Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 54
وہ حیا کا ہاتھ تھام کر اسے دوسرے روم کی طرف لے گیا وہاں ایک اور چھوٹا سا کمرہ تھا اس کے بعد صحن۔۔۔۔ صحن میں ایک اور دروازہ تھا جو کہ گھر کے دوسری طرف کھلتا تھا جس سے وہ لوگ باآسانی دوسرے راستے سے باہر نکل سکتے تھے مگر معاویہ کا دماغ کچھ اور سوچنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور صحن کا جائزہ لیا
"کون ہے یہاں پر جلدی سے کھولو دروازہ"
وہ لوگ یقینا وہاں پہنچ چکے تھے اور زور زور سے دروازہ بجا رہے تھے
"یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہو معاویہ، وہ سامنے دروازہ نہیں دکھ رہا تمہیں ہم وہاں سے نکل جاتے ہیں چلو"
حیا نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اسے آئیڈیا دیا
"حیا پلیز اس وقت منہ بند رکھو اور یہ جو تمہارے پاس دماغ جیسی چیز ہے اسے کم چلاو"
معاویہ نے نیچے ٹینک کا ڈھکنا کھول کر دیکھا سامنے پڑی ہوئی اسٹک اس میں ڈال کر اس کی گہرائی کا جائزہ لیا جو کہ زیادہ گہرا نہیں تھا
"تم کیا کر رہے ہو معاویہ وہ لوگ اندر آجائیں گے نکلو یہاں سے"
کیوکہ دوسری طرف آب دروازہ توڑنے کی کوشش کی جارہی تھی
"حیا تمہیں تھوڑی دیر کے لیے اس ٹینکی میں چھپنا پڑے گا"
حیا کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے معاویہ نے کہا
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا بھلا اتنی ٹھنڈ میں اتنے۔۔۔اس پانی میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہم اس دروازے سے کیوں نہیں نکل رہے ہیں"
حیا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"حیا بحث کا وقت نہیں ہے اس وقت،، بالکل آواز نہیں نکالنا اب"
معاویہ نے اسے اٹھا کر نیچے ٹینکی میں اترنے میں مدد دی۔۔۔
"تم کہاں جارہے ہو" حیا کو ایک دفعہ پھر رونا آیا
"یہی ہو بےبی آواز نہیں نکالنا ذرا سی بھی"
معاویہ اسے تسلی دے کر تلقین کرتا ہوا ٹینکی کا ڈھکنہ بند کر دیا۔۔۔۔ پھر جلدی سے جاکر اس نے صحن والے دروازے کی کنڈی کھولی اور پورا دروازہ کھول دیا۔۔ صحن میں واپس آکر خود پائپ کے ذریعے اوپر چھت پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
وہاں سے نکلنے کا تو کوئی فائدہ نہیں تھا اگر وہ اکیلا ہوتا تو نکل بھی جاتا مگر حیا کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ وہ تیز نہیں بھاگ سکتی تھی اور حیا کو اٹھا کر وہ خود بھی تیز نہیں بھاگ سکتا تھا نتیجہ یہی ہوتا کہ وہ لوگ ان دونوں کو آسانی سے پکڑ سکتے تھے۔۔۔۔ اگر ان لوگوں کے پاس اصلحہ نہیں ہوتا تو وہ یوں چھپنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرتا مگر اپنی اور حیا کی جان بچانے کے لئے اسے یہی بہتر طریقہ لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہ لوگ دروازہ توڑ کر اندر آگئے دونوں کمروں کو چھان کر جب وہ صحن میں آئے
"وہ دیکھو دروازہ کھلا ہے لگتا ہے دروازے سے نکل گئے"
ان میں سے ایک آدمی بولا اور پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر کال ملانے لگا
"شیرازی صاحب معذرت کے ساتھ آج آپ کا کام نہیں ہو سکا۔۔۔ وہ اے۔ایس۔پی ہماری سوچ سے زیادہ شاطر نکلا۔۔۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ وہ بچ نہ پائے مگر اس نے چکمہ دے کر پہلے لڑکی کو بھگایا پھر خود بھی فرار ہوگیا اور ہمارے دو آدمی بھی زخمی ہوگئے"
شکیل کو اپنا پلان ناکام ہوتا محسوس ہوا تو اس نے شیرازی کال ملاکر بتایا
"ناکارہ انسان ہو تم سب کے سب تم سات افراد ایک آدمی کو نہیں سنبھال پائے لعنت ہے تم سب کے اوپر۔ ۔۔اور مجھے فون کرکے اس کے کارنامے کیا سنا رہے ہو، گم کرو وہاں سے سب اپنی شکلیں"
اویس شیرازی نے غصے میں شکیل کو جھاڑتے ہوئے کہا
شکیل نے فون رکھا اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتا ہوا بولا
"تم دونوں اس راستے سے جاو۔۔۔ اور تم لوگ میرے ساتھ پیچھے کے راستے سے آو۔۔۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی نظر آئے فورا گولی مار دینا"
شکیل نے باقی ساتھیوں کو ہدایت دی اور وہ لوگ اس گھر سے نکل گئے۔۔۔۔ چند منٹ گزارنے کے بعد جب معاویہ کو یقین ہو گیا وہ لوگ تھوڑی دور نکل گئے ہونگے تب وہ واپس پائپ کے ذریعے اترا بھاگ کر اس نے سب سے پہلے صحن کا دروازہ بند کیا اور ٹین کا ڈھکنا ہٹا کر حیا کو پکارا
"حیا۔۔۔ حیا میں ہوں ہاتھ دو اپنا جلدی"
معاویہ کی آواز سن کر حیا نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ باہر نکالا معاویہ نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ یخ برف ہورہا تھا۔۔۔ اسے اندازہ تھا اسے ٹھنڈ میں، ٹھنڈے پانی میں رہنا حیا کے لیے یہ یقینا مشکل ٹاسک ہوگا۔۔۔ مگر جس طرح حیا نے صبر اور ہمت کا مظاہرہ دکھایا معاویہ کو اس کی بھی امید نہیں تھی۔۔۔ معاویہ نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حیا کو باہر نکالا وہ بری طرح کانپ رہی تھی سردی سے اس کے ہونٹ نیلے پڑہ رہے تھے
"اگر تھوڑی دیر اور نہیں نکالتے تو میں یقینا مر جاتی"
معاویہ کے سینے پر اپنا سر ٹکرا کر حیا نے کانپتے ہوئے کہا۔۔۔ کندھوں تک اس کی ساڑھی پوری گیلی ہوچکی تھی
"ایسے ہی مرنے دے دیتا چلو اندر چلیں"
معاویہ اسے اپنے بازوں میں اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔۔۔ اور کمرے میں پڑی ہوئی چارپائی پر اس سے لٹایا۔۔۔ دوسری طرف دروازے کے پٹ بند کر کے کمرے میں موجود میز دروازے سے لگایا،،، کونے میں موجود ٹرنگ میں سے دو موٹی چادریں نکال کر وہ حیا کے پاس آیا
"حیا اٹھو یہ گیلے کپڑے اتارو ورنہ اور ٹھنڈ لگے گی"
معاویہ اس کے پاس آ کر بولا
دونوں چادر ایک طرف رکھی اور اپنی جیکٹ اتارنے لگا۔۔۔ حیا ویسے ہی آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی تھی
"حیا"
معاویہ نے اس کو پکار کر اس کے گال تھپتھپائے حیا نے ایک دفعہ آنکھیں کھول کر پھر بند کرلی۔۔۔ وہ ویسی ہی سمٹی ہوئی لیٹی تھی
"بےبی شاید آج تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے"
معاویہ نے جھک کر حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا
"تم فری مت ہو زیادہ"
حیا نے آہستہ آواز میں کہا
"نہیں میرا یہاں فری ہونے کا کوئی خاص ارادہ نہیں۔۔۔ مگر گھر جاکر فری ہونے سے تم مجھے بالکل نہیں روک سکتی اب"
وہ ساڑھی کا پلو نیچے گرا کر ساڑھی کی فال آہستہ آہستہ کھولتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔حیا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
گیلی ساڑھی اتار کر ایک طرف رکھی تو حیا دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔
"حیا اٹھو اس طرح طبیعت خراب ہو جائے گی یہ گیلے کپڑے اتار کر جیکٹ پہنوں پھر لیٹنا"
معاویہ نے حیا کو کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔ خود صحن کی سائڈ چلا گیا
حیا نے بلاوز اور پیٹیکوٹ اتار کر معاویہ کی جیکٹ پہنی جو کہ اس کے سائز سے کافی بڑی تھی اس کے ہاتھ آستینوں کے اندر کہیں گم ہوگئے تھے۔۔۔ مگر سردی میں گیلے کپڑوں کی جگہ یہ نعمت لگی جیکٹ پہن کر حیا چارپائی پر پڑی ہوئی دونوں چادر اوڑھ کر لیٹ گئی
معاویہ اندر آیا تو حیا کو لیٹے ہوئے دیکھا اس کی ساڑھی اٹھاکر دروازے پر لگی کھوٹی پر لٹکا دی تاکہ وہ سوکھ جائے اور خود چارپائی کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا موبائل جلدی میں اس کا گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ حیا کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا یہ گھر کس کا تھا جانے کب کون آجائے وہ یہی سوچ رہا تھا
"ہم گھر کیسے جائے گے معاویہ"
معاویہ کی جیکٹ اور دو چادریں اوڑھ کر سردی کا احساس کم ہوا تو حیا کو ٹینشن شروع ہوگئی
"کیا ہوا سردی لگ رہی ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ تھامتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا
"سردی نہیں لگ رہی مگر مجھے گھر جانا ہے"
حیا نے منہ بنا کر بولا وہ اس وقت معاویہ کو چھوٹے بچے کی طرح لگی۔۔۔ معاویہ اٹھ کر چارپائی پر اسکے پاس بیٹھا اور جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے
"کیو بےبی مزہ نہیں آرہا پکنک کا۔۔۔ دیکھ لیا اپنی ضد کا انجام اچھا خاصہ مام ڈیڈ کے ساتھ چلی جاتی تو یوں خوار نہ ہونا پڑتا"
وہ ابھی بھی اس پر جھکا ہوا اسے بچوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولا
"اگر میں نہیں ہوتی تمہارے ساتھ تو تمہارا کیا ہوتا"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے بولا
"یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں آج تم نہیں ہوتی تو میری جان کیسے بچتی"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"میرا وہ مطلب نہیں تھا، زیادہ میرا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں ہے اگر آج تمہیں کچھ ہو جاتا تو"
خوف سے حیا سے نہ آگے سوچا گیا اور نہ بولا گیا
"تو ہمیشہ کے لیے آزادی مل جاتی تمہیں،، اس دو ٹکے کے پولیس والے سے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"اللہ نہ کرے۔۔۔۔ آئندہ ایسی فضول بات مت کرنا پلیز"
حیا نے بے ساختہ کہا اور اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا جسے معاویہ نے چوم کر اپنے ہاتھوں میں لیا
"اس وقت پیار آرہا ہے اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر۔۔ یا پھر پیار ہوگیا ہے، اپنے دو ٹکے کے پولیس والے سے۔۔۔ یا پھر اسے بھی میں ہمدردی سمجھو"
معاویہ نے حیا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا
"تمہیں یہ ہمدردی لگ رہی ہے یا پھر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ یہاں پھنس گئی ہو تو پیار جتا رہی ہو"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"تو پھر کیا تمہیں پیار ہوگیا ہے"
معاویہ نے اس کے منہ سے سننا چاہا
"اس سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ تم نے آبھی چند گھنٹوں پہلے مجھ سے گاڑی میں کہا کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے"
حیا نے اس کو آج کی گاڑی والی بات یاد دلاتے ہوئے اترا کر کہا
"اور تمہیں گاڑی سے اتارنے سے پہلے یہ بھی تو کہا تھا کہ میں تمہیں محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتا"
معاویہ نے کہنے کے ساتھ اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے
اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا
"تم ہمیشہ سے میرے ساتھ من مانی کرتے آئے ہو مجھ پر دھونس جمانا روعب چلانا حق جتاتے ہو"
حیا نے موقع دیکھ کر اس کو اسکی غلطیوں کا بتایا
"بیوی پر اپنا حق نہیں جتاؤ گا تو کیا نیناں پر جتاو گا۔۔۔ میرے روعب جمانے سے تم کہاں میرے روعب میں آتی ہوں۔۔ ۔ اگر آسانی سے پٹ جاتی تو دھونس جمانے کی ضرورت نہیں پڑتی"
حیا کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس کا چہرہ اوپر کر کے گردن پر جھکا
"اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
"نیناں سے یاد آیا۔۔ اب تم کبھی بھی نیناں سے ہنس کر بات نہیں کرو گے بلکہ اس کی طرف دیکھو گے تک نہیں"
حیا نے اس کی دوسری غلطی بتائی اور ساتھ میں تنمبہی کی
"اوکے جانم نیناں کو میں اپنی بہن بنا لیتا ہوں آج سے۔۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے اس کے رخسار پر ہونٹ رکھتے ہوئے ایک بار پھر پوچھا
"کل تک تو تم چار شادیاں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے"
حیا نے معاویہ کو اس کی ایک اور سنگین غلطی کے بارے میں بتایا۔۔۔ جس پر معاویہ نے اپنے ہونٹوں کو آپس میں دبا کر اپنی ہنسی کو روکا
"آئندہ چار شادیوں کے بارے میں منہ سے بولنا تو دور کی بات۔ ۔۔ کبھی دماغ میں خیال بھی نہیں لاو گا۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کے دوسرے رخسار پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے پھر پوچھا
"کل تم نے میرا ہاتھ موڑا اور مجھے کمرے سے نکل جانے کے لیے کہا"
حیا کو اس کی ایک اور غلطی یاد آئی
"آگے سے اب کوئی فضول حرکت نہیں کروں گا اگر اب ہاتھ موڑا تو تم ڈیڈ سے کہہ دینا وہ یقینا اس دن سے بھی زیادہ زور کا تھپڑ لگائیں گے اور اگر مجھے غصہ تو روم سے میں خود نکل جاؤں گا۔۔۔ اب تو پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اس کا ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا
"کل تم نے سب کی تعریف کی مما کی صنم کی اور یہاں تک کہ اس چڑیل نیناں کی بھی اور مجھے ایک نظر دیکھا تک نہیں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں"
حیا نے معاویہ کو اس کی اس غلطی کے بارے میں بتایا جس کا دکھ اسے کل سے کھائے جا رہا تھا
"بےبی کل تم پرپل ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی اس ڈریس پر مام سے ادھار مانگی ہوئی جیولری کافی میچ کررہی تھی۔۔۔بس کل جو لپ اسٹک لگائی تھی پنک کلر کی اس کا ٹیسٹ اچھا نہیں لگتا مجھے باقی سب پرفیکٹ تھا۔۔۔ اب تو بتا دو یار تمہیں مجھ سے پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اب کے بیچارگی سے پوچھا
"وہ ادھار مانگیں کی جیلری نہیں تھی آنٹی نے مجھے خود آفر کی تھی۔۔۔ جو انہوں نے بعد میں مجھے گفٹ کردی اس لئے اب میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ اب وہ جیولری میری ملکیت ہے"
حیا نے ابرو اچکا کر اترا کر کہا
"جیولری سے پہلے میری مام اپنا ثپوت بھی تمہیں گفٹ کیا ہے بےبی۔۔۔ میں بھی تمھاری ہی ملکیت ہو۔ ۔۔۔بتاؤ نا پلیز تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا
"ہاں معاویہ مراد مجھے آپ سے پیار ہوگیا ہے"
حیا کے اقرار پر معاویہ نے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کو دیکھا اور اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں پر رکھ دئے
اج حیا کو معاویہ کی قربت کا احساس زرا برا نہیں لگا نہ اس نے معاویہ کو خود سے دور ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر گزری باہر سے کسی جانور کے غرانے کی آواز آنے لگی۔۔۔ حیا کے ڈرنے پر معاویہ کھڑا ہوا اور ریوالور ہاتھ میں لے کر کھڑکی سے باہر جھانکا
"ریلیکس کوئی نہیں ہے"
معاویہ نے حیا کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور واپس کرسی پر آ کر بیٹھ گیا
"معاویہ تمہیں بھی سردی لگ رہی ہوگی نا"
جیسے جیسے رات بڑھ رہی تھی سردی بھی بڑھ رہی تھی حیا نے معاویہ کے احساس سے بولا
"بےبی اگر تم مجھے جیکٹ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں یا اپنے ساتھ چادر شیئر کرنے کا بولتی ہوں۔۔۔ تو سوچ لو دونوں صورت میں فری ہونے والا کام یہی ہوجائے گا"
معاویہ نے شرارت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم پر تو ترس بھی نہیں کھانا چاہیے تم ہو ہی دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا نے اس کی بات پر جھینپتے ہوئے کہا تو معاویہ ہنس دیا
"ریلیکس ہوکر سو جاؤ تھوڑی دیر"
معاویہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
"تم کہاں جارہے ہو"
حیا نے اس کو اٹھتا دیکھ کر پوچھا
"یہی ہوں آتا ہو تھوڑی دیر میں"
وہ پاکٹ سے سگریٹ اور لائٹر نکالتا ہوا بولا
تھوڑی دیر بعد حیا کو نیند آنے لگی تو وہ سوگئی۔۔۔ معاویہ نے ساری رات کرسی پر بیٹھ کر سوتے جاگتے گزاری
*
وہ ابھی باتھ لے کر نکلی تھی آج اس کا ارادہ فضا کے دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے روم سے نکلنے کا تھا۔۔۔۔ گردن موڑ کر اس نے ہادی کو دیکھا جو ابھی بھی سو رہا تھا وہ جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا اسے بہت چاہنے والا شوہر ملا تھا۔۔۔ ہادی کو سوتا ہوا دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی بیٹھ کے قریب آکر اپنے گیلے بالوں کو ہادی کے چہرے پر لا کر زور سے جھٹکا۔۔۔ چہرے پر پڑنے والی پانی کی بوندوں سے ہادی کی نیند میں خلل پڑا اور اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے صنم کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا
"صبح بخیر"
صنم نے مسکرا کر کہا
ہادی نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرایا صنم کے ہونٹ اس کے گالوں کو چھوگئے
"ویسے تو جگانے کا وہ طریقہ بھی برا نہیں تھا جو تم نے اپنایا۔۔۔ مگر تم اسطرح بھی جگا سکتی ہو"
صنم نے گھور کر اس کو دیکھا اور اس کے گالوں پر سے اپنی لپ اسٹک کا نشان صاف کیا
"ہادی آپ بھی نہ بس۔۔۔ اب جلدی سے اٹھ کر باہر آئے میں آنٹی کے پاس جا رہی ہوں اس سے پہلے وہ روم میں آئیں"
صنم نے اٹھتے ہوئے کہا
"ارے یار اب اتنی بھی ظالم نہیں ہے میری مما فکر نہیں کرو اج نہیں آئیں گی"
ہادی اس کو دوبارہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا
"اب صبح کا آغاز ہوگیا ہے اب اچھے بچوں کی طرح ری ایکٹ کریں"
صنم نے اس کا موڈ بدلتے ہوئے دیکھ کر کہا
"تمہیں کس نے کہا یہ بچہ اچھا ہے یہ بچہ بہت ضدی ہے اور سامنے والے کو جب تک نہیں بخشتا جب تک اپنی ضد پوری نہ کرے"
ہادی کہتا ہوا اس کے اوپر جھکا
"ہادی۔۔۔۔ بلال انکل"
صنم نے گھبرا کر کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہادی نے ایک دم پیچھے ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھا جو کہ بند تھی مگر اتنے میں صنم اٹھ کر روم کے دروازے کی طرف بھاگی
"شاور لےکر جلدی سے باہر آجائے"
مسکرا کر کہتی ہوئی وہ روم سے نکل گئی اس کی شرارت سمجھ کر ہادی مسکرا دیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 54
وہ حیا کا ہاتھ تھام کر اسے دوسرے روم کی طرف لے گیا وہاں ایک اور چھوٹا سا کمرہ تھا اس کے بعد صحن۔۔۔۔ صحن میں ایک اور دروازہ تھا جو کہ گھر کے دوسری طرف کھلتا تھا جس سے وہ لوگ باآسانی دوسرے راستے سے باہر نکل سکتے تھے مگر معاویہ کا دماغ کچھ اور سوچنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور صحن کا جائزہ لیا
"کون ہے یہاں پر جلدی سے کھولو دروازہ"
وہ لوگ یقینا وہاں پہنچ چکے تھے اور زور زور سے دروازہ بجا رہے تھے
"یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہو معاویہ، وہ سامنے دروازہ نہیں دکھ رہا تمہیں ہم وہاں سے نکل جاتے ہیں چلو"
حیا نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اسے آئیڈیا دیا
"حیا پلیز اس وقت منہ بند رکھو اور یہ جو تمہارے پاس دماغ جیسی چیز ہے اسے کم چلاو"
معاویہ نے نیچے ٹینک کا ڈھکنا کھول کر دیکھا سامنے پڑی ہوئی اسٹک اس میں ڈال کر اس کی گہرائی کا جائزہ لیا جو کہ زیادہ گہرا نہیں تھا
"تم کیا کر رہے ہو معاویہ وہ لوگ اندر آجائیں گے نکلو یہاں سے"
کیوکہ دوسری طرف آب دروازہ توڑنے کی کوشش کی جارہی تھی
"حیا تمہیں تھوڑی دیر کے لیے اس ٹینکی میں چھپنا پڑے گا"
حیا کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے معاویہ نے کہا
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا بھلا اتنی ٹھنڈ میں اتنے۔۔۔اس پانی میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہم اس دروازے سے کیوں نہیں نکل رہے ہیں"
حیا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"حیا بحث کا وقت نہیں ہے اس وقت،، بالکل آواز نہیں نکالنا اب"
معاویہ نے اسے اٹھا کر نیچے ٹینکی میں اترنے میں مدد دی۔۔۔
"تم کہاں جارہے ہو" حیا کو ایک دفعہ پھر رونا آیا
"یہی ہو بےبی آواز نہیں نکالنا ذرا سی بھی"
معاویہ اسے تسلی دے کر تلقین کرتا ہوا ٹینکی کا ڈھکنہ بند کر دیا۔۔۔۔ پھر جلدی سے جاکر اس نے صحن والے دروازے کی کنڈی کھولی اور پورا دروازہ کھول دیا۔۔ صحن میں واپس آکر خود پائپ کے ذریعے اوپر چھت پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
وہاں سے نکلنے کا تو کوئی فائدہ نہیں تھا اگر وہ اکیلا ہوتا تو نکل بھی جاتا مگر حیا کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ وہ تیز نہیں بھاگ سکتی تھی اور حیا کو اٹھا کر وہ خود بھی تیز نہیں بھاگ سکتا تھا نتیجہ یہی ہوتا کہ وہ لوگ ان دونوں کو آسانی سے پکڑ سکتے تھے۔۔۔۔ اگر ان لوگوں کے پاس اصلحہ نہیں ہوتا تو وہ یوں چھپنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرتا مگر اپنی اور حیا کی جان بچانے کے لئے اسے یہی بہتر طریقہ لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہ لوگ دروازہ توڑ کر اندر آگئے دونوں کمروں کو چھان کر جب وہ صحن میں آئے
"وہ دیکھو دروازہ کھلا ہے لگتا ہے دروازے سے نکل گئے"
ان میں سے ایک آدمی بولا اور پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر کال ملانے لگا
"شیرازی صاحب معذرت کے ساتھ آج آپ کا کام نہیں ہو سکا۔۔۔ وہ اے۔ایس۔پی ہماری سوچ سے زیادہ شاطر نکلا۔۔۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ وہ بچ نہ پائے مگر اس نے چکمہ دے کر پہلے لڑکی کو بھگایا پھر خود بھی فرار ہوگیا اور ہمارے دو آدمی بھی زخمی ہوگئے"
شکیل کو اپنا پلان ناکام ہوتا محسوس ہوا تو اس نے شیرازی کال ملاکر بتایا
"ناکارہ انسان ہو تم سب کے سب تم سات افراد ایک آدمی کو نہیں سنبھال پائے لعنت ہے تم سب کے اوپر۔ ۔۔اور مجھے فون کرکے اس کے کارنامے کیا سنا رہے ہو، گم کرو وہاں سے سب اپنی شکلیں"
اویس شیرازی نے غصے میں شکیل کو جھاڑتے ہوئے کہا
شکیل نے فون رکھا اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتا ہوا بولا
"تم دونوں اس راستے سے جاو۔۔۔ اور تم لوگ میرے ساتھ پیچھے کے راستے سے آو۔۔۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی نظر آئے فورا گولی مار دینا"
شکیل نے باقی ساتھیوں کو ہدایت دی اور وہ لوگ اس گھر سے نکل گئے۔۔۔۔ چند منٹ گزارنے کے بعد جب معاویہ کو یقین ہو گیا وہ لوگ تھوڑی دور نکل گئے ہونگے تب وہ واپس پائپ کے ذریعے اترا بھاگ کر اس نے سب سے پہلے صحن کا دروازہ بند کیا اور ٹین کا ڈھکنا ہٹا کر حیا کو پکارا
"حیا۔۔۔ حیا میں ہوں ہاتھ دو اپنا جلدی"
معاویہ کی آواز سن کر حیا نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ باہر نکالا معاویہ نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ یخ برف ہورہا تھا۔۔۔ اسے اندازہ تھا اسے ٹھنڈ میں، ٹھنڈے پانی میں رہنا حیا کے لیے یہ یقینا مشکل ٹاسک ہوگا۔۔۔ مگر جس طرح حیا نے صبر اور ہمت کا مظاہرہ دکھایا معاویہ کو اس کی بھی امید نہیں تھی۔۔۔ معاویہ نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حیا کو باہر نکالا وہ بری طرح کانپ رہی تھی سردی سے اس کے ہونٹ نیلے پڑہ رہے تھے
"اگر تھوڑی دیر اور نہیں نکالتے تو میں یقینا مر جاتی"
معاویہ کے سینے پر اپنا سر ٹکرا کر حیا نے کانپتے ہوئے کہا۔۔۔ کندھوں تک اس کی ساڑھی پوری گیلی ہوچکی تھی
"ایسے ہی مرنے دے دیتا چلو اندر چلیں"
معاویہ اسے اپنے بازوں میں اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔۔۔ اور کمرے میں پڑی ہوئی چارپائی پر اس سے لٹایا۔۔۔ دوسری طرف دروازے کے پٹ بند کر کے کمرے میں موجود میز دروازے سے لگایا،،، کونے میں موجود ٹرنگ میں سے دو موٹی چادریں نکال کر وہ حیا کے پاس آیا
"حیا اٹھو یہ گیلے کپڑے اتارو ورنہ اور ٹھنڈ لگے گی"
معاویہ اس کے پاس آ کر بولا
دونوں چادر ایک طرف رکھی اور اپنی جیکٹ اتارنے لگا۔۔۔ حیا ویسے ہی آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی تھی
"حیا"
معاویہ نے اس کو پکار کر اس کے گال تھپتھپائے حیا نے ایک دفعہ آنکھیں کھول کر پھر بند کرلی۔۔۔ وہ ویسی ہی سمٹی ہوئی لیٹی تھی
"بےبی شاید آج تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے"
معاویہ نے جھک کر حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا
"تم فری مت ہو زیادہ"
حیا نے آہستہ آواز میں کہا
"نہیں میرا یہاں فری ہونے کا کوئی خاص ارادہ نہیں۔۔۔ مگر گھر جاکر فری ہونے سے تم مجھے بالکل نہیں روک سکتی اب"
وہ ساڑھی کا پلو نیچے گرا کر ساڑھی کی فال آہستہ آہستہ کھولتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔حیا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
گیلی ساڑھی اتار کر ایک طرف رکھی تو حیا دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔
"حیا اٹھو اس طرح طبیعت خراب ہو جائے گی یہ گیلے کپڑے اتار کر جیکٹ پہنوں پھر لیٹنا"
معاویہ نے حیا کو کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔ خود صحن کی سائڈ چلا گیا
حیا نے بلاوز اور پیٹیکوٹ اتار کر معاویہ کی جیکٹ پہنی جو کہ اس کے سائز سے کافی بڑی تھی اس کے ہاتھ آستینوں کے اندر کہیں گم ہوگئے تھے۔۔۔ مگر سردی میں گیلے کپڑوں کی جگہ یہ نعمت لگی جیکٹ پہن کر حیا چارپائی پر پڑی ہوئی دونوں چادر اوڑھ کر لیٹ گئی
معاویہ اندر آیا تو حیا کو لیٹے ہوئے دیکھا اس کی ساڑھی اٹھاکر دروازے پر لگی کھوٹی پر لٹکا دی تاکہ وہ سوکھ جائے اور خود چارپائی کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا موبائل جلدی میں اس کا گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ حیا کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا یہ گھر کس کا تھا جانے کب کون آجائے وہ یہی سوچ رہا تھا
"ہم گھر کیسے جائے گے معاویہ"
معاویہ کی جیکٹ اور دو چادریں اوڑھ کر سردی کا احساس کم ہوا تو حیا کو ٹینشن شروع ہوگئی
"کیا ہوا سردی لگ رہی ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ تھامتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا
"سردی نہیں لگ رہی مگر مجھے گھر جانا ہے"
حیا نے منہ بنا کر بولا وہ اس وقت معاویہ کو چھوٹے بچے کی طرح لگی۔۔۔ معاویہ اٹھ کر چارپائی پر اسکے پاس بیٹھا اور جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے
"کیو بےبی مزہ نہیں آرہا پکنک کا۔۔۔ دیکھ لیا اپنی ضد کا انجام اچھا خاصہ مام ڈیڈ کے ساتھ چلی جاتی تو یوں خوار نہ ہونا پڑتا"
وہ ابھی بھی اس پر جھکا ہوا اسے بچوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولا
"اگر میں نہیں ہوتی تمہارے ساتھ تو تمہارا کیا ہوتا"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے بولا
"یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں آج تم نہیں ہوتی تو میری جان کیسے بچتی"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"میرا وہ مطلب نہیں تھا، زیادہ میرا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں ہے اگر آج تمہیں کچھ ہو جاتا تو"
خوف سے حیا سے نہ آگے سوچا گیا اور نہ بولا گیا
"تو ہمیشہ کے لیے آزادی مل جاتی تمہیں،، اس دو ٹکے کے پولیس والے سے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"اللہ نہ کرے۔۔۔۔ آئندہ ایسی فضول بات مت کرنا پلیز"
حیا نے بے ساختہ کہا اور اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا جسے معاویہ نے چوم کر اپنے ہاتھوں میں لیا
"اس وقت پیار آرہا ہے اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر۔۔ یا پھر پیار ہوگیا ہے، اپنے دو ٹکے کے پولیس والے سے۔۔۔ یا پھر اسے بھی میں ہمدردی سمجھو"
معاویہ نے حیا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا
"تمہیں یہ ہمدردی لگ رہی ہے یا پھر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ یہاں پھنس گئی ہو تو پیار جتا رہی ہو"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"تو پھر کیا تمہیں پیار ہوگیا ہے"
معاویہ نے اس کے منہ سے سننا چاہا
"اس سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ تم نے آبھی چند گھنٹوں پہلے مجھ سے گاڑی میں کہا کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے"
حیا نے اس کو آج کی گاڑی والی بات یاد دلاتے ہوئے اترا کر کہا
"اور تمہیں گاڑی سے اتارنے سے پہلے یہ بھی تو کہا تھا کہ میں تمہیں محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتا"
معاویہ نے کہنے کے ساتھ اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے
اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا
"تم ہمیشہ سے میرے ساتھ من مانی کرتے آئے ہو مجھ پر دھونس جمانا روعب چلانا حق جتاتے ہو"
حیا نے موقع دیکھ کر اس کو اسکی غلطیوں کا بتایا
"بیوی پر اپنا حق نہیں جتاؤ گا تو کیا نیناں پر جتاو گا۔۔۔ میرے روعب جمانے سے تم کہاں میرے روعب میں آتی ہوں۔۔ ۔ اگر آسانی سے پٹ جاتی تو دھونس جمانے کی ضرورت نہیں پڑتی"
حیا کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس کا چہرہ اوپر کر کے گردن پر جھکا
"اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
"نیناں سے یاد آیا۔۔ اب تم کبھی بھی نیناں سے ہنس کر بات نہیں کرو گے بلکہ اس کی طرف دیکھو گے تک نہیں"
حیا نے اس کی دوسری غلطی بتائی اور ساتھ میں تنمبہی کی
"اوکے جانم نیناں کو میں اپنی بہن بنا لیتا ہوں آج سے۔۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے اس کے رخسار پر ہونٹ رکھتے ہوئے ایک بار پھر پوچھا
"کل تک تو تم چار شادیاں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے"
حیا نے معاویہ کو اس کی ایک اور سنگین غلطی کے بارے میں بتایا۔۔۔ جس پر معاویہ نے اپنے ہونٹوں کو آپس میں دبا کر اپنی ہنسی کو روکا
"آئندہ چار شادیوں کے بارے میں منہ سے بولنا تو دور کی بات۔ ۔۔ کبھی دماغ میں خیال بھی نہیں لاو گا۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کے دوسرے رخسار پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے پھر پوچھا
"کل تم نے میرا ہاتھ موڑا اور مجھے کمرے سے نکل جانے کے لیے کہا"
حیا کو اس کی ایک اور غلطی یاد آئی
"آگے سے اب کوئی فضول حرکت نہیں کروں گا اگر اب ہاتھ موڑا تو تم ڈیڈ سے کہہ دینا وہ یقینا اس دن سے بھی زیادہ زور کا تھپڑ لگائیں گے اور اگر مجھے غصہ تو روم سے میں خود نکل جاؤں گا۔۔۔ اب تو پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اس کا ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا
"کل تم نے سب کی تعریف کی مما کی صنم کی اور یہاں تک کہ اس چڑیل نیناں کی بھی اور مجھے ایک نظر دیکھا تک نہیں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں"
حیا نے معاویہ کو اس کی اس غلطی کے بارے میں بتایا جس کا دکھ اسے کل سے کھائے جا رہا تھا
"بےبی کل تم پرپل ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی اس ڈریس پر مام سے ادھار مانگی ہوئی جیولری کافی میچ کررہی تھی۔۔۔بس کل جو لپ اسٹک لگائی تھی پنک کلر کی اس کا ٹیسٹ اچھا نہیں لگتا مجھے باقی سب پرفیکٹ تھا۔۔۔ اب تو بتا دو یار تمہیں مجھ سے پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اب کے بیچارگی سے پوچھا
"وہ ادھار مانگیں کی جیلری نہیں تھی آنٹی نے مجھے خود آفر کی تھی۔۔۔ جو انہوں نے بعد میں مجھے گفٹ کردی اس لئے اب میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ اب وہ جیولری میری ملکیت ہے"
حیا نے ابرو اچکا کر اترا کر کہا
"جیولری سے پہلے میری مام اپنا ثپوت بھی تمہیں گفٹ کیا ہے بےبی۔۔۔ میں بھی تمھاری ہی ملکیت ہو۔ ۔۔۔بتاؤ نا پلیز تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا
"ہاں معاویہ مراد مجھے آپ سے پیار ہوگیا ہے"
حیا کے اقرار پر معاویہ نے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کو دیکھا اور اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں پر رکھ دئے
اج حیا کو معاویہ کی قربت کا احساس زرا برا نہیں لگا نہ اس نے معاویہ کو خود سے دور ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر گزری باہر سے کسی جانور کے غرانے کی آواز آنے لگی۔۔۔ حیا کے ڈرنے پر معاویہ کھڑا ہوا اور ریوالور ہاتھ میں لے کر کھڑکی سے باہر جھانکا
"ریلیکس کوئی نہیں ہے"
معاویہ نے حیا کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور واپس کرسی پر آ کر بیٹھ گیا
"معاویہ تمہیں بھی سردی لگ رہی ہوگی نا"
جیسے جیسے رات بڑھ رہی تھی سردی بھی بڑھ رہی تھی حیا نے معاویہ کے احساس سے بولا
"بےبی اگر تم مجھے جیکٹ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں یا اپنے ساتھ چادر شیئر کرنے کا بولتی ہوں۔۔۔ تو سوچ لو دونوں صورت میں فری ہونے والا کام یہی ہوجائے گا"
معاویہ نے شرارت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم پر تو ترس بھی نہیں کھانا چاہیے تم ہو ہی دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا نے اس کی بات پر جھینپتے ہوئے کہا تو معاویہ ہنس دیا
"ریلیکس ہوکر سو جاؤ تھوڑی دیر"
معاویہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
"تم کہاں جارہے ہو"
حیا نے اس کو اٹھتا دیکھ کر پوچھا
"یہی ہوں آتا ہو تھوڑی دیر میں"
وہ پاکٹ سے سگریٹ اور لائٹر نکالتا ہوا بولا
تھوڑی دیر بعد حیا کو نیند آنے لگی تو وہ سوگئی۔۔۔ معاویہ نے ساری رات کرسی پر بیٹھ کر سوتے جاگتے گزاری
*
وہ ابھی باتھ لے کر نکلی تھی آج اس کا ارادہ فضا کے دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے روم سے نکلنے کا تھا۔۔۔۔ گردن موڑ کر اس نے ہادی کو دیکھا جو ابھی بھی سو رہا تھا وہ جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا اسے بہت چاہنے والا شوہر ملا تھا۔۔۔ ہادی کو سوتا ہوا دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی بیٹھ کے قریب آکر اپنے گیلے بالوں کو ہادی کے چہرے پر لا کر زور سے جھٹکا۔۔۔ چہرے پر پڑنے والی پانی کی بوندوں سے ہادی کی نیند میں خلل پڑا اور اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے صنم کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا
"صبح بخیر"
صنم نے مسکرا کر کہا
ہادی نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرایا صنم کے ہونٹ اس کے گالوں کو چھوگئے
"ویسے تو جگانے کا وہ طریقہ بھی برا نہیں تھا جو تم نے اپنایا۔۔۔ مگر تم اسطرح بھی جگا سکتی ہو"
صنم نے گھور کر اس کو دیکھا اور اس کے گالوں پر سے اپنی لپ اسٹک کا نشان صاف کیا
"ہادی آپ بھی نہ بس۔۔۔ اب جلدی سے اٹھ کر باہر آئے میں آنٹی کے پاس جا رہی ہوں اس سے پہلے وہ روم میں آئیں"
صنم نے اٹھتے ہوئے کہا
"ارے یار اب اتنی بھی ظالم نہیں ہے میری مما فکر نہیں کرو اج نہیں آئیں گی"
ہادی اس کو دوبارہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا
"اب صبح کا آغاز ہوگیا ہے اب اچھے بچوں کی طرح ری ایکٹ کریں"
صنم نے اس کا موڈ بدلتے ہوئے دیکھ کر کہا
"تمہیں کس نے کہا یہ بچہ اچھا ہے یہ بچہ بہت ضدی ہے اور سامنے والے کو جب تک نہیں بخشتا جب تک اپنی ضد پوری نہ کرے"
ہادی کہتا ہوا اس کے اوپر جھکا
"ہادی۔۔۔۔ بلال انکل"
صنم نے گھبرا کر کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہادی نے ایک دم پیچھے ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھا جو کہ بند تھی مگر اتنے میں صنم اٹھ کر روم کے دروازے کی طرف بھاگی
"شاور لےکر جلدی سے باہر آجائے"
مسکرا کر کہتی ہوئی وہ روم سے نکل گئی اس کی شرارت سمجھ کر ہادی مسکرا دیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment