Friday, December 21, 2018

tu kitni masoom hai last episode written by aymen nauman

Tu itni  masoom he...💕by Aymen Nauman
Last episode..

جی نہیں جب تک حمدان بھائی آپ میری ڈیمانڈ پوری نہیں کریں گے تب تک آپ کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا ۔۔
حجاب محرون اور وائٹ کے امتزاج کا گھاگرا چولی پہنی بشر کے ساتھ دلہن کی طرح پور پور سجی کھڑی تھی ۔۔
بشر بار بار اس کے وجود میں گم ہو رہا تھا اور حجاب بار بار اس کی بیتابیوں پر برف انیڈیل رہی تھی ۔۔۔
پیار تمہاری ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے ۔۔
حمدان بشر کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
یار میں کچھ نہیں کرسکتا تم اور تمہاری عزیز جان بہن خو دہی منٹو ۔۔
بشیر نے صاف ہری جھنڈی دکھائی دی ۔۔
یہ میرا والٹ ہے ۔۔
یہ لو چیک بک جو بہی کرنا ہے کرلو بس میری جان چھوڑو ۔۔۔
ہاں حجاب بس اب چلتے ہیں ویسے ہی دو مہینے کے قریب تمہاری وجہ سے سولی پر لٹکا رہا ہے میرا چہیتا دوست ۔۔۔
سمیر کو ہمدان کی حالت پر رحم آنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔
ہاں بھائی بس اب تم لوگ میری جان بخشو ۔۔
حمدان سمیت کا فیور پاکر فوراً معصومیت طاری کرکے بولا خود پر ۔۔۔
میری بیچاری دلہن اب تک تو بے ہوش ہو چکی ہو گی میرا انتظار کرتے کرتے ۔۔۔
وہ بیچارگی سے مزید گویا ہوا ۔۔
ہاں بس ٹھیک ہے ڈن ۔۔۔
ہم خود لے لیں گے جو لینا ہو گا چیک بک تو ہمارے پاس ہے نا حجاب۔ ۔
اریج نے بھی ہمدان کی بیچارگی دیکھ کر حجاب کو ٹالنا چاہا ۔۔۔
نانا بالکل بھی نہیں۔۔
 مجھے یہ سب کچھ بالکل بھی نہیں چاہیے ۔۔۔
مجھے تو آپ دونوں کے ساتھ اریج اور سمیر بھائی کو بھی لے کر ہنی مون پر جانا ہے۔۔۔

ہاں ہاں اور نہیں تو کہا کیا ہمیں بھی تو اپنا ہنی مون منانا ہے جو ابھی تک نہیں منسکا  ۔۔
بشر دوبارہ چوڑا ہوا ۔۔
اور جھٹ سے حجاب کی ہاں میں ہاں ملا کر بولا ۔۔

ہمدان نے ان چاروں کا باب میں بڑے والی ہڈیوں کو دیکھا اور بے بسی سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
اوہو چلو گڈ ہو گیا یہ تو ۔۔۔
حجاب نے خوشی سے بچوں کی طرح تالیاں بجائی ۔۔
وہ چاروں جھٹ سے راستہ چھوڑ کر ہرٹ چکے تھے ۔۔۔۔

💕💕💕

حمدان کمرے میں جلدی سے گھسا تھا اور کمرے کا دروازہ اندر سے فوری لاک کیا تھا۔۔
 مبادا کہیں پھر سے وہ چاروں دھاوا نہ بولدیں اور واپس اندر کودہی نا پڑیں۔ ۔
اسرارحمد ان کو اندر آتا دیکھ کر سمٹ سی گئیں تھی۔۔
حمدان اس کو اس طرح سے خود میں سمٹتا دیکھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا ۔۔
اسراء اس کو خود سے قریب بیٹھتا دیکھکر گھبرا کر تھوڑا کھسک گئی تھی ۔۔۔

ہمدان نے اس کا ہاتھ تھام کر گویا اب مزید اس کو دور ہونے سے روکا تھا ۔۔۔

بس اب میں تمہیں اس کمرے سے تو کیا ان بیڈ سے بھی ٹس سے مس نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔
وہ اس کی ناک میں پہنی خوبصورت سی نتھنی کو آہستہ سے کھول کر ناک سے جدا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

اسراء اس کے لمس کی حدت محسوس کر کے گھبرا سی گئی  اور ہیاء سے بوجھل پلکیں اٹھا نا پائی تھی ۔۔۔

تم نہیں جانتیں میں نے تمہیں ا سروپ میں دیکھنے کے لئے کتنا صبر کیا ہے ۔۔
سب سے میں پہلے تمہیں شکریہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔
کس بات کا ؟؟
وہ آہستہ سے نہ سمجھیں سے بولی ۔۔
دیکھو ہم لوگ تمہارے ایکسپیکٹ کرنے کی خوشی بھی ٹھیک طرح سے منع نہیں سکے تھے ۔۔
اور میں چاہ کر بھی تمہارا شکریہ ادا نہیں کر پایا تھا ۔۔
تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی سے نوازا ہے ۔۔
تم نہیں جانتیں باپ بننے کی خبر میرے لئے کیا تھی ۔۔
کتنا پیارا احساس تھا جو میرے دل میں میری اولاد کو لے کر جاگا تھا ۔۔۔
وہ آج اپنا دل کھول کے آسرا کے سامنے رکھ چکا تھا ۔۔
میں تم سے کسی بھی قسم کی محبت کا دعوی نہیں کروں گا ۔۔
ہاں بس اتنا ضرور کہوں گا کہ وقت ضرور تمہیں میری محبت کا یقین دلائے گا ۔
۔وہ اسراء کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے بولا ۔۔
وقت نے مجھے یقین دلادیا ہے آپ کی محبت کا ۔۔
اسراء نے بڑی محبت سے پیار بھرے لہجے میں اقرار کیا تھا ۔۔۔
آج تم دلہن کے اس روپ میں سجی سنوری آخر کان میںری سیج سجائے بیٹھی ہو۔۔۔
وہ اسراء کو بیڈ پر کر اس پر جھک کے  سرگوشیان انداز میں بولا ۔۔
ہمدان ۔۔۔
اسراء نے بڑی مشکل سے کپکپاتے ہوئے لبوں سے یہ اپنے محبوب شوہر کانام ادا کیا تھا  ۔۔
جی جا نے ہمدان ۔۔۔
ہمدان میں بھی آپ کی محبت میں پور پور بھی چکی ہوں ۔۔۔
وہ خود پہ جھکے ہمدان کی شرٹ کو  کو اپنی مٹھیوں میں قید کرتے ہوئے حیا سے چور کپکپاتے لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔۔
اور بہت ہی پیارے انداز میں اپنے ریڈلپسٹک سے سجے ہونٹ  اس کے چوڑے سینے پر رکھے تھے  ۔۔۔

مگر میں تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔
ہمدان نے اس کے دوپٹے کی پنوں کوسر سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور آہستہ سے اس کی بندیا بالوں میں سے جدا کرنے لگا ۔۔
اسراء سہم کر ہمدان کو دیکھا تھا ۔۔
حمدان اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر جلدی سے بولا مبادہ وہ پھر سے رونا ہی نہ شروع کردیتی ۔۔۔
میں تم سے میری جان عشق کرتا ہوں ۔۔۔
یہ کہ کر ہمدان نے اس پر اپنی محبت کی بوند بوند پر سات کرکےوجود کو صندل کر دیا ۔۔۔

💕💕💕💕

حجاب کو اللہ تعالی نے نئی زندگی عطا کی تھی وہ اور اس کی پریگنسی دونوں خطرے سے باہر تھیں۔ ۔۔
 ڈاکٹر نے کچھ عرصے میں جسم پر آنے والے تمام زخموں کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہونے کا کہا تھا ۔۔۔
ان دو ماہ میں بشرنے حجاب کو گویا اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔
وہ بشر اور ماما بابا سمیت اسراء،  سمیر ،اریج اور ہمدان سب کی محبت اور توجہ پا کر جلد ریکور کر رہی تھی ۔۔۔

💕💕💕💕

آریج نے اپنے باپ سے تمام تر تعلقات ختم کر لئے تھے۔۔
 سمیر کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ اپنے باپ سے ہر قسم کا تعلق ختم کر بیٹھی تھی ۔۔۔
حجاب کے گھرانے کے بعد سے وہ ابھی تک اسی کے پاس تھی کسی سائے کی طرح اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی ۔۔۔
آرزو کو اس نے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا بشر کے گھرمیں۔۔
 حجاب اور بشر سمیت گھر کےباقی لوگ بھی آرزو سے اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے تھے ۔۔
آرزو بھی بہت جلدی سب کی محبتیں پا کر سب سے مانوس ہو گئی تھی ۔۔
پنجاب کا دل اپنی بھتیجی کی ننھی ننھی کلکاریوں سے بہت خوش ہوتا تھا ۔۔۔
اس حادثے کو اپنی میموری میں سے بالکل بلاک اور ڈیلیٹ کر چکی تھی ۔۔۔
ایک بھیانک اور درد ناک خواب سمجھ کر ۔۔۔

💕💕💕

اریج مو آج دو مہینے بعد ہمدان اور اسرار کی شادی کے دوسرے سمیر لینے آیا تھا ۔۔
ویسے تو وہ روز ہی شام میں آفس سے فارغ ہوکر سیدھا وہی آرزوکے پاس آجاتا تھا ۔۔
مگر کل بارات کے فنکشن میں حجاب نے سمیر کا اترا اترا سہ چہرہ دیکھ کر زبردستی  اریج کو اس کے ساتھ جانے کے لئے کہا تھا ۔۔
حجاب میری بات سمجھ نہے کوشش کرو۔۔۔
 میرا ابھی تمہیں چھوڑ کر جانے کا دل نہیں ہے تم ٹھیک ہو جاؤ میں پھر آرام سے چلی جاؤں گی ۔۔۔
میں اب بہت بہتر ہو بلکہ یہ سمجھو کہ اب میں بالکل ٹھیک ہو چکی ہوں ۔۔۔
بس اب تم اپنا شوہر بچی اور گھر سنبھالو ۔۔
حجاب نے تھوڑا رعب ڈالتے ہوئے کہا تھا ۔۔
ارے بھئی رہی حجاب کا خیال رکھنے کی بات تو سالی صاحبہ ہم ہے نہ آپ کی ننھی منی دوست کا خیال رکھنے کے لیے ۔۔۔
وہ حجاب کے پاس اریج کی وجہ سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔
بس دیکھ لیا میرے میاں صاحب نے ابھی صاف کہہ دیا ہے کہ میں ہوں آپ کی اب ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
حجاب نے بشر کی ٹانگ کھینچنے کو بولی ۔۔۔

نہیں نہیں اریج میرا یہ مطلب تو بالکل بھی نہیں تھا بشر سٹپٹاکر کہنے لگا۔۔۔
حجاب پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔
اریج قریب ہوکر ایجاب کے ہاتھ پکڑ کر بولی تھی ۔۔
میری وجہ سے تمہیں اس قدر تکلیف اٹھانی پڑی ہے ۔۔
وہحجاب کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی  ۔۔
بشر خاموشی سے ان دونوں کو تنہائی بخشنے کے خیال سے باہر نکل گیا تھا کمرے سے ۔۔۔
کریں اسطرح کیوں رو رہی ہو پاگل لڑکی ؟؟
وہ عریج کی کمر سہلاتے ہوئے بولی ۔۔۔
حجاب تمہیں یا تمہاری بچے کو اگر کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

نہ میں تمہارے گھر آتی اور نہ ہی یہ سب کچھ ہوتا۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف ۔۔
حجاب نےروتی ہوئی اریج کی تھوڑی اپنے ہاتھ سے اونچی کی اور پھر خود بھی آنکھوں میں آئی نمیں کو واپس دھکیل کر اریج سے گویا ہوئی ۔۔

میرے ساتھ جو بھی  ہوا وہ اسی طرح کاتب تقدیر میں لکھا تھا اس میں تمہارا یا میرا کوئی دخل نہیں تھا ۔۔
تمہاری جگہ مجھے اس تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور میرے بچانے کے لئے بشر کو بھیجا گیا ۔۔
اور یہ میرے نزدیک دیکھا جائے تو بشر کی محبت کا امتحان بھی تھا ۔۔
اور وہ واقعی اپنی محبت کے اس کٹھن امتحان میں سرخرو ہوئے ہیں ۔۔
ورنہ ایک اغوا شدہ لڑکی کو واپس اپنی عزت بنانا بہت بڑے بڑے ظرف والے بھی نہیں کرسکتے ۔۔
اور تم خود کو الزام ٹھہرانا بند کرو تمہیں اللہ نے میرے معصوم بھائی کی دلہن اور میری بھتیجی کی ماما بنانے کے لئے چنا تھا۔ ۔۔
💕💕💕💕

اریج سمیر کے ساتھ گھر آ چکی تھی ۔۔
پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔
آرزو کو زبردستی نہ جانے کیوں حجاب نے رکھ لیا تھا ۔۔۔
پورے راستے وہ بس آرزو کے متعلق ہی سوچتی رہی تھی ۔۔
گھر آکر وہ اپنے اور آرزو کے مشترکہ کمرے میں جانے کو تھی جب سمیر اس کا بازو کھینچ کر اسکو اپنی طرف گھمایا تھا ۔۔
کہاں جا رہی ہو ؟؟
کمرے میں ۔۔۔
وہ گھڑی کی طرف ٹائم دیکھ کر بولی تھی جو رات کے ساڑھے نو بجا رہی تھی ۔
ان کو کھانا کھاتے اور سب سے الوداع لیتے لیتے آنے میں دیر ہو گئی تھی ۔۔
تمہارا کمرہ کہاں ہے ؟؟؟
سمیر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
وہ سامنے ۔۔
اریج بوکھلاہٹ میں یہ یہ بالکل ہی بھول گئی تھی کہ اس کا روم اب وہ نہیں بلکہ سمیر کا بیڈر وم ہی ہے ۔۔
کیا واقعی ؟؟؟
سمیر اس کو خود سے قریب کر کے بولا ۔۔
جججج۔ ۔۔ججج۔ جی۔ ۔۔۔
وہ سمیر کی قربت اور اس کی ساہرانہ  پرسنیلیٹی سے خائف سی ہو کر گویا ہوئی۔۔
شادی کے بعد ویسے بیوی کا کمرہ کہاں ہوتا ہے ؟؟
میرا مطلب ہے کہ کس کے ساتھ ہوتا ہے ؟

وہ اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے اس کو سینے سے لگا کر پوچھ رہا تھا ۔۔
کک۔ ۔ککک۔ کیا مطلب ؟؟
وہ میں کھڑے تلفظ کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بول پائی تھی ۔۔
ہاں یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ۔
چلو اچھا شاعر تمہیں ایسے نہیں سمجھ آرہا ہوگا ۔۔
میں تمہارے لئے آسان لفظوں میں پوچھتا ہوں تم سے ۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔
اریج نے اس کی باتیں کرتی آنکھوں سے گھبراکر پلکیں جھکا لی تھیں۔  ۔۔

یونہ چلو یہ بتاؤ شادی کی پہلی رات لڑکی کس کی سے سجاتی ہے ؟؟
اریج کو اس قسم کی بولڈ گفتگو کی امید نہیں تھی وہ کانوں کی لو تک سرخ پڑ گئی تھی ۔۔
بتاؤ نہ  ؟؟؟
؟؟؟
یہ میں بتاؤ ؟؟
وہ اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بولا ۔۔۔
شوہر کی ۔۔
وہ جلدی سے بولی اس  خیال کے تحت کے شاید اب سمیر اس کو چھوڑ دے گا ۔۔
ماشاءاللہ جب سب کچھ جانتی ہو تو پھر ادھر ادھر کیوں جا رہی تھیں؟ ؟
وہ ممممممم۔ ۔۔ میں بھول گئی تھی ۔۔
اب میں جاؤ ؟؟
وہ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر محضوض ہوا۔۔
اس نے پہلی دفعہ اتنی گھبرائی ہوئی لڑکی دیکھی تھی جو اس کے لمس سے ہی سرخ پڑ گئی تھی۔۔
وہ فرح کو  بھی دیکھ چکا تو  وہ انتہائی درجے کی بورڈ قسم کی عورت تھی۔۔
وہ اس کے پہلی دفعہ قریب آنے پر شرما نہ تو دور کی بات گھبرائی تک نہیں تھی ۔۔
سمیر نے اس کی گردن پہ اپنے دہکھتے ہوئے لب رکھ کر بوسہ دیا اور پھر  اس کو آہستہ سے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔
جاؤ تم ہمارے بیڈروم میں جاؤں۔۔
 میرا انتظار کرو میں تھوڑی دیر میں آیا ایک کام سے جارہا ہوں ۔۔
وہ اپنی دھڑکنوں کے شور سے گھبرا کر سمیر کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے سکتی تھی ۔۔

اور ہاں میرا انتظار کرنا سونا نہیں ۔۔

وہ جاتے ہوئے کچھ یاد آنے پر واپس پلٹا اور اریج کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تھا ۔۔

💕💕💕💕
اریج اپنا سہما ہوا وجود لے کر بھاری بھاری قدموں سے اوپر کمرے میں آئی تھی ۔۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی پہلی نظر ان شاپنگ بیگز پر پڑی تھی ۔۔
وہ شاپنگ بیگز ابھی تک وہیں صوفے پر رکھے تھے جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی ۔۔
وہ شاپرز کی طرف بڑھی تھی۔۔
 وہ اس دن حجاب کی پریشانی میں اس کے لیے کی گئی سمجھ کی شاپنگ کھولنا تو دور کی بات ایک نظر دیکھ بھی نہیں پائی تھی۔۔
 وہ ایک ایک شا پر کھول کر اس میں سے ساری چیزیں نکال رہی تھی جب سمیت دروازے پر بغیر دستک دیے کمرے میں آیا تھا ۔۔
اریج اسکو  ایک دفعہ پھر سامنے دیکھ کر گھبرا سی گئی تھی۔۔
 سمیر نے اس کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی جس میں جیولری سینڈلز ہینڈ بیگ ڈیزائنر سوٹ اور انتہائی ضرورت کی ایشیاء سب ہی کچھ موجود تھا ۔۔
سب چیزیں پوری ہیں یا کوئی چیز کم ہے تو بتا دو ؟؟؟
وہ ہاتھ میں تھامے شاپر میں سے شیمپونکال رہی تھی جب  اس میں موجود انتہائی پرسنل یوز کی چیزیں دیکھ کر شرم سے پسینے میں شرابور ہو گئی تھی اس پر تضاد سمیر کا پوچھنا اور اس کی پرتپش نظریں ۔۔۔
کیا ہوا کچھ کمی ہے کیا ؟؟
اس کے چہرے پر اپنی نظریں فوکس کر کے بولا ۔۔
سمیر کو لگا کی شاید کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے اس لئے وہ خاموش ہے ۔۔
نہیں۔۔نہیں۔ ۔
 وہ بڑی مشکل سے یہ بول پائی تھی ۔۔
سمیر اس کے پاس اٹھ کر آیا اور اک شوپرمیں سے کچھ ڈھونڈنے کے بعد اس کو اپنی مطلوبہ چیز مل گئی تھی ۔۔
سمیر نے شاپر میں سے ایک ریڈ  کلر  کی نائیٹی نکال کر اریج کی طرف بڑھائی۔۔۔
یہ چینج کر کے آ جاؤ۔۔
وہ جذبات سے چور لہجے میں بولا ۔۔
وہ اس کی کہی بات اور نائیٹی کو دیکھ کر سٹپٹا سی گئی دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہو چکی تھی  ۔۔
وہ حیران تھی کہ سمیر اس کو واقعی ایک بیوی کا درجہ دینے کے لئے تیار ہے ۔۔
مممم۔ ممم۔ ۔میں کیسے یہ؟ ؟؟
کیسے کیا مطلب تمہاری لیے نہ آیا ہو تم ہی پہنوں گی ۔۔۔
وہ لہجے میں مصنوعی سختی سمو کر بولا ۔۔
سمیر کو اس کے چہرے پر بکھرے ہیآ کے رنگ بہت خوبصورت اور انوکھے لگ رہے تھے ۔۔
اریج چار و ناچار سمیر کے ہاتھ سے نائٹی لے کر واش روم کی طرف بڑھ چکی تھی ۔۔
سمیر اس کو جاتا دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور پھر کمرے میں موجود ہوم ٹھیٹر کی طرف بڑھ گیا ۔۔
پندرہ منٹ تک جب اریج واش روم سے باہر نہ نکلی تو سمیر دروازہ کے باہر جا کر زور سے بولا ۔۔۔
اگر تم ابھی اور اسی وقت واش روم سے باہر نہیں آئی تو میں ڈوپلیکیٹ کی سے دروازہ کھول دوں گا۔۔۔
میں جانتا ہوں تم باہر کیوں نہیں آ رہی ہو ۔۔
سمیر کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور ایک منٹ بعد اس نے دروازہ کھول دیا  ۔۔۔
سمیر کے سامنے اس انداز میں آنا اس کے لئے ایک نئی دنیا دریافت کرنے کے برابر تھا ۔۔
سمیر کی اس کو دیکھ کر ہنسی نکل گئی تھی ۔۔
وہ اپنا دوپٹہ نائیٹی کے اوپر خود پہ اچھی طرح پھیلا ئے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔
اس کے باوجود بھی اس کی شرم سے پلکیں نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔
اریج اسکو ہنستہ دیکھ کر مزید کنفیوز ہو گئی تھی۔۔
اور کچھ ماحول کا بھی اثر تھا جو اس کو بوکھلاہٹ کا شکار کر رہا تھا ۔۔۔
کمرے میں ہلکی سی لیمپ کی لائٹ روشن تھی اور ہوم تھیٹر پر لگا سونگ اس کے حواسوں کو مزید اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا  ۔۔
ابھی مجھ میں کہیں باقی تھوڑی سی ہے زندگی ۔۔
جگی دھڑکن نئی جانا زندہ ہوں میں تو ابھی۔۔۔
کچھ ایسی لگن اس لمحے میں ہے یہ لمحہ کہاں تھا میرا ۔۔
اب ہے سامنے اسے چھو لو زرا مر جاؤں یا جی لوں ذرا ۔۔
ماحول کی فسوں خیزی اور اس پر فضا میں سرائیت کرتاخوبصورت گیت  اریج اور سمیر دونوں کو اس ماحول میں بری طرح جکڑرہا تھا ۔۔۔
سمیر آگے بڑھا اور آہستہ سے اسکے کے او پر سےدوپٹہ ہٹا کے سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔
آریج شرما کے خود میں سمٹ سی گئی۔۔
سمیر اسکے حسین وجود کے نشیب و فراز میں کھو سا گیا ۔۔
آریج کا تنفس تیز ہونے لگا تو وہآہستہ آہستہ کانپ رہی تھی ۔۔۔
سمیر اس کو تھام کر بیڈ تک لایا اور اپنے سامنے بٹھا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر گویا ہوا ۔۔۔
اریج کیا تم دل سے میری ہمسفری قبول کر سکتی ہوں ؟؟؟
وہ خاموش رہی ۔۔
وہ معصوم تو اس دن ھی سمیر کو اپنا آپ سونپ چکی تھی جس دن سمیر اس کی ڈھال بن کر اس کو اپنے نکاح میں لیا تھا ۔۔
ہو سکتا ہے کہ تم مجھے دل سے قبول نہ کروں۔۔
 مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں آنے والے وقت میں میں تمھیں اتنی محبت دوں گا کہ تم میری محبت کا جواب مجھ سے  عشق کرکےدوں گی ۔۔۔
کیا تمہیں میری ہمراہی ایک عدد ریڈیمیٹ  بیٹی کے ساتھ قبول ہے ؟؟؟
وہ اپنا ہاتھ اریج کے سامنے پھیلا کر بولا ۔۔
اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ سمیر ےمضبوط ہاتھ میں تھما دیا ۔۔
سمیر نے اس کے خوبصورت محبت کے اظہار پر عریج کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے ڈائمنڈ کی خوبصورت رنگ اس کی نازک سی انگلی میں ڈال دی۔۔
آریج نے اس کے چوڑے سینے پر اپنا سر دکھدیا بہت خوبصورت انداز تھا خود سپردگی کا ۔۔
سمیر نے اس کو کسی کانچ کی گڑیا کی طرح خود میں سمیٹ لیا ۔۔۔
اور اس کے پورے وجود کے ایک ایک پور کو اپنی محبت سے شرابور کرتا چلا گیا ۔۔۔
💕💕💕💕
اگلے دن حجاب اور بشر کی انیورسری تھی اور ساتھ ہی ہمدان اور سمیر کا ولیمہ بھی تھا ۔۔۔
پہلے ہمدان آسرا کا ہاتھ تھام کر اس کو لے کر اسٹیج پر آیا ۔۔
اسر اء سی گرین کلر کے اسٹائلش فرشی غرارہ میں خوبصورتی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی تھی ۔۔
جبکہ ہمدان بلیک کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس انتہائی ڈیسنٹ لگ رہا تھا ۔۔
دونوں کی جوڑی بہت آفت ڈھا رہی تھی ہر ایک دیکھنے والے کی نظر میں ستائش تھی ۔۔۔
وہ دونوں اسٹیج پر بیٹھ چکے تھے جب حجاب بشر کے ساتھ ہمدان اور اسراءکے پاس آئی اور شرارت سے ہمدان کو دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔
اسراء اپنا بیگ لے کرآئی ہونا؟؟؟
 گاڑی میں ہے نہ تمہارا سامان ؟؟؟
کیوں ایسا کیوں ؟؟
ہمدان نے حیرانی سے حجاب اور بشر کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ کیا ہے جیٹ جی ہمارے ہاں رسم ہے کہ ولیمے والے دن دلہن دولہا کے ساتھ جانے کے بجائے پورے ایک ہفتے کے لئے پکھ پھیرے کے لیے میں کی جاتی ہے ۔۔
کیا ؟؟؟
حمدان کے ساتھ ساتھ بشر کے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا تھا ۔۔۔
بشر کو اپنی فکر لاحق ہو گئی تھی کہ کہی حجاب بھی سمیر کے ساتھ آج ان دونوں کی ویڈنگ اینیورسری کے دن روانہ نہ ہو جائے ۔۔۔
اسراء شرمائی شرم ایسی مسکرا رہی تھی ۔۔
جی ہاں یہ برسوں سے چلی آ رہی رسم ہے ۔۔۔
حجاب بڑی بوڑھیوں کی طرح مزید بولی ۔۔
اسی لئے آج ہم اپنی دلہنیا لے کر ہی جائیں گے ۔۔۔
بشر دیکھ یہ غلط بات ہے پہلےہی اس چڑیل کی وجہ سے میری شادی ڈلے ہوئی ہے بہت ۔۔
کے پہلے یہ محترمہ صحت یاب ہوجائے مکمل۔۔۔۔
 اور اب جب صبر کا پھل انجوائے کرنے کا موقع ملا ہے تو پھر سے یہ چڑیل بیچ میں آ گئی ہے ۔۔

حمدان کا دماغ بھنوٹ ہونے لگا ۔۔۔
حجاب بشراور آسرا کے بے ساختہ کہکے بلند ہوئے ۔۔۔
اور پھر پورے ہال میں اندھیرا چھا گیا ۔۔۔
جب اریج اور سمیر ماما بابا کے ساتھ چلتے ہوئے اسٹیج پر آ رہے تھے ۔۔
اسپاٹ لائٹ میں ان دونوں کی جوڑی جان سورج کی جوڑی لگ رہی تھی ۔۔۔
ننھی آرزو ساڑھے تین ماہ کی ہوچکی تھی اور بابا کی گود دے بڑے مزے سے اٹکھیلیاں کرتی ساتھ آرہی تھی دلہن دولہا کے۔ ۔
پھر وہ دونوں بابا ماما کے ساتھ اسٹیج پر آ کر بیٹھے تھے ۔۔
اریج نے ٹی پنک کلرکی نفیس سے کام والی میکسی نما ٹیل  گاؤن پہن رکھا تھا ۔۔
جب کہ سمیر نے ڈارک نیوی بلو کلر کا پینٹ کوٹ سے تن کیا ہوا تھا ۔۔
۔۔اریج کے چہرے کی آج جھپ ہی نرالی تھی اس کے چہرے پے سمیر کی بخشی ہوئی محبتوں کا روپ بھرپورانداز میں رج کے  چڑھا تھا ۔۔
سمیر اور عریج کو یہ سرپرائز دوپہر میں ملا تھا جب حجاب عریج کو پالر کے لئے لینے آئی تھی ۔۔
سمیر اور وہ دونوں تو ہمدان کے ولیمے کی تیاری کر رہے تھے جو رخصتی کے تیسرے دن گیپ سے کر ارپایا گیا تھا۔۔
اس کو اب سمجھ میں آئی تھی کہ اس تین دن کے گیپ کی وجہ  ۔۔
جب حجاب نے سمیرکے اوپر آکر بم پھوڑا تھا کہ آج ہماری اینیورسری اور ہمدان کی ولیمے کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کا بھی ریسیپشن ہے ۔۔۔
سمیر کی آنکھوں میں اپنی بہن کے لئے محبت اور اپنائیت کچھ اور بھی بڑھ گئی تھی ۔۔
کہ وہ اس کی خوشیوں کے لئے کتنے جتن کرتی آ رہی تھی ۔۔۔
سمیر نے آگے بڑھ کر اس کو اپنے سینے سے لگا یا۔ ۔ شفقت سے بھرپور ہاتھ حجاب کے سر پر پھیرکر کہا ۔۔۔۔
حجاب تم میری خاطر کیا کیا نہیں کرتے ۔۔۔
بس بھائی ابھی اموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
حجاب نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی  کو پہنچتے ہوئے کہا۔۔
 وہ اپنے بھائی کی محبت پا کر بہت مطمئن اور شاداں تھی ۔۔
میں اریج کو لے کر جا رہی ہوں رات میں ملتے ہیں۔۔۔ اور آپ کا ڈریس میں نے بوا کو دے دیا ہے آپ بھی ریڈی ہو کے پہنچ جائے گا ٹائم پہ ۔  ۔۔
💕💕💕

بشر ڈارک براون کرتے  شلوار میں کسی سلطنت کے شہنشاہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
 جبکہ حجاب بلیک اور سلور نفیس سے کام والی ساڑھی میں کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔
ان کی شادی کی سالگرہ دو مہینے پہلے تھی مگر حجاب کی وجہ سے آج کے دن سیلیبریٹ کی جارہیتھی۔۔۔
اور آج کا دن ہمدان کے بہت زور دینے پر رکھا گیا تھا۔۔۔۔
 کہ اس کا ولیمہ اس دن کیا جائے۔۔
 وہ چاہتا تھا کہ اس کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس کے دوست کی بھی خوشیاں دوبالا ہو جائے ۔۔

اور یہی وجہ تھی کہ آج ہمدان کے ولیمے کے ساتھ بشر اور حجاب کی انیورسری بھی سلیبریٹ کی جا رہی تھی تاکہ خوشیوں کے رنگ مزید خوبصورتی سے ابھریں۔۔
اور پھر ماما بابا کی خواہش پر سمیر اور آریج کا ولیمہ بھی اسی دن قرار پایا گیا تھا ۔
اریج سمیر اور بیچ میں ننھی آرزو اور  ان کے برابر میں اسراء اور ہمدان جب کہ دونوں سائیڈوں پر ہمدان اور بشر کے پیرنٹس برجمان تھے ۔۔
پیچھے حجاب اور بشر کسی بات پر لوگ جو کر رہے تھے جب کیمرہ مین نے کہا ۔۔۔
ریڈی۔ ۔۔۔
سب نے ایک دم کیمرے کی طرف دیکھا ۔۔
کیمرے کی آنکھ نے جھٹ سب مکمل اور ہنستے مسکراتے چہروں کو خود میں قید کر لیا ۔۔۔۔
اور ایک مکمل تصویر میں یہ پورا گھرانہ بڑی خوبصورتی سے اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔

💕💕💕

حجاب کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب بشر جلدی سےبھاگتا  ہوا اس کی طرف آیا اور تیزی سے اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھیں بند کردیں۔ ۔
 اف
آًفف۔۔۔۔۔ بشرکیاہے میں بہت تھک گئی ہوں اور آپ کو ابھی بھی مستیاں سو ج رہی ہیں ۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی ۔۔
اف میں نے تو ابھی کوئی مستی کی بھی نہیں ہے اور تم ہو کہ ابھی سے تھک گئی ہو شاباش ۔۔۔
اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھےبشر اس کو کمرے میں لے گیا اور آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر اسکی آنکھوں پر سے اپنے ہاتھ ہٹا دیئے تھے ۔
حجاب نے اپنی آنکھیں کھولی ہی تھی کہ نظروں کے سامنے موجود منظر نے اس کو مبہوت سا کر دیا تھا ۔۔۔۔
پورا کمرہ گلاب اور موتیا کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔
وائٹ اور ریڈ کلر کے ہارڈ شیپ کے بلون پورے کمرے میں خوبصورتی سے بکھرے ہوئے تھے ۔۔
لائٹ کے بجائے صرف کمرے کو چھوٹی چھوٹی کینڈل سے روشن کیا گیا تھا ۔۔۔
اور سامنے چھوٹی سی ٹیبل پر کیک اور ان دونوں کی شادی کی تصویر فریم کی ہوئی رکھی تھی ۔۔۔
وہ بشر کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھی۔۔
بشر اس کے چہرے پر موجود مسرت کو دیکھ کر ایک دفعہ پھر سے جی اٹھا تھا۔ ۔
حجاب کی نظریں ٹیبل پر رکھے اس گفٹ اور کارڈ پر پڑھیں تھی۔۔
 جو اس نے اس حادثے کے دن اس مال سے خریدا تھا بشر کیلئے بڑی محبت سے۔۔۔
یہ ۔۔۔۔
وہ گفٹ  کو ہاتھ میں لے کر ڈبڈوبائی آنکھوں سے بشر کو دیکھ کر بولی ۔۔
وہ اس کو خود سے قریب کر کے کہنے لگا ۔۔
ہاں یہ میں نے بہت سنبھال کر رکھا تھا ۔۔
اس سے آگے وہ اس بات کو ختم کرتے ہوئے بولا ۔۔
یہ دیکھو یہ تمہارا پریزنٹ ہے ۔۔۔
اس نے جھک کر ایک باکس اٹھایا اور کھول کر اس میں سے جڑاؤ کنگن رتون سٹائل کے حجاب کے ہاتھوں میں پہنائے ۔۔
اور اسی مخملی کیس کے باکس میں سے ایک اور لفافہ نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ۔۔
یہ کھول کے دیکھو یہ کیا ہے ۔۔
اس میں کیا ہے ؟؟
وہ بولی ۔۔
ارے کھول کر تو دیکھو ۔۔
وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔
حجاب نے آہستہ سے آینولپ کھولا بشر محبت بھری نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آوہ بشرآپ بہت اچھے ہیں ۔
وہ لفافے میں موجود عمرے کے ٹکٹ دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔
جی بالکل آپ کوئی خواہش کریں اور ہم پوری نہ کریں ۔۔
وہ آہستہ سے اس کی ساڑی کا پلو کھینچتے ہوئے بولا ۔۔
بشرآپ بھی نہ میں بہت تھک گئی ہوں مجھے سونا ہے ۔۔
ہاں تو سو جانا ساڑھی پہن کر تو نہیں سوگی میں تمہاری مدد ہی تو کر رہا ہوں چینج کرنے میں ۔
وہ اس کی ساڑی کا پلو زمین پر گرا چکا تھا اور اب آہستہ آہستہ اس کے بلاؤز کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔۔
حجاب نے شرما کر چہرہ اپنے ہاتھوں میں جو چھپایا اور ایک ادا سے اس کے سینے پر مکا مار کر ہلکا سا دھکا دینے کی اپنی سی کوشش کی ۔۔۔
بشر نے اس کو اپنے بازووُ کے گھیرےمیں اٹھا کر خوشی سے گول گول گھومآیا ۔۔
پلیز بشر مجھے چکر آ رہے ہیں ۔۔
وہ منمنا کر بولی ۔۔
یار چکروں کو گولی مارو چلو بیڈ پر چلتے ہیں جلدی سے ۔۔
وہ حجاب کو لیے کودنے کے انداز میں بیڈ پر گرا تھا ۔۔
کہ اچانک دونوں کے بیڈ پر اس طرح گرنے سے بیڈ کا نیچے سے تختہ ٹوٹا تھا۔۔
 اور وہ دونوں زور دار چھنا کے کی آواز کیساتھ زمین بوس ہو چکے تھے ۔۔
حجاب اوربشر نے ایک دوسرے کو آفسردہ نظروں سے دیکھا اور دونوں اس صورتحال پر زور سے ہنس پڑے۔ ۔۔

💕💕💕💕

ختم شد 🍁

0 comments:

Post a Comment