Itni mohhbat karo na2
By zeenia sharjeel
Epi # 51
نکاح کے بعد صنم کو ہادی کے ساتھ لا کر بٹھایا گیا سب نے ان کی جوڑی کو سراہا وہ دونوں لگ بھی بہت پیارے رہے تھے۔۔۔۔ فیملی فوٹو بن رہا تھا اس لئے تقریبا سبھی اسٹیج پر جمع تھے تب صنم کی ایک کزن نے شرارت میں نیچے جھک کر اچانک ہادی کا جوتا اتار لیا
"ہادی بھائی اتنی آسانی سے ہم صنم کو نہیں لے جانے دیں گے،، پہلے آپ کو جیب ہلکی کرنی پڑے گی اور اتنی پیاری سی اپنی کزن ہم نے آپ کو دی ہے اس لیے ایک لاکھ روپے دینا کوئی بڑی بات نہیں"
ماہم کی بات پر سب ہنس دیئے۔۔ ہادی نے جیب سے اسی وقت چیک نکال کر سائن کیا
"واقعی ایک لاکھ روپے کوئی بڑی بات نہیں مگر شرط یہ ہے یہ جوتا اب میں اپنے سالے صاحب کے ہاتھوں سے پہنوں گا"
ہادی نے چیک ماہم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
ہادی کی بات آدھے رشتےدراوں نے مذاق میں لی۔۔۔ مگر کچھ لوگوں کی ہنسی بھی تھم گئی۔۔۔ صنم نے ہلکا سا رخ موڑ کر سنجیدگی سے ہادی کی طرف دیکھا۔۔۔ حیا کو بھی ہادی کا اس طرح کہنا اچھا نہیں لگا
"چلو بھئی بن کرو اب سب یہ رسمیں میرے خیال میں اب رخصتی کا ٹائم ہو رہا ہے"
بلال نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے کہا
"ایک منٹ بابا شادی کی رسمیں ہی تو شادی کو یادگار بناتی ہیں۔۔ یہ تو رسم ہے انجوائے منٹ کے لئے کیوں معاویہ"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا تو معاویہ کی پیشانی کے بل نمایاں ہوئے
"جوتا چھپائی کی رسم ہوتی ہے،، جوتا پہنائی کی یہ رسم تم نے خود ہی بنالی بلال ٹائم ہوگیا ہے میرے خیال میں اب اجازت لینی چاہیے"
اب کے زین نے سنجیدگی سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"او کم ان بھائی تو بہن کے لئے کیا کچھ کر جاتے ہیں۔ ۔۔ یہ تو ایک رسم ہے اس کو انجوائے کرنا چاہیے"
ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"دراصل میری نیچر اور جاب ایسی ہے مجھے جوتے پہنانے کی نہیں کھلانے کی عادت ہے۔۔۔ اور بہن کے لئے میں اپنا سر کٹوا سکتا ہوں جھکا نہیں سکتا"
معاویہ نے ایک لاکھ روپے صنم کے سر پر سے اتار کر ویٹر کو دے دیے اور خود اسٹیج سے اتر کر وہاں سے چلا گیا
"اوکے خضر اب ہم لوگوں کو اجازت دیں اپنی امانت ہم لے کر جا رہے ہیں"
بلال کی آواز پر چونک کر خضر نے بلال کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا
"یہ معاویہ مراد کی بہن سے پہلے خضر مراد کی بیٹی ہے اس کا بہت خیال رکھنا"
خضر نے صنم کا ماتھا چومتے ہوئے کہا اس کے بعد رخصتی کا عمل اختتام ہوا
*
تمام رسومات سے فارغ ہو کر صنم کو بیڈ روم میں بٹھایا گیا فضا بلال کے ساتھ زین اور حور بھی وہاں موجود تھے۔۔۔ حور نے آج حیا کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا بر خلاف توقع معاویہ نے بھی 'تمہیں جانا چاہیے، حیا کو بولا مگر حیا نے یہ کہتے ہوئے سہولت سے انکار کردیا کہ آنٹی انکل آج اداس ہوں گے پھر کبھی سہی
*
یہ بریسلٹ اتارنہ زرا"
معاویہ روم میں آیا تو حیا نہ آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے نارمل سے انداز میں کہا جیسے ہمیشہ ان دونوں کے درمیان دوستی رہی ہو
"کیوں تمہارا دوسرا ہاتھ ٹوٹا ہوا ہے"
پہلے معاویہ نے ایک نظر سنجیدگی سے حیا کو دیکھا اور پھر ٹکا سا جواب دیا جس کی حیا کو امید نہیں تھی
"مجھ سے اس کا لاک نہیں کھل رہا تم اتار دو"
حیا نے ڈھیٹ بن کر کہا اور مزید اپنا ہاتھ اس کے منہ کے سامنے کرتے ہوئے کہا
"اس میں کونسی سائنس ہے جو تم سے نہیں اتر رہا ہاتھ پیچھے ہٹاو اپنا"
اس کا ہاتھ نیچے کرتا ہوا وہ چینج کرنے چلا گیا
حیا وہی کھڑی رہی اور اسے شدید غصہ آیا معاویہ چینج کرکے آیا اور بیڈ کی طرف بڑھنے لگا جب حیا کی آواز پر وہ رکا
"نیناں کا بریسلیٹ کونسے آئنسٹائن کے چاچا نے بنایا تھا جس کا لاک تم لگا رہے تھے"
معاویہ کو دیکھ کر حیا نے جل کر کہا
"او تو یہ ساری مرچیں اس بات پر لگی ہوئی ہے۔۔۔ویسے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے تمہیں"
معاویہ نے سیریز انداز میں حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اس کے چہرے پر ہنسی کا شائبہ تک نہیں تھا
"لگی ہوئی ہے مرچیں اور ہو رہی ہے تکلیف۔۔۔ آخر کون ہے وہ جو اتنا چپک کر تمہارے ساتھ کھڑی ہوئی تھی اور کیا کہہ رہے تھے تم اس کا ہاتھ پکڑ کر "
حیا نے اس کے سامنے آتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑنے والے انداز میں کہا
"تمہیں آب مرچیں لگے یا تکلیف ہو، میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہاتھ پکڑ کر میں اس کی تعریف کر رہا تھا کیونکہ اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔ اگر بہت پہلے ڈیڈ کی بات مان لیتا تو آج تمہاری جگہ وہ یہاں کھڑی ہوتی میری بیوی کے روپ میں"
حیا کو اچھی طرح سلگا کر وہ بیڈ پر لیٹنے کا ارادہ رکھتا تھا جب حیا نے اس کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"بہت پچھتاوا ہو رہا ہے اس سے شادی نہ کرکے"
حیا کی ناک غصے سے سرخ ہونے لگی
"میں کیوں پچھتانے لگا بھلا۔۔۔ جب چاہے اسے بھی بیوی بنا سکتا ہو۔۔ اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے مرد کو"
وہ حیا کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا ہوا بولا سنجیدگی اس کے چہرے پر ہنوز برقرار تھی
"بہت آگ لگی ہوئی ہے تمہیں شادیوں کی،، ذرا کر کے تو دیکھاو پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں اور اس نیناں ڈائن کا کیا حشر کرتی ہوں"
حیا نے غصّے میں اس کا گریبان پکڑ کر کہا
"ہاں لگی ہوئی ہے مجھے آگ،، پر دھواں تمہارے پاس سے کیوں اٹھ رہا ہے۔۔۔ میں اپنے معاملات میں خود مختار ہوں جو چاہے کرو تمہیں میرے اندر گھسنے کی ضرورت نہیں،،، بہت اچھا ہوتا جو تم آج انٹی انکل کے گھر رک جاتی کم سے کم اس وقت میرے دماغ کی دہی تو نہیں بن رہی ہوتی"
اپنے گریبان سے حیا کے ہاتھ جھٹکے سے ہٹاتے ہوئے معاویہ نے سخت لہجے میں کہا
"کل اگر نیناں سے تم نے فری ہونے کی کوشش کی یا اس نے تم سے فری ہونے کی کوشش کی تو دونوں صورت میں، میں اس کارٹون کا تھوبڑا بگاڑ کر رکھ دوگی کیونکہ میں بھی اپنے معاملے میں خود مختار ہوں اس لئے میری مرضی میں رکو اپنے ماں باپ کے گھر یا نہیں کون سے تمہارے اندر گھس کے سو رہے ہوں،،، ابھی تو صرف دہی بنائی ہے نہ کل پورا رائتہ کا بناؤں گی"
حیا اس کو وارننگ دے کر تن فن کرتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی
"دو مہینے سے مجھے اگنور کیا ہوا ہے۔۔۔ اور خود سے 2 گھنٹے کی اگنورنس برداشت نہیں"
معاویہ نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا
*
صنم بیڈ کر بیٹھی ہوئی تھی ہادی روم میں آیا اور آکر صنم کے پاس بیڈ پر بیٹھا صنم کے حسین روپ کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا
"آج میں بہت خوش ہوں میرا دل کہہ رہا ہے میں تم سے ڈھیر ساری باتیں کرو"
ہادی نے صنم کے مہندی لگے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا
"مگر اس سے پہلے یہ ایک حقیر سا تحفہ میری طرف سے قبول کرو"
ہادی نے بیڈ کے سائڈ ٹیبل کی ڈراز سے ایک ڈبہ نکالا اس میں سے دو کنگن نکال کر صنم کو پہنائے۔۔۔
"یہ تحفہ حقیر نہیں بہت قیمتی ہے"
صنم نے بغیر مسکرائے دھیمی آواز میں ہادی کو کہا
"نہیں اس کی قیمت تمہارے ہاتھوں میں پہنانے کے بعد بڑھ گئی ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا تو صنم نے سنجیدگی سے ہادی کو دیکھا
"کیا ہوا تم خوش ہو"
ہادی نے نوٹ کیا وہ جب سے روم میں آیا تھا صنم ایک بھی دفعہ مسکرائی نہیں
"آج کا دن میرے لئے بہت اہم اور خاص تھا مگر آپ نے آج کے دن میں میری خوشی کو پھیکا کر دیا۔۔۔ آپ کو بھائی کو اس طرح نہیں بولنا چاہیے تھا ہادی"
آخرکار صنم کے منہ پر شکوہ آگیا
"آہو تو اتنی چھوٹی سی بات کو دل سے لگا کر بیٹھی ہو تم یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے کہ تم اس بات کو لے کر اپنے ساتھ ساتھ میری خوشیوں کو بھی پھیکا کرو بھول جاؤ سب"
ہادی نے صنم کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا
"میرے لئے چھوٹی بات نہیں ہے ہادی آپ کو سب کے سامنے بھائی کو اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا مجھے اچھا نہیں لگا"
صنم نے اپنی آنکھوں میں آتے ہوئے نمی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ہادی سے دوبارہ شکوہ کیا
"اور مجھے یوں تمہارا اپنے بھائی کا ذکر کرنا اچھا نہیں لگ رہا، صنم آج کا دن میرے لئے معنی رکھتا ہے اور میں اس وقت صرف تمہاری اور اپنی باتیں کرنا چاہتا ہوں کسی تیسرے کی نہیں اوکے"
ہادی نے ابھی بھی نرم لہجہ اپناتے ہوئے صنم سے کہا۔۔۔ جس پر صنم ہادی کو چپ کرکے دیکھتی رہی جیسے اس کی آنکھیں شکوہ کر رہی ہوں
"اب کیا ہوا ہے صنم"
ہادی نے اس کی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے اکتا کر اس سے پوچھا
"کچھ نہیں میں چینج کرکے آتی ہوں"
صنم نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
"جاتے جاتے بیڈروم کی لائٹ بند کر دینا"
ہادی نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سرد انداز میں کہا۔۔۔ اس نے صنم کی زبان تو بند کردی تھی مگر آنکھوں میں وہ ابھی بھی وہی شکوہ لیے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔۔ جس سے ہادی کا موڈ خراب ہوا تھا۔۔ صنم لائٹ آف کر کے چینج کرنے چلی گئی واپس آئی تو ہادی کو اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پایا۔۔۔ وہ چپ کرکے بیڈ پر آکر دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔
رات کو جانے کونسا پہرت رجب ہادی کی آنکھ سسکیوں کی آواز سے کھلی، اس نے اپنا ہاتھ آنکھوں سے ہٹا کر دیکھا تو صنم منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنی سسکیاں دبانے کی کوشش کر رہی تھی
"صنم کیا ہوا ادھر آؤ میرے پاس"
ہادی اٹھ کر اور لیمپ جلاتا ہوا بولا
"سوری وہ ایسی رونا آگیا تھا"
صنم آنسو صاف کر کے واش روم کی طرف جانے لگی تو ہادی نے اسے کھینچ کر گلے سے لگا لیا
"سوری"
صنم کو گلے لگاکر اس نے آہستہ سے بولا تو صنم کو مزید رونا آیا
"میں آپ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی ہادی مجھے آپ سے بھی پیار ہے"
صنم نے اب وہ نام لینے سے اپنے آپ کو باز رکھا جس کی وجہ سے ہادی اس سے ناراض ہوا تھا ہادی نے فیلڈ گیا تو اسے دکھ ہوا
"نہیں ہوں میں تم سے ناراض۔۔ بے وقوف سمجھا ہوا ہے جو اتنی پیاری بیوی سے شادی کی رات کو ناراض ہو جاؤں گا"
ہادی نے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بات کو مذاق رنگ دیتے ہوئے کہا
"فضول میں اتنے آنسو بہا دیے۔۔ آئیز کتنی ریڈ کرلی"
وہ صنم کے آنسو صاف کرکے اس کی آنکھوں کو چومنے لگا
"ہادی پلیز مجھے"
صنم نے کچھ بولنا چاہا
"اب کچھ بھی نہیں بولنا"
ہادی نے اس کو کچھ بولنے سے باز رکھا اور اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا
"تمہیں پتا ہے تمہارے اندر دو کوالٹیز ہیں، ،جن سے تم خود بھی واقف نہیں ہو۔ ۔۔اور پتہ ہے وہ دو کوالٹیز کیا ہے صنم"
ہادی صنم کا گال سہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"کیا"
صنم نے ہادی کو دیکھ کر پوچھا
"ایک یہ کہ تم دل میں اترنے کا فن خوب اچھی طرح جانتی ہوں"
ہادی نے اس کے دونوں گالوں کو باری باری ہونٹوں سے چھوا
"دوسری کوالٹی جاننا چاہوں گی"
اس کے پوچھنے پر صنم نے اپنی آنکھوں کو جھپکایا
"دل پر قابض ہونے کے بعد اب تم قطرہ قطرہ ہادی مسعود کے دماغ پر بھی قابض ہو رہی ہوں۔۔۔ میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ اچھا جادو چلایا ہے تم نے اپنا"
ہادی نے صنم کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے
"اپنی زندگی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وجود میں بھی شامل کرنا چاہتا ہوں اجازت ہے"
ہادی نے اس کی رضامندی جاننی چاہی
"میں آپنا آپ،، اپ کے نام کرچکی ہوں ہادی"
صنم نے لرزستی پلکوں کے ساتھ اپنی آمادگی ظاہر کی۔۔۔۔ ہادی نے آگے ہاتھ بڑھا کر لیمپ بند کردیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 51
نکاح کے بعد صنم کو ہادی کے ساتھ لا کر بٹھایا گیا سب نے ان کی جوڑی کو سراہا وہ دونوں لگ بھی بہت پیارے رہے تھے۔۔۔۔ فیملی فوٹو بن رہا تھا اس لئے تقریبا سبھی اسٹیج پر جمع تھے تب صنم کی ایک کزن نے شرارت میں نیچے جھک کر اچانک ہادی کا جوتا اتار لیا
"ہادی بھائی اتنی آسانی سے ہم صنم کو نہیں لے جانے دیں گے،، پہلے آپ کو جیب ہلکی کرنی پڑے گی اور اتنی پیاری سی اپنی کزن ہم نے آپ کو دی ہے اس لیے ایک لاکھ روپے دینا کوئی بڑی بات نہیں"
ماہم کی بات پر سب ہنس دیئے۔۔ ہادی نے جیب سے اسی وقت چیک نکال کر سائن کیا
"واقعی ایک لاکھ روپے کوئی بڑی بات نہیں مگر شرط یہ ہے یہ جوتا اب میں اپنے سالے صاحب کے ہاتھوں سے پہنوں گا"
ہادی نے چیک ماہم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
ہادی کی بات آدھے رشتےدراوں نے مذاق میں لی۔۔۔ مگر کچھ لوگوں کی ہنسی بھی تھم گئی۔۔۔ صنم نے ہلکا سا رخ موڑ کر سنجیدگی سے ہادی کی طرف دیکھا۔۔۔ حیا کو بھی ہادی کا اس طرح کہنا اچھا نہیں لگا
"چلو بھئی بن کرو اب سب یہ رسمیں میرے خیال میں اب رخصتی کا ٹائم ہو رہا ہے"
بلال نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے کہا
"ایک منٹ بابا شادی کی رسمیں ہی تو شادی کو یادگار بناتی ہیں۔۔ یہ تو رسم ہے انجوائے منٹ کے لئے کیوں معاویہ"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا تو معاویہ کی پیشانی کے بل نمایاں ہوئے
"جوتا چھپائی کی رسم ہوتی ہے،، جوتا پہنائی کی یہ رسم تم نے خود ہی بنالی بلال ٹائم ہوگیا ہے میرے خیال میں اب اجازت لینی چاہیے"
اب کے زین نے سنجیدگی سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"او کم ان بھائی تو بہن کے لئے کیا کچھ کر جاتے ہیں۔ ۔۔ یہ تو ایک رسم ہے اس کو انجوائے کرنا چاہیے"
ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"دراصل میری نیچر اور جاب ایسی ہے مجھے جوتے پہنانے کی نہیں کھلانے کی عادت ہے۔۔۔ اور بہن کے لئے میں اپنا سر کٹوا سکتا ہوں جھکا نہیں سکتا"
معاویہ نے ایک لاکھ روپے صنم کے سر پر سے اتار کر ویٹر کو دے دیے اور خود اسٹیج سے اتر کر وہاں سے چلا گیا
"اوکے خضر اب ہم لوگوں کو اجازت دیں اپنی امانت ہم لے کر جا رہے ہیں"
بلال کی آواز پر چونک کر خضر نے بلال کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا
"یہ معاویہ مراد کی بہن سے پہلے خضر مراد کی بیٹی ہے اس کا بہت خیال رکھنا"
خضر نے صنم کا ماتھا چومتے ہوئے کہا اس کے بعد رخصتی کا عمل اختتام ہوا
*
تمام رسومات سے فارغ ہو کر صنم کو بیڈ روم میں بٹھایا گیا فضا بلال کے ساتھ زین اور حور بھی وہاں موجود تھے۔۔۔ حور نے آج حیا کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا بر خلاف توقع معاویہ نے بھی 'تمہیں جانا چاہیے، حیا کو بولا مگر حیا نے یہ کہتے ہوئے سہولت سے انکار کردیا کہ آنٹی انکل آج اداس ہوں گے پھر کبھی سہی
*
یہ بریسلٹ اتارنہ زرا"
معاویہ روم میں آیا تو حیا نہ آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے نارمل سے انداز میں کہا جیسے ہمیشہ ان دونوں کے درمیان دوستی رہی ہو
"کیوں تمہارا دوسرا ہاتھ ٹوٹا ہوا ہے"
پہلے معاویہ نے ایک نظر سنجیدگی سے حیا کو دیکھا اور پھر ٹکا سا جواب دیا جس کی حیا کو امید نہیں تھی
"مجھ سے اس کا لاک نہیں کھل رہا تم اتار دو"
حیا نے ڈھیٹ بن کر کہا اور مزید اپنا ہاتھ اس کے منہ کے سامنے کرتے ہوئے کہا
"اس میں کونسی سائنس ہے جو تم سے نہیں اتر رہا ہاتھ پیچھے ہٹاو اپنا"
اس کا ہاتھ نیچے کرتا ہوا وہ چینج کرنے چلا گیا
حیا وہی کھڑی رہی اور اسے شدید غصہ آیا معاویہ چینج کرکے آیا اور بیڈ کی طرف بڑھنے لگا جب حیا کی آواز پر وہ رکا
"نیناں کا بریسلیٹ کونسے آئنسٹائن کے چاچا نے بنایا تھا جس کا لاک تم لگا رہے تھے"
معاویہ کو دیکھ کر حیا نے جل کر کہا
"او تو یہ ساری مرچیں اس بات پر لگی ہوئی ہے۔۔۔ویسے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے تمہیں"
معاویہ نے سیریز انداز میں حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اس کے چہرے پر ہنسی کا شائبہ تک نہیں تھا
"لگی ہوئی ہے مرچیں اور ہو رہی ہے تکلیف۔۔۔ آخر کون ہے وہ جو اتنا چپک کر تمہارے ساتھ کھڑی ہوئی تھی اور کیا کہہ رہے تھے تم اس کا ہاتھ پکڑ کر "
حیا نے اس کے سامنے آتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑنے والے انداز میں کہا
"تمہیں آب مرچیں لگے یا تکلیف ہو، میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہاتھ پکڑ کر میں اس کی تعریف کر رہا تھا کیونکہ اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔ اگر بہت پہلے ڈیڈ کی بات مان لیتا تو آج تمہاری جگہ وہ یہاں کھڑی ہوتی میری بیوی کے روپ میں"
حیا کو اچھی طرح سلگا کر وہ بیڈ پر لیٹنے کا ارادہ رکھتا تھا جب حیا نے اس کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"بہت پچھتاوا ہو رہا ہے اس سے شادی نہ کرکے"
حیا کی ناک غصے سے سرخ ہونے لگی
"میں کیوں پچھتانے لگا بھلا۔۔۔ جب چاہے اسے بھی بیوی بنا سکتا ہو۔۔ اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے مرد کو"
وہ حیا کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا ہوا بولا سنجیدگی اس کے چہرے پر ہنوز برقرار تھی
"بہت آگ لگی ہوئی ہے تمہیں شادیوں کی،، ذرا کر کے تو دیکھاو پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں اور اس نیناں ڈائن کا کیا حشر کرتی ہوں"
حیا نے غصّے میں اس کا گریبان پکڑ کر کہا
"ہاں لگی ہوئی ہے مجھے آگ،، پر دھواں تمہارے پاس سے کیوں اٹھ رہا ہے۔۔۔ میں اپنے معاملات میں خود مختار ہوں جو چاہے کرو تمہیں میرے اندر گھسنے کی ضرورت نہیں،،، بہت اچھا ہوتا جو تم آج انٹی انکل کے گھر رک جاتی کم سے کم اس وقت میرے دماغ کی دہی تو نہیں بن رہی ہوتی"
اپنے گریبان سے حیا کے ہاتھ جھٹکے سے ہٹاتے ہوئے معاویہ نے سخت لہجے میں کہا
"کل اگر نیناں سے تم نے فری ہونے کی کوشش کی یا اس نے تم سے فری ہونے کی کوشش کی تو دونوں صورت میں، میں اس کارٹون کا تھوبڑا بگاڑ کر رکھ دوگی کیونکہ میں بھی اپنے معاملے میں خود مختار ہوں اس لئے میری مرضی میں رکو اپنے ماں باپ کے گھر یا نہیں کون سے تمہارے اندر گھس کے سو رہے ہوں،،، ابھی تو صرف دہی بنائی ہے نہ کل پورا رائتہ کا بناؤں گی"
حیا اس کو وارننگ دے کر تن فن کرتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی
"دو مہینے سے مجھے اگنور کیا ہوا ہے۔۔۔ اور خود سے 2 گھنٹے کی اگنورنس برداشت نہیں"
معاویہ نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا
*
صنم بیڈ کر بیٹھی ہوئی تھی ہادی روم میں آیا اور آکر صنم کے پاس بیڈ پر بیٹھا صنم کے حسین روپ کو اپنی آنکھوں میں جذب کرتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا
"آج میں بہت خوش ہوں میرا دل کہہ رہا ہے میں تم سے ڈھیر ساری باتیں کرو"
ہادی نے صنم کے مہندی لگے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا
"مگر اس سے پہلے یہ ایک حقیر سا تحفہ میری طرف سے قبول کرو"
ہادی نے بیڈ کے سائڈ ٹیبل کی ڈراز سے ایک ڈبہ نکالا اس میں سے دو کنگن نکال کر صنم کو پہنائے۔۔۔
"یہ تحفہ حقیر نہیں بہت قیمتی ہے"
صنم نے بغیر مسکرائے دھیمی آواز میں ہادی کو کہا
"نہیں اس کی قیمت تمہارے ہاتھوں میں پہنانے کے بعد بڑھ گئی ہے"
ہادی نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا تو صنم نے سنجیدگی سے ہادی کو دیکھا
"کیا ہوا تم خوش ہو"
ہادی نے نوٹ کیا وہ جب سے روم میں آیا تھا صنم ایک بھی دفعہ مسکرائی نہیں
"آج کا دن میرے لئے بہت اہم اور خاص تھا مگر آپ نے آج کے دن میں میری خوشی کو پھیکا کر دیا۔۔۔ آپ کو بھائی کو اس طرح نہیں بولنا چاہیے تھا ہادی"
آخرکار صنم کے منہ پر شکوہ آگیا
"آہو تو اتنی چھوٹی سی بات کو دل سے لگا کر بیٹھی ہو تم یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے کہ تم اس بات کو لے کر اپنے ساتھ ساتھ میری خوشیوں کو بھی پھیکا کرو بھول جاؤ سب"
ہادی نے صنم کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا
"میرے لئے چھوٹی بات نہیں ہے ہادی آپ کو سب کے سامنے بھائی کو اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا مجھے اچھا نہیں لگا"
صنم نے اپنی آنکھوں میں آتے ہوئے نمی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ہادی سے دوبارہ شکوہ کیا
"اور مجھے یوں تمہارا اپنے بھائی کا ذکر کرنا اچھا نہیں لگ رہا، صنم آج کا دن میرے لئے معنی رکھتا ہے اور میں اس وقت صرف تمہاری اور اپنی باتیں کرنا چاہتا ہوں کسی تیسرے کی نہیں اوکے"
ہادی نے ابھی بھی نرم لہجہ اپناتے ہوئے صنم سے کہا۔۔۔ جس پر صنم ہادی کو چپ کرکے دیکھتی رہی جیسے اس کی آنکھیں شکوہ کر رہی ہوں
"اب کیا ہوا ہے صنم"
ہادی نے اس کی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے اکتا کر اس سے پوچھا
"کچھ نہیں میں چینج کرکے آتی ہوں"
صنم نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
"جاتے جاتے بیڈروم کی لائٹ بند کر دینا"
ہادی نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سرد انداز میں کہا۔۔۔ اس نے صنم کی زبان تو بند کردی تھی مگر آنکھوں میں وہ ابھی بھی وہی شکوہ لیے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔۔ جس سے ہادی کا موڈ خراب ہوا تھا۔۔ صنم لائٹ آف کر کے چینج کرنے چلی گئی واپس آئی تو ہادی کو اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے پایا۔۔۔ وہ چپ کرکے بیڈ پر آکر دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔
رات کو جانے کونسا پہرت رجب ہادی کی آنکھ سسکیوں کی آواز سے کھلی، اس نے اپنا ہاتھ آنکھوں سے ہٹا کر دیکھا تو صنم منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنی سسکیاں دبانے کی کوشش کر رہی تھی
"صنم کیا ہوا ادھر آؤ میرے پاس"
ہادی اٹھ کر اور لیمپ جلاتا ہوا بولا
"سوری وہ ایسی رونا آگیا تھا"
صنم آنسو صاف کر کے واش روم کی طرف جانے لگی تو ہادی نے اسے کھینچ کر گلے سے لگا لیا
"سوری"
صنم کو گلے لگاکر اس نے آہستہ سے بولا تو صنم کو مزید رونا آیا
"میں آپ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی ہادی مجھے آپ سے بھی پیار ہے"
صنم نے اب وہ نام لینے سے اپنے آپ کو باز رکھا جس کی وجہ سے ہادی اس سے ناراض ہوا تھا ہادی نے فیلڈ گیا تو اسے دکھ ہوا
"نہیں ہوں میں تم سے ناراض۔۔ بے وقوف سمجھا ہوا ہے جو اتنی پیاری بیوی سے شادی کی رات کو ناراض ہو جاؤں گا"
ہادی نے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بات کو مذاق رنگ دیتے ہوئے کہا
"فضول میں اتنے آنسو بہا دیے۔۔ آئیز کتنی ریڈ کرلی"
وہ صنم کے آنسو صاف کرکے اس کی آنکھوں کو چومنے لگا
"ہادی پلیز مجھے"
صنم نے کچھ بولنا چاہا
"اب کچھ بھی نہیں بولنا"
ہادی نے اس کو کچھ بولنے سے باز رکھا اور اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا
"تمہیں پتا ہے تمہارے اندر دو کوالٹیز ہیں، ،جن سے تم خود بھی واقف نہیں ہو۔ ۔۔اور پتہ ہے وہ دو کوالٹیز کیا ہے صنم"
ہادی صنم کا گال سہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"کیا"
صنم نے ہادی کو دیکھ کر پوچھا
"ایک یہ کہ تم دل میں اترنے کا فن خوب اچھی طرح جانتی ہوں"
ہادی نے اس کے دونوں گالوں کو باری باری ہونٹوں سے چھوا
"دوسری کوالٹی جاننا چاہوں گی"
اس کے پوچھنے پر صنم نے اپنی آنکھوں کو جھپکایا
"دل پر قابض ہونے کے بعد اب تم قطرہ قطرہ ہادی مسعود کے دماغ پر بھی قابض ہو رہی ہوں۔۔۔ میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ اچھا جادو چلایا ہے تم نے اپنا"
ہادی نے صنم کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے
"اپنی زندگی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وجود میں بھی شامل کرنا چاہتا ہوں اجازت ہے"
ہادی نے اس کی رضامندی جاننی چاہی
"میں آپنا آپ،، اپ کے نام کرچکی ہوں ہادی"
صنم نے لرزستی پلکوں کے ساتھ اپنی آمادگی ظاہر کی۔۔۔۔ ہادی نے آگے ہاتھ بڑھا کر لیمپ بند کردیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment