Itni mohhbat karo na 2
by Zeenia sharjeel
Epi # 42
آج ہادی آفس کے
لیے لیٹ ہوگیا تھا بلال صبح ہی نکل چکا تھا ہادی اپنی کار آفس کے پارکنگ ایریا میں کھڑی کر کے باہر نکلا تو سامنے سے معاویہ آتا دکھائی دیا وہ چہرے پر غصہ لیے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ ہادی نے اس کو دیکھ کر سر جھٹکا اور اپنے قدم آگے بڑھائے دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوئے
"میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ میری بہن سے دور رہنا شاید تم نے میری بات کو سیریس نہیں لیا" معاویہ نے ہادی کے سامنے آتے ہیں کڑے تیوروں کے ساتھ سنجیدگی سے ہادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"یار تمہارا پروبلم کیا ہے میں جس لڑکی سے شادی کے لئے سیریس ہوتا ہوں،،، تو بالکل ہی سیریس ہو جاتے ہو" ہادی نے اس کی سنجیدہ بات کو مذاق کر دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اس کی بات معاویہ کے غصے کو مزید ہوا دی گئی معاویہ نے اس کا گریبان پکڑنا چاہا۔۔۔۔ ہادی نے اس کا ارادہ بھانپ کر اس کے دونوں ہاتھ جھٹکے
"ابھی تمہاری پہلی غلطی کے کھاتے نہیں کھلے تم دوسری غلطی کرنے چلے ہو.. بہت سوچ سمجھ کر میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنا معاویہ مراد... کہیں تمہیں تمہاری غلطیاں.. بہن کی صورت بہت زیادہ مہنگی نہ پڑجائیں" اب کے ہادی کے انداز میں مذاق کا شائبہ تک نہ تھا
"دیکھو ہادی میری بہن کا سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ بہت معصوم ہے... اس کو اپنے اور میرے بیچ میں مت لاو... تمہیں جو بھی کوئی پرخاش ہے مجھ سے ہے، تو مردوں کی طرح مجھ سے بدلہ لو"
معاویہ نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے سنجیدگی سے ہادی سے کہا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد میں تمہاری بہن کو بیچ میں نہیں لایا بیچ میں آنے کی تمہاری پرانی عادت ہے.... پہلے تم میرے اور حیا کے بیچ میں آئے... اب تم میرے اور صنم کے بیچ میں آرہے ہو اور وہ کہاوت تو تم نے سنی ہوگی every thing is fair love and war تم نے اپنا پیار حاصل کرنے کے لئے جو تمہیں ٹھیک لگا وہ تم نے کیا اب میری باری ہے لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ تم نے پیار کے لئے سب کچھ کیا جبکہ میں جو کروں گا وہ صرف انتقام ہوگا.... اسے میری طرف سے جنگ کا سمجھنا تم نے ایک تھپڑ میرے منہ پر مارا تھا نہ اب تم ساری زندگی اس بات کے لئے پچھتاتے رہو گے"
ہادی نے اس کو بولا تو معاویہ لب بینچ کر رہ گیا
"اگر تم نے صنم کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچایا یا میری بہن کو کوئی بھی تکلیف دینے کا سبب بنے تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ہادی مسعود،، یہ تم اچھی طرح جان لو تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ خود اپنے قدم پیچھے ہٹا ورنہ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھنے کے لیے تیار ہو جاؤ" معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو وارن کیا
"یہ پولیس کی وردی پہن کر تم اپنی غنڈہ گردی مجھ پر نہیں دکھا سکتے۔۔۔ ڈرتا نہیں ہوں میں معاویہ تم سے اور آج میری بات یاد رکھنا تم اپنی بہن کی آنکھوں میں جب جب آنسو دیکھو گے تمہیں میں یاد آوں گا۔۔۔ یہاں میرے سامنے کھڑے ہوکر وقت ضائع نہیں کرو جا کر اپنی بہن کو بچانے کی تدبیر سوچو"
ہادی کے جملوں پر معاویہ کا دل چاہا کہ وہ اپنی پسٹل نکال کر اسی وقت اس کو سوٹ کردے اس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بند کی
"تم دیکھنا اب میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
معاویہ کہتا ہوا وہاں رکا نہیں بلکہ وہاں سے چلا گیا
"نہیں معاویہ مراد اب تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
اس نے معاویہ کو جاتا ہوا دیکھ کر کہا اور اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر صنم کا نمبر ملایا
**
معاویہ اپنی کار کی طرف آیا بیٹھ کر کار اسٹارٹ کردی
"کچھ نہ کچھ اس ہادی کا کرنا پڑے گا بہت جلد۔۔۔ مگر اس سے پہلے واقعی صنم کے لئے سوچنا ضروری ہے"
ڈرائیو کرتے ہوئے معاویہ نے سوچا اور پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر صنم کا نمبر ملایا مگر نمبر بزی تھا معاویہ نے اپنا سر جھٹکا اور کار کا رخ یونیورسٹی کی طرف کیا ویسے ہی معاویہ کا موبائل بجنے لگا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد اسپیکنگ"
ڈی ایس پی افتخار کا نمبر دے کر معاویہ نے کہا
"ہاں معاویہ اویس شیرازی کے خلاف جو بھی ایویڈنس تمہارے پاس ہے اس کے متعلق ڈسکس کرنا ہے فوری ہیڈکوارٹر آکر رپورٹ کروں"
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے معاویہ کو فوری آنے کا کہا
"سر بالکل اس وقت میرا مطلب ہے میں نے کل کہا تھا میں دو دن کے اندر"
معاویہ نے کہنا چاہا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد آپ اس وقت آن ڈیوٹی ہیں اور آدھے گھنٹے کے اندر ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کر رہے ہیں۔۔ انڈرسٹینڈ"
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے دوبارہ اپنی بات دہرائی
"یس سر"
معاویہ نے اپنی گاڑی کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کی
**
کل رات معاویہ کی بڑھتی ہوئی جسارتیں اسے اچھا خاصہ شرمندہ کر گئی
"پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہوگا فضول میں میرے بارے میں۔ ۔۔بلاوجہ میں واہیات سی نائٹی پہن لی تھی میں نے بھی۔۔۔ کچھ نہ کرکے بھی کیا کچھ کرگیا دو ٹکے کا پولیس والا"
وہ لان میں ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی اور رات کا منظر سوچ کر ایک بار پھر اس کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا
کل رات جب اسے یقین ہو گیا کہ معاویہ سوگیا ہے تو وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی۔۔۔صبح بھی وہ معاویہ کے جاگنے سے پہلے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر بھی اس نے پوری کوشش کری کہ وہ معاویہ سے نظر نہ ملائے
وہ چہل قدمی کرتے ہوئے لان کے بیک سائیڈ پر آئی اس کی نظر سامنے درخت پرگئی تو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔ کسی کام سے باہر آتی ساجدہ نے پکارا تو چونکی
"یہاں کیا کر رہی ہیں حیا بی بی آپ" ساجدہ نے اسے دیکھ کر کہا
"کچھ نہیں ایسے ہی بور ہو رہی تھی تو یہاں آگئی۔۔۔ وہ کیا ہے ساجدہ"
حیا نے درخت کے اوپر ہاتھ کے اشارہ سے پوچھا
"ارے یہ تو شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہے۔۔۔ کتنی دفعہ غفار (مالی) سے کہا اس کو صاف کرو مگر وہ سنتا ہی نہیں"
ساجدہ اپنی ہی دھن میں اسے بتائے جا رہی تھی اور حیا کی نظر اپنے سامنے بیڈ روم کی کھڑکی پر پڑی تو شرارتی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر رقص کرنے لگی
"کل رات معاویہ مراد نے شیرنی کو لال پیلا کیا تھا۔۔۔ آج رات لال پیلا ہونے کی باری تمہاری ہے دو ٹکے کے پولیس والے" حیا نے مسکراتے ہوئے سوچا
"ساجدہ ایسا کرو غفار کو بھیجو مجھے کچھ چیزیں منگوانی ہیں اور گھر میں کتنے گیسٹ روم ہیں"
حیا نے ساجدہ سے پوچھا
"دو ہیں حیا بی بی کیوں کوئی مہمان آنے والا ہے"
"ہاں میری دوست آنے والی ہے تم ایسا کرو ایک گیسٹ روم کی صفائی کر دو۔۔۔ صاف بیڈ کور بچاؤ اور کمفرٹر رکھ دو"
حیا نے ساجدہ کو کہا
***
"ہادی بتا بھی دیں ہم کہاں جا رہے ہیں"
صنم نے ہادی سے تیسری بار پوچھا وہ ہر بار صنم کو ٹال کر اس سے کوئی دوسری بات کرنے لگ جاتا۔۔۔
آج اس کی بہت امپورٹنٹ کلاس تھی مگر ہادی نے اسے صرف کرکے یونیورسٹی سے باہر آنے کو کہا نہ چاہنے کے باوجود صنم اس کی ناراضگی کے ڈر سے اپنی امپورٹنڈ کلاس مس کر کے اس سے ملنے کے لئے آئی
"تو یعنی آپ نہیں بتانے والے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں"
آنکھوں میں ناراضگی کا تاثر لیے صنم نے ایک دفعہ اور پوچھا
"تمہیں اغوا کرکے لے جا رہا ہوں"
ہادی نے صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسٹیرنگ پر رکھا اور اس کی بات کا جواب دیا پھر اس کو دیکھ کر مسکرایا
"ہادی آپ کو پتہ ہے کتنا امپورٹنٹ لیکچر تھا جو میں مس کر کے آئی"
صنم نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا
"مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ ہے۔۔۔ جبکہ مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ اب تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے"
ہادی نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھا
"آپ سے زیادہ امپورٹنٹ تو کچھ بھی نہیں ہے ہادی مگر اس طرح میں فیل ہو جاؤں گی" صنم نے گھور کر ہادی سے کہا
"کوئی بات نہیں دوبارہ محنت کر لینا لیکن اگر آج میں فیل ہوگیا تو دوبارہ محنت کرنے کا موقع نہ ملے شاید"
ہادی نے ایک فلیٹ کے آگے گاڑی روکتے ہوئے کہا
"کیا مطلب آپ کیسے فیل ہو گے" صنم نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"باہر نکلو پھر سمجھاتا ہوں"
ہادی نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر صنم سے کہا
**
"یہ کہاں لے کر آئے ہیں آپ مجھے کس کا فلیٹ ہے"
صنم نے فلیٹ کے باہر دروازے پر کھڑے ہو کر صنم نے ہادی سے سوال کیا
"ایک دوست کا فلیٹ ہے اندر تو آؤ"
ہادی کے کہنے پر صنم فلیٹ کے اندر آئی تو ہادی نے دروازہ بند کیا
صنم تھوڑا ہچکچا کر صوفے پر بیٹھنے لگی
"نہیں یہاں نہیں اس روم میں چلو" ہادی نے اس کو صوفی پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو کہا
صنم نے دوسرے روم میں قدم رکھا تو وہ بیڈ روم تھا صنم نے وہی کھڑے ہو کر بیٹھ روم کا مکمل جائزہ لیا
"کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو"
صنم کو اپنے پیچھے سے ہادی کی آواز سنائی دی تو اس نے پلٹ کر دیکھا وہ اس کے بہت قریب کھڑا تھا
"ہم یہاں کیوں آئے ہیں ہادی"
صنم نے اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے الجھن زدہ نظروں سے ہادی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"بتایا تو تھا کار میں تمہیں اغوا کرکے لایا ہوں"
ہادی نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"میں سیریز ہوں ہادی آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے"
صنم نے ہادی کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا
"تمہیں کس نے کہا میں مزاق کررہا ہوں میرے چہرے کے تاثرات سے میں تمہیں مذاق کرتا ہوا لگ رہا ہوں"
ہادی اب بھی سنجیدگی سے صنم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔ اس کی بات پر صنم کچھ بھی نہیں بولی
"یہاں بیٹھو"
ہادی اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولا صنم کو بیڈ پر بٹھانے کے بعد ہادی نے بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھا دوبارہ صنم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
"پیار کرتی ہوں مجھ سے"
ہادی اچانک صنم سے سوال کیا
"آپ جانتے تو ہیں پھر اس سوال کا مطلب"
صنم نے جھجھکتے ہوئے کہا
"تو پھر جو میں مانگو گا وہ تم آسانی سے دے دو گی،،، مجھ سے پیار جو کرتی ہو"
ہادی نے اس کا دوسرا ہاتھ تھامتے ہوئے سوالیہ نظروں سے صنم کی طرف دیکھا
جاری ہے
by Zeenia sharjeel
Epi # 42
آج ہادی آفس کے
لیے لیٹ ہوگیا تھا بلال صبح ہی نکل چکا تھا ہادی اپنی کار آفس کے پارکنگ ایریا میں کھڑی کر کے باہر نکلا تو سامنے سے معاویہ آتا دکھائی دیا وہ چہرے پر غصہ لیے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ ہادی نے اس کو دیکھ کر سر جھٹکا اور اپنے قدم آگے بڑھائے دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوئے
"میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ میری بہن سے دور رہنا شاید تم نے میری بات کو سیریس نہیں لیا" معاویہ نے ہادی کے سامنے آتے ہیں کڑے تیوروں کے ساتھ سنجیدگی سے ہادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"یار تمہارا پروبلم کیا ہے میں جس لڑکی سے شادی کے لئے سیریس ہوتا ہوں،،، تو بالکل ہی سیریس ہو جاتے ہو" ہادی نے اس کی سنجیدہ بات کو مذاق کر دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اس کی بات معاویہ کے غصے کو مزید ہوا دی گئی معاویہ نے اس کا گریبان پکڑنا چاہا۔۔۔۔ ہادی نے اس کا ارادہ بھانپ کر اس کے دونوں ہاتھ جھٹکے
"ابھی تمہاری پہلی غلطی کے کھاتے نہیں کھلے تم دوسری غلطی کرنے چلے ہو.. بہت سوچ سمجھ کر میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنا معاویہ مراد... کہیں تمہیں تمہاری غلطیاں.. بہن کی صورت بہت زیادہ مہنگی نہ پڑجائیں" اب کے ہادی کے انداز میں مذاق کا شائبہ تک نہ تھا
"دیکھو ہادی میری بہن کا سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ بہت معصوم ہے... اس کو اپنے اور میرے بیچ میں مت لاو... تمہیں جو بھی کوئی پرخاش ہے مجھ سے ہے، تو مردوں کی طرح مجھ سے بدلہ لو"
معاویہ نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے سنجیدگی سے ہادی سے کہا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد میں تمہاری بہن کو بیچ میں نہیں لایا بیچ میں آنے کی تمہاری پرانی عادت ہے.... پہلے تم میرے اور حیا کے بیچ میں آئے... اب تم میرے اور صنم کے بیچ میں آرہے ہو اور وہ کہاوت تو تم نے سنی ہوگی every thing is fair love and war تم نے اپنا پیار حاصل کرنے کے لئے جو تمہیں ٹھیک لگا وہ تم نے کیا اب میری باری ہے لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ تم نے پیار کے لئے سب کچھ کیا جبکہ میں جو کروں گا وہ صرف انتقام ہوگا.... اسے میری طرف سے جنگ کا سمجھنا تم نے ایک تھپڑ میرے منہ پر مارا تھا نہ اب تم ساری زندگی اس بات کے لئے پچھتاتے رہو گے"
ہادی نے اس کو بولا تو معاویہ لب بینچ کر رہ گیا
"اگر تم نے صنم کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچایا یا میری بہن کو کوئی بھی تکلیف دینے کا سبب بنے تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ہادی مسعود،، یہ تم اچھی طرح جان لو تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ خود اپنے قدم پیچھے ہٹا ورنہ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھنے کے لیے تیار ہو جاؤ" معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو وارن کیا
"یہ پولیس کی وردی پہن کر تم اپنی غنڈہ گردی مجھ پر نہیں دکھا سکتے۔۔۔ ڈرتا نہیں ہوں میں معاویہ تم سے اور آج میری بات یاد رکھنا تم اپنی بہن کی آنکھوں میں جب جب آنسو دیکھو گے تمہیں میں یاد آوں گا۔۔۔ یہاں میرے سامنے کھڑے ہوکر وقت ضائع نہیں کرو جا کر اپنی بہن کو بچانے کی تدبیر سوچو"
ہادی کے جملوں پر معاویہ کا دل چاہا کہ وہ اپنی پسٹل نکال کر اسی وقت اس کو سوٹ کردے اس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بند کی
"تم دیکھنا اب میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
معاویہ کہتا ہوا وہاں رکا نہیں بلکہ وہاں سے چلا گیا
"نہیں معاویہ مراد اب تم دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
اس نے معاویہ کو جاتا ہوا دیکھ کر کہا اور اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر صنم کا نمبر ملایا
**
معاویہ اپنی کار کی طرف آیا بیٹھ کر کار اسٹارٹ کردی
"کچھ نہ کچھ اس ہادی کا کرنا پڑے گا بہت جلد۔۔۔ مگر اس سے پہلے واقعی صنم کے لئے سوچنا ضروری ہے"
ڈرائیو کرتے ہوئے معاویہ نے سوچا اور پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر صنم کا نمبر ملایا مگر نمبر بزی تھا معاویہ نے اپنا سر جھٹکا اور کار کا رخ یونیورسٹی کی طرف کیا ویسے ہی معاویہ کا موبائل بجنے لگا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد اسپیکنگ"
ڈی ایس پی افتخار کا نمبر دے کر معاویہ نے کہا
"ہاں معاویہ اویس شیرازی کے خلاف جو بھی ایویڈنس تمہارے پاس ہے اس کے متعلق ڈسکس کرنا ہے فوری ہیڈکوارٹر آکر رپورٹ کروں"
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے معاویہ کو فوری آنے کا کہا
"سر بالکل اس وقت میرا مطلب ہے میں نے کل کہا تھا میں دو دن کے اندر"
معاویہ نے کہنا چاہا
"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد آپ اس وقت آن ڈیوٹی ہیں اور آدھے گھنٹے کے اندر ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کر رہے ہیں۔۔ انڈرسٹینڈ"
ڈی۔ایس۔پی افتخار نے دوبارہ اپنی بات دہرائی
"یس سر"
معاویہ نے اپنی گاڑی کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کی
**
کل رات معاویہ کی بڑھتی ہوئی جسارتیں اسے اچھا خاصہ شرمندہ کر گئی
"پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہوگا فضول میں میرے بارے میں۔ ۔۔بلاوجہ میں واہیات سی نائٹی پہن لی تھی میں نے بھی۔۔۔ کچھ نہ کرکے بھی کیا کچھ کرگیا دو ٹکے کا پولیس والا"
وہ لان میں ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی اور رات کا منظر سوچ کر ایک بار پھر اس کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا
کل رات جب اسے یقین ہو گیا کہ معاویہ سوگیا ہے تو وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی۔۔۔صبح بھی وہ معاویہ کے جاگنے سے پہلے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر بھی اس نے پوری کوشش کری کہ وہ معاویہ سے نظر نہ ملائے
وہ چہل قدمی کرتے ہوئے لان کے بیک سائیڈ پر آئی اس کی نظر سامنے درخت پرگئی تو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔ کسی کام سے باہر آتی ساجدہ نے پکارا تو چونکی
"یہاں کیا کر رہی ہیں حیا بی بی آپ" ساجدہ نے اسے دیکھ کر کہا
"کچھ نہیں ایسے ہی بور ہو رہی تھی تو یہاں آگئی۔۔۔ وہ کیا ہے ساجدہ"
حیا نے درخت کے اوپر ہاتھ کے اشارہ سے پوچھا
"ارے یہ تو شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہے۔۔۔ کتنی دفعہ غفار (مالی) سے کہا اس کو صاف کرو مگر وہ سنتا ہی نہیں"
ساجدہ اپنی ہی دھن میں اسے بتائے جا رہی تھی اور حیا کی نظر اپنے سامنے بیڈ روم کی کھڑکی پر پڑی تو شرارتی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر رقص کرنے لگی
"کل رات معاویہ مراد نے شیرنی کو لال پیلا کیا تھا۔۔۔ آج رات لال پیلا ہونے کی باری تمہاری ہے دو ٹکے کے پولیس والے" حیا نے مسکراتے ہوئے سوچا
"ساجدہ ایسا کرو غفار کو بھیجو مجھے کچھ چیزیں منگوانی ہیں اور گھر میں کتنے گیسٹ روم ہیں"
حیا نے ساجدہ سے پوچھا
"دو ہیں حیا بی بی کیوں کوئی مہمان آنے والا ہے"
"ہاں میری دوست آنے والی ہے تم ایسا کرو ایک گیسٹ روم کی صفائی کر دو۔۔۔ صاف بیڈ کور بچاؤ اور کمفرٹر رکھ دو"
حیا نے ساجدہ کو کہا
***
"ہادی بتا بھی دیں ہم کہاں جا رہے ہیں"
صنم نے ہادی سے تیسری بار پوچھا وہ ہر بار صنم کو ٹال کر اس سے کوئی دوسری بات کرنے لگ جاتا۔۔۔
آج اس کی بہت امپورٹنٹ کلاس تھی مگر ہادی نے اسے صرف کرکے یونیورسٹی سے باہر آنے کو کہا نہ چاہنے کے باوجود صنم اس کی ناراضگی کے ڈر سے اپنی امپورٹنڈ کلاس مس کر کے اس سے ملنے کے لئے آئی
"تو یعنی آپ نہیں بتانے والے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں"
آنکھوں میں ناراضگی کا تاثر لیے صنم نے ایک دفعہ اور پوچھا
"تمہیں اغوا کرکے لے جا رہا ہوں"
ہادی نے صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسٹیرنگ پر رکھا اور اس کی بات کا جواب دیا پھر اس کو دیکھ کر مسکرایا
"ہادی آپ کو پتہ ہے کتنا امپورٹنٹ لیکچر تھا جو میں مس کر کے آئی"
صنم نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا
"مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ ہے۔۔۔ جبکہ مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ اب تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے"
ہادی نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھا
"آپ سے زیادہ امپورٹنٹ تو کچھ بھی نہیں ہے ہادی مگر اس طرح میں فیل ہو جاؤں گی" صنم نے گھور کر ہادی سے کہا
"کوئی بات نہیں دوبارہ محنت کر لینا لیکن اگر آج میں فیل ہوگیا تو دوبارہ محنت کرنے کا موقع نہ ملے شاید"
ہادی نے ایک فلیٹ کے آگے گاڑی روکتے ہوئے کہا
"کیا مطلب آپ کیسے فیل ہو گے" صنم نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"باہر نکلو پھر سمجھاتا ہوں"
ہادی نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر صنم سے کہا
**
"یہ کہاں لے کر آئے ہیں آپ مجھے کس کا فلیٹ ہے"
صنم نے فلیٹ کے باہر دروازے پر کھڑے ہو کر صنم نے ہادی سے سوال کیا
"ایک دوست کا فلیٹ ہے اندر تو آؤ"
ہادی کے کہنے پر صنم فلیٹ کے اندر آئی تو ہادی نے دروازہ بند کیا
صنم تھوڑا ہچکچا کر صوفے پر بیٹھنے لگی
"نہیں یہاں نہیں اس روم میں چلو" ہادی نے اس کو صوفی پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو کہا
صنم نے دوسرے روم میں قدم رکھا تو وہ بیڈ روم تھا صنم نے وہی کھڑے ہو کر بیٹھ روم کا مکمل جائزہ لیا
"کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو"
صنم کو اپنے پیچھے سے ہادی کی آواز سنائی دی تو اس نے پلٹ کر دیکھا وہ اس کے بہت قریب کھڑا تھا
"ہم یہاں کیوں آئے ہیں ہادی"
صنم نے اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے الجھن زدہ نظروں سے ہادی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"بتایا تو تھا کار میں تمہیں اغوا کرکے لایا ہوں"
ہادی نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"میں سیریز ہوں ہادی آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے"
صنم نے ہادی کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا
"تمہیں کس نے کہا میں مزاق کررہا ہوں میرے چہرے کے تاثرات سے میں تمہیں مذاق کرتا ہوا لگ رہا ہوں"
ہادی اب بھی سنجیدگی سے صنم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔ اس کی بات پر صنم کچھ بھی نہیں بولی
"یہاں بیٹھو"
ہادی اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولا صنم کو بیڈ پر بٹھانے کے بعد ہادی نے بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھا دوبارہ صنم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
"پیار کرتی ہوں مجھ سے"
ہادی اچانک صنم سے سوال کیا
"آپ جانتے تو ہیں پھر اس سوال کا مطلب"
صنم نے جھجھکتے ہوئے کہا
"تو پھر جو میں مانگو گا وہ تم آسانی سے دے دو گی،،، مجھ سے پیار جو کرتی ہو"
ہادی نے اس کا دوسرا ہاتھ تھامتے ہوئے سوالیہ نظروں سے صنم کی طرف دیکھا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment