Monday, December 24, 2018

Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 4

muhabbat barsadena tu.
By Aymen Nauman
Epi 4

💗
پورا گھر برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا ۔۔

گلاب اور موتیا کے پھول خوبصورت اور نفاست سے لان میں لگائی گئی ٹیبلوں پر  گلدان کی زینت بنائے گئے تھے ۔۔

اس پوری سجاوٹ کو کرنے میں ساری ینگ  پارٹی کا ہاتھ تھا خاص کر حورم اور راحم زیادہ پیش پیش تھے ۔۔
پورے گھر میں رونق کا سماء تھا ۔
زمل اور زید صبح سے مسرور  سے تھے ان کی بچپن کی محبت کو آج بہت ہی خوبصورت نام ملنے والا تھا ۔
دونوں کے دل اپنی محبت کو اتنی آسانی سے پا لینے پر خوشی سے جھوم اٹھے تھے ۔

اور پھر پتہ ہی نہیں چلا تیاریوں میں کہ کب صبح سے شام ہو گئی تھی اور نکاح کا وقت بھی آن پہنچا تھا ۔۔
آپی بابا اور تایا ک
قاری صاحب کو لے کر آرہے ہیں مامانے کہا ہے کہ آپ سے کہوں  گھونگھٹ نکالنا تھوڑا سا ۔
تائی ماں کا بھی آرڈر ہے ایک آپ کے لیے ۔

وہ کیا؟!
زمل ناسمجھی سے بولی ۔۔
یہ ۔
ھورم نے لال رنگ کا دوپٹہ زمل  کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
مگر یہ تو تائی  امی کی شادی کا ہے نا ۔؟
جی بالکل ۔۔۔

یہ تائی امی کی شادی کا ہی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ آپ نے نکاح کے وقت یہ اوڑ ہیں ۔۔

زمل  کو خوشگوار سی حیرت ہوئی کیونکہ تائ امی  اپنی جہیز کی ایک ایک چیز کو بہت سنبھال سنبھال کر رکھتی تھیں ۔۔
 ایک دفعہ وہ ‏‏امی ساتھ بیٹھی تھیں جب امی نے ان سے کہا کہ ۔۔۔

بھابھی آپ اپنا شادی کا دوپٹہ  اپنی بہو کو اڑایئے گا اچھا شگون ہوتا ہے آپ کی عادتیں اور پرچھاواں پڑے گا اس پہ ۔۔
ارے نہیں حنا میں کبھی اپنی جہیز کی کوئی بھی چیز بہو کو نہ دوں آج کل کی لڑکیاں قدر کرنا نہیں جانتی ۔۔۔
امی تآئی کے انداز کے مسکرائی اور بولیں۔ ۔۔

 ارے بھابھی آپ تو ابھی سے ساس بن گئی ۔۔۔

نہیں حنا میں اپنی بہو کا ہر طریقے سے خیال رکھنے کو تیار ہوں مگر میرے اماں بابا کی دی ہوئی
چیزیں میرے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔
میں جانتی ہوں میرے ماں باپ نے کس طرح ایک ایک چیز لے کر میرا جحیزتیار کیا تھا ۔
اپنی حق حلال کی محنت کی کمائی ہوئی ایک ایک پائی کو جوڑ جوڑ کر مجھے دنیا کی ہر چیز دی تھی ۔۔
اب اگر آنے والی اس کی قدر نہ کرے تو میرے ماں باپ کی دی ہوئی ہرچیز تو بے مول ہو جائے گی  ۔۔

ارے کہاں کھو گئیں آپی!!!

 مراقبہ بعد میں کرلینا باہر قاری صاحب آنے والے ہوں گے ۔
ہاں نہیں بس اس دوپٹے سے تائی اور امی کی کچھ خوبصورت یادیں ذہن پر بکھر گئی تھی ۔۔۔

وہ مسکرا کر بولی۔۔
 اور یہ تم اتناالہج کیوں رہی ہو دوپٹے سے ۔؟؟!۔
آ پی سیفٹی پن لگانا تھی مگر اس وقت تو پورے گھر میں پنس کا کال ہی پڑھ چکا ہے ۔۔۔
کیونکہ مجھے جو ضرورت ہے بیوی سے ہر جگہ نظر آ رہی ہوتی ہیں ۔۔
وہ جلدی جلدی میں دوپٹہ بس گردن  میں رسی کی طرح  لیتے ہوئے بولی ۔۔

کمر پہ بکھرے اسٹریٹ سلکی بال جو کافی لمبے تھے ۔۔

اس پر اس کا ناز ک خوبصورت سا معصوم سراپا ۔۔
وہ دونوں بہنیں  معدے کی طرح رنگت کی حامل نازک سی تھیں ۔۔اس پہ تضادایک کی آنکھیں نیلی اور دوسری کی آنکھیں ہری  دیکھنے والا پہلی نظر کے بعد نظر اٹھانا ہٹانا  ہی بھول جاتا تھا ۔۔۔

زمل نے فوری دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔۔
کی خوشیوں کے لئے تہہ دل سے دعا کی ۔۔
ارے آپ سے جو بات کرنی تھی اہم وہ تو بھولی ہی گئی۔ ۔
کیا سب خیریت ہے نا ؟؟۔۔
جی جی آپی سب خیریت ہے ۔
یہ کیا ہوا ہے بولو !؟
دادی نے کہا ہے نکاح کے وقت آپ رونے کے بجائے اپنے لئے اپنی خوشیوں کے لئے دعا مانگئے گا اور نیک صالح اولاد کے لئے بھی ۔۔
 دادی نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت لڑکی کی دعا  فورا عرش پہ جاکے قبول ہوتی ہے ۔۔
اچھا میری چھوٹی اماں  مانگ لو نگی دعا ۔۔۔

دوپٹہ تو سہی سے لو ابھی سب لوگ آئیں گے
زمل نے اس کو ٹوکا ۔
ارے آپی اتنی دیر سے ن
یہیں تو کوشش کر رہی ہو مگر یہ ٹیشو کا دوپٹہ افف۔۔
وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اور بابا تایا کے ساتھ قاضی صاحب  سمیت گھر کے باقی بڑے بھی کمرے میں  اندر داخل ہوئے تھے ۔
حورم وہیں کھڑی بڑے اشتیاق سے سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔
جب ایجاب و قبول کے وقت را حم بڑی خاموشی سے  لونگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس حورم کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔

اے یہ تم کیوں ساون بھادوں میں مصروف ہوں ؟
آپی کتنا رو رہی ہے ۔۔۔

وہ را ھم کو دیکھ کر نرم لہجے میں گویا ہوئی ۔
وہ تمہاری طرح بے حیاء تھوڑی ہیں جو کھی کھی کھی لگائے رکھیں  جیسے تم منگنی کے وقت اپنے دانت شاید ف
ہونٹوٹوں کے باہر ہی لگا کر بھول گئی تھیں۔۔
بتیسی ایک دفعہ جو کھولی تو واپس   اندر ہی نہیں ہورہی تھی ۔
وہ حورم کو اداس دیکھ کر جلانے والے انداز میں بولا تھا کہ اس کا ذہن ڈائیوڈ کر سکے ۔

حورم نے اپنی بڑی بڑی نشیلی آنکھیں نکال کر راہم کو گھورا ۔
وہ دونوں اپنی چھیڑچھاڑ میں مصروف تھے مگر وہ کوئی بہت ہی غیض و غضب سے انکو دیکھتا ضبط سےمٹھیاں بھینجے کھڑا تھا ۔۔۔
💕💕💕

گل رعنا بہت دیر سے رو رہی تھی حسام نے اس کو لا کر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا ۔

کب تک میری زندگی میں اندھیرے رہیں گے میرے اللہ کب میری بھی عزت کی زندگی گزرے گی ۔۔؟؟؟

میرے مالک کب میں اس دل دل سے آزاد ہو نگی ۔۔؟؟
آخر کب میرے اللہ ؟؟؟

وہ چیخ چیخ کے روتی اللہ سے اپنی عزت و آبرو کی بقا کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی۔ ۔

ابھی تک اس کے اوپر وہی چادر ڈھکی ہوئی تھی جو وہ کوٹھے سے پہن کر آئی تھی ۔

کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے خود کو مزید چادر میں ڈھانپا تھا ۔۔
خوف سے اس کی آنکھوں میں وحشت سی اتر آئی تھی مگر اس نے طے کر لیا تھا کے اپنے لیے جنگ ضرور لڑے گی ۔۔
حسام سفید ململ کا کرتہ  شلوار میں ملبوس ہلکی  ہلکی بڑی ہوئی شیو۔ ۔۔
 چہرے پر بلا کی سنجیدگی لیے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔
کتنا سوبر اور ڈیسنٹ دیکھنے والا چہرہ ہے اس شخص کا مگر اندر سے کتنا بیہانک ہے یہ ۔
گل نے افسوس سے سوچا ۔۔

حسام آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس تک آیا تھا ۔
وہ بیڈ کے پاس ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھی تھی ۔۔
میرے پاس مت آئیے گا ۔۔
وہ اس کو اپنےقریب دو زانو بیٹھا دیکھ کر جھٹکے سے ایک فٹ کے فاصلے پر ہوئی تھی ۔۔

کیوں اگر آ بھی گیا تو تم کیا کر سکتی ہوں ؟؟
وہ انکھوں میں تمسخر لئے  پوچھ رہا تھا ۔۔

میں بتا رہی ہوں میرے قریب مت آنا وہ ڈرتے ڈرتے خود کو نیڈر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
حسام  پل بھر کو اس کی معصومیت سے تھک سا گیا تھا ۔
وہ اس کو جس جگہ سے" خرید "کر لایا تھا وہاں اتنی معصومیت ملنا ناممکن سی بات تھی ۔۔

وہ کچھ اور ہی ارا دے لے کر کمرے میں آیا تھا مگر اس کا مزاحمت کرتا انداز دیکھ کر بہت کچھ محسوس کرکے ا تھا  ۔۔

اتنی معصوم تو تم ہو نہیں دجتنی نظر آ رہی ہو ۔۔۔

میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟؟
 مجھے یہاں سے جانے دو ۔
وہ کسی بھی طرح اس قید سے آزاد ہونا چاہتی تھی ۔۔
اچھا یہاں سے کہاں جاؤں گی ویسے ؟؟
وہ اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے ہوئے بولا ۔۔
۔
میں کہیں بھی چلی جاؤں گی مگر مجھے اس طرح تمہاری ہوس کا نشانہ نہیں کرنا ۔۔

چھٹانک بھر کی اتنی سی تو تم ہو اور مزاحمت کا انداز تو چیک کرو ذرا اپنا ۔۔۔

واہ کیا بات ہے ۔۔۔
پہلی دفعہ اتبا اینٹک پیس ٹکر آیا ہے ۔۔

میں آپ سے بس اتنا چاہتی ہوں کہ آپ مجھے یہاں سے جانے دیں ۔۔

مانا عمر تمہاری کم ہے مگر جس جگہ سے تم آئی ہوں وہاں پر تو یہ سب عام ہے ۔۔۔۔
وہ جتاتے ہوئےتمسخرانہ  ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔۔

وہ اس کو قریب آتا دیکھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔۔
گل کے سر پر تو گویا جنون سوار تھا کہ وہ خود کو حسام کی ناجائز خواہشات  کا۔ہرگز بھی  نشانہ نہیں بننے دے گی چاہے اپنی جان گنوا بیٹھے ۔

اس  دور ان مزاحمت کرتے ہوئے  گل کی چادر زمین پر گر چکی تھی ۔۔
حسام دنگ سہ اس کے حسن میں کھو سا گیا تھا ۔۔
وہ اس کی سوچ سے کہیں سادہ حسین تھی کسی اپسرا کی پرچھائی ہو جیسے ۔
اوپر سے اس کا ضدی انداز اس کو بہت اٹریکٹ کر رہا تھا ۔۔
وہ بہت کم ان جگہوں پہ جاتا تھا مگر اس دن بھی اس کے دوستوں کی زبردستی کرنے پر وہ وہاں گیا تھا اور بے ارادہ ہی اس کی نظر گل پہ پڑ گئی تھی ۔۔

حسام  نے اپنی 32 سالہ زندگی میں پہلی دفعہ اتنا مکمل اور ضد سے بھرپور حسن دیکھا تھا ۔۔

حسام نے ہاتھ بڑھا کر اس کے نارما وقت اس گلابی چہرے کو چھوا تھا ۔۔
وہ کرنٹ کا کر جھٹکے سے اس سے دور ھوئی تھی ۔۔
اور زناٹے دار تھپڑ حسام  کے رخسار پر دے مارا تھا ۔۔
وہ پلٹ کر باہر کا دروازہ پھلانگنے کو تھی جب حسام نے تیزی سے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا تھا ۔۔
💕💕💕

اگلے دن وہ جلدی سے یونیورسٹی آف کرکے شرجیل کے آنے سے پہلے ہی یونیورسٹی کے باہر کھڑی تھی ۔

کچھ ہی دیر میں شرجیل بھی آ گیا تھا اور پھر وہ اسی لڑکے کے ساتھ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جانے کہیں لگا ۔
بھائی صاحب اس گاڑی کا پیچھا کرنا ہے ۔۔

حنا نے رکشے میں بیٹھ کر  ڈرائیور  سے کہا ۔
رکشہ کچھ  دور ہی پہنچا تھا جب وہ گاڑی ایک عجیب سی جگہ پر رکی۔ ۔

اس کو دیکھنے میں وہ جگہ پٹھان کا ڈھابہ لگ رہی تھی ۔۔
وہ رکشے سے اتر کر اپنی چادر خود پراچھی طرح لپیٹ لینے کے بعد شرجیل کے پیچھے چل پڑی ۔

بھائی آپ رکنا یہی میں بس  میں آئی ۔
رکشے والے کو کہہ کر وہ آگے بڑھ چکی تھی
۔
یار تیرے پیچھے ایک لڑکی ہے میرے یونیورسٹی کی چو یونیورسٹی سے ہی ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ ۔
شرجیل کے دوست معین نے اس کو بتایا ۔
شرجیل نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
وہاں وہی لڑکی کھڑی تھی جو روز شاید بس کے انتظار میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی ہوتی تھی ۔
وہ یکدم پلٹہ اورحنا کی طرف تیز قدم اٹھانے لگا ۔
حنا نے جیسا ہی شرجیل کو خود تک آتا دیکھا وہ واپس بھاگتی ہوئی کشی میں جا بیٹھی  تھی ۔
بھائی جلدی چلو واپس ۔
وہ رکشے میں بیٹھ کر ماتھے  پہ آیاپسینہ صاف کر کے بولی ۔
بھائی صاحب یہ ڈھابا کس جگہ پر ہے ۔؟؟؟
وہ رکشہ چلاتے ضعیف سے شخص سے پوچھ رہی تھی ۔
بیٹا آپ کو نہیں پتا یہ مشہور جوا خانہ تھا جہاں ابھی آپ کو کی تھی  ۔۔
رکشے والے نے حنا کو بڑی حیرت سے دیکھا ۔
حنا کو لگا جیسے پتھروں کا ریلا اس کے اوپر دھڑام سے گرا ہو ۔۔
💓
نکاح کے دوسرے دن زید ز مل کو لے کر  ڈینر کروانے کے لئے لایا تھا  سب کی اجازت سے باہر۔
تم کل دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی ۔
اور تمہیں پتا ہے زمل تم پہلی لڑکی ہو جس کی میرے دل میں خواہش کی ہے ۔۔
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرو اتنا کم ہے کہ اس نے مجھے اتنی آسانی سے میری محبت دیدی۔ ۔

وی زمل کے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔
زمل نے گھبرا کر اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جب زید نے اس کا ھاتھ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا اور محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا ۔
۔
یار اب تو شوہر ہوں میں اتنا تو حق بنتا ہے میرا ۔۔
اچھا نہ مجھے کنفیوز مت کرو زید ہم ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہیں ۔۔
زمل جتاتے ہوئے بولی۔ ۔
اور پھر سے دوبارہ اس سے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
سامنے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا میر حونید مزید اپنا غصہ ضبط نہیں کر سکا تھا وہ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی دھکیل کر اٹھا ۔
طیش کے عالم میں سامنے رکھی خوبصورت کانچ کی ٹیبل کو ایک ہاتھ سے ہوا میں اچھالا تھا اور کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ان دونوں کی طرف آیا تھا ۔۔
زید زمل کا ہاتھ ہنوز  تھامے پریشان سا اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ آنکھوں میں غیض و غضب کے ابلتے ہوئے شرارےلیے زید کی طرف جھکا اور سائیڈ میں رکھ اک اٹھا یا۔۔۔
میں رہوں نعت نے ہاتھ میں لیا  کانٹا اٹھا کر زیمل کے ہاتھ پر دھرے زید کے ہاتھ میں بری طرح گھونپ دیا چند ہی لمحوں میں ۔۔۔
💕

پورا بیٹا اپنی امی کو کہو کہ جلدی آئی مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔
بابا کو نہیں پتا تھا کہ وہ پہلے ہی تیار ہو کر کھڑی باہر ان کا انتظار کر رہی ہیں ۔۔
جی باباا بھی بتا کر آئی۔۔
حورم اوپر کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی زمل اور اپنے مشترکہ کمرے کی طرف جا رہی تھی سارے گھر والے نیچے لون میں زید نکاح کے بعد رخصتی کے مراحل طے کروانے میں مصروف تھے ۔۔
حورم کوریڈور کے آخری سرے پر ہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ کھینچ تے ہوئے اس سائٹ پر بنے کمرے میں دھکیلا تھا ۔۔
وہ سنبھل کر دیکھنے کے لئے پلٹی کی تھی کہ کس نے یہ کیا ہے ۔۔
سامنے کھڑے آدم کو دیکھ کر وہ حیران و پریشان سی ہو کر بولی
آدم کمرے کا دروازہ لاک کر کے پیچھے مڑا تھا ۔۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔

0 comments:

Post a Comment