Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 54
حیا اٹھو اب ہمیں نکلنا ہے یہاں سے معاویہ نے حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا حیا کی آنکھ کھلی تو اس کی ساڑھی معاویہ نے اس کے ہاتھ میں تھمائی جو کہ اب سوکھ چکی تھی
"اس کو پہنو پھر نکلتے ہیں"
معاویہ بولتا ہوا گھر سے باہر نکلا تھا کہ چاروں طرف کا جائزہ لے سکے رات کا اندھیرا بدن کے اجالے میں تبدیل ہو چکا تھا اس لئے وہ حیا کو لے کر وہاں سے جلد سے جلد نکل جانا چاہتا تھا واپس گھر میں آیا تو حیا ویسی کی ویسی بیٹھی تھی
"حیا ہمہیں نکلنا ہے تم ویسی کی ویسی بیٹھی ہو۔۔۔چینج کیوں نہیں کیا تم نے"
حیا جو کہ ابھی بھی چادر اوڑھے بیٹھی ہوئی تھی معاویہ نے آکر اس سے پوچھا
"مجھے کل ساڑھی آنٹی نے باندھی تھی مجھے تو یہ نہیں پہننی آتی"
حیا نے پریشانی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا اس کی بات سن کر معاویہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
"چلو صبح ہوتے ہی نیا رولے شروع" معاویہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا
"معاویہ اگر اب تم نے مجھے کچھ کہا تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی"
حیا نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا
"بےبی ساڑھی باندھنے کی میں کوشش کرتا ہوں بلاؤز پہنا آتا ہے یا یہ بھی میں ہی پہناؤ"
معاویہ نے حیا کو سست بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا جس پر حیا نے اس کو گھور کر دیکھا
"اچھا تم یہاں سے جاؤ میں بلاؤز پہنتی ہوں"
حیا نہ جھنپتے ہوئے کہا
"میں اب کہیں نہیں جارہا دوسری طرف منہ کر رہا ہوں جلدی سے پہنو"
معاویہ نے اپنا رخ دوسری طرف مڑتے ہوئے کہا
"اب کیا کرنا ہے معاویہ"
حیا کی آواز کا معاویہ نے پلٹ کر دیکھا حیا بلاؤز اور پیںٹیکوٹ پہنے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کراس کی شکل میں شولڈر پر رکھے ہوئے کھڑی تھی اور ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی معاویہ اس کے پاس آیا اس کے دونوں ہاتھ سیدھے کیے ساڑھی اٹھا کر لمبا سانس کھینچا۔۔۔ ساڑھی کا ایک سرہ پکڑ اسے پیٹیکوٹ کے اندر اڑھسا تو حیا اچھل کر پیچھے ہوئی
"کیا ہوا"
معاویہ نے حیرانگی سے پوچھا
"وہ مجھے گدگدی ہو رہی ہے"
حیا نے بیچاری سے کہا
"حیا اب چپ کر کے کھڑی رہوں بالکل سیریس ہوکر"
معاویہ نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا حیا دوبارہ سانس روک کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ دو تین بار ٹرائے کرنے کے بعد فائنلی ساڑھی بندھ گئی۔۔ بہت مہارت سے تو نہیں مگر اس قابل تھی کہ اب اس میں باہر نکلا جاسکے
"یہ جیکٹ اس کے اوپر پہنو"
معاویہ نے حیا کو بولا کیونکہ ساڑھی باندھتے ہوئے اس کو ہلکی سی حرارت حیا کو چھو کر فیل ہو رہی تھی۔۔۔ حیا نے جیکٹ پہن لی اور اس کو دیکھنے لگی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں
"اب کیا ہوا"
معاویہ نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے پوچھا
"کیا پولیس کی ٹریننگ کے وقت تم لوگوں کو ساڑھے باندھنا بھی سکھائی جاتی ہے"
حیا نے معصومیت سے پوچھا اس کا انداز ایسا تھا کہ معاویہ کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی
"سدھر جاؤ تم" معاویہ نے ہاتھ کی مٹھی کا مکہ بناکر ہلکے سا اس کے گال پر لگایا
"پولیس والے کی بیوی ہونے کے ناطے یہ تھوڑا مشکل کام ہے"
حیا نے ابرو اچکا کر کہا۔۔۔ معاویہ نے افسوس سے سر ہلایا
"چلیں اب"
ہنسی دباتے ہوئے معاویہ نے کہا
وہ دونوں اپنی کار کے پاس پہنچے تو کار خستہ حالت میں ویسے ہی کھڑی تھی معاویہ نے چیک کیا تھا دونوں کے موبائل اور حیا کا کلچ موجود نہیں تھا کافی دیر ویٹ کرنے کے بعد کوئی سواری وہاں سے گزری تو۔۔۔ لفٹ کی مدد سے وہ لوگ گھر پہنچے
*
"آپ کیا کر رہی ہیں انٹی میں کچھ ہلپ کرواؤ آپکی"
صنم نے کچن میں آتے ہوئے فضا سے بولا
"کوئی ضرورت نہیں ہے میں اتنی ظالم ساتھ ہرگز نہیں ہوں جو دوسرے دن ہی اپنی بہو سے کچن میں کام کرواؤ"
فضا نے مسکرا کر دیکھتے ہوئے صنم کو کہا
"پر مجھے اچھا نہیں لگے گا آپ کام کر رہی ہیں اور میں بیٹھو"
صنم نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ فرائی پین میں آئک ڈال کر چولہے جلا رہی تھی
"چندا میں روز تھوڑی کچن میں آتی ہوں آج بلال صاحب کی فرمائش تھی کہ انہیں ناشتہ میرے ہاتھ سے کرنا ہے اس لئے ناشتہ بنا رہی ہوں اور تم ہادی کے پاس بیٹھ جاؤ میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں"
فضا نے کیٹل میں چائے چیک کرتے ہوئے کہا
"وہ تو ابھی روم میں ہی ہیں۔۔ ویسے ہادی کو ناشتے میں کیا پسند ہے آنٹی" صنم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا اس کی بات سن کر فضا مسکرائی تو صنم نظریں جھکا گئی
"بہت لکی ہے میرا ہادی جیسے تم جیسی کئیر کرنے والی بیوی ملی"
فضا نے مسکرا کر اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
"آنٹی میرا دل چاہ رہا تھا آج ہادی کے لئے ان کی پسند کا کچھ بناو ناشتے میں، آپ پلیز بتائیں نہ انہیں کیا پسند ہے"
صنم نے اصرار کر کے پوچھا
"ویسے کل کی دلہن سے رواج نہیں ہے کام کروانے کا مگر تم اتنا فورس کر رہی ہو تو ایسا کرو ہاف فرائی ایگ بنا لو ہادی کے لئے"
فضا نے چولہے کی آنچ ہلکے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
صنم نے ہچکچاتے ہوئے پاس پڑے باؤل میں سے انڈا اٹھایا گھر میں کبھی کچھ بنایا تو نہیں تھا مگر ساجدہ کو کئی دفعہ بناتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔ اس نے جیسے ہی انڈا توڑ کر فرائی پین میں ڈالا فرائی پین کا گرم تیل اس کے ہاتھوں پر گر پڑا۔۔۔۔وہ چیختی ہوئی پیچھے ہوئی فضا بھی ایک دم پریشان ہوکر اس کی طرف بڑھی
"صنم یہ کیا کر لیا تم نے دکھاو اپنا ہاتھ"
گرم تیل گرنے سے اس کا ہاتھ جل چکا تھا تکلیف کے احساس سے صنم نے رونا شروع کردیا۔۔۔ فضا جلدی آئنٹمنٹ لینے روم میں گئی۔۔۔ اتنے میں بلال اور ہادی شور کی آواز سن کر کچن میں آئے
"صنم کیا ہوا تمہیں"
ہادی نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما جوکہ سرخ ہو رہا تھا
"یہ لو ہاری یہ لگا دو جلدی سے"
فضا نے آئنمنٹ ہادی کو دیتے ہوئے کہا
"واہ فضا بیگم کیا کہنے ہیں تمہارے کل کی آئی ہوئی بہو کو آج ہی جلانے کی کوشش شروع کر دی تم نے۔۔۔صحیح کی ساس ہونے کا ثبوت دیا ہے تم نے"
بلال نے ماحول کی ٹینشن کم کرنے کے لئے فضا کو نشانہ بنایا
"بلال شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس نے اسرار کیا کہ ہادی کے لئے اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنائے گی اس لیے اس کو انڈہ بنانے کے لیے کہا۔۔۔ اگر تم نے اب مجھے کچھ کہا تو یہ سارے انڈے تمہارے اوپر شہید ہو جائیں گے میرے ہاتھوں سے"
فضا نے روہانسی انداز میں کہا
"انکل آنٹی ٹھیک کہہ رہی ہیں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے"
صنم نے روتے ہوئے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"مما بابا آپ لوگ چپ ہوجائیں پلیز اور چلیں اب دونوں کچن سے"
ہادی کے بولنے پر وہ دونوں کچن سے باہر نکل گئے
"کیا ضرورت تھی تمہیں کچن میں کام کرنے کی"
ہادی نے سیریس ہو کر اس سے پوچھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کوکنگ نہیں آتی ہے
"میں اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے کچھ بنانا چاہ رہی تھی"
صنم نے روتے ہوئے کہا
"میرے لئے کچھ بنانا چاہ رہی تھی اور اپنے ہاتھ کے چھالے بنالئے بےوقوف"
ہادی نے اسکا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا
"ابھی بھی درد ہو رہا ہے"
ہادی نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تو صنم نے اثبات میں سر ہلایا
ہادی اسے کچن سے بیڈروم میں لے آیا فضا نے اسے بالکل بیڈ سے اٹھنے سے منع کردیا۔۔ ناشتہ ہادی اور اور صنم نے اپنے بیڈ روم میں ہی کیا
*
وہ دونوں گھر پہنچے تو ناعیمہ کے سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی
"کوئی فکر ہے احساس ہے تم دونوں کو۔۔۔ انسان فون کردیتا ہے یا کال ریسیو کرلیتا ہے۔۔۔ تم دونوں کے نمبر پوری رات خضر اور میں ٹرائے کرتے کرتے تھک گئے مگر مجال ہے جو تم دونوں کے نمبر آن ہو"
ناعیمہ کو کل رات سے ہی ٹینشن تھی کہ وہ دونوں گھر نہیں لوٹے اس لئے ان کے آتے ہی اچھی طرح کلاس لی
"مام ارسل نے روک لیا تھا کیوکہ رات کافی ہوگئی تھی۔۔ اس کے گھر میں سگنل کا بھی پروبلم ہوتا ہے اب تو آپ کے سامنے ہے نا ہم دونوں پھر کیوں پریشان ہو رہی ہیں"
معاویہ نے ناعیمہ کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔۔ ناعیمہ نے معاویہ کو گھور کر دیکھا پھر حیا کو دیکھ کر بولی
"تمہیں کیا ہوا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا"
حیا کا رنگ زرد پڑ رہا تھا اور وہ کافی ڈل لگ رہی تھی
"حیا جاو چینج کرو، مام اس کو بیڈروم ہی ناشتہ دے دیں۔۔۔ کل رات سے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بخار ہوگیا ہے۔۔۔ ریسٹ کرے گی تو ٹھیک ہوجائے گی"
حیا کے بولنے سے پہلے معاویہ نے ناعیمہ سے کہا
حیا کو بھی ایسا ہی فیل ہو رہا تھا کیوکہ اس کا پورا جسم درد کر رہا تھا
"تم دونوں ہی روم میں جاو میں ساجدہ سے ناشتہ بھجوا دیتی ہوں"
ناعیمہ بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی معاویہ اور حیا اپنے روم میں آئے
"تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ریسٹ کرو گی تو ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔ میں جلدی گھر آ جاؤں گا"
معاویہ نے روم میں آکر اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا جو کہ بخار کی حرارت سے سرخ ہو رہا تھا شاید رات کو ٹھنڈے پانی میں رہنے کا ٹاسک اس کو مہنگا پڑگیا تھا
"تم کہاں جا رہے ہو تمہیں میرے پاس ہونا چاہیے اس وقت"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔جب حیا کی طبیعت خراب ہوتی تھی زین اس کے پاس ہی رہتا تھا
"جلدی آجاو گا بےبی،، جانا بہت ضروری ہے ایک دو کام نمٹا کر شام سے پہلے آجاؤنگا" معاویہ نے اس کو بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بٹھایا۔ ۔۔ اتنے میں ساجدہ ناشتہ لے کر آگئی۔۔۔ اپنے سامنے حیا کو ناشتہ کروا کر میڈیسن دی،، لائٹ بند کرکے اس کو کمفرٹر اڑایا
"جب تک نیند لے کر اٹھو گی میں آ جاؤں گا"
اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے معاویہ چینج کرنے چلاگیا
دوسری گاڑی کی کیز لے کر وہ باہر نکل گیا۔۔ سب سے پہلے اس کا ارادہ اویس شیرازی کے گھر جانے کا تھا اس کے بعد اپنے اور حیا کے لیے موبائل خرید کر پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا اور پھر ڈی۔ایس۔پی افتخار سے مل کر کل کے سارے واقعے سے آگاہ کرنا تھا۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا اویس شرازی کو نہیں چھوڑنا ہے یہی سوچتے ہوئے اس نےگاڑی اویس شرازی کے گھر کے قریب روکی
*
حیا کی شام کو آنکھ کھلی تو اپنا پورا جسم جلتا ہوا محسوس ہورہا تھا شاید بخار اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔۔۔ وہ اکیلے روم میں لیٹی ہوئی تھی اسے شدت سے زین کی یاد آئی۔۔۔ آگے بڑھ کر اس نے کارلیس اٹھایا اور زین کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔ زین کی آواز سنتے ہی اسے ڈھیر سارا رونا آیا
"بابا آپ آجائیں میرے پاس"
حیا نے روتے ہوئے زین کو بولا۔۔۔حیا کی روتی ہوئی آواز سن کر وہ پریشان ہوگیا
"میری جان کیا ہوا تم ٹھیک ہو معاویہ کدھر ہے"
زین نے اس وقت آفس میں تھا اس نے چیئر سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"معاویہ کام سے گئے ہوئے ہیں میں آپ کو مس کر رہی ہوں"
حیا نے بخار کی شدت سے جلتی ہوئی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے کہا
"میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں"
زین نے گاڑی کی چابی اٹھائی"
"کیا ہوا سب خیریت ہے"
بلال نے زین سے پوچھا
"مجھے لگ رہا ہے حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے معاویہ بھی اس کے پاس نہیں ہے،، میں حیا کو دیکھنے جا رہا ہوں اب مشکل ہے واپس افس انا آج اس کو گھر لے آوگا"
بلال کو بتاتا ہوا وہ آفس سے باہر نکل گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 54
حیا اٹھو اب ہمیں نکلنا ہے یہاں سے معاویہ نے حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا حیا کی آنکھ کھلی تو اس کی ساڑھی معاویہ نے اس کے ہاتھ میں تھمائی جو کہ اب سوکھ چکی تھی
"اس کو پہنو پھر نکلتے ہیں"
معاویہ بولتا ہوا گھر سے باہر نکلا تھا کہ چاروں طرف کا جائزہ لے سکے رات کا اندھیرا بدن کے اجالے میں تبدیل ہو چکا تھا اس لئے وہ حیا کو لے کر وہاں سے جلد سے جلد نکل جانا چاہتا تھا واپس گھر میں آیا تو حیا ویسی کی ویسی بیٹھی تھی
"حیا ہمہیں نکلنا ہے تم ویسی کی ویسی بیٹھی ہو۔۔۔چینج کیوں نہیں کیا تم نے"
حیا جو کہ ابھی بھی چادر اوڑھے بیٹھی ہوئی تھی معاویہ نے آکر اس سے پوچھا
"مجھے کل ساڑھی آنٹی نے باندھی تھی مجھے تو یہ نہیں پہننی آتی"
حیا نے پریشانی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا اس کی بات سن کر معاویہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
"چلو صبح ہوتے ہی نیا رولے شروع" معاویہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا
"معاویہ اگر اب تم نے مجھے کچھ کہا تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی"
حیا نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا
"بےبی ساڑھی باندھنے کی میں کوشش کرتا ہوں بلاؤز پہنا آتا ہے یا یہ بھی میں ہی پہناؤ"
معاویہ نے حیا کو سست بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا جس پر حیا نے اس کو گھور کر دیکھا
"اچھا تم یہاں سے جاؤ میں بلاؤز پہنتی ہوں"
حیا نہ جھنپتے ہوئے کہا
"میں اب کہیں نہیں جارہا دوسری طرف منہ کر رہا ہوں جلدی سے پہنو"
معاویہ نے اپنا رخ دوسری طرف مڑتے ہوئے کہا
"اب کیا کرنا ہے معاویہ"
حیا کی آواز کا معاویہ نے پلٹ کر دیکھا حیا بلاؤز اور پیںٹیکوٹ پہنے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کراس کی شکل میں شولڈر پر رکھے ہوئے کھڑی تھی اور ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی معاویہ اس کے پاس آیا اس کے دونوں ہاتھ سیدھے کیے ساڑھی اٹھا کر لمبا سانس کھینچا۔۔۔ ساڑھی کا ایک سرہ پکڑ اسے پیٹیکوٹ کے اندر اڑھسا تو حیا اچھل کر پیچھے ہوئی
"کیا ہوا"
معاویہ نے حیرانگی سے پوچھا
"وہ مجھے گدگدی ہو رہی ہے"
حیا نے بیچاری سے کہا
"حیا اب چپ کر کے کھڑی رہوں بالکل سیریس ہوکر"
معاویہ نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا حیا دوبارہ سانس روک کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ دو تین بار ٹرائے کرنے کے بعد فائنلی ساڑھی بندھ گئی۔۔ بہت مہارت سے تو نہیں مگر اس قابل تھی کہ اب اس میں باہر نکلا جاسکے
"یہ جیکٹ اس کے اوپر پہنو"
معاویہ نے حیا کو بولا کیونکہ ساڑھی باندھتے ہوئے اس کو ہلکی سی حرارت حیا کو چھو کر فیل ہو رہی تھی۔۔۔ حیا نے جیکٹ پہن لی اور اس کو دیکھنے لگی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں
"اب کیا ہوا"
معاویہ نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے پوچھا
"کیا پولیس کی ٹریننگ کے وقت تم لوگوں کو ساڑھے باندھنا بھی سکھائی جاتی ہے"
حیا نے معصومیت سے پوچھا اس کا انداز ایسا تھا کہ معاویہ کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی
"سدھر جاؤ تم" معاویہ نے ہاتھ کی مٹھی کا مکہ بناکر ہلکے سا اس کے گال پر لگایا
"پولیس والے کی بیوی ہونے کے ناطے یہ تھوڑا مشکل کام ہے"
حیا نے ابرو اچکا کر کہا۔۔۔ معاویہ نے افسوس سے سر ہلایا
"چلیں اب"
ہنسی دباتے ہوئے معاویہ نے کہا
وہ دونوں اپنی کار کے پاس پہنچے تو کار خستہ حالت میں ویسے ہی کھڑی تھی معاویہ نے چیک کیا تھا دونوں کے موبائل اور حیا کا کلچ موجود نہیں تھا کافی دیر ویٹ کرنے کے بعد کوئی سواری وہاں سے گزری تو۔۔۔ لفٹ کی مدد سے وہ لوگ گھر پہنچے
*
"آپ کیا کر رہی ہیں انٹی میں کچھ ہلپ کرواؤ آپکی"
صنم نے کچن میں آتے ہوئے فضا سے بولا
"کوئی ضرورت نہیں ہے میں اتنی ظالم ساتھ ہرگز نہیں ہوں جو دوسرے دن ہی اپنی بہو سے کچن میں کام کرواؤ"
فضا نے مسکرا کر دیکھتے ہوئے صنم کو کہا
"پر مجھے اچھا نہیں لگے گا آپ کام کر رہی ہیں اور میں بیٹھو"
صنم نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ فرائی پین میں آئک ڈال کر چولہے جلا رہی تھی
"چندا میں روز تھوڑی کچن میں آتی ہوں آج بلال صاحب کی فرمائش تھی کہ انہیں ناشتہ میرے ہاتھ سے کرنا ہے اس لئے ناشتہ بنا رہی ہوں اور تم ہادی کے پاس بیٹھ جاؤ میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں"
فضا نے کیٹل میں چائے چیک کرتے ہوئے کہا
"وہ تو ابھی روم میں ہی ہیں۔۔ ویسے ہادی کو ناشتے میں کیا پسند ہے آنٹی" صنم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا اس کی بات سن کر فضا مسکرائی تو صنم نظریں جھکا گئی
"بہت لکی ہے میرا ہادی جیسے تم جیسی کئیر کرنے والی بیوی ملی"
فضا نے مسکرا کر اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
"آنٹی میرا دل چاہ رہا تھا آج ہادی کے لئے ان کی پسند کا کچھ بناو ناشتے میں، آپ پلیز بتائیں نہ انہیں کیا پسند ہے"
صنم نے اصرار کر کے پوچھا
"ویسے کل کی دلہن سے رواج نہیں ہے کام کروانے کا مگر تم اتنا فورس کر رہی ہو تو ایسا کرو ہاف فرائی ایگ بنا لو ہادی کے لئے"
فضا نے چولہے کی آنچ ہلکے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
صنم نے ہچکچاتے ہوئے پاس پڑے باؤل میں سے انڈا اٹھایا گھر میں کبھی کچھ بنایا تو نہیں تھا مگر ساجدہ کو کئی دفعہ بناتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔ اس نے جیسے ہی انڈا توڑ کر فرائی پین میں ڈالا فرائی پین کا گرم تیل اس کے ہاتھوں پر گر پڑا۔۔۔۔وہ چیختی ہوئی پیچھے ہوئی فضا بھی ایک دم پریشان ہوکر اس کی طرف بڑھی
"صنم یہ کیا کر لیا تم نے دکھاو اپنا ہاتھ"
گرم تیل گرنے سے اس کا ہاتھ جل چکا تھا تکلیف کے احساس سے صنم نے رونا شروع کردیا۔۔۔ فضا جلدی آئنٹمنٹ لینے روم میں گئی۔۔۔ اتنے میں بلال اور ہادی شور کی آواز سن کر کچن میں آئے
"صنم کیا ہوا تمہیں"
ہادی نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما جوکہ سرخ ہو رہا تھا
"یہ لو ہاری یہ لگا دو جلدی سے"
فضا نے آئنمنٹ ہادی کو دیتے ہوئے کہا
"واہ فضا بیگم کیا کہنے ہیں تمہارے کل کی آئی ہوئی بہو کو آج ہی جلانے کی کوشش شروع کر دی تم نے۔۔۔صحیح کی ساس ہونے کا ثبوت دیا ہے تم نے"
بلال نے ماحول کی ٹینشن کم کرنے کے لئے فضا کو نشانہ بنایا
"بلال شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس نے اسرار کیا کہ ہادی کے لئے اپنے ہاتھ سے ناشتہ بنائے گی اس لیے اس کو انڈہ بنانے کے لیے کہا۔۔۔ اگر تم نے اب مجھے کچھ کہا تو یہ سارے انڈے تمہارے اوپر شہید ہو جائیں گے میرے ہاتھوں سے"
فضا نے روہانسی انداز میں کہا
"انکل آنٹی ٹھیک کہہ رہی ہیں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے"
صنم نے روتے ہوئے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"مما بابا آپ لوگ چپ ہوجائیں پلیز اور چلیں اب دونوں کچن سے"
ہادی کے بولنے پر وہ دونوں کچن سے باہر نکل گئے
"کیا ضرورت تھی تمہیں کچن میں کام کرنے کی"
ہادی نے سیریس ہو کر اس سے پوچھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کوکنگ نہیں آتی ہے
"میں اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے کچھ بنانا چاہ رہی تھی"
صنم نے روتے ہوئے کہا
"میرے لئے کچھ بنانا چاہ رہی تھی اور اپنے ہاتھ کے چھالے بنالئے بےوقوف"
ہادی نے اسکا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا
"ابھی بھی درد ہو رہا ہے"
ہادی نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تو صنم نے اثبات میں سر ہلایا
ہادی اسے کچن سے بیڈروم میں لے آیا فضا نے اسے بالکل بیڈ سے اٹھنے سے منع کردیا۔۔ ناشتہ ہادی اور اور صنم نے اپنے بیڈ روم میں ہی کیا
*
وہ دونوں گھر پہنچے تو ناعیمہ کے سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی
"کوئی فکر ہے احساس ہے تم دونوں کو۔۔۔ انسان فون کردیتا ہے یا کال ریسیو کرلیتا ہے۔۔۔ تم دونوں کے نمبر پوری رات خضر اور میں ٹرائے کرتے کرتے تھک گئے مگر مجال ہے جو تم دونوں کے نمبر آن ہو"
ناعیمہ کو کل رات سے ہی ٹینشن تھی کہ وہ دونوں گھر نہیں لوٹے اس لئے ان کے آتے ہی اچھی طرح کلاس لی
"مام ارسل نے روک لیا تھا کیوکہ رات کافی ہوگئی تھی۔۔ اس کے گھر میں سگنل کا بھی پروبلم ہوتا ہے اب تو آپ کے سامنے ہے نا ہم دونوں پھر کیوں پریشان ہو رہی ہیں"
معاویہ نے ناعیمہ کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔۔ ناعیمہ نے معاویہ کو گھور کر دیکھا پھر حیا کو دیکھ کر بولی
"تمہیں کیا ہوا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا"
حیا کا رنگ زرد پڑ رہا تھا اور وہ کافی ڈل لگ رہی تھی
"حیا جاو چینج کرو، مام اس کو بیڈروم ہی ناشتہ دے دیں۔۔۔ کل رات سے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بخار ہوگیا ہے۔۔۔ ریسٹ کرے گی تو ٹھیک ہوجائے گی"
حیا کے بولنے سے پہلے معاویہ نے ناعیمہ سے کہا
حیا کو بھی ایسا ہی فیل ہو رہا تھا کیوکہ اس کا پورا جسم درد کر رہا تھا
"تم دونوں ہی روم میں جاو میں ساجدہ سے ناشتہ بھجوا دیتی ہوں"
ناعیمہ بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی معاویہ اور حیا اپنے روم میں آئے
"تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ریسٹ کرو گی تو ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔ میں جلدی گھر آ جاؤں گا"
معاویہ نے روم میں آکر اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا جو کہ بخار کی حرارت سے سرخ ہو رہا تھا شاید رات کو ٹھنڈے پانی میں رہنے کا ٹاسک اس کو مہنگا پڑگیا تھا
"تم کہاں جا رہے ہو تمہیں میرے پاس ہونا چاہیے اس وقت"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔جب حیا کی طبیعت خراب ہوتی تھی زین اس کے پاس ہی رہتا تھا
"جلدی آجاو گا بےبی،، جانا بہت ضروری ہے ایک دو کام نمٹا کر شام سے پہلے آجاؤنگا" معاویہ نے اس کو بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بٹھایا۔ ۔۔ اتنے میں ساجدہ ناشتہ لے کر آگئی۔۔۔ اپنے سامنے حیا کو ناشتہ کروا کر میڈیسن دی،، لائٹ بند کرکے اس کو کمفرٹر اڑایا
"جب تک نیند لے کر اٹھو گی میں آ جاؤں گا"
اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے معاویہ چینج کرنے چلاگیا
دوسری گاڑی کی کیز لے کر وہ باہر نکل گیا۔۔ سب سے پہلے اس کا ارادہ اویس شیرازی کے گھر جانے کا تھا اس کے بعد اپنے اور حیا کے لیے موبائل خرید کر پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا اور پھر ڈی۔ایس۔پی افتخار سے مل کر کل کے سارے واقعے سے آگاہ کرنا تھا۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا اویس شرازی کو نہیں چھوڑنا ہے یہی سوچتے ہوئے اس نےگاڑی اویس شرازی کے گھر کے قریب روکی
*
حیا کی شام کو آنکھ کھلی تو اپنا پورا جسم جلتا ہوا محسوس ہورہا تھا شاید بخار اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔۔۔ وہ اکیلے روم میں لیٹی ہوئی تھی اسے شدت سے زین کی یاد آئی۔۔۔ آگے بڑھ کر اس نے کارلیس اٹھایا اور زین کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔ زین کی آواز سنتے ہی اسے ڈھیر سارا رونا آیا
"بابا آپ آجائیں میرے پاس"
حیا نے روتے ہوئے زین کو بولا۔۔۔حیا کی روتی ہوئی آواز سن کر وہ پریشان ہوگیا
"میری جان کیا ہوا تم ٹھیک ہو معاویہ کدھر ہے"
زین نے اس وقت آفس میں تھا اس نے چیئر سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"معاویہ کام سے گئے ہوئے ہیں میں آپ کو مس کر رہی ہوں"
حیا نے بخار کی شدت سے جلتی ہوئی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے کہا
"میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں"
زین نے گاڑی کی چابی اٹھائی"
"کیا ہوا سب خیریت ہے"
بلال نے زین سے پوچھا
"مجھے لگ رہا ہے حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے معاویہ بھی اس کے پاس نہیں ہے،، میں حیا کو دیکھنے جا رہا ہوں اب مشکل ہے واپس افس انا آج اس کو گھر لے آوگا"
بلال کو بتاتا ہوا وہ آفس سے باہر نکل گیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment