Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 59
بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ قدم بڑھاتا بیڈ کے قریب حیا کے پاس آیا۔۔۔ جو کہ بیڈ پر اس کے دلائے ہوئے برئیڈل ڈریس میں گھونگٹ نکلے بیٹھی تھی۔۔۔۔
معاویہ نے اس کے چہرے پر پڑا ہوا دوپٹہ اوپر سرکایا
تو حیا کا حسین چہرے اس کی نظر کے سامنے آیا
"اس سے زیادہ حسین کوئی اور سرپرائز ہو ہی نہیں سکتا"
معاویہ نے اسمائل دے کر اس کے ماتھے کی بندیا سیٹ کرتے ہوئے کہا
"میں نے سوچا تمہیں کوئی شکوہ نہ رہ جائے۔۔۔ دوسروں کو دولہا دلہن بنے دیکھ تم ساری زندگی اپنی ویڈنگ نائٹ یاد کر کے جلتے سڑتے رہو اور مجھے طعنے دیتے رہو جبکہ طعنے دینا اور شکوہ شکایت کا ڈپارٹمنٹ میرا ہے"
حیا نے اسکو ایک ادا سے باور کرایا۔۔۔ جسے معاویہ نے مسکرا کر اپنا سر خم کر کے تسلیم کیا
"اب"
معاویہ نے لو دیتی نگاہوں سے اس سے آگے کا پروگرام پوچھا
"میری منہ دکھائی"
حیا نے اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلا کر کہا تو معاویہ ہنس دیا اور اس کی ہتھیلی پر اپنے ہونٹ رکھے
"آج بھی کسی صورت بخشنا نہیں مجھے"
وہ اٹھ کر وارڈروب کی طرف گیا اور خوبصورت سا بریسلیٹ لے کر حیا کے پاس آیا۔۔۔ اور حیا کی نازک کلائی میں وہ بریسلیٹ پہنا دیا۔۔۔ چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ دبا کر حیا کو دیکھنے لگا
"اب"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا
"تمہاری ڈراز میں بریسلیٹ کے ساتھ ایک نیکلس بھی رکھا ہوا ہے۔۔۔ وہ کب دوگے مجھے"
حیا نے معصومیت سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اٹس ناٹ فیئر یعنی تم میرے پیچھے میرے وارڈروب کی تلاشی لیتی ہو"
معاویہ نے حیا کو گھور کر دیکھا
"تم بھول رہے ہو میں ایک پولیس والے کی بیوی ہو اس لیے تلاشی لینے کی شکایت تم نہیں کر سکتے اور ویسے بھی ہر عقلمند بیوی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی حرکتوں پر اور اس کے کرتوتوں پر نظر رکھے۔۔۔ ویسے تم وہ نیکلس میرے لئے ہی لائے ہو ناں"
آخر میں حیا نے شکی نظروں سے دیکھتے معاویہ سے سوال کیا۔۔۔ جس پر وہ زور سے قہقہ مار کر ہنسا
"نہیں وہ نیکلیس میں نیناں کی لئے لایا ہو،، خود آج سارا دن مجھے سرپرائز پر سرپرائز دیتی رہی ہوں اور میرے سرپرائز گفٹ تک فورا پہنچ گئی"
معاویہ نے مصنوعی گھوری سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
تو حیا مسکرا دی
"گھوگٹ اٹھادیا،، منہ دکھائی بھی دیدی"
معاویہ نے اس کے ہاتھ پر کس کرتے ہوئے دوبارہ سوال کیا "اب"
"اب تم میری تعریف کرو پورے دو گھنٹے لگا کر اتنی محنت سے تمھارے لیے سجی سنوری ہو"
حیا نے آخر میں اس کو جتانا نہیں بھولا
"اووو یہ میں کیسے بھول گیا یہ تو ہر شوہر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تعریف کرے"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"تم دنیا کی وہ لڑکی ہوں جس نے پہلی نظر میں معاویہ مراد کا دل چرانے کا جرم کیا ہے۔۔۔ معاویہ مراد کے حواسوں پر سوار ہو کر اسے اپنا اسیر کر لیا ہے حور بیشک تمہاری مما کا نام ہے مگر تم میرے لیے کسی حور سے کم نہیں۔۔۔آج مجھے یقین ہوگیا ہے میرے کسی عمل سے اللہ پاک مجھ سے بہت خوش ہے جو اس نے حور مجھے دنیا میں ہی عطا کردی۔۔۔ نئی زندگی کی شروعات سے پہلے میں اب تک کی اپنی تمام غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں جس کی وجہ سے تم مجھ سے ہرٹ ہوئی اور اب میں پوری کوشش کروں گا کہ تم کبھی بھی مجھے میری غلطیاں نہیں گنواؤ"
معاویہ حیا کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ اس سے بولے جارہا تھا اور حیا لبوں پر مسکراہٹ لائے اس کی باتیں سن رہی تھی
"گھونگھٹ اٹھانے کے بعد منہ دکھائی بھی دیدی اور تعریف بھی ہوگئی"
معاویہ نے حیا کا دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور اس کو لٹا کر اسکے اوپر جھکتے ہوئے پوچھا "اب"
"اب باری ہے میری چند معصوم سی شرطیں ماننے کی"
حیا نے مسکرا کر آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا
"شرطیں۔۔۔۔۔ بےبی ایسا کچھ نہیں کرتے اس دن"
معاویہ نے اسے کو سمجھاتے ہوئے کہا
"دوسرے لوگ نہیں کرتے مگر ہم کریں گے اور تم میری ساری شرط مانو گے"
حیا نے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے کہا
"اوکے"
معاویہ نے اس کی انگلی پر کس کرتے ہوئے کہا اور انگلیوں سے اس کی رینگز اتارنے لگا
"مہینے میں دو دفعہ مجھے شاپنگ کرایا کرو گے"
حیا نے سیریس ہو کر اپنی پہلی شرط بتائی
"مہینے میں دو دفعہ لیڈیز شاپنگ میری پولیس کی تنخواہ میں۔۔۔ چلو منظور ہے"
معاویہ نے اس کی شرط کو قبول کیا اور اس کے کانوں سے ایرنگ اتار "اب"
"ساجدہ کے ہاتھ کا کھانا مجھے زیادہ پسند نہیں ہے اور آنٹی سے کہتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے اس لئے سیٹرڈے اور سنڈے کو کھانا تم بنایا کرو گے"
حیا نے اپنی دوسری شرط بتائی۔۔۔ جس پر معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا
"باہر لوگ مجھ سے میرے غصے سے ڈرتے ہیں اور گھر میں تم مجھ سے کھانا بنوانے کی بات کر رہی ہوں"
معاویہ نے سیریز انداز اپناتے ہوئے کہا
"تمہیں شرط منظور ہے یا نہیں"
حیا نے بھی سیریس انداز اپناتے ہوئے پوچھا
"چلو کوئی نہ کوئی جگاڑ ڈھونڈ لیں گے منصور ہے"
معاویہ نے اس کے ماتھے پر سجی ہوئی بندیا اتارتے ہوئے بولا "اب"
"ہر پندرہ دن بعد میں دو دن کے لئے ماما بابا کے پاس روکنے جاؤں گی منظور ہے"
حیا نہ بولنے کے ساتھ یہ اپنی چوڑیوں والے ہاتھ آگے کیے
"بےبی یہ تو تم آئستہ آئستہ پھیل رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہونے والا بس صبح جانا اور شام میں واپسی"
معاویہ اس کے ہاتھوں کی چوڑیاں اترتے ہوئے بولا
"یعنی تم مجھے میرے مما بابا کے پاس روکنے نہیں دو گے"
حیا نہ ابرو اچکا کر بولا
"بےبی پھر میں گھر میں کیا کیا کروں گا۔۔۔چلو تمہارے ساتھ میں بھی رک جایا کروں گا ڈن ہو گیا یہ بھی"
معاویہ نے ہلکا سا اٹھا کر اس کے گلے سے نیکلس اتارتے ہوئے کہا۔۔۔ واپس اسے لٹا کر اس کے اوپر جھکا "اب"
"آج سے 10 سال بعد اگر میں موٹی ہو جاؤ تب بھی میری تعریف کیا کرو گے"
حیا کی بات سن کر وہ زور سے ہنسا
"تب صرف تعریف سے کام نہیں چلے گا بلکہ پورے پورے دیوان لکھو گا تمھارے وزن کے حساب سے"
معاویہ نے جھومر اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا "اب"
"ساری زندگی مجھے پیار کرنا پڑے گا بالکل اسی طرح"
حیا نے نظریں جھکا کر اس کی شرٹ پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ معاویہ نے مسکرا کر اپنے ہونٹ حیا کے ماتھے پر رکھے
"نہیں یہ شرط اب تم پر عائد ہوتی ہے کیوکہ میرے پیار میں اور شدتوں میں دن بدن اضافہ ہوگا اور وہ تمہیں برداشت کرنا پڑے گا بولو منظور ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا
"منظور ہے"
حیا نے نظریں جھکا کر آہستہ سے بولا
"گھونگھٹ بھی اٹھا دیا، منہ دکھائی بھی دے دی تعریف بھی ہوگئی اور شرطیں بھی مان لی۔۔۔۔ اب"
معاویہ نے اپنی انگلی حیا کی تھوڑی پر رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا
"اب"
حیا نے آہستہ سے بول کر مزید اپنا چہرہ نیچے کرلیا اور آنکھیں بند کرلی
"تمام ثبوتوں اور اقرار جرم کو مدنظر رکھتے ہوئے۔۔۔۔حیا مراد پر یہ جرم عائد ہوتا ہے کہ۔۔۔ اس نے اپنے شوہر معاویہ مراد کو اپنے عشق میں دیوانہ بنا دیا ہے۔۔۔ لہٰذا حیا مراد کا شوہر اس پر دفع 143 لگاتے ہوئے اسے ساری رات جگانے اور اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے کی سزا سناتا ہے"
معاویہ کے بڑے اسٹائل سے بولنے پر حیا ہے ایک دم مسکرا دی
*
صنم کی آنکھ کھلی تو گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی اس کا زہن ابھی بھی سن تھا۔۔۔ وہ رات کافی دیر تک جاگتی رہی اور رونے کے باعث اس کے سر ابھی بھی درد کر رہا تھا۔۔۔ ہادی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا صنم فریش ہو کر روم سے باہر آئی
"آو صنم اٹھ گئی سو کر"
صنم کو دیکھ کر فضا نے پوچھا
"جی آنٹی۔۔۔ ہادی اور انکل نظر نہیں آ رہے"
صنم نے چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا
"دونوں ہی آفس کے لئے نکل گئے تم بیٹھو تمہارے لئے ناشتے کا کہہ کر آتی ہوں"
فضا کچن کی طرف جانے لگی
"کیسی ہو فضا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ ہادی کی شادی کردی ہے تم نے"
ہال کے دروازے سے فضا کی دوست شہناز نمودار ہوئی جو کہ باہر ملک جانے کی وجہ سے شادی اٹینڈ نہیں کر سکی تھی
"ارے شہناز کیسی ہو تم۔۔۔ کب آئیں جرمنی سے آؤ تمہیں صنم سے ملواتی ہو"
فضا نے شہناز سے ملتے ہوئے خوش دلی سے کہا
"پہلے یہ بتاؤ حیا کہاں ہے آخر بنا ہی لیا اس کو بہو۔۔۔۔ ہادی تو بہت خوش ہوگا حیا سے شادی کر کے پسند جو کرتا تھا۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی مسز انصار نے جب ہادی کی شادی کا بتایا،،، شادی اٹینڈ نہیں کرسکی اس بات کا مجھے بڑا دکھ ہے"
شہناز اپنی دھن میں ہی بولے جا رہی تھی جبکہ فضا نے ایک نظر صنم کو دیکھا جو زرد پڑتی رنگت کے ساتھ اپنے پاس رکھی چیئر کو مضبوطی سے تھامے ہوئی تھی
"شہناز تم بیٹھو پلیز میں ابھی آتی ہوں"
فضا نے مسکرا کے کہا
"صنم تم یہاں آو پلیز"
شہناز کو بیٹھا کر فضا صنم کے پاس آئی۔۔۔صنم نے بہت بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا
"ایسا کچھ نہیں ہے صنم میں تمہیں سب بتاتی ہوں" فضا نے سے صنم کی کیفیت دیکھتے ہو اسے وضاحت دینی چاہیے
"انٹی آپ کی فرینڈ آپ کا ویٹ کر رہی ہیں پلیز آپ انہیں ٹائم دیں"
صنم فضاء سے کہتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئ۔۔۔ فضا تاسف سے سر ہلاتی ہوئی شہناز کے پاس آئی۔۔۔۔ اس نے سوچا شہناز کے جانے کے بعد، ہادی کے آنے سے پہلے وہ صنم کی غلط فہمی کو دور کردے گی۔۔۔ ابھی شاید صنم اکیلا رہنا چاہتی ہو۔ ۔۔ تھوڑی دیر شہناز کے پاس وہ بھی غائب دماغی میں بیٹھی باتیں کرتی رہی اس کا سارا دھیان صنم کی طرف تھا۔۔۔ شہناز کے جانے کے بعد وہ فورا صنم کے پاس بیڈ روم میں آئی تو صنم بیڈ روم میں موجود نہیں تھی۔۔۔ پورے گھر میں صنم کی تلاش کرنے کے بعد جب صنم فضا کو نہ ملی تو وہ گھبرا گئی باہر گیٹ پر چوکیدار سے معلوم ہوا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی ہے۔۔۔ فضا سر پکڑ کر بیٹھ گئی اس نے ہادی کو کال ملائی تو کال ریسیو نہیں کر رہا تھا پھر فضا نے صنم کا نمبر ٹرائی کیا مگر دوسری طرف اس کا نمبر پاورڈ of تھا
**
جاگنگ کرکے وہ اپنے بیڈ روم میں آیا تو حیا کو گہری نیند میں سوتے ہوئے پایا۔۔۔اس کے قریب آکر معاویہ نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ ہلکا سا کسمسائی معاویہ اس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے پیچھے ہوا۔۔۔ وہ چند گھنٹوں پہلے ہی سوئی تھی پوری رات اسے معاویہ نے اپنی محبت کی برسات میں بھی بھگوئے رکھا اور اپنی تمام تر شددتیں اس پر لٹا کر،، اسے اچھی طرح سمجھایا کہ وہ ان دو مہینوں میں اسے کتنا تڑپا چکی ہے۔۔۔۔۔ یونیفارم پہن کا وہ روم سے نکلا ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو وہاں ناعیمہ اور خضر موجود تھے
"حیا کہاں رہ گئی" ناعیمہ نے سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"وہ لیٹ اٹھے گی مام"
معاویہ نے جوس کا سپ لیتے ہوئے کہا
"طبیعت ٹھیک ہے اس کی"
خضر نے معاویہ سے پوچھا
"جی ڈیڈ طبیعت ٹھیک ہے"
معاویہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ پولیس اسٹیشن جانے کی غرض سے اپنی کار کی طرف بڑھا تو صنم کو دوسری گاڑی سے باہر نکلتے دیکھا معاویہ اس کے پاس آیا
"صنم سب خیریت ہے تم ٹھیک ہو" معاویہ نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا جو کہ اسے سب کچھ ٹھیک ہونے کی نشاندہی نہیں دے رہا تھا
"بھائی"
اس سے آگے صنم سے کچھ نہیں بولا گیا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آنسووں کا طوفان جو کہ کب سے تھاما ہوا تھا ایک دم معاویہ کو دیکھ کر امڈ آیا۔۔۔ معاویہ کے سینے پر سر رکھ کر وہ بری طرح رونے لگی
"گڑیا کیا ہوا یہاں دیکھو میری طرف مجھے بتاؤ"
معاویہ کے پوچھنے پر صنم کے رونے میں اور شدت آئی
"میں چھوڑوں گا نہیں اس ہادی کو" معاویہ نے غصہ میں کہا تو صنم بے ساختہ بول اٹھی
"بھائی پلیز آپ ہادی کو کچھ نہیں کہیں گے آپ کو میری قسم ہے"
صنم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے سنجیدگی سے صنم سے سوال کیا
"کچھ نہیں کیا انھوں نے اور نہ ہی مجھے کچھ کہا ہے میرا دل گھبرا رہا تھا تو اس لیے آگئی لیکن اگر آپ ہادی سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں ابھی واپس چلی جاؤ گی"
صنم نے نارمل ہوتے ہوئے معاویہ سے کہا
"اوکے چہرہ صاف کرو مام ڈیڈ کے پاس جاو میں شام میں آکر بات کرتا ہوں"
معاویہ نے اس کو رومال پکڑایا جس سے صنم چہرہ صاف کر کے اندر چلی گئی
**
حیا سو کر اٹھی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو دن کے 12 بج رہے تھے
"اف اتنی دیر سوتی رہ گئی"
انگڑائی لیتے اپنے ہاتھ میں موجود بریسلیٹ پر نظر پڑی تو بہت سارے خوبصورت رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے۔۔۔۔ شاور لینے کے بعد سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ نیچے ہال میں پہنچی تو سامنے صوفے پر صنم کو بیٹھے دیکھا
"ارے صنم تم کب آئی"
حیا مسکراتے ہوئے صنم سے ملنے کے لیے اس کی طرف بڑھی۔ ۔۔۔ مگر صنم کے چہرے کے سرد تاثرات نے اس کے قدم وہی روک لیے
"سب ٹھیک ہے میرا مطلب ہے تم ٹھیک ہو"
وہ حیا کو ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔ حیا کو کچھ نہیں سمجھ میں آیا تو اس کی خیریت معلوم کی
"کچھ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے آپ کے ہوتے ہوئے"
صنم نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔ حیا حیران ہو کر اس کو اپنے روم کی طرف جاتا ہوا دیکھتی رہی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 59
بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ قدم بڑھاتا بیڈ کے قریب حیا کے پاس آیا۔۔۔ جو کہ بیڈ پر اس کے دلائے ہوئے برئیڈل ڈریس میں گھونگٹ نکلے بیٹھی تھی۔۔۔۔
معاویہ نے اس کے چہرے پر پڑا ہوا دوپٹہ اوپر سرکایا
تو حیا کا حسین چہرے اس کی نظر کے سامنے آیا
"اس سے زیادہ حسین کوئی اور سرپرائز ہو ہی نہیں سکتا"
معاویہ نے اسمائل دے کر اس کے ماتھے کی بندیا سیٹ کرتے ہوئے کہا
"میں نے سوچا تمہیں کوئی شکوہ نہ رہ جائے۔۔۔ دوسروں کو دولہا دلہن بنے دیکھ تم ساری زندگی اپنی ویڈنگ نائٹ یاد کر کے جلتے سڑتے رہو اور مجھے طعنے دیتے رہو جبکہ طعنے دینا اور شکوہ شکایت کا ڈپارٹمنٹ میرا ہے"
حیا نے اسکو ایک ادا سے باور کرایا۔۔۔ جسے معاویہ نے مسکرا کر اپنا سر خم کر کے تسلیم کیا
"اب"
معاویہ نے لو دیتی نگاہوں سے اس سے آگے کا پروگرام پوچھا
"میری منہ دکھائی"
حیا نے اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلا کر کہا تو معاویہ ہنس دیا اور اس کی ہتھیلی پر اپنے ہونٹ رکھے
"آج بھی کسی صورت بخشنا نہیں مجھے"
وہ اٹھ کر وارڈروب کی طرف گیا اور خوبصورت سا بریسلیٹ لے کر حیا کے پاس آیا۔۔۔ اور حیا کی نازک کلائی میں وہ بریسلیٹ پہنا دیا۔۔۔ چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ دبا کر حیا کو دیکھنے لگا
"اب"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا
"تمہاری ڈراز میں بریسلیٹ کے ساتھ ایک نیکلس بھی رکھا ہوا ہے۔۔۔ وہ کب دوگے مجھے"
حیا نے معصومیت سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اٹس ناٹ فیئر یعنی تم میرے پیچھے میرے وارڈروب کی تلاشی لیتی ہو"
معاویہ نے حیا کو گھور کر دیکھا
"تم بھول رہے ہو میں ایک پولیس والے کی بیوی ہو اس لیے تلاشی لینے کی شکایت تم نہیں کر سکتے اور ویسے بھی ہر عقلمند بیوی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی حرکتوں پر اور اس کے کرتوتوں پر نظر رکھے۔۔۔ ویسے تم وہ نیکلس میرے لئے ہی لائے ہو ناں"
آخر میں حیا نے شکی نظروں سے دیکھتے معاویہ سے سوال کیا۔۔۔ جس پر وہ زور سے قہقہ مار کر ہنسا
"نہیں وہ نیکلیس میں نیناں کی لئے لایا ہو،، خود آج سارا دن مجھے سرپرائز پر سرپرائز دیتی رہی ہوں اور میرے سرپرائز گفٹ تک فورا پہنچ گئی"
معاویہ نے مصنوعی گھوری سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
تو حیا مسکرا دی
"گھوگٹ اٹھادیا،، منہ دکھائی بھی دیدی"
معاویہ نے اس کے ہاتھ پر کس کرتے ہوئے دوبارہ سوال کیا "اب"
"اب تم میری تعریف کرو پورے دو گھنٹے لگا کر اتنی محنت سے تمھارے لیے سجی سنوری ہو"
حیا نے آخر میں اس کو جتانا نہیں بھولا
"اووو یہ میں کیسے بھول گیا یہ تو ہر شوہر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تعریف کرے"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"تم دنیا کی وہ لڑکی ہوں جس نے پہلی نظر میں معاویہ مراد کا دل چرانے کا جرم کیا ہے۔۔۔ معاویہ مراد کے حواسوں پر سوار ہو کر اسے اپنا اسیر کر لیا ہے حور بیشک تمہاری مما کا نام ہے مگر تم میرے لیے کسی حور سے کم نہیں۔۔۔آج مجھے یقین ہوگیا ہے میرے کسی عمل سے اللہ پاک مجھ سے بہت خوش ہے جو اس نے حور مجھے دنیا میں ہی عطا کردی۔۔۔ نئی زندگی کی شروعات سے پہلے میں اب تک کی اپنی تمام غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں جس کی وجہ سے تم مجھ سے ہرٹ ہوئی اور اب میں پوری کوشش کروں گا کہ تم کبھی بھی مجھے میری غلطیاں نہیں گنواؤ"
معاویہ حیا کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ اس سے بولے جارہا تھا اور حیا لبوں پر مسکراہٹ لائے اس کی باتیں سن رہی تھی
"گھونگھٹ اٹھانے کے بعد منہ دکھائی بھی دیدی اور تعریف بھی ہوگئی"
معاویہ نے حیا کا دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور اس کو لٹا کر اسکے اوپر جھکتے ہوئے پوچھا "اب"
"اب باری ہے میری چند معصوم سی شرطیں ماننے کی"
حیا نے مسکرا کر آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا
"شرطیں۔۔۔۔۔ بےبی ایسا کچھ نہیں کرتے اس دن"
معاویہ نے اسے کو سمجھاتے ہوئے کہا
"دوسرے لوگ نہیں کرتے مگر ہم کریں گے اور تم میری ساری شرط مانو گے"
حیا نے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے کہا
"اوکے"
معاویہ نے اس کی انگلی پر کس کرتے ہوئے کہا اور انگلیوں سے اس کی رینگز اتارنے لگا
"مہینے میں دو دفعہ مجھے شاپنگ کرایا کرو گے"
حیا نے سیریس ہو کر اپنی پہلی شرط بتائی
"مہینے میں دو دفعہ لیڈیز شاپنگ میری پولیس کی تنخواہ میں۔۔۔ چلو منظور ہے"
معاویہ نے اس کی شرط کو قبول کیا اور اس کے کانوں سے ایرنگ اتار "اب"
"ساجدہ کے ہاتھ کا کھانا مجھے زیادہ پسند نہیں ہے اور آنٹی سے کہتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے اس لئے سیٹرڈے اور سنڈے کو کھانا تم بنایا کرو گے"
حیا نے اپنی دوسری شرط بتائی۔۔۔ جس پر معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا
"باہر لوگ مجھ سے میرے غصے سے ڈرتے ہیں اور گھر میں تم مجھ سے کھانا بنوانے کی بات کر رہی ہوں"
معاویہ نے سیریز انداز اپناتے ہوئے کہا
"تمہیں شرط منظور ہے یا نہیں"
حیا نے بھی سیریس انداز اپناتے ہوئے پوچھا
"چلو کوئی نہ کوئی جگاڑ ڈھونڈ لیں گے منصور ہے"
معاویہ نے اس کے ماتھے پر سجی ہوئی بندیا اتارتے ہوئے بولا "اب"
"ہر پندرہ دن بعد میں دو دن کے لئے ماما بابا کے پاس روکنے جاؤں گی منظور ہے"
حیا نہ بولنے کے ساتھ یہ اپنی چوڑیوں والے ہاتھ آگے کیے
"بےبی یہ تو تم آئستہ آئستہ پھیل رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہونے والا بس صبح جانا اور شام میں واپسی"
معاویہ اس کے ہاتھوں کی چوڑیاں اترتے ہوئے بولا
"یعنی تم مجھے میرے مما بابا کے پاس روکنے نہیں دو گے"
حیا نہ ابرو اچکا کر بولا
"بےبی پھر میں گھر میں کیا کیا کروں گا۔۔۔چلو تمہارے ساتھ میں بھی رک جایا کروں گا ڈن ہو گیا یہ بھی"
معاویہ نے ہلکا سا اٹھا کر اس کے گلے سے نیکلس اتارتے ہوئے کہا۔۔۔ واپس اسے لٹا کر اس کے اوپر جھکا "اب"
"آج سے 10 سال بعد اگر میں موٹی ہو جاؤ تب بھی میری تعریف کیا کرو گے"
حیا کی بات سن کر وہ زور سے ہنسا
"تب صرف تعریف سے کام نہیں چلے گا بلکہ پورے پورے دیوان لکھو گا تمھارے وزن کے حساب سے"
معاویہ نے جھومر اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا "اب"
"ساری زندگی مجھے پیار کرنا پڑے گا بالکل اسی طرح"
حیا نے نظریں جھکا کر اس کی شرٹ پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ معاویہ نے مسکرا کر اپنے ہونٹ حیا کے ماتھے پر رکھے
"نہیں یہ شرط اب تم پر عائد ہوتی ہے کیوکہ میرے پیار میں اور شدتوں میں دن بدن اضافہ ہوگا اور وہ تمہیں برداشت کرنا پڑے گا بولو منظور ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا
"منظور ہے"
حیا نے نظریں جھکا کر آہستہ سے بولا
"گھونگھٹ بھی اٹھا دیا، منہ دکھائی بھی دے دی تعریف بھی ہوگئی اور شرطیں بھی مان لی۔۔۔۔ اب"
معاویہ نے اپنی انگلی حیا کی تھوڑی پر رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا
"اب"
حیا نے آہستہ سے بول کر مزید اپنا چہرہ نیچے کرلیا اور آنکھیں بند کرلی
"تمام ثبوتوں اور اقرار جرم کو مدنظر رکھتے ہوئے۔۔۔۔حیا مراد پر یہ جرم عائد ہوتا ہے کہ۔۔۔ اس نے اپنے شوہر معاویہ مراد کو اپنے عشق میں دیوانہ بنا دیا ہے۔۔۔ لہٰذا حیا مراد کا شوہر اس پر دفع 143 لگاتے ہوئے اسے ساری رات جگانے اور اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے کی سزا سناتا ہے"
معاویہ کے بڑے اسٹائل سے بولنے پر حیا ہے ایک دم مسکرا دی
*
صنم کی آنکھ کھلی تو گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی اس کا زہن ابھی بھی سن تھا۔۔۔ وہ رات کافی دیر تک جاگتی رہی اور رونے کے باعث اس کے سر ابھی بھی درد کر رہا تھا۔۔۔ ہادی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا صنم فریش ہو کر روم سے باہر آئی
"آو صنم اٹھ گئی سو کر"
صنم کو دیکھ کر فضا نے پوچھا
"جی آنٹی۔۔۔ ہادی اور انکل نظر نہیں آ رہے"
صنم نے چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا
"دونوں ہی آفس کے لئے نکل گئے تم بیٹھو تمہارے لئے ناشتے کا کہہ کر آتی ہوں"
فضا کچن کی طرف جانے لگی
"کیسی ہو فضا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ ہادی کی شادی کردی ہے تم نے"
ہال کے دروازے سے فضا کی دوست شہناز نمودار ہوئی جو کہ باہر ملک جانے کی وجہ سے شادی اٹینڈ نہیں کر سکی تھی
"ارے شہناز کیسی ہو تم۔۔۔ کب آئیں جرمنی سے آؤ تمہیں صنم سے ملواتی ہو"
فضا نے شہناز سے ملتے ہوئے خوش دلی سے کہا
"پہلے یہ بتاؤ حیا کہاں ہے آخر بنا ہی لیا اس کو بہو۔۔۔۔ ہادی تو بہت خوش ہوگا حیا سے شادی کر کے پسند جو کرتا تھا۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی مسز انصار نے جب ہادی کی شادی کا بتایا،،، شادی اٹینڈ نہیں کرسکی اس بات کا مجھے بڑا دکھ ہے"
شہناز اپنی دھن میں ہی بولے جا رہی تھی جبکہ فضا نے ایک نظر صنم کو دیکھا جو زرد پڑتی رنگت کے ساتھ اپنے پاس رکھی چیئر کو مضبوطی سے تھامے ہوئی تھی
"شہناز تم بیٹھو پلیز میں ابھی آتی ہوں"
فضا نے مسکرا کے کہا
"صنم تم یہاں آو پلیز"
شہناز کو بیٹھا کر فضا صنم کے پاس آئی۔۔۔صنم نے بہت بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا
"ایسا کچھ نہیں ہے صنم میں تمہیں سب بتاتی ہوں" فضا نے سے صنم کی کیفیت دیکھتے ہو اسے وضاحت دینی چاہیے
"انٹی آپ کی فرینڈ آپ کا ویٹ کر رہی ہیں پلیز آپ انہیں ٹائم دیں"
صنم فضاء سے کہتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئ۔۔۔ فضا تاسف سے سر ہلاتی ہوئی شہناز کے پاس آئی۔۔۔۔ اس نے سوچا شہناز کے جانے کے بعد، ہادی کے آنے سے پہلے وہ صنم کی غلط فہمی کو دور کردے گی۔۔۔ ابھی شاید صنم اکیلا رہنا چاہتی ہو۔ ۔۔ تھوڑی دیر شہناز کے پاس وہ بھی غائب دماغی میں بیٹھی باتیں کرتی رہی اس کا سارا دھیان صنم کی طرف تھا۔۔۔ شہناز کے جانے کے بعد وہ فورا صنم کے پاس بیڈ روم میں آئی تو صنم بیڈ روم میں موجود نہیں تھی۔۔۔ پورے گھر میں صنم کی تلاش کرنے کے بعد جب صنم فضا کو نہ ملی تو وہ گھبرا گئی باہر گیٹ پر چوکیدار سے معلوم ہوا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی ہے۔۔۔ فضا سر پکڑ کر بیٹھ گئی اس نے ہادی کو کال ملائی تو کال ریسیو نہیں کر رہا تھا پھر فضا نے صنم کا نمبر ٹرائی کیا مگر دوسری طرف اس کا نمبر پاورڈ of تھا
**
جاگنگ کرکے وہ اپنے بیڈ روم میں آیا تو حیا کو گہری نیند میں سوتے ہوئے پایا۔۔۔اس کے قریب آکر معاویہ نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ ہلکا سا کسمسائی معاویہ اس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے پیچھے ہوا۔۔۔ وہ چند گھنٹوں پہلے ہی سوئی تھی پوری رات اسے معاویہ نے اپنی محبت کی برسات میں بھی بھگوئے رکھا اور اپنی تمام تر شددتیں اس پر لٹا کر،، اسے اچھی طرح سمجھایا کہ وہ ان دو مہینوں میں اسے کتنا تڑپا چکی ہے۔۔۔۔۔ یونیفارم پہن کا وہ روم سے نکلا ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو وہاں ناعیمہ اور خضر موجود تھے
"حیا کہاں رہ گئی" ناعیمہ نے سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"وہ لیٹ اٹھے گی مام"
معاویہ نے جوس کا سپ لیتے ہوئے کہا
"طبیعت ٹھیک ہے اس کی"
خضر نے معاویہ سے پوچھا
"جی ڈیڈ طبیعت ٹھیک ہے"
معاویہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ پولیس اسٹیشن جانے کی غرض سے اپنی کار کی طرف بڑھا تو صنم کو دوسری گاڑی سے باہر نکلتے دیکھا معاویہ اس کے پاس آیا
"صنم سب خیریت ہے تم ٹھیک ہو" معاویہ نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا جو کہ اسے سب کچھ ٹھیک ہونے کی نشاندہی نہیں دے رہا تھا
"بھائی"
اس سے آگے صنم سے کچھ نہیں بولا گیا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آنسووں کا طوفان جو کہ کب سے تھاما ہوا تھا ایک دم معاویہ کو دیکھ کر امڈ آیا۔۔۔ معاویہ کے سینے پر سر رکھ کر وہ بری طرح رونے لگی
"گڑیا کیا ہوا یہاں دیکھو میری طرف مجھے بتاؤ"
معاویہ کے پوچھنے پر صنم کے رونے میں اور شدت آئی
"میں چھوڑوں گا نہیں اس ہادی کو" معاویہ نے غصہ میں کہا تو صنم بے ساختہ بول اٹھی
"بھائی پلیز آپ ہادی کو کچھ نہیں کہیں گے آپ کو میری قسم ہے"
صنم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے سنجیدگی سے صنم سے سوال کیا
"کچھ نہیں کیا انھوں نے اور نہ ہی مجھے کچھ کہا ہے میرا دل گھبرا رہا تھا تو اس لیے آگئی لیکن اگر آپ ہادی سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں ابھی واپس چلی جاؤ گی"
صنم نے نارمل ہوتے ہوئے معاویہ سے کہا
"اوکے چہرہ صاف کرو مام ڈیڈ کے پاس جاو میں شام میں آکر بات کرتا ہوں"
معاویہ نے اس کو رومال پکڑایا جس سے صنم چہرہ صاف کر کے اندر چلی گئی
**
حیا سو کر اٹھی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو دن کے 12 بج رہے تھے
"اف اتنی دیر سوتی رہ گئی"
انگڑائی لیتے اپنے ہاتھ میں موجود بریسلیٹ پر نظر پڑی تو بہت سارے خوبصورت رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے۔۔۔۔ شاور لینے کے بعد سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ نیچے ہال میں پہنچی تو سامنے صوفے پر صنم کو بیٹھے دیکھا
"ارے صنم تم کب آئی"
حیا مسکراتے ہوئے صنم سے ملنے کے لیے اس کی طرف بڑھی۔ ۔۔۔ مگر صنم کے چہرے کے سرد تاثرات نے اس کے قدم وہی روک لیے
"سب ٹھیک ہے میرا مطلب ہے تم ٹھیک ہو"
وہ حیا کو ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔ حیا کو کچھ نہیں سمجھ میں آیا تو اس کی خیریت معلوم کی
"کچھ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے آپ کے ہوتے ہوئے"
صنم نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔ حیا حیران ہو کر اس کو اپنے روم کی طرف جاتا ہوا دیکھتی رہی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment