Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi# 49
مہندی کی تقریب جاری تھی صنم اور ہادی کو ایک ساتھ بٹھا کر رسم کا آغاز کیا گیا سب بڑوں نے آکر رسم کی ناعیمہ نے معاویہ اور حیا کو رسم کرنے کے لئے کہا تو معاویہ چڑ کر بولا
"سب فضول کے خرافات ہیں مجھے کوئی رسم وسم نہیں کرنی ہے ویسے بھی ٹائم کافی ہوچکا ہے جلدی جلدی نمٹائے اب یہ سب"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا ناعیمہ اور حیا نے ایک دوسرے کو دیکھاا
"تمہاری ایک بہن ہے تم اس کی خوشی میں اس طرح شرکت کرو گے کیونکہ رشتہ تمہاری پسند کا نہیں ہے۔۔۔ معاویہ بہت افسوس کی بات ہے یہ،، آو حیا تم رسم کرلو"
ناعیمہ ملامت بھری نظر معاویہ پر ڈال کر حیا سے مخاطب ہوئی
"اوکے یار جا رہا ہو اس کے بعد سب جلدی واینڈ اپ کریں بس"
معاویہ ناعیمہ کو کہتا ہوا حیا کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر گیا اور اپنے تاثرات کنٹرول میں کرتا ہوا ہادی کے برابر میں بیٹھا۔۔۔۔ ہادی جو صنم سے بات کرتا ہوا مسکرا رہا تھا معاویہ کے اپنے برابر میں بیٹھنے سے اس کی مسکراہٹ تھم گئی اور چہرے پر سنجیدگی کے تاثرات آگئے
"معاویہ منہ میٹھا کراؤ بہنوئی کا" پاس کھڑی خاتون نے کہا مروتا معاویہ نے مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر ہادی کی طرف بڑھایا
"رہنے دو میرا موڈ نہیں ہے تمہارے ہاتھ سے میٹھا کھانے کا" ہادی نے معاویہ کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا جس پر معاویہ ضبط کرتا ہوا رہ گیا۔۔۔ حیا اور صنم نے بھی چونک کر ہادی کو دیکھا
"کیوں ہادی کیا شوگر کے مریض بن گئے ہو تم جو خوشی کے موقع پر بھی میٹھا ایوائیڈ کر رہے ہو"
حیا نے معصومیت سے ہادی کو دیکھ کر پوچھا
"لوگوں لوگوں کی بات ہوتی ہے اگر تم میری خوشی میں میرا منہ میٹھا کراؤں گی تو میں خوشی خوشی تمہارے ہاتھ سے کھالو گا"
ہادی مسکراتا ہوا ہے حیا کو دیکھ کر بولا
"میں ضرور کھلاو گی لیکن پہلے تمہیں میرے شوہر کے ہاتھ سے کھانا پڑے گا" حیا نے مسکرا کر کہا
"ضد نہیں کرو حیا وہ اب نہیں کھائے گا، میں اسے بہت پہلے ایک دفعہ کھلا چکا ہوں"
معاویہ طنزیہ ہستے ہوئے اسٹیج سے اتر گیا۔۔۔ معاویہ کی بات پر ہادی کا چہرہ ضبط سے لال ہوگیا۔۔۔ صرف وہی اس کی بات کو سمجھا تھا کہ وہ کیا کھلانے کی بات کر کے گیا ہے
معاویہ کے اسٹیج سے اترنے کے بعد صنم اور حیا ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ صنم نے ایک افسوس بھری نظر ہادی پر ڈالی اسے ہادی کا رویہ اپنے بھائی کے ساتھ اچھا نہیں لگا۔۔۔ ہادی نے صنم کی آنکھوں کو دیکھا تو اس میں اپنے لیے شکوہ صاف نظر آیا۔۔۔ ہادی سر جھٹک کر سامنے دیکھنے لگا
**
تقریب کا اختتام ہوا تو وہ لوگ ابھی ابھی اپنے گھر پہنچے تھے حیا ڈریسر کے پاس کھڑی ہوئی اپنی جیولری اتار رہی تھی معاویہ بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آیا
حیا کے قریب آکر حیا کی شولڈر پر کس کیا اور اس کے گرد اپنے ہاتھ حائل کر کے آئینے میں سے اس کو مسکرا کر دیکھنے لگا
"تم آج پھر شروع ہوگئے"
حیا نے ایک نظر آئینے میں دیکھ کر معاویہ کو کہا
"ہہمم تم شروع کہا ہونے دیتی ہو، شروع ہونے سے پہلے ہی فل اسٹاپ لگا دیتی ہوں۔۔۔ مگر آج میں تمہارے کہنے سے نہیں رکنے والا اور نہ تمہاری چلنے والی ہے"
معاویہ اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے بولا
"اسٹاپ اٹ معاویہ چھوڑو مجھے یہ کیا طریقہ ہے"
حیا نے اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اپنا آپ چھڑا کر معاویہ سے کہا
"بند کرو یہ ڈرامہ کیوں بےوقوف بنا رہی ہو مجھے اور اپنے آپ کو۔۔۔ جب مینٹلی طور پر تم ہمارا رشتہ ایکسپٹ کر چکی ہوں۔۔۔ تو پھر اس گریز کا کیا مطلب ہے"
معاویہ نے اسے دونوں بازوں سے تھام کر غصہ میں کہا
"کس خوش فہمی میں ہو تم، اس رشتے کو منٹلی طور پر ایکسپٹ کرنا میری مجبوری ہے جس طرح یہ شادی میرے لئے مجبوری کا نام ہے۔،۔۔۔ تمہارا ساتھ میرے لئے مجبوری ہے میں عمر کے اس حصے میں اپنے ماں باپ کو ہڑٹ نہیں کرنا چاہتی ہوں اور اسی وجہ سے مجبوری کے طور پر تمہارے ساتھ میں نے یہ رشتہ قائم کیا ہوا ہے ورنہ جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے اس کے لیے فل الحال میں تمہیں معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی"
حیا نے اس کی خوش فہمی دور کرتے ہوئے کہا
"کس مجبوری میں کل میرا سر دبا رہی تھی تم۔۔۔ سب کے سامنے اپنا شوہر مجھے مجبوری میں کہتی ہوں،،اج ہادی کے سامنے میری سائیڈ کس مجبوری میں لی تم نے۔۔ میری بہن کی شادی میں آگے بڑھ چڑھ کر ہر کام میں حصہ لینا ایسی کون سی مجبوری ہے تمہاری بولو"
وہ حیا کے بال اپنی مٹھی میں دبوچے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا
"تمہارے پیرنٹس میرے ساتھ اچھے ہیں میرا خیال رکھتے ہیں اس لئے میں ان کے ساتھ اچھی ہو۔۔۔ ہادی کے سامنے ہی نہیں پوری دنیا کے سامنے دنیاداری کے لئے دکھاوا کرنا پڑتا ہے۔۔ اگر میرے سر دبانے کو تم پیار سمجھ رہے ہوں تو اس سے پیار کا نام دینے کی بجائے ہمدردی کا نام دو تو زیادہ اچھا ہوگا"
حیا نے اس کی مٹھی سے اپنے بال آزاد کرائے تو گجرے کی لڑیاں ٹوٹ کر نیچے گری
"میرے پیرنٹس اچھے ہیں تو تم ان کے ساتھ اچھی ہو۔۔۔۔ تو میرا پیار کیا ہے وہ کیوں نہیں نظر آتا تمہیں۔۔۔ میرے ساتھ نا انصافی کیوں،، کلیئر کرو آج اس بات کو"
معاویہ نے حیا کا منہ پکڑتے ہوئے کہا اس کے ہاتھوں کی سختی سے حیا کے جبڑے بری طرح دکھ گئے
"یہ۔۔۔ یہی چیز،،، معاویہ یہ جو تمہارا دھونس جمانے والا انداز ہے نہ زبردستی اپنی ملکیت سمجھنے کا، یہ پسند نہیں ہے مجھے۔ ۔۔اسی طرح تو زبردستی چلا کر تو شادی کی تھی تم نے مجھ سے۔ ۔۔مجھے مجبور کر کے،، ڈرا کر،، میری زبان بند کرکے"
حیا نے چیختے ہوئے کہا
"کیا ہو رہا ہے یہ سب"
خضر کی آواز پر ان دونوں نے مڑ کر بیڈ روم کے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔ خضر بیڈ روم کے دروازے پر کھڑا ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ معاویہ نے فورا حیا کے چہرے پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔۔
"یہ کونسا اسٹائل ہے تمہارا، اپنی بیوی سے بات کرنے کا"
خضر نے بیڈ روم کے اندر آتے ہوئے غصے سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر معاویہ نے چپ رہنے میں اپنی فوقیت جانی
"حیا ابھی کیا بول رہی تھی تم"
خضر جو کہ اپنے بیڈروم سے کسی کام کا کہنے معاویہ کے پاس آیا تھا ان کے روم کا ہلکا سا دروازہ کھلا دیکھ کر جیسے ہی ناک کے لیے آگے ہاتھ بڑھایا تو حیا کی آواز نے اس کا ہاتھ روک لیا
"کچھ نہیں ڈیڈ وہ ایسے ہی کسی بات کا برا مانی ہوئی تھی مجھ سے" معاویہ نے فورا بات بناتے ہوئے کہا
"تم چپ رہو، تم سے نہیں پوچھا ہے میں نے، جب تم سے بات کروں گا تب تم جواب دینا"
خضر نے معاویہ کی طرف گھورتے ہوئے دیکھ کر کہا
"بولو حیا ابھی کیا بول رہی تھی تم"
خضر نے سنجیدگی سے حیا سے پوچھا تو حیا نے ایک نظر معاویہ کا چہرہ دیکھا جو اسی کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا،، اس کی آنکھوں میں صاف وارننگ تھی کہ وہ اصل بات بتانے سے باز رہے
"اس کی طرف نہیں یہاں میری طرف دیکھ کر بولو۔ ۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا بولا ہے تم نے"
خضر کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ سختی بھی تھی جیسے وہ حیا سے حقیقت جاننا چاہ رہا ہوں
"انکل میں معاویہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے مجھے بلیک میل کرکے مجھ سے زبردستی شادی کی"
حیا نے نیچے نظریں کر کے خضر کو بتایا جیسے جرم اس نے کیا ہو معاویہ اس کو دیکھ کر لب بینچ کر رہ گیا
"کیسے بلیک میل کیا"
خضر نے دوسرا سوال بھی سنجیدگی سے کیا
"ڈیڈ یہ ٹاپک ختم ہوچکا ہے اب"
معاویہ نے بیچ میں مداخلت کی
"میں نے ابھی تم سے کہا تھا نا جب میں تم سے پوچھو تب تم بات کرنا"
خضر نے چیختے ہوئے معاویہ سے کہا
"کس طرح بلیک میل کیا تھا اس نے تمہیں"
خضر نے دوبارہ حیا سے پوچھا
"انکل اس نے میرے ساتھ اپنی تصویریں"
"حیا"
ابھی حیا کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی معاویہ زور سے حیا کو دیکھتے ہوئے غصہ سے چیخا
"خاموش"
خضر اس سے زیادہ زور سے معاویہ کو دیکھ کر چیخا
دونوں کی زوردار آوازیں سن کر ناعیمہ اور صنم بھی وہی بیڈروم میں آگئیں
"کیا ہوا ہے خضر"
ناعیمہ نے آگے بڑھ کر پوچھا ایک نظر معاویہ اور حیا کو دیکھا دونوں کے چہرے نیچے جھکے ہوئے تھے اور خضر کا چہرے پر سختی کے تاثرات تھے
"جاؤ تم دونوں اپنے بیڈ روم میں اور یہ دروازہ بند کرکے جاؤ"
خضر نے ناعیمہ اور صنم کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دونوں اپنے اپنے روم میں چلی گئیں تو خضر معاویہ کی طرف مڑا
"حیا سچ بول رہی ہے معاویہ"
خضر نے معاویہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو معاویہ خضر کی بات سن کر چپ ہی رہا
"جواب دو معاویہ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں"
خضر نے دوبارہ معاویہ سے پوچھا
"ڈیڈ میرا کوئی غلط مقصد نہیں تھا وہ تصویریں میں نے صرف اس کو ڈرانے کے لئے"
"چٹاخ"
ابھی معاویہ کی بات مکمل بھی نہیں ہوتی زور دار تھپڑ نے معاویہ کا منہ بند کر دیا
"شرم نہیں آئی تمہیں ایسا گھٹیا فعل کرتے ہوئے۔۔۔ آج تم نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا،،، شرم آرہی ہے مجھے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے دور ہو جاؤ میری نظروں سے"
خضر نے معاویہ کا گریبان پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا اور خود بھی کمرے سے چلا گیا۔۔۔ معاویہ کا چہرہ تھپڑ سے زیادہ شرمندگی اور خجالت سے لال ہوا اس کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔ ۔۔۔ حیا اپنے دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھے ہوئے پوری آنکھیں کھولے ہوئے بےیقینی سے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔ معاویہ نے ایک نظر حیا پر ڈالی جو اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔اس کی نظر میں غصے کے ساتھ ساتھ شکوہ بھی تھا وہ اپنی گاڑی کی چابی روم سے اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا
**
"حامد جس کام کا تم سے کہا تھا وہ ہوگیا"
اویس شیرازی نے حامد سے دریافت کیا
"جی سر اے۔ایس۔ پی کے ڈرائیور نے کام کو منع کردیا تھا۔۔۔ اب اس ڈرائیور کی جگہ میں نے اختر کو بھیج دیا ہے۔۔۔۔ اے۔ایس۔پی کی بہن اور بیوی دونوں لڑکیاں کل شام تک آپ کے فارم ہاوس پر ہوگیں"
حامد نے مودب انداز میں ہاتھ باندھ کر جواب دیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi# 49
مہندی کی تقریب جاری تھی صنم اور ہادی کو ایک ساتھ بٹھا کر رسم کا آغاز کیا گیا سب بڑوں نے آکر رسم کی ناعیمہ نے معاویہ اور حیا کو رسم کرنے کے لئے کہا تو معاویہ چڑ کر بولا
"سب فضول کے خرافات ہیں مجھے کوئی رسم وسم نہیں کرنی ہے ویسے بھی ٹائم کافی ہوچکا ہے جلدی جلدی نمٹائے اب یہ سب"
معاویہ نے سنجیدگی سے کہا ناعیمہ اور حیا نے ایک دوسرے کو دیکھاا
"تمہاری ایک بہن ہے تم اس کی خوشی میں اس طرح شرکت کرو گے کیونکہ رشتہ تمہاری پسند کا نہیں ہے۔۔۔ معاویہ بہت افسوس کی بات ہے یہ،، آو حیا تم رسم کرلو"
ناعیمہ ملامت بھری نظر معاویہ پر ڈال کر حیا سے مخاطب ہوئی
"اوکے یار جا رہا ہو اس کے بعد سب جلدی واینڈ اپ کریں بس"
معاویہ ناعیمہ کو کہتا ہوا حیا کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر گیا اور اپنے تاثرات کنٹرول میں کرتا ہوا ہادی کے برابر میں بیٹھا۔۔۔۔ ہادی جو صنم سے بات کرتا ہوا مسکرا رہا تھا معاویہ کے اپنے برابر میں بیٹھنے سے اس کی مسکراہٹ تھم گئی اور چہرے پر سنجیدگی کے تاثرات آگئے
"معاویہ منہ میٹھا کراؤ بہنوئی کا" پاس کھڑی خاتون نے کہا مروتا معاویہ نے مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر ہادی کی طرف بڑھایا
"رہنے دو میرا موڈ نہیں ہے تمہارے ہاتھ سے میٹھا کھانے کا" ہادی نے معاویہ کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا جس پر معاویہ ضبط کرتا ہوا رہ گیا۔۔۔ حیا اور صنم نے بھی چونک کر ہادی کو دیکھا
"کیوں ہادی کیا شوگر کے مریض بن گئے ہو تم جو خوشی کے موقع پر بھی میٹھا ایوائیڈ کر رہے ہو"
حیا نے معصومیت سے ہادی کو دیکھ کر پوچھا
"لوگوں لوگوں کی بات ہوتی ہے اگر تم میری خوشی میں میرا منہ میٹھا کراؤں گی تو میں خوشی خوشی تمہارے ہاتھ سے کھالو گا"
ہادی مسکراتا ہوا ہے حیا کو دیکھ کر بولا
"میں ضرور کھلاو گی لیکن پہلے تمہیں میرے شوہر کے ہاتھ سے کھانا پڑے گا" حیا نے مسکرا کر کہا
"ضد نہیں کرو حیا وہ اب نہیں کھائے گا، میں اسے بہت پہلے ایک دفعہ کھلا چکا ہوں"
معاویہ طنزیہ ہستے ہوئے اسٹیج سے اتر گیا۔۔۔ معاویہ کی بات پر ہادی کا چہرہ ضبط سے لال ہوگیا۔۔۔ صرف وہی اس کی بات کو سمجھا تھا کہ وہ کیا کھلانے کی بات کر کے گیا ہے
معاویہ کے اسٹیج سے اترنے کے بعد صنم اور حیا ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ صنم نے ایک افسوس بھری نظر ہادی پر ڈالی اسے ہادی کا رویہ اپنے بھائی کے ساتھ اچھا نہیں لگا۔۔۔ ہادی نے صنم کی آنکھوں کو دیکھا تو اس میں اپنے لیے شکوہ صاف نظر آیا۔۔۔ ہادی سر جھٹک کر سامنے دیکھنے لگا
**
تقریب کا اختتام ہوا تو وہ لوگ ابھی ابھی اپنے گھر پہنچے تھے حیا ڈریسر کے پاس کھڑی ہوئی اپنی جیولری اتار رہی تھی معاویہ بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آیا
حیا کے قریب آکر حیا کی شولڈر پر کس کیا اور اس کے گرد اپنے ہاتھ حائل کر کے آئینے میں سے اس کو مسکرا کر دیکھنے لگا
"تم آج پھر شروع ہوگئے"
حیا نے ایک نظر آئینے میں دیکھ کر معاویہ کو کہا
"ہہمم تم شروع کہا ہونے دیتی ہو، شروع ہونے سے پہلے ہی فل اسٹاپ لگا دیتی ہوں۔۔۔ مگر آج میں تمہارے کہنے سے نہیں رکنے والا اور نہ تمہاری چلنے والی ہے"
معاویہ اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے بولا
"اسٹاپ اٹ معاویہ چھوڑو مجھے یہ کیا طریقہ ہے"
حیا نے اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اپنا آپ چھڑا کر معاویہ سے کہا
"بند کرو یہ ڈرامہ کیوں بےوقوف بنا رہی ہو مجھے اور اپنے آپ کو۔۔۔ جب مینٹلی طور پر تم ہمارا رشتہ ایکسپٹ کر چکی ہوں۔۔۔ تو پھر اس گریز کا کیا مطلب ہے"
معاویہ نے اسے دونوں بازوں سے تھام کر غصہ میں کہا
"کس خوش فہمی میں ہو تم، اس رشتے کو منٹلی طور پر ایکسپٹ کرنا میری مجبوری ہے جس طرح یہ شادی میرے لئے مجبوری کا نام ہے۔،۔۔۔ تمہارا ساتھ میرے لئے مجبوری ہے میں عمر کے اس حصے میں اپنے ماں باپ کو ہڑٹ نہیں کرنا چاہتی ہوں اور اسی وجہ سے مجبوری کے طور پر تمہارے ساتھ میں نے یہ رشتہ قائم کیا ہوا ہے ورنہ جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے اس کے لیے فل الحال میں تمہیں معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی"
حیا نے اس کی خوش فہمی دور کرتے ہوئے کہا
"کس مجبوری میں کل میرا سر دبا رہی تھی تم۔۔۔ سب کے سامنے اپنا شوہر مجھے مجبوری میں کہتی ہوں،،اج ہادی کے سامنے میری سائیڈ کس مجبوری میں لی تم نے۔۔ میری بہن کی شادی میں آگے بڑھ چڑھ کر ہر کام میں حصہ لینا ایسی کون سی مجبوری ہے تمہاری بولو"
وہ حیا کے بال اپنی مٹھی میں دبوچے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا
"تمہارے پیرنٹس میرے ساتھ اچھے ہیں میرا خیال رکھتے ہیں اس لئے میں ان کے ساتھ اچھی ہو۔۔۔ ہادی کے سامنے ہی نہیں پوری دنیا کے سامنے دنیاداری کے لئے دکھاوا کرنا پڑتا ہے۔۔ اگر میرے سر دبانے کو تم پیار سمجھ رہے ہوں تو اس سے پیار کا نام دینے کی بجائے ہمدردی کا نام دو تو زیادہ اچھا ہوگا"
حیا نے اس کی مٹھی سے اپنے بال آزاد کرائے تو گجرے کی لڑیاں ٹوٹ کر نیچے گری
"میرے پیرنٹس اچھے ہیں تو تم ان کے ساتھ اچھی ہو۔۔۔۔ تو میرا پیار کیا ہے وہ کیوں نہیں نظر آتا تمہیں۔۔۔ میرے ساتھ نا انصافی کیوں،، کلیئر کرو آج اس بات کو"
معاویہ نے حیا کا منہ پکڑتے ہوئے کہا اس کے ہاتھوں کی سختی سے حیا کے جبڑے بری طرح دکھ گئے
"یہ۔۔۔ یہی چیز،،، معاویہ یہ جو تمہارا دھونس جمانے والا انداز ہے نہ زبردستی اپنی ملکیت سمجھنے کا، یہ پسند نہیں ہے مجھے۔ ۔۔اسی طرح تو زبردستی چلا کر تو شادی کی تھی تم نے مجھ سے۔ ۔۔مجھے مجبور کر کے،، ڈرا کر،، میری زبان بند کرکے"
حیا نے چیختے ہوئے کہا
"کیا ہو رہا ہے یہ سب"
خضر کی آواز پر ان دونوں نے مڑ کر بیڈ روم کے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔ خضر بیڈ روم کے دروازے پر کھڑا ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ معاویہ نے فورا حیا کے چہرے پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔۔
"یہ کونسا اسٹائل ہے تمہارا، اپنی بیوی سے بات کرنے کا"
خضر نے بیڈ روم کے اندر آتے ہوئے غصے سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر معاویہ نے چپ رہنے میں اپنی فوقیت جانی
"حیا ابھی کیا بول رہی تھی تم"
خضر جو کہ اپنے بیڈروم سے کسی کام کا کہنے معاویہ کے پاس آیا تھا ان کے روم کا ہلکا سا دروازہ کھلا دیکھ کر جیسے ہی ناک کے لیے آگے ہاتھ بڑھایا تو حیا کی آواز نے اس کا ہاتھ روک لیا
"کچھ نہیں ڈیڈ وہ ایسے ہی کسی بات کا برا مانی ہوئی تھی مجھ سے" معاویہ نے فورا بات بناتے ہوئے کہا
"تم چپ رہو، تم سے نہیں پوچھا ہے میں نے، جب تم سے بات کروں گا تب تم جواب دینا"
خضر نے معاویہ کی طرف گھورتے ہوئے دیکھ کر کہا
"بولو حیا ابھی کیا بول رہی تھی تم"
خضر نے سنجیدگی سے حیا سے پوچھا تو حیا نے ایک نظر معاویہ کا چہرہ دیکھا جو اسی کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا،، اس کی آنکھوں میں صاف وارننگ تھی کہ وہ اصل بات بتانے سے باز رہے
"اس کی طرف نہیں یہاں میری طرف دیکھ کر بولو۔ ۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا بولا ہے تم نے"
خضر کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ سختی بھی تھی جیسے وہ حیا سے حقیقت جاننا چاہ رہا ہوں
"انکل میں معاویہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے مجھے بلیک میل کرکے مجھ سے زبردستی شادی کی"
حیا نے نیچے نظریں کر کے خضر کو بتایا جیسے جرم اس نے کیا ہو معاویہ اس کو دیکھ کر لب بینچ کر رہ گیا
"کیسے بلیک میل کیا"
خضر نے دوسرا سوال بھی سنجیدگی سے کیا
"ڈیڈ یہ ٹاپک ختم ہوچکا ہے اب"
معاویہ نے بیچ میں مداخلت کی
"میں نے ابھی تم سے کہا تھا نا جب میں تم سے پوچھو تب تم بات کرنا"
خضر نے چیختے ہوئے معاویہ سے کہا
"کس طرح بلیک میل کیا تھا اس نے تمہیں"
خضر نے دوبارہ حیا سے پوچھا
"انکل اس نے میرے ساتھ اپنی تصویریں"
"حیا"
ابھی حیا کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی معاویہ زور سے حیا کو دیکھتے ہوئے غصہ سے چیخا
"خاموش"
خضر اس سے زیادہ زور سے معاویہ کو دیکھ کر چیخا
دونوں کی زوردار آوازیں سن کر ناعیمہ اور صنم بھی وہی بیڈروم میں آگئیں
"کیا ہوا ہے خضر"
ناعیمہ نے آگے بڑھ کر پوچھا ایک نظر معاویہ اور حیا کو دیکھا دونوں کے چہرے نیچے جھکے ہوئے تھے اور خضر کا چہرے پر سختی کے تاثرات تھے
"جاؤ تم دونوں اپنے بیڈ روم میں اور یہ دروازہ بند کرکے جاؤ"
خضر نے ناعیمہ اور صنم کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دونوں اپنے اپنے روم میں چلی گئیں تو خضر معاویہ کی طرف مڑا
"حیا سچ بول رہی ہے معاویہ"
خضر نے معاویہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو معاویہ خضر کی بات سن کر چپ ہی رہا
"جواب دو معاویہ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں"
خضر نے دوبارہ معاویہ سے پوچھا
"ڈیڈ میرا کوئی غلط مقصد نہیں تھا وہ تصویریں میں نے صرف اس کو ڈرانے کے لئے"
"چٹاخ"
ابھی معاویہ کی بات مکمل بھی نہیں ہوتی زور دار تھپڑ نے معاویہ کا منہ بند کر دیا
"شرم نہیں آئی تمہیں ایسا گھٹیا فعل کرتے ہوئے۔۔۔ آج تم نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا،،، شرم آرہی ہے مجھے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے دور ہو جاؤ میری نظروں سے"
خضر نے معاویہ کا گریبان پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا اور خود بھی کمرے سے چلا گیا۔۔۔ معاویہ کا چہرہ تھپڑ سے زیادہ شرمندگی اور خجالت سے لال ہوا اس کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔ ۔۔۔ حیا اپنے دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھے ہوئے پوری آنکھیں کھولے ہوئے بےیقینی سے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔ معاویہ نے ایک نظر حیا پر ڈالی جو اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔اس کی نظر میں غصے کے ساتھ ساتھ شکوہ بھی تھا وہ اپنی گاڑی کی چابی روم سے اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا
**
"حامد جس کام کا تم سے کہا تھا وہ ہوگیا"
اویس شیرازی نے حامد سے دریافت کیا
"جی سر اے۔ایس۔ پی کے ڈرائیور نے کام کو منع کردیا تھا۔۔۔ اب اس ڈرائیور کی جگہ میں نے اختر کو بھیج دیا ہے۔۔۔۔ اے۔ایس۔پی کی بہن اور بیوی دونوں لڑکیاں کل شام تک آپ کے فارم ہاوس پر ہوگیں"
حامد نے مودب انداز میں ہاتھ باندھ کر جواب دیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment