Muhabbat barsadena tu...❤
By Aymen Nauman
Epi no# 1
ان آنکھوں کی مستی کے دیوانے ہزاروں ہیں ۔۔
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں ۔۔
باہر بڑے سے حال نما کمرے میں بھانت بھانت کے مرد اور رقص کرتی دوشیزائیں اپنے ہوش ربا حسن سے ہر مرد کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہوئی تھیں۔ ۔
وہاں موجود ہر مرد اپنی اپنی ہوس مٹا نے کو بیٹھا تھا ۔۔
پورے ہال کمرے میں خوبصورتی بکھری پڑی تھی۔۔۔۔۔
ناچ گانا گھنگروُں کی جھنکار پورے ماحول میں گونج رہی تھی ۔۔
ریشم اور ستارہ پاؤں میں گھنگرو پہنے گانے کے بولوں پر مدہوش ایک ایک تال پر بڑے ماہرانہ اندازمیں تھرک رہی تھیں ۔۔
اپنے جسم کی نمائش کرتی وہ دونوں وہاں بیٹھے تمام عیاش مردوں کی راتیں رنگین کرنے میں بڑی مہارت سے مصروف تھیں۔ ۔
بزار حسن کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔
چندا بائی آج تو ہمارے کوٹھے کے بھاگ کھل گئے ہیں۔۔۔
نیما پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بھاگتی ہوئی چندہ بائی کے پاس آئی تھی ۔۔
چندہ بائی جو بڑے مزے سے وہاں موجود مردوں سے جسم کی نمائش کے ذریعے ریشم اور ستارہ کے اوپر وارنے والے نذرانے بٹورنے میں مصروف تھی
۔۔
جب ریما نے آہستہ سے اس کے کان میں آ کے کہا ۔۔
چندا بائی نے منہ میں خوشبودار پان رکھتے ہوئے اپنے مخصوص شاطرانہ انداز میں ریما سے آنکھ
کا اشارہ کر کے بغیر کچھ کہے پوچھا ۔۔
آر ےملک کے مشہور بزنس ٹائیکون ہمارے اس غریب خانے پر پہلی دفعہ تشریف لائے ہیں ۔
۔
چندا بائی نے ایک ادا سے اپنا غرارہ سنبھالا تھا اور تالی بجاکر ریشم اور ستارہ کو اشارہ کیا تھا کہ اپنا کام جاری رکھو اور کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ۔۔
وہ دونوں اس کے تالی بجانے کے انداز میں دی جانے والی دھمکی سے اچھی طرح واقف تھیں۔ ۔
آداب صاحب آپ نے کیسے آج ہمارے غریب خانے کو رونق بخش دی ۔۔
چندا بائی اٹھلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔
اس کا پورا وجود دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا ۔۔
زیادہ سوال کرنے کی اجازت تو میں اپنے باپ کو بھی نہیں دیتا ۔۔
وہ چندا بائی کو دیکھتے ہوئے درشت لہجے میں بولا ۔۔۔
چندہ بھائی نے اوپر سے نیچے تک سامنے موجود تیس بتیس کے درمیانی عمر کے مرد کو دیکھا ۔۔
اس کی صحرا نہ پرسنالٹی اونچا لمبا قداور کسرتی جیسا مت وہاں موجود چندہ بائی کے ساتھ ساتھ ریمہ کو بھی چونکہ رہی تھی ۔۔۔
جی جی صاحب آپ کہیے کہیے حکم کیجئے ۔۔
ریما نے جھٹ سے اپنی خدمات پیش کیں ۔۔
یہ جو لڑکی ا بھی میرے سامنے روتے ہوئے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بھیج دو ۔۔
کون سی لڑکی ؟؟
ریشم یا پھر ستارہ ؟؟
چندا بائی کو لگا شاید وہ ریشم یا ستارہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بات کر رہا ہے کیونکہ اس وقت رقص وہ دونوں ہی کر رہی تھیں ۔۔
وہ آنکھوں میں عجیب سی چمک لئے پوچھ رہی تھی ۔۔
نہیں وہ لڑکی جو ابھی یہاں روتے ہوئے زبردستی رقص کر رہی تھی اور اس لڑکی کے ہاتھ میں پکڑے بیلٹ سے ساتھ ساتھ مار بھی کھا رہی تھی ۔۔
وہ ریما کی طرف اشارہ کرکے بولا کچھ دیر پہلے وہ زبردستی گلِ رعنا سے رقص کروا رہی تھی ۔۔
وہ بہت اچھی طرح چندا بائی کے چہرے پر ٹپکتی ہوئی ہوس اور لالچ کو پڑھ چکا تھا ۔۔
وہ خود ایک شاطر اور رنگین مزاج مرد تھا حسن اس کی کمزوری تھی ۔ ۔
💕💕💕💕
وہ فٹبال لے کر اپنے گھر کے ساتھ والے بنے خوبصورت سے بنگلے کا کھلا دروازہ دیکھ کر بہت حیران ہواتھا ۔۔
کیونکہ اس نے اپنی بارہ سالہ زندگی میں کبھی بھی خالہ کے گھر کا دروازہ کھلا نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا ۔۔
خالہ جانی ۔۔
خالہ جانی ۔۔
کہاں ہیں آپ دیکھیں میں آگیا ۔۔
وہ زور زور سے آوازیں دیتاپورے گھر میں عائزہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
وہ اس کو آوازیں دیتا ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اچانک اس کو بہت زور سے آئزہ کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی تھی ۔۔
وہ پریشان سا بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔
خالہ جانی کیا ہوا ؟؟؟
دل جانی کہاں ہیں آپ؟؟؟
مسلسل آئزہ کو آوازیں دے رہا تھا ۔۔
آئزہ کی چیخوں کی آوازیں مزید بلند ہوتی چلی گئی تھیں۔۔
وہ اوپر اس کے کمرے کے باہرکھڑا ہوا زور زور سے دروازہ پیٹنا تھا ۔۔
اس نے کی ہول سے اندر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔۔
سامنے نظر آتا بہت دھندلہ دھندلا سا منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ۔۔
وہ اس ننھے سے بچے کی معصومیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔
وہ روتا چلاتا اپنے گھر بھاگتا ہوا گیا اور اپنے ماں باپ کو کسی طرح کھینچ کھانچ کر لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں موجود جو بھی شخص تھا وہ کھڑکی کے راستے اپنی ہوس مٹا کر بھاگ چکا تھا ۔
بابا نے اس کو اپنے پاس رکنے کا کہا تھا۔۔۔
اور ماما کو اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
سمیرا جیسے ہی اندر گئی اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تھیں اندر کا منظر بہت ہی بھیانک تھا ۔۔
سمیرا نے تیزی سے اس کے وجود پر چادر ڈالی تھی اور پھر اپنے شوہر حسن کو اندر آنے کا کہا ۔۔
آئزہ بغیر کسی لباس کے مردہ حالت میں پڑھی تھی۔۔۔
وہ دونوں عائزہ کو لے کر کمرے سے جا چکے تھے۔۔۔۔
جب وہ روتے ہوئے اپنی خالہ کا دوپٹہ اٹھانے کے لئے بڑا تھا ۔۔
دوپٹے کو اٹھانے کے بعد زمین پر موجود سلور کلر کے بریسلیٹ نے اس چھوٹے سے لڑکے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی تھی ۔۔
💕💕💕💕
کتنی دیر ہوگئی ہیں نہ جانے کیوں ابھی تک بارات نہیں آئی ہے ۔۔
امی پریشان سی ڈریسنگ روم کے اندرآکر بولی تھیں۔۔۔
آجائے گی آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔
احمر صاحب نے اپنی بیگم کو دلاسہ دیا ۔۔
جب کہ اندر سے ان کا دل خود ڈر رہا تھا نہ جانے کیا تھا جو ابھی تک برات نہیں آئی تھی ۔؟؟؟
نہیں احمرٹائم تیزی سے گزر رہا ہے مجھے تو حال اٹھ رہے ہیں ۔۔
امی کے چہرے سے پریشانی حاویدہ تھی ۔۔
پریشان تو وہ بھی بہت زیادہ ہو رہی تھی آخر کیا بات تھی جو بات ابھی تک نہیں آئی تھی ؟؟؟۔
احمر صاحب نے کئی دفعہ فون ملایا تھا مگر ہر دفعہ فون بندجا رہا تھا ۔
۔
اور پھر وقت گزرتا گیا مہمان ایک ایک کرکے چلے گئے پورا ہال خالی ہوچکا تھا ۔۔
برات کو نہ آنا تھا نہ کوئی براتی آیا ۔
وہ بڑی سفاکی سے اس کے وجود کی کرچیاں بکھیر کر اور بڑے ہی آرام سے اس کے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال کر کہیں غائب ہو چکا تھا ۔۔۔
اس کو بدنامی کے خوفناک اندھیروں میں دھکیل کر وہ نہ جانے کہاں جا چکا تھا ۔۔۔
💕💕💕💕
میں اپنی اسٹڈیز مکمل کرنے کے لئے دو سال کے لئے مانچسٹر جانا چاہتا ہوں ۔۔
زید اپنے بڑوں کے سامنے بیٹھا کھانا کھاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
ہاں تو چلے جاؤ ۔۔
دادا نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد زید سے کہا ۔۔
او دادو یو آر گریٹ زید ان کے گلے کا ہار بن کر بولا ۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ اگر ایک دفعہ دادا مان گئے تو بابا اور مما بھی مان جائیں گے۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے سب ہی فریق خاموشی سے دادا اور پوتے کی گفتگو سن رہے تھے ۔۔
بھائی طاہر اور زارا میرے پوتے کو پڑھنے کے لئے جانے دو اور اب میں کوئی بحث نہیں سنوں گا ۔۔
دادا نے زید کے ماں باپ کو مخاطب کرتے ہوئے گویا اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔
لیکن زید میری بھی ایک شرط ہے ۔۔۔
دادا نے زید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
وہ کیا بس آپ حکم کریں دادا ۔۔۔
وآج اتنا خوش تھا کے دادا کی ہر شرط اس کو منظور تھی ۔۔
تمہیں اپنےچچا کی بیٹی سے نکاح کر کے جانا ہوگا اور رخصتی تمہاری اسٹڈیز کمپلیٹ ہونے کے بعد ہوگی۔ ۔
انہوں نے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا ۔۔
کیوں بہی احمد اور حنا تم اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہونہار پوتے کے ہاتھ میں دینے کیلئے تیار ہو؟؟؟۔
طاہر اور زارہ میرے خیال سے تمہیں بھی اپنے بیٹے کے اس رشتے پر اعتراض نہیں ہو گا ۔۔
یہ میری خواہش ہے ۔۔
اور میں تم سب سے یہی امید کرتا ہوں کہ تم میری یہ دیرینہ خواہش کو ڈالو گے نہیں ۔۔۔
💕💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
💖
Friday, December 21, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment