Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 41

Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 41


"اے۔ایس۔پی معاویہ مراد کی بہن تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ساحر، میں اپنے دشمن کی بہن کو اپنے گھر کی عزت بناؤں گا، تم نے سوچ بھی کیسے لیا"
اویس شیرازی کو بیٹے کی بات پر غصہ آیا

"سوچ لیں ڈیڈی اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے،، اس کی بہن ہمارے گھر ہو گی تو وہ ASP ہمارے تابع ہوگا آپ بے خوف ہوکر اپنا کام آسانی سے کروا سکتے ہیں اور مجھے بھی کچھ نئے پرانے حساب چکانے کا موقع ملے گا"
ساحر نے خباثت سے مسکراتے ہوئے اویس شیرازی کو دیکھا

"ہاں بات میں تو دم ہے تمہاری، ASP ایسے ہی ہمارے قابو میں آسکتا ہے"
اویس شیرازی نے سوچتے ہوئے کہا

**

"کیا ہوا کل رات کو تو بہت خوش تھیں تم،، آج کیوں میرے صنم کی آنکھوں میں اداسی چھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہے،، کہیں ابھی سے تو ٹینشن نہیں ہوگئی میکے چھوڑ کر سسرال جانے کی" ہادی فریش موڈ کے ساتھ صنم کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ صنم نہ یونیورسٹی پہنچ کر ہادی کو ارجنٹ ملنے کا کہا تو وہ آفس سے سیدھا یونیورسٹی سے صنم کو ایک کر کے قریب ریسٹورینٹ میں لے آیا

"ہادی میں بہت پریشان ہوں آج صبح بھائی بھابھی واپس آگئے،، ڈیڈ نے ہمارے رشتے کے بارے میں بھائی کو بتایا تو ان کا ری ایکشن ہمارے رشتے کو لے کر بہت برا تھا،، آپ کو نہیں پتہ ڈیڈ اور بھائی کے درمیان کتنی تلخ کلامی ہوئی ہے۔ ۔۔ بھائی بہت غصے میں ہے،، مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے"
صنم نے ساری رواداد ہادی کو سنائی صنم کی آنکھوں سے پریشانی صاف جھلکتی ہوئی نظر آ رہی تھی

"واو یعنی سالے صاحب فل ایکشن میں ہیں مزا آئے گا اب تو"
ہادی نے جیسے اس کی بات کو انجوائے کرتے ہوئے مسکرا کر کہا

"آپ مسکرا رہے ہیں ہادی اور یہاں میری جان پر بنی ہوئی ہے آپ کو احساس نہیں ہے ہمارے رشتے کو لے کر ہمارے گھر میں کتنی ٹینشن کا ماحول ہوگیا ہے" صنم کو رونا آیا تو ہادی کی مسکراہٹ سمٹی اس نے ٹشو لے کر صنم کی طرف بڑھایا

"یہاں پبلک پلیس میں میں تمہارے آنسو صاف نہیں کرسکتا یہ لو صنم آنسو صاف کرو اور یہاں دیکھو میری طرف"
ہادی نے ٹیبل پر رکھا ہوا صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

"تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے،، معاویہ ایسا کچھ نہیں کرے گا بس مجھے تمہارا ساتھ چاہیے، تم میرے ساتھ ہوگی تو کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا اوکے" ہادی نے صنم کو یقین دلایاتے ہوئے کہا

**

شام میں زین اور حور معاویہ اور حیا سے ملنے آئے خضر اور ناعیمہ بھی ہال میں موجود تھے۔۔۔ ناعیمہ نے ساجدہ سے کہہ کر معاویہ کو روم سے بلوایا تو وہ بھی آگیا،، زین اور حور سے مل کر وہی ان کے درمیان صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ حیا کو روم سے نکالنے کے بعد وہ تب سے دوبارہ روم میں نہیں آئی تھی ابھی بھی وہ زین اور حور کے بیچ میں زین سے چپکی ہوئی بیٹھی تھی اور معاویہ کو کھا جانے والی خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی،،، معاویہ نے ایک نظر اس کی چہرے پر ڈالی پھر زین سے باتوں میں لگ گیا۔۔۔

زین اور حور کے آجانے سے صبح کی تلخی کا اثر زائل ہوا سب باتوں میں مصروف ہوگے جب ان دونوں نے اجازت لینی چاہی تو حیا بول پڑی

"رکیئے بابا میں بھی پیکنگ کرلیتی ہوں آپ کے ساتھ ہی جاوگی آپ کو اور مما کو بہت مس کیا میں نے۔۔۔ انکل میں چلی جاؤ نا"
حیا نے زین کو بولتے ہوئے معصومیت سے خضر کی طرف دیکھ کر اجازت لی

"بیٹا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے ویسے بھی مری جانے سے پہلے پروگرام بن رہا تھا حیا کا تمہاری طرف جاو پیکنگ کرلو"
حیا کے ساتھ ہی زین اور حور بھی خوش ہوگئے

"ایک منٹ آج ہی ارسل کی کال آئی تھی اس نے ہمیں کل ڈنر پر انوائٹ کیا ہے،، کل تو اس کے گھر دعوت ہے ہم دونوں کی"
معاویہ نے خضر کی اجازت پر اسے جاتا ہوا دیکھ کر ایک دم بولا حیا اس کو دیکھ کر غصے میں کھولتی رہ گئی

"کوئی بات نہیں ارسل سے ایکسکیوز کرلو، حیا مس کر رہی ہے زین اور حور کو"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے بولا 

"ارے کوئی بات نہیں حیا پھر آجائے گی،، معاویہ حیا کو اس ویگ اینڈ پر چھوڑ دینا ہمارے پاس"
زین نے منہ بناتی حیا کی شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر پیار سے حیا کو دیکھا پھر معاویہ کو کہا

"جی انکل اگر ارسل کے ہاں نہیں جانا ہوتا تو حیا ضرور چلی جاتی۔ ۔۔۔ اس کا پروگرام میں پہلی بھی کینسل کرچکا ہوں تو ابھی بھی مجھے مناسب نہیں لگ رہا دوبارہ منع کرتے ہوئے"
معاویہ نے مزید وضاحت دے کر زین کو مطمئن کیا

"نہیں ضرورت بھی نہیں ہے پروگرام کینسل کرنے کی یہی دن ہوتے ہیں گھومنے پھرنے کے،،، حیا کو دیکھ لیا یہی بہت ہے،، ویک اینڈ پر تم بھی آنا ہے بلکہ خضر بھائی ناعیمہ بھابھی آپ سب آئیے گا ہماری طرف"
حور نے حیا کو پیار کرتے ہوئے کہا اور سب کو اپنے گھر مدعو کیا

"ہاں ضرور اب تو آنا جانا لگا رہے گا ہم ضرور آئیں گے"
ناعیمہ نے خوش دلی سے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا

زین اور حور چلے گئے تو حیا کو مزید غصہ آیا

"اب تیار ہو جاؤ تمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں"
حیا سوچتے ہوئے وہی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ معاویہ اس کے تپے ہوئے چہرے پر ایک نظر ڈال کر کار کی کیز لے کر باہر نکل گیا

**

رات کا کھانا خاموشی سے کھایا گیا معاویہ بھی واپس آگیا تھا۔۔ اس نے ٹیبل پر سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا خضر نے بھی کوئی خاص بات نہیں کی کھانے کے بعد معاویہ کے موبائل پر ڈی۔ایس پی افتخار کی کال آئی تو وہ لان کی طرف آگیا

"سر اویس شیرازی کے گھر سے ہمیں کچھ ایسے ایویڈنس ملے ہیں جس سے اویس شیرازی کے علاوہ بھی دوسرے کچھ ایسے چھپے ہوئے نام ہیں جو منظر عام پر آسکتے ہیں۔۔۔ میں ایک دو دن میں آپ کو پوری رپورٹ تیار کرکے انفارم کرتا ہوں"

"گڈ جاب معاویہ مجھے تم سے یہی امید تھی۔۔۔ دو دن کا وقت ہے تمہارے پاس پوری رپورٹ تیار کرو۔ ۔۔۔ جب تک میں اوپر کمشنر صاحب کو تفصیلات سے اگاہ کرتا ہوں" 


ڈی۔ایس۔پی افتخار سے بات کرکے وہ اپنے بیڈ روم میں پہنچا

روم میں پہنچ کر وہ بیڈ پر لیٹا اس نے ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے برابر والے تکیہ پر رکھا۔ ۔۔  جیسے ہی تکیہ اٹھا کر دیکھا پہلے تو وہ چونکا پھر کچھ سوچ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔۔ یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو پورے دن میں اس کے چہرے آئی تھی پھر گردن موڑ کر اس نے چہرے کا رخ ڈریسنگ روم کی طرف کیا جہاں کی لائٹ آن تھی یعنی حیا ڈریسنگ روم کے اندر تھی

"شیرنی"
زیر لب بڑبڑا کر وہ دوبارہ اپنے تکیہ پر لیٹ گیا۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا تو حیا باہر آئی معاویہ کی بے ساختہ نظر حیا پر گئی،،، وہ اسے اگنور کرکے ڈریسر کی طرف آئی اور ہاتھ میں باڈی لوشن کی بوتل لے کر بیڈ پر آئی ریڈ کلر کی سیولیس نائٹی میں وہ بجلیاں گراتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی۔۔۔۔ معاویہ نے ابرو اچکا کر امپریس ہونے والے اسٹائل میں اس کو دیکھا،،، وہ ایک ادا سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور نزاکت سے اپنے دونوں پاؤں اوپر کیے۔۔۔ تھوڑی سی نائیٹی پاوں سے اوپر سرکائی تو گوری گوری پنڈلیاں نمایاں ہوئی،،، معاویہ جو کہ لیٹا ہوا تھا ایک کہنی بل اٹھ کر بیٹھ گیا اور لائیو شو بڑے انہماک سے دیکھنے لگا حیا بڑی نزاکت سے لوشن سے اپنے پاوں پر مساج کر رہی تھی اور معاویہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو غور سے دیکھ رہا تھا حیا نے کن اکھیوں سے معاویہ کو دیکھا فورا نائٹی نیچے کی۔۔۔۔ اب وہی عمل باری باری اپنے دونوں بازو پر دہرانے لگی۔۔۔۔ معاویہ مسکراہٹ دبا کر کسک کر اس کے قریب آیا اس کی کمر تک آتے کھلے بالوں کو دیکھ کر آہستہ سے اس کے بال شولڈر پر ایک سائیڈ پر کیے نائٹی کا پیچھے کا گلا کافی ڈیپ تھا

"بےبی اتنا ظلم کیوں اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر،، یہ غریب انسان تو پہلے ہی تمہاری اداوں کا گھائل ہے پھر اتنا تڑپانے کا مطلب"
معاویہ نے اپنے ہونٹ اسکی کمر پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ حیا نے ایک جھٹکے سے بال پیچھے کیے

"پیچھے ہٹ کر بیٹھو"
حیا مغرورانہ انداز میں گویا ہوئی

"اب پیچھے ہٹنے کے قابل کہاں چھوڑا ہے تم نے"
وہ حیا کے سامنے آیا اور اسکے اوپر جھکنے لگا۔۔۔ حیا نے اس کے سینے پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ کر اسے پیچھے کیا

"ایک منٹ تم نے آج مجھے اپنے بیڈ روم سے ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا تھا"
حیا نے اس کو دوپہر والا قصہ یاد دلایا

"بیڈروم سے ہی نکالا تھا دل کے روم سے تھوڑی"
وہ حیا کی انگلی اپنے سینے سے ہٹا کر انگلی کو چومتا ہوا اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں کے قریب لایا۔۔۔۔ حیا نے دوبارہ اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر اسے پیچھے کیا

"تم نے جب مجھے روم سے نکالا تو مجھے بہت برا لگا۔۔۔ اب تم دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو"
حیا اس سے فاصلہ قائم کرکے بیٹھی اور بہت معصومانہ انداز میں اس سے معافی مانگنے کی فرمائش کی

"اووووو تو اب سمجھا یہ جذباتی مار دوپہر والی بات کا بدلہ ہے انٹرسٹنگ یار"
معاویہ آب مسکرا کر حیا کو دیکھ رہا تھا جس پر حیا تپ گئی

"میں سونے لگی ہوں لائٹ بند کرو"
حیا کے فیس ایکسپریشن ایک دم سخت ہوئے اس نے کمفرٹر اوڑھنے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا

"ارے جانم رکو تو اتنی محنت کی ہے تو معافی نہیں منگواؤ گی چلو ڈیل کرتے ہیں۔۔۔ مجھے اپنے گھٹنوں پر ٹیک کر میرا مطلب ہے جب میں معافی مانگوں گا تو یقینا تمہارا بدلہ پورا ہو گا۔۔۔۔ لیکن میرے معافی مانگنے کے بدلے مجھے بھی کچھ چاہیے ہوگا"
معاویہ نے اس کے نازک سے سراپے پر بھرپور نظر ڈال کر کہا

"معافی ہاتھ جوڑ کر مانگو گے"
حیا ان دوبارہ مغرورانہ انداز اپناتے ہوئے کہا معاویہ اس کی ادا پر دوبارہ مسکرایا

"اگر میں نے تمہارا کہا ہوا پورا کیا تو تم مجھے بدلے میں کس کرو گی یہاں" معاویہ نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

"اور اپنی شرط جیتنے کے بعد اگر تم کس کرنے سے مکر گئی۔۔۔۔ پھر جو میں کروں گا وہ کس سے تھوڑا سا زیادہ ہوگا"

معاویہ کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو اگنور کر کے حیا نے آنکھیں اوپر گمائیں

"ہاتھ جوڑ کے معافی مانگو"
حیا نے اب بیزاری سے کھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر ان کو معافی مانگنے والے اسٹائل میں ملایا

"آئی ایم ریلی ویری سوری بےبی میں دوپہر والی رویہ کے لیے تم سے ہاتھ جوڑ کر معافی چاہتا ہوں"

"میرے نہیں اپنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو"
حیا نے اس سے اپنے ہاتھ چھڑا کر گھورتے ہوئے کہا

"یہ غلط ہے تم نے کہا تھا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو، یہ نہیں کہا کس کے ہاتھ جوڑ کر۔۔۔ ۔ اب میں نے اپنا کیا پورا کیا اب تمہاری باری ہے جانم"

کہنے کے ساتھ ہی معاویہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا اور حیا کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرایا

"کس می"
وہ حیا کے ہونٹوں کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہنے لگا

"یہ فاؤل ہے میں نے تمہیں تمہارے ہاتھ جوڑنے کے لیے کہا تھا"
حیا کو غصہ آیا وہ اپنا آپ چھڑاتے ہوئے بولی

"پر معاویہ مراد نے تو آج تک کسی کے آگے اپنے ہاتھ نہیں جوڑے"
معاویہ نے کہتے ہوئے کروٹ لی۔۔۔ اب حیا نیچے تھی معاویہ اسکے اوپر جھکا ہوا تھا

"اب بتاؤ کس کرو گی یا نہیں"
معاویہ نے سنجیدگی سے حیا سے پوچھا

"بالکل بھی نہیں"
حیا نے کہنے کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ تکیے کے نیچے ڈال کر پیپر اسپرے (کالی مرچ کا اسپرے) نکالنا چاہا
جو کہ اس کو نہیں مل رہا تھا

معاویہ نے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے اس کے شولڈر پر نائٹی کا ربن کھینچا۔۔۔۔ حیا نے جلدی سے دوسرے تکیے کے نیچے ہاتھ سے اسپرے ٹٹولہ مگر وہ وہاں بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔

حیا کا پلان بھی یہی تھا کہ آج وہ معاویہ سے ہاتھ جوڑ کر اپنے سامنے معافی منگوائے گی اس کے بعد اگر اس نے کوئی لمٹ کراس کرنے کی کوشش کی تو ہتھیار کے طور پر اس نے پیپر اسپرے پہلے ہی تکیہ کے نیچے چھپا دیا تھا مگر اس کے پلان میں کچھ گڑبڑ ہوئی دوسری طرف معاویہ کی جسارتیں بڑھتی گئی

"معاویہ پیچھے ہٹو پلیز"
حیا کے تڑپ کے کہنے پر معاویہ نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے ٹراوزر کی پاکٹ سے اسپرے نکالا

"کیا ہوا بےبی کہیں یہ تو نہیں ڈھونڈ رہی تھی"
معاویہ نے مسکراہٹ دبا کر پیپر اسپرے اس کی آنکھوں کے آگے لہرایا۔۔۔۔۔ حیا شاک کی کیفیت میں رہ گئی

"یہ تمہارے پاس کیسے"
حیا نے حلق سے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہاتھ سے اسپری کی بوتل جھپٹنی چاہی۔۔۔ معاویہ نے اتنی ہی پھرتی سے اسپرے کی بوتل دور  پھینکی

"تو مسز معاویہ مراد،،، میں آج آپ کے حسن کو خراج پیش کرسکتا ہوں۔۔۔۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو"
وہ اب اس کے دوسرے شولڈر کے ربن پر اپنی انگلی اٹھکا کر پوچھ رہا تھا جو زرا سے کھینچنے پر کھل جاتا

"نہیں معاویہ پلیز" حیا اب رو دینے والی ہوئی

"جب حوصلے کم ہو تو اتنی بڑی بڑی جراتیں نہیں کرنی چاہیے مہنگی بھی پڑھ سکتی ہیں"
اب وہ نرمی سے سمجھاتا ہوا اس کے آنسو صاف کرنے لگا

"جاو جاکر چینج کر کے آو"
معاویہ اپنی جگہ پر لیٹتا ہوا بولا۔۔۔۔ وہ اٹھ کرڈریسنگ روم کی طرف بھاگی۔ ۔۔ اور کافی دیر بعد باہر آئی جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ سوگیا ہے

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment