Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 40

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 40


خضر بول رہا تھا اور معاویہ کا ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا حیرت تو اپنی جگہ پر حیا کو بھی  ہوئی تھی مگر معاویہ کا ری ایکشن دیکھ کر وہ اپنی حیرت بھول گئی
معاویہ نے چائے کا کپ اٹھا کر زور سے دور پھینکا

"کیوں طے کیا آپ نے یہ رشتہ"
معاویہ کہ کپ پھینکنے پر خضر جو بول رہا تھا اس کی زبان کو بریک لگا اور صنم نے نظر اٹھا کر دیکھا

"ناعیمہ نے تمہیں دو دفعہ اس سلسلے میں کال کرکے بتانے کی کوشش کی مگر تم بزی تھے۔۔۔۔ لڑکے میں یا اس کے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں تھی مجھے ہر لحاظ سے مناسب لگا تو طے کردیا اس میں اتنا ہائپر ہونے والی کونسی بات ہے"
خضر کو لگا معاویہ کا ری ایکشن شاید اس وجہ سے ہے کہ وہ یہاں موجود نہیں تھا اور اس کی بہن کا رشتہ طے کر دیا گیا۔۔۔ خضر کو معاویہ کی صنم سے اٹیچمنٹ کا بھی اندازہ تھا 

"میں بزی تھا، گیا ہوا تھا مگر مرا نہیں تھا آپ نے میرے پوچھے بنا وہاں رشتہ کیو کیا"
معاویہ غصے میں خضر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

"معاویہ اپنے ڈیڈ سے تمیز سے بات کرو"
ناعیمہ نے بیچ میں معاویہ کو ٹوکا

"یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جس کا ایشو بنا کر تم ہنگامہ کرو،، کہہ تو رہا ہوں مل کر آجانا حیا کے ساتھ"
خضر نے حیا کی موجودگی کا پھر بھی لحاظ کرکے معاویہ کو سنجیدگی سے کہا

"ڈیڈ آپ ان لوگوں کو رشتے سے انکار کردیں،، میں اپنی بہن کی شادی وہاں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ کسی بھی صورت"
معاویہ نے اپنے لہجے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے خضر سے کہا

"یہ تم بات کس لہجے میں کر رہے ہو، تم میرے باپ نہیں ہو جو مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں رشتہ سے انکار کرو اور نہ ہی ابھی میں مرا ہو۔۔۔ فیصلے کے اختیارات میرے ہاتھ میں ہیں سنا تم نے"
خضر بھی اپنی جون میں واپس آیا اور معاویہ کو اسی کے لہجے میں سمجھایا۔۔۔

وہاں موجود ناعیمہ حیا اور صنم چپ کرکے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔ ناعیمہ اور حیا کے چہروں پر حیرت اور پریشانی تھی جبکہ صنم کی آنکھوں میں نمی۔۔

"ڈیڈ وہ لڑکا صنم کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے،، آپ پلیز ان لوگوں کو منع کریں"
خضر کو غصے میں دیکھ کر معاویہ نے نرم پڑتے ہوئے کہا۔۔ صنم آنکھوں میں نمی لیے ہوئے معاویہ کو دیکھ رہی تھی

"کیا برائی ہے اس لڑکے میں بتاؤں مجھے، شرابی ہے جواری ہے زانی ہے پہلے سے شادی شدہ ہے یا عمر دار ہے یا کوئی مہلک بیماری کا مریض ہے بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔ اچھا خاندان ہے پڑھا لکھا ہے خوش شکل ہے خوش اخلاق ہے چھوٹی فیملی ہے کوئی ذمہ داری نہیں ہے اپنا بزنس ہے اور کیا چاہیے"
خضر نے ہادی کی خامیوں کا پوچھا اور پھر ساتھ ہی اس کی خوبیاں گنوائی جس پر معاویہ اور بھی بھڑک گیا اور ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ زور سے مار کر گویا ہوا

"پوری دنیا میں ایک وہی لڑکا نہیں رہے گیا صنم کے لیے اعلی خصوصیات کا حامل۔۔۔۔ ٹھیک ہے آپ نہیں انکار کریں گے اس رشتے سے میں خود جا کر ان لوگوں کو منع کروں گا"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

"معاویہ اصل مسئلہ بتاؤ اس لڑکے کے ساتھ یا اس کے گھر والوں کے ساتھ وجہ کیا ہے آخر۔۔۔ میں ان کو زبان دے چکا ہوں اور زبان دے کر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے انکار نہیں کروں گا،،، تمہیں شادی میں شریک ہونا ہے یا نہیں ہونا تمہاری مرضی۔۔۔۔ اگر تم ان لوگوں کے گھر گئے یا کوئی بھی تماشہ تم نے کیا تو پھر تم اپنا حشر دیکھنا"
خضر نے اس کو وارن کرتے ہوئے کہا

"شادی تو نہیں ہوگی،، یہ تو طے ہے"
معاویہ خضر کو دیکھتا ہوا اٹل لہجے میں گویا ہوا اور غضہ بھری نظر صنم پر ڈالی۔۔۔ کرسی کو زور سے لات مار کے وہاں سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا

"اس کا دماغ درست کرو ناعیمہ، ورنہ میں بھول جاؤں گا یہ جوان اولاد ہے میری"
خضر بھی ناعیمہ کو بول کر اپنے روم میں جا چکا تھا

ناعیمہ آج پھر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے بیٹھی تھی،، حیا نے ایک نظر صنم کو دیکھا جو آنکھوں کی نمی صاف کرتی ہوئی اٹھی اور اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔ حیا اٹھ کر ناعیمہ کے پاس آئی

"آنٹی آپ پریشان مت ہو پلیز"
حیا نے ناعیمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا

"پریشان نہ ہوں تو اور کیا ہو۔۔۔ دیکھا تم نے آج بلاوجہ کا تماشہ لگا کر گیا یہ لڑکا،،، سب کچھ اچھا بھلا چل رہا تھا مگر نہیں جب تک گھر میں فساد برپا نہ ہو سکون تھوڑی نہ ملنا ہے"
ناعیمہ نے سر اٹھا کر آنسو صاف کرتے ہوئے حیا سے کہا

"اچھا آپ دل مت خراب کریں اپنا۔۔۔ میں معاویہ سے بات کرتی ہوں"
حیا نے ناعیمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے والے انداز میں کہا

"تم بھی سوچ رہی ہوگی کیسے تماشے ہوتے ہیں ان کے گھر میں"
ناعیمہ نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میں سب کچھ نہیں سوچ رہی"
وہ یہ نہیں کہہ سکی کہ جس گھر میں معاویہ مراد جیسی اولاد ہو، وہاں یہ سب نہ ہو تو حیرت کی بات ہے

"آپ جائیے جا کر ریسٹ کریں"
حیا نے ناعیمہ کو اس کے کمرے میں بھیجا اور ساجدہ سے برتن اٹھانے کا کہہ کر اپنے روم میں آگئی

***

معاویہ بیڈ پر بیٹھا ہوا سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا حیا روم میں آئی اور اس کے منہ سے سگریٹ نکال کر ایش ٹرے میں مسلی۔۔۔ اس کی حرکت پر معاویہ نے قہر آلود نظروں سے حیا کو دیکھا،، حیا کو اندازہ نہیں ہوا یہ جرت اس نے کتنے غلط وقت پر کی ہے۔۔۔ معاویہ جو کہ پہلے ہی سلگا ہوا بیٹھا تھا حیا کی حرکت اسے مزید سلگا گئی۔۔ ۔ ۔معاویہ  کھڑا ہوکر حیا کا بازو موڑ کر کمر تک لے گیا جس سے حیا کے منہ سے چیخ نکل گئی

"اٹھاؤ سگریٹ کا ڈبہ اور نکالو اس میں سے سگریٹ"
معاویہ نے غرا کر کہا تکلیف کی وجہ سے حیا نے فورا سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر معاویہ کو تھمائی

"ہاتھ چھوڑا میرا معاویہ پلیز"
حیا نے کراہتے ہوئے کہا

"لائٹر اٹھاو فورا"
حیا کی بات کو اگنور کر کے اس نے دوسرا آرڈر دیا حیا نے جلدی سے لائیٹر اٹھایا

"سگریٹ جلاو"
درد سے حیا کی آنکھ میں آنسو آنے لگے۔۔۔۔ اس نے فورا معاویہ کی بات پر عمل کرتے ہوئے لائیٹر کے شعلے سے سگریٹ جلائی۔۔۔۔ سگریٹ کے جلتے ہی معاویہ نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑا حیا تڑپ کر رہ گئی

"تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو جنگلی انسان بہت اچھا ہوا تمہارے ساتھ"
حیا نے دوسرے ہاتھ سے اپنا بازو سہلاتے ہوئے معاویہ کو کہا

"اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارا حشر نہ بگاڑو یا تو روم سے چلی جاؤ یا پھر اپنا منہ بند رکھو"
معاویہ نے شہادت کی انگلی اٹھا کر حیا کو وارن کرنے والے انداز میں اور خود جاکر صوفے پر بیٹھ کر دوبارہ اسموکنگ کرنے لگا

"ویسے اتنی تکلیف کس بات پر ہو رہی ہے تمہیں جو بلاوجہ میں اچھے خاصے رشتے میں اپنی ٹانگ اڑا رہے ہو۔۔۔ انکل صحیح تو کہہ رہے ہیں ہادی ہر لحاظ سے اچھا ہے صنم خوش رہے گی"
حیا نے اس کو مزید سلگایا

"تم بیچ میں مت بولو حیا، میری بہن کے لئے کیا صحیح ہے کیا صحیح نہیں ہے یہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے" معاویہ نے گھورتے ہوئے حیا کو دیکھ کر کہا

"کیوں نہ بیچ میں بولوں اس گھر کی فرد ہوں میں،، اگر تمہارے دل میں اس بات کو لے کر شک ہے کہ ہادی یہاں رشتہ میری وجہ سے جوڑ رہا ہے تو اپنے دماغ میں آئے ہوئے اس فطور کو دور کر لو وہ اتنا گرا ہوا ہرگز نہیں ہے اور معاویہ مراد تمہاری بہن کے لئے کوئی آسمان سے شہزادہ نہیں اترے گا"
حیا کی باتیں جلتی پر مزید تیل کا کام کر رہی تھی

"روم سے نکلو" معاویہ نے چیختے ہوئے کہا

"تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو معاویہ،، تم نے مجھے من مانی کر کے بلیک میل کرکے حاصل کیا، جبکہ تمہاری بہن کا عزت سے رشتہ آیا ہے نہ کوئی اس پر جبر کیا جارہا ہے اور نہ ذبردستی،،،، شکر کرو کہ تمہارا کیا ہوا تمہاری بہن کے آگے نہیں آ رہا"
حیا کے بولنے کی دیر تھی معاویہ کی برداشت ختم ہوئی وہ جبڑے بھینچ کر اٹھا حیا کا بازو پکڑ کر اسے روم سے نکالا اور زور سے روم کا دروازہ بند کیا

"تم نے مجھے روم سے نکالا ہے اب میں تمہیں اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دوں گی"
حیا نے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا اور سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے چلی گئی           

***

معاویہ کو اس بات کا تو اندازہ تھا حیا ٹھیک کہہ رہی ہے ہادی شادی حیا کے لیے نہیں کر رہا وہ صرف اپنے تھپڑ کا بدلہ لینے کے لئے اس کی بہن کو ہتھیار بنا رہا ہے۔۔۔۔ معاویہ نے اپنی دونوں مٹھیاں ضبط سے بند کی ہادی کو اس کی کمزوری کا اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا

"میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ہادی مسعود"
معاویہ نے بچی ہوئی سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے سوچا

**

"بتاؤ کس نے حال کیا ہے تمہارا کون آیا تھا یہاں پر" ساحر کے ہوش میں آتے ہی اویس شیرازی نے اس سے سوال کیا

"کوئی چھوٹے موٹے چور اچکا تھا پیسہ لیا مجھے زخمی کر گیا" 
پٹیوں سے جکڑے ہوئے سر اور سوجے ہوئے منہ کے ساتھ ساحر نے بعد بنائی

"بیوقوف سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے کل رات تم یہاں پر کسی لڑکی کو لائے تھے اور چوکیدار کو ڈیوٹی سے ہٹایا گھر میں کوئی نوکر بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔ میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ پولیس اور میڈیا ایکٹیو ہے تھوڑے دنوں کے لئے اپنی مشکل ترک کرو۔۔۔۔ اس وقت تمہاری ذرا سی غلطی میرے لئے کتنی بڑی مشکل کھڑی کر سکتی ہے اس بات کا اندازہ ہے تمہیں"
اویس شیرازی نے ساحر پر بگڑتے ہوئے کہا

"جب تک مجھے میرا من پسند کھلونا نہیں ملے گا میں اپنے مشغلے ترک نہیں کروں گا"
ساحر نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا

"کیا مطلب ہے تمہارا کس کی بات کر رہے ہو تم"
اویس شیرازی نے نہ سمجھنے والے انداز میں ساحر کو دیکھ کر پوچھا

"صنم چاہیے مجھے،،، بیوی بنانا ہے اسے"
ساحر نے سنجیدگی سے باپ کو دیکھتے ہوئے کہا

"صنم کون"
اویس شیرازی نے ساحر سے دریافت
کیا

"اے ایس پی معاویہ مراد کی بہن اس سے شادی کرنی ہے مجھے"

ساحر نے اویس شیرازی کو دیکھتے ہوئے کہا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment