Itni mohbat karo na
By zenia sharjeel
Epi # 45
حیا روم کے اندر داخل ہوئی تو معاویہ اس کے پیچھے روم میں آیا اور روم کا دروازہ لاک کیا ہے۔۔۔ حیا نے روم کی لائٹ جلائی تو سامنے چھوٹے سے سنگل بیڈ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔ اس کا منہ اور انکھیں کے دونوں کھلی کی کھلی رہ گئیں
"مزا آئے گا آج سونے میں،، نہیں"
معاویہ نے پیچھے سے اس کے دونوں کندھوں کو تھام کر اپنے ہونٹ حیا کے کان کے قریب لاکر بولا
"مگر اس پر تو ایک ہی بندہ سو سکتا ہے اتنے چھوٹے سے بیٹھ پر"
حیا کو اور زیادہ صدمہ ہوا
روم زیادہ بڑا نہیں تھا اسی مناسبت سے سنگل بیڈ، سامنے دو چیئر اور ایک دیوار پر چھوٹے سائز کی ایل ئڈی لگی ہوئی تھی
ہاں جانم بندہ ایک سو سکتا ہے لیکن اگر میاں بیوی ہو تو دو بندے بھی آرام سے سو سکتے ہیں
معاویہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا
"یہاں آنا پاس یہاں آکر دیکھو کتنی اسپیس ہے"
معاویہ کے لیٹنے کے بعد اب اتنی جگہ بچی تھی کہ وہ ایک کروٹ سے ہی لیٹ سکتی تھی حیا کو پچھتاوا ہونے لگا
"میں یہاں پر تمہارے ساتھ بالکل نہیں لیٹنے والی"
حیا نے صدمے بھری آواز میں نفی میں سر ہلا کر کہا
"ایس یو وش بےبی آج رات تو میرا یہی سونے کا موڈ ہے،، تم جاکر ہمارے بیڈ روم میں شوق سے سو سکتی"
معاویہ مزید چوڑا ہو کر لیٹا۔۔۔ حیا عجیب مشکل میں پھنس گئی اب بیڈ روم میں تو جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی مکھیاں یقین اندر ہوگیں اور اگر وہ کمرے میں گئی تو اس کو بھون کر رکھ دی گیں
"وہاں کھڑے کھڑے کیا سوچ رہی ہوں بےبی ابھی خود ہی تو کہہ رہی تھی مہینے میں ایک آدھ بار گیسٹ روم میں بھی سونا چاہیے"
معاویہ اس کی آنکھوں میں کشمکش دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوا بولا
کاش جب ساجدہ صفائی کر رہی تھی ایک نظر روم کے سائز پر بھی ڈال لیتی۔۔۔ اس بیہودہ شخص کو ایسی آفر تو نہ کرتی۔۔۔۔ حیا نے رونی شکل بنا کر سوچا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی معاویہ کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کا مفہوم بھی وہ اب اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔۔۔ نا ہی وہ ساری رات اسطرح سردی میں کھڑے رہ سکتی تھی اور نہ ہی شہد کی مکھیوں سے مقابلہ کر سکتی تھی۔۔۔ اس لئے مرے مرے قدم سے وہ بیڈ کے قریب آئی۔۔۔ معاویہ نے اپنی مسکراہٹ دبا کر شرٹ کے بٹن کھولے
"کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ہر رات اپنی باڈی کی نمائش کرنا ضروری ہے۔۔۔ آج شرٹ پہن کر نہیں ہو سکتے"
حیا اس کو شرٹ اتارتے دیکھ کر اور مزید تپ گئی
"بےبی مسئلہ یہ ہے میری عادت ہے، شرٹ اتار کر سونے کی اگر شرٹ نہیں اتاری تو میں ساری رات سو نہیں پاؤں گا اور ظاہری بات ہے جب میں نہیں سو پاؤں گا،، تو تم کیسے سو پاؤگی اور جب ساری رات اس سردی میں سنگل بیڈ پر اتنے قریب قریب ہم دونوں جاگیں گے تو لازمی"
"بس بریک لگاؤ اپنی ان چھچھوری باتوں اور ٹھرکی جذبات پر"
حیا نے اسے مزید گلفشانی کرنے سے روکا اور بیڈ پر آکر لیٹ گئی
"اف یہ بلینکٹ کتنا چھوٹا ہے تھوڑا مجھے بھی دو اتنی دیر سے ٹھنڈ میں کھڑی ہوئی ہو"
حیا نے بےبسی اور غصے سے بلینکٹ کھینچا
"جانم تمہارے ساتھ بہت مسئلہ ہو رہے ہیں اوپر روم میں جاکر اپنا کمفرٹ لیکر آؤ۔۔۔ نہیں تو شرافت سے تھوڑا قریب آکر لیٹو یہ بلینکٹ مجھے بھی اڑنا ہے فولاد کا نہیں بنا ہوا ہوں میں"
معاویہ نے بلینکیٹ خود پر ڈالتے ہوئے کہا ناچار ہی حیا کو اس کے قریب ہو کر لیٹنا پڑا سنگل بیڈ پر معاویہ کے اتنے قریب، اوپر سے اس بے شرم نے شرٹ بھی نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔ اسے اپنی سوچ پر پچھتاوا ہونے لگا بلاوجہ میں ہی اس نے بدلہ لینے کا سوچا
معاویہ نے کروٹ لے کر اپنا رخ حیا کی طرف کیا حیا نے ایک تپتی ہوئی نظر اس پر ڈالی اور کروٹ لے کر اپنا رخ دوسری طرف کیا
آب معاویہ کی طرف حیا کی پست تھی۔۔۔ معاویہ نے اپنے پاؤں حیا کے ٹھنڈے پاؤں پر رکھے تو حیا کو پاؤں پر گرمائش کا احساس برا نہیں لگا وہ چپ کر کے ویسے ہی آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی رہی، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ حیا کی حساسیات بیدار ہوئی۔۔۔۔ معاویہ کے پاؤں اس کی نرم پنڈلیاں سہلا رہے تھے جیسے ہی معاویہ کا ہاتھ اپنی کمر پر سے پیٹ کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ حیا نے اپنے پورے ناخن اس کے ہاتھ میں گاڑھ دیئے،، جہاں معاویہ کے منہ سے سی نکلی وہی حیا اٹھ کر بیٹھ گئی
"کیا کر رہے تھے تم"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"کوشش"
معاویہ ویسے ہی لیٹا ہوا معصوم شکل بنا کر بولا
"تمھیں ذرا بھی شرم ہے کہ نہیں" حیا نے غرا کر کہا
"تمہیں زرا بھی احساس ہے کہ نہیں"
معاویہ نے بھی اسی کے اسٹائل میں جواب دیا
"نہیں میں یہاں بالکل بھی نہیں سونے والی تمہارے اتنے قریب۔۔۔ تم میری سوچ سے بھی زیادہ کوئی پہنچی ہوئی چیز ہو"
حیا نے بیڈ سے اٹھ کر چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا
"جانم گیسٹ روم میں بھی تمہارا ہی سونے کا پروگرام تھا تم نے ہی مجھے آفر کی تھی اپنے ساتھ سونے کی"
معاویہ نے مسکراہٹ چھپا کر اسے یاد دلایا میں
"اب میں اس وقت کو کوسنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتی"
حیا نے رونی شکل بنا کر کہا اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھیں دیکھ کر معاویہ نے اس کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا
"اوکے واپس آجاؤ میں اپنے ٹھر کی جذبات کو کنٹرول کرلیتا ہوں جو کہ مشکل ہے"
وہ حیا کو دیکھ کر دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا
"بھاڑ میں جاؤ تم میں یہی بیٹھے بیٹھے سووں گی آج"
حیا کو مزید اپنے اوپر رونا آیا
معاویہ اٹھ کر آیا گی چیر کے پاس آیا اس کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا
"چھوڑو مجھے جنگلی وحشی انسان نیچے اتارو"
معاویہ نے اس کی بغیر سنے اسے بیڈ پر لٹایا
"چلو آرام سے سو جاؤ تمہارا محافظ ہو لٹیرا نہیں"
اسے اچھی طرح بلینکٹ اڑھا کر خود بھی دوسرے سائڈ پر کروٹ لے کر لیٹ گیا۔۔۔۔ حیا تھوڑی دیر میں نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی مگر جگہ کم ہونے کی وجہ سے معاویہ کو نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کر کے سیدھا لیٹا ہوا تھا جب حیا نے نیند میں اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ معاویہ نے سوئی ہوئی حیا کے چہرے پر نظر ڈالی ابھی وہ اس کا ہاتھ ہٹانے والا تھا جب حیا نے اپنا پاؤں بھی اس کے اوپر رکھ دیا۔۔۔۔ اس کا ارادہ گیسٹ روم میں حیا کو لاکر تنگ کرنے کا تھا مگر اس وقت حیا اسے تنگ کرنے پر تلی ہوئی تھی
"حیا اٹھو چلو اپنے روم میں چلتے ہیں"
معاویہ اس کا بازو ہلا کر دھیمی آواز میں بولا
"سونے دو مجھے پلیز"
نیند میں ڈوبی ہوئی حیا کی آواز آئی۔۔۔۔ حیا نے مزید معاویہ کے قریب ہو کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھ لیا
اس کی اس حرکت پر معاویہ نے لمبا سانس خارج کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا اسے اندازہ تھا نیند اب اسے مشکل سے یہ ہی آنی ہے
**
جب وہ صبح سو کر اٹھی تو اس نے اپنے آپ کو روم میں پایا سب سے پہلی نظر اس کی کھڑکی کی طرف پڑی جو کہ بند تھی چاروں طرف اپنے کمرے میں نظر دوڑا کر دیکھا سکون کا سانس لیا۔۔۔۔ اتنی دیر میں روم کا دروازہ کھلا اور معاویہ ٹریک سوٹ میں اندر داخل ہوا
"میں روم میں کیسے آئی"
حیا نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"یہ جرات تو صرف تمہارا دو ٹکے کا پولیس والا ہی کرسکتا ہے جانم۔۔۔ ورنہ رات میں سوتے ہوئے تم نے جتنی مجھے لاتے ماری ہے ارادہ میرا تمہیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینکنے کا تھا مگر تم اپنے معاملے میں میری برداشت بھی دیکھ لو اور میری تم سے محبت بھی"
معاویہ حیا کے پاس آکر اپنے ہاتھ حیا کے دائیں بائیں بیڈ پر ٹکا کر اس کی طرف جھکتا ہوا کہنے لگا۔۔۔۔۔ تو حیا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹایا
"یہ وینڈو تم نے بند کی"
حیا نے معاویہ کو دیکھ کر پوچھا
"کل رات کو ہی بند کردی تھی ورنہ تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اپنے شوہر کو شہد کی مکھیوں کا ڈنر بنانے کے لئے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"یہ بتا کر تم مجھے شرمندہ کرنا چاہ رہے ہوں تو وہ میں بالکل نہیں ہوں"
یعنی اس کو رات کو ہی میری کارستانی کا پتہ چل گیا تھا سنگل بیڈ پر سلاکر اس نے مجھ سے میرے کارنامے کا بدلہ لیا۔۔۔۔ حیا نے دل میں سوچا
"شرمندہ نہیں کررہا بےبی یہ بتانا چاہ رہا ہو نیکسٹ پلان کوئی ڈھنگ کا بنانا"
دل جلانے والی اسمائل پاس کر کے وادڈروب سے اپنا یونیفارم نکال کر وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا
***
"مام کل ارسل کا کزن اس کی فیملی شام میں ہمارے گھر آرہے ہیں چائے پر۔۔۔۔ ذرا اچھا ارینجمنٹ کرلئے گا"
ناشتے کی ٹیبل پر سب خاموش ناشتہ کر رہے تھے تو معاویہ نے ناعیمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"کس سلسلے میں آرہے ہیں خیریت" خضر نے چائے پیتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا
"موحد کی بہنیں اس کی شادی کے لیے اچھی لڑکی اور اچھا خاندان دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ارسل نے مجھ سے سرسری سا ذکر کیا تو میں نے ارسل سے کہہ موحد اور اس کی فیملی کو کل شام یہاں انوائیٹ کرلیا"
ناشتہ کرتے ہوئے اس نے موحد کے بارے میں بتایا بات کے اختتام پر سب کی طرف دیکھا،، تو سب ناشتہ چھوڑ کر معاویہ کی طرف ہی دیکھ رہے تھے سوائے صنم کہ جو کہ مسلسل اپنی پلیٹ میں جھکی ہوئی تھی
"ان سب باتوں کا مطلب کیا ہے تمہارا جب کہ میں آج بلال کو فون کرکے منگنی کی ڈیٹ فکس کرنے والا ہو"
خضر نے تیوری پر بل چڑھاتے ہوئے کہا
"ہاں آپ انہیں فون کریں مگر رشتے کے لئے منع کردیں یہ شادی میں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔صنم ناشتہ کرلیا ہے تو آؤ تمھیں یونیورسٹی چھوڑ دو"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کے کہنے پر فورا صنم اٹھ گئی بغیر کسی کو دیکھے خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گئی، اس کے پیچھے معاویہ بھی نکل گیا اور وہ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہ گئے
"اس الو کے پٹھے کی وجہ سے مجھے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑے گی زین اور بلال کے سامنے۔۔۔ باپ کا ذرا احساس نہیں ہے اس عمر میں مجھے ذلیل کروا رہا ہے"
خضر نائمہ کی طرف دیکھتا ہوا گرجا اور اپنا کوٹ کرسی کے پیچھے سے اٹھا کر خود بھی آفس کے لئے نکل گیا
حیا نے ایک نظر ناعیمہ کے پریشان چہرے پر ڈالی مگر وہ بھی کچھ بول نہ سکی
جاری ہے
By zenia sharjeel
Epi # 45
حیا روم کے اندر داخل ہوئی تو معاویہ اس کے پیچھے روم میں آیا اور روم کا دروازہ لاک کیا ہے۔۔۔ حیا نے روم کی لائٹ جلائی تو سامنے چھوٹے سے سنگل بیڈ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔ اس کا منہ اور انکھیں کے دونوں کھلی کی کھلی رہ گئیں
"مزا آئے گا آج سونے میں،، نہیں"
معاویہ نے پیچھے سے اس کے دونوں کندھوں کو تھام کر اپنے ہونٹ حیا کے کان کے قریب لاکر بولا
"مگر اس پر تو ایک ہی بندہ سو سکتا ہے اتنے چھوٹے سے بیٹھ پر"
حیا کو اور زیادہ صدمہ ہوا
روم زیادہ بڑا نہیں تھا اسی مناسبت سے سنگل بیڈ، سامنے دو چیئر اور ایک دیوار پر چھوٹے سائز کی ایل ئڈی لگی ہوئی تھی
ہاں جانم بندہ ایک سو سکتا ہے لیکن اگر میاں بیوی ہو تو دو بندے بھی آرام سے سو سکتے ہیں
معاویہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا
"یہاں آنا پاس یہاں آکر دیکھو کتنی اسپیس ہے"
معاویہ کے لیٹنے کے بعد اب اتنی جگہ بچی تھی کہ وہ ایک کروٹ سے ہی لیٹ سکتی تھی حیا کو پچھتاوا ہونے لگا
"میں یہاں پر تمہارے ساتھ بالکل نہیں لیٹنے والی"
حیا نے صدمے بھری آواز میں نفی میں سر ہلا کر کہا
"ایس یو وش بےبی آج رات تو میرا یہی سونے کا موڈ ہے،، تم جاکر ہمارے بیڈ روم میں شوق سے سو سکتی"
معاویہ مزید چوڑا ہو کر لیٹا۔۔۔ حیا عجیب مشکل میں پھنس گئی اب بیڈ روم میں تو جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی مکھیاں یقین اندر ہوگیں اور اگر وہ کمرے میں گئی تو اس کو بھون کر رکھ دی گیں
"وہاں کھڑے کھڑے کیا سوچ رہی ہوں بےبی ابھی خود ہی تو کہہ رہی تھی مہینے میں ایک آدھ بار گیسٹ روم میں بھی سونا چاہیے"
معاویہ اس کی آنکھوں میں کشمکش دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوا بولا
کاش جب ساجدہ صفائی کر رہی تھی ایک نظر روم کے سائز پر بھی ڈال لیتی۔۔۔ اس بیہودہ شخص کو ایسی آفر تو نہ کرتی۔۔۔۔ حیا نے رونی شکل بنا کر سوچا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی معاویہ کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کا مفہوم بھی وہ اب اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔۔۔ نا ہی وہ ساری رات اسطرح سردی میں کھڑے رہ سکتی تھی اور نہ ہی شہد کی مکھیوں سے مقابلہ کر سکتی تھی۔۔۔ اس لئے مرے مرے قدم سے وہ بیڈ کے قریب آئی۔۔۔ معاویہ نے اپنی مسکراہٹ دبا کر شرٹ کے بٹن کھولے
"کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ہر رات اپنی باڈی کی نمائش کرنا ضروری ہے۔۔۔ آج شرٹ پہن کر نہیں ہو سکتے"
حیا اس کو شرٹ اتارتے دیکھ کر اور مزید تپ گئی
"بےبی مسئلہ یہ ہے میری عادت ہے، شرٹ اتار کر سونے کی اگر شرٹ نہیں اتاری تو میں ساری رات سو نہیں پاؤں گا اور ظاہری بات ہے جب میں نہیں سو پاؤں گا،، تو تم کیسے سو پاؤگی اور جب ساری رات اس سردی میں سنگل بیڈ پر اتنے قریب قریب ہم دونوں جاگیں گے تو لازمی"
"بس بریک لگاؤ اپنی ان چھچھوری باتوں اور ٹھرکی جذبات پر"
حیا نے اسے مزید گلفشانی کرنے سے روکا اور بیڈ پر آکر لیٹ گئی
"اف یہ بلینکٹ کتنا چھوٹا ہے تھوڑا مجھے بھی دو اتنی دیر سے ٹھنڈ میں کھڑی ہوئی ہو"
حیا نے بےبسی اور غصے سے بلینکٹ کھینچا
"جانم تمہارے ساتھ بہت مسئلہ ہو رہے ہیں اوپر روم میں جاکر اپنا کمفرٹ لیکر آؤ۔۔۔ نہیں تو شرافت سے تھوڑا قریب آکر لیٹو یہ بلینکٹ مجھے بھی اڑنا ہے فولاد کا نہیں بنا ہوا ہوں میں"
معاویہ نے بلینکیٹ خود پر ڈالتے ہوئے کہا ناچار ہی حیا کو اس کے قریب ہو کر لیٹنا پڑا سنگل بیڈ پر معاویہ کے اتنے قریب، اوپر سے اس بے شرم نے شرٹ بھی نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔ اسے اپنی سوچ پر پچھتاوا ہونے لگا بلاوجہ میں ہی اس نے بدلہ لینے کا سوچا
معاویہ نے کروٹ لے کر اپنا رخ حیا کی طرف کیا حیا نے ایک تپتی ہوئی نظر اس پر ڈالی اور کروٹ لے کر اپنا رخ دوسری طرف کیا
آب معاویہ کی طرف حیا کی پست تھی۔۔۔ معاویہ نے اپنے پاؤں حیا کے ٹھنڈے پاؤں پر رکھے تو حیا کو پاؤں پر گرمائش کا احساس برا نہیں لگا وہ چپ کر کے ویسے ہی آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی رہی، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ حیا کی حساسیات بیدار ہوئی۔۔۔۔ معاویہ کے پاؤں اس کی نرم پنڈلیاں سہلا رہے تھے جیسے ہی معاویہ کا ہاتھ اپنی کمر پر سے پیٹ کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ حیا نے اپنے پورے ناخن اس کے ہاتھ میں گاڑھ دیئے،، جہاں معاویہ کے منہ سے سی نکلی وہی حیا اٹھ کر بیٹھ گئی
"کیا کر رہے تھے تم"
حیا نے غصے میں معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"کوشش"
معاویہ ویسے ہی لیٹا ہوا معصوم شکل بنا کر بولا
"تمھیں ذرا بھی شرم ہے کہ نہیں" حیا نے غرا کر کہا
"تمہیں زرا بھی احساس ہے کہ نہیں"
معاویہ نے بھی اسی کے اسٹائل میں جواب دیا
"نہیں میں یہاں بالکل بھی نہیں سونے والی تمہارے اتنے قریب۔۔۔ تم میری سوچ سے بھی زیادہ کوئی پہنچی ہوئی چیز ہو"
حیا نے بیڈ سے اٹھ کر چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا
"جانم گیسٹ روم میں بھی تمہارا ہی سونے کا پروگرام تھا تم نے ہی مجھے آفر کی تھی اپنے ساتھ سونے کی"
معاویہ نے مسکراہٹ چھپا کر اسے یاد دلایا میں
"اب میں اس وقت کو کوسنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتی"
حیا نے رونی شکل بنا کر کہا اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھیں دیکھ کر معاویہ نے اس کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا
"اوکے واپس آجاؤ میں اپنے ٹھر کی جذبات کو کنٹرول کرلیتا ہوں جو کہ مشکل ہے"
وہ حیا کو دیکھ کر دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا
"بھاڑ میں جاؤ تم میں یہی بیٹھے بیٹھے سووں گی آج"
حیا کو مزید اپنے اوپر رونا آیا
معاویہ اٹھ کر آیا گی چیر کے پاس آیا اس کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا
"چھوڑو مجھے جنگلی وحشی انسان نیچے اتارو"
معاویہ نے اس کی بغیر سنے اسے بیڈ پر لٹایا
"چلو آرام سے سو جاؤ تمہارا محافظ ہو لٹیرا نہیں"
اسے اچھی طرح بلینکٹ اڑھا کر خود بھی دوسرے سائڈ پر کروٹ لے کر لیٹ گیا۔۔۔۔ حیا تھوڑی دیر میں نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی مگر جگہ کم ہونے کی وجہ سے معاویہ کو نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کر کے سیدھا لیٹا ہوا تھا جب حیا نے نیند میں اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ معاویہ نے سوئی ہوئی حیا کے چہرے پر نظر ڈالی ابھی وہ اس کا ہاتھ ہٹانے والا تھا جب حیا نے اپنا پاؤں بھی اس کے اوپر رکھ دیا۔۔۔۔ اس کا ارادہ گیسٹ روم میں حیا کو لاکر تنگ کرنے کا تھا مگر اس وقت حیا اسے تنگ کرنے پر تلی ہوئی تھی
"حیا اٹھو چلو اپنے روم میں چلتے ہیں"
معاویہ اس کا بازو ہلا کر دھیمی آواز میں بولا
"سونے دو مجھے پلیز"
نیند میں ڈوبی ہوئی حیا کی آواز آئی۔۔۔۔ حیا نے مزید معاویہ کے قریب ہو کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھ لیا
اس کی اس حرکت پر معاویہ نے لمبا سانس خارج کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا اسے اندازہ تھا نیند اب اسے مشکل سے یہ ہی آنی ہے
**
جب وہ صبح سو کر اٹھی تو اس نے اپنے آپ کو روم میں پایا سب سے پہلی نظر اس کی کھڑکی کی طرف پڑی جو کہ بند تھی چاروں طرف اپنے کمرے میں نظر دوڑا کر دیکھا سکون کا سانس لیا۔۔۔۔ اتنی دیر میں روم کا دروازہ کھلا اور معاویہ ٹریک سوٹ میں اندر داخل ہوا
"میں روم میں کیسے آئی"
حیا نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"یہ جرات تو صرف تمہارا دو ٹکے کا پولیس والا ہی کرسکتا ہے جانم۔۔۔ ورنہ رات میں سوتے ہوئے تم نے جتنی مجھے لاتے ماری ہے ارادہ میرا تمہیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینکنے کا تھا مگر تم اپنے معاملے میں میری برداشت بھی دیکھ لو اور میری تم سے محبت بھی"
معاویہ حیا کے پاس آکر اپنے ہاتھ حیا کے دائیں بائیں بیڈ پر ٹکا کر اس کی طرف جھکتا ہوا کہنے لگا۔۔۔۔۔ تو حیا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹایا
"یہ وینڈو تم نے بند کی"
حیا نے معاویہ کو دیکھ کر پوچھا
"کل رات کو ہی بند کردی تھی ورنہ تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اپنے شوہر کو شہد کی مکھیوں کا ڈنر بنانے کے لئے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"یہ بتا کر تم مجھے شرمندہ کرنا چاہ رہے ہوں تو وہ میں بالکل نہیں ہوں"
یعنی اس کو رات کو ہی میری کارستانی کا پتہ چل گیا تھا سنگل بیڈ پر سلاکر اس نے مجھ سے میرے کارنامے کا بدلہ لیا۔۔۔۔ حیا نے دل میں سوچا
"شرمندہ نہیں کررہا بےبی یہ بتانا چاہ رہا ہو نیکسٹ پلان کوئی ڈھنگ کا بنانا"
دل جلانے والی اسمائل پاس کر کے وادڈروب سے اپنا یونیفارم نکال کر وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا
***
"مام کل ارسل کا کزن اس کی فیملی شام میں ہمارے گھر آرہے ہیں چائے پر۔۔۔۔ ذرا اچھا ارینجمنٹ کرلئے گا"
ناشتے کی ٹیبل پر سب خاموش ناشتہ کر رہے تھے تو معاویہ نے ناعیمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"کس سلسلے میں آرہے ہیں خیریت" خضر نے چائے پیتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا
"موحد کی بہنیں اس کی شادی کے لیے اچھی لڑکی اور اچھا خاندان دیکھ رہے ہیں۔۔۔ ارسل نے مجھ سے سرسری سا ذکر کیا تو میں نے ارسل سے کہہ موحد اور اس کی فیملی کو کل شام یہاں انوائیٹ کرلیا"
ناشتہ کرتے ہوئے اس نے موحد کے بارے میں بتایا بات کے اختتام پر سب کی طرف دیکھا،، تو سب ناشتہ چھوڑ کر معاویہ کی طرف ہی دیکھ رہے تھے سوائے صنم کہ جو کہ مسلسل اپنی پلیٹ میں جھکی ہوئی تھی
"ان سب باتوں کا مطلب کیا ہے تمہارا جب کہ میں آج بلال کو فون کرکے منگنی کی ڈیٹ فکس کرنے والا ہو"
خضر نے تیوری پر بل چڑھاتے ہوئے کہا
"ہاں آپ انہیں فون کریں مگر رشتے کے لئے منع کردیں یہ شادی میں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔صنم ناشتہ کرلیا ہے تو آؤ تمھیں یونیورسٹی چھوڑ دو"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کے کہنے پر فورا صنم اٹھ گئی بغیر کسی کو دیکھے خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گئی، اس کے پیچھے معاویہ بھی نکل گیا اور وہ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہ گئے
"اس الو کے پٹھے کی وجہ سے مجھے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑے گی زین اور بلال کے سامنے۔۔۔ باپ کا ذرا احساس نہیں ہے اس عمر میں مجھے ذلیل کروا رہا ہے"
خضر نائمہ کی طرف دیکھتا ہوا گرجا اور اپنا کوٹ کرسی کے پیچھے سے اٹھا کر خود بھی آفس کے لئے نکل گیا
حیا نے ایک نظر ناعیمہ کے پریشان چہرے پر ڈالی مگر وہ بھی کچھ بول نہ سکی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment