Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 46

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 46



صنم یونیورسٹی پہنچی تو کلاس لینے کا اس کا دل نہیں چاہا لائبریری میں جاکر کتاب کھول کر بیٹھ گئی اور غائب دماغی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ لائبریرین کے ٹوکنے پر وہ ہوش میں آئی اس کا موبائل کافی دیر سے بج رہا تھا معذرت طلب نظروں سے لائبریرین کو دیکھتی ہوئی وہ اپنا موبائل اور بیگ لے کر لائبریری سے باہر نکلی موبائل پر ہادی کی کال آرہی تھی صنم نے کال ریسیو کی

"کیسی ہو"
کال ریسیو کرنے کے بعد ہادی نے صنم سے پوچھا

"ہادی میں بالکل ٹھیک نہیں ہو"
صنم کا دل بھرا ہوا تھا ہادی کی آواز سن کر وہ رونے لگی

"کیا ہوا ایسا کیوں رو رہی ہو، سب ٹھیک تو ہے نا،، کہاں ہو تم اس وقت"
صنم کو روتا ہوا دیکھ کر ہادی نے ایک ساتھ ڈھیر سارے سوال کر ڈالے

"ہادی اب سب کیسے ٹھیک ہوگا،، سب بہت غلط ہو رہا ہے"
صنم کو اور بھی رونا آیا

"صنم جو میں تم سے پوچھ رہا ہوں وہ بتاؤ کہاں ہو تم اس وقت"
ہادی نے سنجیدگی سے دوبارہ اپنا سوال دہرایا

"یونیورسٹی میں ہوں اس وقت اور کیا ہوا ہے یہ میں آپ کو ابھی نہیں بتا سکتی"
صنم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

"تمہیں کیا ہوا ہے یہ میں فون پر پوچھ بھی نہیں رہا دس منٹ میں یونیورسٹی پہنچ رہا ہوں تمہاری پھر بات کرتے ہیں"
ہادی نے کہتے ہوئے فون رکھنا چاہا تو صنم فورا بولی

"ہادی پلیز آپ یونیورسٹی مت آئیے گا۔۔۔ کل بھائی نے میرا موبائل چیک کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ آج سے وہی یونیورسٹی مجھے لے کر جائیں گے اور واپس لےکر آئے گے۔۔۔۔آج یہاں پر انہی کے ساتھ آئی ہوں وہ ابھی آنے والے ہیں مجھے لینے کے لئے"
صنم نے پریشان ہوکر ہادی کو ساری بات بتائی

"اوہ تو اتنی سی بات پر تو رو رہی ہوں میں تو سمجھا پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے"
ہادی نے سکون کا سانس خارج کرتے ہوئے کہا

"بات یہ نہیں ہے ہادی میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ آج صبح بھائی نے مام اور ڈیڈ کو بتایا ہے ارسل بھائی کے کزن اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے گھر آرہے ہیں میرے رشتے کے سلسلے میں،، ہادی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے"
صنم کو بتاتے ہوئے ایک دفعہ پھر وہ رونا آنے لگا

"صنم ایک تو تم رونا بند کرو پہلے اور میری بات غور سے سنو ایسا کچھ نہیں کرسکتا تمہارا بھائی پریشان مت ہو"
ہادی نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا

"آپ کو نہیں پتہ بھائی بہت ضدی ہیں وہ ہر حال میں اپنی منوا کر رہتے ہیں۔۔۔ آج ڈیڈ بھی چپ ہوگئے تھے ان کی بات پر" 
صنم نے پریشان ہوکر ہادی کو بتایا

"ضدی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہر بار اس کی ضد چلے گی،، چلو تمہارے بھائی کو بھی مزہ چکھانے کا وقت آگیا ہے میں آرہا ہوں تمہارے بھائی سے بات کرنے"
ہادی نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ہوش میں تو ہیں۔۔۔ آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے میں نے اپنی پروبلم اس لئے شیئر نہیں کی تھی کہ آپ میری جان کو مزید ہلکان کردیں پلیز ہادی اس وقت یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے بھائی بہت غصہ ہوں گے"
صنم نے اس کے آنے کا ارادہ سنا تو وہ ڈر گئی

"تمہاری جان کو ہلکان کرنے نہیں آرہا تمہیں ریلکس کرنے آرہا ہوں ہلکان تو اب کسی اور کی جان ہوگی"
ہادی نے کال کاٹ کر آفس سے نکلتے ہوئے صنم کی یونیورسٹی کی طرف جانے کا ارادہ کیا

***

"صنم باہر آؤ میں ویٹ کر رہا ہوں" معاویہ نے موبائل پر صنم کو کہا وہ باہر گاڑی میں بیٹھ کر صنم کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ اسے واپس بھی جانا تھا یونیورسٹی کے گیٹ پر سے صنم آتی ہوئی دکھائی دی،، اتنے میں سامنے سے ہادی کی گاڑی صنم کے پاس آکر رکی صنم جو کہ معاویہ کو دیکھ چکی تھی اور کار کی طرف بڑھ رہی تھی اچانک سے اپنے پاس رکی کار کو دیکھ کر چونکی۔ ۔۔ دیکھ تو ہادی کی کار کو معاویہ نے بھی لیا تھا نہ صرف دیکھا تھا بلکہ وہ لب بینچ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا

"صنم یہاں آو"
کار سے نکل کر ہادی نے صنم کو مخاطب کیا، وہ ہادی کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی

"صنم گاڑی میں بیٹھو"
اتنے میں معاویہ بھی قریب پہنچا اور تیز آواز میں صنم کو مخاطب کرکے بولا

"تم نے سنا نہیں صنم میں کیا کہہ رہا ہوں"
ہادی نے ایک نظر معاویہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے صنم کو کہا اور صنم کبھی ہادی کو تو کبھی معاویہ کو دیکھتی۔۔۔ وہ عجیب کشمکش میں پھنس گئی

"سنائی نہیں دے رہا تمہیں میں کیا کہہ رہا ہوں چل کر گاڑی میں بیٹھو"
معاویہ نے تیز لہجے میں کہنے کے ساتھ آگے بڑھ کر صنم کا بازو پکڑا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا ویسے ہی ہادی آگے آیا اور اس نے معاویہ کا ہاتھ پکڑا جس میں صنم کا بازو تھا۔۔۔۔ معاویہ نے غضب ناک نظروں سے ہادی کی جرت دیکھی صنم کا بازو چھوڑ کر اس نے ایک جھٹکے سے ہادی کا گریبان پکڑا

"آج تو، تو گیا"
معاویہ نے ہادی کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا

"بھائی نہیں پلیز ان کو کچھ مت کہیے گا میں گاڑی میں بیٹھتی ہوں جاکر"
صنم نے ایک دم تڑپ کر معاویہ کے دونوں ہاتھ پکڑے جن میں ہادی کا گریبان تھا معاویہ کے ہاتھ کی گرفت اس کے گریبان پر ڈھیلی ہوئی اور اس نے گردن موڑ کر اپنی بہن کو دیکھا جس کی آنکھوں میں آنسووں کے ساتھ التجا بھی تھی

چونکا وہ ہادی کی جرت پر بھی تھا اور اب صنم کی حرکت دیکھ کر اسے مزید حیرت ہوئی اس کی بہن اپنے بھائی کے سامنے کسی دوسرے لڑکے کے لئے رو رہی تھی اس سے معاویہ کی آنکھیں سرخ ہوئی ہادی نے اپنا گریبان پر سے معاویہ کے ہاتھ ہٹایا اور شرٹ کو صحیح کیا

"یہاں لوگوں کے سامنے اپنی عزت کا تماشہ مت بناؤ،،، مجھے تمہاری رتی بھر پرواہ نہیں ہے مگر اپنی عزت کی پرواہ ہے"
ہادی نے معاویہ سے کہتے ہوئے آخری جملہ صنم کو دیکھ کر ادا کیا کیونکہ ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے

"تم اپنی اوقات سے بڑھ رہے ہوں ہادی،، یہ تمہاری عزت نہیں میری عزت ہے اور اگر آگے سے تم اس کے آس پاس بھی نظر آئے تو میں واقعی تمہیں جان سے مار دوں گا"
معاویہ نے انگلی دکھا کر اسے وارن کرتے ہوئے کہا وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر صنم کا بازو تھام کر وہاں سے جانے لگا

"ایک منٹ اے۔ایس۔پی معاویہ مراد اپنی نالج میں آج تم یہاں سے اضافہ کرتے ہوئے جاؤ تاکہ تمہیں آئندہ منہ کی نہیں کھانی پڑے۔۔۔۔ میں صنم کو آج اس لیے تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں تاکہ اس وقت مزید تماشا نہ بنے ورنہ میں حق رکھتا ہو اس کو اسی وقت اپنے ساتھ لے جانے کا۔۔۔ یہ صرف تمہاری ہی عزت نہیں میری بھی عزت ہے،،، جس طرح بہن ایک مرد کی عزت ہوتی ہے،، اس طرح بیوی بھی ایک مرد کی عزت ہوتی ہے"
ہادی معاویہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باور کرانے والے انداز میں گویا ہوا
اس وقت معاویہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ سامنے کھڑی بلڈنگ پوری اس کے اوپر آکر گر گئی ہو۔۔۔ اس نے بہت بے یقینی سے صنم کی طرف دیکھا جوکہ حیرانگی سے پوری آنکھیں کھولے ہادی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی اس نے معاویہ کی نظریں اپنے اوپر محسوس کی تو اب صنم اپنی آنکھیں جھکا کر نیچے دیکھنے لگی

"کیا بکواس ہے یہ" معاویہ نے غصے اور ضبط سے لال ہوتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ہادی کو دیکھا

"یہ دیکھ لو پولیس والوں کا تو ویسے بھی ثبوت کی بناء کسی بات پر یقین کرنا مشکل ہوتا ہے"
ہادی نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر معاویہ کے سامنے بڑھاتے ہوئے کہا

معاویہ نے بے یقینی سے نکاح کی ساری ویڈیو دیکھی۔۔۔ شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی وہ نقلی نہیں ریئل ویڈیو تھی۔۔۔ اب اسے سمجھ میں آرہا تھا ہادی اتنے استحقاق سے کیوں صنم کو کیوں بلا رہا تھا۔۔۔ اور پھر صنم کا منت بھرا لہجہ۔۔۔ اسے لگا اس کے دماغ کی رگ پھٹ جائے گی اس کی بہن چھپ کر اتنا بڑا قدم اٹھا چکی ہے۔۔۔ یہ سوچ کر معاویہ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور اس سے پہلے وہ صنم کے منہ پر پڑتا ہادی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔ جہاں خوف سے صنم کی آنکھیں بند ہوئیں اور اس کا وجود کانپنے لگا وہی معاویہ نے قہر برساتی نظروں سے ہادی کو دیکھا

"یہ بیوی ہے میری اس کا شوہر ہونے کے ناطے میں تمہیں یہ اختیار نہیں دیتا کہ تم اس پر ہاتھ اٹھاؤ یا اس کو ڈراؤ اور دھمکاؤ،، اسے تم ابھی لے جا سکتے ہو مگر امانت کے طور پر،، میں بہت جلد آب اسے لینے آوں گا"
ہادی نے معاویہ کا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا اور ایک نظر صنم پر ڈال کر  اپنی کار لے کر وہاں سے چلا گیا

ہادی کے جانے کے بعد معاویہ نے دوبارہ صنم کو بے یقینی سے دیکھا صنم ایک بار پھر نظریں جھکا گئی معاویہ جاکر گاڑی میں بیٹھا اور کار اسٹارٹ کردی صنم بھی فورا اس کے پیچھے آگئی اور کار میں بیٹھ گئی دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی گھر کے پاس گاڑی رکی تو صنم نے معاویہ کو مخاطب کرنے کی کوشش کی

"نہیں صنم تم اس وقت میری نظروں کے سامنے سے دور ہو جاؤ"
معاویہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا اور کار کا لاک کھولا صنم آنسو صاف کرتے ہوئے کار سے اتر گئی اور گھر کے اندر چلی گئی معاویہ دوبارہ کار اسٹارٹ کر کے وہاں سے نکل گیا

**

شام کے وقت خضر آفس سے گھر آیا تو ساجدہ نے بتایا اس کے دوست سیٹنگ ایریا میں اس کا انتظار کر رہے ہیں خضر وہاں پہنچا تو سامنے اویس شیرازی اپنے بیٹے ساحر کے ساتھ اس کا منتظر تھا۔ ۔۔۔ خضر سے اس کی کوئی خاص دوستی نہیں تھی سرسری سی جان پہچان تھی

"کیا حال ہیں خضر صاحب آپ کے"
اویس شرازی نے خضر کو دیکھ کر اس کی خیریت دریافت کی

"جی میں ٹھیک ہوں آپ تشریف رکھیں پلیز"
خضر نے مصافحہ کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا خضر کو سمجھ میں نہیں آیا اس کی آمد کا مقصد کیا ہے وہ ابھی بات کا آغاز کر ہی رہا تھا اچانک حیا روم میں اپنے مگن انداز میں داخل ہوئی وہ تینوں ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے

حیا سامنے بیٹھے ہوئے شیرازی کو دیکھ کر ایک دم ٹٹکی اور مسکرا کر سلام کیا جس کا اویس شیرازی نے جواب دیا حیا کی نظر برابر میں بیٹھے ہوئے ساحر پر پڑی تو اس کے لب سکڑ گئے

"جائے بیٹا ساجدہ اسے چائے کا کہہ کر آئیے"
خضر کو اس وقت حیا کا ان لوگوں کے سامنے آنا مناسب نہیں لگا جب بھی اس نے مناسب الفاظوں میں حیا کو وہاں سے واپس بھیجا

"یہ بچی غالبا آپ کی بیٹی ہے"
اویس شیرازی نے خضر سے دریافت کیا

"جی نہیں یہ میری بہو ہے اور ان کا تعریف"
خضر نے سامنے بیٹھے ہوئے ساحر کے بارے میں جاننا چاہا

"یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے ساحر۔۔۔ ساحر شیرازی"
اویس شیرازی نے ساحر کا تعارف کرایا

"آپ سے بزنس پارٹیز میں ایک دو دفعہ ملاقات ہوئی مگر سرسری سی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ آپ کے گھر اکر آپ سے مل لیا جائے"
اویس شیرازی نے خضر سے کہا

"یہ تو اچھا سوچا آپ نے"
ابھی خضر بات کر ہی رہا ہے حیا ٹرالی میں چائے رکھ کر دوبارہ آئی جسے خضر دیکھ کر جزبز کا شکار ہوا

"حیا بیٹا ساجدہ سرو کردی گی چائے آپ اس کو بلالیں"
خضر نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"انکل وہ رات کے ڈنر کی تیاری میں مصروف ہے، اٹس اوکے چائے میں سرو کردیتی ہوں"
حیا نے خضر کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا جس پر خضر نے سر ہلایا

"اور بیٹا کیا کرتی ہیں آپ" آویس شرازی نے حیا کو مخاطب کیا

"انکل آجکل تو فری ہوں مگر اپنی اسٹیڈیز کنٹینیو کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں"
حیا نے مسکرا کر چائے کا کپ اویس شیرازی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

اس کے بعد خضر کو چائے سرو کی اور پھر ساحر کی طرف چائے کا کپ لے کر بڑھی ساحر اسی کو دیکھ رہا تھا اسے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کا ہسبنڈ اے ایس پی معاویہ ہے حیا نے اسکی طرف چائے کا کپ بڑھایا اس سے پہلے ساحر چائے کا کپ تھامتا حیا طنزیہ انداز میں مسکرائی چائے کا کپ ساحر کے پکڑنے سے پہلے چھوڑ دیا جو سیدھا ساحر کے اوپر گرا



جاری ہے

0 comments:

Post a Comment