Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 56

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 56



"دروازہ کھولو"
معاویہ نے اویس شیرازی کے گیٹ پر کھڑے ہوئے گارڈ سے کہا

"کون ہو بھائی کس سے ملنا ہے"
گارڈ نے معاویہ سے پوچھا

"جاکر اپنے باپ سے کہو گے تمہارا باپ معاویہ مراد تم سے ملنے آیا ہے"
معاویہ کے نام بتانے پر دوسرے گارڈ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے دیا

"اے۔ایس۔پی کہو کیسے آنا ہوا"
اویس شیرازی کو اسے اپنے سامنے زندہ دیکھ کر غصہ تو بہت آیا مگر ضبط کرتے ہوئے اس نے پوچھا

"بہت ہی کم ہمت اور بزدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو پیٹھ پیچھے وار کرتے ہیں خیر مجھے تم سے امید بھی نہیں تھی کہ تم مردانگی کا ثبوت دیتے اور سامنے سے وار کرتے"
معاویہ نے اویس شیرازی کو دیکھتے ہوئے کہا

"بہت بول رہے ہو اے۔ایس۔پی زیادہ بولنے والے لوگ مجھے پسند نہیں،، میرے خلاف بولنے کرنے والوں کی زبانیں بند کر آنے میں مجھے زیادہ  وقت نہیں لگتا۔۔۔ تمہیں تو ڈرنا چاہیے تم میرے گھر میں آکر اور مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو۔۔۔آئے تم اپنے پیروں سے چل کر ہوئے کہیں یہ نہ ہو، جانا تمہیں چار کندھوں پر پڑے"
اویس شیرازی نے اس کی غلطی کا اسے احساس دلایا جو اس سے اکیلے اس کے گھر آکر سرزد ہوگئی تھی

"میں صرف بولتا ہی نہیں ہو شیرازی بلکہ جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتا ہوں۔۔۔ میرے واپس جانے کی تو فکر نہیں کرو کیونکہ اگر میں یہاں سے آدھے گھنٹے کے اندر صحیح سلامت واپس نہیں گیا تو پوری پولیس ٹیم یہاں پر ہوگی۔۔۔

"تم ہمارے ہی گھر پہ کھڑے ہیں ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو"
ساحر بیچ میں آ کر ایک دم معاویہ سے بولا تو معاویہ نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔۔۔ ایک دم سے حامد نے پسٹل نکال کر معاویہ پر تانی شیرازی نے ہاتھ کے اشارے سے حامد کو منع کیا

"تمہارے باپ سے بات کر رہا ہوں نہ میں اب بیچ میں نہیں بولنا"
معاویہ نے ساحر کو دیکھ کر سنجیدگی سے وارن کیا

"ہاں تو شیرازی میں بول رہا تھا یہاں سے میرے جانے کی فکر نہیں کرو اب تم اپنی خیر مناؤ۔۔۔کل جو گھٹیا حرکت تم نے اپنے کتوں کو بھیج کر کی ہے اس کا خمیازہ تو تم بہت جلد بھگتوں گے لیکن اگر تم نے میری فیملی کے کسی بھی فرد کو بری نظر رکھی یا اب کوئی بھی سازش کی تو میں تمہاری اور تمہارے اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا یہ تم یاد رکھنا"     
معاویہ اسے وارن کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا

**

"ارے زین کیسے ہو تم بیٹھو"
خضر آفس سے تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا ناعیمہ نے اس کو زین کی آمد کا بتایا

"میں ٹھیک ھوں تم سناؤ جلدی آگئے آج آفس سے"
زین نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے خضر سے پوچھا

"میں ٹھیک ہوں آجکل معاویہ بھی چکر لگا لیتا ہے آفس کا،، تو میرا جلدی ہی آنا ہو جاتا ہے تم بتاؤ سب ٹھیک ہے"
خضر نے زین سے پوچھا ناعیمہ بھی وہی آکر بیٹھ گئی

"ہاں ویسے تو سب ٹھیک ہے لیکن حیا کی کال آئی تھی میرے پاس،، طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسکی بس مجھے فکر ہونے لگی تو سوچا اسے دیکھ لوں"
زین اپنے آنے کا ریزن بتایا

"کیا ہوا  حیا کو مجھے تو علم نہیں کل رات تو یہ دونوں گئے ہوئے تھے اپنے فرینڈ کے گھر وہی اسٹے کیا۔۔۔ ناعیمہ نے مجھے فون پر بتایا"
خضر نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا پھر ناعیمہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا

"ہاں حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جب وہ معاویہ کے ساتھ گھر پہنچی فیور ہورہا تھا صبح۔۔ دو دفعہ میں دیکھنے گئی تھی مگر سو رہی تھی اس لئے جگانا مجھے مناسب نہیں لگا"
ناعیمہ نے خضر کو دیکھتے ہوئے بتایا

"خضر حیا کی طبیعت خراب ہو تو وہ کچھ زیادہ ہی سینسٹیو ہوجاتی ہے میں چاہ رہا تھا حیا کو اپنے ساتھ لے جاو ویسے میرا بھی دھیان اب حیا کی طرف ہی لگا رہے گا۔۔ جب تو اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہو جائے"
زین نے خضر کو بتایا

"ہاں یار اس میں پوچھنے کی کون سی بات ہے،، تم اسے کچھ دنوں کے لیے لے جاؤ اچھا ہے وہ روکی بھی نہیں ہے شادی کے بعد سے"
خضر نے زین کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا

"پھر تم معاویہ کو بتا دینا کافی دیر سے اس کے نمبر پر ٹرائے کر رہا ہوں مگر اس کا نمبر بند ہے"
زین نے اٹھتے ہوئے کہا

"بھائی بیٹھے ساجدہ چائے لا رہی ہے"
ناعیمہ نے زین سے کہا تھا

"نہیں بھابھی حور ویٹ کر رہی ہوگی آپ حیا کو بھلا دیں"
زین نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

**

"کیا ہو رہا تھا"
رات کے کھانے سے فارغ ہوکر صنم موبائل پر ناعیمہ سے بات کر رہی تھی ہادی نے بیڈ روم میں آکر صنم کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

"مام سے بات کر رہی تھی، کیا کوئی گہسٹ آئے ہوئے ہیں"
صنم نے موبائل کو ایک طرف رکھ کر پوچھا

"مما کی فرینڈ آئی ہیں"
ہادی نے اسے بتایا تو صنم اٹھ کر روم سے جانے لگی ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑا

"ابھی میں آیا ہوں اور تم چل دی یہی بیٹھ میرے پاس" ہادی نے صنم کو اپنے پاس صوفے پر واپس بٹھاتے ہوئے کہا

"دکھاؤ اب ہاتھ کیسا ہے"
ہادی نے اس کے ہاتھ کے زخم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

"اب تو بہتر ہے ٹھیک ہوجائے گا سب پریشان ہوگئے میری وجہ سے مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ آنٹی کی تو کوئی غلطی بھی نہیں تھی میں نے ان سے کہا تھا کہ میں ناشتہ بنانا چاہتی ہو"
صنم کے بتانے پر ہادی نے مسکرا کر اس کے ہاتھ کو ہونٹوں سے چھوا

"تو پورا پورا پلان ہے تمہارا معدے کے ذریعے دل میں گھر کر لینے ایسی کوشش آب کرنا بے کار ہے یہ کام تم پہلے ہی کر چکی ہوں"
ہادی نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میرا دل چاہ رہا تھا اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے کچھ بناو"
صنم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا

"تمہارے آنسو دیکھ کر مجھے بھی تکلیف ہوئی تھی اور درد ہوا تھا یہاں"
اس نے صنم کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتے ہوئے کہا

"اس لیے اب ایسا کوئی کام نہیں کرنا میری جان، جس پر تمہارے ساتھ ساتھ میری جان پر بھی بن آئے"
ہادی نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے کہا

"میں بہت خوش نصیب ہوں ہادی کیوکہ آپ بہت اچھے شوہر ہیں"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میں بالکل اچھا نہیں تم اتنی اچھی ہوکہ تم سے خود پیار ہو جائے"
ہادی نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

"ہادی مام بتا رہی تھی کہ حیا بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہیں۔۔۔یہاں سے تو قریب ہے انکا گھر ہم ابھی دیکھنے چلے"
صنم نے جھجھکتے ہوئے کہا

"بس آگئی تم بیویوں والے حربے پر جہاں شوہر رومنٹک ہوا وہی فرمائش شروع۔۔چپ کر کے بیٹھی رہو کل چلیں گے ابھی بھی ویسے رات ہو رہی ہے۔۔۔ حیا کے آرام میں اور میرے رومینس خلل ڈالنے کی ضرورت نہیں" ہادی نے ڈپٹنے کے انداز میں صنم کو بولا

**

معاویہ گھر پہنچا تو رات ہوچکی تھی اسے احساس بھی تھا حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے مگر جو کام نمٹانے تھے وہ بھی بہت ضروری تھے۔ ۔۔ اپنی کاڑی وہاں سے لانا۔۔ پھر ڈی۔ایس۔پی افتخار کو سارے معاملے کا بتانا۔۔ اپنے اور حیا کے لئے موبائل لینا ان سب کاموں کو نمٹاتے نمٹاتے رات ہوگئی۔۔۔ مگر گھر پہنچ کر اسے ناعیمہ نے بتایا کہ زین حیا کو لے گیا ہے۔۔۔ اس لئے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے یقینا 11 بج جائے گے وہاں پر پہنچتے پہنچتے۔۔۔ اس نے سوچا پھر گاڑی کی کیز اٹھا کر زین کی طرف نکل گیا

**

"حور باجی حیا بی بی کے شوہر آئے ہیں"
وہ ابھی ابھی حیا کے بیڈروم سے اپنے بیڈ روم میں آئی تھی۔۔۔ نسیمہ نے حور کو آکر بتایا

"معاویہ آیا ہے اس وقت صحیح ہے تم جاؤ میں آتی ہوں" حور شال لپیٹ کر روم سے باہر آئی ہے

"اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ" معاویہ نے حور کو آتا دیکھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا

"وعلیکم اسلام بیٹا میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسے ہو، بیٹھو"

"میں بھی ٹھیک ہوں آج تھوڑا ٹف دن گزرا واپس گھر گیا تو پتہ چلا حیا یہاں آگئی ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو سوچا اس کو دیکھ لو"
معاویہ کی تفصیل سے بتانے پر حور مسکرائی

"اتنی لمبی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے داماد نہیں ہو تم، بیٹا سمجھتے ہیں میں اور شاہ تمہیں اپنا۔۔ یہ تمہارا گھر ہے حیا تمہاری بیوی ہے جب چاہے یہاں آؤ یہ بتاؤ کھانا کھا لیا تم نے یا نہیں"
اور نے اس سے اٹھتے ہوئے پوچھا

"آنٹی تکلف کی ضرورت نہیں ہے کھانا تو میں گھر سے کھا کر آرہا ہوں"
حور کو اٹھتا دیکھ کر وہ خود بھی اٹھ گیا

"چلو تم حیا کے بیڈ روم میں جاؤ شاہ بھی وہی موجود میں کافی لے کر آتی ہوں"
حور نے معاویہ کو دیکھ کر کہا تو معاویہ نے اسمائل دے کر سر ہلایا۔۔۔

حیا کے روم کا دروازہ کھولا تو زین وہ وہی حیا کے پاس بیٹھا ہوا اس کا سر سہلا رہا تھا اور حیا سوچکی تھی۔۔۔ آہٹ پر چونک کر زین نے دروازے کی طرف دیکھا۔۔ تو معاویہ کو دیکھ کر چونکا۔۔ معاویہ نے حیا کی نیند کے احساس سر کے اشارے سے اسے سلام کیا جس کا زین نے ہلکی آواز میں جواب دیا

"کیسی طبیعت ہے حیا کی سوگئی ہے" معاویہ نے ایک نظر ہے حیا کو دیکھتے ہوئے زین سے پوچھا

"تھوڑی دیر پہلے سوئی ہے تم بتاؤ کیسے ہو، فون بند تھا تمہارا شام سے" زین نے بیڈ سے اٹھ کر معاویہ کے برابر میں چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا

"جی میں ٹھیک ہوں موبائل ایکچولی اچانک خراب ہوگیا تھا اس لئے آف تھا" معاویہ نے زین کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔ وہ دونوں ہی حیا کی نیند کے احساس سے آہستہ بات کر رہے تھے

"حیا کی طبیعت کیسے خراب ہوئی معاویہ کل رات کو تو بالکل ٹھیک تھی"
زین معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"انکل طبیعت تو انسان کی کبھی بھی کسی بھی وقت خراب ہو سکتی ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے کہا

"طبیعت تو کبھی بھی خراب ہوسکتی ہے مگر مجھے فیل ہو رہا ہے کل رات تم دونوں کے ساتھ کوئی مسہیپ یا خدانخواستہ کوئی حادثہ۔۔۔یہ کچھ ہوا ضرور ہے"
وین جاتی ہوئی نظروں سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو معاویہ نے زین کو دیکھا مگر فیس ایکسپریشن کو نارمل رکھتے ہوئے کہا

"آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں"

"حیا میری بیٹی ہے میں صرف اس لئے تم سے جاننا چاہ رہا  تھا۔ ۔۔ کیا ہوا کل رات کو۔۔۔ کیونکہ کل رات تم دونوں گھر پر نہیں تھے موبائل تمہارے بھی بند ہے اور حیا کے پاس بھی اس وقت موجود نہیں ہے اور حیا کا اس طرح بیمار ہو جانا کہیں خوف سے تو نہیں" زین نے ساری کڑیاں ملاتے ہوئے سوال کیا تو معاویہ زین کو دیکھتا رہا

"سب ٹھیک ہے انکل حیا ٹھیک ٹھاک آپ کے سامنے موجود ہے اور یقین رکھیے میں اپنی زندگی میں حیا کی حفاظت اپنی جان سے پہلے کروں گا"
معاویہ نے زین کو یقین دہانی کروائی مگر وہ اصل بات ٹال گیا وہ اپنی جاب سے متعلق ایشوز گھر میں کسی سے ڈسکس نہیں کرتا تھا

"اس کا مجھے اندازہ ہے اس لئے اپنی بیٹی کے لئے تمہارا انتخاب کیا لیکن آگے اللہ نہ کرے کوئی مشکل ہو یا کوئی پرابلم ہو تو تم سب سے پہلے مجھے یاد کرنا" معاویہ کے بات ٹالنے پر زین نے بھی اس سے کریدنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔  اتنے میں حور کافی لےکر روم میں آگئی

"شاہ حیا کب سوئی حور نے زین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تمہارے جانے کے بعد آنکھ لگ گئی تھی"
زین نے کافی کا مگ تھامتے ہوئے جواب دیا حور نے دوسرا مگ معاویہ کی طرف بڑھایا

"معاویہ حیا کو دیکھنے آیا ہے"
حور نے زین کی طرف دیکھ کر بتایا

"ہاں تو صبح ملاقات ہوجائے گی حیا سے۔۔۔ معاویہ کون سا جارہا ہے یہی رکنا تمہیں آج ہمارے ساتھ"
زین نے کافی کا سپ لیتے ہوئے معاویہ سے کہا

"ارے نہیں انکل میں صبح آ جاؤں گا ویسے بھی صبح چھٹی کا دن ہے"
معاویہ نے ایک دم سے سٹپٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ حیا کو قریب سے دیکھنے کا اس سے بات کرنے کا دل تو چاہ رہا تھا مگر سسرال میں رکنا اسے تھوڑا اکورڈ لگا

"چھٹی کا دن ہے اس لئے تو کہہ رہا ہوں ایک دن ہمارے ساتھ بھی اسپینڈ کرو۔ ۔۔ مجھے یقین ہے خضر برا نہیں مانے گا"
زین مسکرا کر کہا تو معاویہ بھی ہنس دیا

"ٹھیک ہی کہہ رہا ہے شاہ تم رکو گے تو ہمیں خوشی ہو گی"
اب کے حور نے بھی معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے پھر آج سسرال میں بھی رکھ کر دیکھ لیتے ہیں"
ان دونوں کے اصرار پر اس نے مسکرا کر کہا تو زین اور حور بھی مسکرا دئیے

"کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بنا دینا اب تم ریسٹ کرو چلے حور"
معاویہ سے کہتے ہوئے زین نے حور کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ دونوں اپنے روم میں چلے گئے

معاویہ نے لمبی سانس کھینچ کر دروازہ بند کیا اور ایک نظر بیڈ پر سوتی ہوئی حیا پر ڈالی


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment