Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 58

Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 58


شام کے وقت ہادی اور صنم زین کی طرف حیا سے ملنے آئے تو وہاں پر معاویہ کی موجودگی سے ہادی کا موڈ اف ہوگیا معاویہ نے بھی اسے برداشت کرنا ہی تھا
سب لوگ ڈرائنگ روم میں موجود تھے

"اور بھئی حیا کب آئی تم میکے۔۔ شادی کے بعد تو لگتا ہے آنٹی انکل کو بھول ہی گئی ہو یا پھر آنے کی اجازت نہیں ملتی"
ہادی نے حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور آخری جملہ بولتے ہوئے معاویہ کو دیکھا

"اتنے گڈس تو خود مرد میں ہونے چاہیے کے وہ پیار اور توجہ سے بیوی کو اپنا پابند کرلے۔۔  اسے خود میکے کی یاد نہ آئے خیر اب تم صنم کو بھی ہمارے پاس آنے کی اجازت دے دو شادی کے دوسرے دن ہی تم نے صاف منع کردیا تھا۔۔۔۔ ویسے بھی ہم نے صنم کو وداع کیا ہے خود سے جدا نہیں کیا"
حیا کے بولنے سے پہلے معاویہ نے ہادی کو اس کی بات کا جواب دیا
ڈرائنگ روم میں ایک دم خاموشی چھا گئی جسے صنم کی آواز میں توڑا

"بھائی آپ کب آئے" صنم نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"معاویہ تو کل رات میں آئے تھے اور پھر مما بابا کے اصرار پر یہاں پے رک گئے"
حیا نے مسکرا کر صنم کو جواب دیا تو صنم بھی مسکرا دی

"ویسے سسرال میں داماد کا رکنا کچھ عجیب سا نہیں لگتا مطلب"
ہادی کچھ اور بولتا زین بول اٹھا

"معاویہ داماد نہیں ہے بیٹا ہے ہمارا اور یہ گھر نہیں سسرال ہے اس کا"
زین نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا ایک دفعہ پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی معاویہ کا دل چاہا سامنے بیٹھے شخص کو خوب پیٹے مگر اپنی بہن کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان بھی بند کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ ۔۔۔حیا اٹھ کر کچن میں گئی تو معاویہ کی نظر صنم کے ہاتھ پر پڑی

"صنم ہاتھ کو کیا ہوا ہے تمہارے"
معاویہ نے صنم کا ہاتھ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا

"کل ناشتے میں انڈہ فرائی کرتے ہوئے ہاتھ جل گیا تھا۔۔ مگر زیادہ نہیں جلا اب تو ٹھیک ہوگیا"
صنم نے معاویہ کو بتانے کے ساتھ مطمئن بھی کرنا چاہا

"لگتا ہے تمہارے ہاں ایک دن کی دلہن سے کام کرنے کا رواج ہے۔۔۔ یہ بات داماد کے سسرال رکنے سے زیادہ عجیب ہے ویسے"
معاویہ نے ہادی کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں کہا

"اس میں کچھ عجیب نہیں ہے۔۔۔ ویسے صنم میرے لئے اپنی خوشی سے میری پسند کا ناشتہ بنا رہی تھی تو اس کا ہاتھ جل گیا۔۔۔ ویسے وہ مرد بھی بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی بیویاں ان کو ویلیو دیں،  اپنے ہاتھ سے کچھ بنائے ورنہ بہت سے مردوں کو تو ان کی بیویاں منہ تک نہیں لگاتی"
اب ہادی نے معاویہ کو جتانے والے انداز میں کہا جس پر معاویہ ضبط کرکے رہ گیا،، زین اور حور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔ صنم مسلسل اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔۔ آج بہت پچھتا رہی تھی ہادی کے ساتھ یہاں آنے پر

"یہ لیجئے حاضرین اور ناظرین گرما گرم گاجر کا حلوہ نوش فرمائیں"
حیا کی چہکتی ہوئی آواز نے ایک بار پھر کمرے کی خاموشی کو ختم کیا۔۔۔۔ وہ ٹرالی میں گاجر کے حلوے کے ساتھ مختلف قسم کے لوازمات رکھ کر ڈرائنگ روم کے اندر داخل ہوئی

"بیٹا نسیمہ کو لانے دیتی تمہیں کیا ضرورت تھی"
زین نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیوں لانے دیتی نسیمہ کو محنت سے میں نے بنایا ہے گاجر کا حلوہ، تو سب کو سرو بھی میں کرو گی لیکن جس کے لئے اتنی محنت کی ہے پہلے وہ ٹیسٹ کر کے بتائے گا کہ کیسا بنا ہے حلوہ"
حیا نے معاویہ کی طرف باول بڑھاتے ہوئے کہا تو معاویہ نے حیرت سے اس کو دیکھا

"یہ آج میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے بنایا ہے۔۔۔ تمہاری پسند کو مدنظر رکھ کر"
حیا نے مسکرا کر معاویہ کو کہا معاویہ نے اسمائل دے کر باول اس کے ہاتھ سے تھام لیا۔۔ اور حلوہ ٹیسٹ کیا۔ ۔۔

"تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ہادی وہ مرد واقعی خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی بیوی ان کو ویلیو دیں اور میں اللہ پاک کا شکر گزار ہوں میری گنتی بھی انہی مردوں میں ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے ہادی سے کہا

"حیا اس سے زیادہ مزیدار حلوہ میں نے آج تک نہیں کھایا تھینک یو۔۔۔ ویسے انکل میں صبح آپ کی قسمت پر رشک کر رہا تھا،، آنٹی کے ہاتھ میں واقعی بہت ذائقہ ہے مگر دیکھ لیں میری بیگم بھی کم نہیں۔۔میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں آپ حیا کے ہاتھ کا حلوہ کھائیں گے تو اگلی بار خود اس سے فرمائش کر کے بنوائے گے"
معاویہ نے مسکرا کر زین کا صبح والا جملہ اسی کو لوٹ آیا۔۔۔ جس پر زین ہنس پڑا

حیا نے زین کے بعد باری باری سب کو سرو کیا۔۔۔

"بھابھی حلوہ بہت ٹیسٹی بنایا ہے آپ نے"
صنم نہ حیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا جو اس نے خوش دلی سے وصول کی اور جا کر معاویہ کے برابر میں بیٹھ گئی۔۔۔ معاویہ نے آنکھوں میں نرم تاثر لیے اس کو دیکھا تو حیا مسکرا دی

"ہاں حیا حلوہ تو واقعی زبردست بنایا ہے ویسے بنانے کا کام تو معاویہ بھی بہت اچھا کرتا ہے جیسے تصویریں کیوں معاویہ"
ہادی نے مسکرا کر معاویہ کو دیکھا جس پر معاویہ کا ضبط کرنا مشکل ہو گیا مگر وہاں زین اور حور کی موجودگی نے اسے بےبس کر دیا ورنہ وہ آگے بڑھ کر ہادی کا منہ ضرور توڑتا     

"ہادی تم صنم کے ساتھ پہلی دفعہ یہاں آئے ہو تو اچھا نہیں ہے کہ تم اچھے مہمانوں کی طرح یہاں بی ہیو کرو"
حیا نے سیریز انداز میں ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"ارے میں تو مذاق کر رہا تھا تم تو سیریس ہوگئی"
ہادی نے مسکرا کر کہا

"مذاق کو مذاق کی طرح کیا جائے تو اچھا لگتا ہے آئندہ خیال رکھنا ورنہ میں نہ خیال کرو گی نہ لحاظ کرو گی"
حیا نے ہادی کو تنبہی کرتے ہوئے کہا

"ویسے واقعی بیوی تم بہت اچھی ثابت ہوئی ہوں"
ہادی نہ حیا کو دیکھ کر کہا

"صنم بھی بہت اچھی بیوی ثابت ہوگی اس کا خیال رکھا کرو اور اس سے جڑے ہوئے دوسرے رشتوں کا بھی"
حیا نے ہادی کو ایک اور دفعہ باور کرایا

"کون سی گفتگو ہو رہی ہے یہ ایسا کیا ہے جو میں نہیں جانتا"
زین جو کافی دیر سے چپ کرکے سب کی سن رہا تھا ایک دم بولا

"بابا اگر کوئی خاص بات ہوتی تو آپ کو ضرور بتاتی ایسی کوئی خاص بات نہیں"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے بولا پھر معاویہ کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اپنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا

"میرے خیال میں رات کے ڈنر کا وقت ہونے والا ہے میں ڈنر کی تیاری کر لو صنم بیٹا آپ کو کیا پسند ہے کھانے میں"
حور نے موضوع چینج کرنے کے غرض سے اٹھتے ہوئے صنم سے پوچھا

"حور آنٹی آپ تکلف نہ کریں کھانے کا صنم نے کہا تھا کہ حیا کو دیکھنا ہے اس لیے اسے لے آیا۔۔۔اور آج حیا کو دیکھ بھی لیا"
ہادی نے اٹھتے ہوئے اور صنم کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا

"بیٹھ جاو ہادی بیٹا کھانا کھا کر جانا" زین نے ہادی کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا

"پھر کبھی صحیح انکل اپنا گھر ہے کھانے کا کیا،، دوبارہ آجائیں گے،، ابھی اجازت دیں"
ہادی زین سے ہاتھ ملاتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا

**

"حیا مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے" زین نے حیا کی روم میں آتے ہوئے کہا۔۔۔ معاویہ تھوڑی دیر ہوئی تھی اسموکنگ کے غرض سے باہر نکلا تھا تبھی زین حیا کے پاس آیا

"جی بابا پوچھئے"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی بہت خاص بات ھے جس سے میں لاعلم ہوں اور وہ بات میرے علم ہونی چاہیے۔۔۔ ایسی کیا بات ہے حیا"
زین نے حیا سے استفادہ کیا

"بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے ہادی فضول کی ہانک کر گیا ہے اس کی کسی بھی بات کو سیریز نہیں لیں آپ"
حیا نے زین کو مطمئن کرنا چاہا

"کیا معاویہ کا رویہ تمہارے ساتھ ٹھیک ہے"
زین نے حیا سے پوچھا

"آپ کو معاویہ کا رویہ میرے ساتھ کیسا فیل ہوا ہے بابا۔۔وہ کل رات سے یہاں پر موجود ہے مجھے دیکھنے آیا، آپ لوگوں کے اصرار پر یہاں پر رکا۔۔۔ آپ تو انسان کو اچھی طرح جج کرلیتے ہیں پھر ایسے کیوں سوچ رہے ہیں"
حیا رسانیت سے زین کو جواب دیا

"پھر میں ہادی کی باتوں کے کیا معنی آخذ کرو"
زین سوچتے ہوئے کہنے لگا

"بابا اس کی باتیں بے معنی تھی آپ میرا یقین رکھیں مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا، اگر آپ ان باتوں کو لے کر معاویہ سے بدگمان ہوگے۔۔ معاویہ میرا شوہر ہے، آپ کی بہت عزت کرتا ہے اور میں آپ کی آنکھوں میں بھی اس کے لیے وہی اپنائیت دیکھنا چاہتی ہوں جو آج ہمیشہ میں نے دیکھی ہے"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"میری پرنسسز خوش اور مطمئین ہے تو اس کے بابا بھی خوش اور مطمئن"
زین نے مسکرا کر حیا کا سر تھپتھپایا

**

زین کے جانے کے بعد حیا اپنے بیڈ روم میں ہی تھی جب اس کی نظر اپنے جیولری باکس پر پڑی۔۔۔۔ جیولری باکس میں سے اس نے معاویہ کا دیا ہوا پینڈنٹ نکال کر دیکھا جو اس نے حیا کو برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا

"اب یہ جب پہننا جب تمہیں لگے کہ تم نے معاویہ کہ دل تک رسائی حاصل کر لی"
حیا پینڈنٹ گلے میں ڈالتے ہوئے معاویہ کے جملے یاد کرنے لگی۔۔۔۔ حیا نے اس وقت سوچا بھی نہیں تھا یہ شخص کبھی اس کے دل تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔۔۔ دروازہ بند کرنے کی آواز پر حیا نے مڑ کر دیکھا

"حیا کیوں نہ ہم"
معاویہ جو اس سے روم میں کچھ کہنے آیا تھا اپنا پینڈنٹ پہننا دیکھ کر وہی رک گیا اور اس کے جملے منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا

"جانم آج تو تم بار بار حیران کرنے پر تلی کو"
معاویہ حیا کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرکے اس کی گردن پر جھکا

"گھر کب تک چلنا ہے"
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا

"شادی کے بعد فرسٹ ٹائم بابا مما کے آئی ہو تو ہفتہ دس دن تو رکو گی نا"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"تھوڑی دیر میں ہم لوگ واپس جا رہے ہیں،، اب آگے سے کوئی بات نہیں"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"پھر تم بابا سے بات کرلو وہ تو مجھے اسی ارادے سے لائے ہیں اور انکل نے بھی خوشی خوشی اجازت دی تھی"
حیا نے اپنی ہنسی دبا کر اس کو ستانے کے غرض سے کہا

"گھر چلو پلیز"
معاویہ نے التجائی انداز میں حیا سے کہا

"اوکے ایک شرط پر"
حیا نے اس کی شرٹ کے بٹن کو چھیڑتے ہوئے اپنی شرٹ بتائی

**

ہادی صنم کو لے کر گھر پہنچا تو دونوں کے درمیان کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔۔۔ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ہادی روم میں آیا تو صنم آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے لیٹی تھی روم کی لائٹ بھی آف تھی ہادی نے برابر بیٹھتے ہوئے لیمپ آن کیا

"سو تو نہیں رہی ہوں تم اس کا مجھے اندازہ ہے"
ہادی نے اسکا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے کہا

"اندازہ تو آپ کو ساری باتوں کا ہوتا ہے ہادی مگر پھر بھی آپ کو فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی یہ باتیں کسی دوسرا انسان کتنا ہرٹ کر رہی ہیں"
صنم آنکھیں کھول کر اٹھ کر بیٹھی اور اس سے شکوہ کیا

"ہرٹ نہیں ہوگا تمہارا بھائی۔۔ جو دوسروں کا دل دکھانا جانتے ہیں جب کوئی ان کا دل دکھائے تو وہ ہرٹ نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر جلتے ہیں اور یہ جلن مجھے کافی مزا دے رہی تھی اس وقت"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا

"میں بھائی کی بات نہیں کر رہی ہوں ہادی۔۔۔ میں اپنی بات کر رہی ہوں،، آپ کی باتیں مجھے ہرٹ کرتی ہیں"
صنم شکوہ بھری نظروں سے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی

"کیوں ایسا کیا کہہ دیا میں نے تمہارے بھائی کو جو تم ہرٹ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اس نے تو میری باتوں کو بکواس سمجھ کر ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا ہوگا اور تم یہاں سوگ منانے بیٹھی ہو۔۔۔ صنم چینج کرو اپنی عادت کو اس طرح چھوٹی چھوٹی اور بے ضرر باتوں کو دل سے لگاو گی تو اپنا نقصان کرو گی" ہادی نے صنم کو سمجھاتے ہوئے کہا

"ہوتی ہوگی کچھ ایسی باتیں جو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی جائے مگر کبھی کبھی کچھ باتیں یہاں لگتی ہیں اور پھر وہ کبھی بھی دل سے نہیں نکلتی"
صنم نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

"سونے کا موڈ ہے یا آج رات ایسی ہی ماتم کرنا ہے بیٹھ کر" ہادی نے سنجیدگی سے صنم سے پوچھا

"آخر ایسی کیا وجہ ہے جو آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ہیں"
صنم نے نم آنکھیں لئے ہوئے ہادی سے سوال کیا

"مجھے تمہارے بھائی کی شکل پسند نہیں بالکل اسی طرح جس طرح اسے میری شکل پسند نہیں سن لی وجہ آپ خود بھی سو جاو اور مجھے بھی سونے دو"
ہادی لیمپ بند کرتا ہوا لیٹ گیا اور صنم اندھیرے میں ویسے ہی کافی دیر تک بیٹھی رہی

**

گھر آئی ہوئے اسے دو گھنٹے ہوگئے تھے مگر جب سے وہ نیچے ہال میں صوفے پر نیم دراز اسکرین پر نظر جمائے سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھا۔۔۔ حیا اس کے ساتھ اسی شرط پر واپس آئی تھی کہ جب تک وہ اسے خود کمرے میں آنے کے لئے نہیں کہے گی وہ روم میں نہیں آئے گا۔ ۔۔۔
اسکرین پر نظر جمائے ہوئے وہ کوئی ایکشن مووی بڑی بے دلی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب وہ تھوڑی دیر بعد حیا کو میسج کرتا تو حیا دس منٹ ویٹ ٹائپ کر دیتی۔۔۔

"پتہ نہیں اب یہ شیرنی کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے"
ابھی معاویہ سوچ ہی رہا تھا کی خضر صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔۔ تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور سگریٹ ایش ٹرے میں مسلی۔ ۔۔۔  یہ اس کی عادت میں شامل تھا کہ وہ خضر اور ناعیمہ کے سامنے اسموکنگ نہیں کرتا تھا۔۔۔خضر نے ٹیبل پر رکھا ہوا ریموٹ اٹھایا اور کرکٹ میچ لگایا۔۔۔ اس دن کے بعد سے وہ معاویہ سے بات نہیں کر رہا تھا مگر یہ پہلی دفعہ تھاکہ معاویہ اسے خود جان بوجھ کر مخاطب کرتا تھا مگر وہ ضروری بات کا جواب ہاں ہوں میں دے دیتا تھا اور یہ بھی پہلی دفعہ ہوا تھا کہ معاویہ کو پہلی دفعہ خضر کی ناراضگی بری طرح کھلی

"بہت بری پرفارمنس ہے ان لوگوں کی مجھے نہیں لگتا کہ ان سے کچھ ہو پائے گا"
معاویہ نے میچ دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگا مگر دوسری طرف خاموشی

"تو آپ کبھی بھی آب بات نہیں کریں گے مجھ سے" معاویہ نے خضر کی خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا

"کیا فرق پڑتا ہے تمہیں اس سے"
خضر نے اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے معاویہ کو بولا

"فرق نہیں پڑتا تو پہل کیوں کرتا۔۔۔اوکے سوری بس اب موڈ ٹھیک کرلیں اپنا"
معاویہ نے پہل کرتے ہوئے کہا جوکہ اس کی عادت کے خلاف تھا

"آنکھوں اور لہجے میں تو تمہارے پشیمانی ہے نہیں۔۔۔ مگر پھر بھی تم نے سوری کہاں اپنے باپ کو باپ سمجھا۔۔ آئندہ سے کبھی ایسا کام نہیں کرنا جس سے میرا سر جھکے۔۔۔ اور اپنا اسٹائل کے درست کرو حیا بیوی ہے تمہاری کوئی مجرم یا غلام نہیں"
خضر نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا

"جی ڈیڈ"
معاویہ نے کہا وہی موبائل پر حیا کا میسج آیا

"چلو صبح اٹھنا ہوگا تمہیں بیڈ روم میں جاو اپنے"
خضر نے والیوم بڑھاتے ہوئے کہا مطلب صاف تھا وہ اب کرکٹ دیکھنا چاہتا ہے خاموشی سے

"گڈنائٹ ڈیڈ"
معاویہ خضر کو کہتا ہوں اٹھا جس پر خضر نے اس کا سر ہلا کر جواب دیا اور میچ دیکھنے لگا۔۔۔۔ معاویہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں پہنچا۔۔۔۔ بیڈروم کا دروازہ کھولا تو سامنے دیکھ کر ایک دم رکا اور اس کی آنکھوں میں حیرت کا عنصر ابھرا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment