Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 52
"واہ ڈیڈی داد دینی پڑے گی آپ کو۔۔۔ لڑکی کو پارلر سے اٹھانے کا کیا سپر فلاپ پلان بنایا آپ نے۔۔۔۔ کردی اس اے۔ایس۔پی نے اپنی بہن کی شادی اور بن گئی وہ کسی اور کی دلہن"
ساحر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اویس شیرازی کے قریب آتے ہوئے بولا شراب کے نشے میں دھت اسکی آنکھوں کے ڈورے لال ہو رہے تھے
"یوں بے وقفوں کی طرح میرے سامنے آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ختم نہیں ہو گئی ساری لڑکیاں جو اس کے لئے روگ لگا کر بیٹھے ہو تمہیں کونسا اسی شادی کرنی تھی،، اٹھوالینا پھر کبھی۔۔۔ حامد ساحر کو اس کے روم میں چھوڑ کر آؤ اور شکیل کو فون کرو اے۔ایس۔پی کی تصویر اور آماونٹ دونوں بھیجو اور اس سے کہو آج ہی ہر حال میں کام ہو جانا چاہیے"
اویس شیرازی نے اپنے خاص ملازم کو حکم دیا اور خود اپنے روم میں چلا گیا
*
وہ نیند میں تھی جب اسے اپنے چہرے پر ملائم سے لمس کا احساس ہوا اور ناک کے نتھنوں سے بھینی بھینی خوشبو ٹکرائی صنم نے آنکھیں کھولی اپنے چہرے کو چھو کر دیکھا تو گلاب کی پتیاں اسکے گال اور ماتھے پر بکھری تھی۔ ۔۔ گلاب کی پتیاں اپنے چہرے پر سے ہٹا کر اس کی نظر اپنے برابر میں ہادی پر پڑی جو تکیہ پر گہنی ٹکائے اسی کو دیکھ رہا تھا
"نیند پوری ہوگئی ہے تو اٹھ جاؤ مما دو بار دروازہ کھٹکھٹا کر جا چکی ہیں"
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے صنم کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔ اس کی بات سے صنم کی نظریں شرم سے جھک گئی کل رات ہادی نے نہ صرف اسے اپنی چاہتوں کا یقین دلایا تھا بلکہ اپنے عمل سے بھی بتایا تھا وہ اس کے لئے کتنی اہم ہے
"کیا ہوا بیڈروم سے باہر نکلنے کا موڈ نہیں ہے تو میں بول دیتا ہوں مما کو کہ آپ کے بیٹے نے آپ کی بہو کو ساری رات سونے نہیں دیا اس لئے وہ تھوڑا سونا چاہتی ہے"
ہادی اسکو لیٹے ہوئے دیکھ کر شرارت سے بولا
"ہادی پلیز ایسے نہیں کہے مجھے باہر جاتے ہوئے شرم آئے گی"
صنم اس کی باتوں پر بلش کرنے لگی تو ہادی مسکرایا
"یار اب اس طرح شرماؤ گی تو کیسے کام چلے گا"
وہ اس کی جھکی پلکوں کو چومتے ہوئے بولا
"ہادی آنٹی واقعی دو بار آئی تھی وہ کیا سوچ رہی ہوگیں مجھے عجیب لگ رہا ہے باہر جانا"
صنم کی بات پر وہ زور سے ہنسا
"پھر تو ہم دونوں کو جلدی سے بیڈ روم سے باہر نکلنا چاہیے ورنہ جتنی دیر لگائیں گے مما کے ساتھ ساتھ بابا بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے"
ہادی اٹھتے ہوئے بولا وہ بھی بیڈ سے اٹھ گئی اور وارڈروب کھول کر اپنا ڈریس نکالا۔۔۔۔ جو کہ خاص ناعیمہ نے شادی کے دوسرے دن کے لئے بنوایا تھا
"یہ نہیں آج یہ والا ڈریس پہنو"
ہادی نے پیرٹ گرین کلر کا ڈریس نکال کر دیا جو کہ فضا اور ہادی نے صنم کے لئے پسند کیا تھا
صنم نے مسکرا کر ہادی کے ہاتھ سے اس کا منتخب کردہ ڈریس لیا اور شاور لینے چلی گئی
*
"اٹھو بھی کیا پورا اصطبل بیچ کر سو رہے ہو"
حیا نے معاویہ کا شولڈر زور سے ہلایا تو معاویہ کی آنکھ کھلی
"اتنی دیر کیسے سو گیا میں آج"
گھڑی میں دس بجے کا ٹائم دیکھ کر معاویہ نے کہا۔۔۔ ورنہ اس کی عادت صبح جلدی اٹھنے کی تھی
"کسی کا دل جلا کر سوو گے تو ایسے ہی سکون کی نیند آنی ہے"
شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے معاویہ نے حیا کی بات پر اس کو دیکھا جو کہ وارڈروب سے اپنا ڈریس نکال رہی تھی
"جب انسان کا اپنا دل جلتا ہے تبھی تو احساس ہوتا ہے ورنہ دوسروں کی کیا خبر بے پروا لوگوں کو"
معاویہ کہتا ہوا خود بھی وارڈروب کے پاس آیا
"محبت کرنے والے کبھی بھی اپنی محبت کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھتے جو تم نے مجھ سے اپنایا ہوا ہے"
معاویہ قریب آیا تو حیا نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
معاویہ اس کے قریب آیا تو حیا پیچھے ہٹی معاویہ کے مزید اس کی طرف قدم بڑھانے سے وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی معاویہ اس کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اور وہ شکوہ بھری نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی معاویہ نے اس کی کمر کے گرد اپنا ایک ہاتھ حائل کر کے اسے خود سے قریب کیا دوسرے ہاتھ سے اس کی تھوڑی تھام کر اس کا چہرہ مزید اونچا کیا
"کیسا رویہ اپنایا چاہیے مجھے"
حیا کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لا کر وہ حیا سے پوچھنے لگا
معاویہ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ کچھ نہیں بولی اور اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔ ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہو رہا تھا مگر معاویہ کے انداز نے اسے انکھیں بند کرنے پر مجبور کر کیا
"بولو اب بول کیو نہیں رہی"
حیا کی بند آنکھیں دیکھ کر وہ حیا کے لرزتے ہوئے ہونٹوں پر اپنی انگلی پھیرتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر تک وہ حیا کا چہرہ اسی طرح دیکھتا رہا پھر ایک جھٹکے سے اس کو چھوڑ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ چند منٹ پہلے جس سحر نے حیا کو اپنے حصار میں لیا تھا ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا۔۔۔ حیا کا مزید خون کھولا وہ اپنے کپڑے لے کر چینج کرنے چلی گئی
*
چینج کرکے جو وہ نیچے آیا تو ناعیمہ اور حیا دونوں تیار کھڑی تھی
"کہیں جانے کا ارادہ ہے"
معاویہ نے ناعیمہ کی طرف دیکھ کر پوچھا
بیٹا ناشتہ لے کر جانا ہے صنم کے لئے وہ انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ ہم دونوں کو تمہارا یہ ویٹ کر رہے تھے چلو دیر ہو رہی ہے"
ناعیمہ نے جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"کیا ناشتہ بھی نہیں کروا سکتے وہ لوگ صنم کو اور میں کہیں نہیں جانے والا اس وقت"
معاویہ کی تیوری پر بل آئے وہ صبح ہادی کی شکل ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے بےزاری شو کرتے ہوئے بولا
"معاویہ رسم ہوتی ہے زین اور حور نہیں آئے تھے کیا ہے حیا کے پاس اور تمہیں بہن کا دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا"
ناعیمہ نے اس کا موڈ دیکھتے ہوئے تحمل سے سمجھایا
"اگر نہیں جا رہا تو اس کی منتیں کیوں کر رہی ہوں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ تم اور حیا"
خضر نے ہال میں آتے ہوئے ناعیمہ سے کہا وہ کل سے معاویہ سے بات نہیں کر رہا تھا معاویہ نے دو بار کلام کرنے کی خود سے کوشش کی مگر خضر نے کوئی جواب نہیں دیا اس وجہ سے بھی معاویہ کو حیا کہ اوپر اور بھی غصہ چڑھا ہوا تھا
"گاڑی میں آجائیں ویٹ کر رہا ہوں میں"
معاویہ بولتا ہوا باہر نکل گیا
"انکل آپ بھی چلتے"
حیا نے خضر سے کہا
"بیٹی کا سسرال ہے تم لوگ جاو۔ ۔۔ واپسی پر صنم آئے گی تب دیکھ لوں گا اسے"
خضر نے حیا کو جواب دیا تو وہ بھی نہ ناعیمہ کے پیچھے باہر نکل گئی
*
"اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی اتنا کچھ لے کر آگئی آپ"
فضا نے خوش دلی سے ملتے ہوئے ناعیمہ سے کہا
"بیٹی کے گھر خالی ہاتھ تو نہیں آنا تھا پہلی دفعہ"
ناعیمہ نے مسکرا کر کہا
"فضا آنٹی کیسی ہیں آپ"
حیا نے فضا سے ملتے ہوئے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں میری جان،، مگر تم بہت بدل گئی ہو ایک دفعہ بھی شادی کے بعد شوہر کو نہیں لے کر آئی"
فضا نے حیا کو گلے لگاتے معاویہ کو دیکھا تو اس نے سر ہلا کر سلام کیا اور پھر بلال سے ملنے لگا
"آپ سب لوگ بیٹھے پلیز میں ہادی اور صنم کو بلا کر لاتی ہوں"
فضا نے روم سے نکلتے ہوئے کہا
صنم اور ہادی ڈرانگ روم میں آئے صنم تھوڑا جھجھک کر ناعیمہ اور حیا سے ملی۔۔۔۔ ہادی اور معاویہ نے ایک دوسرے کو دیکھا دونوں کے ہی چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ہادی نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا تو معاویہ نے بھی اس سے مصافحہ کیا کل کے واقعے کی وجہ سے سب کی نظریں ان دونوں پر تھیں۔۔۔ دونوں کی نارمل انداز میں ملنے پر صنم نے سکھ کا سانس لیا
"ہادی نے منہ دکھائی میں کیا دیا" حیا کے پوچھنے پر صنم نے شرما کر اسے ہاتھ میں کنگن کی طرف اشارہ کیا
"بہت پیارا گفٹ ہے
حیا نے اس کے شرماتے ہوئے روپ کو دیکھ کر کہا اور اسے خوش رہنے کی دعا دی۔۔۔۔ اپنے اوپر معاویہ کی نظریں محسوس کی تو حیا معاویہ کی طرف دیکھا مگر وہ بلال سے باتیں کر رہا تھا اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا جانے کے وقت ناعیمہ نے فضا سے اجازت لی
"چلو صنم"
معاویہ نے صنم کو کہا
"صنم کو رہنے دو معاویہ وہ نہیں جائے گی"
معاویہ کے کہنے پر صنم اٹھی مگر ہادی کی آواز ایک دم رک گئی
"ارے کیوں رہنے دو ہادی، یہ رسم ہوتی ہے شام میں آجائے گی صنم"
ایک دم ہادی کے بولنے پر فضا بول اٹھی
"رسمیں وسمیں کیا ہوتی ہیں،، یہ میں سب فضول کی باتیں ہیں"
ہادی نے صنم کو اشارے سے جانے کے لئے باز رکھتے ہوئے کہا وہ سرجھکا گئی
"ہادی انکل ویٹ کر رہے ہیں صنم کا" حیا نے ہادی کو بولا
"ہاں تو شام میں ہی ولیمہ ہے مل لیں گیں وہ"
ہادی نے سنجیدگی سے کہا
"ہادی صنم ابھی اپنے گھر جارہی ہے اسے شام میں لے آنا"
بلال نے اسے نرم لہجے میں کہا مگر آنکھوں میں وارننگ واضح تھی
"نہیں بھائی ہادی ٹھیک ہی کہہ رہا ہے شام میں تو ملاقات ہو جائے گی اور ابھی تو ہم مل ہی لیے صنم سے اور اب ملنا ملانا تو لگا ہی رہے گا اجازت دیں آپ لوگ ہمیں" ناعیمہ نے آنکھوں کے اشارے سے معاویہ کو کچھ بولنے سے باز رکھتے ہوئے طریقے سے بات سنبھالی اور سب کی طرف دیکھ کر اجازت لی۔۔۔ معاویہ نے خار کھانے والی نظروں سے ہادی کو دیکھا اور بلال سے ہاتھ ملا کر باہر نکل گیا ناعیمہ اور حیا بھی سب سے مل کر اس کے پیچھے چل دیں
*
"تم نے مجھے کوئی ویڈنگ گفٹ نہیں دیا ہادی نے صنم کو کتنے پیارے کنگن گفٹ کیے ہیں"
ہادی کے گھر سے آنے کے بعد وہ پولیس سٹیشن جانے کی تیاری کررہا تھا تب حیا کی زبان سے شکوہ پھسلا
"گفٹ ان کو دیا جاتا ہے جو آپ کے گفٹ کی قدر کرتے ہو۔ ۔۔ رینگ اور پینڈنٹ دیا تو تھا کیا کیا تم نے ان کے ساتھ اور تم ویڈنگ گفٹ کی کس منہ سے بات کر رہی ہوں ذرا اپنے دماغ پر زور ڈال کر ہماری ویڈنگ نائٹ یاد کرو"
معاویہ نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہا تو حیا نے نظریں نیچے جھکا لی۔۔۔ معاویہ روم سے باہر نکل گیا
*
ولیمے کا فنکشن بہت اچھا جا رہا تھا ہادی اور صنم آج بھی بہت پیارے لگ رہے تھے صبح معاویہ اور حیا کے جانے کے بعد ہادی نے روم میں آکر صنم کی پرشکوہ آنکھیں دیکھ کر اس پر اپنی محبت جتا کر اسے منا لیا تھا وہ اسے اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا دور بھیجنے کا موڈ بلکل نہیں ہو رہا تھا ہادی کی ایسی باتوں اور محبت کے انداز سے صنم کو تھوڑا بہت شکوہ دور ہوا
حیا نے آج ناعیمہ سے مدد لے کر ساڑھی باندھی تھی اور اس نئے لک میں وہ سب کو بہت زیادہ اچھی لگی اس نے سب سے تعریفیں وصول کی۔۔۔۔۔ جب اپنے آپ کو کسی کی نظروں حصار میں محسوس کرتی تب اس کی نظر معاویہ پر پڑتی مگر وہ ہر دفعہ کسی نہ کسی سے باتیں کرتے ہوئے اسے مشغول نظر آرہا ہوتا
ایک دفعہ پھر حیا کی بےبسی اس کے غصے میں ڈھلنے لگی۔۔۔۔ تقریب کے اختتام پر سب اپنے اپنے گھر جانے لگے
"تم مام ڈیڈ کے ساتھ گھر کیوں نہیں گئیں"
معاویہ نے حیا کو بینکیوٹ میں دیکھ کر پوچھا کیوں کہ تھوڑی دیر پہلے خضر اور ناعیمہ ڈرائیور کے ساتھ گھر نکل چکے تھے معاویہ نے خاص طور پر نائمہ کو حیا کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کے لئے کہا تھا
"کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ جانا تھا"
حیا نے سنجیدگی سے کہا
"ہر وقت بچوں والی باتیں مت کیا کرو حیا مجھے اس وقت کام سے جانا ہے"
معاویہ اس کو دیکھ کر بگڑ کر بولا
"کون سا کام ہے جس کے لیے تمہیں
رات کو جانا ضروری ہے"
حیا نے بھی بگڑتے ہوئے اسی کے انداز میں معاویہ سے پوچھا
"یہ میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا ڈرائیور کو کال کر رہا ہو تم ابھی گھر کے لیے نکلو تاکہ میں بھی یہاں سے جاؤ"
معاویہ نے اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا اور اپنا پاکٹ سے موبائل نکالا
"ڈرائیور کو کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے معاویہ میں تمہارے ساتھ ہی جاونگی"
حیا نے ضدی انداز اپناتے ہوئے کہا جس پر معاویہ نے غصے میں اس کا بازو پکڑ کر گاڑی تک لایا اور گاڑی میں بٹھاکر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
"تم حد سے زیادہ ضد کرنے لگی ہو حیا یہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہے میرے ساتھ رہنا ہے تو عادتیں بدلو اپنی"
معاویہ نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا اسے ارسل کی طرف جانا تھا اس کے والد کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی وجہ سے ارسل تقریب میں شرکت نہیں کر سکا تھا
"تم تو میری سب عادتوں سے واقف تھے شادی سے پہلے ہی، تو اب برا کیوں لگ رہا ہے۔۔۔ بدلنے کی ضرورت تمہیں ہے مجھے نہیں۔۔۔ یہ جو چند دنوں سے تم نے جو انداز اپنایا ہوا ہے اسے بدلو"
حیا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
"پسند تو تمہیں میرے وہ انداز بھی نہیں دے جو پہلے اپنائے ہوئے تھے تو اب پھر اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے تمہیں"
معاویہ نے بحث کرتے ہوئے شارٹ کٹ کے چکر میں کار کرو اس سائڈ پر موڑا جہاں سنسان علاقہ تھا
"ہاں ہو رہی ہے تمہارے انداز سے تکلیف تم مجھے یوں سب کے سامنے اگنور نہیں کرسکتے"
حیا نے غصے میں معاویہ سے کہا
"جو لوگ محبت کے قابل نہیں ہوتے انہیں اگنور ہی کیا جاتا ہے اور تم میری محبت کے قابل نہیں ہوں سنا تم نے"
معاویہ نے بھی اسی کے انداز میں غصے سے کہا
"میں محبت کے قابل نہیں کیا مطلب ہے اب تم مجھ سے محبت نہیں کرتے"
حیا نے غصے کی بجائے آہستہ آواز میں معاویہ سے پوچھا
"ہاں اب میں تم سے محبت نہیں کرتا کیوکہ تمہیں میری محبت کی قدر"
معاویہ کا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور ایک دم گاڑی ڈس بیلنس ہوئی حیا کا سر شیشے پر لگا معاویہ نے آسٹیرینگ زور سے مختلف سمت گھمایا۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا تو گاڑی آڑھی ترچھی ہونے لگی ۔۔۔ معاویہ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کسی نے اس کی گاڑی کے ٹائر پر فائر کیے ہیں۔۔۔
"حیا فورا نیچے بیٹھو"
معاویہ نے چیخ کر حیا سے کہا
ایک جھٹکے سے گاڑی رکی معاویہ نے فورا حیا کو اسکی سیٹ سے نیچے بٹھایا اور خود وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا آدھا حیا کی سیٹ پر جھک گیا تھا۔۔۔ چند سیکنڈ لگے ایک دم گولیوں کی بارش شروع ہوگئی جس سے ان کی گاڑی کے آگے کا شیشا پورا چکنا چور ہوگیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 52
"واہ ڈیڈی داد دینی پڑے گی آپ کو۔۔۔ لڑکی کو پارلر سے اٹھانے کا کیا سپر فلاپ پلان بنایا آپ نے۔۔۔۔ کردی اس اے۔ایس۔پی نے اپنی بہن کی شادی اور بن گئی وہ کسی اور کی دلہن"
ساحر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اویس شیرازی کے قریب آتے ہوئے بولا شراب کے نشے میں دھت اسکی آنکھوں کے ڈورے لال ہو رہے تھے
"یوں بے وقفوں کی طرح میرے سامنے آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ختم نہیں ہو گئی ساری لڑکیاں جو اس کے لئے روگ لگا کر بیٹھے ہو تمہیں کونسا اسی شادی کرنی تھی،، اٹھوالینا پھر کبھی۔۔۔ حامد ساحر کو اس کے روم میں چھوڑ کر آؤ اور شکیل کو فون کرو اے۔ایس۔پی کی تصویر اور آماونٹ دونوں بھیجو اور اس سے کہو آج ہی ہر حال میں کام ہو جانا چاہیے"
اویس شیرازی نے اپنے خاص ملازم کو حکم دیا اور خود اپنے روم میں چلا گیا
*
وہ نیند میں تھی جب اسے اپنے چہرے پر ملائم سے لمس کا احساس ہوا اور ناک کے نتھنوں سے بھینی بھینی خوشبو ٹکرائی صنم نے آنکھیں کھولی اپنے چہرے کو چھو کر دیکھا تو گلاب کی پتیاں اسکے گال اور ماتھے پر بکھری تھی۔ ۔۔ گلاب کی پتیاں اپنے چہرے پر سے ہٹا کر اس کی نظر اپنے برابر میں ہادی پر پڑی جو تکیہ پر گہنی ٹکائے اسی کو دیکھ رہا تھا
"نیند پوری ہوگئی ہے تو اٹھ جاؤ مما دو بار دروازہ کھٹکھٹا کر جا چکی ہیں"
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے صنم کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔ اس کی بات سے صنم کی نظریں شرم سے جھک گئی کل رات ہادی نے نہ صرف اسے اپنی چاہتوں کا یقین دلایا تھا بلکہ اپنے عمل سے بھی بتایا تھا وہ اس کے لئے کتنی اہم ہے
"کیا ہوا بیڈروم سے باہر نکلنے کا موڈ نہیں ہے تو میں بول دیتا ہوں مما کو کہ آپ کے بیٹے نے آپ کی بہو کو ساری رات سونے نہیں دیا اس لئے وہ تھوڑا سونا چاہتی ہے"
ہادی اسکو لیٹے ہوئے دیکھ کر شرارت سے بولا
"ہادی پلیز ایسے نہیں کہے مجھے باہر جاتے ہوئے شرم آئے گی"
صنم اس کی باتوں پر بلش کرنے لگی تو ہادی مسکرایا
"یار اب اس طرح شرماؤ گی تو کیسے کام چلے گا"
وہ اس کی جھکی پلکوں کو چومتے ہوئے بولا
"ہادی آنٹی واقعی دو بار آئی تھی وہ کیا سوچ رہی ہوگیں مجھے عجیب لگ رہا ہے باہر جانا"
صنم کی بات پر وہ زور سے ہنسا
"پھر تو ہم دونوں کو جلدی سے بیڈ روم سے باہر نکلنا چاہیے ورنہ جتنی دیر لگائیں گے مما کے ساتھ ساتھ بابا بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے"
ہادی اٹھتے ہوئے بولا وہ بھی بیڈ سے اٹھ گئی اور وارڈروب کھول کر اپنا ڈریس نکالا۔۔۔۔ جو کہ خاص ناعیمہ نے شادی کے دوسرے دن کے لئے بنوایا تھا
"یہ نہیں آج یہ والا ڈریس پہنو"
ہادی نے پیرٹ گرین کلر کا ڈریس نکال کر دیا جو کہ فضا اور ہادی نے صنم کے لئے پسند کیا تھا
صنم نے مسکرا کر ہادی کے ہاتھ سے اس کا منتخب کردہ ڈریس لیا اور شاور لینے چلی گئی
*
"اٹھو بھی کیا پورا اصطبل بیچ کر سو رہے ہو"
حیا نے معاویہ کا شولڈر زور سے ہلایا تو معاویہ کی آنکھ کھلی
"اتنی دیر کیسے سو گیا میں آج"
گھڑی میں دس بجے کا ٹائم دیکھ کر معاویہ نے کہا۔۔۔ ورنہ اس کی عادت صبح جلدی اٹھنے کی تھی
"کسی کا دل جلا کر سوو گے تو ایسے ہی سکون کی نیند آنی ہے"
شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے معاویہ نے حیا کی بات پر اس کو دیکھا جو کہ وارڈروب سے اپنا ڈریس نکال رہی تھی
"جب انسان کا اپنا دل جلتا ہے تبھی تو احساس ہوتا ہے ورنہ دوسروں کی کیا خبر بے پروا لوگوں کو"
معاویہ کہتا ہوا خود بھی وارڈروب کے پاس آیا
"محبت کرنے والے کبھی بھی اپنی محبت کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھتے جو تم نے مجھ سے اپنایا ہوا ہے"
معاویہ قریب آیا تو حیا نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
معاویہ اس کے قریب آیا تو حیا پیچھے ہٹی معاویہ کے مزید اس کی طرف قدم بڑھانے سے وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی معاویہ اس کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اور وہ شکوہ بھری نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی معاویہ نے اس کی کمر کے گرد اپنا ایک ہاتھ حائل کر کے اسے خود سے قریب کیا دوسرے ہاتھ سے اس کی تھوڑی تھام کر اس کا چہرہ مزید اونچا کیا
"کیسا رویہ اپنایا چاہیے مجھے"
حیا کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لا کر وہ حیا سے پوچھنے لگا
معاویہ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ کچھ نہیں بولی اور اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔ ایسا پہلی دفعہ تو نہیں ہو رہا تھا مگر معاویہ کے انداز نے اسے انکھیں بند کرنے پر مجبور کر کیا
"بولو اب بول کیو نہیں رہی"
حیا کی بند آنکھیں دیکھ کر وہ حیا کے لرزتے ہوئے ہونٹوں پر اپنی انگلی پھیرتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر تک وہ حیا کا چہرہ اسی طرح دیکھتا رہا پھر ایک جھٹکے سے اس کو چھوڑ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ چند منٹ پہلے جس سحر نے حیا کو اپنے حصار میں لیا تھا ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا۔۔۔ حیا کا مزید خون کھولا وہ اپنے کپڑے لے کر چینج کرنے چلی گئی
*
چینج کرکے جو وہ نیچے آیا تو ناعیمہ اور حیا دونوں تیار کھڑی تھی
"کہیں جانے کا ارادہ ہے"
معاویہ نے ناعیمہ کی طرف دیکھ کر پوچھا
بیٹا ناشتہ لے کر جانا ہے صنم کے لئے وہ انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ ہم دونوں کو تمہارا یہ ویٹ کر رہے تھے چلو دیر ہو رہی ہے"
ناعیمہ نے جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"کیا ناشتہ بھی نہیں کروا سکتے وہ لوگ صنم کو اور میں کہیں نہیں جانے والا اس وقت"
معاویہ کی تیوری پر بل آئے وہ صبح ہادی کی شکل ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے بےزاری شو کرتے ہوئے بولا
"معاویہ رسم ہوتی ہے زین اور حور نہیں آئے تھے کیا ہے حیا کے پاس اور تمہیں بہن کا دیکھنے کا دل نہیں چاہ رہا"
ناعیمہ نے اس کا موڈ دیکھتے ہوئے تحمل سے سمجھایا
"اگر نہیں جا رہا تو اس کی منتیں کیوں کر رہی ہوں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ تم اور حیا"
خضر نے ہال میں آتے ہوئے ناعیمہ سے کہا وہ کل سے معاویہ سے بات نہیں کر رہا تھا معاویہ نے دو بار کلام کرنے کی خود سے کوشش کی مگر خضر نے کوئی جواب نہیں دیا اس وجہ سے بھی معاویہ کو حیا کہ اوپر اور بھی غصہ چڑھا ہوا تھا
"گاڑی میں آجائیں ویٹ کر رہا ہوں میں"
معاویہ بولتا ہوا باہر نکل گیا
"انکل آپ بھی چلتے"
حیا نے خضر سے کہا
"بیٹی کا سسرال ہے تم لوگ جاو۔ ۔۔ واپسی پر صنم آئے گی تب دیکھ لوں گا اسے"
خضر نے حیا کو جواب دیا تو وہ بھی نہ ناعیمہ کے پیچھے باہر نکل گئی
*
"اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی اتنا کچھ لے کر آگئی آپ"
فضا نے خوش دلی سے ملتے ہوئے ناعیمہ سے کہا
"بیٹی کے گھر خالی ہاتھ تو نہیں آنا تھا پہلی دفعہ"
ناعیمہ نے مسکرا کر کہا
"فضا آنٹی کیسی ہیں آپ"
حیا نے فضا سے ملتے ہوئے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں میری جان،، مگر تم بہت بدل گئی ہو ایک دفعہ بھی شادی کے بعد شوہر کو نہیں لے کر آئی"
فضا نے حیا کو گلے لگاتے معاویہ کو دیکھا تو اس نے سر ہلا کر سلام کیا اور پھر بلال سے ملنے لگا
"آپ سب لوگ بیٹھے پلیز میں ہادی اور صنم کو بلا کر لاتی ہوں"
فضا نے روم سے نکلتے ہوئے کہا
صنم اور ہادی ڈرانگ روم میں آئے صنم تھوڑا جھجھک کر ناعیمہ اور حیا سے ملی۔۔۔۔ ہادی اور معاویہ نے ایک دوسرے کو دیکھا دونوں کے ہی چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ہادی نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا تو معاویہ نے بھی اس سے مصافحہ کیا کل کے واقعے کی وجہ سے سب کی نظریں ان دونوں پر تھیں۔۔۔ دونوں کی نارمل انداز میں ملنے پر صنم نے سکھ کا سانس لیا
"ہادی نے منہ دکھائی میں کیا دیا" حیا کے پوچھنے پر صنم نے شرما کر اسے ہاتھ میں کنگن کی طرف اشارہ کیا
"بہت پیارا گفٹ ہے
حیا نے اس کے شرماتے ہوئے روپ کو دیکھ کر کہا اور اسے خوش رہنے کی دعا دی۔۔۔۔ اپنے اوپر معاویہ کی نظریں محسوس کی تو حیا معاویہ کی طرف دیکھا مگر وہ بلال سے باتیں کر رہا تھا اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا جانے کے وقت ناعیمہ نے فضا سے اجازت لی
"چلو صنم"
معاویہ نے صنم کو کہا
"صنم کو رہنے دو معاویہ وہ نہیں جائے گی"
معاویہ کے کہنے پر صنم اٹھی مگر ہادی کی آواز ایک دم رک گئی
"ارے کیوں رہنے دو ہادی، یہ رسم ہوتی ہے شام میں آجائے گی صنم"
ایک دم ہادی کے بولنے پر فضا بول اٹھی
"رسمیں وسمیں کیا ہوتی ہیں،، یہ میں سب فضول کی باتیں ہیں"
ہادی نے صنم کو اشارے سے جانے کے لئے باز رکھتے ہوئے کہا وہ سرجھکا گئی
"ہادی انکل ویٹ کر رہے ہیں صنم کا" حیا نے ہادی کو بولا
"ہاں تو شام میں ہی ولیمہ ہے مل لیں گیں وہ"
ہادی نے سنجیدگی سے کہا
"ہادی صنم ابھی اپنے گھر جارہی ہے اسے شام میں لے آنا"
بلال نے اسے نرم لہجے میں کہا مگر آنکھوں میں وارننگ واضح تھی
"نہیں بھائی ہادی ٹھیک ہی کہہ رہا ہے شام میں تو ملاقات ہو جائے گی اور ابھی تو ہم مل ہی لیے صنم سے اور اب ملنا ملانا تو لگا ہی رہے گا اجازت دیں آپ لوگ ہمیں" ناعیمہ نے آنکھوں کے اشارے سے معاویہ کو کچھ بولنے سے باز رکھتے ہوئے طریقے سے بات سنبھالی اور سب کی طرف دیکھ کر اجازت لی۔۔۔ معاویہ نے خار کھانے والی نظروں سے ہادی کو دیکھا اور بلال سے ہاتھ ملا کر باہر نکل گیا ناعیمہ اور حیا بھی سب سے مل کر اس کے پیچھے چل دیں
*
"تم نے مجھے کوئی ویڈنگ گفٹ نہیں دیا ہادی نے صنم کو کتنے پیارے کنگن گفٹ کیے ہیں"
ہادی کے گھر سے آنے کے بعد وہ پولیس سٹیشن جانے کی تیاری کررہا تھا تب حیا کی زبان سے شکوہ پھسلا
"گفٹ ان کو دیا جاتا ہے جو آپ کے گفٹ کی قدر کرتے ہو۔ ۔۔ رینگ اور پینڈنٹ دیا تو تھا کیا کیا تم نے ان کے ساتھ اور تم ویڈنگ گفٹ کی کس منہ سے بات کر رہی ہوں ذرا اپنے دماغ پر زور ڈال کر ہماری ویڈنگ نائٹ یاد کرو"
معاویہ نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھ کر کہا تو حیا نے نظریں نیچے جھکا لی۔۔۔ معاویہ روم سے باہر نکل گیا
*
ولیمے کا فنکشن بہت اچھا جا رہا تھا ہادی اور صنم آج بھی بہت پیارے لگ رہے تھے صبح معاویہ اور حیا کے جانے کے بعد ہادی نے روم میں آکر صنم کی پرشکوہ آنکھیں دیکھ کر اس پر اپنی محبت جتا کر اسے منا لیا تھا وہ اسے اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا دور بھیجنے کا موڈ بلکل نہیں ہو رہا تھا ہادی کی ایسی باتوں اور محبت کے انداز سے صنم کو تھوڑا بہت شکوہ دور ہوا
حیا نے آج ناعیمہ سے مدد لے کر ساڑھی باندھی تھی اور اس نئے لک میں وہ سب کو بہت زیادہ اچھی لگی اس نے سب سے تعریفیں وصول کی۔۔۔۔۔ جب اپنے آپ کو کسی کی نظروں حصار میں محسوس کرتی تب اس کی نظر معاویہ پر پڑتی مگر وہ ہر دفعہ کسی نہ کسی سے باتیں کرتے ہوئے اسے مشغول نظر آرہا ہوتا
ایک دفعہ پھر حیا کی بےبسی اس کے غصے میں ڈھلنے لگی۔۔۔۔ تقریب کے اختتام پر سب اپنے اپنے گھر جانے لگے
"تم مام ڈیڈ کے ساتھ گھر کیوں نہیں گئیں"
معاویہ نے حیا کو بینکیوٹ میں دیکھ کر پوچھا کیوں کہ تھوڑی دیر پہلے خضر اور ناعیمہ ڈرائیور کے ساتھ گھر نکل چکے تھے معاویہ نے خاص طور پر نائمہ کو حیا کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کے لئے کہا تھا
"کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ جانا تھا"
حیا نے سنجیدگی سے کہا
"ہر وقت بچوں والی باتیں مت کیا کرو حیا مجھے اس وقت کام سے جانا ہے"
معاویہ اس کو دیکھ کر بگڑ کر بولا
"کون سا کام ہے جس کے لیے تمہیں
رات کو جانا ضروری ہے"
حیا نے بھی بگڑتے ہوئے اسی کے انداز میں معاویہ سے پوچھا
"یہ میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا ڈرائیور کو کال کر رہا ہو تم ابھی گھر کے لیے نکلو تاکہ میں بھی یہاں سے جاؤ"
معاویہ نے اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا اور اپنا پاکٹ سے موبائل نکالا
"ڈرائیور کو کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے معاویہ میں تمہارے ساتھ ہی جاونگی"
حیا نے ضدی انداز اپناتے ہوئے کہا جس پر معاویہ نے غصے میں اس کا بازو پکڑ کر گاڑی تک لایا اور گاڑی میں بٹھاکر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
"تم حد سے زیادہ ضد کرنے لگی ہو حیا یہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہے میرے ساتھ رہنا ہے تو عادتیں بدلو اپنی"
معاویہ نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا اسے ارسل کی طرف جانا تھا اس کے والد کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی وجہ سے ارسل تقریب میں شرکت نہیں کر سکا تھا
"تم تو میری سب عادتوں سے واقف تھے شادی سے پہلے ہی، تو اب برا کیوں لگ رہا ہے۔۔۔ بدلنے کی ضرورت تمہیں ہے مجھے نہیں۔۔۔ یہ جو چند دنوں سے تم نے جو انداز اپنایا ہوا ہے اسے بدلو"
حیا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
"پسند تو تمہیں میرے وہ انداز بھی نہیں دے جو پہلے اپنائے ہوئے تھے تو اب پھر اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے تمہیں"
معاویہ نے بحث کرتے ہوئے شارٹ کٹ کے چکر میں کار کرو اس سائڈ پر موڑا جہاں سنسان علاقہ تھا
"ہاں ہو رہی ہے تمہارے انداز سے تکلیف تم مجھے یوں سب کے سامنے اگنور نہیں کرسکتے"
حیا نے غصے میں معاویہ سے کہا
"جو لوگ محبت کے قابل نہیں ہوتے انہیں اگنور ہی کیا جاتا ہے اور تم میری محبت کے قابل نہیں ہوں سنا تم نے"
معاویہ نے بھی اسی کے انداز میں غصے سے کہا
"میں محبت کے قابل نہیں کیا مطلب ہے اب تم مجھ سے محبت نہیں کرتے"
حیا نے غصے کی بجائے آہستہ آواز میں معاویہ سے پوچھا
"ہاں اب میں تم سے محبت نہیں کرتا کیوکہ تمہیں میری محبت کی قدر"
معاویہ کا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی اور ایک دم گاڑی ڈس بیلنس ہوئی حیا کا سر شیشے پر لگا معاویہ نے آسٹیرینگ زور سے مختلف سمت گھمایا۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا تو گاڑی آڑھی ترچھی ہونے لگی ۔۔۔ معاویہ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کسی نے اس کی گاڑی کے ٹائر پر فائر کیے ہیں۔۔۔
"حیا فورا نیچے بیٹھو"
معاویہ نے چیخ کر حیا سے کہا
ایک جھٹکے سے گاڑی رکی معاویہ نے فورا حیا کو اسکی سیٹ سے نیچے بٹھایا اور خود وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا آدھا حیا کی سیٹ پر جھک گیا تھا۔۔۔ چند سیکنڈ لگے ایک دم گولیوں کی بارش شروع ہوگئی جس سے ان کی گاڑی کے آگے کا شیشا پورا چکنا چور ہوگیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment