Tuesday, December 25, 2018

itni mohbbat karo na (season 2) episode 2

🌹: Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 2

"تو نے ماری انٹری اور دل میں بجی گھنٹیاں ٹن ٹن ٹن"
برابر والی کار میں تیز آواز میں گانا بج رہا تھا معاویہ نے کار پارک کرتے ہوئے ناپسندہ نگاہوں سے اس کار کو دیکھا

"کیا ہوگیا سر جی کوئی پرابلم ہے"
انسپیکٹر سعد نے معاویہ سے پوچھا

"آج کل لوگوں کو پتہ نہیں کیا ہوتا جا رہا ہے گانا خود نہیں سن رہے ہوتے پورے شہر کو سنانا رہے ہوتے ہیں اور گانے کی شاعری دیکھو ذرا کسی کی اینٹری پہ دل میں گھنٹی کیسے بج سکتی ہے بیوقوف آدمی ہے جس نے یہ گانا بنایا ہے"
معاویہ نے اپنا اظہار خیال پیش کیا

"دفعہ کریں سر جی آئے اندر چلتے ہیں"
انسپیکٹر سعد نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا

وہ بھی دروازہ کھول کر گاڑی سے اترا دونوں ہی سول ڈریس میں بابر کے بیان کے مطابق مطلوبہ شخص کو ڈھونڈنے یہاں پر آئے تھے ابھی وہ مال کے اندر جا رہے تھے کہ سامنے سے ایک لڑکی چلتی ہوئی نظر آئی وہ مبہوت سا ہو کر اس کو دیکھے گیا۔۔۔
پری لوٹز اور کرتے میں اونچی پونی ٹیل باندھے ہوئے ہاتھوں میں ڈھیر سارے شوپرز پکڑے ہوئے موبائل کو شولڈر کی مدد سے پکڑ کر اپنی باتوں میں مگن، دنیا جہاں کو بھلائے ہوئے وہ سامنے سے چلی آ رہی تھی۔۔۔۔ اسے انسپیکٹر سعد کی آواز نہیں آرہی تھی بلکہ اس کے آس پاس گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی تھیں۔ بلاشبہ وہ بہت حسین تھی یہ نہیں تھا کہ وہ حسن پرست تھا، یہ اس سے پہلے اس نے حسن نہیں دیکھا تھا وہ جہاں سے آیا تھا وہاں اس سے بھی کہیں زیادہ حسین چہرے تھے،، مگر اس لڑکی میں کچھ عجیب سی کشش تھی جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔۔۔۔ وہ اسی طرح گم سم چلتا ہوا اس لڑکی کو دیکھے جا رہا تھا جو مسلسل باتوں میں مصروف اس کے قریب آتی جا رہی تھی اور اس کی دھڑکنیں بڑھاتی جارہی تھی، وہ بے پروا سا حسن اسے بہت اٹریکٹ کیا

"اف کون ہے یہ اندھا"
بری طرح ٹکرانے پر ساری شاپنک بیگز نیچے گرچکے تھے تو معاویہ بھی ہوش کی دنیا میں واپس آیا اب گھنٹیاں بجنا بند ہوگئی تھی

"او مسٹر تمہارے پاس آنکھیں موجود ہیں کہ نہیں اندھے ہو کیا دیکھ کر نہیں چلا جاتا میرے سارے شاپنک بیگز گرا دیے اور موبائل بھی ایڈیٹ کہیں کے" 
وہ مسلسل اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ دیکھ رہا تھا

"میں تم سے بکواس کررہی ہوں کچھ سنائی دے رہا ہے یا آندھے کے ساتھ ساتھ بہرے اور گونگے بھی ہو تم"
حیا نے اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے کہا

"اچھا لگ رہا ہے تمہارا اس طرح بکواس کرنا، جاری رکھو میں سن رہا ہوں"
وہ دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے ہوئے دلچسپ نظروں سے حیا کا چہرہ دیکھ رہا تھا

"میڈم دیکھیے غلطی آپ کی بھی تھی اپ کو بھی سامنے دیکھ کر چلنا چاہیے تھا"
انسپیکٹر سعد نے لڑکی کے ہاتھوں سر جی کی عزت افزائی ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا

"شٹ اپ تم سے کس نے کہا بیچ میں بولنے کو،، میں اس ڈنگر سے بات کر رہی ہوں"
حیا نے سعد کو چپ کراتے ہوئے لمبے چوڑے ورزشی جسم سے والے انسان کو گھورتے ہوئے کہا جو مسلسل اسے دیکھنے میں مصروف تھا

"آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کیا دیکھ رہے ہوں چلو یہ سارے شاپنک بیگز اور میرا موبائل اٹھا کر دو"
حیا کو سامنے کھڑے ہوئے شخص پر جی بھر کر غصہ آراہا تھا

"تم مجھ سے شاپنک بیگز اٹھانے کا کہہ رہی ہوں انٹرسٹنگ"
معاویہ اس کی غصے میں لال ہوتی ہوئی ناک دیکھ کر مسکرایا غصے میں اور بھی زیادہ دلچسپ لگ رہی تھی

"شاپنک بیگز تو اب تمھارے اچھے بھی اٹھائیں گے تم ہو کیا چیز"
یہ کہتے ہوئے حیا نے اس کا کالر پکڑا مگر کالر پکڑنے کی دیر تھی معاویہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، حیا کے ہاتھ پر اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ تڑپ اٹھی

"چھوڑو میرا ہاتھ"
اب حیا کی سٹی گم ہو گئی تھی اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی ہادی کو دیکھا جو اسے کہیں نظر نہیں آرہا تھا

"اتنی آسانی سے تو بالکل نہیں چھوڑنے والا کیوکہ آج زندگی میں پہلی بار میرے کالر کو کسی نے پکڑنے کی ہمت کی ہے اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں ہوں کیا چیز"
جھٹکے سے معاویہ نے حیا کا ہاتھ کھینچا تو وہ اس کے سینے سے ٹکرائی اس کی آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی دیکھ کر حیا ایک پل کے لئے سہم گئی 

"سر جی جانے دیں اور میڈم یہ لیں آپ کے سارے شوپرز میں نے اٹھا دئیے"
پاس سے گزرنے والے لوگ یہ منظر دیکھ کر رکھنے لگے تو انسپکٹر سعد نے فورا شاپرز اٹھا کر بات کو سنبھالا۔۔۔ سعد کی آواز پر معاویہ نے بہت نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور واپس اپنی پاکٹ میں ڈال لیا،، حیا جلدی سے پیچھے ہوئی اور سعد سے اپنے شاپرز لینے لگی

"کہاں رہ گئی تھی تم حیا میں پورے مال میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں یار"
ہادی مزید شاپر تھامے ہوئے حیا کے قریب آ کر بولا اور سامنے دو آدمیوں کو کھڑا دیکھ کر حیا کو دیکھا

"کیا ہوا تم ٹھیک ہو"
ہادی نے ایک نظر حیا کہ چہرے کو دیکھا جو گھبرایا ہوا تھا اور پھر ان دونوں کو

"ہاں چلو چلتے ہیں" حیا نے ہادی کو دیکھ کر کہا اور گاڑی کی طرف چل پڑی ہادی بھی ان دونوں پر ایک نظر ڈال کر اس کے پیچھے چل دیا

معاویہ نے ان دونوں کو دور جاتا ہوا دیکھا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ گاڑی گیٹ سے باہر نہیں نکل گئی

"حیا"
معاویہ نے زیر لب اس کا نام دوہرایا

"سرجی چلی گئی"  اسپیکٹر سعد کی آواز پر اس نے سعد کو گھور کر دیکھا

"وہ جی میرا مطلب ہے گاڑی چلی گئی" انسپیکٹر سعد نے اس کے گھورنے پر گلا کھنگارتے ہوئے بولا

****

"کون تھا وہ اور کیا کہہ رہا تھا"
ہادی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیا سے پوچھا

"کون کس کی بات کر رہے ہو تم"
حیا نے غائب دماغی سے اپنی کلائی کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ارے وہی جو پارکنگ ایریا میں کھڑا تھا یار"
ہادی نہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"کچھ نہیں شاپنگ بیگز گر گئے تھے وہی اٹھا کے دے رہا تھا"
حیا نے سر جھٹکتے ہوئے کہا

"ہمیشہ کی طرح  اس کی ہی غلطی ہوگی، وہی دیکھ کر نہیں چل رہا ہوگا اور وہی تم سے ٹکرایا ہوگا"
ہادی نے ڈرائیونگ  کرتے ہوئے معصومانہ انداز میں حیا کو کہا

"تو تم کیا کہنا چاہتے ہو، میری غلطی تھی، میں دیکھ کر نہیں چل رہی تھی میں اس سے ٹکرائی"
حیا نے تپ کر کہا

"میری مجال ہے جو میں تمہارے بارے میں ایسا کہو گا"
ہادی نے مسکرا کر کہا   

"اور یہ تم رہ کہاں گئے تھے"
حیا نے اس کو گھورتے ہوئے کہا

"ماشاءاللہ میڈم غائب آپ مال سے ہوگئی تھی اور الزام میرے سر پر واہ" ہادی نے حیا سے کہا  وہ کچھ بھی نہیں بولی

"اچھا چھوڑو یہ بتاؤ ڈنر کہاں کرنا ہے"
ہادی نے حیا کو  ہوئے دیکھ کر پوچھا

"نہیں اب ہمہیں گھر چلنا چاہیے"
حیا نے اپنی کلائی پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا

"اوئے ناراض ہونے کی نہیں ہورہی"
ہادی نے اس کو چپ دیکھ کر کہا

"نہیں میں بالکل ناراض نہیں ہوں موڈ نہیں ہورہا ڈنر کا"
حیا نے ان دو سنجیدہ آنکھوں کو سوچ کر کہا

"یہ میرے کان کیا سن رہے ہیں چٹکی کاٹو کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں"
ہادی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے حیا اسے بولا

"کیا بےتکہ بولے جارہے ہو تم ہادی" حیا نے جھنجلا کر کہا

"یار تم اتنی آسانی سے بغیر ٹیپا کرائے ہوئے مجھے بخش رہی ہوں اس لئے مجھے بالکل یقین نہیں آرہا ہے۔۔۔ ابھی تو میں نے سوچا تھا ڈنر کے بعد شاید کوئی مووی دیکھنے کا ارادہ ہو یا لونگ ڈرائیو کا"
ہادی نے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا

"تو بس خوش ہو جاؤ تمہاری جان سستے میں چھوٹ رہی ہے تم نے تو مجھے بلاوجہ میں ظالم سمجھا ہوا ہے"
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا

"خیر ظالم تو تم ہو اور کتنی ہو یہ تمہیں خود بھی نہیں پتہ"
ہادی نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے اسے کہا حیا نے چونک کر اس کو دیکھا پھر سر جھٹک کر باہر دیکھنے لگی

****

"حیا کہاں تھی تم اب گھر آرہی ہو ٹائم دیکھا ہے کیا ہو رہا ہے اور موبائل کیوں اف تھا تمہارا"
حیا شاپنک بیگز اٹھاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی تو حور نے اس کے آتے ہی سوالات پوچھے

"مما بتایا تو وہ آپ کو ہادی کے ساتھ شاپنک کرنے گئی تھی اور موبائل شاید گرنے کی وجہ سے آف ہوگیا تھا" حیا نے صوفے پر شاپنگ بیگز رکھے اور خود بھی گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی

"آگیا میرا بیٹا"
زین نے روم میں آکر حیا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

"جی بابا یہ دیکھئے ہادی نے کتنی ساری شاپنک کرائی ہے مجھے"
حیا زین کو دیکھ کر چہک کر بولی

"اس نے خود کروائی ہے یا تم نے اس کے پیسوں سے کری ہے بہت بری بات ہے، کب عقل آئے گی تمہیں"
حور نے حیا کو ڈانٹتے ہوئے کہا

"یار تم بھی اس کے آتے ہی شروع ہوگئی ہو،  سانس تو لینے دو اسے اور ہادی کونسا غیر ہے اپنا ہی بچہ ہے۔۔۔ اگر کرا دی شاپنگ تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے"
زین نے حور کی بات پر حیا کو منہ لٹکتا ہوا دیکھا تو فورا بولا

"بس شروع ہوگئے شاہ تم اس کی سائڈ لینا،،، یہ نہیں کہ غلط بات پر اس کو سمجھاو بلکہ الٹا مجھے ٹوک رہے ہو" حور نے زین کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا

"اچھا ابھی کھانا کھلانے کا ارادہ ہے یا پھر باتیں ہیں سناتی رہوں گی" زین نے اس کے غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا

"ٹیبل پر آو دونوں" حور زین کو گھورتے ہوئے وہاں سے چلی گئی

"بابا مما آپ سے ناراض ہو گئیں"
حیا نے صوفے سے اٹھتے ہوئے زین سے کہا

"کوئی بات نہیں تمہاری مما کو منانا 2 منٹ کا کام ہے" زین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

"وہ تو مجھے یقین ہے مگر آپ دو منٹ زیادہ بول رہے ہیں،، آپ ایک منٹ میں مما کو پٹا لیں گے" حیا نے مسکراتے ہوئے کہا ذہن بھی اس کی بات پر ہنس دیا اور اس کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھ کر کھانے کی ٹیبل پر چلا گیا

****

"آگئے برخوردار" ہادی گھر آیا تو بلال نے پوچھا

"جی ابھی حیا کو گھر ڈراپ کر کے آیا ہوں کیا آپ لوگوں نے کھانا کھا لیا"  صوفے پر بیٹھتے ہوئے ہادی نے بلال سے پوچھا

"ہم تینوں کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہیں"
بلال نے جواب دیا 

"مما کہاں ہیں نظر نہیں آرہی"
ہادی نے چاروں طرف نظر دوڑا کر حال کا جائزہ لیتے ہوئے بلال سے پوچھا 

بیڈروم میں ہے تمہاری تانیہ پھوپھو کی کال آئی تھی اسی سے بات کر رہی ہے"

"گریٹ کب تک ارادہ ہے تانیہ پھوپھو کا پاکستان آنے کا"
ہادی کو اپنی تانیہ پھوپھو بہت پسند تھی جوکہ شادی کے چند سال بعد اپنی ساس کے انتقال کے بعد اپنے شوہر اشعر کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہوگئی تھی جہاں پہلے سے ہی اشعر کے بھائی سیٹل تھے

ابھی اتنی جلدی تو ارادہ نہیں ہے چار ماہ پہلے ہی بچوں اور شوہر کے ساتھ آئی تھی"

"حیا کو گھر چھوڑ دیا" فضا نے روم میں آتے ہوئے ہادی سے پوچھا

"جی اسے گھر ڈراپ کرکے ہی آ رہا ہوں آپ فری ہیں تو مجھے کھانا دے دیں تھوڑی دیر میں آتا ہوں"
ہادی نے فضاء سے کہا

کیوں حیا تو کہہ رہی تھی باہر ڈنر کا پروگرام تھا تم دونوں کا"
 فضا نے ہادی سے پوچھا

"ہاں تھا تو لیکن پھر حیا کا موڈ نہیں ہوا تو میں نے بھی فورس نہیں کیا ویسے بھی یہ لڑکی بہت تھکا دیتی ہے ہادی نے مسکرا کر کہا فضا بھی اس کی بات پر مسکرا دی

 ****

معاویہ گھر پہنچا اپنے روم میں آیا، بابر کے بیان کے مطابق جس بندے کو ڈھونڈنے وہ لوگ آج گئے تھے، کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اسے یقین تھا کوئی نہ کوئی سراغ مل ہی جائے گا وہ ان لوگوں تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔ ایک ڈھیر مہینہ ہوگیا تھا مختلف جگہوں کالج اور ہوسٹلز سے لڑکیاں غائب ہورہی تھی اور پھر ان کی کوئی خبر نہیں ملتی کچھ ماں باپ بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے تھے اور جو رپورٹ کرواتے بھی تو کوئی ثبوت نہیں ہونے کی بنا پر کچھ ہاتھ نہیں آتا،، تھک ہار کر وہ صبر کر کے بیٹھ جاتے تھے مگر جیسے ہی غائب ہونے والی لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی، معاویہ کے اندر اس کیس کو لے کر تجسس جاگا اس نے اس کے اس میں دلچسپی لینا شروع کردی اس کی عادت تھی کسی چیز کے پیچھے ایک دفعہ پڑھ جائے تو اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتا تھا۔۔۔۔

اس نے شرٹ اتار کر بیڈ کر پھینکی اور گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹا، خود کو ریلیکس کرنے کے لئے آنکھیں جیسے ہی بند کی ایک فلیش لائٹ سی چمکی اور آنکھوں کے آگے اس کا چہرہ آ گیا ساتھ ہی معاویہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی، اگر کوئی اس کو یوں مسکراتا ہوا دیکھ لیں تو یقینا شک و شبہات میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہتا ایک تو وہ بچپن سے ہی سنجیدہ تھا دوسرا اس کی نیچر او جاب نے اسے سنجیدہ بنا دیا تھا۔۔۔۔ جب اس نے یہ لائن جوائن کی تو وہ مجرموں پر کسی عذاب کی طرح مسلط ہو گیا تھا، مجرم اس کے تشدد کے آگے اپنے آگے پیچھے کے گناہ قبول کرلیتے،،، مجرم تو مجرم بہت سے پولیس والے بھی اس کی طبیعت کے خلاف کوئی کام کرتے ہوئے ڈرتے تھے

اس نے ایک دفعہ پھر آنکھیں بند کیں تو ایک بار اس کی آنکھوں کے سامنے اس پری کا عکس لہرایا

"تو مس حیا اب تم مجھے ایسے ڈسٹرب کرو گی،  اگر مجھے پتا ہوتا کہ تمہارا چہرہ میرے دماغ سے چپک جائے گا تو تمھارے گھر تک ضرور پہنچتا۔۔ لیکن تقدیر نے اگر تمہیں میرا بنانا ہے کبھی نہ کبھی تم دوبارہ میرے سامنے آؤگی اور مجھے لگ رہا ہے ایسا ضرور ہوگا"
اس نے مسکراتے ہوئے سوچا اور آنکھیں بند کرلیں

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment