Muhabbat barsadenq tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 5
اگلے دو دن تک وہ یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو چکا تھا ...
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شرجیل کا جوا خانے سے آخر کیا تعلق ہے ۔۔؟؟
وہ ایک سمجهدار لڑکئ تهی اور یہ بات تو روشن هے کہ جوئے خانے میں کسی کا کیا کام ہو سکتا هے؟؟
لیکن نہیں۔۔۔
یهاں ایک سمجهدار لڑکی کا پالا محبت سے پڑا تها
اور محبت میں کہاں سمجهداری مداخلت کی زحمت کر سکتی هے بھلا؟؟----
معین کیوں اسے لے کر گیا تھا آج اس کو اس مکروہ جگہ پہ آخر؟؟؟
ایک اور سوال ذہین میں انگڑائ لینے لگا---
معین کی کماش کو تو وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی وہ ایک انتہائی آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔---
-
سب کی برائ برائ هی ہوتی هے۔۔
سواے محبوب کہ -----
مگر شرجیل جیسا ڈیسینٹ شخص ؟؟؟ ۔۔۔
محبوب پاک هے معشوق کی نظر میں همیشہ بیشق----
حنا شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے بیمار پڑ گئی تھی وہ کسی بھی فیصلے پر نہیں پہنچ پارہی تھی۔۔۔
محبت اس کو شرجیل کو ہر الزام سے با عزت بری کرنے کا پابند کررہی تھی۔۔
اور پھر آخر کار وہ ایک فیصلہ کرچکی تھی دل و دماغ کی جنگ میں دل جیت چکا تھا ۔۔۔
اور محبت تو محبوب کو کم تر سمجهنے کی گستاخی کرنے هی نہیں دیتی....
اسی کا نام محبت جو ٹہرا۔ ۔۔
❤
تم نے مجھے تھپڑ مارا تمہاری اتنی مجال ۔۔
کسی شیر کی طرح وہ اس پر دهاڑا تھا ۔۔
گل رعنا اپنی کم عقلی میں آ کر ایک مرد کی انا و نام نیہاد غیرت کو جیلا بخش چکی تهی---
گل رعنا اس کی آنکه میں خون اترتے دیکه کے ایک دم خوف کے زیرے اثر وہیں جم سی گئ ۔۔
جبکہ حسام اپنے غصے کو کمرے میں موجود ہر چیز کو تیهس نیهس کر رها تها---
اس کی توجہ اپنی طرف نہ پا کہ گل رعنا بهاگتی ہوئی لاونج تک گئی ۔۔۔
آگے کہاں جانا هے وہ اسی سوچ میں ہی تهی ---
دو راہ داریاں ایک ساتھ بناِئی گئ تھی عجب بھول بھلیا سا گھر ایسا لگ رہا تھا جیسے پرانے وقتوں کا ویران سا گھر جہاں ہر سو سناٹے کا راج تھا۔ ۔
مگر گل رعنا کسی بھی خوف کو خود پہ ہاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔
ادکے سر پہ تو بس ایک دھن سی سوار تھی۔ ۔۔
وہ جلد اس جلد اس وحشی درندے سے دور ہونا چاہرہی تھی۔ ۔
حسام اپنا غصہ ڈریسنگ کے شیشہ پہ نکال کر جوں ہی مڑا کمرہ خالی دیکه کہ ایک دم باهر کا رخ کیا --
-
ابهی وہ باهر کا راستہ ڈهونڈ ہی رہئ تهی جب اسے لاونج کی طرف آتے حسام کےقدموں کی آواز سنائی دی--
گل رعنا کے هاته پاوں پهول گئے وہ ابهی اپنے بچاو کی کوئی راہ کوئی ترقیب ہی سوچ رہئ تهی۔۔
راہ نجات کا را ستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ تھکنے کو تزھی ہمت ہسرنے کو تھی ۔۔۔
کہ اچانک اسکی بھٹکتی ہوئی نظر واز پہ پڑی جو ساته ہی ٹیبل پر رکھا تها ۔۔
ایک دم برقی روح سی اسکے اندر سماء گئی ۔۔۔
اس نے لپک کے گلدان اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا ۔۔۔
گویا جیسے یہ اسکا قیمتی ہتھیار ہو۔ ۔
دیکھو اگر تم میرے قریب بھی آئے تو میں یہ یہ یہ..
. تمہارے سر پہ مار دوں گی ۔۔۔
گل رعنا نے کهڑے کهڑے واز کا کار آمد استمال سوچلیا تھا ....
حسام اس کو لاونج مئں دیکه کہ پر سکون هو گیا ۔۔
وه ابهی بهی اس کی تحویل میں تهی---
تم اگر ایسا کرنا چاہتی ہوں تو میں قریب آرہا ہوں اپنا یہ شوق بخوشی پوری کرلو ۔۔۔
وہ بے خوفی سے کہتا اس تک آیا تھا ۔
ٹھیک ہے تمہیں میرے وجود سے اپنی حاجت پوری کرنی ہے نا؟؟؟
تو کر لو مگر اس کے لئے پہلے تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہو گا ۔۔
اپنے آپ کو هر طرح سے حسام کی قید میں مقید کسی بے زبان پرندے کی مانند دیکه کہ اس نے بیچ کی راه نکالی --
مگر اسکا دل۔۔
دماغ کا ساتھ دینے سے انکاری تھا۔ ۔
وہ کبھی بھی حسام جیسے اوباش مرد کے ساتھ زندگی گزارنا تو دور کی بات ۔۔
اسکو حسام کی پرچھائی بھی گوارہ نہ تھی۔ ۔۔
پھر بھی دل پہ بھاری سل رکھ کے گویا ہوئی۔ ۔۔
اس کے بعد جتنی دفعہ تمہارا دل کرے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کر دینا اور جب میرے وجود سے دل بھر جائے تو مجھے بے شک آزاد کر دینا---
وہ بے بسی کی انتہا پہ تهی بس اپنے ضمیر کی مار سے بچنے کیلئے حل نکانے لگی ---
❤
آدم بھائی آپ؟؟
حورم حیران سی آدم کو دروازے کا لاک کرتے دیکھ رہی تھی کیوں راحم ہونا چاہیے تھا یہاں میری جگہ پر ۔؟؟؟
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟؟؟
میں سمجھ نہیں پا رہی ۔۔
، پلیز مجھے باہر جانا ہے ۔۔
اس نے ایک ساته دونوں باتوں سے آدم کو آگاہ کیا---
تم مجھے سمجھ نہیں پا رہی۔۔؟
مجھے جسکے ساتھ تم 11سال ایک کمرے میں رہی ہو ۔۔۔
آدم نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ ۔۔
اور ایک آئی برو اٹها کے مصنوعئ حیرانگی سے پوچها ۔
خوبصورتی سے تراشی گئ مونچھوں کے ۔ نیچے ضپط سے بھینچے ہوئے ہونٹ ۔۔۔
چہرے پر طاری بلا کی سختی ۔۔۔
وہ پہلے ہی آدم سے بہت خوفزدہ رہتی تھی اس پر تضاد اس کی باتیں ، تنہائی اور ایک دفعہ پھر ایک ہی کمرہ ۔۔۔۔
اسکو پہلے کبھی بھی اس سے اتنا جوف محسوس نہیں ہوا تھا۔
جتنا آج آدم کے چہرے پہ موجود برہمی دیکھ کہ ہورہا تھا۔ ۔۔
یہ جو رسی کی طرح گلے میں دوپٹہ لٹکایا ہوا هے نہ آج کے بعد میں تمہیں اس طرح خود سے بے پروا نہ دیکھوں خود سے اور اس دوپٹے سے ۔۔۔
ترتیب سے دوپٹہ لیا کرو اور دوسری بات میری کان کھول کر سن لو میں تمهیں راحم کے ساتھ بے تکلف نہ ہوتے دیکھوں ۔۔
مگر آدم بھائی ۔۔
وہ تو میرے منگیتر ہے یہی کہنے والے تهی نا تم ؟؟؟ ۔
حورم حیران سی آدم کو آنکھیں پهاڑھے دیکھنے لگی کہ وہ واقعی وہ یہی بولنے والی تھی ۔۔۔۔
میں تمہاری ہر اس بات کو جانتا ہوں جو تم سوچ رہی ہوتی ہو ۔۔۔
تمہاری ہر سوچ جہاں ختم ہوتی وہاں سے میرء سوچ آغازکرتی هے ۔۔۔
آدم اس کی سوچوں پہ اپنی دسترس فائز ہونے کو جتلاتے ہوئے گویا هوا---
اس کی نیلی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی ۔۔
وہ ہاتھ بڑھا کر اس کی گردن میں رسی بنا دوپٹہ لینے کے لئے بڑا ہی تھا ۔۔۔
حب کہ حورم سراسیمہ سی ہوکر بولی۔ ۔۔
آدم بھائی پلیز ۔۔
جبکہ حورم نے خوف سے آنکھیں ہی بند کرلیں ۔
آدم کے هونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک ابهری اورلمحوں میں غائب ہو چکی تھی ۔۔
آدم نے اس کا دوپٹہ کھول کر اس کے دونوں شانوں پر پھیلا کے اڑایا ۔۔
اگر تم اس وقت۔۔۔
اس طرح ڈوپٹہ کیری کرتیں تو میں تمہیں بتاتا تھا صحیح طریقے سے ۔۔۔۔
خیر دسترس سے تم اب بھی میری دور نہیں ہوں ۔۔۔
وہ حورم کو خوف سے کانپتا دیکھ کر کافی محضوض ہوا تھا ۔۔
جاو ۔۔۔۔۔
حورم نے جھٹ آنکھیں کھول کر آدم کو دیکھا ۔۔
اور پھر اپنے ڈھکے ہوئے سرابے پر نظر ڈالیں ۔
اور اب یہ حیرانی سے منہ بند کرو اور آئیندہ کیلئے جو کہا ہےاس پر عمل کرنا ۔
۔۔
اس کی تیز لہجے میں واضح پھنکار تھی۔ ۔،حورم کانپت۔ک بہار جاچکی تھی ۔۔
کاش میں اس دن اتنا بڑا فیصلہ نہ کرتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ۔
❤
یہ کیا حرکت ہے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔؟؟ï
وہ زید کو تکلیف میں تڑپتہ دیکھ کر پہلے ہی آگ بگولہ ہوئی بس شدت غم و غصہ میں رونے کو ہی تهی ۔
میرا دماغ تو بالکل ٹھکانے پر ہے مگر اب تمہیں ٹھکانے لگاؤ گا ۔
یہ کس انداز میں تم اس سے بات کر رہے ہو ۔؟؟
زید اپنا درد بھول کر زمل کے دفاع میں بولا ۔
انداز کی تو بات ہی نہیں کرو تم یہ تو میرا بہت لائٹ موڈ ہے ۔
مسٹر تم نے جو ابھی ابھی کارنامہ کیا ہے اس کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ۔
آواز میں نرمی لے کر بات کرو ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے ۔
میرحنید زمل کو اپنی آنکھوں میں قید کرتے ہوئے بولا ۔
میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں میری وائف سے تمیز سے بات کرو ۔
زید ان جیسے بگڑے امیرزادوں کی بات سننے کی ضرورت نہیں ہے امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولادیں ہیں اپنی ایسی فضول حرکتوں سے باپ کا بھی نام خراب کرتے ہیں ۔۔
زمل کا دماغ زید کےخون آلود هاته کی تکلیف دیکھ کر پہلے ہی معاوف ہوچکا تھا اس پر تضاد سامنے والا شخص اس کو مزید طیش دلانے پر تلا ہوا تھا ۔
زمل چلو پلیز
زید کے ہاتھ میں کانٹا اندر تک گھس چکا تھا اس کا تکلیف سے حال خراب ہو رہا تھا ۔۔
زمل زید کا ہاتھ تھامے جانے کو تھی جب یک دم میر حنید نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوآیا تھا ۔
آئندہ یہ ہاتھ میں کسی غیر مرد کے ہاتھ میں نہ دیکھو ورنہ تمہں تو کچھ نہیں ہو گا اگلا بندہ دوسری سانس نہیں لے سکے گا ۔
زمل کا ہاتھ حنید کی مضبوط گرفت میں تھا ۔
چھوڑ میری بیوی کا ہاتھ یہ میری بیوی ہے اور تو ہوتا کون ہے یہ بات کرنے والا ۔۔؟؟؟
اوہو بیوی ہے واہ کیا کانفیڈنس ہے تمہارا؟؟
۔
وہ اپنا گریبان زید سے آزاد کراتے ہوئے بولا ۔
ہاں یہ شوہر ہے میرا اپنی اوقات میں رہو تم سے اب پولیس نمبٹے گی ۔۔
بگڑا ہوا امیر زادہ نہ ہو تو ۔۔
واقعی؟؟؟
کیا بات ہے تمہاری ۔۔
آئی ایم ایمپریسٹ ۔۔
اوقات تو تمہیں بہت جلد میری پتہ چل جائے گی اور کیا کہا تم نے یہ ٹچ پعیاں شوہر ہے تمہارا۔۔۔
بہت جلد میر حنید اس رتبے پر فائز ہوگا ۔
الٹی گنتی شروع کر دو ۔۔۔۔
وہ ان دونوں پر ایک ترحم بھری مسکراہٹ اچھالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا چکا تھا ریستورنٹ سے باہر----
❤
جاری ہے ۔۔
Monday, December 24, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment