Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 38
آج بلال کے گھر خضر کی فیملی کے ساتھ زین اور حور بھی انوائٹڈ تھے۔۔۔۔ بڑوں کے درمیان ہادی اور صنم کا رشتہ طے ہوا منگنی کا پروگرام معاویہ اور حیا کے واپس آنے کے بعد رکھا گیا سب لوگ رشتے سے مطمئن اور خوش تھے اچھے ماحول میں ڈنر کیا گیا
**
"آپ کی فیملی کہاں پر ہے"
حیا نے گھر میں داخل ہوتے ہی چاروں طرف نظر دوڑائی۔۔۔ اندر آتے ہوئے ساحر سے پوچھا
"فیملی میں صرف ڈیڈی ہی ہوتے ہیں میرے اور وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے۔۔۔ نوکر شام میں ہی کام مکمل کر کے چلے جاتے ہیں اور چوکیدار کی میں ابھی چھٹی کر کے آیا ہو"
ساحر حیا کو غور سے دیکھ کر اسے بتا رہا تھا
"آپ نے یہ بات کار میں تو نہیں بتائی کہ آپ کے گھر میں آپ کے سوا اور کوئی موجود نہیں"
حیا کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا
"مجھے کیا بےوقوف سمجھا ہوا جو میں یہ سب تم کو پہلے ہی بتا دیتا"
ساحر کے بات کرنے کا انداز اور لہجہ ایک دم سے بدلا
"فون کہاں پر ہے مجھے اپنے ہسبینڈ کو کال کرنا ہے"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے اپنے ڈر کو چھپا کر سنجیدگی سے پوچھا
"کرلینا اپنے ہسبنڈ کو کال۔۔۔۔ بلا لینا اسے بھی پہلے میرا دل تو خوش کر دو"
اب ساحر کی آنکھوں میں ہوس ٹپکتی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی وہ حیا کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا
"بکواس بند کرو اپنی الو کے پٹھے۔۔۔۔ میرا شوہر قتل کر دے گا تمہارہ، وہی رک جاؤ"
حیا نے اپنے برابر میں ٹیبل پر پڑے ہوئے گلدان کو اٹھاتے ہوئے بولا جب کہ اس کا دل اندر سے بری طرح کانپ رہا تھا
"شرافت سے اوپر کمرے میں چلو،، تم جیسی کے نخرے میں اچھی طرح جانتا ہوں اوپر سے پارسا بن رہی ہوتی ہے"
جیسے ہی وہ حیا کے قریب آنے لگا ہے حیا نے گلدان اس کو مارنا چاہا ساحر حیا کا ارادہ بھانپ کر سائڈ میں ہوا اور حیا کا نشانہ چوک گیا اس نے آگے بڑھ کر حیا کا بازو پکڑا
"چلو شرافت سے کمرے میں"
ساحر کے بازوں پکڑنے پر۔۔۔ حیا کا بےاختیار ہاتھ اٹھا اور تپھڑ ساحر کے گال پر رسید کیا
"اب دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں"
وہ غصے میں حیا تو گھسیٹتا ہوا اوپر روم میں لے جانے لگا
"کوئی مدد کرو میری، ہیلپ چھوڑو مجھے"
حیا زور سے چیخنے لگی اور اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
"اللہ پاک مجھے اتنی بڑی سزا مت دیجئے گا پلیز"
وہ روتے ہوئے دل میں کہنے لگی کاش وہ آج گھر سے نہ نکلتی تو اس وقت اس کے ساتھ یہ نہ ہوتا
ساحر نے اس کو اپنے بیڈ روم میں لا کر بیڈ پر پھینکا وہ لڑکھڑا کر بیڈ کے پاس گری
***
"کس کو کال ملائے جا رہی ہوں"
زین نے حور کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا
"حیا کے علاوہ کس کو کال ملاؤ گی، میرا فون ہی نہیں اٹھا رہی یہ لڑکی" حور جو کافی دیر سے کال ملا رہی تھی مگر مسلسل بیل جا رہی تھی حیا فون کا کوئی جواب نہیں دے رہی تھی
"تو ابھی رہنے دو بعد میں ٹرائی کرلینا کہیں گھوم پھر رہے ہوں گے وہ لوگ" زین نے حور کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے کہا
"ایسے ہی دل عجیب سا ہو رہا تھا آج سارا دن بات بھی نہیں کی اس نے"
حور پریشان ہونا شروع ہو گئی
"یار پریشان ہونے والی کون سی بات ہے اپنے شوہر کے ساتھ ہے،، اکیلی تھوڑی ہے ویسے بھی میری حیا سے صبح بات ہوئی تھی ٹھیک ہے وہ، کہہ رہی تھی شام میں باہر جانے کا پلان ہے۔۔۔ اس لئے ٹینشن لینا بند کرو"
صبح ہی زین کے فون کرنے پر حیا نے اسے صرف اپنے حانے کا بتایا تھا
"واپس آجائے گی تو معاویہ سے کہوں گی دو تین دن کے لیے میرے پاس چھوڑ دے میں بہت یاد کر رہی ہوں حیا کو"
زین کے سینے پر سر رکھتے ہوئے حور نے کہا
"آئیڈیا برا نہیں ہے کیوکہ یاد تو مجھے بھی آ رہی ہے"
زین نے حور کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا
**
صنم نے موبائل کے بجنے پر موبائل کی اسکرین دیکھی تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اس نے کال ریسیو کی
"کیا کر رہی تھی" ہادی نے صنم سے پوچھا
"میں سچ بتاؤ کیا کر رہی تھی"
صنم نے مسکرا کر سوال کیا
"میں سچ ہی سننا چاہتا ہوں"
ہادی نے کہا
"ہمارے آنے والے کل کے لیے سوچ رہی تھی"
صنم کی آنکھیں روشن ہوئی اس نے مسکرا کر جواب دیا
"پہلے سے بھی مستقبل کے بارے میں سوچنا ٹھیک نہیں کیونکہ کبھی کبھی وہ سب کچھ نہیں ہوتا جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ حقیقت ہمارے خوابوں کے برعکس بھی ہوسکتی ہے" ہادی نے سنجیدگی سے کہا
"آپ ہر قدم پر میرے ساتھ ہوں گے تو میں ہر تلخ حقیقت کا سامنا کر لوں گی،، بس آپ کا ساتھ شرط ہے اور مجھے زیادہ ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے مسٹر ہادی مسعود آج میں بہت خوش ہوں مجھے خوش ہونے دیں"
آج صنم واقعی بہت خوش تھی خوشی اس کی آواز سے چھلک رہی تھی
"دل میرا بھی چاہتا ہے کہ تم خوش رہو مگر دماغ دل پر ہاوی رہتا ہے"
ہادی نہ ایسا سوچا مگر کہہ نہیں سکا
"اب فون پر کہاں کھو گئے"
صنم نے اس کی خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا
"میں بھی ایک بات سوچ رہا تھا"
ہادی نے چونک کر کہا
"کیا سوچ رہے تھے" صنم کو تجسس ہوا
"تم بہت اچھی ہو بہت معصوم سی" ہادی نے سچائی کے ساتھ کہا
"تو پھر کیا کیا جائے"
صنم نے شرارت سے پوچھا
"اچھے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ توقعات کام رکھیں۔۔۔ خواب ٹوٹے تو بہت تکلیف ہوتی ہے"
یہ کہہ کر ہادی نے کال کاٹ دی اور صنم موبائل کو دیکھتی رہی
"پتہ نہیں کیا کہہ جاتے ہیں ہادی بھی کبھی کبھی"
صنم نے سوچا پھر خود ہی سر جھٹک کر ناعیمہ کے پاس چلی گئی
**
حیا کو بیڈ پر پھینک کر ساحر کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا تو کسی نے دروازے پر لات مار کے دروازہ کھولا حیا نے آنے والے شخص کو دیکھا جو اس کے لئے فرشتہ بن کر آیا تھا۔۔۔ وہ اور کوئی نہیں تھا وہی شخص تھا جس کے لئے وہ صبح دعا کر رہی تھی
"اللہ کرے تم واپس ہی نہ ہو"
حیا نے معاویہ کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا
"تم یہاں کیا کر رہے ہو، یہ میرا گھر ہے تمہارا پولیس اسٹیشن نہیں ہے نکلو یہاں سے فورا" ساحر معاویہ کو دیکھ کر پہچان گیا تھا،، بھولا تو اس دن کی درگت بالکل بھی نہیں تھا جو اس کی معاویہ کے ہاتھوں بنی تھی،،، مگر وہ اس وقت اپنے گھر میں کھڑا ہوا بے خوف ہو کر بولا
"مجھے لگا تھا اس دن پولیس اسٹیشن میں تمہیں اچھا سبق ملا ہوگا۔۔۔۔ مگر اب اندازہ ہو گیا ہے کہ کمینہ پن تمہاری نس نس میں بھرا ہوا ہے ایک دھلائی سے تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ آج میں نے تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جو تمہیں زندگی بھر یاد رہے گا"
معاویہ نے ساحر کا گریبان پکڑ کر اس کو مخاطب کیا اور ایک زور دار مکہ اس کے منہ پر جڑ دیا جس سے وہ صوفے پر جا گرا ابھی وہ صوفے سے اٹھنے نہیں پایا تھا ایک زور دار لات اس کے پیٹ میں رسید کی اس کو سے سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر اس کے بالوں کو مٹھی سے پکڑ کر سامنے آئینے پر اس کا سر زور سے مارا۔۔۔ ساحر چیختا ہوا بیڈ پر جا گرا
بیڈ کے سائڈ پر رکھی ہوئی وائن کی بوتل اٹھا کر معاویہ نے ساحر کے سر پر ماری جس سے وہ تکلیف سے چیخ اٹھا اس کے بعد دوسری بوتل اٹھائی وہ بھی اس کے سر پر توڑ دی ساحر کے سر سے خون نکلنا شروع ہوگیا اور وہ تکلیف کے مارے زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔۔ آدھی ٹوٹی ہوئی بوتل کا حصہ جو معاویہ کے ہاتھ میں تھا معاویہ نے ساحر کے پیٹ پر مارنا چاہا تبھی حیا کو ہوش آیا اور وہ بھاگ کر معاویہ کے پاس آئی فورا معاویہ کا ہاتھ پکڑا
"معاویہ یہ کیا کر رہے ہو چھوڑ دو اسے وہ مر جائے گا"
حیا کے ہاتھ پکڑنے پر معاویہ نے پلٹ کر حیا کو قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا حیا کو اپنی شامت آتی ہوئی محسوس ہوئی
"کیوں نکلی تم گھر سے باہر میرے منع کرنے کے باوجود"
حیا کے بال اب معاویہ کی مٹی میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔ وہ حیا کو خونخوار نظروں سے دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کا غصہ دیکھ کر حیا کی زبان تالو سے چپک گئی
"جواب چاہئے مجھے"
معاویہ کے زور سے چیخنے پر حیا ڈر گئی مگر وہ اپنا ڈر اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
"تم مجھ پر اس طرح شاوٹ نہیں کرسکتے بال چھوڑو میرے"
حیا کے منہ کھلنے کی دیر تھی معاویہ کے زور دار تھپڑ نے نا صرف اس کا منہ بند کیا بلکہ وہ صوفے پر جاگری
معاویہ نے درد سے کراہتے ہوئے ساحر کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا
"تو اس لائق نہیں ہے کہ دنیا میں رہے"
جیکٹ میں رکھی ہوئی پسٹل کی طرف معاویہ کا ہاتھ گیا تو اس کے موبائل پر سہیل کی کال آنے لگی۔۔۔ ساحر کو واپس بیڈ پر پھینک کر اس نے کال ریسیو کی
"ہاں سہیل بولو"
"سر اس لڑکی کو لے کر جلدی نکلیں اویس شیرازی واپس آرہا ہے میں نکل چکا ہوں ثبوت میرے پاس ہیں وہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں"
کال کاٹ کر معاویہ نے ایک نظر زخمی پڑے ساحر پر ڈالی جس کے سر سے خون بہتا ہوا اب چہرے پر آ گیا تھا اس کو ایک لات رسید کرتا ہوا وہ حیا کے پاس آیا۔۔۔
وہ تھپڑ پڑنے پر ابھی تک صوفے پر بیٹھی ہوئی معاویہ کو ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اس کے قریب آکر اس کا بازو تھاما اور اسے گھر کے پیچھے کے راستے سے لے کر باہر نکلا گاڑی اس کی گھر سے کافی فاصلے پر کھڑی تھی گاڑی میں لاکر حیا کو بٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 38
آج بلال کے گھر خضر کی فیملی کے ساتھ زین اور حور بھی انوائٹڈ تھے۔۔۔۔ بڑوں کے درمیان ہادی اور صنم کا رشتہ طے ہوا منگنی کا پروگرام معاویہ اور حیا کے واپس آنے کے بعد رکھا گیا سب لوگ رشتے سے مطمئن اور خوش تھے اچھے ماحول میں ڈنر کیا گیا
**
"آپ کی فیملی کہاں پر ہے"
حیا نے گھر میں داخل ہوتے ہی چاروں طرف نظر دوڑائی۔۔۔ اندر آتے ہوئے ساحر سے پوچھا
"فیملی میں صرف ڈیڈی ہی ہوتے ہیں میرے اور وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے۔۔۔ نوکر شام میں ہی کام مکمل کر کے چلے جاتے ہیں اور چوکیدار کی میں ابھی چھٹی کر کے آیا ہو"
ساحر حیا کو غور سے دیکھ کر اسے بتا رہا تھا
"آپ نے یہ بات کار میں تو نہیں بتائی کہ آپ کے گھر میں آپ کے سوا اور کوئی موجود نہیں"
حیا کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا
"مجھے کیا بےوقوف سمجھا ہوا جو میں یہ سب تم کو پہلے ہی بتا دیتا"
ساحر کے بات کرنے کا انداز اور لہجہ ایک دم سے بدلا
"فون کہاں پر ہے مجھے اپنے ہسبینڈ کو کال کرنا ہے"
حیا نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے اپنے ڈر کو چھپا کر سنجیدگی سے پوچھا
"کرلینا اپنے ہسبنڈ کو کال۔۔۔۔ بلا لینا اسے بھی پہلے میرا دل تو خوش کر دو"
اب ساحر کی آنکھوں میں ہوس ٹپکتی ہوئی صاف نظر آ رہی تھی وہ حیا کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا
"بکواس بند کرو اپنی الو کے پٹھے۔۔۔۔ میرا شوہر قتل کر دے گا تمہارہ، وہی رک جاؤ"
حیا نے اپنے برابر میں ٹیبل پر پڑے ہوئے گلدان کو اٹھاتے ہوئے بولا جب کہ اس کا دل اندر سے بری طرح کانپ رہا تھا
"شرافت سے اوپر کمرے میں چلو،، تم جیسی کے نخرے میں اچھی طرح جانتا ہوں اوپر سے پارسا بن رہی ہوتی ہے"
جیسے ہی وہ حیا کے قریب آنے لگا ہے حیا نے گلدان اس کو مارنا چاہا ساحر حیا کا ارادہ بھانپ کر سائڈ میں ہوا اور حیا کا نشانہ چوک گیا اس نے آگے بڑھ کر حیا کا بازو پکڑا
"چلو شرافت سے کمرے میں"
ساحر کے بازوں پکڑنے پر۔۔۔ حیا کا بےاختیار ہاتھ اٹھا اور تپھڑ ساحر کے گال پر رسید کیا
"اب دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں"
وہ غصے میں حیا تو گھسیٹتا ہوا اوپر روم میں لے جانے لگا
"کوئی مدد کرو میری، ہیلپ چھوڑو مجھے"
حیا زور سے چیخنے لگی اور اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
"اللہ پاک مجھے اتنی بڑی سزا مت دیجئے گا پلیز"
وہ روتے ہوئے دل میں کہنے لگی کاش وہ آج گھر سے نہ نکلتی تو اس وقت اس کے ساتھ یہ نہ ہوتا
ساحر نے اس کو اپنے بیڈ روم میں لا کر بیڈ پر پھینکا وہ لڑکھڑا کر بیڈ کے پاس گری
***
"کس کو کال ملائے جا رہی ہوں"
زین نے حور کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا
"حیا کے علاوہ کس کو کال ملاؤ گی، میرا فون ہی نہیں اٹھا رہی یہ لڑکی" حور جو کافی دیر سے کال ملا رہی تھی مگر مسلسل بیل جا رہی تھی حیا فون کا کوئی جواب نہیں دے رہی تھی
"تو ابھی رہنے دو بعد میں ٹرائی کرلینا کہیں گھوم پھر رہے ہوں گے وہ لوگ" زین نے حور کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے کہا
"ایسے ہی دل عجیب سا ہو رہا تھا آج سارا دن بات بھی نہیں کی اس نے"
حور پریشان ہونا شروع ہو گئی
"یار پریشان ہونے والی کون سی بات ہے اپنے شوہر کے ساتھ ہے،، اکیلی تھوڑی ہے ویسے بھی میری حیا سے صبح بات ہوئی تھی ٹھیک ہے وہ، کہہ رہی تھی شام میں باہر جانے کا پلان ہے۔۔۔ اس لئے ٹینشن لینا بند کرو"
صبح ہی زین کے فون کرنے پر حیا نے اسے صرف اپنے حانے کا بتایا تھا
"واپس آجائے گی تو معاویہ سے کہوں گی دو تین دن کے لیے میرے پاس چھوڑ دے میں بہت یاد کر رہی ہوں حیا کو"
زین کے سینے پر سر رکھتے ہوئے حور نے کہا
"آئیڈیا برا نہیں ہے کیوکہ یاد تو مجھے بھی آ رہی ہے"
زین نے حور کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا
**
صنم نے موبائل کے بجنے پر موبائل کی اسکرین دیکھی تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اس نے کال ریسیو کی
"کیا کر رہی تھی" ہادی نے صنم سے پوچھا
"میں سچ بتاؤ کیا کر رہی تھی"
صنم نے مسکرا کر سوال کیا
"میں سچ ہی سننا چاہتا ہوں"
ہادی نے کہا
"ہمارے آنے والے کل کے لیے سوچ رہی تھی"
صنم کی آنکھیں روشن ہوئی اس نے مسکرا کر جواب دیا
"پہلے سے بھی مستقبل کے بارے میں سوچنا ٹھیک نہیں کیونکہ کبھی کبھی وہ سب کچھ نہیں ہوتا جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ حقیقت ہمارے خوابوں کے برعکس بھی ہوسکتی ہے" ہادی نے سنجیدگی سے کہا
"آپ ہر قدم پر میرے ساتھ ہوں گے تو میں ہر تلخ حقیقت کا سامنا کر لوں گی،، بس آپ کا ساتھ شرط ہے اور مجھے زیادہ ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے مسٹر ہادی مسعود آج میں بہت خوش ہوں مجھے خوش ہونے دیں"
آج صنم واقعی بہت خوش تھی خوشی اس کی آواز سے چھلک رہی تھی
"دل میرا بھی چاہتا ہے کہ تم خوش رہو مگر دماغ دل پر ہاوی رہتا ہے"
ہادی نہ ایسا سوچا مگر کہہ نہیں سکا
"اب فون پر کہاں کھو گئے"
صنم نے اس کی خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا
"میں بھی ایک بات سوچ رہا تھا"
ہادی نے چونک کر کہا
"کیا سوچ رہے تھے" صنم کو تجسس ہوا
"تم بہت اچھی ہو بہت معصوم سی" ہادی نے سچائی کے ساتھ کہا
"تو پھر کیا کیا جائے"
صنم نے شرارت سے پوچھا
"اچھے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ توقعات کام رکھیں۔۔۔ خواب ٹوٹے تو بہت تکلیف ہوتی ہے"
یہ کہہ کر ہادی نے کال کاٹ دی اور صنم موبائل کو دیکھتی رہی
"پتہ نہیں کیا کہہ جاتے ہیں ہادی بھی کبھی کبھی"
صنم نے سوچا پھر خود ہی سر جھٹک کر ناعیمہ کے پاس چلی گئی
**
حیا کو بیڈ پر پھینک کر ساحر کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا تو کسی نے دروازے پر لات مار کے دروازہ کھولا حیا نے آنے والے شخص کو دیکھا جو اس کے لئے فرشتہ بن کر آیا تھا۔۔۔ وہ اور کوئی نہیں تھا وہی شخص تھا جس کے لئے وہ صبح دعا کر رہی تھی
"اللہ کرے تم واپس ہی نہ ہو"
حیا نے معاویہ کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا
"تم یہاں کیا کر رہے ہو، یہ میرا گھر ہے تمہارا پولیس اسٹیشن نہیں ہے نکلو یہاں سے فورا" ساحر معاویہ کو دیکھ کر پہچان گیا تھا،، بھولا تو اس دن کی درگت بالکل بھی نہیں تھا جو اس کی معاویہ کے ہاتھوں بنی تھی،،، مگر وہ اس وقت اپنے گھر میں کھڑا ہوا بے خوف ہو کر بولا
"مجھے لگا تھا اس دن پولیس اسٹیشن میں تمہیں اچھا سبق ملا ہوگا۔۔۔۔ مگر اب اندازہ ہو گیا ہے کہ کمینہ پن تمہاری نس نس میں بھرا ہوا ہے ایک دھلائی سے تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ آج میں نے تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا جو تمہیں زندگی بھر یاد رہے گا"
معاویہ نے ساحر کا گریبان پکڑ کر اس کو مخاطب کیا اور ایک زور دار مکہ اس کے منہ پر جڑ دیا جس سے وہ صوفے پر جا گرا ابھی وہ صوفے سے اٹھنے نہیں پایا تھا ایک زور دار لات اس کے پیٹ میں رسید کی اس کو سے سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر اس کے بالوں کو مٹھی سے پکڑ کر سامنے آئینے پر اس کا سر زور سے مارا۔۔۔ ساحر چیختا ہوا بیڈ پر جا گرا
بیڈ کے سائڈ پر رکھی ہوئی وائن کی بوتل اٹھا کر معاویہ نے ساحر کے سر پر ماری جس سے وہ تکلیف سے چیخ اٹھا اس کے بعد دوسری بوتل اٹھائی وہ بھی اس کے سر پر توڑ دی ساحر کے سر سے خون نکلنا شروع ہوگیا اور وہ تکلیف کے مارے زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔۔ آدھی ٹوٹی ہوئی بوتل کا حصہ جو معاویہ کے ہاتھ میں تھا معاویہ نے ساحر کے پیٹ پر مارنا چاہا تبھی حیا کو ہوش آیا اور وہ بھاگ کر معاویہ کے پاس آئی فورا معاویہ کا ہاتھ پکڑا
"معاویہ یہ کیا کر رہے ہو چھوڑ دو اسے وہ مر جائے گا"
حیا کے ہاتھ پکڑنے پر معاویہ نے پلٹ کر حیا کو قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا حیا کو اپنی شامت آتی ہوئی محسوس ہوئی
"کیوں نکلی تم گھر سے باہر میرے منع کرنے کے باوجود"
حیا کے بال اب معاویہ کی مٹی میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔ وہ حیا کو خونخوار نظروں سے دیکھ کر پوچھ رہا تھا اس کا غصہ دیکھ کر حیا کی زبان تالو سے چپک گئی
"جواب چاہئے مجھے"
معاویہ کے زور سے چیخنے پر حیا ڈر گئی مگر وہ اپنا ڈر اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
"تم مجھ پر اس طرح شاوٹ نہیں کرسکتے بال چھوڑو میرے"
حیا کے منہ کھلنے کی دیر تھی معاویہ کے زور دار تھپڑ نے نا صرف اس کا منہ بند کیا بلکہ وہ صوفے پر جاگری
معاویہ نے درد سے کراہتے ہوئے ساحر کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا
"تو اس لائق نہیں ہے کہ دنیا میں رہے"
جیکٹ میں رکھی ہوئی پسٹل کی طرف معاویہ کا ہاتھ گیا تو اس کے موبائل پر سہیل کی کال آنے لگی۔۔۔ ساحر کو واپس بیڈ پر پھینک کر اس نے کال ریسیو کی
"ہاں سہیل بولو"
"سر اس لڑکی کو لے کر جلدی نکلیں اویس شیرازی واپس آرہا ہے میں نکل چکا ہوں ثبوت میرے پاس ہیں وہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں"
کال کاٹ کر معاویہ نے ایک نظر زخمی پڑے ساحر پر ڈالی جس کے سر سے خون بہتا ہوا اب چہرے پر آ گیا تھا اس کو ایک لات رسید کرتا ہوا وہ حیا کے پاس آیا۔۔۔
وہ تھپڑ پڑنے پر ابھی تک صوفے پر بیٹھی ہوئی معاویہ کو ہی دیکھ رہی تھی معاویہ نے اس کے قریب آکر اس کا بازو تھاما اور اسے گھر کے پیچھے کے راستے سے لے کر باہر نکلا گاڑی اس کی گھر سے کافی فاصلے پر کھڑی تھی گاڑی میں لاکر حیا کو بٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment