاؤں کے نیچے آیا اس سے پہلے وہ نیچے گرتی، معاویہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو تھام لیا اور اسے گرنے سے بچایا

"پولیس کی جاب ایک مشکل ترین جاب ہے ہر کوئی عام بندہ یہ جاب نہیں کرسکتا۔۔۔ ایک پولیس والا ہر دن اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے ہر دن ہی اس کا رسک میں گزرتا ہے تاکہ تم لوگوں کو پروٹیک کیا جاسکے اور اپنے ملک کی حفاظت کی جاسکے۔۔۔ پولیس والوں کی کوئی اپنی پرسنل لائف نہیں ہوتی وہ اپنی فیملی کو ہر عام بندے کی طرح ہر وقت ٹائم نہیں دے سکتے مگر کبھی کبھی ہماری جاب کی وجہ سے ہماری فیملی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مانا کے چند پولیس والوں کی وجہ سے پورا محکمہ بدنام ہے مگر تم ان چند لوگوں کی وجہ سے سب کو ایک پلرے میں نہیں تول سکتی اور رہی تمھاری آخر والی بات کا جواب۔۔۔ تو وہ میں صہیح موقعے پر تم کو دوں گا"
معاویہ حیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے سنجیدگی سے بولے جا رہا تھا

"ایکسکیوز می آپ کی تعریف"
حیا نے آبرو اوپر چڑھاتے ہوئے اس سے پوچھا

"ایک پولیس والا"
معاویہ بول کر روکا نہیں وہاں سے چلا گیا اور اس کی تعریف سن کر حیا کا حلق تک کڑوا ہو گیا

"کیا کہہ کر گیا ہے تم سے"
سوہنی نے تجسس سے پوچھا

"ایوئی ڈائیلاگ مار کر گیا ہے"
حیا نے سر جھٹک کر کہا اور اسٹیج کی طرف بڑھ گئی جہاں زرش اسے اشارے سے بلا رہی تھی

تھوڑی دیر بعد ساری ینگ پارٹی ڈانس فلور پر جمع ہوگئی جہاں پر سب ہی ڈانس کررہے تھے، زرش نے بھی ساری فرینڈز کو بلایا سب مل کر ڈانس کر رہی تھی حیا کا بھی بہت دل چاہ رہا تھا ان سب کے ساتھ مل کر انجوائے کریں مگر وہ اپنے غرارے کی وجہ سے کنفیوز ہوکر ایک سائڈ میں کھڑی ہوکر مسکرا کر مسلسل تالیاں بجا رہی تھی تیز میوزک کی آواز پر آہستہ آہستہ اس کے شولڈر بھی ہل رہے تھے۔۔۔ ڈانس فلور سے تھوڑی دور معاویہ کی نظر ایک لڑکے پر پڑی تو معاویہ چیئر سے اٹھ کر اس لڑکے کے پاس گیا وہ لڑکا کافی دیر سے حیا کو زوم کرکے اس کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا،،، معاویہ نے اس کے برابر میں کھڑا ہو کر اپنا ہاتھ اس کے گلے میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا موبائل لےکر ویڈیو ڈیلیٹ کی اور موبائل of کرکے اس کی پاکٹ میں رکھ دیا وہ لڑکا بالکل چپ کرکے اس کی کاروائی دیکھ رہا تھا

"اب یہ موبائل گھر جاکر on کرنا"
معاویہ کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ لڑکا سر ہلا کر رہ گیا معاویہ نے ایک نظر حیا پر ڈالی پھر اس لڑکے کے گال تھپتھپاتا ہوا وہاں سے چلا گیا

*****

"اف یہ ہادی کہا گیا"
حیا چاروں طرف نظریں دوڑا کر اس کو ڈھونڈ رہی تھی کیونکہ حور کی کال آنا شروع ہو گئی تھیں کہ وہ کب گھر آ رہی ہے اسی اثنا میں حیا کے پیر میں کچھ اٹکا اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر گرتی ایک بار پھر معاویہ نے اس کو تھام کر بچایا

"انسان کو عقل کا اور آنکھوں کا اتنا بھی اندھا نہیں ہونا چاہیے خیر اپنی کم عقلی کا ثبوت تو تم پہلی ملاقات میں دے چکی ہوں اور آج تم نے واضح ثبوت دے دیا ہے کہ تمہارا اوپر والا فلور بالکل خالی ہے" معاویہ نے اس کے سر پر انگلی رکھ کر اشارہ کرتے ہوئے کہا،، پتہ نہیں کیوں مگر اسے اچھا نہیں لگا تھا جب وہ ہادی کا ہاتھ تھام کر آرہی تھی اور ڈانس فلور کے پاس کھڑی ہوئی ڈانس کر رہی تھی آیا تو وہ امریکہ سے تھا مگر ناعمہ نے ان دونوں بچوں کی تربیت ایسی کی تھی کہ وہ اپنی تہذیب اور قدریں نہ بھولیں۔۔۔۔ یہی وجہ تھی معاویہ اور صنم دونوں کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ آزاد ملک کی پیداوار ہیں

"ہاو ڈیئر یو، تم خود کو سمجھ کیا رہے ہو؟ کیا چیز ہو تم، جب سے ملے ہو باتیں ہی سنائے جا رہے ہو۔۔ تم دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا جس سے وہ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا

حیا کو پہلی نظر میں وہ پسند نہیں آیا تھا کتنی زور سے اس کی کلائی پکڑی تھی اس نے، اور آج سامنا ہوا تو باتیں ہی سنائے جا رہا تھا اوپر سے نکلا بھی پولیس والا

"یہ دو ٹکے کا پولیس والا اگر چاہے تو دو منٹ سے بھی کم وقت میں تمہاری عزت دو ٹکے سے بھی کم کرسکتا ہے، اس لئے آئندہ اپنی لینگویج اور باڈی لینگویج کو کنٹرول میں رکھنا۔۔۔ وارننگ میں صرف ہر ایک کو ایک دفعہ ہی دیتا ہوں"
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں حیا اس کو جاتا دیکھتی رہ گئی

****

ارسل کے فنکشن میں آکر وہ بور ہو رہا تھا کیونکہ مہندی کا فنکشن ٹیپیکل لڑکیوں والا فنکشن تھا۔۔۔ تیز میوزک کی وجہ سے وہ ایک ضروری کال نہیں سن پارہا تھا اس لئے باہر آگیا، اس نے سوچا تھا ارسل سے excuse کر کے وہ جلد یہاں سے چلا جائے گا یہی سوچتا ہوا وہ فون پر بات کر رہا تھا جب اس کی نظر enterence پر پڑی۔۔۔ جہاں سے وہی چلتی ہوئی آرہی تھی جس کو دیکھ کر اسے اس پاس کچھ نظر نہیں آیا معاویہ جوکہ ضروری کال کرنے آیا تھا موبائل دوبارہ پاکٹ میں ڈالا اور حیا کو دیکھنے لگا، مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی لیکن اس کے پیچھے نوجوان آیا یہ وہی لڑکا تھا جسے وہ مال میں حیا کے ساتھ دیکھ چکا تھا حیا نے اس کا ہاتھ تھام لیا تو معاویہ کے چہرے پر سے مسکراہٹ مدھم ہو کر ختم ہو گئی۔۔۔ پھر حیا نے اس لڑکے کا ہاتھ جھٹکا مگر تھوڑی باتوں کے بعد دوبارہ اس لڑکے نے حیا کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر معاویہ کو اچھا نہیں لگا مگر ڈل گولڈن ڈریس میں اس کو وہ بہت اچھی لگ رہی تھی،، وہ اسکا حسین روپ اپنی آنکھوں میں جذب کر لینا چاہتا تھا

پھر اتفاق سے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جس ٹیبل پر بیٹھی اس کی پیچھے والی ٹیبل پر ہی وہ اپنے کولیکز کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جو کہ زیادہ تر پولیس میں تھے اور حیا کی آواز اتنی ہلکی بھی نہیں تھی سب نے اس کا تبصرہ سنا ہو اور انجوائے بھی کیا اور اس کی آخر والی بات پر سعد کے زوردار قہقہے سے حیا کی آواز کو بریک لگا

معاویہ کو اچھا نہیں لگا حیا کا اس طرح پولیس والوں پر تبصرہ کرنا جبھی معاویہ نے سامنے آ کر وہ سب بولا اور آخر میں جتا بھی دیا کہ وہ پولیس والا ہے۔۔۔۔۔ ان دو ملاقاتوں میں معاویہ نے اس بات کا تو اندازہ اچھی طرح لگا لیا کہ وہ ایک لاابالی نیچر کی لڑکی ہے بلکہ ناصرف لاوبالی وہ اچھی خاصی بدتمیز بھی ہے خیر یہ کوئی معاویہ کے لئے اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا اس کا کام ہی ایسے ٹائپ کے لوگوں کو سیدھا کرنا تھا۔۔۔۔ مگر وہ اپنی پہلی نظر میں ہونے والی محبت کو اپنی ضد نہیں بنانا چاہتا تھا ورنہ یہ حیا کے لئے بہت برا ہوتا مگر وہ اپنی حماقتوں سے پوری طرح ثابت کر رہی تھی کہ وہ واقعی کام عقل ہے۔۔۔ گاڑی چند قدم کے فاصلے سے دور روک کر اب وہ حیا کو گیٹ سے اندر جاتا ہوا دیکھ رہا تھا اور اس سے پہلے وہ لڑکا اپنی گاڑی لے کر آگے جاتا معاویہ نے اپنی گاڑی آگے بڑھا دی


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment