Itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Surprice epi # 57
صبح حیا کی آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں حیا معاویہ کو سوتے ہوئے پایا کل رات اسے اپنے ماتھے پر اور چہرے پر معاویہ کے ہونٹوں کا لمس کا احساس ہو رہا تھا مگر وہ سمجھی خواب میں فیل کررہی ہے سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو جو ہر وقت اسے معاویہ کے پاس سے آتی تھی شروع شروع میں جو زہر بھی لگتی تھی اب خود اس خوشبو کی عادی ہوگئی تھی۔۔۔
اپنے قریب اس خوشبو کو محسوس کرکے وہ معاویہ کو دیکھے گئی اسے معلوم ہی نہیں ہواکپور کو اچھا لگنے لگا کب اس سے محبت ہو گئی جب وہ اس کے لئے خوفی بنا کر لائی تھی تب یا پھر جب اس کا سر دبا رہی تھی تب جو بھی تھا صنم کی بارات والے دن معاویہ کا اسے اگنور کرنا شدت سے محسوس ہوا معاویہ کا نیناں کا ہاتھ پکڑنا اسے جلن میں مبتلا کر گیا اور جب اس نے کل رات جنگل میں گولیوں کی آواز سنی معاویہ کا خیال آتے ہی اس کا دل بند ہونے لگا یا پھر شاید ہی نکاح کے تین بولو کا اثر ہوتا ہے۔ ۔۔ دل میں محبت نہ ہونے کے باوجود دل اپنے محرم کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔۔۔ جو بھی تھا سے اپنے دو ٹکے کا پولیس والا اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ حیا کو اپنی سوچ پر خود ہی ہنسی آ گئی معاویہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حیا کا مسکراتے ہوئے چہرہ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔ معاویہ نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو رات کو ہلکی سی حرارت جو محسوس ہو رہی تھی اس وقت اس کا ماتھا بالکل نارمل تھا
"بخار تو اتر گیا میرا"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں مجھے لگ رہا ہے بخار دماغ پر چڑھ گیا ہے جبھی اکیلے میں مسکرا رہی ہو"
معاویہ اسکو چھیڑتے ہوئے اپنے سے قریب کر کے اس پر جھکا
"کیا کر رہے ہو"
حیا نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"تمہارا علاج"
معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں سے ہٹا کر بیڈ پر رکھے اور اس کی گردن پر جھکا
"معاویہ یہ میرے بابا کا گھر ہے"
حیا نے اس کے کام میں مداخلت کرتے ہوئے کہا
"تو"
معاویہ نے حیران ہو کر اس کو دیکھا جیسے اس کی بات نہیں سمجھی ہو
"میرا مطلب ہے بابا کے گھر اس طرح رومنٹک ہونے کی ضرورت نہیں مجھے شرم آ رہی ہے"
حیا نے اپنی لاجگ بیان کی جس پر معاویہ کا غش کھا کر رہ گیاا
"یعنی میرے ڈیڈ کا گھر کوئی لاور پوائنٹ ہے"
معاویہ نے گھور کر اس کو دیکھا اور پھر دوبارہ جھکا
"ابھی تم پیار جتا رہے ہو کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے خبر بھی نہیں لی"
حیا کو یکدم شکوہ یاد آیا
"کل کے کام بہت ضروری تھے جو نمٹانے تھے یاد تو تمہاری وقفے وقفے سے آتی رہی جبھی تو خبر لینے آگیا رات کو ہی مگر تم ہی مجھ سے بے خبر ہو کر سو رہی تھی" وہ اس کا چہرہ چومتا ہوا وضاحت دینے لگا
"ایکسپلینیشن نہیں چاہیے اب تو غلطی کی پنشنمیںنٹ ملے گی"
حیا نے زین کے اسٹائل میں بولا
"اور اپنی سزا میں خود تجویز کروں گا"
وہ اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے بولا
"پولیس والے تم باہر ہو گھر میں صرف میری چلے گی"
حیا نے اس کو پیچھے کرتے ہوئے بولا اور خود اٹھ گئی
"اب بالکل ظلم نہیں کرنے دوں گا تمہیں اپنے اوپر۔۔۔ ذرا بھی ترس نہیں آتا تمہیں اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر"
معاویہ دوبارہ حیا کو اپنے اوپر گراتا ہوا بولا
"تم ترس کھانے والی چیز ہرگز نہیں ہو"
حیا نے آنکھیں سکھیڑ کر بولا۔۔حیا نے اٹھنا چاہا معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر باندھ کر اس کی کوشش ناکام بنائی
"ترس نہیں کھاؤ مگر اپنی محبت کا یقین دلاؤ"
معاویہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انوکھی سی فرمائش کی
"اور وہ یقیناً جناب کو کیسے آئے گا"
حیا نے ابرو اچکا کر پوچھا
"صرف ایک چھوٹی سی کس دینے سے"
معاویہ نے حیا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کی بات سن کر حیا بلش ہوئی
"زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی"
حیا نے گھور کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"اور جب تک تم ایسا نہیں کروں گی میں تمہیں بخشنے والا نہیں"
معاویہ نے چیلنج کرتے ہوئے اس کو کہا۔۔اور کروٹ لے کر وہ حیا کے اوپر جھک گیا
"مما بابا اٹھ گئے ہوگیں مجھے باہر جانا ہے"
حیا نے فرار کے راستے بند دیکھے تو نظریں جھکا کر بولا
"پہلے کس"
معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"معاویہ پلیز"
حیا نے روہانسی انداز اپنا کر بولا
"حیا پلیز"
معاویہ نے اسی کے اسٹائل میں بولا
"گھر جا کر"
حیا نے کہا
"نہیں یہی پر"
معاویہ نے کہا
"گال پر"
حیا نے کہا
"نہیں ہونٹوں پر"
معاویہ نے کہا
"آنکھیں بند کرو"
حیا نے کہا
معاویہ نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلی۔۔۔ حیا نے اس سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا اور بیڈ پر لٹایا اور خود اس پر جھکی اپنی دو انگلیاں معاویہ کے ہونٹوں پر رکھی
"اتنا آسان ٹاسک میں بھی نہیں"
سرگوشی کے انداز میں کہتی ہوئی اس نے دروازے کی طرف دوڑ لگادی
معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا۔۔۔ دروازے کے پاس جاکر فلائنگ کس دیتی ہوئی وہ باہر چلی گئی۔۔۔
**
"میری جان تم اٹھ کر کیوں آگئی بخار کم ہوا"
زین نے اس کو ہال میں آتا دیکھ کر بولا اور خود بخار چیک کرنے لگا
"بابا بخار بالکل ٹھیک ہو گیا مما کہاں ہیں"
زین کو جواب دے کر وہ حور کو کچن میں دیکھنے لگی
"آج تمہاری مما اپنے داماد کے لیے خاص ناشتے کی ہدایت نسیمہ کو دے رہی ہیں"
زین کے بتانے پر حیا اور زین دونوں ہنس دیے۔۔۔ معاویہ بھی روم سے نکل کر وہی آگیا
"آجاؤ بھئی معاویہ تم بھی یہی ہمارے پاس بیٹھو"
زین نے معاویہ کو دیکھ کر کہا وہ وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ حیا زین کے برابر میں بیٹھی ہوئی پاؤٹ بنا کر اسے دیکھنے لگی
"معاویہ کیا پسند ہے تمہیں ناشتے میں سب سے زیادہ"
حور کچن سے نکل کر آئی معاویہ سے پوچھنے لگی
"انٹی آپ تکلفات میں نہیں پڑے جو سب کھائے گے میں وہی کھالوں گا"
اس کی سعادت مندی پر حیا بےہوش ہوتے ہوتے بچی
"ارے ایسے کیسے تکلفات میں نہیں پڑے۔۔۔ بھئی فرسٹ ٹائم تم ہمارے گھر رکے ہو ہمارے داماد ہو۔۔ حور ایسا کرو آج تم اپنے ہاتھ کے پراٹھے بنا کر کھلاؤ معاویہ کو"
زین کی شوشے چھوڑنے پر جہاں حور نے گھور کر زین کو دیکھا وہی حیا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
زین کو حور کے ہاتھ کے پراٹھے بہت پسند تھے مگر جتنے ذائقے دار وہ پراٹھے بناتی تھی،، اتنی ہی اسے کوفت پراٹھے بنانے میں آتی تھی اس لئے زین جب کبھی فرمائش کرتا تو ایک پراٹھے کے بعد آنکھیں دکھا دیتی جب کہ زین کا ایک پراٹھے میں گزارا نہیں ہوتا
"نہیں آ نکل آپ انٹی پر صبح صبح برڈن نہیں ڈالیں پراٹھے ویسے بھی ہیوی ہوجائیں گے" معاویہ نے حور کی شکل دیکھتے ہوئے اور حیا کی مسکراہٹ سے سمجھ گیا بندوق اس کے کندھے پر رکھے چلائی جا رہی ہے پراٹھا اس کے سسر نے کھانا ہے
"ارے نہیں برڈن کی کیا بات ہے میں بنا دیتی ہوں"
حور نے داماد کو پروٹوکول دیتے ہوئے زبردستی مسکرا کر کہا
"یہ ہوئی نہ بات حور جو کل رات قیمہ بنایا تھا وہ بھی گرم کر لینا" زین نے حور کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔ وہ زین کو گھورتے ہوئے کچن میں چلی گئی
"ویسے پراٹھے پسند ہیں نہ تمہیں"
زین نے معاویہ سے پوچھا
"مجھے لگتا ہے آنٹی کو بنانا زیادہ پسند نہیں"
اس نے زین کو مسکراتے ہوئے جواب دیا
"ارے یار اتنے دنوں بعد مجھے پراٹھے کھانے کا موقع ملا ہے بے فکر رہو اگر تمہیں پسند نہیں بھی ہوئے تو گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں میری بیگم کے ہاتھ کے پراٹھے کھاؤ گے تو اگلی دفعہ یہاں آکر خود فرمائش کرو گے"
زین نے وثوق سے کہا
"آپ کی تعریفوں سے تو اب بھوک جاگنے لگی ہے" معاویہ نے مسکراتے ہوئے کہا
حیا کو اس طرح زین اور معاویہ کا باتیں کرنا بہت اچھا لگا وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔۔۔ جہاں حور پراٹھے بنانے میں مصروف تھی
"مما میں کچھ ہیلپ کرو"
حیا نے حور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
"بس اپنے بابا کو آنکھوں کے ذریعے کنٹرول میں رکھنا کہ ایک پراٹھے کے علاوہ دوسرے کو ہاتھ بھی نہ لگائے باقی سب میں کر لیتی ہوں تم ریسٹ کرو جاکر"
حور نے اپنے چہرے پر آئی ہوئی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا اور پراٹھا کا پیڑا بنانے لگی
"اتنی ساری گاجریں کیوں منگوائی ہیں آپ نے"
حیا نے ایک کاجر اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا
"سوچا تھا گاجر کا حلوہ بناؤ گی لیکن اب پروگرام کینسل"
حور نے پراٹھا بیلتے ہوئے کہا
"مما معاویہ کو گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے آنٹی نے بتایا تھا مجھے۔۔۔ آج میں گاجر کا حلوا بناتی ہو"
حیا کی فرمائش سن کر حور نے اسے گھور کر دیکھا
"نکلو کچن سے تم، بیمار ہو اور تمہیں کب آتا ہے کچھ بنانا۔۔۔ جو تم گاجر کا حلوہ بناؤں گی،، الٹا میرا کام اور بڑھے گا۔۔ باہر سے منگوالیں گے آج گاجر کا حلوہ" حور نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"اوہو ماما آپ کو تھوڑی کہہ رہی ہوں آپ پراٹھے بنائے میں نے نسیمہ سے ہیلپ لے لیتی ہوں تھوڑی بہت آجاو میدان میں نسیمہ"
حیا نے نسیمہ کو اپنے ساتھ لگایا۔۔ پراٹھے واقعی بہت مزے دار تھی زین اور معاویہ باتیں کرتے کرتے کھاگئے پتہ ہی نہیں چلا مگر حور کی حالت پراٹھے بنا بنا کر پتلی ہوگئی
"ماما جب سے پراٹھے ہی بنائے جاری ہیں"
کافی دیر بعد حیا نے حور کو کہا
"حیا پتا نہیں ان دونوں کو کیا ہوگیا دونوں رک ہی نہیں رہے ہیں۔۔ شاہ تو میرے گھورنے کا نوٹس ہی نہیں لے رہا ہے۔۔ مجھے فکر ہو رہی ہے ان دونوں کے پیٹ میں کوئی جن ون تو نہیں بیٹھا ہوا۔۔۔ میں 6 پراٹھے بنا چکی ہوں وہ دونوں ابھی بھی کھائے جارہے ہیں"
حور نے گھبراتے ہوئے کہا
"کیا آپ 6 پراٹھے بنا چکی ہیں۔۔ او گاڈ وہ تو پولیس والے ہے خیر مگر یہ بابا کو کیا ہوگیا ہے" حیا نے حیرت سے کہا
"اپ روم میں جائے میں ان دونوں کو دیکھتی ہوں"
حیا کو ماں پر ترس آیا تو وہ حور کو روم میں بھیج کر ڈائننگ ٹیبل پرگئی
"کیا ہوگیا آپ دونوں کو۔۔۔۔۔ یہ کوئی انسانوں والی بات ہوتی ہے 6 پراٹھے کھا چکے ہیں آپ دونوں"
حیا نے صدمے سے ان دونوں کو بتایا
"6 پراٹھے کون کھا سکتا ہے بھلا، کیا ہوگیا تم کو"
معاویہ نے حیا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا
"حیا ٹھیک ہے رہی ہے ہم نے کھائے ہوگے" زین نے مسکراتے ہوئے کہا
"کیا مذاق کر رہے ہیں انکل 6 پراٹھے" معاویہ کو یقین نہیں آیا
"یہی تو بات ہے میری بیگم کے ہاتھوں کے پراٹھوں کی کھاتے جاؤ کھاتے تو پتہ ہی نہیں چلتا"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا معاویہ کو ابھی بھی یقین نہیں آیا
**
شام کے وقت ہادی اور صنم زین کی طرف حیا سے ملنے تو وہاں پر معاویہ کی موجودگی سے ہادی کا موڈ آف ہو گیا معاویہ نے بھی اسے برداشت کرنا ہی تھا۔ ۔۔۔
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Surprice epi # 57
صبح حیا کی آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں حیا معاویہ کو سوتے ہوئے پایا کل رات اسے اپنے ماتھے پر اور چہرے پر معاویہ کے ہونٹوں کا لمس کا احساس ہو رہا تھا مگر وہ سمجھی خواب میں فیل کررہی ہے سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو جو ہر وقت اسے معاویہ کے پاس سے آتی تھی شروع شروع میں جو زہر بھی لگتی تھی اب خود اس خوشبو کی عادی ہوگئی تھی۔۔۔
اپنے قریب اس خوشبو کو محسوس کرکے وہ معاویہ کو دیکھے گئی اسے معلوم ہی نہیں ہواکپور کو اچھا لگنے لگا کب اس سے محبت ہو گئی جب وہ اس کے لئے خوفی بنا کر لائی تھی تب یا پھر جب اس کا سر دبا رہی تھی تب جو بھی تھا صنم کی بارات والے دن معاویہ کا اسے اگنور کرنا شدت سے محسوس ہوا معاویہ کا نیناں کا ہاتھ پکڑنا اسے جلن میں مبتلا کر گیا اور جب اس نے کل رات جنگل میں گولیوں کی آواز سنی معاویہ کا خیال آتے ہی اس کا دل بند ہونے لگا یا پھر شاید ہی نکاح کے تین بولو کا اثر ہوتا ہے۔ ۔۔ دل میں محبت نہ ہونے کے باوجود دل اپنے محرم کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔۔۔ جو بھی تھا سے اپنے دو ٹکے کا پولیس والا اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ حیا کو اپنی سوچ پر خود ہی ہنسی آ گئی معاویہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حیا کا مسکراتے ہوئے چہرہ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔ معاویہ نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو رات کو ہلکی سی حرارت جو محسوس ہو رہی تھی اس وقت اس کا ماتھا بالکل نارمل تھا
"بخار تو اتر گیا میرا"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں مجھے لگ رہا ہے بخار دماغ پر چڑھ گیا ہے جبھی اکیلے میں مسکرا رہی ہو"
معاویہ اسکو چھیڑتے ہوئے اپنے سے قریب کر کے اس پر جھکا
"کیا کر رہے ہو"
حیا نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"تمہارا علاج"
معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں سے ہٹا کر بیڈ پر رکھے اور اس کی گردن پر جھکا
"معاویہ یہ میرے بابا کا گھر ہے"
حیا نے اس کے کام میں مداخلت کرتے ہوئے کہا
"تو"
معاویہ نے حیران ہو کر اس کو دیکھا جیسے اس کی بات نہیں سمجھی ہو
"میرا مطلب ہے بابا کے گھر اس طرح رومنٹک ہونے کی ضرورت نہیں مجھے شرم آ رہی ہے"
حیا نے اپنی لاجگ بیان کی جس پر معاویہ کا غش کھا کر رہ گیاا
"یعنی میرے ڈیڈ کا گھر کوئی لاور پوائنٹ ہے"
معاویہ نے گھور کر اس کو دیکھا اور پھر دوبارہ جھکا
"ابھی تم پیار جتا رہے ہو کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے خبر بھی نہیں لی"
حیا کو یکدم شکوہ یاد آیا
"کل کے کام بہت ضروری تھے جو نمٹانے تھے یاد تو تمہاری وقفے وقفے سے آتی رہی جبھی تو خبر لینے آگیا رات کو ہی مگر تم ہی مجھ سے بے خبر ہو کر سو رہی تھی" وہ اس کا چہرہ چومتا ہوا وضاحت دینے لگا
"ایکسپلینیشن نہیں چاہیے اب تو غلطی کی پنشنمیںنٹ ملے گی"
حیا نے زین کے اسٹائل میں بولا
"اور اپنی سزا میں خود تجویز کروں گا"
وہ اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے بولا
"پولیس والے تم باہر ہو گھر میں صرف میری چلے گی"
حیا نے اس کو پیچھے کرتے ہوئے بولا اور خود اٹھ گئی
"اب بالکل ظلم نہیں کرنے دوں گا تمہیں اپنے اوپر۔۔۔ ذرا بھی ترس نہیں آتا تمہیں اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر"
معاویہ دوبارہ حیا کو اپنے اوپر گراتا ہوا بولا
"تم ترس کھانے والی چیز ہرگز نہیں ہو"
حیا نے آنکھیں سکھیڑ کر بولا۔۔حیا نے اٹھنا چاہا معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر باندھ کر اس کی کوشش ناکام بنائی
"ترس نہیں کھاؤ مگر اپنی محبت کا یقین دلاؤ"
معاویہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انوکھی سی فرمائش کی
"اور وہ یقیناً جناب کو کیسے آئے گا"
حیا نے ابرو اچکا کر پوچھا
"صرف ایک چھوٹی سی کس دینے سے"
معاویہ نے حیا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کی بات سن کر حیا بلش ہوئی
"زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی"
حیا نے گھور کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"اور جب تک تم ایسا نہیں کروں گی میں تمہیں بخشنے والا نہیں"
معاویہ نے چیلنج کرتے ہوئے اس کو کہا۔۔اور کروٹ لے کر وہ حیا کے اوپر جھک گیا
"مما بابا اٹھ گئے ہوگیں مجھے باہر جانا ہے"
حیا نے فرار کے راستے بند دیکھے تو نظریں جھکا کر بولا
"پہلے کس"
معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"معاویہ پلیز"
حیا نے روہانسی انداز اپنا کر بولا
"حیا پلیز"
معاویہ نے اسی کے اسٹائل میں بولا
"گھر جا کر"
حیا نے کہا
"نہیں یہی پر"
معاویہ نے کہا
"گال پر"
حیا نے کہا
"نہیں ہونٹوں پر"
معاویہ نے کہا
"آنکھیں بند کرو"
حیا نے کہا
معاویہ نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلی۔۔۔ حیا نے اس سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا اور بیڈ پر لٹایا اور خود اس پر جھکی اپنی دو انگلیاں معاویہ کے ہونٹوں پر رکھی
"اتنا آسان ٹاسک میں بھی نہیں"
سرگوشی کے انداز میں کہتی ہوئی اس نے دروازے کی طرف دوڑ لگادی
معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا۔۔۔ دروازے کے پاس جاکر فلائنگ کس دیتی ہوئی وہ باہر چلی گئی۔۔۔
**
"میری جان تم اٹھ کر کیوں آگئی بخار کم ہوا"
زین نے اس کو ہال میں آتا دیکھ کر بولا اور خود بخار چیک کرنے لگا
"بابا بخار بالکل ٹھیک ہو گیا مما کہاں ہیں"
زین کو جواب دے کر وہ حور کو کچن میں دیکھنے لگی
"آج تمہاری مما اپنے داماد کے لیے خاص ناشتے کی ہدایت نسیمہ کو دے رہی ہیں"
زین کے بتانے پر حیا اور زین دونوں ہنس دیے۔۔۔ معاویہ بھی روم سے نکل کر وہی آگیا
"آجاؤ بھئی معاویہ تم بھی یہی ہمارے پاس بیٹھو"
زین نے معاویہ کو دیکھ کر کہا وہ وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ حیا زین کے برابر میں بیٹھی ہوئی پاؤٹ بنا کر اسے دیکھنے لگی
"معاویہ کیا پسند ہے تمہیں ناشتے میں سب سے زیادہ"
حور کچن سے نکل کر آئی معاویہ سے پوچھنے لگی
"انٹی آپ تکلفات میں نہیں پڑے جو سب کھائے گے میں وہی کھالوں گا"
اس کی سعادت مندی پر حیا بےہوش ہوتے ہوتے بچی
"ارے ایسے کیسے تکلفات میں نہیں پڑے۔۔۔ بھئی فرسٹ ٹائم تم ہمارے گھر رکے ہو ہمارے داماد ہو۔۔ حور ایسا کرو آج تم اپنے ہاتھ کے پراٹھے بنا کر کھلاؤ معاویہ کو"
زین کی شوشے چھوڑنے پر جہاں حور نے گھور کر زین کو دیکھا وہی حیا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
زین کو حور کے ہاتھ کے پراٹھے بہت پسند تھے مگر جتنے ذائقے دار وہ پراٹھے بناتی تھی،، اتنی ہی اسے کوفت پراٹھے بنانے میں آتی تھی اس لئے زین جب کبھی فرمائش کرتا تو ایک پراٹھے کے بعد آنکھیں دکھا دیتی جب کہ زین کا ایک پراٹھے میں گزارا نہیں ہوتا
"نہیں آ نکل آپ انٹی پر صبح صبح برڈن نہیں ڈالیں پراٹھے ویسے بھی ہیوی ہوجائیں گے" معاویہ نے حور کی شکل دیکھتے ہوئے اور حیا کی مسکراہٹ سے سمجھ گیا بندوق اس کے کندھے پر رکھے چلائی جا رہی ہے پراٹھا اس کے سسر نے کھانا ہے
"ارے نہیں برڈن کی کیا بات ہے میں بنا دیتی ہوں"
حور نے داماد کو پروٹوکول دیتے ہوئے زبردستی مسکرا کر کہا
"یہ ہوئی نہ بات حور جو کل رات قیمہ بنایا تھا وہ بھی گرم کر لینا" زین نے حور کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔ وہ زین کو گھورتے ہوئے کچن میں چلی گئی
"ویسے پراٹھے پسند ہیں نہ تمہیں"
زین نے معاویہ سے پوچھا
"مجھے لگتا ہے آنٹی کو بنانا زیادہ پسند نہیں"
اس نے زین کو مسکراتے ہوئے جواب دیا
"ارے یار اتنے دنوں بعد مجھے پراٹھے کھانے کا موقع ملا ہے بے فکر رہو اگر تمہیں پسند نہیں بھی ہوئے تو گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں میری بیگم کے ہاتھ کے پراٹھے کھاؤ گے تو اگلی دفعہ یہاں آکر خود فرمائش کرو گے"
زین نے وثوق سے کہا
"آپ کی تعریفوں سے تو اب بھوک جاگنے لگی ہے" معاویہ نے مسکراتے ہوئے کہا
حیا کو اس طرح زین اور معاویہ کا باتیں کرنا بہت اچھا لگا وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔۔۔ جہاں حور پراٹھے بنانے میں مصروف تھی
"مما میں کچھ ہیلپ کرو"
حیا نے حور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
"بس اپنے بابا کو آنکھوں کے ذریعے کنٹرول میں رکھنا کہ ایک پراٹھے کے علاوہ دوسرے کو ہاتھ بھی نہ لگائے باقی سب میں کر لیتی ہوں تم ریسٹ کرو جاکر"
حور نے اپنے چہرے پر آئی ہوئی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا اور پراٹھا کا پیڑا بنانے لگی
"اتنی ساری گاجریں کیوں منگوائی ہیں آپ نے"
حیا نے ایک کاجر اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا
"سوچا تھا گاجر کا حلوہ بناؤ گی لیکن اب پروگرام کینسل"
حور نے پراٹھا بیلتے ہوئے کہا
"مما معاویہ کو گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے آنٹی نے بتایا تھا مجھے۔۔۔ آج میں گاجر کا حلوا بناتی ہو"
حیا کی فرمائش سن کر حور نے اسے گھور کر دیکھا
"نکلو کچن سے تم، بیمار ہو اور تمہیں کب آتا ہے کچھ بنانا۔۔۔ جو تم گاجر کا حلوہ بناؤں گی،، الٹا میرا کام اور بڑھے گا۔۔ باہر سے منگوالیں گے آج گاجر کا حلوہ" حور نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"اوہو ماما آپ کو تھوڑی کہہ رہی ہوں آپ پراٹھے بنائے میں نے نسیمہ سے ہیلپ لے لیتی ہوں تھوڑی بہت آجاو میدان میں نسیمہ"
حیا نے نسیمہ کو اپنے ساتھ لگایا۔۔ پراٹھے واقعی بہت مزے دار تھی زین اور معاویہ باتیں کرتے کرتے کھاگئے پتہ ہی نہیں چلا مگر حور کی حالت پراٹھے بنا بنا کر پتلی ہوگئی
"ماما جب سے پراٹھے ہی بنائے جاری ہیں"
کافی دیر بعد حیا نے حور کو کہا
"حیا پتا نہیں ان دونوں کو کیا ہوگیا دونوں رک ہی نہیں رہے ہیں۔۔ شاہ تو میرے گھورنے کا نوٹس ہی نہیں لے رہا ہے۔۔ مجھے فکر ہو رہی ہے ان دونوں کے پیٹ میں کوئی جن ون تو نہیں بیٹھا ہوا۔۔۔ میں 6 پراٹھے بنا چکی ہوں وہ دونوں ابھی بھی کھائے جارہے ہیں"
حور نے گھبراتے ہوئے کہا
"کیا آپ 6 پراٹھے بنا چکی ہیں۔۔ او گاڈ وہ تو پولیس والے ہے خیر مگر یہ بابا کو کیا ہوگیا ہے" حیا نے حیرت سے کہا
"اپ روم میں جائے میں ان دونوں کو دیکھتی ہوں"
حیا کو ماں پر ترس آیا تو وہ حور کو روم میں بھیج کر ڈائننگ ٹیبل پرگئی
"کیا ہوگیا آپ دونوں کو۔۔۔۔۔ یہ کوئی انسانوں والی بات ہوتی ہے 6 پراٹھے کھا چکے ہیں آپ دونوں"
حیا نے صدمے سے ان دونوں کو بتایا
"6 پراٹھے کون کھا سکتا ہے بھلا، کیا ہوگیا تم کو"
معاویہ نے حیا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا
"حیا ٹھیک ہے رہی ہے ہم نے کھائے ہوگے" زین نے مسکراتے ہوئے کہا
"کیا مذاق کر رہے ہیں انکل 6 پراٹھے" معاویہ کو یقین نہیں آیا
"یہی تو بات ہے میری بیگم کے ہاتھوں کے پراٹھوں کی کھاتے جاؤ کھاتے تو پتہ ہی نہیں چلتا"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا معاویہ کو ابھی بھی یقین نہیں آیا
**
شام کے وقت ہادی اور صنم زین کی طرف حیا سے ملنے تو وہاں پر معاویہ کی موجودگی سے ہادی کا موڈ آف ہو گیا معاویہ نے بھی اسے برداشت کرنا ہی تھا۔ ۔۔۔
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment