Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 37

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 37


"کیا سوچ رہے ہیں آپ"
نائمہ نے خضر کو چئیر پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ کر سوچوں میں گم دیکھا تو پوچھنے لگی

"بلال کے بیٹے کے بارے میں سوچ رہا ہوں،، معاویہ کے ولیمے والے دن زین نے تعارف کروایا تھا اس سے۔۔۔ ویسے تو لڑکے میں کوئی برائی نہیں ہے،، ہماری صنم کے لحاظ سے اچھا رہے گا"
خضر نے ناعیمہ سے اپنی سوچ شیئر کی 

"ہاں میں نے بھی اسی دن دیکھا تھا مجھے بھی پسند آیا تھا"
ناعیمہ سمجھ گئی ہادی وہی لڑکا ہے جس کا صنم نے اس سے ذکر کیا تھا

"تم صنم سے اس کی مرضی جان لینا،،، معاویہ اور حیا واپس آجائے گے تو منگنی وغیرہ کردیں گے صنم کی،،، اسٹیڈیز کے بعد شادی کا سوچیں گے"
خضر نے نائمہ کو اپنا ارادہ بتایا

"ویسے تو صنم راضی ہوگی مگر آپ کے کہنے پر اس سے پوچھ لیتی ہوئی" ناعیمہ نے خضر کو دیکھتے ہوئے

"ٹھیک ہے تم صنم سے اس کی مرضی پوچھ کر بتا دو پھر میں زین کو اوکے میں جواب دے دو گا تاکہ وہ اگے بلال کو بول دے"
خضر کی بات پر نائمہ نے اثبات میں سر ہلایا

***

سہیل کے مطابق آج اویس شیرازی نے اپنے مہمانوں کو 'دعوت خاص پر اپنے فارم ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔۔۔ معاویہ نے یہ سوچ کر حلیہ بدل کر وہاں جانے کا ارادہ کیا شاید کوئی ٹھوس ثبوت اویس شیرازی کے خلاف ہاتھ لگ جائے۔۔۔۔۔سگریٹ کے کش لگا کر وہ اپنا پلان ترتیب دے رہا تھا،،، جب حیا اچانک روم میں آئی معاویہ کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔۔۔ کل کے واقعہ کے بعد دونوں میں بات چیت بند تھی۔۔۔۔ رات میں جب حیا سوگئی اس کے بعد معاویہ روم میں واپس آیا تھا۔۔۔ ۔ صبح بھی اٹھ کر دونوں نے بغیر کوئی بات کرے خاموشی سے ناشتہ کیا تھا۔۔۔۔

حیا نے ایک ناگوار نظر اس کے ہاتھ میں موجود سگریٹ پر ڈالی اور پھر سر جھٹک کر آئینے کے آگے کھڑے ہوکر اپنے بال باندھنے لگی،، اس کے ہاتھ کا زخم اب کل کی بانسبت آج بہتر تھا بلیک جینز پر پرپل سویٹر پہنے ہوئے۔ ۔۔وارڈروب سے اپنا ہینڈ بیگ نکال کر اس میں سیل فون رکھنے لگی

"یہ موبائل بیگ میں کیوں ڈالا ہے تم نے" معاویہ نے حیا کی تیاری دیکھ کر اس سے سوال کیا

"عادت ہے میری گھر سے نکلتے وقت موبائل ساتھ لے کر نکلتی ہو"
حیا نے اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتے ہوئے معاویہ کی بات کا جواب دیا

"اور تم اس وقت گھر سے نکل کر کہاں جارہی ہو"
معاویہ بیڈ سے اٹھ کر حیا کے پاس آیا اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تم یہاں اپنے کام سے آئے ہو تو وہ کرو۔۔ مجھے جو بھی کرنا ہے کہیں آنا ہے، جانا ہے اس سے تمہیں سروکار نہیں ہونا چاہیے، ویسے بھی میں یہاں بیٹھ کر دیواروں کو تھکنے سے رہی"
حیا نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا

"ایک اچھی بیوی کو شوہر کے تابع ہو کر چلنا چاہیے، اس کی بات ماننی چاہیے اور اس کی مجبوری کو سمجھنا چاہیے خیر یہ میں اچھی بیویوں کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں۔۔   اس وقت تم کہیں نہیں جا رہی ہوں خاموش رہ کر گھر میں بیٹھو۔ ۔۔ آج مجھے ضروری کام سے جانا ہے کل تمہیں خود لے جاؤ گا جہاں تم کہو گی"
معاویہ نے حیا کے طنز کا جواب اسی کے لہجے میں سنجیدگی سے دیا

"تمہیں کیا لگ رہا ہے تم جب مجھے کہیں لے کر جاو گے تو میں تمہارے ساتھ اوٹنگ کا پروگرام بناوگی۔۔۔ بہت خوش فہم ھو تم"
حیا اپنا ہینڈ بیگ شولڈر پر رکھ کر کمرے سے جانے لگی

"اکیلے یہاں سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے گھر پر ہی رہو"
اب معاویہ نے اس کے طنز کو اگنور کرکے۔۔۔ اس کا بازو پکڑ کر بولا

"تم مجھ پر یوں پابندیاں نہیں لگا سکتے کوئی زر خرید غلام نہیں ہوں میں تمھاری،،، نہ تم نے مجھے میرے باپ سے خریدہ ہے"
حیا نے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے کہا

"شٹ اپ حیا، میں اس وقت کسی قسم کی بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں،،
باہر جانے کے لئے اس لئے منع کررہا ہوں یہ کاٹیج آبادی سے دور ہے اور راستے میں جنگل ہے۔۔۔ تم کہیں نہیں جا رہی شام تک،، جب تک میں واپس آجاؤ"
معاویہ گاڑی کی کیز اٹھاتے ہوئے بولا

"تم میرے باپ نہیں ہوں جو میں تمہارے حکم کی تعمیل کرو"
حیا نے کافی بدتمیزی سے معاویہ کو جواب دیا جس پر معاویہ کے باہر جاتے ہوئے قدم رکے اور وہ واپس پلٹ کر حیا کی طرف آیا

"تم سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں تمہاری ہر بدتمیزی کو چپ کرکے برداشت کروں گا۔۔ آئندہ بات کرتے ہوئے اپنی اس گز بھر کی زبان کو قابو میں رکھنا۔۔۔۔ ورنہ بغیر زبان کی گونگی بیٹی کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کو ضرور افسوس ہوگا مگر تمہاری زبان کے نہ ہونے سے مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا"
معاویہ اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر بولا اور ایک جھٹکے سے چھوڑا تو وہ بیڈ پر اندھے منہ گری

"اب تم روک سکتے ہو تو مجھے روک کر دکھاو"
حیا کو ضد چڑھی تو اس نے معاویہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا

"اگر گھر سے باہر کا قدم نکالا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا دماغ میں رکھنا میری اس بات کو"
اس نے حیا کو سنجیدگی سے وارن کرنے کے انداز میں بولا

معاویہ اس کی ضدی فطرت سے بھی واقف تھا اس لیے جاتے جاتے اس کا ہینڈ بیگ اپنے ساتھ لے کر چلا گیا

"گھٹیا انسان، اللہ کرے تم واپس ہی نہیں آو"
حیا بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی

***

"ہادی آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہے نا"
ساحل سمندر کے پاس ریت پر چلتے ہوئے صنم نے ہادی سے پوچھا اور یہ بات اس نے کوئی تیسری دفعہ پوچھی تھی

"اگر تم سے ناراض ہوتا تو تمہیں یہاں اپنے ساتھ کیوں لے کر آتا"
ہادی نے صنم کے ساتھ چلتے ہوئے اس کو دیکھ کر کہا

"نہیں اسے دن آپ کو غصہ آگیا تھا میں سمجھی شاید آپ کو برا لگا ہو"
صنم نے جھجکتے ہوئے ہوئے آخری ملاقات کے حوالے دیتے ہوئے ہادی سے کہا

"میں اس دن بھی تم سے ناراض نہیں ہوا تو صنم بلکہ اس دن میں خود سے ناراض ہوگیا تھا۔۔۔۔
خیر یہ بتاؤ تمہارے مام ڈیڈ نے کیا سوچا ہے میرے پرپوزل کے متعلق" ہادی نے صنم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"مام ڈیڈ کے خیال تو کافی نیک ہیں آپ کے بارے میں،، مام نے آج صبح ہی مجھے بتایا کے ڈیڈ شام کو زین انکل کو فون کریں گے"
صنم نے آنکھوں میں ڈھیر سارے خواب سجاتے ہوئے ہادی کو بتایا

"اور تمہارے بھائی کے کتنے نیک خیال ہیں میرے رشتے کے بارے میں"
ہادی نے بغیر کسی تاثر کے صنم کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"بھائی تو اپنے آفیشلی کام سے مری گئے ہوئے ہیں حیا بھابھی کے ساتھ" مام ڈیڈ کا ارادہ ہے کہ ان کے آنے پر ہی انگیجمنٹ رکھیں گے"
صنم نے نظریں جھکا کر ناعیمہ کی بتائی ہوئی بات ہادی کو بتائی

"ہہمم یہ بھی ٹھیک ہے اس کی واپسی پر ہی انگیجمنٹ ہو تو یہ زیادہ اچھا ہے تاکہ وہ بھرپور طریقے سے انجوائے کر سکے"
ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا

"ہادی آخر ایسی کون سی بات ہے جس کی وجہ سے آپ اور بھائی ایک دوسرے کو"
صنم نے تاسف بری نظر اس پر ڈالی۔۔۔ اسے ان دونوں کی آپس میں ناپسندیدگی بالکل اچھی نہیں لگتی تھی

"یہ تو تم اپنے بھائی سے پوچھنا وہ زیادہ اچھا جواب دے گا چلو واپس چلتے ہیں"
ہادی نے کار کی طرف رخ کرتے ہوئے صنم کو بولا صنم اس کے ساتھ قدم اٹھاتی ہوئی کار کی طرف چل دی

**

تھوڑی دیر  رونے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھی اور ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی کافی دیر گزرنے کے بعد جب اس کا ٹی وی سے دل بھر گیا تو وہ پھر سے بیزار ہونے لگی

"میرا موبائل بھی ساتھ لے گیا دو ٹکے کا پولیس والا"
حیا نے کینوز پہنتے ہوئے سوچا اور گھر سے نکل گئی۔۔ یہ سوچتے ہوئے کہ تھوڑی چہل قدمی کرکے واپس آجائے گی اپنی سوچوں میں گم کافی دیر چلتی رہی مگر جلد ہی احساس ہوا وہ کافی دور آگئی ہے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا تو اسے لگا وہ گھر کا راستہ بھول گئی ہے۔۔۔۔ وہ صحیح معنوں میں پریشان ہو گئی کیوکہ ہلکا ہلکا سا اندھیرا ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔ معاویہ یقینا گھر پہنچ گیا ہوگا اس نے کہا تو وہ شام تک آجائے گا۔۔۔۔۔ اب حیا کو نہ پاکر اسے کتنا غصہ آئے گا شاید اس نے یہ بھی کہا تھا کہ گھر سے باہر نکلے گی تو وہ اس کی ٹانگیں توڑ دے گا۔۔۔ معاویہ کی غصے میں دی گئی دھمکی یاد آنے لگی تو مزید پچھتانے لگی

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے ایک گاڑی اس کے قریب آکر رکی

"ایکسیوزمی میم، کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں"
گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے اس نوجوان نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"نو تھینکس"
حیا مڑ کر جانے لگی

"میری بات سنیے پلیز،، یہ آگے جنگل ہے اور اندھیرا شروع ہوچکا ہے آپ اس طرح سے اکیلے۔۔۔ آئی مین کافی رسکی ہے۔۔۔ میں آپ کے خیال سے بول رہا تھا"
نوجوان نے کندھے اچکا کر بولا

"کیا مطلب ہے آپ کا رسکی"
حیا اندر سے تو ڈر گئی مگر اس نے ظاہر نہیں کیا

"جنگل ہے تو یہاں پر لازمی جنگلی جانور بھی ہوں گے جس سے آپ کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے،، اب مجھے اپنے گھر کا بتادیں میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں"
اس نوجوان نے حیا کو آفر کرتے ہوئے کہا

"اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو اپنا سیل فون دے دیں ایک ضروری کال کرنا ہے مجھے"
زین کا نمبر تو حیا کو یاد تھا اسے کال کرنے کا سوچنے لگی،،، سوچا زین کو پرابلم بتائے گی اور زین کو بولے گی کہ معاویہ کو فون کر کے کہے کہ حیا کو یہاں سے آ کر لے جائے۔ ۔۔۔ بعد میں اگر معاویہ اسے کچھ کہے گا تو وہ اس کو سنبھال لے گی۔۔  مگر پہلے اس مصیبت سے نکلنا ضروری تھا جس میں وہ پھنس گئی تھی ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس نوجوان کے جملے نے اسے مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا

"یہ اپکی واقعی بیڈ لک ہے۔۔۔ اتفاق سے میرے موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہے"
اس نے اپنا موبائل حیا کے سامنے لہراتے ہوئے بتایا اس کی بات سے حیا رو دینے والی ہوگٙئی

"وہ دراصل میں اپنے گھر کا راستہ بھول گئی ہوں اور میرا موبائل بھی میرے پاس نہیں ہے" حیا کو اب سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے

"او یہ تو پروبلم ہو گئی کافی۔ ۔۔کوئی نشانی تو یاد ہوگی آپ کو اپنے گھر کی میرا مطلب ہے جس کے ذریعے میں آپ کی ہیلپ کرسکو"
اس نوجوان نے حیا کا پریشان چہرہ دیکھ کر پوچھا

"میں یہاں کی رہاشی نہیں ہو، میرا مطلب ہے میں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ یہاں آئی ہوں۔۔۔ ایسے ہی وہاں واک کربے نکلی تھی تو آب راستہ بھول گئی"
شکل سے وہ شریف لگ رہا تھا حیا نے اپنا سارا مسئلہ اسے بتایا

"اگر آپ ٹرسٹ کرسکتی ہیں تو اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں وہاں لینڈ لائن سے اپنے ہسبنڈ کو کانٹیکٹ کرلیں انہیں وہی بلالیں۔ ۔۔ مجھے مشورہ دیتے ہوئے خود عجیب سا لگ رہا ہے مگر آپ کی پریشانی سمجھتے ہوئے میں یہ کہہ رہا ہوں اس طرح یہاں کھڑے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا"
اس نوجوان نے اپنی طرف سے مشورہ دیا

"میں اسے کیسے آپکے گھر۔۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ کا گھر کدھر ہے"
حیا کو خود سمجھ نہیں آیا کیا کرے۔ ۔۔مگر کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں تھا

"یہی تھوڑی دور ہے میرا گھر۔۔۔ دیکھیے میں ایک شریف انسان ہوا آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں"
نوجوان نے حیا کو کشمکش میں پڑتے دیکھ کر کہا اور کار کا دروازہ کھولا

تھوڑا ہچکچاتے ہوئے حیا کار میں بیٹھ گئی تو اس نے کار اسٹارٹ کردی۔۔۔
خاموشی عجیب سی لگ رہی تھی اس لئے حیا نے اس کو ختم کرنے کے لئے اس نوجوان کا نام پوچھا

"آپ کا نام"

"ساحر۔۔ ساحر شیرازی"
نوجوان نے گاڑی اپنے گھر کے پاس روکتے ہوئے اپنا نام بتایا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment