Friday, December 21, 2018

Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 2

محبت برسا دینا تو ۔۔💕
از  ایمان نعمان ۔
قسط نمبر 2 ۔۔


وہ شام کے وقت  اپنے آفس سے باہر نکلا تھا ۔۔
آگے پیچھے باوردی کارڈ بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔۔۔
سلام صاحب ۔۔!
ڈرائیور نے  اسے جیسے ہی آتا دیکھا سلوٹ کے انداز میں سلام کیا اور تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا  ۔۔۔
وہ اپنا بوٹ میں مقید ایک قدم گاڑی میں رکھ ہی چکا تھا جب سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی دماغ کی رگیں تن سی گئیں۔ ۔
آنکھوں کے ڈورے مزید سرخی مائل ہوگئے تھے ۔۔
گویا ابهی خون آنکهوں سے ٹپک پڑے گا۔۔

اس نے گاڑی کا دروازہ دھآڑ سے بند کیا اور تیز تیز بجلی کی سی چال چلتا ہوا سامنے کھڑی ہائیروف تک پہنچا۔۔
اور آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنے ہاتھ کا پنچ بنا کر سامنے والے کے جبڑے پر زور دار انداز میں دے مارا ۔۔

اپنے باس کو نوجوان لڑکوں پہ یوں ٹوٹ پڑتا دیکھ کر اس کے گارڈز تیزی سے بھاگتے ہوئے آئےتھے۔ ۔

جنہیں هاته کہ ایک اشارے سے ہی اس نے وہیں رکنے کا اشارہ کیا۔۔
ْمیری مددکریں سریہ لوگ مجھے زبردستی اغوا کرکے لے کر جا رہے ہیں ۔۔
اس شخص کو یوں مدد کو آتا دیکه کر ایک چھوٹی سی لڑکی جو شاید کسی سینٹر سے پڑھ کر اپنے گھر جا رہی تھی۔۔
اس کا زمین پر پڑا کالج بیگ اس بات کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔

اسکو دو لڑکے زبردستی ہائی روف میں بٹھانے کی  کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

وہ لڑکی روتے ہوئے اب اسکو مدد طلب نگاهوں سے دیکه رہی تهی
اے شہزادے زیادہ ہیرو پنتی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا چھوٹی سی گن نکال کر دھمکانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔ بہت دیکھیں ہےتیرے جیسے اپنا راستہ ناپ اور پتلی گلی سے نکلتا ہوا نظر آ ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے گن کا ٹریگر دباتے ہوئے کہا۔ ۔

ان نوجوان لڑکوں کی بچگانہ باتوں پہ اس کےماتهے پہ اک رگ اور ابهری مگر لب سے ایک لفظ بهی ادا نہ کیا .....
اور ایک حقیر سی نظر ان کے ہتهیاروں پہ ڈال کر جب گویا هوا تو بس اتنا کہ....
اس لڑکی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔
اے بہت ہو گئی تیری بک بک چل اب نکلیہاں سے
۔۔
ان میں سے ایک لڑکا طرم خان بن کے بولا ۔۔
چپ کر جا مجھے لگ رہا ہے یہ جیسے ہمارے ملک کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا بیٹا ہے جو ابھی ابھی لندن سے پڑھ کر آیا ہے ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے آہستہ سے سرگوشیا نہ انداز میں اپنے ساتھی کو کہا ۔۔۔
جس کو سن کے اسکا رنگ فق ہو گیا۔۔
صاحب جی معاف کر دو اس کے بعد آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔
معاف کر دو۔۔
بس  ایک دفعہ معاف کر دو صاحب۔۔۔۔
وہ نقاب پوش اب اس کو اچھی طرح پہچان چکا تھا جھٹ سے اس لڑکی کو چھوڑ کر  میر حنید سے معافی تلافی کرنے لگا ۔۔۔
معاف کر دوں وہ بھی اتنی آسانی سے۔۔
تیری ہمت بھی کیسے ہوئی اس لڑکی کا راستہ روکنے کی ؟؟؟
میر حنید نے اس کو گریبان سے پکڑ کر اس کا سر پشت کی طرف سے ہائیروف میں دے مارا۔۔
میرحنید کے اوپر جیسے جنون سا طاری ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے اس کے ساتھ ساتھ موجود شخص کی بھی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دی تھی ۔۔
جیسے دنیا میں سارے گناہوں کے مجرم یہ دو ہی تهے ...
دونوں کو مار مار کہ اده موہہ کرنے کی بعد میر حنید نے اپنا هاتھ روکا اور اک ادا سے کوٹ کا بٹن بند کیا جو مار پئیٹ میں کهل گیا تها ....

پھر یک لخت مڑا اور اپنے گارڑز کو اشارہ کیا جس کا مطلب وہ با خوبی جانتے تهے۔۔
کہ اب ان دونوں نقاب پوش کا ٹهکانہ میر حنید کی حویلی کا اندهیر تہہ خانہ تها۔۔
اٹھا لو ان دونوں کو ۔
وہ دونوں زمین پر خون سے لت پت حالت میں پڑے ہوئے تھے ۔۔
گارڈ نے ترحم بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا اور اٹھا کے لینڈ کروزر میں ڈالا ۔۔۔
میرحنید نے روتی ہوئی لڑکی کو اپنے ساتھ گاڑی میں  آنے کا اشارہ کیا ۔۔

شکریہ آپ کا بہت بہت ۔۔
وہ لڑکی میر کی گاڑی سے اترتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولی۔۔
آج کے بعد محتاط رہنا یہ دنیا درندوں اور وحشیوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ میرا کارڈ ہے اگر کبھی بھی دوبارہ ایسی صورتحال کسی کےساتھ بھی پیش آئے تو مجھے بتانا ۔۔
میرحنید نے اس کو اپنا وزٹنگ کارڈ دیکھ کر گھر کے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
حورم ممنون نظروں سے دیکھتی گھر کے اندر جا چکی تھی ۔ 
حنید اس وقت تک گاڑی روکے کهڑا رها جب تک وہ دروازے کے اندر گھر میں نہیں چلی گئی تھی ۔۔
مگر جیسے ہی وہ   پلٹنے کو تھا اس کی نظریں نہ دانستگی میں حورم کے گھر کی بالکونی پر پڑھی تھیں۔ ۔
سامنے موجود بے پناہ حسن لیے ایک لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی  ۔

میر حنید کی نظریں گویا پلٹنا بھول گئی تھی ۔۔

💕💕💕

میرحنید شہر کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔
اپنی ماں صدف اور باپ سعدان کی آنکھوں کا تارا ۔۔۔
میر سادان اور صدف نے اس کی پرورش بہت بہترین انداز میں کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔۔۔
مگر اسکو اتنی توجہ اور محبت دینےکے  باوجود بھی میر حنید کی طبیعت میں ضد اور انا کا عنصر اپنی جڑیں مضبوط کر گیا تها۔۔۔

میرحنید جس چیز پر ہاتھ رکھ دیتا تھا وہ اس کی ملکیت ہو جاتی تھی ۔۔
پہلی نظر میں پسند آنے والی ہر شے چاہے وہ کسی کی بھی ملکیت ہو ۔۔
وہ حنید کی سلطنت کا حصہ بن جاتی تهی چاهے اگلے کی مرضی ہو یا ز بردستی هی۔۔

میر حنید اپنی من چاہی چیزکو ہر صورت میں حاصل کرکے ہی رہتا تھا ۔۔
وہ جتنا بھی ضدی اور مغرور سہی مگر اپنے سے جڑے رشتوں کا بہت اچھے طریقے سے احترام کرنابھی جانتا تھااور کروانا بھی جانتا تھا ۔۔۔

💕💕💕

یہ جو لڑکی یہاں ابھی میرے سامنے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بیچ دو ۔۔

سگریٹ سلگاتے ہوئے وہ بغیر کسی تاثر کہ بولا۔۔

چندا بائ نے غور سے اپنے سامنے بیٹھے حسام صدیقی کوتولتی ہوئی  نظروں  دیکھا ۔۔

حسام صاحب وہ ہمارے بازار حسن کا سب سے نایاب اور" ان ٹچ "پیس ہے ۔۔

وہ ان ٹچ پہ زور دے کر جتاتے انداز میں بولی۔۔

اس کے علاوہ بات کرو سیٹھ صاحب ۔
جندا بائ  اس کهیل کی پکی کهیلاڑی تهی کیسے اپنے هیرے کو بے مول بیچ دیتی۔۔

میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔۔
وہ برہمی  سے بولا ۔۔
حسام صاحب گل رعنا نے پرسوں ہی آٹهارویں برس   میں قدم رکھا ہے ۔۔
اور یہ جو رقص ابھی آپ نے دیکھا یہ گل رعنا کی زندگی کا پہلا رقص تھا ۔۔

میں اس کو ابھی کئی دفعہ اپنی مرضی سے کیش کروں گی اسی لیے تو میں نے اس کے معصوم حسن کو ابھی تک اتنا احتیاط  سے سینج سینج کے رکھا ہے ۔۔

ہاں لیکن اب وہ مجھے چاہیے ۔۔

حسام کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
سیٹھ صاحب گل رعنا پورے کوٹھے میں سب سے خوبصورت لڑکی ہے جو ابھی تک اپنی ضدی طبیعت کی وجہ سے کسی بھی مرد کی ہوس کا نشانہ نہ بن سکی ہے۔۔
اور نا ہی ہم نے زیادہ اس پر زور ڈالا ۔۔
چندہ بائی نے ابھی تک  گل رعنا کو  کسی بھی گاہک کے آگے پیش نہیں کیا تھا وہ اس کے لئے بہت آگے کا لائحہ عمل اپنے دماغ میں پہلے ہی طے کیے بیٹھی تھی ۔۔
حسام کی فرمائش نے اسکو اندر تک شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
مگر وہ حسام جیسی ملک کی نامور ہستی کو بھی ناراض کرکے اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔

وہ بڑے تحمل سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو جواب دے رہی تھی ۔۔
بلائو اس لڑکی گل رعنا کو جلدی میں اور انتظار نہیں کرسکتا ۔۔
یہ  بلینک چیک جتنی رقم چاہیے لے لو ۔۔

حسام نے لمبی بحث کو چندا بائ کی فطرت کے مطابق چال چل کے مختصر کیا...

چندہ بائی کی تو آنکھیں ہی کھل گئی تھیں۔ ۔
جائو ریما گل رعنا سے کہو کہ دس منٹ میں اپنا سامان پیک کرکے آجائے ۔۔

ایک منٹ یہ کس نے کہا ہے کہ میں اس کو سامان کے ساتھ لے کر جاوں گا ؟
وہ اپنی مغرورانہ آنکھوں میں غیض وغضب لیے بول رہا تھا ۔۔
اے لڑکی اس سے کہو بس جس حال میں ہے ایک چادر خود پر لے کر آ جائے ۔۔
وہ ریما کو انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
جا جس حسال میں ہے لے آ۔ ۔
چندا بائ نے اپنی لومڑی جیزی مکار آنکھوں کو نچاتے ہوئے بولا۔
مبادہ حسام غصہ میں آ کر پلٹ هی نہ جائے۔ ۔

ریما نے استہفامیہ نظروں سے چندہ بائی کو دیکھا اور اس کا اشارہ ملتے ہی گل رعنا کو لینے چلی گئی ۔۔۔۔

💕💕💕
♡ ♡♡ماضی♡♡

حنا یونیورسٹی سے باہر نکل رہی تھی جب اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی تھی ۔۔
چند لمحوں کے لئے وہ تھم سی گئی ۔
سامنے کھڑا شخص اپنی گاڑی کا بونٹ کھولے کھڑا تھا ۔۔
گرمی سے اسکی پوری شرٹ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی ۔۔
6 فٹ سے نکلتا ہوا قد اور ہلکی بڑھی ہوئی شیو ، ساتھ ہی ماتھے پر بکھرے بال ۔۔
اس کی وجیہہ پرسنالٹی میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔
حنا کو لگا جیسے آج اس نے اپنا دل اس سامنے کھڑے مغرورانہ نقوش کے حامل شخص پہ ہار دیا ہو ۔۔۔
💕💕💕

عالم خان اور فاطمہ خان کی تین اولادیں تھیں۔ ۔
بڑا بیٹا طاہر اور اس کی بیوی زارہ جو کہ فاطمہ اپنی سگی بہن کی بیٹی بیاہ کر لائیں تھیں۔۔
طاہر کے دو بیٹے تھے آدم،  زید اور راحم۔

دوسرے نمبر پر تھے احمد اور انکی بیوی حنا جو کہ عالم خان کے دوست کی بیٹی تھی ۔
۔احمد کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا ۔
بڑی بیٹی زمل اور چھوٹی بیٹی حورم ۔۔

آخری نمبر  پر تھی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی فلک ۔۔
جو کہ اپنے ماں باپ اوربھائیوں کی آنکھوں کا تارا تھی ۔۔
فلک کی شادی پسند سے ہوئی تھی جو اس نے زبردستی گھر والوں کو راضی کرکے کی تھی ۔

فلک کی اولاد کے نام پر ایک بیٹی ہوئی تھی جو پیدائش کے پانچ سال بعد اپنے باپ کے ساتھ گھومنے سمندر پہ گئی تھی اور وہیں ڈوب کے مر چکی تھی ۔۔

فلک اپنی بیٹی کی وفات پر پہلے ہی بہت بیمار ہو گئی تھی اور پھر جب بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی کئی مہینوں تک بیٹی کی ڈیڈ باڈی نہ ملی تو وہ نیم پاگل سی ہو کر ایک دفعہ پھر اپنے باپ کی دہلیز پر آ بیٹھی تھی ۔۔۔
💕💕💕

زید آپ کا جانا بہت ضروری ہے کیا ؟

زمل آنکھوں میں نمی لیے زید سے افسردہ لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔۔
وہ دونوں بڑے مزے سے بالکونی میں بیٹھے موسم انجوائے کر رہے تھے ۔۔
یار دو سال کی تو بات ہے یوں ہی چٹکیوں میں گزر جائیں گے اور پھر یہ بهی تو دیکھو ہم دونوں نے کتنی رازداری سے دادو سے کہہ کر سب کو اپنےنکاح کے لیے بھی منا لیا ہے ۔۔

زید پہلی بار آپ اتنے دور جا رہے ہیں میں تو آپ سے کبھی اتنےزیادہ عرصہ کیلئے دور بھی نہیں رہی ہوں ۔۔

زمل کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا  وہ واقعی اپنی بیس سالہ زندگی میں زید سے کبھی اتنے طویل عرصے کے لیے دور نہیں رہی تھی وہ شروع سے ہی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے آرہے تھے ہزار گز کے بنگلے  میں سے هی دو حصے کئے گئے تھے جس میں ایک طرف طاہر اور دوسری طرف احمد کی فیملیز رہائش پزیرتھیں۔ ۔
عالم خان اور فاطمہ خان احمد والے پورشن میں رہتے تھے جبکہ فلک کو طاہر نے اپنے ۔ پاس رکھا ہوا تھا۔ ۔
یہ دونوں نام کو کی الگ رہتی تھیں مگر عالم خان کے سخت آرڈر تھے کہ کھانا سب ساتھ ہی کھائنگے۔ ۔۔

اب کیوں یہ اداس شکل بنا کر گھوم رہی ہوں اب تو میں تمهیں اپنے نام کرکے جا رہا ہوں ن؟؟؟۔ ۔

اور خبردار جو میرے پیچھے کسی کو آنکھ اٹھا کردیکھنا تو دور کی بات آنکھ مارنے کی بھی کوشش کی تو اسی وقت رخصتی کروا لوں گا ۔۔

زید اس کا موڈ بحال کرنے کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔

ٹھیک ہے اگر آپ نے کسی سے بھی عشق یا عاشقی کرنے کی کوشش کی تو آپ کے ساتھ ساتھ اسکی بھی ایسی کم تیسی کروں گی کہ دونوں پوری زندگی کے لئے لولے لنگڑے ہو جائیں گے ۔۔

زمل نے بھی حساب برابر کیا ۔۔
ارے یار تم میری دھڑکنوں میں بستی ہو۔۔
میری آنکھوں کی راحت ہو تم مجھے کبھی بھی اس کمٹمنٹ سے ناانصافی کرتے نہیں پاو گی ۔۔

زید کے لہجے میں اس کی باتوں کی سچائی اور زمل کے لئے سچی محبت وضح تھی۔ ۔

زمل اپنی نظریں جھکا گی ۔۔

چلو اب یہ اداسی ختم کرو ابھی بہت ٹائم ہے میرے جانے میں ،دو دن بعد ہمارا نکاح ہے اور ان دو ماہ میں ہم ان پلوں کو بہت خاص بنا دیں گے تاکہ تم اور میں تنہا رہ کے بھی تنہا نہ ہو ایک دوسرے کی یادوں کے حصار میں قید  رہے۔ ۔ ۔۔

زمل زید کو دیکھ کر محبت سے مسکرا دی ۔

💕💕💕

جاری ہے۔ ۔

0 comments:

Post a Comment