Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 47
"اووو سو سوری"
حیا نے اپنے دونوں ہاتھ گالوں پر رکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ساحر پر گرم چائے گرنے سے وہ بری طرح بلبلا اٹھا اور غصے میں حیا کو دیکھنے لگا
"ریلی سوری زیادہ جلا تو نہیں"
حیا نے معصومیت سے ساحر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ارے کوئی بات نہیں بیٹا آپ نے کون سا جان بوجھ کر کیا ہے"
اس کے دوبارہ سوری کرنے پر اویس شیرازی بولا اور خضر تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا
"ارے یہ تو آپ کے سارے کپڑے خراب ہوگئے، آئیے میں آپ کو واش روم دکھا دیتی ہوں"
حیا نے شرمندہ ہوتے ہوئے سب کو دیکھا پھر ساحر کو کہا
"نو تھینکس"
ساحر نے ضبط کرتے ہوئے کہا
"ارے نہیں ساحر جاؤ ورنہ حیا بیٹی مزید سوری کہے گی"
اویس شیرازی نے مسکرا کر کہا ساحر اٹھ کر حیا کے پیچھے چلا گیا
جب وہ دونوں سیٹنگ ایریا سے باہر آئے تو حیا نے مڑ کر رخ ساحر کی طرف کیا اور اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی اور اس کو سیریس انداز میں دیکھنے لگی۔۔۔ ساحر نے نظروں میں ہی حیا سے اس کے یوں بلانے کا مطلب جاننا چاہا
"اس دن کچھ تھا جو رہ گیا تھا"
حیا نے سنجیدگی سے ساحر کو دیکھتے ہوئے کہا
"کیا"
ساحر نے تجسس سے پوچھا
"یہ"
حیا نے زوردار تھپڑ ساحر کے منہ پر مارا
"ایڈیٹ"
حیا کہتے ہوئے واپس روم میں آگئی اور خضر کے برابر میں جا کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں ساحر لب بھینچ کر واپس روم میں آیا
"یہ گال کیوں سرخ ہو رہا ہے تمہارا"
اویس شیرازی نے ساحر کو دیکھ کر پوچھا
"نہیں ویسے ہی" ساحر سے کچھ بات نہیں بنی تو اس نے حیا کی طرف دیکھا جو اب بھی اسی کو دیکھ کر اسمائل دیتے ہوئے چائے پی رہی تھی
"چلیں جی خضر صاحب یہ تو ہوگیا تعارف اور اس کے بعد کاروبار وغیرہ کی باتیں۔۔۔ اب آتے ہیں اصل مدے پر، جس کے لیے میں یہاں پر آیا ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں آج آپ کے پاس اپنے بیٹے ساحر کے لئے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا ہوں"
اویس شیرازی نے اپنے آنے کا مقصد خضر کو بتایا آبھی خضر کچھ بول بھی نہیں پایا تھا کہ معاویہ روم میں آیا سامنے صوفے پر اویس شیرازی اور اس کے بیٹے کو دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے
"معاویہ ان سے ملو یہ ہیں اویس شیرازی اور یہ ان کے صاحبزادے" معاویہ کی آمد پر خضر نے تعارف کرایا معاویہ نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر حیا پر نظر ڈالی
"جاؤ یہاں سے" سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس نے حیا کو کہا وہ بنا کچھ کہے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی
"یہاں آنے کا مقصد" معاویہ نے ویسے ہی کھڑے ہوکر اویس شیرازی سے پوچھا
"میں یہاں پر اپنے بیٹے کا رشتہ لےکر آیا ہوں"
اویس شیرازی نے اس کی پیشانی پر سجے ہوئے بل دیکھ کر کہا
"اے چائے کا کپ نیچے رکھ"
اویس شیرازی کے بولنے پر، معاویہ ساحر کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ہوا زور سے چیخا۔ ۔۔۔ ساحر جو چائے پینے کے لئے منہ کی طرف کپ لےکر جا رہا تھا واپس میز پر رکھ دیا۔۔۔ اویس شیرازی نے گھور کر اس مغرور اے۔ایس۔پی کو دیکھا
"معاویہ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا"
خضر نے شرمندگی سے معاویہ کو دیکھ کر ٹوکا
"ڈیڈ ایک منٹ میں بات کر رہا ہوں" معاویہ نے گردن موڑ کر خضر کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"بہت بڑی بات اپنے منہ سے نکال دی ہے تم نے میری بہن کے لئے۔۔۔ میرے گھر کی چھت کے نیچے کھڑے ہو اسلئے زبان کا استعمال کر رہا ہوں ہاتھوں کا نہیں،،، فورا نکلو یہاں سے اور اپنے اس لنگور کو بھی ساتھ لے کر جاؤں"
معاویہ نے اویس شیرازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اپنے لئے لنگور کا لفظ سن ساحر بری طرح تلملا گیا۔۔۔ وہی شرمندگی اور خجالت سے اویس شیرازی کا چہرہ سرخ ہوگیا
"یہ تو تم نے سیدھی سیدھی دشمنی کا آغاز کردیا اے۔ایس۔پی معاویہ مراد"
اویس شیرازی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
"آپ غلط سمجھ رہے ہیں شیرازی صاحب اس کا وہ مطلب نہیں تھا"
خضر نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر بات کو سنبھالنا چاہا
"ڈیڈ وہ بالکل ٹھیک سمجھ رہا ہے۔۔۔ سنا نہیں تم نے، نکلو میرے گھر سے اسی وقت"
معاویہ نے دوبارہ سنجیدگی سے اویس شیرازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"جلدی دوبارہ ملاقات ہوگی"
اویس شیرازی نے باہر نکلتے ہوئے کہا اس کے پیچھے ساحر بھی نکل گیا
**
"یہ کیا حرکت ہے معاویہ اس انداز میں بات کرتے ہیں گھر آئے ہوئے مہمان سے"
خضر نے اویس شیرازی کے نکلتے ہی معاویہ کو ڈاپٹنے کے انداز میں کہا
"ڈیڈ وہ جس انداز میں زیادہ اچھے طریقے سے میری بات سمجھ سکتا تھا میں نے اسے اسی انداز میں بات کی ہے آپ ٹینشن نہ لیں"
معاویہ اپنے روم سے جانے لگا
"تم جانتے ہو نہ اس کے تعلقات اس کا اثرورسوخ، کیا کیا کر سکتا ہے وہ" خضر نے اس کو سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے کہا
"میں ہینڈل کر لونگا ڈیڈ آپ فکر نہیں کریں"
معاویہ نے سنجیدگی سے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا
"دھمکی دے کر گیا وہ ہمارے گھر میں ہمیں،،کل کو تمہیں کچھ ہوجاتا ہے ہمارا کیا ہوگا سوچا تم نے۔۔۔ سیدھا سیدھا تم نے اس آدمی سے دشمنی مول لی ہے اور تم کہتے ہو فکر نہ کریں"
خضر نے سر جھٹکتے ہوئے کہا اور روم سے جانے لگا
"ڈیڈ جو کچھ نہیں کرسکتے وہ ایسے ہی دھمکیاں دیتے ہیں اس لئے کہہ رہا ہوں آپ ٹینشن نہیں لیں، میں دیکھ لوں گا اور آپ ہادی کی فیملی کو بول کر منگنی کی جگہ شادی کی ڈیٹ رکھ دیں اسی مہینے" معاویہ یہ کہہ کر روکا نہیں اپنے روم میں چلا گیا
خضر حیران ہوکر اسے جاتا ہوا دیکھے گیا مگر پھر یہ سوچ کر کہ آج اویس شیرازی کا اپنے بیٹے کے لیے رشتہ لے کر آنا اس لحاظ سے اچھا ہی ہے کہ صنم کی شادی جلدی کر دی جائے
**
صنم کب سے کال کر رہی تھی مگر دوسری طرف مسلسل بیل جارہی تھی کافی دیر بعد ہادی نے کال ریسیو کی۔۔۔
"کیا ہادی کب سے کال کر رہی ہوں آپ کو آپ ریسیو ہی نہیں کر رہے"
ہادی کے کال ریسیو کرتے ہی صنم نے شکوہ کیا
"سوری مسسز دوست آیا ہوا تھا اس لیے بزی تھا ابھی فری ہوا ہوں" ہادی نے اسے فریش موڈ میں جواب دیا
"آج تو مجھے آپ سے لڑنا چاہیے اپ نے آج میری جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی" صنم نے ناراضگی سے کہا
"کیو یار ایسا کیا غصب کردیا میں نے مجھے بھی تو کچھ پتہ چلے"
ہادی نے صنم سے پوچھا
"یعنی آج دوپہر میں جو بھی کچھ آپ نے کیا وہ آپ کی نظر میں کچھ نہیں تھا۔۔ آپ نے بھائی کے سامنے نکاح والی بات بتائی کیوں کیا آپ نے ایسا"
صنم نے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"کیوں کیا گھر جاکر اس نے پھر کچھ کہا تمہیں"
ہادی نے سنجیدگی سے پوچھا
"وہ کیا کہیں گے اب تو وہ مجھ سے بات ہی نہیں کر رہے۔۔۔ کتنا گلٹ فیل ہو رہا تھا مجھے اس وقت۔۔۔ آپ کو بھائی کو اس طرح نہیں بتانا چاہیے تھا ہادی"
صنم نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"اچھا تو تمہیں مجھ سے نکاح کر کر گلٹ فیل ہو رہا ہے" ہادی نے بھی سنجیدگی سے اس سے پوچھا
"اب آپ الٹی بات کر رہے ہیں۔۔۔ بات نکاح کی نہیں ہے بات چھپ کر نکاح کی ہے اور اگر ایسا کر بھی لیا تھا تو میرے بھائی کو یہ بتانا ضروری تھا کیا"
صنم کو ابھی بھی معاویہ کا رویہ نہیں بھولا تھا وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔ جس پر رہ رہ کر صنم کو افسوس ہورہا تھا
"اسی کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے میں نے صنم اگر وہ بیچ میں روڑے نہ اٹکاتا تو اس طرح نکاح کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔۔ اب کم سے کم ہو تمہارے لئے کسی دوسرے کا تو نہیں سوچے گا نا۔۔۔ ویسے آج خوش تو بہت خوب ہوگا تمہارا بھائی" سنجیدگی سے بات کرتے کرتے آخری جملہ میں ہادی نے مذاق کا رنگ دیا
"بہت بری بات ہے ہادی۔۔۔ بھائی کتنے غصے میں ہے آج۔۔۔ مجھے ان کی وجہ سے زرا اچھا فیل نہیں ہو رہا اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے"
صنم نے دوبارہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"تمہیں کون کہہ رہا ہے اس کے بارے میں سوچ کر برا فیل کرو۔۔۔ تم اپنے اور میرے بارے میں سوچ کر اچھا فیل کرو۔۔۔ ایک گڈ نیوز تمہارے لیے یہ ہے مسسز کہ تھوڑی دیر پہلے تمہارے ڈیڈ کا فون آیا تھا بابا کے پاس۔۔۔ انھوں نے اب ہماری منگنی کی جگہ ڈائریکٹ شادی کا کہا ہے وہ بھی اسی منتھ کے آخری ویک میں اور اس بات کو میرے بابا نے ایگری بھی کرلیا ہے"
ہادی نے تھوڑی دیر پہلے فضا کی بتائی ہوئی خوشخبری کو صنم سے شیئر کیا
"کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں"
صنم نے بے یقینی سے پوچھا
100% میری جان اب جلدی سے میرے گھر آنے کی تیاری پکڑو"
ہادی نے شرارت سے کہا جس پر صنم شرما کر مسکرا دی
**
"کیا ضرورت تھی اس گھٹیا انسان کے سامنے آکر بیٹھنے کی"
معاویہ نے بیڈ روم میں آکر موبائل میں مصروف حیا سے پوچھا
"اسے اس کی اوقات بتانی تھی"
حیا نے اپنا موبائل موبائل ایک طرف رکھ کر معاویہ کو جواب دیا
"اور یقینا تم نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہوگا"
اتنے دنوں میں وہ اپنی شیرنی کی عادتوں سے اچھی طرح واقف ہوگیا تھا
"کیوں تم نے اتنا ہلکا لیا ہوا ہے مجھے"
حیا نے چیلنجنگ انداز اپناتے ہوئے معاویہ کے سامنے آکر کہا
"تمہیں ہلکا تو میں نے پہلے دن سے ہی نہیں لیا تھا ویسے میں اس کی اوقات اسے اسی دن بتادی تھی۔۔۔ ایسے گھٹیا لوگوں کے سامنے آئیندہ آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم میری عزت ہو اور مجھے اپنی عزت پر کوئی کمپرومائز نہیں" معاویہ نے حیا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
"وہ سب چھوڑو،،، یہ لوگ صنم کا رشتہ لے کر آئے تھے معاویہ"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کر کے اویس شیرازی کے آنے کا مقصد بتایا
"ہاں معلوم ہے مجھے ڈیڈ سے کہہ دیا ہے ہادی کے گھر والوں سے بات کر لیں۔۔۔۔ اب منگنی کی جگہ ڈائریکٹ شادی ہوگی صنم کی"
معاویہ ریلیکس انداز میں چیئر پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرتا ہوا بولا جیسے وہ آج بہت تھک گیا ہو۔۔۔۔ حیا چپ کر کے اس کو دیکھتی رہی معاویہ نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا
"تو ساحر کے رشتے کی وجہ سے تم نے ہادی کے لیے رضامندی دی"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں یہ وجہ نہیں ہے ساحر یا اس کے باپ کو تو میں کسی خاطر میں ہی نہیں لایا"
معاویہ نے دوبارہ کرسی پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
"تو پھر کیا وجہ تھی جو تم اس رشتے کے لیے راضی ہوئے"
حیا کو تجسس ہوا
"یہ میں کسی کو نہیں بتاوں گا حیا۔۔۔۔ کیا کافی مل سکتی ہے"
معاویہ نے ویسے ہی آنکھیں بند کر کے حیا سے کہا۔۔۔ حیا اد کو دیکھ کر روم سے چلی گئی
تھوڑی دیر میں وہ کافی لے کر آئی تو معاویہ چینج کرکے بیڈ پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا
"تمہاری کافی"
حیا سائیڈ ٹیبل پر کافی کا مگ رکھ کر پلٹنے لگی تبھی معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس جانے سے روکا
"اتنی عنایت کردی ہے تو یہی بیٹھو تھوڑی دیر میرے پاس"
آج وہ سنجیدہ اور تھکا تھکا لگا تو حیا اس کے کہنے پر کافی بنا کر لے آئی۔۔۔مگر اب اس کی آنکھوں کی طلب دیکھ کر وہ اس پر مزید کوئی عنایت نہیں کر سکتی تھی
"بس ہوگئے فری۔۔۔ بندے کو تو تم سے کوئی سیریز بات ہی نہیں کرنی چاہیے مرو تم"
حیا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
"جب تک تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت نہ دیکھ لو تب تک میرا مرنے کا ارادہ نہیں"
معاویہ نے کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ تو حیا اس کی بات سن کر سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 47
"اووو سو سوری"
حیا نے اپنے دونوں ہاتھ گالوں پر رکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ساحر پر گرم چائے گرنے سے وہ بری طرح بلبلا اٹھا اور غصے میں حیا کو دیکھنے لگا
"ریلی سوری زیادہ جلا تو نہیں"
حیا نے معصومیت سے ساحر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ارے کوئی بات نہیں بیٹا آپ نے کون سا جان بوجھ کر کیا ہے"
اس کے دوبارہ سوری کرنے پر اویس شیرازی بولا اور خضر تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا
"ارے یہ تو آپ کے سارے کپڑے خراب ہوگئے، آئیے میں آپ کو واش روم دکھا دیتی ہوں"
حیا نے شرمندہ ہوتے ہوئے سب کو دیکھا پھر ساحر کو کہا
"نو تھینکس"
ساحر نے ضبط کرتے ہوئے کہا
"ارے نہیں ساحر جاؤ ورنہ حیا بیٹی مزید سوری کہے گی"
اویس شیرازی نے مسکرا کر کہا ساحر اٹھ کر حیا کے پیچھے چلا گیا
جب وہ دونوں سیٹنگ ایریا سے باہر آئے تو حیا نے مڑ کر رخ ساحر کی طرف کیا اور اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی اور اس کو سیریس انداز میں دیکھنے لگی۔۔۔ ساحر نے نظروں میں ہی حیا سے اس کے یوں بلانے کا مطلب جاننا چاہا
"اس دن کچھ تھا جو رہ گیا تھا"
حیا نے سنجیدگی سے ساحر کو دیکھتے ہوئے کہا
"کیا"
ساحر نے تجسس سے پوچھا
"یہ"
حیا نے زوردار تھپڑ ساحر کے منہ پر مارا
"ایڈیٹ"
حیا کہتے ہوئے واپس روم میں آگئی اور خضر کے برابر میں جا کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں ساحر لب بھینچ کر واپس روم میں آیا
"یہ گال کیوں سرخ ہو رہا ہے تمہارا"
اویس شیرازی نے ساحر کو دیکھ کر پوچھا
"نہیں ویسے ہی" ساحر سے کچھ بات نہیں بنی تو اس نے حیا کی طرف دیکھا جو اب بھی اسی کو دیکھ کر اسمائل دیتے ہوئے چائے پی رہی تھی
"چلیں جی خضر صاحب یہ تو ہوگیا تعارف اور اس کے بعد کاروبار وغیرہ کی باتیں۔۔۔ اب آتے ہیں اصل مدے پر، جس کے لیے میں یہاں پر آیا ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں آج آپ کے پاس اپنے بیٹے ساحر کے لئے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا ہوں"
اویس شیرازی نے اپنے آنے کا مقصد خضر کو بتایا آبھی خضر کچھ بول بھی نہیں پایا تھا کہ معاویہ روم میں آیا سامنے صوفے پر اویس شیرازی اور اس کے بیٹے کو دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے
"معاویہ ان سے ملو یہ ہیں اویس شیرازی اور یہ ان کے صاحبزادے" معاویہ کی آمد پر خضر نے تعارف کرایا معاویہ نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر حیا پر نظر ڈالی
"جاؤ یہاں سے" سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اس نے حیا کو کہا وہ بنا کچھ کہے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی
"یہاں آنے کا مقصد" معاویہ نے ویسے ہی کھڑے ہوکر اویس شیرازی سے پوچھا
"میں یہاں پر اپنے بیٹے کا رشتہ لےکر آیا ہوں"
اویس شیرازی نے اس کی پیشانی پر سجے ہوئے بل دیکھ کر کہا
"اے چائے کا کپ نیچے رکھ"
اویس شیرازی کے بولنے پر، معاویہ ساحر کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ہوا زور سے چیخا۔ ۔۔۔ ساحر جو چائے پینے کے لئے منہ کی طرف کپ لےکر جا رہا تھا واپس میز پر رکھ دیا۔۔۔ اویس شیرازی نے گھور کر اس مغرور اے۔ایس۔پی کو دیکھا
"معاویہ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا"
خضر نے شرمندگی سے معاویہ کو دیکھ کر ٹوکا
"ڈیڈ ایک منٹ میں بات کر رہا ہوں" معاویہ نے گردن موڑ کر خضر کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"بہت بڑی بات اپنے منہ سے نکال دی ہے تم نے میری بہن کے لئے۔۔۔ میرے گھر کی چھت کے نیچے کھڑے ہو اسلئے زبان کا استعمال کر رہا ہوں ہاتھوں کا نہیں،،، فورا نکلو یہاں سے اور اپنے اس لنگور کو بھی ساتھ لے کر جاؤں"
معاویہ نے اویس شیرازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اپنے لئے لنگور کا لفظ سن ساحر بری طرح تلملا گیا۔۔۔ وہی شرمندگی اور خجالت سے اویس شیرازی کا چہرہ سرخ ہوگیا
"یہ تو تم نے سیدھی سیدھی دشمنی کا آغاز کردیا اے۔ایس۔پی معاویہ مراد"
اویس شیرازی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
"آپ غلط سمجھ رہے ہیں شیرازی صاحب اس کا وہ مطلب نہیں تھا"
خضر نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر بات کو سنبھالنا چاہا
"ڈیڈ وہ بالکل ٹھیک سمجھ رہا ہے۔۔۔ سنا نہیں تم نے، نکلو میرے گھر سے اسی وقت"
معاویہ نے دوبارہ سنجیدگی سے اویس شیرازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"جلدی دوبارہ ملاقات ہوگی"
اویس شیرازی نے باہر نکلتے ہوئے کہا اس کے پیچھے ساحر بھی نکل گیا
**
"یہ کیا حرکت ہے معاویہ اس انداز میں بات کرتے ہیں گھر آئے ہوئے مہمان سے"
خضر نے اویس شیرازی کے نکلتے ہی معاویہ کو ڈاپٹنے کے انداز میں کہا
"ڈیڈ وہ جس انداز میں زیادہ اچھے طریقے سے میری بات سمجھ سکتا تھا میں نے اسے اسی انداز میں بات کی ہے آپ ٹینشن نہ لیں"
معاویہ اپنے روم سے جانے لگا
"تم جانتے ہو نہ اس کے تعلقات اس کا اثرورسوخ، کیا کیا کر سکتا ہے وہ" خضر نے اس کو سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے کہا
"میں ہینڈل کر لونگا ڈیڈ آپ فکر نہیں کریں"
معاویہ نے سنجیدگی سے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا
"دھمکی دے کر گیا وہ ہمارے گھر میں ہمیں،،کل کو تمہیں کچھ ہوجاتا ہے ہمارا کیا ہوگا سوچا تم نے۔۔۔ سیدھا سیدھا تم نے اس آدمی سے دشمنی مول لی ہے اور تم کہتے ہو فکر نہ کریں"
خضر نے سر جھٹکتے ہوئے کہا اور روم سے جانے لگا
"ڈیڈ جو کچھ نہیں کرسکتے وہ ایسے ہی دھمکیاں دیتے ہیں اس لئے کہہ رہا ہوں آپ ٹینشن نہیں لیں، میں دیکھ لوں گا اور آپ ہادی کی فیملی کو بول کر منگنی کی جگہ شادی کی ڈیٹ رکھ دیں اسی مہینے" معاویہ یہ کہہ کر روکا نہیں اپنے روم میں چلا گیا
خضر حیران ہوکر اسے جاتا ہوا دیکھے گیا مگر پھر یہ سوچ کر کہ آج اویس شیرازی کا اپنے بیٹے کے لیے رشتہ لے کر آنا اس لحاظ سے اچھا ہی ہے کہ صنم کی شادی جلدی کر دی جائے
**
صنم کب سے کال کر رہی تھی مگر دوسری طرف مسلسل بیل جارہی تھی کافی دیر بعد ہادی نے کال ریسیو کی۔۔۔
"کیا ہادی کب سے کال کر رہی ہوں آپ کو آپ ریسیو ہی نہیں کر رہے"
ہادی کے کال ریسیو کرتے ہی صنم نے شکوہ کیا
"سوری مسسز دوست آیا ہوا تھا اس لیے بزی تھا ابھی فری ہوا ہوں" ہادی نے اسے فریش موڈ میں جواب دیا
"آج تو مجھے آپ سے لڑنا چاہیے اپ نے آج میری جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی" صنم نے ناراضگی سے کہا
"کیو یار ایسا کیا غصب کردیا میں نے مجھے بھی تو کچھ پتہ چلے"
ہادی نے صنم سے پوچھا
"یعنی آج دوپہر میں جو بھی کچھ آپ نے کیا وہ آپ کی نظر میں کچھ نہیں تھا۔۔ آپ نے بھائی کے سامنے نکاح والی بات بتائی کیوں کیا آپ نے ایسا"
صنم نے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"کیوں کیا گھر جاکر اس نے پھر کچھ کہا تمہیں"
ہادی نے سنجیدگی سے پوچھا
"وہ کیا کہیں گے اب تو وہ مجھ سے بات ہی نہیں کر رہے۔۔۔ کتنا گلٹ فیل ہو رہا تھا مجھے اس وقت۔۔۔ آپ کو بھائی کو اس طرح نہیں بتانا چاہیے تھا ہادی"
صنم نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"اچھا تو تمہیں مجھ سے نکاح کر کر گلٹ فیل ہو رہا ہے" ہادی نے بھی سنجیدگی سے اس سے پوچھا
"اب آپ الٹی بات کر رہے ہیں۔۔۔ بات نکاح کی نہیں ہے بات چھپ کر نکاح کی ہے اور اگر ایسا کر بھی لیا تھا تو میرے بھائی کو یہ بتانا ضروری تھا کیا"
صنم کو ابھی بھی معاویہ کا رویہ نہیں بھولا تھا وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔ جس پر رہ رہ کر صنم کو افسوس ہورہا تھا
"اسی کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے میں نے صنم اگر وہ بیچ میں روڑے نہ اٹکاتا تو اس طرح نکاح کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔۔ اب کم سے کم ہو تمہارے لئے کسی دوسرے کا تو نہیں سوچے گا نا۔۔۔ ویسے آج خوش تو بہت خوب ہوگا تمہارا بھائی" سنجیدگی سے بات کرتے کرتے آخری جملہ میں ہادی نے مذاق کا رنگ دیا
"بہت بری بات ہے ہادی۔۔۔ بھائی کتنے غصے میں ہے آج۔۔۔ مجھے ان کی وجہ سے زرا اچھا فیل نہیں ہو رہا اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے"
صنم نے دوبارہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"تمہیں کون کہہ رہا ہے اس کے بارے میں سوچ کر برا فیل کرو۔۔۔ تم اپنے اور میرے بارے میں سوچ کر اچھا فیل کرو۔۔۔ ایک گڈ نیوز تمہارے لیے یہ ہے مسسز کہ تھوڑی دیر پہلے تمہارے ڈیڈ کا فون آیا تھا بابا کے پاس۔۔۔ انھوں نے اب ہماری منگنی کی جگہ ڈائریکٹ شادی کا کہا ہے وہ بھی اسی منتھ کے آخری ویک میں اور اس بات کو میرے بابا نے ایگری بھی کرلیا ہے"
ہادی نے تھوڑی دیر پہلے فضا کی بتائی ہوئی خوشخبری کو صنم سے شیئر کیا
"کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں"
صنم نے بے یقینی سے پوچھا
100% میری جان اب جلدی سے میرے گھر آنے کی تیاری پکڑو"
ہادی نے شرارت سے کہا جس پر صنم شرما کر مسکرا دی
**
"کیا ضرورت تھی اس گھٹیا انسان کے سامنے آکر بیٹھنے کی"
معاویہ نے بیڈ روم میں آکر موبائل میں مصروف حیا سے پوچھا
"اسے اس کی اوقات بتانی تھی"
حیا نے اپنا موبائل موبائل ایک طرف رکھ کر معاویہ کو جواب دیا
"اور یقینا تم نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہوگا"
اتنے دنوں میں وہ اپنی شیرنی کی عادتوں سے اچھی طرح واقف ہوگیا تھا
"کیوں تم نے اتنا ہلکا لیا ہوا ہے مجھے"
حیا نے چیلنجنگ انداز اپناتے ہوئے معاویہ کے سامنے آکر کہا
"تمہیں ہلکا تو میں نے پہلے دن سے ہی نہیں لیا تھا ویسے میں اس کی اوقات اسے اسی دن بتادی تھی۔۔۔ ایسے گھٹیا لوگوں کے سامنے آئیندہ آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم میری عزت ہو اور مجھے اپنی عزت پر کوئی کمپرومائز نہیں" معاویہ نے حیا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
"وہ سب چھوڑو،،، یہ لوگ صنم کا رشتہ لے کر آئے تھے معاویہ"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کر کے اویس شیرازی کے آنے کا مقصد بتایا
"ہاں معلوم ہے مجھے ڈیڈ سے کہہ دیا ہے ہادی کے گھر والوں سے بات کر لیں۔۔۔۔ اب منگنی کی جگہ ڈائریکٹ شادی ہوگی صنم کی"
معاویہ ریلیکس انداز میں چیئر پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرتا ہوا بولا جیسے وہ آج بہت تھک گیا ہو۔۔۔۔ حیا چپ کر کے اس کو دیکھتی رہی معاویہ نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا
"تو ساحر کے رشتے کی وجہ سے تم نے ہادی کے لیے رضامندی دی"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں یہ وجہ نہیں ہے ساحر یا اس کے باپ کو تو میں کسی خاطر میں ہی نہیں لایا"
معاویہ نے دوبارہ کرسی پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
"تو پھر کیا وجہ تھی جو تم اس رشتے کے لیے راضی ہوئے"
حیا کو تجسس ہوا
"یہ میں کسی کو نہیں بتاوں گا حیا۔۔۔۔ کیا کافی مل سکتی ہے"
معاویہ نے ویسے ہی آنکھیں بند کر کے حیا سے کہا۔۔۔ حیا اد کو دیکھ کر روم سے چلی گئی
تھوڑی دیر میں وہ کافی لے کر آئی تو معاویہ چینج کرکے بیڈ پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا
"تمہاری کافی"
حیا سائیڈ ٹیبل پر کافی کا مگ رکھ کر پلٹنے لگی تبھی معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس جانے سے روکا
"اتنی عنایت کردی ہے تو یہی بیٹھو تھوڑی دیر میرے پاس"
آج وہ سنجیدہ اور تھکا تھکا لگا تو حیا اس کے کہنے پر کافی بنا کر لے آئی۔۔۔مگر اب اس کی آنکھوں کی طلب دیکھ کر وہ اس پر مزید کوئی عنایت نہیں کر سکتی تھی
"بس ہوگئے فری۔۔۔ بندے کو تو تم سے کوئی سیریز بات ہی نہیں کرنی چاہیے مرو تم"
حیا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
"جب تک تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت نہ دیکھ لو تب تک میرا مرنے کا ارادہ نہیں"
معاویہ نے کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ تو حیا اس کی بات سن کر سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment