Monday, December 24, 2018

Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 3

Muhabbat barsadena tu..💖
By Aymen Nauman
Epi 3

🌼🌼🌼
میں اس گندگی میں نہیں اترنا چاہتی۔۔
 وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔
دیکھ لڑکی تیری من مانی پچھلے آٹهارا سال سے سن رہے ہیں ۔۔
ہم اب تیرا سودا کر چکے ہیں وہ بھی منہ مانگے داموں میں۔ ۔
ریما چندہ بائی کی خاص لڑکی تھی چندہ بائی کے بعد اس کا راج چلتا تھا اس کوٹھے پہ ۔۔
میں نے کہہ دیا نا میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔
وہ روتے ہوئے غصے سے ضدی لہجے میں گویا ہوئی ۔۔
تجھے اس لیے تھوڑی ابھی تک سمبهال کر رکھا تھا کہ ہم ہنسی خوشی تیری شادی کر کے تجھے کوٹھے سے رخصت کردینگے ۔۔

ریما مکروہ ہنسی چہرے پہ لیے اپنی غلیظ نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی ۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی گل رعنا کو اپنا بے جان مقدمہ ان جسم کے بیوپاریوں سے لڑتے ہوئے کہ جب حسام نے بغیر کسی دستک کے کمرے میں قدم رکھا ۔۔
ریما اس کو سامنے دیکھ کر ٹھٹکی دیں اور پھر بڑی چالاکی سے بولی ۔۔
سیٹھ صاحب یہ لڑکی نہیں مان رہی آپ کے ساتھ جانے کے لئے ۔۔
میں جانتا ہوں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
وہ اندر آتے ہوئے گل رعنا اور ریما کے مابین ہونے والی تمام گفتگو سن چکا تھا ۔۔۔
گل رعنا کی آنکھوں میں اس لمبے چوڑے کسرتی وجود
کے حامل مرد کو دیکھ کر سراسیمگی اتر آئی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کہ اب اس کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔

اس نے گل کو ایک بھرپور  نظر سےدیکھا تھا اور  آگے بڑھتے ہوئے  گل کے چہرے اور خوبصورت جسم پر سائیڈ میں رکھی چادر ڈال دی تھی ۔۔

اس نے گل کے روتے سسکتے  وجود کو اچھی طرح سے چادر میں لپیٹ نے   کے بعد اسکو اپنے کندھے پر اوندھا ڈالا تھا  ۔۔
وہ فریاد کر رہی تھی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی اس سے ۔۔
وہ بغیر کچھ بھی کہے اور سنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کوٹھے کی دہلیز پار کر گیا تھا ۔۔۔
اور وہ سوچ رہی تھی کہ ناجانے اس بازار حسن سے نکلنے کے بعد اب مزید کن کٹهن حالات  کا سامنا کرنا ہوگا ۔۔؟؟؟
💕💕💕

حنا آج بھی اسی ٹائم پر یونیورسٹی کے دروازے پر کھڑی شرجیل کا انتظار کر رہی تھی۔۔
 وہ یک طرفہ محبت کی زد میں بری طرح سے آچکی تھی شرجیل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پچھلے ایک گھنٹے سے بےقراری سے کڑی دھوپ میں کھڑی تھی ۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دشمن جان اس کو سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ ۔
حناء بغیر پلک جھپکائے ٹرانس کی سی کیفیت میں اس کو یکٹک دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ کسی سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنی جیب سے کوئی چھوٹی سی چیز اس کو تھما رها تها جو دوسرے لڑکے نے بڑی خاموشی سے اپنی جیب میں رکھی تھی ۔۔۔
حنا کو کافی حیرت ہوئی تھی یہ سب دیکھ کر ۔۔
حیرت کا جھٹکا اس کو اس بات سے لگا تھا کہ سامنے کھڑا شخص پوری یونیورسٹی کا سب سے لوفر اور آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔۔
اس کا شرجیل سے کیا تال میل ہوسکتا  تھا ۔۔۔
وہ بری طرح سے کشمکش کا شکار ہو گئی تھی ۔۔
وہ کچھ حیران اور پریشان سی شرجیل کے بارے میں سوچ رہی تھی  ۔۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے   وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر جا چکے تھے ۔۔۔
حنا کا یہ روز کا معمول بن چکا تھا وہ ہر روز شرجیل کے صرف ایک دیدار کے لئے تپتی ہوئی کڑی دھوپ میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی رہتی تھی ۔۔۔
شرجیل روزانہ اسی لڑکے سے ملنے کے لئے آتا تھا ۔۔
کبھی وہ اس کو ساتھ لے جاتا یا پھر کبھی بڑی رازداری سے وہی چھوٹی سی چیز اس کے ہاتھ میں تھما کر چلتا بنتا تھا۔ ۔
حنا نے سوچ لیا تھا کہ وہ کل کسی بھی طرح یونیورسٹی سے آف لے کر شرجیل کا پیچھا کرے گی کہ آیا وہ آخر جاتا کہاں ہے ۔؟؟
حنا کے دل میں شرجیل کی محبت بری طرح سے جگہ چکی تھی وہ اپنے محبوب کی ہر ایک عادت و ادا  ،پسند تهی حد یہ کہ ہر  وہ چیز جو شرجیل سے جڑی تھی
وہ اس کو جاننا چاہتی تھی ۔۔
💕💕💕

مجھے ہر حال میں اس لڑکی کے مطابق ایک ایک
 معلومات چاہیے ۔۔
جی سر آپ کو تمام معلومات جلد ہی مل جائیں گی ۔۔۔
اسد تابداری سے گویا ہوا تھا ۔۔

وہ لان میں بیٹھا رات کے وقت سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور ساتھ میں اپنے خاص بندے اسد  سے فون پر بات بھی کر رہا تھا ۔۔

ایڈریس میں تمہیں سمجھا چکا ہوں تمہارا کام پہلے ہی میں نے بہت آسان کر دیا ہے ۔
جی جی سر بالکل ۔۔
اسد نے فرمانبرداری سے کہا ۔۔
۔
میں اس کی تصویر واٹس ایپ کر رہا ہوں اگلے دو گھنٹے میں مجھے اس لڑکی کا شجرہ نصب مل جانا چاہیے ۔۔
مگرسر 2گھنٹے ۔؟؟
اسد پریشانی سے بولا۔ ۔
ہاں دو گھنٹے میں اس سے ایک منٹ بھی آگے پیچھے ہوا تو تیسرے گھنٹے میں تیرا شجرہ نسب صفا ہستی سے مٹ چکا ہو گا ۔۔
میر حنید اپنی بات کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔۔
اور اب وہ پھر سے زمل کی تصویر کو دیکھنے میں محو ہو چکا تھا ۔۔
زمل کی تصویر اس نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ڈنکے کی چوٹ پہ لی تھی کہ اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو اس کو کسی کا ڈر خوف نہیں تھا ۔۔
میر حنید بہت جلد تمہارے تمام جملہ حقوق اپنے نام کروانے کے لیے آ رہا ہے ۔۔
Just Wait and Watch ۔
snow White ۔
You are mine ۔۔
Very soon you will be in my life..
Insha Allah..

💕💕💕
حورم بڑے مزے سے کانوں میں ہینڈ فری لگائے گا نے سنتے ہوئے واک کر رہی تھی ۔۔
ہیلو بیوٹیفل ۔۔
راحم نے حورم کے پیچھے سے آکر اسکی ہینڈ فری کوکان سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا ہے کتنا مزے کا سونگ سن رہی تھی سب ٹیمپو توڑ کے رکھ دیا ۔۔
وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں ہر راحم پر چیخی۔۔
واپس کرو  میری ہینڈ فری اور موبائل ۔۔
راحم نے ہینڈ فری اور موبائل سیدھے ہاتھ میں لے کر ۔۔
اپنے ہاتھ کو اوپر کر لیا ۔۔
اوھو چھوٹی بچی کو یہ چاہئے۔۔
آئو آئو لیلو۔ ۔۔
 اس لئے چھوٹی منی الو کی طرح رو رہی ہے ۔۔
راحم نے اس کو چڑایا ۔۔
حورم ا چک اچک کے راحم کے ہاتھ  سے اپنی ہینڈ فری اور موبائل لینے کی کوشش میں بار بار ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔
اب راحم پورے لاؤنج میں اس کو اپنے پیچھے لگا رہا تھا ۔۔
میں کہتی ہوں دے دو نہیں تو وہ حال کروں گی کہ زندگی بھر یاد رکھو گے ۔

وہ جنگلی بلی کی طرح اپنے پنجے تیز کیے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
راحم بھاگتے بھاگتے لمحے بھرکو سانس لینے کے لئے رکا تھا  کہ ایک جھٹکے سے جب حورم بھاگتے ہوئے اس کے چوڑے سینے سے بری طرح ٹکرا گئی تھی ۔۔
کیا ہے رو کیوں گئے تھے ؟؟؟
دیکھا پیری ناک ۔۔۔
کیا ہوا تمہاری ناک کو؟ ؟
 کہو تو ابھی ٹھیک کردیتا ہوں سب درد بھاگ جائے گا ۔۔
وہ حورم پہ جھکا بڑے مزے سے رومانٹک ہوتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
اس بات سے بے خبر کے اس کے پیچھے ڈایناسور آندھمکا  ہے ۔
حورم کی تو آدم کو دیکھ کر بولتی ہی بند ہو چکی تھی ۔
وہ راحم  کے کچھ ہی لمحوں پہلے بولے گئے جملے کو بڑے مزے سے انجوائے ہی کر رہی تھی کہ حجاب لاؤنچ کے اندر داخل ہوتے آدم پر اس کی نظر پڑی تھی ۔۔
آدم راحم کی پوری بات سن چکا تھا ۔۔
جبکہ حورم شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔۔
اس کو آدم کے سامنے کھڑے رہنا دنیا کا سب سے دشوار ترین کام لگ رہا تھا ۔۔
اب کیا ہوا کیا میرے خیالوں میں کھو گئی ہو؟ ؟؟
راحم اپنی ہی ہو کر رہا تھا ۔۔
راحم پیچھے دیکھو ۔۔
یارپہلے  تمہیں  تو دیکھنے سے فرست ملے پیچھے بھی دیکھ ہی لو نگا ۔۔۔
آدم دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
آدم کا خوف ساری ینگ پارٹی کے دل  میں  اسی طرح سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
ادم عالم خان کا سب سے بڑا پوتا تھا ۔۔۔
 بڑا ہونے کی وجہ سے وہ کافی حد تک غسیلہ اور حاکم مزاج طبیعت کا مالک تھا۔۔
حورم کو اپنایہ طرم خان کزن ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔۔
 حورم نے چڑھ کے آدم کی لمبی چوڑی کرسکتی  پرسنالٹی کو مدنظر رکھ کر اس کا نام ڈایناسور رکھ دیا تھا ۔۔
جو بعد میں باقی ساری ینگ پارٹی کی زبانوں پر چڑھ گیا تھا ۔۔

حورم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور راحم کا رخ موڑ کر آدم کے سامنے کر دیا  ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بکواس اس ڈایناسور کے سامنے کرتا خورم کو یہی بہتر لگا کہ وہ خود ہی دیکھلےپیچھے کا حسین نظارہ ۔۔
وہہہہہ۔ ۔۔آآاااااادم ۔،۔۔بھائی آپ ۔۔۔
وہ آدم کو دیکھ کر کسی غبارے کی طرح پھوس ہوگیا تھا اور ہکلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔
اورپھر بڑی مہارت سے امی  بلا رہی ہیں کا بہانا بنا کے وہاں سے کھسک لیا ۔۔۔
تو باہر سے کھو رہے ہیں جیسے کچا ہی نکل جائینگے ۔۔
تمیز کے دائرے میں رہا کرو ابھی صرف منگنی ہوئی ہے ۔۔
وہ سخت لہجے میں گویا ہوا آنکھوں سے انگارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔
میں وہ ڈایناسور بھائی ۔۔
وہ زبان دا نتو ں تلے دبا گئی تھی۔ 
 بوکھلاہٹ میں کیا سے کیا زبان سے پھسل گیا تھا۔

نہیں نہیں وہ آدم بھائی ۔۔
دوسری غلطی یہ تھی کہ اسی جملے کو درست کرکے بولی ۔۔
ڈایناسور ۔۔
وہ اس کی طرف پڑھتے ہوئے خوفناک حد تک خطرناک آنکھوں میں سرخی لیے بولا ۔۔
دایناسور ابھی بنا نہیں ہوں جس دن بن گیا نہ اس دن یاد رکھنا تم جیسی چھپکلی کل لمحوں میں مثل کے رکھ دوں گا  ۔۔

وہ آتشفشاں لہجے میں بولتا حورم کا ہاتھ پکڑ کے لاؤنج سے باہر نکال چکا تھا اس کو ۔
💕💕💕

جاری ہے ۔۔۔🌹

0 comments:

Post a Comment