Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 48

Itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 48


دن یوں ہی آگے گزرے تو وہ دن بھی آگیا جب اگلے دن صنم کی مہندی تھی اسی وجہ سے حیا کا زین اور حور کی طرف رکنا بھی نہیں ہوا بس دو دفعہ وہ تھوڑی دیر کے لیے ملنے گئی تھی کیوکہ گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں جس میں حیا نے ناعیمہ کے ساتھ بھرپور ساتھ دیا۔۔۔۔ معاویہ ان دنوں گھر میں کم ہی نظر آرہا تھا اویس شیرازی کے متعلق جو شواہد اور ثبوت اس نے جمع کرائے تھے۔۔۔ اوپر سے آرڈر نہیں تھا کہ اویس شیرازی کے خلاف کوئی بھی ایکشن لیا جائے۔۔۔ اس لئے پولیس اسٹیشن سے فارغ ہونے کے بعد وہ خضر کے آفس کا بھی چکر لگا لیتا اس وجہ سے اس کا گھر میں تقریبا ان دنوں رات کو ہی آنا ہوتا۔۔۔ابھی بھی ہو رات کے وقت ہی گھر پہنچا تھا تو حیا موبائل پر محو گفتگو تھی

"اوکے مما پھر کل ملتے ہیں"
حیا نے بات کر اپنا موبائل ایک طرف رکھا معاویہ نے شرٹ اتار کر سائڈ پر رکھی اور بیڈ پر انکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔ ۔۔اپنی اپنی جگہ مصروفیت کے باعث ان دونوں کے درمیان بھی گفتگو نہ ہونے کے برابر تھی

"بہن کی شادی میں شرکت کرنی ہے یا اس دن بھی اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دینے کا ارادہ ہے"
حیا نے اسکو آنکھیں بند کر کے لوٹا دیکھا تو تڑخ کر کہا

"تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے میرے شرکت کرنے یا نہ کرنے سے"
معاویہ نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی حیا کو ایک نظر آنکھیں کھول کر دیکھتا ہوا بولا

"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آنٹی انکل کو، تمھاری بہن کو تو پڑتا ہے"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"انٹی انکل کی فکر ہے ان کے بیٹے کی رتی برابر پروا نہیں"
ویسے ہی آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ اپنے آپ سے جیسے مخاطب ہوا ہو ساتھ ہی آہستہ آہستہ اپنی کنپٹی دبانے لگا۔۔۔۔ حیا اس کو دیکھتی رہی مگر وہ کچھ بھی نہیں بولا 

"کیا ہوا ہے تمہیں"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کر کے اس سے پوچھا

"سر میں درد ہو رہا ہے دبا دو"
معاویہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس سے انوکھی سی فرمائش کی۔۔۔ جواب اس کو پتہ تھا کہ ٹکہ سا ہی ملنا ہے۔۔۔ مگر جب اپنی پیشانی پر مرمریں ہاتھوں کا لمس محسوس تو اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں حیا تھوڑا قریب آکر اس کا سر دبانے لگی۔۔۔ معاویہ اس کو اسی طرح چپ کرکے دیکھے گیا حیا نے اپنے اوپر معاویہ کی نظریں محسوس کی تو،، اپنی پیشانی پر بل ڈال کر اپنا دوسرا ہاتھ اس کی دونوں آنکھوں پر رکھا جس سے معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد معاویہ نے اپنا سر حیا کی گود میں رکھ لیا وہی حیا کے ہاتھ تھم گئے اور اس نے ہاتھ معاویہ کی پیشانی سے ہٹائے

"رک کیوں گئی سر دباو پلیز سکون مل رہا ہے"
معاویہ نے آنکھیں ابھی بھی بند کی ہوئی تھی حیا اک ہاتھ تھام کر دوبارہ اپنی پیشانی پر رکھ دیا اس کے لہجے میں ایک درخواست تھی وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکی اور دوبارہ سر دبانے لگی ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی معاویہ نے حیا کا دوسرا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں پر رکھ لیا

"معاویہ پلیز ایسے نہیں کرو"
حیا نے ہاتھ چھڑا کر اٹھنا چاہا

"حیا پلیز اٹھو نہیں میں ایسے ہی ریلیکس ہونا چاہتا ہوں تھوڑی دیر"
اب معاویہ کے لہجے میں التجا تھی اور آواز میں تھکن۔۔۔ حیا چپ کر کے بیٹھی رہی۔۔۔ معاویہ اوندھے منہ اس کی گود میں سر رکھ کر پتہ نہیں کب کا سو گیا حیا کو پتہ بھی نہیں چلا۔۔۔۔ حیا نے آرام سے معاویہ کا سر اپنی گود سے اٹھا کر تکیہ پر رکھا۔۔۔ ویسے ہی سوتے میں معاویہ کی پیشانی پر بل پڑے اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا پھر دوبارہ آنکھیں بند کر کے سوگیا۔۔۔ حیا نے اٹھ کر روم کی لائٹ بند کی اور خود بھی اپنے تکیہ سیدھا کر کے لیٹ گئی مدھم سی نائیٹ بلب کی روشنی میں وہ معاویہ کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ جاگنے میں وہ جتنا سنجیدہ اور مغرور لگتا تھا اس وقت سوتے میں وہ حیا کو اتنا ہی معصوم لگا،،، حیا نے اس کے ماتھے کی نس کو چھوا جو کہ غصہ  میں ابھر کر اس کی پیشانی پر نمایاں ہوتی تھی پھر جلدی سے اپنی انگلی پیچھے کر لی

"‏اف کیوں سوچ رہی ہوں میں اس دو ٹکے کے پولیس والے کے بارے میں"
حیا نے سوتے ہوئے معاویہ کو ایک سخت قسم کی گوری سے نوازا ہو اور آنکھیں بند کرکے خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی

***


"واہ ڈیڈی واہ آپ اپنے ہی جھمیلوں میں مصروف رہے اپنے اکلوتے بیٹے کی آپ کو فکر ہی نہیں ہے کوئی"
اویس شیرازی جو کہ حامد کو کسی خاص کام کی انسٹرکشن دے رہا تھا،، تب ساحر نے اس کے پاس آکر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا

"کیوں اب کیا پروبلم ہوگئی تمہارے ساتھ"
اویس شیرازی نے ہاتھ کے اشارے سے حامد کو جانے کا اشارہ کیا اور ساحر کو دیکھ کر پوچھا

"یہی تو پرابلم ہے آپ کو میری پرابلم کا ہی پتہ نہیں" ساحر نے سر جھٹکتے ہوئے کہا

"پہیلیاں مت بجھاو ساحر ٹو ڈی پوائنٹ بات کرو"
اویس شیرازی نے چڑتے ہوئے کہا

"مجھے صنم چاہیے تھی اور اب اس کے گھر والے اس کی شادی کی تیاریاں کر رہے ہیں"
ساحر نے جھنجھلاتے ہوئے اویس شیرازی کو بتایا

"کیوں اس دن اس کے بھائی نے جو بےعزتی کی تھی۔۔ اس سے تمہارا پیٹ نہیں بھرا جو تمہیں پھر اسی کی بہن چاہیے"
اویس شیرازی ساحر پر بھڑکتا ہوا بولا

"او ڈیڈی تو پھر یہ بولیں ناں کہ آپ اس دن اس اے۔ایس۔پی کی بےعزتی سے ڈر گئے ہیں"
ساحر طنزیہ ہستا ہوا بولا

"بکواس بن کرو اپنی میں تمہاری طرح کا بےغیرت نہیں ہو جو اتنی بےعزتی ہونے کے بعد  اس اے۔ایس۔پی کی بہن کو اپنے گھر کی عزت بناؤ۔۔۔ اس کی بہن تمہیں چاہئے مل جائے گی۔۔۔ مگر اسے استعمال کر کے پھینک دینا اپنے سر کا تاج بنانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ مگر ساتھ ہی اس اے۔ایس۔پی کا بھی پکا انتظام کرنا ضروری ہے"
اویس شیرازی نے سوچتے ہوئے کہا

"ارے تو مار ڈالو نہ سالے کو اتنا ٹائم ویسٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے"
ساحر نے جذباتی انداز میں کہا

"کول ڈاون ساحر ہر طرف دیکھ بھال کر قدم اٹھانا پڑے گا وہ پولیس والا ہے کوئی عام بندہ نہیں جس کو یوں ہی آرام سے مروا دیا جائے۔۔۔ کرتا ہوں آب کچھ نہ کچھ"
اویس شیرازی نے اپنے موبائل پر ایک نمبر ملاتے ہوئے سوچا

**

"تمہیں کوئی احساس ہے معاویہ گھر میں شادی ہے اور تم آج بھی گھر سے غائب۔۔۔ کیا ضرورت تھی آج پولیس سٹیشن جانے کی تمہارے ڈیڈ بھی بگڑ رہے تھے"
ناعیمہ نے معاویہ سے ناراض ہوتے ہوئے کہا جو کہ اسی وقت گھر پہنچا تھا

"مام آج بہت ضروری تھا جانا مگر آ تو گیا ہوں واپس ٹائم سے پہلے، کوئی کام رہتا ہے تو بتا دیں"
معاویہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا

"نہیں رہنے دو گجرے رہ گئے ہیں وہی پہنچنے سے پہلے لے لیں گے۔۔۔اٹھو فورا چینج کرکے آو ٹائم نہیں لگانا زیادہ"
ناعیمہ مصروف انداز میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا

معاویہ صوفے سے اٹھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں پہنچا روم کا دروازہ کھولا تو سامنے صوفے پر پیلے جوڑے میں صنم کو بیٹھے دیکھا۔۔۔۔ صنم نے بھی نظریں اٹھا کر معاویہ کو دیکھا معاویہ اسے اندر سر انداز کرتا ہوا وارڈروب کی طرف بڑھا،، اپنا ڈریس نکالا اور ڈریسنگ روم کی طرف قدم بڑھانے لگا

"بھائی"
صنم کی آواز پر اس کے قدم رکے مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،، اس دن کے بعد سے وہ صنم سے بات کرنا تو دور کی بات اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا

"بھائی مجھے اندازہ ہے میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔ مگر اس طرح نظر انداز مت کریں اپنی گڑیا کو،، دیکھے ناں اب میں جارہی ہوں اس گھر سے آپ کی نظروں سے دور،،، کیا آپ آج بھی مجھے نہیں دیکھیں گے مجھ سے بات نہیں کریں گے۔۔۔۔ آپ کا یہ رویہ مجھے بہت تکلیف دے رہا ہے پلیز اپنی گڑیا کو معاف کردیں"
صنم معاویہ کے بازو پر اپنا ماتھا ٹکا کر رونے لگی معاویہ نے مڑ کر صنم کو دیکھا

"پاگل اس طرح روتا ہے کوئی چپ ہو جاؤ شاباش"
معاویہ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا

"پہلے آپ بولیں کہ مجھ سے ناراض نہیں اور مجھے معاف کر دیا"
صنم نے معاویہ کی سینے پر سر رکھ کر کہا

"بہت پیار ہے مجھے اپنی گڑیا سے نہ میں اس کی آنکھ میں آنسو دیکھ سکتا ہوں اور نہ ناراض رہ سکتا ہوں اب مت رونا ورنہ پٹو گی"
معاویہ کے کہنے پر صنم روتے ہوئے مسکرا دی

"یہ دیکھو صنم آنٹی نے گجرے منگوا دیے"
حیا جو ہاتھ میں کجرے پکڑے ہوئے اپنی ہی دھن میں روم میں آئی صنم کو معاویہ کے گلے لگے دیکھا تو اس کی زبان پر بریک لگا اور قدم بھی وہی رکے۔۔۔ صنم اور معاویہ دونوں نے ہی حیا کو دیکھا صنم معاویہ سے الگ ہو کر آنسو پونچھنے لگی

"آج کے دن بھی اس کو رلا دیا تم نے تم ہو ہی دو ٹک"
باقی کا جملہ معاویہ کے گھورنے پر اور صنم کی وجہ سے لحاظ کرکے حیا نے دل میں بولا

"اور تم کیا کررہی ہو رو کر اس طرح میک اپ خراب کرنا ہے۔۔۔ وہاں جانے میں ٹائم ہی کتنا رہ گیا ہے آنٹی کو ویسے ہی اتنی ٹینشن ہو رہی ہے صبح سے۔۔۔ تم نیچے جاو آنٹی کے پاس میں یہ بالوں میں سیٹ کرکے آتی ہوں"
وہ اپنے ہاتھوں میں گجروں کی طرف اشارہ کرتی ہوئی صنم سے بولی

"ارے مام کیوں ٹینشن لے رہی ہے ابھی تو بھائی ریڈی نہیں ہوئے"
صنم نے یونیفارم میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور معاویہ دلچسپ نظروں سے حیا کا مکمل جائزہ لینے میں مصروف تھا گرین اور رسٹ کلیر کے کومبینیشن کے لہنگے میں وہ سیدھا سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی

"اپنے بھائی کو چھوڑو تم، ایک یہی تو پورے ادارے میں بندہ رہ گیا جیسے اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دینے ہیں پتہ نہیں اپنی شادی میں کیوں آگئے تھے موصوف"
حیا نے ایک نظر معاویہ کو دیکھ کر سر جھٹک کر کہا۔ ۔۔ صنم اور معاویہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے

"مام سے کہو ٹینشن نہیں لیں میں پانچ منٹ میں آ رہا ہوں"
معاویہ اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور صنم روم سے باہر نکل گئی

حیا گجرے اپنے بالوں میں سیٹ کرنے کے لئے آئینے کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔۔ معاویہ روم سے باہر نکلا اور پر شوق نظروں سے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پنز سے اس کے بالوں میں گجرے لگانے لگا۔۔۔ حیا آئینے میں سے معاویہ کو دیکھنے لگی دراز قد بلیک کلر کے کرتے میں ہلکی سی لوز شیو وہ اچھی پرسنیلٹی کا مالک تھا

"کیا تھا اگر شکل کے ساتھ ساتھ حرکتیں بھی اچھی ہوتی اس دو ٹکے کے پولیس والے کی"  وہ اس کا جائزہ لیتے ہوئے سوچنے لگی

"کیا ہوا کچھ کہا تم نے"
حیا کے بالوں میں گجرے سیٹ کرکے،، اب وہ اپنے بال برش سے بنانے لگا

"نہیں میں کیا کہوں گی تم سے"
حیا روم سے جانے لگی

"شکریہ تو ادا کرتی جاو"
معاویہ کے جملے پر حیا کے قدم رکھے واپس مڑ کر اس کے پاس آئی

"کس بات کا شکریہ"
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر پوچھنے لگی

"ابھی تمہاری ہیلپ کی ہے"
معاویہ پرفیوم لگاتے ہوئے کہنے لگا

"ایسے تو تمہیں میرا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے کل رات کو تمہارا سر جو دبایا ہے پورے دو گھنٹے"
حیا بدلہ اتار کر واپس مڑ گئی


جاری ہے

Ajj se epi ka time subha 10 bje hai

0 comments:

Post a Comment