Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 39

: Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 39


اویس شرازی کے فارم ہاؤس پر کوئی ایسی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی یا کوئی ایسی بات نظر سے نہیں گزری،، وہ صرف ایک عام دعوت تھی اویس شیرازی کے خاص دوستوں کے لئے۔۔۔۔ یہاں پر اپنا وقت ضائع کرنے سے بہتر سہیل اور معاویہ نے اس کے گھر جانے کا پلان بنایا شاید وہاں کچھ ایسا ثبوت ہاتھ لگ جائے جس سے پولیس کے ہاتھ اس کی گردن تک پہنچ سکے یہ سوچتے ہوئے ان دونوں نے اس کے گھر کی راہ لی۔۔ ۔  یہ ان دونوں کی خوش قسمتی تھی کے باہر چوکیدار کے علاوہ گھر میں اور کوئی دوسرا نہیں تھا وہ دونوں بنگلے کے پیچھے کی دیوار کے راستے سے کود کر بآسانی گھر کے اندر داخل ہوگئے۔۔۔ نقشے کے مطابق اویس شرازی کے روم میں پہنچے ابھی وہ دونوں اس کے کمرے کی تلاشی لے رہے تھے جب باہر سے آواز آنا شروع ہوئی معاویہ نے سہیل کی طرف دیکھا سہیل نے اس کا اشارہ سمجھ کر گردن ہلائی اور ہلکی سی کھڑکی کھول کر باہر کا جائزہ لینے لگا

"اویس شیرازی کا بیٹا اپنی گرل فرینڈ یا نئے شکار کو لے کر آیا ہے"
سہیل نے فائلوں میں دھیان بٹائے ہوئے معاویہ کو ہلکی آواز میں بتایا ابھی وہ دونوں مزید اسکی کمرے کی تلاشی لے رہے تھے۔۔۔ شور کی آواز آنے لگی معاویہ نے لڑکی کی آواز پر چونک کر کھڑکی کی جھری سے دیکھا اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا،،، ساحر حیا کا بازو کھینچتا ہوا روم میں لے کر جا رہا تھا وہاں پر حیا کی وہاں موجودگی معاویہ کو شاک کے ساتھ ساتھ مزید غصہ دلا گئی ضبط سے اپنی مٹھیاں بند کرتا ہوا وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگا

"سر پلیز نیچے ہال کے کیمرے ایکٹیویٹ ہیں اسے اوپر آنے دیں، ، میں اسے سنبھال لونگا آپ یہ کام کو دیکھ لیں"
سہیل نے معاویہ کو روکتے ہوئے کہا

"نہیں تم یہاں دیکھو اگر کوئی بھی کام کی چیز ملتی ہے تو ٹھیک ہے اسے لے کر نکل جانا اویس شیرازی کی اولاد سے میں خود نمٹ لونگا"
معاویہ کہتا ہوا روم سے نکلا ساحر کے دروازہ لاک کرنے سے پہلے روم میں پہنچا ساحر کی دھلائی کرتے ہوئے انھی اس کا دل نہیں بھرا تھا جب اچانک حیا نے آ کر اس کا ہاتھ روکا

معاویہ کو اس وقت حیا پر بھی شدید غصہ آیا ہوا تھا یعنی اس کے منع کرنے کے باوجود وہ گھر سے باہر نکلی اور جب اس نے استفادہ کرنا چاہا اپنی غلطی پر ڈرنے یا شرمندہ ہونے کی بجائے آگے سے زبان چلا رہی تھی اس لیے اس کا ہاتھ حیا پر اٹھا۔۔۔ 

سہیل کے کال کے بعد وہ حیا کو پیچھے راستے سے کار تک لایا۔۔۔ حیا گھر آ کر بیڈ پر لیٹ گئی،، معاویہ دوسرے روم میں بیٹھا سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ ۔۔ وہ جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ مکمل ہوچکا تھا اس لئے یہاں روکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا معاویہ نے فون کر کے اپنے اور حیا کے صبح کے ٹکٹ کنفرم کروائے اور بیڈروم میں حیا کے پاس آیا وہ ویسی کی ویسی ہی لیٹی ہوئی تھی

"کب تک مراقبے میں رہنے کا ارادہ ہے، آو چل کر کھانا کھاؤ"
سرونٹ تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا ٹیبل پر رکھ کر اپنے کوارٹر میں گیا تھا معاویہ کے بولنے پر حیا نے سنجیدگی سے معاویہ کو دیکھا اور پھر اپنی نظریں ہٹائی

"آج تک مما بابا میں سے کسی نے مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا"
حیا نے لیٹے ہوئے سنجیدگی سے کہا اس کا ارادہ معاویہ کو شرمندہ کرنے کا بھی تھا

"اندازہ ہو رہا ہے مجھے، یہ سب انہی کی ڈھیل کا نتیجہ ہے جو تم اتنی ضدی اور زبان دراز ہو"
معاویہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بولا

"یعنی تمہیں مجھ پر ہاتھ اٹھا کر کوئی شرمندگی نہیں ہے"
حیا نے بیٹھتے ہوئے غصے اور غم کی ملی جلی کیفیت میں معاویہ کو دیکھ کر پوچھا

"نہیں مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے بلکہ مجھے گھر لا کر واقعی تمہاری ٹانگیں توڑ دینی چاہیے تھی تاکہ تم نے نکسٹ ٹائم احتیاط کرو"
معاویہ نے اس کے گال کی سرخی کو دیکھ کر جہاں اس کی انگلی کی چھاپ ابھی بھی ہلکی ہلکی نمایاں ہو رہی تھی

"ابھی کے ابھی اس روم سے نکل ورنہ میں اس گھر سے چلی جاؤ گی"
حیا نے چیخ کر کہا تو معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا

"میں پچھلے ایک گھنٹے سے صرف یہی سوچ رہا ہوں کہ اگر میں آج وہاں نہیں پہنچتا تو کیا ہوتا اور جب جب یہ سوچ میرے ذہن میں آرہی ہے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا دل ابھی بند ہوجائے گا"
معاویہ اس کا چہرہ تھامے ہوئے سنجیدگی سے اس کو بول رہا تھا

"معاویہ پلیز"
حیا نے اس کے سینے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا آگے کی سوچ ہی اسے ہولانے لگی احساس اسے بھی تھا اپنی غلطی کا مگر وہ منہ سے سوری بولنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی

"رونا کیوں آرہا ہے تم کو،، ابھی بھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہے تمہیں"
معاویہ نے اس کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ باندھ کر حیا کو اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہا

"میں غلط نہیں ہوں میں کوئی بھی کام غلط نہیں کرتی ہوں تم بلاوجہ کی روک ٹوک کر کے مجھے ضد دلاتے ہو"
وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے،، سارا الزام اس کے اوپر دہر کر اسی سے شکوہ کرنے لگی،، معاویہ کو اس کی حرکت پر ہنسی آنے لگی

"اوکے میں اپنی غلطی مانتا ہوں میں غلط ہوں،، میں نے غلط کیا تمہیں باہر اکیلے جانے سے روک کر،، تم پر غصہ کر کہ،، چلو اب رونا بند کرو"
معاویہ نرمی سے کہتا ہوں اس کی کمر سہلا رہا تھا

"تمہیں کل ہتھکڑی نہیں لگانی چاہیے تھی،، تمہاری وجہ سے میرا ہاتھ زخمی ہوا"
اسی طرح اسکے سینے سے لگے ہوئے حیا کو ایک اور اپنے اوپر کیا گیا ظلم یاد آیا

"تمہارے ہاتھ میں ہتکڑی لگا کر میں نے واقعی بہت غلط کیا مجھے تمہاری بات کو انڈراسٹینڈ کرنا چاہیے تھا،، جس کام کے لئے میں یہاں پر آیا ہوں اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ گھر پر رکنا چاہیے تھا۔۔۔اس بات کے لئے بھی میں تم سے معافی چاہتا ہوں"
معاویہ نے دوبارہ اپنی غلطی مانتے ہوئے نرم لہجے میں حیا کو بولا

"اتنی زور سے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا تمہیں۔۔۔ تم نے مجھے بہت زور سے تھپڑ مارا ہے،، میں واپس جا کر تمہاری انکل سے شکایت کروں گی"
حیا کو رہ رہ کر اس کا تھپڑ مارنا بار بار یاد آ رہا تھا وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی

"اوکے تم ہمیشہ کی طرح میری ڈیڈ سے شکایت کر دینا پرامس اس کا میں تم سے کوئی بدلہ نہیں لونگا۔۔۔ کون سے گال پر تھپڑ مارا تھا یہاں پر"
معاویہ نے اپنے ہونٹ  حیا کے گال پر رکھتے ہوئے پوچھا

"تم اس طرح میرے ساتھ فلرٹ نہیں کرسکتے"
حیا نے معاویہ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا

"ُاسطرح بھی نہیں کرنے دیتی تم، پھر کسی طرح تو کرو گا ناں"
معاویہ بیچارگی سے بولتا ہوا بیڈ سے اٹھا

"چلو کھانا کھاو آکر مزید نخرے نہیں اٹھاؤں گا بہت تھکا ہوا ہوں اور ہمیں صبح نکلنا بھی ہے"
معاویہ بولتا ہوا روم سے باہر نکل گیا

حیا بھی اس کے پیچھے چل پڑی کیونکہ بھوک اس کو سخت لگی ہوئی تھی اور مزید نخرے دکھا کر اس کا رات بھر بھوک برداشت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
**

"ساحر ساحر۔۔ حامد جلدی سے اٹھاؤ اسے اسپتال لے کر جانا ہے" اویس شیرازی گھر پہنچا،،، اپنے روم میں جانے سے پہلے ساحر کو دیکھنے آیا ساحر کی حالت دیکھ کر عجیب حواس باختہ دوڑ کر اس کے پاس آیا ساحر کا چہرہ خون سے بھرا ہوا تھا اور وہ بے ہوش تھا تبھی بھاکتا ہوا وہ حامد کو بلانے گیا۔۔۔ اویس شیرازی اس وقت یہ سوچنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا کہ یہ سب آخر کس نے کیا ابھی اسے صرف ساحر کی جان بچانی تھی۔۔۔ گھر کے سب نوکر غائب تھے ڈرائیور اور گارڈ کی مدد سے ساحر کو ہسپتال پہنچایا گیا

**

الارم کی آواز پر معاویہ کی آنکھ کھلی حیا کروٹ لئے ہوئے ابھی بھی سو رہی تھی کمفرٹر ہٹا کر اس نے شرٹ پہنی
"حیا اٹھ جاؤ ہری اپ"
معاویہ نے حیا کا کندہ ہلاتے ہوئے کہا اور خود اٹھ کر واش روم چلا گیا جب واپس آیا تو حیا ویسی کی ویسی ہی بیڈ پر سو رہی تھی

بےبی اٹھو ہمہیں نکلنا ہے واپس گھر کے لئے"
وہ حیا کے گال تھپتھپاتا ہوا بولا

"پانچ منٹ میں اٹھتی ہوں"
حیا نے دوسری طرف کروٹ لیتے ہوئے کہا معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا اور اس کو دونوں بازوؤں میں اٹھا کر واش روم میں لے جاکر کھڑا کیا

"پانچ منٹ میں واپس آؤ"
معاویہ بولتا ہوا باہر جانے لگا

"تم میری نیند کے دشمن بنے رہنا دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا نے نیند بھری آنکھوں میں غصہ سمائے ہوئے بولا

"ابھی وہ نوبت تم نے آنے نہیں دی جب تمہاری نیند کا دشمن بنو۔ ۔۔۔۔ تب تو تمہیں اپنے اس دو ٹکے کے پولیس والے پر غصہ کرنا بھی جائز ہوگا"
معاویہ نے شوخ نظروں سے اس کے سوئے جاگے چہرے کو دیکھ کر کہا اور واش روم کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا

حیا کے اور اپنے کپڑے باقی ساری استعمال کی چیزیں بیگ میں ڈال کر پیکنگ کرنے لگا۔۔۔ حیا دھولے ہوئے چہرے کے ساتھ واپس آئی تو معاویہ پیکنگ کرچکا تھا

"جیکٹ پہنو اور ریڈی ہو کر باہر آو"  معاویہ نے اس کی طرف جیکٹ بڑھائی اور باہر نکل گیا

***

"ارے بھائی بھابھی آپ دونوں آگئے" صنم نے مسکرا کر معاویہ اور حیا کو دیکھتے ہوئے کہا خوش دلی سے ان کے پاس آکر دونوں سے ملی

"کیسی ہے بھابھی" صنم نے حیا سے پوچھا

"میں ٹھیک ھوں تم سناؤ تم کیسی ہو" حیا نے مسکرا کر جواب دیں اور ساتھ میں اس کی خیریت پوچھی

"میں بھی ٹھیک ہوں"
صنم نے کہا

"مام ڈیڈ نہیں اٹھے صنم"
معاویہ نے بیگ صوفے پر رکھتے ہوئے پوچھا

"آج سنڈے ہے تھوڑا لیٹ اٹھے گے۔۔ آپ دونوں کے لئے ناشتہ بنواؤں ساجدہ آگئی ہے"
صنم نے ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا

"نہیں تھینکس میں تھوڑا ریسٹ کرو گی"
حیا نے مسکرا کر کہا اور سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی

"گڑیا تم بھی ریسٹ کرو۔۔ مجھے ایک رپورٹ کرنی ہے، واپس آکر ناشتہ کروں گا"
معاویہ صنم کو بولتا ہوا روم میں آیا تو حیا کمفرٹر میں چھپی ہوئی سو رہی تھی اس نے وارڈروب سے فائل نکالی گاڑی کی کیسز لے کر گھر سے باہر نکل گیاا

***

چھٹی کے دن کی وجہ سے ناشتہ سب لیٹ کر رہے تھے معاویہ تھوڑی دیر پہلے آیا تھا خضر اور ناعیمہ سے ملا،، حیا بھی سو کر اٹھ گئی تھی ان دونوں کو سلام کر کے چیئر کھسکا کر بیٹھ گئی

"کیسا رہا تم لوگوں کا ٹرپ کافی جلدی واپس نہیں آ گئے حیا کو گھمایا پھرایا بھی تم نے" خضر نے ناشتے کے دوران معاویہ سے پوچھا

"ڈیڈ یہ تو افیشل ٹرپ تھا بعد میں گھمانے پھرانے لے جاؤں گا"
معاویہ نے ایک نظر حیا کو دیکھ کر خضر سے بولا

"ارے یاد آیا دو دن سے تمہیں فرصت نہیں تھی، ورنہ فون پر بتاتے۔۔ صنم کے لیے رشتہ آیا ہے وہ ہر لحاظ سے بہتر ہے اس لیے ہم نے ان لوگوں کو ہاں کردی ہے۔۔ جاننے والے لوگ ہیں لڑکا بھی اچھا ہے تم اور حیا آجکل میں جیسے ٹائم ملے جاکر دیکھ لینا اس کے بعد ڈیسائیڈ کریں گے کہ منگنی کا فنکشن کب رکھنا ہے"
خضر نے معاویہ کو پوری تفصیل سے جواب دیا

"ایسا کون ہے جاننے والا نام پتہ بتائیں" معاویہ نے ایک نظر صنم کو دیکھا جو نیچے سر جھکائے ہوئے ناشتہ کر رہی تھی،، اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے خضر سے پوچھا

"ہادی نام ہے۔۔ زین کے دوست بلال کا بیٹا،، بہت اچھا ہے ہر لحاظ سے، صنم کے ساتھ اچھا لگے گا،، اس لئے ہم نے رشتے کے لئے ہاں کر چکے ہیں۔۔۔ تم دونوں مل لینا جاکر پھر منگی ڈیسائیڈ کر لیتے ہیں"
خضر بولے جا رہا تھا اور معاویہ کا ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا حیرت زدہ تو اپنی جگہ حیا بھی تھی۔۔ مگر معاویہ کا ری ایکشن دیکھ کر وہ اپنی حیرت بھول چکی تھی


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment