Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 53

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 53



جیسے ہی گولیاں چلیں معاویہ نے حیا کے سر سے اپنا سر جوڑ کر نیچے کی طرف جھکایا۔۔۔۔ گاڑی کے شیشے کے ٹکڑے ان پر گرے۔۔۔۔ پھر ایک منٹ کے لیے خاموشی چھا گئی

"حیا تم ٹھیک ہو"
معاویہ نے سرگوشی سے حیا سے پوچھا

"یہ لوگ کون ہیں،، یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ معاویہ"
حیا کی روتی ہوئی آواز منہ سے نکلی

"کچھ نہیں۔۔۔ پریشان مت ہوں میں ہوں تمہارے پاس"
معاویہ نے اس کے رونے پر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

کار سے چند لوگ اترے گاڑی کے دروازے کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔۔۔ باہر آوازوں سے معاویہ نے اندازہ لگایا کہ اس کی گاڑی کے کچھ فاصلے پر سامنے دو گاڑیاں ہیں۔۔۔ اسے جلدی کچھ کرنا تھا ورنہ وہ لوگ ان تک پہنچ جاتے تو ان کا بچنا مشکل ہوتا کیونکہ دو گاڑیوں میں افراد کی تعداد چھ یا سات تو ہوگی۔۔۔ اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر حیا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اس وقت حیا کی شکل ایسی ہو رہی تھی کہ وہ ابھی چیخ چیخ کر رونا شروع کر دے گی

"سیٹ کے نیچے سے جلدی سے میرا ریوالور دو ہری اپ"
معاویہ نے حیا کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔ حیا نے سر ہلایا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سیٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر ریوالور نکالا اور معاویہ کو تھمایا

"تم دونوں گاڑی کے پاس جاکر دیکھو بچ گئے ہیں یا مرگئے"
معاویہ اور حیا کو باہر سے آواز سنائی دی۔۔۔۔ معاویہ نے ایک بار پھر حیا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا،، ڈر کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے مگر معاویہ کی بات مانتے ہوئے اس نے منہ سے آواز نہیں نکالی۔۔۔۔ ریوالور میں اس وقت 6 گولیاں تھی اور باہر آدمیوں کی تعداد کا کچھ اندازہ نہیں تھا معاویہ کو وہ گولیاں سوچ سمجھ کر استعمال کرنی تھی اسے اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھانے کی آواز آرہی تھی جیسے کوئی اس کی گاڑی کی طرف آرہا ہوں۔۔۔۔ معاویہ نے سر اٹھا کر اچانک فائر کیا اور فورا جھک گیا،،،، آگے بڑھنے والے آدمیوں میں سے ایک کے کندھے پر گولی لگی باقی سب نیچے بیٹھ گئے

یہ گولی معاویہ نے چلائی ہی اس لئے تھی تاکہ انہیں یہ اچھی طرح ازبر ہوجائے کہ اندر موجود فرد کے پاس بھی ہتھیار ہے اس لیے اب وہ سوچ سمجھ کر گاڑی کی طرف آئے اتنے میں اسے ٹائم مل جائے گا وہ کم سے کم حیا کو سیو کردے گا۔ ۔۔۔ معاویہ کے گولی چلانے کے بعد وہ لوگ محتاج ہو گئے فضا میں ایک دم پھر خاموشی چھاگئی حیا کی سیسکیاں نکلنے لگی

"یہ لوگ ہمیں مار دیں گے۔۔۔ ہم مرجائے گے"
حیا خوف سے روتے ہوئے بولنے لگی

"حیا مجھ پر یقین رکھو، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا،، یہاں دیکھو۔۔۔ بھروسہ ہے نہ تمہیں مجھ پر"
وہ آہستہ آواز میں تسلی دیتا ہوا حیا سے پوچھ رہا تھا حیا نے روتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا

"اب جیسا میں کہوں گا تم ویسا کرو گی۔۔ مانو گی نہ میری بات"
معاویہ کے پوچھنے پر حیا نے روتے ہوئے ایک دفعہ پھر سر ہلا کر اقرار کیا

"گڈ"
معاویہ نے کہنے کے ساتھ ہی حیا کی طرف کا دروازہ کھول دیا

دروازہ کھولنے کی دیر تھی ایک بار پھر گولیوں کی برسات شروع ہوگئی
حیا زور زور سے رونے لگی، معاویہ نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا

"ریلیکس کچھ نہیں ہوا آیا یہاں دیکھو میری طرف"
معاویہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا 

دروازہ کھولنے سے معاویہ نے یہ دیکھا سامنے روڈ پر دو قدم کے فاصلے پر ہیں جنگل ہے

"حیا جب میں اشارہ کروں گا تمہیں فورا گاڑی سے نکل کر بھاگنا ہے بغیر دیر لگاۓ تم پیچھے مڑ کے ہرگز نہیں دیکھو گی اور تیزی سے بھاگتے ہوئے اس سے طرف جاوگی"
معاویہ نے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے پوری بات سمجھائی

"نہیں معاویہ میں تمہارے بغیر کیسے جاسکتی ہوں میں کہیں نہیں جا رہی"
حیا نے زور زور سے نفی میں سر ہلانا شروع کردیا

"تم نے ابھی پرامس کیا تھا تم میری بات مانو گی۔۔۔ حیا پلیز اس وقت ہمارے پاس وقت نہیں ہے تم ویسا ہی کروگی جیسا میں کہہ رہا ہوں۔۔۔ بتاؤ مانو گی ناں میری بات" معاویہ نے دوبارہ حیا سے پوچھا حیا نے روتے ہوئے سر اقرار میں ہلایا

"گڈ اب ریڈی رہو"
معاویہ نے اسمائل دے کر اس کے گال تھپتھائے

"اور ایک بات اور میں تم سے محبت کرنا کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتا"
معاویہ نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا

معاویہ نے اپنی پوزیشن سنبھالی ریوالور والے ہاتھ کو ہلکا سا اوپر کیا لگاتار تین سے چار فائر اس نے سامنے گاڑی پر کیے

"حیا گو"
فائر کرنے کے ساتھ ہی سب نیچے بیٹھ گئے حیا گاڑی سے نکل کر معاویہ کی ہدایت پر عمل کرتی ہوئی تیز بھاگ کر جنگل میں گم ہو گئی۔۔۔۔ وہ اپنی رفتار سے بہت زیادہ تیز بھاگی تھی

"اس طرف لڑکی بھاگی ہے تم اس کے پیچھے جاؤ"
معاویہ کو آواز سنائی دی۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھولے ہونے کی وجہ سے ایک آدمی جنگل کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا معاویہ نے ریوالور سے اس کا نشانہ لیا گولی اس کی کمر پر لگی اور وہ نیچے گر گیا۔۔۔ معاویہ نے فورا گاڑی کا دروازہ بند کیا ایک دفعہ پھر ان لوگوں نے معاویہ کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔۔۔

**

حیا بہت تیز بھاگے جارہی تھی سینڈل پہننے کی وجہ سے اس سے بھاگا نہیں جا رہا تھا مگر اپنے پیچھے آتی گولی کی آواز نے اس کے قدم سست نہیں پڑنے دیئے،، مگر نیچے پڑے پتھر سے وہ بری طرح لڑکھڑا کر گری مگر اس پر دہشت اتنی سوار تھی کہ اس نے سینڈل اتار کر دوبارہ بھاگنا شروع کردیا اس کا سانس پھولنے لگا ہر طرف اندھیرا بڑے بڑے در ہر طرف جھاڑیاں اسے راستہ سمجھ نہیں آرہا تھا ایک بڑے سے درخت آڑھ میں وہ چھپ کر بیٹھ گئی اور اپنا پھولا ہوا تنفس بحال کرنے لگی۔۔۔۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک دفعہ پھر دور کہیں سے گولیوں کی آواز آنے لگی

"معاویہ"
اس کا دل بند ہونے لگا

"نہیں نہیں معاویہ پلیز"
معاویہ کو لے کر اس کے دل میں برے برے خیالات آنے لگے اس کا دل ڈوبنے لگا

"حیا مجھ پر یقین کرو میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا"
تھوڑی دیر پہلے بولا گیا معاویہ کا جملہ یاد کر کے وہ دوبارہ رونے لگی چند منٹ اور گزرے اسے تیز جوتوں کی آواز سنائی دی یعنی کوئی بھاگتا ہوا اس کی طرف آ رہا تھا وہ خوف سے کانپنے اس کا کلچ جس میں موبائل تھا وہ گاڑی میں ہی رہ گیا تھا وہ ابھی کچھ سوچ بھی نہیں پائی تھی جب اس کے کندھے پر کسی نے اپنا بھاری ہاتھ رکھا اس سے پہلے اس کے منہ سے چیخ نکلتی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

*

حیا کو گاڑی سے نکالنے کے بعد اسے تھوڑا ہے اطمینان ہوا اس نے ریوالور چیک کیا تو صرف ایک گولی بچی تھی اس نے پاکٹس اپنا موبائل نکالا انسپکٹر کو سعد کو کال ملائی مگر دوسری طرف بیل جا رہی تھی وہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا اسے آج اپنی قسمت خراب لگی۔۔۔۔  بولیڈز چیک کرنے کے لیے اس نے سیٹ کے نیچے اپنا ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاتھ سے کچھ ٹکرایا اس نے ہاتھ مزید اگے سرکہ کر وہ چیز تھام لی۔۔۔ ہاتھ باہر نکالا تو وہ شل تھا آنکھیں بند کرکے اس نے شکر ادا کیا کہ اللہ نے اسے ایک چانس دیا

صنم کی مہندی سے دو دن پہلے اس کی ڈیوٹی کسی جماعت کے سیاسی جلسے میں لگی ہوئی تھی تبھی سارے ہتھیار اور اسلحہ اس کی گاڑی میں وہاں تک پہنچایا گیا تھا یقیناً یہ شیل اس وقت گاڑی میں ہی رہ گیا ہوں

"اے۔ایس۔پی میری بات غور سے سنو تم یہاں سے بچ کر نہیں جاسکتے تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم اپنے آپ کو شرافت سے ہمارے حوالے کر دو"
ان سات لوگوں میں سے ایک کے کندھے پر گولی لگنے کی وجہ سے اور ایک کی کمر پر گولی لگنے کی وجہ سے دو زخمی ہوئے تھے جبکہ پانچ رہ گئے تھے۔۔۔۔ ان میں سے ایک نے معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جس کا معاویہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ سارے افراد ایک ساتھ معاویہ کی گاڑی کی طرف قدم بڑھانے لگے۔۔۔
معاویہ ان لوگوں کے قدموں کی آواز سے اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کا تعین کر رہا تھا جب اسے اندازہ ہوگیا کہ اب فاصلہ تقریبا سات سے آٹھ قدم رہ گیا ہے تب اس نے گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے سے شیل باہر کی طرف اچھالا آنکھیں بند کرکے اور اپنا سانس روک کر وہ اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر اگلے اقدام کے لئے تیار کرنے لگا۔۔۔۔  شیل پھینکنے سے جیسے ہی فضا میں دھواں پھیلنا شروع ہوا وہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلو خود بھی جنگل کی طرف بھاگا اس کے پیچھے کسی ایک نے فائر کھول دیے فضا میں ایک بار پھر گولیوں کی آواز بلند ہوئی۔۔۔ مگر جب تک وہ اندھیرے اور گھنے جنگل میں گم ہوچکا تھا

"وہاں چلو وہ اس طرف گیا ہے"
بری طرح کھانستے ہوئے اک فرد نے باقیوں کو اشارہ کر کے بتایا مگر سب آنسوگیس کی وجہ سے اپنی آنکھیں مسل رہے تھے اور بری طرح کھانس رہے تھے سب کو اپنی حالت بحال کرنے میں دس سے پندرہ منٹ لگے

معاویہ بھاگتا ہوا جنگل میں آگے بڑھا جارہا تھا تھوڑی دیر بعد اسے حیا کی سینڈلز پڑی نظر آئی سینڈلز اٹھا کر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی دور دور تک جھاڑیوں اور درختوں علاوہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ دل ہی دل میں وہ حیا کے ملنے کی دعا کرتا ہوا وہ مزید آگے بڑھا تھوڑی دور سے جھاڑیوں میں اٹکا ہوا حیا کا ساڑھی کا ٹکڑا ملا یعنی وہ یہی کہیں ہوگی جھاڑی سے کپڑا نکالتا ہوا وہ تھوڑی دور اور بھاگا ایک درخت کے پیچھے اسے حیا کے ساڑھی کا پلو نظر آیا۔ ۔۔۔ آنکھیں بند کرکے شکر ادا کرتا ہوا وہ درخت کے پاس پہنچا جیسے ہی اس نے حیا کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو فورا اپنا دوسرا ہاتھ اسے حیا کے ہونٹوں پر رکھنا پڑا

"بےبی میں ہوں تمہارا دو ٹکے کا پولیس والا"
معاویہ نے قریب آکر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔ وہ چند سیکنڈ اسے بے یقینی سے دیکھتی رہی پھر اسے چہرے پر اور سینے پر ہاتھ لگا کر محسوس کیا۔۔۔وہ واقعی اس کے سامنے تھا سہی سلامت،، حیا کی کیفیت سمجھتے ہوئے وہ حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولا

"کچھ نہیں ہوا جانم،، کہا تو تھا جب تک تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے پیار نہ دیکھ لو میں مرنے والا نہیں"
معاویہ کے کہنے کی دیر تھی حیا تڑپ کر اس کے سینے سے لگی اور بے اختیار اس نے رونا شروع کردیا۔۔۔ معاویہ نے اس کے گرد اپنے ہاتھ باندھ کر اسے دلاسا دیا

"سب ٹھیک ہے یا میں ٹھیک ہوں پلیز اب چپ ہو جاؤ۔۔ہمہیں یہاں سے نکلنا ہے خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے وہ لوگ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں"
اس نے خود سے حیا کو الگ کرتے ہوئے کہا پھر حیا آپ ہاتھ پکڑ کر تیز تیز قدم بڑھانے لگا

"حیا تیز چلو پلیز"
معاویہ اس کی وجہ سے بھاگ نہیں پارہا تھا مگر پھر بھی وہ تیز نہیں چل پا رہی تھی

"نہیں میں اور تیز نہیں چل سکتی،، میرے پاؤں میں کچھ چبھا ہوا ہے بہت درد ہو رہا ہے"
حیا نے بیچارگی سے کہا

"پہلے کیوں نہیں بتایا کونسا پاؤں ہے دکھاو"
معاویہ نے رک کر نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے پوچھا حیا نے اپنے دائیں پاؤں کی طرف اشارہ کیا

"مجھے شولڈر سے پکڑو"
معاویہ نے اس کا پاؤں اٹھا کر دیکھا تو وہاں پر بڑا کانٹا کھسا ہوا تھا۔۔۔ معاویہ کے ایک دم کھینچ کر نکالنے پر حیا نے اپنی چیخ تو دبالی مگر غصے میں معاویہ کی طرف دیکھا

"ہمیشہ تکلیف ہی دیتے ہو تم مجھے"
حیا نے اس کو گھورتے ہوئے کہا

"پہلے یہاں سے بچنے کی تدبیر کر لو پھر غصہ کرتی رہنا تیز چلو اب" معاویہ نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑ پر تیز چلنا شروع کردیا

"بس معاویہ میری ہمت نہیں اور چلنے کی"
اس کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تو وہ کافی تھک گئی ہے

"اوکے یہاں آو"  معاویہ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا اور آگے چلنے لگا تھوڑی دور جا کر اسے ایک گھر نظر آیا معاویہ اس گھر کی طرف چل پڑا کیونکہ وہاں پناہ لینے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔۔۔۔ دروازے کے پاس پہنچ کر،حیا کو نیچے اتارہ دروازہ ناک کرنا چاہا مگر کنڈی باہر سے لگی ہوئی تھی یعنی گھر کے اندر کوئی موجود نہیں تھا وہ کنڈی کھول کر اندر آیا۔۔۔۔۔ احتیاطن ہاتھ میں ریوالور لے کر اس نے حیا کو اندر آنے کا اشارہ کیا جب اسے یقین ہوگیا واقعی وہاں پر کوئی موجود نہیں ہے تو اس نے دروازہ بند کیا اور ساتھ ہی سامنے پڑی چارپائی پر بیٹھ کر اپنا سانس بحال کرنے لگا حیا بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی

"یہ کس کا گھر ہے معاویہ"
حیا کے پوچھنے پر معاویہ نے اس کو دیکھا

"میں قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے بالکل علم نہیں ہے اس بات کا۔۔۔ اتنی مشکل سچویشن میں تم اتنے احمقانہ سوال مت کرو پلیز"
معاویہ نے بیچارگی سے بولا

"تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے"
حیا نے گھور کر اسے دیکھا

ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب بہت سارے لوگوں کے قدموں کی آواز آئی معاویہ اور حیا نے ایک دوسرے کو دیکھا معاویہ اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھا اور ہلکی سی کھڑکی کھول کر دیکھا اور تاسف سے سر ہلایا

"کون ہے معاویہ"
حیا نے ڈر کر پوچھا

"کون ہو سکتا ہے میرے باراتی آئے ہیں"
معاویہ نے تپ کے کہا اور اس کا ہاتھ تھام کر دوسرے روم کی طرف حیا کو لے گیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment