Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 44

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 44


"مسسز ہادی کیا حال ہیں آپ کے کیا ہو رہا ہے"
صنم نے کال ریسیو کی تو ہادی کی آواز کانوں سے ٹکرائی اپنا نام نئے انداز میں ہادی کے منہ سے سن کر اس کا دل زور سے دھڑکا

"میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں"
صنم نے اس کی خیریت جاننی چاہی

"خود اندازہ لگا لو میرے حال کا کیسا ہو سکتا ہے۔۔ آج جب حال دل بنانے کی باری آئی تو تم نے گھر جانے کا بول دیا،،، آج ہمارا نکاح ہوا ہے اور تم اتنی دور"
ہادی نے حسرت بھرے لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے کہا تو صنم کی پلکیں بے اختیار نیچے جھک گئی جیسے وہ اس کے قریب ہی بیٹھا ہوں

"کیا کر رہی تھی اس وقت"
ہادی نے اس کے شرمانے کا نوٹس لیا تو خود سے ہی دوسرا سوال کیا

"یہی سوچ رہی تھی آج جو ہو گیا ہے اس کے بعد اب کیا ہوگا"
صنم کو واقعی آنے والے وقت کے فکر ہونے لگی

"آنے والے وقت کی ٹینشن نہیں لو مسسز۔۔۔ یہ جو آج حسین پل نصیب ہوئے ہیں ان کو صرف میری اور اپنی باتیں سے مزید حسین بناؤ"
ہادی نے بیڈ پر رکھا ہوا تکیہ گود میں رکھتے ہوئے بولا

"ہادی آپ یوں ہی ساری عمر چاہیں گے نہ مجھ کو"
اس نے ساری زندگی جس طرح اپنی مام ڈیڈ کا ریلیشن دیکھا تھا اسے ہمیشہ اپنے لئے یہی خیال آتا تھا پتہ نہیں اس کے نصیب میں کیا لکھا ہے آج نکاح کے بعد ایک بار پھر یہ سوچ دماغ میں آئی تو وہ ہادی سے پوچھ بیٹھی

"جب جب میرا دل میرے دماغ پر حاوی ہوتا ہے تو میرا دل چاہتا ہے تمہیں چاہنے کی وجہ ڈھونڈ رہا ہوں اور اس میں، میں کامیاب بھی ہو جاتا ہوں۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ زندگی میں دل دماغ پر حاوی رہتا ہے یا دماغ دل پر"
ہادی نے سنجیدگی سے بولا

"مطلب آپ کا دماغ دل پر حاوی ہوا تو آپ کے پاس مجھے چاہنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی" صنم نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔ جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو

"صنم میں اس وقت صرف اپنے دل کی سننا چاہتا ہوں اور اپنی اور تمہاری باتیں کرنا چاہتا ہوں"
ہادی نے ایک دفعہ پھر اپنی بات دہرائی

"صرف یہ بتادیں آج آپ نے نکاح کرکے اپنے دل کی سنی ہے یا دماغ کی"
صنم کو خدشات میں گرنے لگی اور اس کا دل بیٹھنے لگا

"دونوں کی مسز میرا دل دماغ بلکہ کا پورا ہادی محسود ہی تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ ۔۔ میرے دل اور دماغ دونوں کے لئے تم بہت اہمیت رکھتی ہو"
ہادی کی بات سن کر صنم کے دل کو میں اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا

"کبھی کبھی تو آپ ڈرا ہی دیتے ہیں ہادی"
صنم نے آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرتے ہوئے کہا

"ویسے تمہیں تھوڑا تھوڑا ڈرنا بھی چاہیے اپنے ہادی سے۔۔ اوکے اب تم سو جاؤ بعد میں بات کرتے ہیں"
ہادی نے فون بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیا اور خود بھی سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔ دوسری طرف صنم اس کی بات کا مفہوم سمجھنے کے لیے مزید الجھ گئی

**

جب اسے اچھی طرح یقین ہو گیا کہ معاویہ سو چکا ہے بغیر آواز نکالے وہ اٹھ کر بیٹھی اور سوئے ہوئے معاویہ پر ایک نظر ڈالی۔۔۔۔ بیڈ سے اٹھ کر روم میں موجود کھڑکی کو آہستہ سے کھولا اور اپنے گرد بڑی سی چادر لپیٹ کر دبے پاؤں روم سے باہر نکلی اور روم کا دروازہ لاک کردیا۔۔۔۔ کچن میں پہنچ کر اسٹیل کے برتن میں کوئلے ڈال کر اس میں تیل ڈالا اور میچ باکس لے کر لان کی طرف آگئی۔۔۔۔ مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر بالکل درخت کے نیچے برتن رکھا اور میچ باکس سے تیلی نکال کر کوئلے جلائے۔۔۔۔ کوئلو سے دھواں اٹھنے لگا تو حیا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رقصاں ہوئی۔۔۔ اب یہاں کھڑے رہنا اس کے خود کے لئے بھی خطرہ تھا اس لئے گھر کے اندر کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگے

**

معاویہ جوکہ گہری نیند میں سو رہا تھا اچانک روم کا دروازہ کھلا اور بند ہوا اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔ پولیس کی جاب جب سے جوائن کی تھی تب سے سوتے میں بھی اس کا دماغ جاگا رہتا تھا وہ دوبارہ سو جاتا تھا اگر روم کی کھڑکی کھلی نہیں ہوتی اس چیز نے اس کی حساسیت کو بیدار کر دیا کیونکہ یہ کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی بستر پر حیا کی غیر موجودگی پر وہ مزید ٹھٹکا واش روم اور ڈریسنگ روم کی لائٹ آف تھی یعنی حیا روم میں موجود نہیں تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر لیمپ آن کیا،، شرٹ پہن کر  احتیاط سے دراز کھولا اور اپنا لوڈڈ ریوالور نکالا کھڑکی کی طرف بڑھا اور احتیاط سے کھڑکی سے باہر جھانکا سفید چادر میں کوئی وجود لپٹا ہوا درخت کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔ اس نے بغیر آواز کے کھڑکی بند کی اور تیزی سے روم سے نکلنے لگا دروازے پر پہنچ کر ہینڈل گھمایا تو دروازہ لاک تھا جلدی ڈراز سے ڈوبلی کیٹ چابی نکالی روم کا دروازہ کھولا تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا رات کی وجہ سے تقریبا سب ہی اپنے کمروں میں سو رہے تھے
اسے حیا کی فکر ہونے لگی تیزی سے گھر سے باہر نکلا لان میں پہنچ کر دیوار کی آڑ سے اس مشکوک فرد کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ چادر میں لپٹی ہوئی وہ حیا کو پہچان گیا تو ریولور فورا نیچے کی مگر وہ یہاں اس وقت کیا کر رہی تھی یہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ جب اس نے حیا کو کوئلے دہکھاتے ہوئے دیکھا تو اس کی نظر درخت کے اوپر شہد کے چھتے پر پڑی،،،، دو سیکنڈ لگے اسے حیا کی کارستانی کو سمجھنے میں اور اسے یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ کھڑکی کھلی ہونے کا روم کا دروازہ لاک ہونے کا مقصد کیا تھا

"او تو شیرنی اپنے شوہر کو شہد کی مکھیوں کا ڈنر بنانا چاہتی تھی"
تاسف سے سر ہلاتے ہوئے وہ جلدی سے گھر کے اندر واپس چلا گیا

**

حیا جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئی چادر اتار کر صوفے پر ڈالی اور کچن کا رخ کیا بری طرح کسی سے ٹکرائی اس سے پہلے اس کی چیخ نکلتی معاویہ نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کے اس کو چیخنے سے باز رکھا

"شش کیا کر رہی ہو سب اٹھ جائیں گے" معاویہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی 

"تم۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو"
حیا اسے حیرت اور صدمے سے دیکھ رہی تھی اس وقت معاویہ کو اپنا سامنے کھڑے دیکھ کر سے کافی گہرا صدمہ پہنچا تھا

"پہلے تم بتاؤ تم یہاں کیا کر رہی ہو" معاویہ نے الٹا اس سے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔ اس کا پلان فیل ہوا تو اب اسے اپنی فکر ہونے لگی۔۔۔۔۔ اگر اس دو ٹکے کے پولیس والے کو پتہ چل جاتا کہ وہ اس کے خلاف کیا سوچے بیٹھی تو راتوں رات اس کی شامت لے آتا 

"کچن میں باتھ لینے، تو آنے سے رہی ظاہری بات ہے پانی پینے آئی تھی"
حیا نے گھبرائے بغیر اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے بولا

"مگر بیڈ روم میں تو پانی کا جگ موجود ہے اور وہ یقینا پانی سے بھرا ہوا بھی ہے" 
معاویہ نے آنکھیں سکھیڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"ہاں جگ موجود تھا اس میں پانی بھی موجود تھا مگر گلاس موجود نہیں تھا۔۔۔۔ اور اگر وہاں پر گلاس موجود بھی تھا تو مجھے نہیں دکھا اس لیے میں کچن میں آگئی پانی پینے کے لئے۔۔۔ تمہیں کیا پرابلم ہے میرے یہاں آنے پر"
حیا نے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑنے والے انداز میں اس سے پوچھا

"دروازہ کیوں لاک کرکے آئی تھی تم روم کا"
معاویہ اب بھی اسے مشکوک انداز میں دیکھتے ہوئے اس سے سوال کر رہا تھا

"دروازہ۔ ۔۔۔۔ روم کا لاک کرکے میں آئی تھی،،، تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے۔۔۔۔ بھلا میں کیوں کروں گی دروازہ باہر سے لاک" حیا اس کی بات پر صاف مکر گئی

"اور اگر روم کا دروازہ لاک تھا تو تم یہاں کیسے آئے ہو"
حیا کو ایک بار پھر اسے اپنے سامنے صحیح سلامت کھڑے دیکھ کر افسوس ہونے لگا

"میں نے جب روم میں دیکھا تم وہاں موجود نہیں تھی، تو میں تمہیں دیکھنے کے لیے روم سے باہر نکلا،، تو دروازہ لاک تھا ڈوبلی کیٹ چابی سے دروازہ کھول کر یہاں پر تمہیں دیکھنے کے لئے آیا ہوں،، تمہارے خیال سے اور تم مجھ سے پوچھ رہی ہو میں یہاں کیا کر رہا ہو ویسے تمہیں کیوں اتنی پروبلم ہو رہی ہے مجھے یہاں دیکھ کر"
معاویہ اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر اس سے پوچھنے لگا

"مجھے کیوں پرابلم ہوگی۔۔۔ تم جہاں مرضی چاہے جاؤ" حیا نے اب چپ رہنے میں عافیت جانی۔۔۔ معاویہ ابھی بھی چپ کرکے حیا کو دیکھ رہا تھا

"کیا ہوا ایسے کیوں گھور رہے ہو"
حیا نے اس کو گھورتا دیکھ کر جلدی سے فرج سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی پینے لگی

"آب کیا ساری رات یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے چلو روم میں"
جب حیا نے پانی پی لیا تو معاویہ اس کا ہاتھ پکڑ کر روم کی طرف قدم بڑھانے لگا

"ارے چھوڑو میرا ہاتھ مجھے نہیں جانا روم میں"
حیا اس کا ہاتھ چھڑا کر ایسے پیچھے ہوئی جیسے روم میں جانے کے نام سے ہی اسے 140 واٹ کا کرنٹ لگا ہوں

"جانم تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے ہمارے بیڈ روم میں اس وقت کوئی بھوت موجود ہو"
معاویہ نے اس کے گھبراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

"بھوت سے کون ڈرتا ہے بھوت کو تو میں خود اس کی نانی یاد دلادو۔۔۔ مگر شہد کی مکھیوں سے کون مقابلہ کر سکتا ہے بھلا"
دوسرا جملہ اس نے دل میں بولا

"اب میں اس کا کیا مطلب سمجھو تم مجھے روم میں لاک کرکے آئی ہوں اب کمرے میں نہیں جا رہی ہوں۔۔۔۔ کہیں میرا مرڈر کرنے کا پلان تو نہیں تھا تمہارا جلدی سے بولو"
معاویہ نے دوبارہ مشکوک انداز اپنا کر  اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ اس کے قدم بڑھانے سے حیا پیچھے ہوکر کچن کی دیوار سے چپک گئی

"تمہیں شرم آنی چاہیے اپنی معصوم سی بیوی پر اس طرح شک کرتے ہوئے۔۔۔ بھلا میں کیوں تمہارا مرڈر کرونگی اور بار بار الزام لگانا بند کرو میں نے کوئی دروازہ لاک نہیں کیا"
حیا نے نڈر ہوکر جھوٹ بولا

"تو یہ معصوم بیوی میرے ساتھ اوپر کیوں نہیں چل رہی ہے بیڈروم میں"
معاویہ نے ابھی ابھی تفتیش جاری رکھتے ہوئے سوال کیا

"کیوں کہ میرا دل نہیں کر رہا میں گیسٹ روم میں سووں گیآج رات۔ ۔۔ اگر تمہیں بھی وہی سونا ہے تو وہی گھسو مرو میرے ساتھ اور اپنی یہ دو ٹکے کی تفتیش بن کرو۔۔۔ میری کھوپڑی آدھی کردی ہے جب سے سوالات کر کر کے تم نے"
حیا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"سیریز بےبی گیسٹ روم میں ہم دونوں  واقعی ساتھ سوئے ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے"
معاویہ کی آنکھیں چمکی اس کی وجہ حیا کو سمجھ میں نہیں آئی

"ہاں تو اس میں برائی کیا ہے ویسے بھی مہینے میں ایک آدھ بار سونا چاہیے گیسٹ روم میں بھی۔۔ اخر وہ بھی تو گھر کا ہی حصہ ہوتا ہے"
حیا کو اپنے اوپر سے بلا ٹلتی ہوئی محسوس ہوئی تو یوں ہی بات بناتے ہوئے بول دیا مگر معاویہ کی آنکھوں میں ناچتی ہوئی شرارت سے وہ بے خبر تھی

"ویٹ میری شیرنی میں ابھی گیسٹ روم کی چابی لے کر آتا ہوں"
معاویہ مسکراتا ہوا اسٹرڈی روم کی طرف گیا اور چابی لے کر آیا۔۔۔
گیسٹ روم کا دروازہ کھولا اور حیا کو ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے کے لئے کہا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment