Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 43
"آپ کیا بول رہے ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے"
صنم کو گھبراہٹ ہونے لگی جس کی جھلک اس کے چہرے پر صاف نمایاں تھی
"جو تمہیں سمجھ میں نہیں آرہا وہ میں تمہیں تھوڑی دیر میں سمجھا دوں گا۔۔۔ یہ بتاو اعتبار کرتی ہوں مجھ پر"
ہادی نے اس کے ہاتھ چھوڑ کر چہرہ تھاما اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔صنم نے اثبات میں سر ہلایا،، اتنے میں ہادی کا موبائل بجا اس نے نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"ہاں میں پہنچ گیا ہوں تم لوگ کہاں ہو۔۔۔ ٹھیک ہے میں دروازہ کھولتا ہوں" کال کاٹ کر ہادی اٹھنے لگا
"ہادی"
صنم کے بولنے پر اس نے صنم کو دیکھا،،، بہت سے سوالات اس کی آنکھوں میں موجود تھے
"انتظار کرو آرہا ہوں تھوڑی دیر میں"
وہ صنم کا کال تھپتھپاتا ہوا اٹھ گیا اور روم کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا
صنم ہی بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی چند منٹ گزرنے کے بعد ہادی آیا اور دروازہ دوبارہ بند کیا
"مس صنم آج تمہاری محبت کا امتحان ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے تم سے کہا تھا مجھے کچھ چاہیے،،، تو صنم مجھے تمہارا ساتھ چاہیے زندگی بھر کے لیے، ابھی تھوڑی دیر میں ہمارا نکاح ہے بولو تم راضی ہو"
ہادی نے اچانک صنم کے سر پر بم پھاڑ وہ حیرت زدہ ہوکر پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہادی کو دیکھے گئی
"ہادی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔۔ ہمارا نکاح اس طرح مگر کیوں ہادی"
صنم کی آنکھوں میں کئی سوالات ہلکورے لے رہے تھے
"دیکھو صنم بات سمپل سی ہے میں تمھیں اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لئے شامل کرنا چاہتا ہوں، اسی وجہ سے یہ سب کر رہا ہوں، تمہارا بھائی ہماری شادی کبھی بھی نہیں ہونے دے گا یہ تم لکھ کر رکھ لو بغیر نکاح کے میں تم پر کوئی حق نہیں رکھتا۔۔۔ اگر ہمارا نکاج ہوجاتا ہے تو وہ کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔ اب میں فیصلہ تم پر چھوڑتا ہوں اگر تم میرا ساتھ عمر بھر کے لئے چاہتی ہو تو بتا دو اور اگر نہیں،، تو میں تمہیں تمہارے گھر ڈروپ کر کے آ جاتا ہوں۔۔۔ مگر پھر اسکے بعد ہماری شادی کے چانسز مشکل ہے اب بتاؤ کیا فیصلہ ہے تمہارا"
ہادی نے صنم کو ساری بات سمجھاتے ہوئے فیصلے کا حق صنم پر چھوڑا
"ہادی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا میں کیا بولوں۔۔۔ آپ نے بہت مشکل میں ڈال دیا مجھے" صنم اس وقت رو دینے والی ہوگئی
ہادی سے شادی وہ کرنا چاہتی تھی مگر اس طرح اس نے سوچا نہیں تھا یہ انتہائی بڑا قدم تھا
"یہاں دیکھو صنم میری طرف، تمہیں میرا ساتھ عمر بھر کے لئے چاہیے"
صنم نے ہادی کی بات بھی اثبات میں سر ہلایا
"تو پھر چلو"
ہادی نے اسے دونوں بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کا دوپٹہ اس کے سر پر اڑایا
صنم نے ہادی کو دیکھا تو وہ مسکرایا مگر وہ اتنی شاک تھی کے مسکرا بھی نہیں سکی
"آؤ میرے ساتھ" ہادی نے کہا اور صنم اس کے ساتھ روم سے باہر آ گئی
باہر ہادی کے چند دوست مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ ہادی کے کہنے پر نکاح شروع ہوا،،، ہادی کے اشارے پر دوسرا دوست اس منظر کی ویڈیو بنا رہا تھا
صنم نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ نکاح نامے پر سائن کیا۔۔۔۔ یہ بہت بڑا قدم تھا جو اس نے اپنے ماں باپ اور بھائی کے بناء اٹھایا تھا اس لئے کافی ڈری ہوئی تھی نکاح مکمل ہوا تو صنم ہادی کے اشارے پر واپس روم میں چلی گئی
تھوڑی دیر بعد ہادی اپنے دوستوں سے فارغ ہو کر روم میں آیا تو صنم ابھی بھی دوپٹہ سر پر اڑھے ہوئے بیڈ پر بیٹھی تھی اور مسلسل اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔۔۔ ہادی اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔۔ تو صنم نے اپنا سر جھکا لیا ہادی نے تھوڑی تھام کر صنم کا چہرہ اوپر کیا صنم نے نروس ہو کر اپنی آنکھیں جھکالی
"تم ٹھیک ہو"
ہادی نے اس کو نروس ہوتا دیکھ کر پوچھا جس کا جواب صنم نے آنکھوں کے اشارے سے دیا
"کیسا لگ رہا ہے صنم مراد سے مسز ہادی مسعود تک کا سفر"
ہادی نے اسکے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے پوچھا جو کہ ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ ہادی نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں چھپاکر گرمائش فراہم کرنی چاہیے
"میری بات کا جواب نہیں دیا"
ہادی نے صنم کے چپ رہنے پر دوبارہ استفادہ کیا
"میں نے نکاح نامے پر سائن کر کے آپ کو اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے ہادی،، مام ڈیڈ بھائی سے چھپ کر اس طرح نکاح،، یہ میرے لئے بہت مشکل اور بڑا قدم تھا مگر میں نے آپ کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے،،، پلیز آپ ہر قدم پر میرے ہم قدم رہیے گا وعدہ کریں مجھ سے"
صنم کی آنکھیں میں تھوڑی دیر پہلے والے ڈر کی جگہ اب امیدوں کے دئیے جلنے لگے تھے شاید کچھ دیر پہلے نکاح کے مقدس بندھن میں بندھنے کے بعد اسے ہادی سے امیدیں وابستہ ہوگئی تھی
"صنم میں نے تم سے نکاح کیا ہے، منکوحہ ہوں تو میری اس لیے ہر قدم پر تمہیں میرا ہم قدم رہنا ہے اور میرا ساتھ دینا ہے میں تو تمہارے ساتھ ہو ہی"
ہادی نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر لگاتے ہوئے کہا
"اور کچھ مانگو تو وہ بھی دوگی"
ہادی نے اس کے سر سے دوپٹہ اتارتے ہوئے پوچھا۔۔۔ صنم اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر پھر سے چہرہ نیچے جھکا گئی ہادی نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر اوپر کیا اور اپنے چہرے کے قریب لایا
"ہادی پلیز میں گھر جانا چاہتی ہوں"
صنم فوری طور پر اس سب کے لیے تیار نہیں تھی یوں اچانک نکاح ہی اس کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا
"اوکے آجاؤ میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں"
ہادی نے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اس کا دوپٹہ درست کرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا
**
"کہاں سے آ رہی ہو تم"
صنم کے گھر پہنچتے ہی معاویہ نے سوال کیا
"یون۔۔ یونیورسٹی سے"
صنم کی زبان جھوٹ بولنے کی وجہ سے لڑکھڑانے لگی
"فون کیو بزی تھا تمہارا"
معاویہ نے دوبارہ تفتیشی انداز برقرار رکھتے ہوئے پوچھا
"و۔۔ وہ فر فریحہ نہیں آئی تھی تو اس کی کال آرہی تھی"
صنم نظر جھکا کر مجرمانہ انداز میں معاویہ کو بتانے لگی
"موبائل دیکھاو اپنا"
معاویہ کی بات سن کر صنم کی سانس روک گئی اس نے سر اٹھا کر معاویہ کو دیکھا۔۔۔۔ معاویہ بہت غور سے صنم کا زرد پڑتا چہرہ اور اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ رہا تھا
"بھائی وہ موب بائیل کی بیٹری"
خوف کے مارے صنم کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
"صنم موبائل دو اپنا"
معاویہ نے صنم کو گھورتے ہوئے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔ صنم نے سست ہاتھوں سے اپنا موبائل معاویہ کی طرف بڑھایا۔۔۔۔ معاویہ نے صنم کو دیکھتے ہوئے موبائل اس کے ہاتھ سے لیا
"پاسورڈ بتاو"
اب معاویہ نے صنم کو دیکھے بغیر موبائل کو دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا
"لائیے بھائی میں ڈال دیتی ہوں"
صنم نے نظریں چراتے ہوئے معاویہ سے کہا
آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ معاویہ کے سامنے اسے اپنی روح فنا ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور آج پہلی ہی دفعہ معاویہ اس سے اس طرح باز پرس کر رہا تھا
"صنم پاسورڈ بتاؤ"
اب معاویہ صنم کو آنکھیں دکھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
Haadii
صنم نے ایک سانس میں آنکھیں بند کرتے ہوئے پاس ورڈ کی اسپیلنگ بتائی اور ساتھ ہی وہ بری طرح کانپنے لگی
معاویہ نے دونوں لب بینچ کر اس کو گھور کر دیکھا اور اپنے آپ کو کوئی سخت الفاظ کہنے سے باز رکھا
موبائل میں پاسورڈ ڈال کر کال لاگ کھولا تو وہ کلیئر تھا ہسٹری بھی ساری ڈیلیٹ تھی۔۔۔۔معاویہ نے غصہ سے بھری نگاہ صنم پر ڈالی وہ ابھی تک آنکھیں بند کئے ہوئے کانپ رہی تھی
صنم کو گھر چھوڑنے سے پہلے ہادی نے اس کا موبائل مانگا تھا جو صنم نے غائب دماغی میں اس کو تھما دیا تھا ہادی نے ساری کال ہسٹری اور اپنے میسج کلیئر کر دیے تھے اس بات کا صنم کو پتہ بھی نہیں تھا
"میری بات کان کھول کر سن لو صنم"
معاویہ نے صنم کا بازو سختی سے پکڑتے ہوئے کہا تو صنم نے آنکھیں کھول کر معاویہ کو دیکھا
"جو تم چاہ رہی ہو یا جو ڈیڈ چاہ رہے ہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا اپنے دل اور دماغ دونوں میں یہ بات بٹھالو۔۔۔۔ کال ریکارڈ نکلوانا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے،،، اس موبائل کا آئندہ غلط استعمال ہوتے نہ دیکھو۔۔۔ کل سے تمہیں میں خود یونیورسٹی لے کر جاوں گا اور واپس لے کر آؤں گا اور آخری بات اس موبائل کا پاسورڈ فورا چینج کرو اس نام کو اپنے ذہن سے کھرچ دو ورنہ یہ کام میں خود کروں گا جاو روم میں اپنے"
صنم نے دکھ بھری نظر معاویہ پر ڈالی اور اپنے روم میں چلی گئی
"اپنے موبائل سے اس کا نام کیسے ہٹا دو جس کا نام میں آج اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر آرہی ہوں"
صنم نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے سوچا
**
"آگئے اپنی بہن سے تفتیش کر کے"
معاویہ جیسے ہی روم میں داخل ہوا حیا کا طنز بھرا تیر اڑتا ہوا آیا
اس وقت جتنا سنجیدہ موڈ میں تھا مگر اپنی شیرنی کا انداز اور ادوار دیکھ کر اس کا موڈ ایک دم فریش ہو گیا۔۔۔۔ وہ سامنے صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کئے ہوئے میگزین کے ورق الٹ رہی تھی
"بےبی میرے ساتھ رہ کر تمہیں بھی میرا رنگ چڑھ گیا ہے آخر ہونا پولیس والے کی بیوی۔۔۔ ساری ادھر ادھر کی خبروں پر نظر رہتی ہے تمہاری"
وہ اپنی مسکراہٹ دباتا ہوا صوفے پر اس کے پاس آکر بیٹھا،، حیا کے پاوں کا رخ اسی کی طرف تھا
"ایکسکیوزمی مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہاری جاسوسی کرنے کا یا ادھر ادھر کی خبر رکھنے کا۔۔۔میں وہاں سے گزر رہی تھی تو نظر پڑی بلاوجہ میں اپنی بہن پر روعب جھاڑ رہے تھے اور ایک وہ ہے صنم پتہ نہیں اتنا ڈرتی کیوں ہے تم سے"
حیا نے میگزین ایک طرف رکھتے ہوئے معاویہ کی غلط فہمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ صنم پر تعجب کا اظہار کیا
"کیوں تم نہیں ڈرتی مجھ سے"
معاویہ اس کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
"میں کیوں ڈرو گی تم سے اور اس طرح گھورنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے"
معاویہ کی نظریں کافی دیر تک خود پر محسوس کرکے بالآخر وہ بول پڑی
"کل رات تو ڈر گئی تھی نہ"
معاویہ اب بھی گہری نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا
معاویہ کی بات سن کر ایک بار پھر حیا کا چہرہ لال ہونے لگا اس نے اپنی نظریں معاویہ پر سے ہٹا کر میگزین دوبارہ کھولا
"اپنی بہن سے سوالات کر کر کے تمہارا پیٹ نہیں بھرا جو اب یہاں پر میرا سر کھانے لگے ہو"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کر کے میگزین میں دیکھتے ہوئے کہا
"او تو مسز معاویہ مراد بھی شرماتی ہیں"
معاویہ اسے پر شوخ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
"میں شرمانے والی نہیں شرم دلانے والی ہو۔ ۔۔۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم اپنے کام سے کام رکھو"
حیا کے بولنے کی دیر تھی معاویہ نے اس کی دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر سیدھا کیا وہ ایک جھٹکے سے سیدھے ہوکر صوفے پر گری معاویہ اس کے اوپر جھکا
"یہ کیا کر رہے ہو تم"
حیا نے چیخ کر کہا
"ابھی تم نے ہی تو کہا تھا اپنے کام سے کام رکھو"
وہ حیا کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا بولا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 43
"آپ کیا بول رہے ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے"
صنم کو گھبراہٹ ہونے لگی جس کی جھلک اس کے چہرے پر صاف نمایاں تھی
"جو تمہیں سمجھ میں نہیں آرہا وہ میں تمہیں تھوڑی دیر میں سمجھا دوں گا۔۔۔ یہ بتاو اعتبار کرتی ہوں مجھ پر"
ہادی نے اس کے ہاتھ چھوڑ کر چہرہ تھاما اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔صنم نے اثبات میں سر ہلایا،، اتنے میں ہادی کا موبائل بجا اس نے نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"ہاں میں پہنچ گیا ہوں تم لوگ کہاں ہو۔۔۔ ٹھیک ہے میں دروازہ کھولتا ہوں" کال کاٹ کر ہادی اٹھنے لگا
"ہادی"
صنم کے بولنے پر اس نے صنم کو دیکھا،،، بہت سے سوالات اس کی آنکھوں میں موجود تھے
"انتظار کرو آرہا ہوں تھوڑی دیر میں"
وہ صنم کا کال تھپتھپاتا ہوا اٹھ گیا اور روم کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا
صنم ہی بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی چند منٹ گزرنے کے بعد ہادی آیا اور دروازہ دوبارہ بند کیا
"مس صنم آج تمہاری محبت کا امتحان ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے تم سے کہا تھا مجھے کچھ چاہیے،،، تو صنم مجھے تمہارا ساتھ چاہیے زندگی بھر کے لیے، ابھی تھوڑی دیر میں ہمارا نکاح ہے بولو تم راضی ہو"
ہادی نے اچانک صنم کے سر پر بم پھاڑ وہ حیرت زدہ ہوکر پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہادی کو دیکھے گئی
"ہادی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔۔ ہمارا نکاح اس طرح مگر کیوں ہادی"
صنم کی آنکھوں میں کئی سوالات ہلکورے لے رہے تھے
"دیکھو صنم بات سمپل سی ہے میں تمھیں اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لئے شامل کرنا چاہتا ہوں، اسی وجہ سے یہ سب کر رہا ہوں، تمہارا بھائی ہماری شادی کبھی بھی نہیں ہونے دے گا یہ تم لکھ کر رکھ لو بغیر نکاح کے میں تم پر کوئی حق نہیں رکھتا۔۔۔ اگر ہمارا نکاج ہوجاتا ہے تو وہ کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔ اب میں فیصلہ تم پر چھوڑتا ہوں اگر تم میرا ساتھ عمر بھر کے لئے چاہتی ہو تو بتا دو اور اگر نہیں،، تو میں تمہیں تمہارے گھر ڈروپ کر کے آ جاتا ہوں۔۔۔ مگر پھر اسکے بعد ہماری شادی کے چانسز مشکل ہے اب بتاؤ کیا فیصلہ ہے تمہارا"
ہادی نے صنم کو ساری بات سمجھاتے ہوئے فیصلے کا حق صنم پر چھوڑا
"ہادی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا میں کیا بولوں۔۔۔ آپ نے بہت مشکل میں ڈال دیا مجھے" صنم اس وقت رو دینے والی ہوگئی
ہادی سے شادی وہ کرنا چاہتی تھی مگر اس طرح اس نے سوچا نہیں تھا یہ انتہائی بڑا قدم تھا
"یہاں دیکھو صنم میری طرف، تمہیں میرا ساتھ عمر بھر کے لئے چاہیے"
صنم نے ہادی کی بات بھی اثبات میں سر ہلایا
"تو پھر چلو"
ہادی نے اسے دونوں بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کا دوپٹہ اس کے سر پر اڑایا
صنم نے ہادی کو دیکھا تو وہ مسکرایا مگر وہ اتنی شاک تھی کے مسکرا بھی نہیں سکی
"آؤ میرے ساتھ" ہادی نے کہا اور صنم اس کے ساتھ روم سے باہر آ گئی
باہر ہادی کے چند دوست مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ ہادی کے کہنے پر نکاح شروع ہوا،،، ہادی کے اشارے پر دوسرا دوست اس منظر کی ویڈیو بنا رہا تھا
صنم نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ نکاح نامے پر سائن کیا۔۔۔۔ یہ بہت بڑا قدم تھا جو اس نے اپنے ماں باپ اور بھائی کے بناء اٹھایا تھا اس لئے کافی ڈری ہوئی تھی نکاح مکمل ہوا تو صنم ہادی کے اشارے پر واپس روم میں چلی گئی
تھوڑی دیر بعد ہادی اپنے دوستوں سے فارغ ہو کر روم میں آیا تو صنم ابھی بھی دوپٹہ سر پر اڑھے ہوئے بیڈ پر بیٹھی تھی اور مسلسل اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔۔۔ ہادی اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔۔ تو صنم نے اپنا سر جھکا لیا ہادی نے تھوڑی تھام کر صنم کا چہرہ اوپر کیا صنم نے نروس ہو کر اپنی آنکھیں جھکالی
"تم ٹھیک ہو"
ہادی نے اس کو نروس ہوتا دیکھ کر پوچھا جس کا جواب صنم نے آنکھوں کے اشارے سے دیا
"کیسا لگ رہا ہے صنم مراد سے مسز ہادی مسعود تک کا سفر"
ہادی نے اسکے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے پوچھا جو کہ ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے۔۔۔ ہادی نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں چھپاکر گرمائش فراہم کرنی چاہیے
"میری بات کا جواب نہیں دیا"
ہادی نے صنم کے چپ رہنے پر دوبارہ استفادہ کیا
"میں نے نکاح نامے پر سائن کر کے آپ کو اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے ہادی،، مام ڈیڈ بھائی سے چھپ کر اس طرح نکاح،، یہ میرے لئے بہت مشکل اور بڑا قدم تھا مگر میں نے آپ کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے،،، پلیز آپ ہر قدم پر میرے ہم قدم رہیے گا وعدہ کریں مجھ سے"
صنم کی آنکھیں میں تھوڑی دیر پہلے والے ڈر کی جگہ اب امیدوں کے دئیے جلنے لگے تھے شاید کچھ دیر پہلے نکاح کے مقدس بندھن میں بندھنے کے بعد اسے ہادی سے امیدیں وابستہ ہوگئی تھی
"صنم میں نے تم سے نکاح کیا ہے، منکوحہ ہوں تو میری اس لیے ہر قدم پر تمہیں میرا ہم قدم رہنا ہے اور میرا ساتھ دینا ہے میں تو تمہارے ساتھ ہو ہی"
ہادی نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر لگاتے ہوئے کہا
"اور کچھ مانگو تو وہ بھی دوگی"
ہادی نے اس کے سر سے دوپٹہ اتارتے ہوئے پوچھا۔۔۔ صنم اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر پھر سے چہرہ نیچے جھکا گئی ہادی نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر اوپر کیا اور اپنے چہرے کے قریب لایا
"ہادی پلیز میں گھر جانا چاہتی ہوں"
صنم فوری طور پر اس سب کے لیے تیار نہیں تھی یوں اچانک نکاح ہی اس کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا
"اوکے آجاؤ میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں"
ہادی نے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اس کا دوپٹہ درست کرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا
**
"کہاں سے آ رہی ہو تم"
صنم کے گھر پہنچتے ہی معاویہ نے سوال کیا
"یون۔۔ یونیورسٹی سے"
صنم کی زبان جھوٹ بولنے کی وجہ سے لڑکھڑانے لگی
"فون کیو بزی تھا تمہارا"
معاویہ نے دوبارہ تفتیشی انداز برقرار رکھتے ہوئے پوچھا
"و۔۔ وہ فر فریحہ نہیں آئی تھی تو اس کی کال آرہی تھی"
صنم نظر جھکا کر مجرمانہ انداز میں معاویہ کو بتانے لگی
"موبائل دیکھاو اپنا"
معاویہ کی بات سن کر صنم کی سانس روک گئی اس نے سر اٹھا کر معاویہ کو دیکھا۔۔۔۔ معاویہ بہت غور سے صنم کا زرد پڑتا چہرہ اور اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ رہا تھا
"بھائی وہ موب بائیل کی بیٹری"
خوف کے مارے صنم کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
"صنم موبائل دو اپنا"
معاویہ نے صنم کو گھورتے ہوئے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔ صنم نے سست ہاتھوں سے اپنا موبائل معاویہ کی طرف بڑھایا۔۔۔۔ معاویہ نے صنم کو دیکھتے ہوئے موبائل اس کے ہاتھ سے لیا
"پاسورڈ بتاو"
اب معاویہ نے صنم کو دیکھے بغیر موبائل کو دیکھتے ہوئے صنم سے پوچھا
"لائیے بھائی میں ڈال دیتی ہوں"
صنم نے نظریں چراتے ہوئے معاویہ سے کہا
آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ معاویہ کے سامنے اسے اپنی روح فنا ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور آج پہلی ہی دفعہ معاویہ اس سے اس طرح باز پرس کر رہا تھا
"صنم پاسورڈ بتاؤ"
اب معاویہ صنم کو آنکھیں دکھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
Haadii
صنم نے ایک سانس میں آنکھیں بند کرتے ہوئے پاس ورڈ کی اسپیلنگ بتائی اور ساتھ ہی وہ بری طرح کانپنے لگی
معاویہ نے دونوں لب بینچ کر اس کو گھور کر دیکھا اور اپنے آپ کو کوئی سخت الفاظ کہنے سے باز رکھا
موبائل میں پاسورڈ ڈال کر کال لاگ کھولا تو وہ کلیئر تھا ہسٹری بھی ساری ڈیلیٹ تھی۔۔۔۔معاویہ نے غصہ سے بھری نگاہ صنم پر ڈالی وہ ابھی تک آنکھیں بند کئے ہوئے کانپ رہی تھی
صنم کو گھر چھوڑنے سے پہلے ہادی نے اس کا موبائل مانگا تھا جو صنم نے غائب دماغی میں اس کو تھما دیا تھا ہادی نے ساری کال ہسٹری اور اپنے میسج کلیئر کر دیے تھے اس بات کا صنم کو پتہ بھی نہیں تھا
"میری بات کان کھول کر سن لو صنم"
معاویہ نے صنم کا بازو سختی سے پکڑتے ہوئے کہا تو صنم نے آنکھیں کھول کر معاویہ کو دیکھا
"جو تم چاہ رہی ہو یا جو ڈیڈ چاہ رہے ہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا اپنے دل اور دماغ دونوں میں یہ بات بٹھالو۔۔۔۔ کال ریکارڈ نکلوانا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے،،، اس موبائل کا آئندہ غلط استعمال ہوتے نہ دیکھو۔۔۔ کل سے تمہیں میں خود یونیورسٹی لے کر جاوں گا اور واپس لے کر آؤں گا اور آخری بات اس موبائل کا پاسورڈ فورا چینج کرو اس نام کو اپنے ذہن سے کھرچ دو ورنہ یہ کام میں خود کروں گا جاو روم میں اپنے"
صنم نے دکھ بھری نظر معاویہ پر ڈالی اور اپنے روم میں چلی گئی
"اپنے موبائل سے اس کا نام کیسے ہٹا دو جس کا نام میں آج اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر آرہی ہوں"
صنم نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے سوچا
**
"آگئے اپنی بہن سے تفتیش کر کے"
معاویہ جیسے ہی روم میں داخل ہوا حیا کا طنز بھرا تیر اڑتا ہوا آیا
اس وقت جتنا سنجیدہ موڈ میں تھا مگر اپنی شیرنی کا انداز اور ادوار دیکھ کر اس کا موڈ ایک دم فریش ہو گیا۔۔۔۔ وہ سامنے صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کئے ہوئے میگزین کے ورق الٹ رہی تھی
"بےبی میرے ساتھ رہ کر تمہیں بھی میرا رنگ چڑھ گیا ہے آخر ہونا پولیس والے کی بیوی۔۔۔ ساری ادھر ادھر کی خبروں پر نظر رہتی ہے تمہاری"
وہ اپنی مسکراہٹ دباتا ہوا صوفے پر اس کے پاس آکر بیٹھا،، حیا کے پاوں کا رخ اسی کی طرف تھا
"ایکسکیوزمی مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہاری جاسوسی کرنے کا یا ادھر ادھر کی خبر رکھنے کا۔۔۔میں وہاں سے گزر رہی تھی تو نظر پڑی بلاوجہ میں اپنی بہن پر روعب جھاڑ رہے تھے اور ایک وہ ہے صنم پتہ نہیں اتنا ڈرتی کیوں ہے تم سے"
حیا نے میگزین ایک طرف رکھتے ہوئے معاویہ کی غلط فہمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ صنم پر تعجب کا اظہار کیا
"کیوں تم نہیں ڈرتی مجھ سے"
معاویہ اس کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا
"میں کیوں ڈرو گی تم سے اور اس طرح گھورنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے"
معاویہ کی نظریں کافی دیر تک خود پر محسوس کرکے بالآخر وہ بول پڑی
"کل رات تو ڈر گئی تھی نہ"
معاویہ اب بھی گہری نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا
معاویہ کی بات سن کر ایک بار پھر حیا کا چہرہ لال ہونے لگا اس نے اپنی نظریں معاویہ پر سے ہٹا کر میگزین دوبارہ کھولا
"اپنی بہن سے سوالات کر کر کے تمہارا پیٹ نہیں بھرا جو اب یہاں پر میرا سر کھانے لگے ہو"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کر کے میگزین میں دیکھتے ہوئے کہا
"او تو مسز معاویہ مراد بھی شرماتی ہیں"
معاویہ اسے پر شوخ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
"میں شرمانے والی نہیں شرم دلانے والی ہو۔ ۔۔۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم اپنے کام سے کام رکھو"
حیا کے بولنے کی دیر تھی معاویہ نے اس کی دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر سیدھا کیا وہ ایک جھٹکے سے سیدھے ہوکر صوفے پر گری معاویہ اس کے اوپر جھکا
"یہ کیا کر رہے ہو تم"
حیا نے چیخ کر کہا
"ابھی تم نے ہی تو کہا تھا اپنے کام سے کام رکھو"
وہ حیا کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا بولا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment