Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 50

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 50

معاویہ کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ ابھی تک ویسی کی ویسی سن کھڑی تھی اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی اسے اندر سے اچھا فیل نہیں ہورہا تھا۔۔۔

"مگر اچھا ہی تھا اس کی اصلیت کسی کو تو پتہ چلنی چاہیے تھی مجھے کیا ضرورت ہے اس کے لئے برا فیل کرنے کے لیے وہ یہی ڈیزرو کرتا تھا"

حیا اپنے دل کو سمجھاتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی اسے کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد نیند آئی

*

صبح آنکھ کھلی تو اپنی برابر والی جگہ کو خالی پایا ایک دم سے کل رات والا واقعہ سوچتے ہوئے حیا بیڈ سے اٹھی معاویہ کی گاڑی کی کیز جگہ پر موجود نہیں تھی یعنی وہ رات سے نکلا ہوا ہے ابھی تک گھر واپس نہیں آیا۔۔۔ وہ روم سے باہر آئی ڈائننگ ٹیبل پر صنم کو اکیلے بیٹھے ہوئے دیکھا وہ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے ہوئے کسی سوچ میں گم تھی حیا کی آمد پر چونکی

"آئیے بھابھی بھائی نظر نہیں آ رہے"
صنم نہ حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 

"انٹی انکل کہاں ہیں" 
صنم کی بات کو اگنور کرکے وہ صنم کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی

"مام تو ابھی تک نہیں اٹھی شاید کل تھکن زیادہ ہوگئی ہوں۔۔۔ ڈیڈ نے ناشتے سے منع کردیا ہے لان میں بیٹھے ہوئے ہیں"
صنم نے اداس نظر حیا پر ڈالتے ہوئے اسکو بولا

"تم کیوں خالی چائے پی رہی ہوں ساجدہ کہاں ہے" حیا نے اٹھتے ہوئے کہا

"آپ بیٹھے میں ساجدہ سے کہہ کر آپ کا ناشتہ بناتی ہوں میرا موڈ نہیں ہورہا ناشتے کا بس اس لئے چائے بنالی اپنے لئے"
صنم نے حیا کو اٹھتے ہوئے دیکھا تو اس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگی

"یہ بریسلٹ تمہارا ہے"
حیا نے اس کے ہاتھ میں بریسلٹ دیکھا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا یہ وہی بریسلٹ تھا جو ہادی گاڑی میں اس نے دیکھا تھا یعنی ہادی اور صنم پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں 

"جی مجھے بہت پسند ہے اپنا یہ بریسلٹ لیکن اگر آپ کو اچھا لگ رہا ہے تو یہ آپ رکھ سکتی ہیں"
صنم مسکرا کر اپنے ہاتھ سے بریسلٹ اتارنے لگی

"ارے نہیں یہ تمہارے ہاتھ میں ہی زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ اور تم واپس بیٹھو آج کے دن مہمان ہو اس گھر میں،،، ساجدہ سے ناشتے کیلئے میں کہتی ہوں اور انکل کو بھی بلا لیتی ہوں"
حیا نے اٹھتے ہوئے کہا

"بھابھی سب ٹھیک تو ہے نہ میرا مطلب ہے کل رات کو بھائی اور آپ اس طرح سے"
صنم جھجھکتے ہوئے پوچھنے لگی

"سب ٹھیک ہے تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے آج تمہارے لئے امپورٹنٹ دن ہے۔۔۔ خوش رہو"
حیا مسکراتے ہوئے کہنے لگی اور پھر لان کی طرف چلی گئی

**

خضر لان موجود چیئر پر بیٹھا ہوا اپنی سوچوں میں گم تھا

"شاید اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں جو زین نے ماضی میں حور کے ساتھ کیا آج وہی عمل اس کی اولاد کے آگے آیا۔۔۔ مگر خضر کو دکھ تھا اور اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا کہ اس کی وجہ معاویہ بنا۔۔۔۔ اسے زین اور حور کے درمیان وہ غلط فہمیاں یاد آنے لگی،،، جو اس نے کبھی پیدا کی تھیں۔۔۔ ۔ شاید دنیا اسی کا نام ہے والدین کا کیا ہوا اولاد کے آگے آتا ہے یا کبھی کبھی والدین کا کیا ہوا اسکی اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔۔ ایک دم سے اس کا دھیان صنم کی طرف گیا

"یا اللہ پاک میرے اعمال کی سزا میری بیٹی کو نہیں دینا"

بے اختیار اس نے دل میں دعا مانگی اور وہ مزید افسردہ ہوگیا       

"انکل آپ اتنی سردی میں یہاں کیوں بیٹھے ہیں ناشتہ بھی نہیں کیا آپ نے"
حیا خضر کے پاس آکر بولی

"بس بیٹا ویسے ہی ناشتہ کرنے کا موڈ نہیں ہو رہا تھا آپ نے ناشتہ کیا"
خضر نے جواب دینے کے ساتھ ہی حیا سے سوال کیا

"میں نے بھی ابھی تک نہیں کیا،،، میرے خیال میں آج ہم لوگوں کو صنم کے ساتھ ناشتہ کرنا چاہیے۔۔۔ کل سے تو وہ اپنے سسرال ہوگی"
حیا نے مسکرا کر کہا خضر نے حیا کو دیکھا۔۔۔ وہ اسے اس وقت بالکل حور لگی۔۔۔۔ وہ بھی سب کا اسی طرح خیال رکھتی تھی

"یہاں بیٹھو"
خضر نہ حیا کو برابر والی کرسی پر بیٹھنے کو کہا حیا بیٹھ گئی

"حیا میں بہت شرمندہ ہوں تم سے بیٹا،،، اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا معاویہ کی حرکت کا تو میں اسے سخت سے سخت سزا دیتا اس نے جو بھی کچھ تمہارے ساتھ کیا ہے۔۔۔ میں اس کے لیے تم سے سوری کرتا ہوں ہو سکے تو معاف کر دینا"
خضر کے بولنے پر حیا ایک دم بول اٹھی

"آپ کیسی بات کررہے ہیں انکل۔۔۔ آپ اس طرح شرمندہ نہ ہوں نا ہی سوری کہیں مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ معاویہ نے جو بھی کچھ کیا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں اور آپ نے آنٹی نے صنم نے تو مجھے اس گھر میں بہت پیار دیا ہے احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ یہ میرا سسرال ہے"
حیا نے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا

"بہت شرمندہ کیا ہے مجھے اس لڑکے نے زین اور حور سے نظریں ملانے کے بھی قابل نہیں چھوڑا"
اب خضر کو زین اور حور کا سوچ کر نئے سرے سے شرمندگی ہونے لگی

"مما بابا کو کچھ بھی علم نہیں ہے اس بات کا انکل آپ گلٹ فیل نہ کریں۔۔۔۔ چلیں آپ کو بلانے آئی تھی صنم ہمارا ویٹ کر رہی ہے ناشتے پر"
حیا کے بولنے پر خضر اٹھا تو حیا بھی اٹھ کر اندر چلی گئی

***

"میں اندر آجاؤ تم بزی تو نہیں"
حیا رات کے فنکشن کے لئے جیولری نکال رہی تھی تب ناعیمہ نے روم کے دروازے پر حیا سے پوچھا

"آپ پوچھ کیوں رہی ہیں پلیز اندر آئے"
حیا نے ڈبہ نکال کر ڈراز بند کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ناعیمہ اندر آکر صوفے پر بیٹھ گئی

"دکھاو کون سی جیولری پہن رہی ہوں آج"
ناعیمہ نے اس کے ہاتھ سے جیولری باکس لیتے ہوئے پوچھا

"اچھی تو یہ بھی لگ رہی ہے مگر میرے پاس ایک کندن کا سیٹ ہے وہ تمہارے ڈریس کے ساتھ زیادہ میچ کرے گا میں ابھی بھجوا دو گی پھر تم دیکھ لینا جو اچھا لگے وہ پہن لینا"
ناعیمہ کے کہنے پر حیا نے مسکراکر شکریہ کہا

"حیا معاویہ رات کا نکلا ہوا ہے ابھی تک گھر نہیں آیا"
ناعیمہ نے اچانک حیا اسے پوچھا ہے تو وہ نظر جھکا گئی

"جی آنٹی ابھی تک نہیں آئے" حیا اس ٹاپک سے بچنا چاہ رہی تھی اس لئے اسے بے چینی ہونے لگی

"کل رات تمہارے اور معاویہ کے درمیان کیا بات ہوئی مجھے اس کا علم نہیں۔۔۔ میرے پوچھنے پر بھی خضر نے مجھے نہیں بتایا مگر کل رات خضر کافی پریشان تھے جیسے بہت ہرٹ ہوئے ہو۔۔۔ تم یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے کچھ پوچھنے آئی ہو۔۔۔۔ تم دونوں میاں بیوی کے بیچ کی بات ہے جو بھی بات ہوگی مجھے لگتا ہے غلطی معاویہ کی ہی ہوگی۔۔۔ کیونکہ غصے کا تیز ہے کبھی کبھی غصہ زیادہ کر جاتا ہے اپنی من مانی بھی کر جاتا ہے۔۔۔ مگر اپنا حق بھی صرف اسی پر جتاتا ہے جسے وہ پیار کرتا ہے اور اپنا سمجھتا ہے۔۔ جبھی تو صنم کے رشتے کو لے کر اتنا غصہ ہوگیا بہت پیار کرتا ہے صنم کو۔۔۔ ایسے ہی اس کی آنکھوں میں میں نے تمہارے لئے بھی ہمیشہ محبت دیکھی ہے تم سے بھی بہت پیار کرتے ہےاس لئے اگر کبھی غصہ کر جائے تو دل پر مت لیا کرو"
ناعیمہ نے حیا کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا

"چلو فون کرکے اس کو بلاؤ شادی کا گھر ہے دس کام ہوتے ہیں نہیں تو پھر خضر کو غصہ آجائے گا"
ناعیمہ نے اٹھتے ہوئے حیا سے کہا

"جی انٹی میں فون کر دیتی ہوں معاویہ کو"
حیا نے ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"اور ہاں صنم کے ساتھ تم بھی پارلر جا رہی ہوں نہ شاہد (ڈرائیور) کو ایمرجنسی کی بنا پر اپنے گاؤں جانا اس کا کوئی جاننے والا ہے اختر وہ تمہیں اور صنم کو پالر لے جائے گا چھ بجے ریڈی رہنا"
ناعیمہ نے روم سے نکلنے سے پہلے حیا کو کہا

*

"کہاں ہو تم معاویہ کب سے تمہیں حیا کال کر رہی ہے ریسیو کیوں نہیں کر رہے تھے"
معاویہ کے کال ریسیو کرتے ہی ناعیمہ نے غصے میں کہا

"کوئی کام تھا" معاویہ نے مختصر سے سوال کیا

"واہ بیٹا شادی کا گھر ہے۔۔ آج تمہاری بہن کی شادی ہے اور تم پوچھ رہے ہو کوئی کام تھا۔۔۔ بہت افسوس کی بات ہے معاویہ"
ناعیمہ نے اسے شرم دلائی

"سوری مام آج تو کچھ مصروفیت کی بناء پر میں شاید آہی نہیں سکو" معاویہ نے اسموکنگ کرتے ہوئے جواب دیا

رات کو وہ گھر سے نکلا تھا تو اپنے دوست کے فلیٹ میں آگیا تھا دوست کی فیملی دوسرے شہر میں رہتی تھی۔۔  وہی اس نے رات گزاری صبح سول ڈریس میں پولیس اسٹیشن پہنچ کر تھوڑی دیر پہلے واپس فلیٹ میں آیا تھا

"کیوں کرتے ہو کبھی کبھی معاویہ ایسی باتیں جس سے میرا دل جلتا رہے۔۔۔۔ ذرا احساس نہیں ہے تمہیں تمہاری ایک ہی بہن ہے وہ بھی تمہاری لاڈلی۔۔۔ آج اس کی بارات ہے تمہیں اس کی خوشیوں میں شریک ہونے کا ٹائم نہیں ہے"
ناعیمہ نے اس کو احساس دلاتے ہوئے کہا

"مام شاید ڈیڈ کو میرا وہاں نہ اچھا نہ لگے"
معاویہ بے ساختہ بولا

"معاویہ تم تھوڑی دیر میں گھر آرہے ہو۔۔۔ یہ کال تمہارے ڈیڈ نے کروائی ہے اور اب میں کوئی فضول سا ایکسکیوز نہیں سنوں گی"
ناعیمہ کال رکھ چکی تھی معاویہ نے بچا ہوا سیگرٹ آیش ٹرے میں اور گاڑی کی کیز اٹھا کر فلیٹ سے باہر نکل گیا

*

گھر پہنچ کر وہ اپنے روم میں آیا تو حیا صوفے پر بیٹھی ہوئی اپنے ناخنوں کو نیل پالش سے رنگ رہی تھی۔۔۔ نظر اٹھا کر حیا نے معاویہ کو دیکھا تو معاویہ اسے نظر انداز کرتا ہوا ڈریسنگ روم میں گیا اور چینج کر کے باہر نکلا

"کہاں تھے تم رات بھر"
حیا نے اس کو دیکھ کر پوچھا

"تم سے مطلب" معاویہ نے خونخوار نظروں سے اس کو دیکھ کر کہا

"کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے تھے میری"
حیا نے اس کی پہلی بات کو اگنور کر کے دوسرا سوال کیا

"زیادہ میری استانی بننے کی ضرورت نہیں ہے نکلو میرے بیڈروم سے"
معاویہ نے اسے ایسے گھورتے ہوئے کہا جیسے اسے ابھی کچا چبا جائے گا

"مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری استانی بننے کی۔۔۔ کال کرنے کا بھی آنٹی نے کہا تھا جبھی تمہیں کال کی تھی۔۔۔ اور آئندہ مجھے بیڈ روم سے نکلنے کے لئے مت بولنا بے شک کی بیڈروم تمہارا ہے مگر اس میں رکھا ہوا سارا فرنیچر میرے بابا نے جہیز میں مجھے دیا تھا تو اس بیڈ روم میں بھی میرا اتنا ہی حق ہے"
حیا نے اسے تڑخ کر جواب دیا

"بھیک نہیں مانگی تھی تمہارے بابا سے نہ ہی ڈیمانڈ کی تھی جو کچھ بھی دیا انہوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے دیا تھا اس لئے آئندہ میرے سامنے بکواس کرنے کی ضرورت نہیں"

معاویہ پلٹ کر اس کی طرف آکر بولا اور واپس جاکر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا

"اپنے ڈریس کا بتا دو میں پریس کرنے کے لیے بھیج دیتی ہوں"
معاویہ نے گردن موڑ کر حیا کو گھور کر دیکھا

"اپنے کام سے کام رکھو"
انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا

"ایسا کیا بول دیا ہے میں نے جو ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو۔۔۔کپڑوں کا ہی تو پوچھا ہے"
حیا بول ہی رہی تھی جب معاویہ اس کے پاس آیا اور زور سے اس کا ہاتھ موڑا جس سے حیا کی چیخ نکل گئی

"ایک دفعہ کی بات تمہارے بھیجے میں نہیں بیٹھتی۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھو" ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا تو وہ صوفے پر جا گری

"جنگلی کہیں کے"  صوفے سے اٹھتے ہوئے حیا کی زبان پھسلی

"کیا بولا"
وہ دوبارہ حیا کی طرف آیا

"کچھ نہیں۔۔۔ سوری"
حیا نے اس کے تیور دیکھ کر جلدی سے سوری کہا اور واپس بیٹھ گئی۔۔۔ معاویہ نے گھور کر اسے دیکھا

"آئندہ تمہیں مجھے مخاطب کرنے کی یا میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے آئی سمجھ"
معاویہ نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے ہوئے بولا حیا نے جلدی سے سر ہلایا

معاویہ دوبارہ وارڈروب کی طرف بڑھا تو حیا روم کے دروازے سے باہر نکلی۔۔۔ دروازے سے سر نکال کر روم میں جھانکا

"میں آئندہ بھی تمہیں مخاطب کرو گی۔۔۔ تمہارے معاملات میں ٹانگ بھی اڑاو گی اور آخری بات یہ کہ تم پورے جنگلی ہو"
جلدی جلدی بول کر وہ سیڑھیاں اتر گئی معاویہ نے سر جھٹکا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا

*

"چلو صنم جلدی کرو پارلر کے لئے نکلنا بھی ہے"
حیا نے اس کے روم میں آتے ہوئے صنم سے کہا

"جی بھابھی میری ریڈی ہو چلیے"
صنم اور حیا گھر سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھ گئی

ڈرائیور،، ڈرائیونگ سیٹ والا دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھنے لگا جبھی وہاں معاویہ آگیا

"اے یہاں آو"
معاویہ نے ہاتھ کے اشارے سے اختر کو بلایا

"شاہد کہاں پر ہے"
معاویہ نے اپنے ڈرائیور کے متعلق پوچھا

"اس کے بیٹے کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ آج صبح ہی اپنے گاؤں کے لیے روانہ ہوا ہے"
اختر نے معاویہ کو بتایا

"نام کیا ہے تمہارا شناختی کارڈ اور لائسنس دکھاو"
معاویہ نے اس سے اگلا سوال کیا

"صاحب اختر نام ہے میرا۔۔۔ یہ میرا لائسنس ہے اور یہ شناختی کارڈ"
اختر نے معاویہ کو دونوں چیزیں جیب سے نکال کر تھماتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے آیسا کرو اندر جاکر صاحب سے کوئی دوسرا کام ہو تو پوچھ لو اور یہ گاڑی کی چابی مجھے دو"
معاویہ نے اس کا شناختی کارڈ دیکھتے ہوئے کہا

"مگر بیگم صاحبہ نے تو مجھے بولا بچیوں کو پالر لے کر جانا ہے"
اختر نے گڑبڑاتے ہوئے کہا

"ابھی جیسا میں تم سے بول رہا ہوں ویسا کرو دو گاڑی کی چابی"
معاویہ نے لائسنس اور شناختی کارڈ اس کو تھماتے ہوئے گھور کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

اختر نے چپ کرکے گاڑی کی چابی معاویہ کو دے دی اور اندر چلا گیا۔۔۔ معاویہ کی شروع سے عادت تھی نوکروں کے معاملے میں اچھی طرح معلومات کر کے ان سے باز پرس کر کے انہیں کام پر رکھتا۔۔۔۔ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا

"صنم آگے آجاؤ"
بیک ویو مرر سے صنم کو دیکھ کر مخاطب کرتا ہوا بولا
صنم نے ایک نظر حیا کو دیکھا تو حیا اس کو دیکھ کر مسکرا دی،، صنم جاکر آگے بیٹھ گئی۔۔۔ معاویہ کا اسے اگنور کرنا تھوڑا سا فیل ہوا مگر وہ سر جھٹک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگ

صنم اور حیا کو پارلر چھوڑ کر بینکوئیٹ کے سارے ارینجمنٹ دیکھتے ہوئے گھر آیا۔۔۔ گھر سے ڈریس اپ ہوکر دوبارہ صنم اور حیا کو لینے پارلر چلا گیا۔۔۔ صنم اور حیا دونوں پارلر سے باہر نکلی تو معاویہ گاڑی سے اتر کر مسکراتا ہوا صنم کے پاس آیا

"بہت پیاری لگ رہی ہے میری گڑیا" معاویہ نے صنم کا چہرہ تھامتے ہوئے کا ہزار کے چند نوٹ اس کے اوپر سے وار کر سامنے فقیر کو دے دیے اور اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے میں مدد دی حیا کی طرف اس نے دیکھا بھی نہیں۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مگر حیا کو اپنی تیاری بے معنی سے لگی،،،، وہ بھی چل کر گاڑی میں بیٹھ گئی

*

"کیسی لگ رہی ہوں"
وائٹ کلر کی شفون کی ساڑھی میں،، جس پر گولڈن تاروں سے بہت نفاست سے کام ہوا تھا۔۔۔ حور نے آئینے کے آگے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیتے ہوئے زین سے پوچھا جو کہ خود تیار ہو کر اس کی تیاری کا جائزہ لے رہا تھا

"ہمیشہ کی طرح حسین۔۔۔ تم اس دل کو کبھی بری لگی ہی نہیں"
زین نے اس کے پاس آکر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"مگر شاہ مجھے ایک بات بہت بری لگی"
حورنے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیا برا لگ گیا بھئی"
زین نے مسکراتے ہوئے حور سے پوچھا

"کل مہندی کے فیشن میں شاید تم نے نوٹ نہیں کیا ہادی اور معاویہ ایک دوسرے سے کچھ کھنچے کھنچے لگ رہے تھے۔۔۔ مجھے دیکھ کر اچھا فیل نہیں ہوا"
جو کل حور نے نوٹ کیا وہ زین سے شیئر کرنے لگی

"ارے تم ایسی باتیں کب سے نوٹ کرنے لگی ایسی کوئی بات نہیں ہے وہم ہوگا تمہارا"
زین نے اس کی بات کو مذاق کر رنگ دیتے ہوئے کہا

"نہیں مجھے بالکل وہم نہیں ہوا بلکہ میں نے دیکھا اسٹیج پر جب معاویہ اور حیا رسم کرنے کے لئے گئے تو ہادی نے معاویہ کو کچھ کھلانے سے منع بھی کیا شاید"
ہونے دور بیٹھے ہوئے اسٹیج پر یہ منظر دیکھا جسے یاد کرتے ہوئے وہ زین کو بتانے لگی

"میں نے تو ایسا کچھ نہیں نوٹ کیا ہوسکتا ہے زیادہ میٹھا کھا کھا کر انسان کا دل بھر جاتا ہے ویسے ہی اس نے بول دیا ہو تم سوچو نہیں زیادہ چلو چلتے ہیں بلال کی کال آنے سے پہلے"زین نے حور کی بات کو نارمل انداز میں لیتے ہوئے کہا

***

معاویہ گاڑی لے کر ڈائریکٹ بینکویٹ پہنچا تو آدھے سے زیادہ مہمان آچکے تھے۔۔۔ زین اور حور نے بھی بلال اور فضا کے ساتھ شرکت کی

"بابا مما کیسے آپ دونوں۔۔۔ میں آپ دونوں کو بہت مس کر رہی تھی"
حیا نے زین اور حور کو دیکھا تو باری باری گلے لگتے ہوئے دونوں سے کہا

"حیا تم تو ایسے لیے کر رہی ہو جیسے یہاں پر کوئی تمہارا اپنا نہ ہو۔۔۔ یا ماں باپ کو کتنے سال بعد دیکھ رہی ہوں کل ہی تو ملے تھے بیٹا"
حور نے اس کو پیار کرتے ہوئے کہا

"اچھا یہ بتائے میں کیسی لگ رہی ہوں آج"
حیا نے ایک دفعہ پھر اداسی سے ان دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا

"میری بیٹی سے زیادہ حسین یہاں اور کوئی لگ ہی نہیں رہا۔۔۔ ان آرٹیفیشل سہاروں کی تو انہیں ضرورت ہوتی ہے جن میں کمی ہوتی ہے"
زین نے حیا کو پیار کرتے ہوئے کہا تو حیا کھل کر مسکرائی اور اپنی تعریف پر اسے تھوڑا اطمینان محسوس ہوا

"کیسے ہیں آنٹی انکل آپ دونوں"
او تینوں کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے جب معاویہ ان لوگوں کے پاس آیا

"بالکل ٹھیک ٹھاک۔۔ تم سناؤ کیسے ہو،، بہت پیارے لگ رہے ہو ماشاء اللہ"
حور نے مسکرا کر اپنے داماد کی تعریف کی

"یہ غلط بات ہے آنٹی تعریف تو مجھے آپ کی کرنی چاہیے۔۔۔۔ ان کل کی لڑکیوں سے تو آج آپ نمبر لے گئیں،، یہ سب تو آپ کے سامنے پانی بھرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے"
معاویہ کی تعریف پر جہاں زین اور حور دونوں ہنس دیئے وہی حیا کو صاف محسوس ہوا جیسے وہ اسے سنا رہا ہوں اس کا دل بجھ گیا

"ینگ مین تم میرے سامنے میری بیگم سے فلرٹ کر رہے ہو"
زین نے مسکراتے ہوئے معاویہ کو بولا 

"کیوکہ سر آپ کی بیگم کا مجھ ناچیز سے بھی رشتہ بنتا ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس محفل کی سب سے بیوٹی فل لیڈی کے ساتھ فوٹو شوٹ کروا لو یہ یقینا میرے لیے اعزاز ہوگا"
معاویہ نے بہت مودبانہ انداز میں حور کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے زین سے اجازت لی
زین اور حور دونوں ایک بار پھر ہنس دیئے

"اجازت ہے"
زین کے بولنے پر معاویہ حور کا ہاتھ تھام کر کیمرہ مین کے پاس چلا گیا۔۔۔ حیا اس کو دور جاتا ہوا دیکھتی رہی

"چلو پرنسسز ایک آدھ سیلفی ہم دونوں بھی لے لیتے ہیں"
زین نے اپنا موبائل پوکٹ سے نکالا تو حیا مسکرا دی

*

تھوڑی دیر میں نکاح کا شور مچا تو نکاح کا مرحلہ طے پایا گیا۔۔۔  سب نے ہادی کو گلے لگا کر مبارکباد دی،،، جب معاویہ اسٹیج پر آیا تو دونوں کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ ہوگئے،،، مگر جب اپنی بہن دے دی تھی تو اسے خود آگے بڑھ کر گلے ملنا تھا

"میں تم سے امید رکھتا ہوں کہ تم صنم کو خوش رکھو گے"
معاویہ نے ہادی کو گلے لگاتے ہوئے کہا

"امید رکھنا اچھی بات ہے۔۔۔اور امید پر ہی تو دنیا قائم ہے"
ہادی استہزہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا

معاویہ اور کچھ نہیں بولا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ ایک بھائی ہونے کے ناطے اس کا دل اپنی بہن کے لئے پریشان تھا مگر وہ اس وقت خود کو بےبسی محسوس کرنے لگا

"معاویہ ذرا یہ بریسلیٹ کا لاک بن کرنا پلیز"
معاویہ کو اپنے پیچھے سے نیناں کی آواز سنائی دی اک تو پہلے ہی اس کا موڈ اچھا نہیں تھا دوسرے اس وقت نیناں کی شکل دیکھ کر وہ مزید جی بھر کے بیزار ہوا

"کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہو"
نیناں نے اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

"ہاتھ ہٹاو اپنا"
نیناں کا ہاتھ اپنے بازو پر دیکھ کر وہ ناگوار نظروں سے نینا کو دیکھ کر بولا

نیناں نے زبردستی کا مسکرا کر اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا اور اس کے چہرے پر سختی کے تاثرات دیکھ کر وہاں سے جانے لگی۔۔۔ تب معاویہ کی نظر تھوڑی دور کھڑی ہوئی حیا پر پڑی جو ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

"دکھاؤ اپنا بریسلٹ"
معاویہ نے جاتی ہوئی نیناں کا ہاتھ تھام کر کہا اور اس کے بریسلٹ کا لاک لگانے لگا۔۔۔ نیناں اس کو مسکرا کر دیکھنے لگی

"نیناں سارا پاڈر منہ پر مل لیا۔۔۔ تھوڑا سا ان ہاتھوں پہ بھی لگا لیتی"
وہ نیناں کا ہاتھ تھام کر مسکراتا ہوا ایسے کہہ رہا تھا۔۔۔۔ دور سے دیکھنے والا بندہ یہی سمجھے جیسے اس کی تعریف کر رہا ہے

"معاویہ"
حیا قریب آکر بے ساختہ چیخی۔۔۔ معاویہ نے  ناپسندیدہ نگاہ حیا پر ڈالی

"کیا ہوا"
معاویہ نے گھور کر حیا کو دیکھا اور سختی سے پوچھا

"وہ۔۔۔ وہ انکل تمہیں بلا رہے تھے شاید"
حیا نے اپنا لہجہ نارمل کیا اور بات بناتے ہوئے بولی

"میں نے سن لیا ہے اب تم جا سکتی ہو"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ حیا کو لگا جیسے معاویہ نے اسے گیٹ آوٹ بولا ہو
حیا فوراً وہاں سے چلی گئی

"واہ بھئی بڑا روعب میں رکھا ہوا ہے تم نے تو اپنی بیوی کو"
حیا کے جانے کے بعد  نیناں نے دانت نکالتے ہوئے کہا

"بریسلٹ کا لاک لگا دیا نا نکلو یہاں سے"
معاویہ نے نیناں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ لب سکھڑ کر وہاں سے چلی گئی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment