🌹: itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 3
"ساجدہ ناشتہ تیار کر لیا"
ناعیمہ نے کچن میں آتے ہوئے پوچھا
"جی بیگم صاحبہ سب تیار ہے"
ساجدہ نے جواب دیا
"جلدی سے سب ٹیبل پر لاو خضر کے آنے سے پہلے اور یہ فریش جوس دیکھو اس میں بیج نکالو پتہ ہے نا خضر اور معاویہ دونوں کو ہی چڑ ہے، اگر کوئی بیج میں آ جائے تو دونوں ہی غصہ کرتے ہیں"
ناعیمہ نے ساری چیزوں کا جائزہ لے لیتے ہوئے کہا
اس کو ہر اس چیز پر نظر رکھنی پڑتی تھی جس سے معاویہ اور خضر کی ناپسندیدگی کے امکانات ہوں کوئی بھی بات ان دونوں باپ بیٹوں کے خلاف مزاج کے خلاف ہوجائے تو دو منٹ لگتے تھے موڈ خراب ہونے میں معاویہ تو چلو ماں کو کچھ نہیں کہتا تھا نوکرو دوسروں پر غصہ نکالتا تھا مگر خضر دیر نہیں لگاتا تھا اس کو بھی باتیں سنانے میں
ساجدہ نے ناشتے کے لوازمات ٹیبل پر سجائے اور خضر کمرے سے آتا ہوا دکھائی دیا ناعیمہ نے آنکھوں کے اشارے سے ساجدہ کو جانے کا کہا وہ گردن ہلا کر وہاں سے چلی گئی
گھر میں نوکر ہونے کے باوجود دونوں باپ بیٹوں کو عادت تھی کھانا انھیں ناعیمہ ہی سرو کرتی تھی
"ناشتہ ریڈی ہے" خضر نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
"جی ریڈی ہے میں دیتی ہوں آپ کو"
ناعیمہ خضر کے لیے جوس نکالتی ہوئی بولی
"جوس رہنے دو آملیٹ کی پلیٹ آگے کرو"
خضر نے ناعیمہ کو جوس گلاس میں نکالتے ہوئے دیکھ کر کہا
"جی"
ناعیمہ سعادت مندی سے آملیٹ خضر کی پلیٹ میں ڈالنے لگی
اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک بہت کیئرنگ بیوی ثابت ہوئی تھی جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتی تھی اور بڑی بڑی باتوں کو دل سے لگائے بغیر اگنور کر دیتی تھی جبھی آج تک خضر کا اس کے ساتھ گزارا ہو رہا تھا،، یقینا فاطمہ بیگم کا انتخاب خضر کے لیے بہتر ثابت ہوا تھا مگر وہ دل میں سوچتا بھی تو کبھی بھی اس بات کا اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھتا تھا۔۔۔۔ ناعیمہ ایک اچھی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی ماں بھی ثابت ہوئی تھی گھر میں کیا پرابلم ہیں، بچوں کی پڑھائی کے ایشوز ہر طرح کا مسئلہ اور گھر کی ذمہ داریاں اس نے اپنے سر پر اٹھائی ہوئی تھی، خضر صرف آفس میں ہی اپنے آپ کو مصروف رکھتا تھا وہ چاہ کر بھی کبھی بیوی اور بچوں کے قریب نہیں آسکا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے دونوں بچے بھی باپ سے دور تھے۔۔۔ صنم پھر بھی باپ کے رعب میں آکر آگے سے کچھ نہیں بولتی تھی وہ عادتوں میں اپنی ماں کی ہی کاپی تھی دوسری اللہ میاں کی گائے مگر معاویہ وہ اپنے باپ کے خلاف ہر وہ کام کرتا تھا جس سے اس کے باپ کو چڑ تھی یہی وجہ تھی دونوں باپ بیٹوں کی آپس میں بالکل بھی نہیں بنتی تھی ایک مشرق تھا تو دوسرا مغرب
"یہ آملیٹ میں نمک کتنا تیز ہے ٹیسٹ کرکے نہیں دیا تم نے"
خضر نے پلیٹ آگے سرکائی
"میں دوسرا بنوا دیتی ہوں بس پانچ منٹ لگیں گے"
ناعیمہ جلدی سے ناشتہ چھوڑ کر اٹھتے ہوئی بولی
"ضرورت نہیں ہے اس کی پورا دن آفس میں سر کھپا کر کے گھر آؤ تو دو وقت کا کھانا بھی سکون سے نہیں ملتا"
خضر کا موڈ اب خراب ہوچکا تھا
"اچھا آپ موڈ خراب نہ کریں یہ سینڈ ویچ لے لیجئے پلیز"
ناعیمہ نے منت کرتے ہوئے سینڈوچ کی پلیٹ خضر کے آگے رکھی۔۔۔خضر نے ناعیمہ کے اوپر احسان کرتے ہوئےایک سینڈوچ اٹھا کر اپنی پلیٹ میں ڈالا
"لاڈلا کہاں ہے تمہارا"
خضر نے بائٹ لیتے ہوئے معاویہ کا پوچھا
"گئیں تھی اس کو اٹھانے لیکن وہ تھوڑا لیٹ جائے گا بتا رہا تھا،، رات کو بھی کافی لیٹ آیا تھا"
ناعیمہ نے چائے کا سپ لیتے ہوئے خضر کو جواب دیا
"بس یہی تو کام ہے صاحبزادے کے آوارہ گردیاں کرنا رات کو دیر سے گھر آنا کچھ کہوں تو آگے سے بدتمیزی شروع باپ کی تو کوئی عزت ہی نہیں ہے" خضر کو اب دوسرا موضوع مل چکا تھا غصہ نکالنے کے لئے
"ایسی بات تو نہیں بولیں خضر معاویہ کہاں ہیں آج کل کے بچوں کی طرح۔۔۔ بس اس کی جاب ایسی ہے تو اس لیے لیٹ آتا ہے اور غصہ ذرا تیز ہے مگر آپکی تو عزت کرتا ہے"
وہ چاہ کر بھی یہ نہیں بول سکی کے غصے میں بھی تو آپ پر ہی گیا ہے
"صفائیاں مت دیا کرو مجھے اسکی،، عزت کرتا ہے وہ میری۔۔۔ پورے دن میں سب سے بڑا جوک ہوگا میرے لئے،، باپ کو تو وہ کسی خاطر میں نہیں لایا آج تک، ہر وہ کام کرکے اسے خوشی ہوتی ہے جس سے مجھے خار ہو۔۔۔۔ میں نے جس کالج میں اس کا ایڈمیشن کرایا اسے اس میں نہیں پڑنا تھا۔۔۔ میں نے کہا یہ سبجیکٹ رکھو تو اسے سی ایس ایس کرنا تھا۔۔۔۔ میں نے کہا اپنا بزنس جوائن کرو تو اسے پولیس کی نوکری کر نی تھی۔۔۔ وہ میری ہر بات کی نفی کرتا ہے اور تم کہہ رہی ہوں کہ میری عزت کرتا ہے"
خضر نہ دوبارہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھا اور آفس کے لئے نکل گیا ہے
یہ روز کا معمول تھا ہفتے میں ایک دفعہ ایسا ضرور ہوتا تھا ناعیمہ نے بے دلی سے چائے کا مگ نیچھے رکھا اب اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ ناشتہ کرے
****
"بابا میں روم میں آجاؤ"
حیا نے دروازے میں سے سر نکال کر جھانکتے ہوئے اجازت لی
"یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے آجاؤ" زین نے لیپ ٹاپ بند کرکے سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا
حور بھی وہی سائیڈ روم میں کپڑے آئرن کررہی تھی حیا اندر آئی
"کچھ امپورٹنٹ کام کررہے تھے آپ"
حیا نے زین کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
"میری بیٹی سے زیادہ کچھ امپورٹنڈ نہیں ہے میرے لئے" زین نے حیا کی شولڈر کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"بابا آپ کو پتہ ہے میری فرینڈ ہے نا آئیلہ ارے وہی جو تھوڑے دن پہلے ہمارے گھر بھی آئی تھی"
حیا نے زین کو یاد دلاتے ہوئے کہا
"اوکے آگے بولو"
وہ سمجھ گیا وہ کوئی فرمائش کرنے والی ہے اس لئے حور پر ایک نظر ڈال کر اس نے حیا سے بولا
"اس کے بابا نے اسے نیو کار دلائی ہے کالج میں آکر وہ اتنی شو مار رہی تھی کے کیا بتاؤں" حیا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
"میں نے بھی اس سے کہہ دیا کہ میرے بابا بھی مجھے نیو ماڈل کی کار دلانے کا کہہ رہے تھے"
وہ اپنے مطلب کی بات پر آکر بولی
"حیا ہوگئی تمھاری بات ختم۔۔۔ چلو جلدی سے اٹھو اور اپنے روم میں جاو صبح کالج کے لئے اٹھا نہیں جائے گا ورنہ"
حور وہ جو کافی دیر سے اس کی باتیں سن رہی تھی آخر میں بول اٹھی
"مما بابا سے بات تو کرنے دے مجھے آپ" حیا نے منہ بناتے ہوئے حور سے بولا
"تمہارے بابا کو بھی آفس جانا ہے روم میں جاؤ اپنے اور کوئی کار وار نہیں لے کر دے رہے تمہارے بابا"
حور نے سختی سے کہتے ہوئے استری کا پلگ نکال کر سوئچ اف کیا
"میں بات کر رہا ہوں نہ اس سے حور"
زین جو کافی دیر سے اس کی بات سن رہا تھا آخرکار بولو اٹھا
"اوکے بیٹا ہفتہ دس دن میں نہیں مگر آپ کی برتھ ڈے پر آپ کو کار ضرور ملے گی"
زین کے کہنے پر حور نے گھور کر زین کو دیکھا
"مگر بابا برتھ ڈے میں تو ابھی تین مہینے ہیں" حیا ہلکے سے منمنائی
"بیٹا ابھی تو آپ کو ڈرائیونگ بھی نہیں آتی ہے آپ کا لائسنز بھی نہیں بنا ہوا ہے پہلے آپ ہادی سے یا پھر کلاس لے کر ڈرائیونگ سیکھ لو اس کے بعد آپ کو کار مل جائے گی۔۔۔ چلو شاباش مما ٹھیک کہہ رہی ہیں صبح کالج جانا ہے اب جاکر سو جاو" زین نے پیار سے سمجھاتے ہوئے اسے کہا
"اوکے بابا گڈ نائیٹ گڈ نائٹ مما۔۔۔اب مما کو منالیں جلدی سے" اخری بات اس نے زین کے کان میں کہی ہے اور وہاں سے چلی گئی
وہ مسکراتا ہوا حور کے پاس آیا جو کہ کھڑکی کی طرف منہ کرکے کھڑی تھی زین نے قریب آکر حور کے شولڈر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے
"کیا ہوا ناراض ہو گئی"
وہ نرم لہجے میں حور سے پوچھ رہا تھا
"میری یا پھر میری کسی بات کی تو اب ویلیو ہی نہیں ہے شاہ"
حور نے منہ موڑے بغیر کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے اس سے کہا
"تمہاری ویلیو نہیں ہے تو اور اس کی ویلیو ہے"
زین نے حور کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے اس سے پوچھا
وہ آج بھی پہلے کی طرح تھی، بڑھتی ہوئی عمر نے بھی اس پر کوئی خاص فرق نہیں ڈالنا تھا تھوڑی سی بلکی ہو گئی تھی مگر اس کی پرسنیلٹی میں گریس آگیا تھا
"میں نے منع کیا تھا نا کہ یہ بات نہیں ماننا اس کی"
حور نے ناراض نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"یار تو میں نے کونسا ایگری کیا ہے تھری منت ہے ابھی برتھ ڈے میں اس کی اور تمہیں نیچر نہیں پتہ حیا کی کسی چیز کا ایک دم شوق چڑھتا ہے اور اس کے بعد بھول بھی جاتی ہے ابھی دیکھنا تین مہینوں کے بعد یاد بھی نہیں ہو گا اسے۔۔۔۔ ہر بات ڈانٹ ڈپٹ کے منوانے کی بجائے کبھی کبھی پیار سے بھی ہینڈل کرنا چاہے"
زین نے حور کو سمجھاتے ہوئے کہا
"بس ہوگئی تمھاری بیٹی مجھ سے ہینڈل۔۔۔ اسے تم ہی پیار سے ہینڈل کرسکتے ہو کوئی دوسرا اس دنیا میں پیدا نہیں ہو اسے ہینڈل کرنے والا" حور نے زین کو گھورتے ہوئے کہا اور زین نے مسکرا کر ہلکے سے حور کے سر پر اپنے سر ٹکرایا
****
"سر جی مجھے لگتا ہے بابر کو کچھ نہیں پتا ہے۔۔۔۔ وہ کوئی اتنا اندر کا بندہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم اس گروہ تک پہنچا جا سکے معمولی نوعیت کے کام کرواتے ہونگے اس سے، ورنہ اتنی مار کھانے کے بعد سب کچھ اگل ہی دیتا"
معاویہ کیس ریڈ کر رہا تھا تو انسپکٹر ساتھ نے اسے آکر کہا
"ٹھیک ہے اسے رہا کر دو مگر کسی دوسرے بندے سے تھوڑے دن تک اس پر نظر رکھواو وہ کہا جاتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کس سے بات کرتا ہے اور کس سے ملتا ہے"
معاویہ نے ایک نظر انسپکٹر سعد پر ڈالتے ہوئے کہا
"اوکے میں اقبال سے کہتا ہوں اس پر خفیہ طور پر نظر رکھے اور سر جی یہ ارسل صاحب آئے تھے کافی دیر آپ کا انتظار کیا اپنی شادی کا کارڈ آپ کو دے گئے ہیں وہ کہہ رہے تھے معاویہ سے خود فون پر بات کرلوں گا"
انسپیکر سعد نے شادی کا کارڈ معاویہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
معاویہ نے فائل بند کر کے کارڈ تھاما اور سگریٹ چلاتے ہوئے کارڈ دیکھنے لگا جب سے وہ پاکستان شفٹ ہوا تھا تب سے ارسل سے اسکی کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی
****
صنم یونیورسٹی پہنچی تو اسے فریحہ کا میسج موصول ہوا کہ وہ آج یونیورسٹی نہیں آئے گی جسے پڑھ کر وہ جی بھر کر بیزار ہوئی
"اف پہلے ہی بتا دیتی ہے فریحہ تو میں بھی نہیں آتی اب اتنا وقت اکیلے کیسے گزاروں گی"
لے دے کر ایک ہی اسکی دوست یونیورسٹی میں بنی تھی اور اس دوستی میں بھی زیادہ تر ہاتھ فریحہ کا تھا وہ اپنی ریزرو نیچر کی وجہ سے زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی،، کلاس اٹینڈ کرنے کی نیت سے جب وہ جو آنے لگی تو اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی
"میرے محبوب میرے صنم شکریہ مہربانی کرم"
صنم کو ساحر کی آواز سن کر مزید کوفت کا سامنا کرنا پڑا وہ صبح صبح اس لنگور کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ پہلے وہ اس کو صرف اتے جاتے گھورتا تھا پھر اس کو دیکھ کر اس کے ڈپارٹمنٹ تک آنے لگا تھا اور اب وہ فضول قسم کی شاعری گانے اور جملے کسنے لگا تھا اور صنم پہلے دن سے اس کی ساری حرکتیں اکنور کر رہی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ دن بدن اس کی جراتیں بڑھتی جا رہی تھی
"ہیلو مسں صنم"
آج صنم کو اکیلا دیکھ کر اس نے بات کرنے کی ٹھانی مگر صنم اس کو ہمیشہ کی طرح نظرانداز کرکے جانے لگی
"صنم او صنم مسکرا"
وہ سات چلتے چلتے اچانک سے اس کے سامنے آکر بولا۔۔۔ تو صنم کو اپنے قدموں پر بریک لگانا پڑا
"آپ میں ذرا تمیز شرم لحاظ نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیوں پریشان کرے جا رہے ہیں"
صنم نے آج ساحر کو اسکا راستہ روکنے پر ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو سنائیں
"ارے واہ بھئی مس صنم تو بولتی بھی ہیں"
اس نے حیرت زدہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
"دیکھیں اگر آپ نے مجھے تنگ کرنے کی کوشش کری تو"
صنم نے اس کو دھمکانا چاہا
"نو نو دھمکی نہیں مس صنم یہ کافی مہنگی پڑ سکتی ہے آپ کو"
ساحر نے دو قدم آگے بڑھ کر کہا
جاری ہے
Wednesday, December 26, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment