Muhabbat barsadena tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 6..
🌹🌼🌹
یس سر آپ نے بلایا حکم کریں بندہ حاضر ہے ۔۔۔
سامنے کھڑا شخص میر حنید کو سلوٹ پیش کرنے کے بعد مئو دب کھڑا اس کے حکم کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
میر حنید بڑے سے ہال نما کمرے میں
اپنے شہانہ لاکھوں روپے کے صوفے نما تخت پر نیم دراز ساتھ میں رکھی سلور ٹیبل کے اوپر سجے پیور چاندی سے بنائے گئے اینٹک ٹچ کےحقے سے کش پہ کش لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
پورا ہال کمرا خوبصورتی اور بہت ہی نفاست سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔۔
پورے ایک منٹ اور چھ سیکنڈ تم لیٹ آئے ہو ۔۔
خیر پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کیا۔۔
کیونکہ آج میر حنید بہت خوش ہے۔ ۔۔
معافی سر آئندہ غلطی نہیں ہو گی ۔۔
سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر خوف کے سائے واضح طور پر منڈلا رہے تھے ۔۔
جاؤ جا کر 20 کلو مٹھائی اور 20کلو پھل کے ٹوکرے بنوا کر لاؤ ۔۔
آج میر حنید اپنا رشتہ خود لے کر جا رہا ہے اپنی محبت کے کوچے میں ۔۔
اس کے پیروں میں اپنے نام کی بیڑیاں ڈالنے کیلئے ۔۔
ججی ۔۔جی سر۔ ۔
اسد بہت حیران ہوا تھا کیومکہ اسکا مالک شادی کے نام سے بھی الرجک تھا کجا کہ اپنا رشتہ لیکر جانا۔ ۔
پہلے اسکا باپ انکا خاص وفاءشعارملازم تھا اور پھر باپ کی وفات کے بعد وہ اپنے باپ کی ہی طرح وفاء شعاری سے اپنے فرائض سر انجام دےرہاتھا۔۔
اس طویل عرصے میں وہ میر حنیر کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا۔ ۔
آسد کو بخوبی اندازہ ہورہا تھا کہ جس لڑکی کی معلومات میر حنید جس شدت سے حاصل کرواچکا تھا اس سے وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہوسکتی۔ ۔۔
اور ہونا ہو اسکا مالک اسی کے گھر رشتہ لیکر جارہا تھا اپنا۔ ۔
اسد اپنےمالک کی خوشیوں کیلئے دل سے دعاء گوتھا۔ وہ ان میں سے تھا جو اپنے مالک کیلئے اپنی جان کی قربانی بھی دیدے۔ ۔
اورمیر حنید یہ محبت ڈزرو بھی کرتا تھا۔ ۔
"گولی نہیں مارو نگا سالے تجھے "۔۔
تیری پوری فوج کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر اپنا نام لکھوا کر دلہن بنا کر لاؤں گا اسے۔ ۔
ایسی نس دبائونگا تیری کہ چیخیں آسمان تک گونجینگی۔ ۔۔۔
وہ زید کو اپنے شعور میں مخاطب کرتے ہوئے بولا ۔
مجھ سے ہوشیاری کرنے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ ۔
ہاہاہا۔ ۔
اور تجھ جیسے گیس کے بھرے غباروں کی ہوا پھس کرنا تو میر حنید کا بچپن کا شوق ہے۔ ۔۔۔
سامنے استادہ اسد آنکھوں میں حیرانی لیے بس سر کو ہلا کے ہاں بول پایا تھا ۔۔
خیر۔ ۔۔
میں نے تمہیں جس جگہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بولا تھا کچھ رپورٹ ملی وہاں کی ؟۔۔
جی سر میں نے بہت ساری معلومات اکھٹی کر لی ہے ۔۔۔
آپ کاشک بالکل درست تھا اس کو ٹھےکو چلانے میں صرف اس عورت چندہ بائی کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ پوری چین ہے اور چندہ بائی کے اوپر کچھ خاص لوگوں کے ہاتھ ہیں ۔۔
جس کی وجہ سے ہم ایک دم سے کوئی ایکشن نہیں لے سکتے ۔۔
مجھے تم یہ بتاؤگے کہ میں کیا ایکشن لے سکتا ہوں اور کیا نہیں ۔۔
میں میر حسن سعدان کا بیٹا ہوں مجھے کوئی بھی کہیں بھی کچھ بھی کرنے سے روک نہیں سکتا ۔۔۔
ٹھیک ہے کتنی لڑکیاں اب تک کوٹھے سے بیچی جا چکی ہے بہار ممالک میں ؟؟
سر باہرممالک میں کوئی 146 کے قریب لڑکیاں بیچی گئی ہیں جبکہ اندرون ملک میں سے جمع کی گئی 81 لڑکیوں کے ساتھ کوٹھے کے اندر ہی زیادتی کی گئی ہے ۔۔
جن میں سے چند ایک حاملہ بھی تھیں ۔۔
میر حنیدکی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔
تفصیل جاننے کے بعد ۔۔
سر جی آگے کا حکم؟ ؟؟
آئی جی سے کہو سب کو ہلا کے رکھ دے ۔۔
مگر۔ ۔۔
گھمانے کا کام میں خود کروں گا ۔۔
میر حنید آنکھوں میں چمک اور برہمی لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جی سر بہتر۔ ۔
سامنے کھڑا شخص تعبداری سے گویا ہوا ۔ ۔۔
❤
وہ اور زید رات کے دس بجے ڈاکٹر سے بینڈیج کروانے کے بعد گھر لوٹے تھے واپس ۔
وہ دونوں گھرکے سیٹنگ ایریا میں داخل ہو ئے ہی تھے۔۔
جب د ادا سامنے سنگل صوفے پہ بیٹھے ریڈیو سنتے نظر آئے تھے۔۔
وہ ساتھ ساتھ اونگھ بھی رہے تھے۔۔
جبکہ دادی جا ئے نماز پہ بیٹھی عشاء کی نماز ادا کر کے دعاء مانگ رہی تھیں ۔۔۔
اسلام علیکم دادا ۔۔۔!
اسلام علیکم دادی۔۔۔ !
دونوں نے ساتھ سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام بچوں۔۔۔!
جیتے رہو خوش رہو اللہ تم لوگوں کی جوڑی سدا سلامت رکھے ۔۔
دادی نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو اپنے پاس بلا کے دم کیا اور دعا دی ۔۔
یہ کیا ہو گیا ہے زائد کے ہاتھ کو ؟؟
جبکہ دادا زید کے ہاتھ کو دیکھ کر ایک دم چونکے تھے۔ ۔
جو وہ دادی کی وجہ سے کمر کے پیچھے چھپایا ہوا تھا ۔۔
زید خاموش رہا اور دادا کے بالکل سامنے رکھے تھری سیٹر صوفے پر دراز ہو گیا ۔۔
جبکہ زمل دادی کی گود میں سر رکھے وہیں ڈھے سی گئی ۔۔۔
کچھ نہیں دادو بس زمل نے میرے ہاتھ پہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر دیا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر کیوں کہ میں زمل کو اسکے فیورٹ ریسٹورانٹ نہیں لے کر گیا تھا۔۔
زید چہرے پے بلا کی معصومیت طاری کئے دادا سے کہنے لگا۔۔
ہیں میں نے ؟؟؟
میں نے کبھی سب کیا تمہارے ساتھ؟؟؟
زمل آنکھوں میں حیرانی لیے زید سے استفسار کر رہی تھی ۔۔
چلو بہت ہوگیا مذاق اب بند کرو الٹی سیدھی ہانکنا اور سیدھے طریقے سے بتاؤ یہ کیا ہوا ہے یہ بینڈیج کیوں چھوڑی ہوئی ہے ہاتھ پہ ؟؟؟
دادی پریشانی سے پوچھ رہی تھیں ۔۔
دادی میں بتاتی ہوں اصل وجہ کہ یہ سب کیوں ہوا ہے ۔۔۔
وہ نجانے کیا بولنے کو تھی جب زید جلدی سے بولا ۔۔۔
زمل میں نے دادا کو جو سچ تھا وہ بتا دیا ہے ۔
وہ زمل کو آنکھیں دکھاکراور دانت پیستے ہوئے تنبیہی انداز میں کہنے لگا ۔۔
اسکی قینچی کی طرح چلتی زبان کو زید کی خطرناک گھوری نے ایک دم بریک لگائے تھے
سامنے کچن سے نکلتی حناء اور زارا کو بھی وہ آتا دیکھ چکی تھی ۔۔
ورنہ وہ دونوں دادا اور پوتی ایک دوسرے کے بیسٹ فرینڈ تھے اپنے دل کی ہر چھوٹی سے بڑی بات ایک دوسرے کے ساتھ بہت آرام سے ڈسکس کر لیا کرتے تھے ۔۔
تم نے مجھے دادو کو سب کچھ سچ سچ بتا نے کیوں نہیں دیا آخر ؟؟؟
زمل نے اس کو رات کے بارہ بجے آج ہوئے واقعے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو کر میسج کیا اور کہا کہ باہر لان میں آئو میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ہماری فیورٹ جگہ پہ۔ ۔۔
زمل خفا خفا سی پوچھ رہی تھی وہ دونوں لون میں لگے بڑے سے جھولے پر بیٹھے تھے جو بہت خوبصورت سندھی انداز میں بنا ہوا تھا۔۔۔
خاص آدم کی پسند تھا جو اس نے بہت پیار سے جورم کو ڈیرھ سال پہلے اس کی سولہویں سالگرہ پہ گفٹ کیا تھا ۔۔
اچھا تم مجھے خود ہی بتاؤ کہ آخردادا اور دادی کو بتا کر کیا فائدہ ہوتا ؟؟
وہ دونوں پریشان ہو جاتے اور اپنی اپنی طبیعت خراب کر بیٹھتے ہماری وجہ سے ۔۔۔
تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟؟
تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اطمینان رکھو اس بات کا کہ تمہارے شوہر کے زورِ بازو میں اتنی ہمت ضرور ہے کہ وہ تمہاری حفاظت کرسکے۔۔۔
مگر زید آپ نے دیکھا نہیں تھا وہ شخص کس قسم کی باتیں کر رہا تھا عجیب و غریب انداز میں اپنی اپنی سو کالڈ محبت کے دم بھر رہا تھا ۔۔۔
مجھے بہت خوف آ رہا تھا اس شخص کی باتوں سے ۔۔۔
دیکھو زمل میری بات سنو اپنے زہن سے ہر قسم کی پریشانی کو بالکل ہٹادو ریلکس ہو جاؤ تم ۔۔
وہ اس کے من موہنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کےپیالےمیں لےکر کہنے لگا ۔۔۔
یاد رکھنا میری ایک بات ہمیشہ ۔۔
"محبت کرنے کا دم تو ہر کوئی بھرسکتا ہے "۔
مگر میرے جیسی شدید انتہاؤں کو چھوتی محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے "۔۔
کیونکہ تم جیسی مقدس لڑکی ہر کسی کے پاس جو نہیں ہے ۔
وہ اسکے کان کے قریب جا کے بہت آہستہ سے بولا ۔۔
زمل کو اس کی نرم گرم سانسیں اپنی گردن پہ محسوس ہو رہی تھیں۔ ۔
زیدپلیز۔۔
اس طرح نہ کریں کوئی آجائے گا میں ویسے ہیں بہت پریشان ہوں ۔۔
وہ سٹپٹا کر بولی حیاء سے اس کے خوبصورت گلابی رخصار کچھ اور بھی حیاء کی لالی سے سرخ ہو چکے تھے ۔۔
یار تم تو بس زرہ بھی رومینٹک نہیں ہونے دیتیں بند ے کو اب تو ہمارا نکاح ہو چکا ہے یار تم میری شرعی بیوی ہو ۔۔
اتنا تو حق بنتا ہے نہ میرا ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
زیدپلیز تھوڑی دیر کے لئے سیرئیس ہوجاؤ۔۔
تمہیں پتا ہے یہ شخص کون تھا جس نے آج اس قدر بدتمیزی کی ہے ۔۔
ارے یار دفعہ کرو نہ اس شخص کو تم کیوں اس بدتمیز،بدکردار اور اخلاق سے عاری شخص کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کر رہی ہوں ؟؟؟
ذید وہ کوئی معمولی بندہ نہیں ہے بلکہ وہ میر حسن ۔۔
ملک کے مشہور سیاستدان کا اکلوتا بیٹا ہے جو ابھی کچھ دن پہلے ہی لندن سے واپس آیا ہے ۔۔
زمل کی بات سنکر زید بھی صحیح معنوں میں اب پریشان ہواٹھا تھا ۔۔
وہ بہت زیادہ ڈسٹرب تھی میر حنیدکی باتوں سے ۔۔۔
اور آج جب وہ سونے سے پہلے اپنے بیڈ پر لیٹی فیس بک چیک کر رہی تھی۔۔
تو اس میں زمل نے میر حنید کومیر حسن کے بازو کے حصار میں کھڑے دیکھا تھا اور نیچے تحریر رقم تھی کہ ۔۔
میر حسن کا اکلوتا بیٹا پندرہ سال بعد لندن سے ہمیشہ کے لئے اپنی اسٹیڈیز کمپلیٹ کر کے واپس آ گیا ہے اور اپنے باپ کی کرسی سنبھال چکا ہے ۔۔۔
یار تم پریشان نہ ہو میں اس سے خود ہی نمٹ لوں گا۔۔
ہوگا بڑے آدمی کا بیٹا اپنے گھر ۔۔
میری نظر میں تو اسکی کوئی اوقات ہی نہیں ہے دفعہ کرو اس کو ۔۔
مگر زید اگر اس نے واقعی جو کہا ہے اس پر عمل کرکے دکھایا تو ۔۔؟
زمل کی آنکھوں میں انجانا سا خوف ہچکولے لے رہا تھا ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا وہ بہت ہی فضول قسم کا شخص ہے ۔۔
وہ محض سب کی انٹینشن اپنی طرف کھینچنے کے لیے ایز اے تھرل یہ۔ سب کچھ کر رہا تھا ۔۔
اور ابھی تو تم نے بتایا کہ وہ ملک کے مشہور سیاستدان کا بیٹا ہے بس اسی لیے وہ اپنی ویلیو بڑھا رہا تھا اس کو کوئی پہچانتا تو ہے نہیں ہے ۔۔
وہ۔ زمل کو ہر صورت مطمئن کرنا چاہ رہا تھا مگر اندر سے وہ خود ہی صحیح معنوں میں پریشان ہو چکا تھا ۔۔
اس شخص کے انداز و اتوار خالی خولی بھرم والے نہیں لگ رہے تھے ۔۔
زیدنے چند ہی لمحوں میں ایک اٹل فیصلہ کیا تھا اور اب اس فیصلے سے بس اس نے صبح سب گھر کے بڑوں کو آگاہی فراہم کرنی تھی ۔۔۔
❤
اگلے دن گل رعنا فجر کے وقت ہی اٹھ گئی تھی وضو کر کے نماز ادا کرنے کے بعد آپنے اللہ کے سامنے اپنا ہر دکھ ہر درد بیان کر رہی تھی ۔۔
اے میرے پیارے اللہ میاں مجھ پر رحم کر دے۔۔ مجھے اس گناہوں کی دلدل میں دھنسنے سے بچا لے۔۔
اے میرے رب جس طرح تو نے میری اب تک اس عزت و آبرو کی حفاظت کی ہے آگے بھی مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھ ۔۔
مجھے کسی بھی نامحرم شخص کے سامنے بے پردہ ہونے سے بچا لے یا اللہ پاک مجھے ایک محفوظ سائباں عطا فرمادے میرے مالک ۔۔۔
وہ روروکے اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔۔
ابھی وہ دعا مانگ کے اٹھی ہی تھی جب ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندہ تھا ۔۔۔
اس نے ٹائم دیکھا گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی وہ آہستہ سے اٹھی اور بہت ہلکے سے دروازے کا لاک کھول کر ب باہر جھانکا ۔۔
حسام سامنے بڑے سے لاؤنج میں تھری سیٹر صوفے پے دراز بے ترتیب سا سو رہا تھا ۔۔۔
گل کو ایسا لگا جیسے اللہ نے اس کو ایک موقع فرا ہم کیا ہو خود کو محفوظ کرنے کا ۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی حسام تک پہنچی اور ٹیبل پر رکھی اس کی گاڑی کی چابی اور وولٹ اٹھا کر بہت آہستہ سے چلتی رہداری میں بنے دو راستوں میں سے اللہ کا نام لیکر ایک راستے پر چل پڑی تھی ۔۔۔
گاڑی کی چابی اس نے اس لیے لی تھی کہ اگر حسان جاگ جائے اور اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرے تو کچھ دیر تک وہ اس تک پہنچ نہ پائے ۔۔
اتنی دیر میں وہ اس جگہ سے بہت دور نکل چکی ہوگی اور حسان کی پہنچ سے بھی ۔۔۔
وہ کسی نہ کسی طرح سے آخرکار باہر تک پہنچ ہی گئی تھی ۔۔
بس اب اس کی آزادی کے بیچ میں ایک بڑا سا لوہے کا بنا مین گیٹ تھا۔ ۔
وہ راستہ صاف دیکھ کر مین گیٹ کو عبور کرنے ہی والی تھی خوشی سے یہ سوچ کر کہ چوکیدار بھی عدم موجود ہے ۔۔
اچانک اس کو اپنے پیچھے تھوڑا فاصلے پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔
❤
آج وہ پورے ایک ہفتے بعد یونیورسٹی آئی تھی مگر اس کی ہمت نہ تھی کے باہر کھڑی ہوکر اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھ لےتی۔۔
جبکہ اندر سے اس کا دل شرجیل کے ایک دیدار کے لئے مچل رہا تھا ۔۔
وہ بے دلی سے لیکچر سن رہی تھی ۔۔
مس حنا بتائے ابھی میں نے کیا کہا ہے تھوڑی دیر پہلے ؟؟
سامنے کھڑے سر آفتاب اس کی غیر دماغی کافی دیر سے نوٹس کر رہے تھے ۔۔
وہ سر میں ۔۔
مس حنا اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آپ کلاس اف کر سکتی ہیں ۔۔
تھینک یو سو ویری مچ سر۔ ۔۔
حنا خاموشی سے کلاس سے باہر نکل آئی اور چلتی چلتی جب تھک گئی تو قدرے سنسان جگہ تلاش کرکے وہاں کونے میں درختوں کے بیچ تھنڈی گھانس پر جا بیٹھی ۔۔
وہ درخت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی زہریلی سوچیں اس کے دماغ پہ قابض تھیں۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟
حنا نے جانی پہچانی آواز سن کر جھٹ جسے آنکھیں کھول دی تھیں۔ ۔۔
حنا کے بالکل سامنے کھڑا شرجیل اس کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
حنا اپنی محبت کو اتنا بالکل قریب ہاتھ بھر کے فاصلے پر دیکھ کر تم سی رہ گئی تھی ۔۔
❤
خالہ جانی میں آگیا۔ ۔۔
خالہ جانی کہاں ہے آپ؟؟؟۔۔
وہ بھاگ رہا تھا پورے گھر میں اپنی چہیتی خالہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
اب وہ سامنے بنے گول سے زینے چڑھ رہا تھا بھاگنے کے انداز میں ۔۔
بچاو ہنی میری مدد کرو ۔۔
مجھے بچا لو ہنی آو اپنی خالہ کے پاس جلدی۔۔۔
نہیں تو یہ مجھے مار دے گا ۔۔
اس کو سیڑھیوں پہ اپنی خالہ کی روتی چلاتی آواز گونجتی محسوس ہوئی ۔۔
زینا گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس سامنے ایک کمرہ تھا اس میں سے لال اور ہری روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔
وہ بھاگ بھاگ کر تھک گیا تھا مگر زینا تھا کہ ختم ہی نہیں ہوکے دے رہا تھا وہ ہانپ رہا تھا ۔۔
مگر پھر بھی خالہ جانی تک پہنچ نہیں پا رہا تھا ۔۔
آخرکار وہ خوفناک زینا ختم ہوا اور وہ ٹھیک بالکل اپنی خالہ کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔
میں آگیا خالہ جانی ۔۔
چھوڑ دو میری خالہ کو چھوڑ دو میں تمہیں مار دوں گا چھوڑ دو میری خالہ کو ۔۔
وہ زور زور سے اپنے تکیے پر سر پٹخ رہا تھا ۔۔
وہ بری طرح سے پسینے میں شرابور تھا ۔۔
وہ چیخ مار کے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔۔
میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا اگر وہ جہنم میں بھی ہو گا تو میں اس کو وہاں سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا ۔۔
وہ نیند سے جاگ چکا تھا اور اب خوف و ہراس کی جگہ انتقام نے لے لی تھی ۔۔
خالہ جانی میں آپ کو انصاف دے لا کر رہوں گا ۔۔۔
چاہے اس کے لئے مجھے اپنی جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے ۔۔
وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا ۔۔
💕
سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب حورم چائے پیتے ہوئے بولی ۔
ماما میں آج گھر لیٹ آونگی ونیورسٹی سے اپنی دوست کے ہاں جاؤں گی ۔۔
کونسی دوست کے گھر۔ ۔
حناکے پوچھنے سے پہلے ہی آدم پوچھ بیٹھا تھا ۔۔
ماتھے پہ چڑھی تیوریاں واضح تھی ۔۔
وہ مجھے اپنی دوست کی اسٹیڈی کرنے جانا ہے سارا کے گھر۔۔۔
حورم نہ چاہتے ہوئے بھی چھڑ کہ بولی ۔۔
وجہ ۔۔۔؟؟
میری پریزنٹیشن ہے اس کی وجہ سے مجھے جانا ہے ۔۔
حورم کے لہجے میں غصہ اور ناراضگی واضح تھی ۔۔۔
شام کو میں جلدی آ جاؤ گا 8 بجے ٹھیک میرے او سوری ہمارے کمرے میں آ جاؤ میں خود پریزنٹیشن کی تیاری کروائونگا۔۔
وہ ایک جگاتی ہوئی نظر وہاں بیٹھے سب نفوس پر ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
❤
جاری ہے۔ ۔۔
Wednesday, December 26, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment