Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 36
"کیا سوچا جارہا ہے"
حور کھڑکی کے پاس کھڑی ہوکر باہر لان میں دیکھ رہی تھی جب زین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
تھوڑی دیر پہلے ہی معاویہ نے کال کر کے اپنے اور حیا کے مری جانے کے پروگرام کے بارے میں بتایا تھا
"کیا سوچ سکتی ہوں بس یہی سوچ رہی تھی حیا اور معاویہ کی واپسی پر ان کی پوری فیملی کو ڈنر پر انوائٹ کریں گے۔۔۔ کل فضا کے ساتھ مال جانے کا پروگرام بناو گی تو معاویہ اور حیا کے لئے کچھ گفٹز لے لوں گی کیا خیال ہے تمہارا"
حور نے اپنا رخ زین کی طرف کرتے ہوئے زین کو اپنا پلان بتایا اور مشورہ مانگا
"بس تم سب کے بارے میں سوچا کرو مجھ غریب کو چھوڑ کر"
زین نے حور سے شکوہ کیا
"شاہ تم بھی نہ بالکل بچوں کی طرح behave کرتے ہو کبھی کبھی" حور نے گھورتے ہوئے زین سے کہا
"تم نے آب میرے بارے میں سوچنا بالکل چھوڑ دیا ہے، مجھ پر توجہ دینا، مجھ سے پیار کرنا، ساری دلچسپی گھر، حیا، شاپنگ، فون کالز، کچن، میرا نمبر تو شاید اب آخر میں بھی نہیں آتا۔۔۔ بس میری ڈیوٹی اور فرائض میں شامل ہے بیوی سے محبت کرو اس کا خیال رکھو"
زین سنجیدگی سے حور کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔ زین کی شکوے پر حور نے پوری آنکھیں اور منہ کھول کر زین کو دیکھا زین ابھی بھی آنکھوں میں ناراضگی لئے ہوئے حور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ حور نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھاما
"مسٹر شاہ زین آپ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا،،، حور نے اپنی زندگی میں جتنا آپ کو چاہا ہے، جتنی آپ سے محبت کی اور اپنے دل میں جس مقام پر آپ کو فائز کیا ہے وہاں تک کبھی کوئی دوسرا رسائی حاصل نہیں کرسکا، نہ کر سکتا ہے۔۔۔۔ حور کی زندگی اس کی شاہ کے بناء ادھوری ہے۔۔۔ حور کی زندگی شاہ سے شروع ہوکر شاہ پر ختم ہوتی ہے۔۔۔ حور کی زندگی میں اگر شاہ ہے تو حور کی زندگی کے معنی ہیں۔۔ ۔ حور کی زندگی کی تمام تر رونقیں تمام تر خوشیاں ہی اسکے شاہ سے ہیں"
حور نے اپنے اعتراف کے بعد زین کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا پھر اسکے سینے پر لب رکھ کر اپنا چہرہ اونچا کرکے زین کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا تو حور بھی اس کو دیکھ کر مسکرا دی
"اگر اس طرح مہینے میں ایک دفعہ بھی بھاری بھرکم اعتراف کر لو تو میں روز بروز جوان ہو جاؤ"
زین نے حور کا چہرہ تھام کر اپنے لبوں سے اس کے ماتھے کو چھوا۔۔۔۔ اس کا سر ویسے ہی اپنے سینے پر رکھ کر اس کے گرد اپنے بازو حائل کر دیئے
"اچھا شاہ میری ایک بات تو سنو"
حور کو پھر کچھ یاد آیا
"ششش اگر بات صرف میری اور تمہاری ہے تو کرنا،،، ورنہ ایسے ہی خاموش رہو"
زین نے اسے سینے سے لگائے ہوئے کہا اور حور مسکرا کر خاموش ہوگئی
***
معاویہ کل رات ہی ڈی ایس پی افتخار کے کاٹیج حیا کو لے کر پہنچ گیا تھا۔۔۔حیا کا سارے راستے منہ بنا رہا گھر پہنچ کر بھی اس نے معاویہ سے بات نہیں کی۔۔۔ میڈ نے پہلے سے ہی روم کی صفائی کی ہوئی تھی وہ بنا کچھ کہے،،، بنا کچھ کھائے پیے ایسے ہی سوگئی۔۔۔۔ معاویہ نے پہلے سوچا حیا کو کھانے کے لئے اٹھائے مگر یہ سوچ کر اس نے ارادہ ترک کردیا کہ وہ غصہ میں کیا ری ایکٹ کرے
کیوکہ حیا کی برتھ ڈے والے دن اور اپنی شادی والے دن وہ اس کا ری ایکشن دیکھ چکا تھا۔۔۔ اس لئے معاویہ نے اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا
صبح معمول کے مطابق اس کی جلدی آنکھ کھل گئی وہ ابھی جاگنگ کرکے واپس آیا تھا۔۔۔ روم میں آکے دیکھا حیا دونوں پاؤں سمیٹ کر گھٹری بنی ہوئی سو رہی تھی اور کمفرٹر نیچے گرا ہوا تھا۔۔۔ معاویہ نے کمفرٹر نیچے سے اٹھا کر اسے دوبارہ اڑایا
"بابا مما"
وہ نیند میں بول رہی تھی شاید وہ زین اور حور کو خواب میں دیکھ رہی تھی یا ان دونوں کو مس کر رہی تھی۔۔۔ معاویہ کو ایک پل کے لئے افسوس ہوا اسے اپنے ساتھ زبردستی لے آیا وہ نہیں آنا چاہتی تھی۔۔۔ کتنی خوشی خوشی وہ اپنے پیرنٹس کے پاس جانا چاہ رہی تھی مگر وہی بات وہ اپنے دل کا کیا کرتا۔۔۔۔ بے شک وہ اس سے ناراض کھچی کھنچی رہتی تھی،،، مگر معاویہ کے دل کو یہ اطمینان رہتا تھا کہ وہ اس کے پاس ہے اس کی آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔ اب جب کہ اتنی مشکلوں سے اس کو پایا تھا تو اس سے دوری بالکل افورڈ نہیں کرسکتا تھا شاید وہ اس معاملے میں خود غرض تھا
"بےبی میں ہو ناں تمہارے پاس"
معاویہ نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو وہ تھوڑا سا کسمسائی۔۔۔۔ معاویہ اپنے ہونٹوں کو اس کے گالوں سے مس کرتا ہوا اس کی تھوڑی تک لایا اور تھوڑی پر ہلکا سا دانت سے دباو ڈالا۔۔۔۔ حیا نے اپنی آنکھیں کھولی اپنے اوپر جھکے ہوئے معاویہ کو دیکھا اور غائب دماغی سے دیکھتی رہی۔۔۔۔ معاویہ اس کو دیکھ کر مسکرایا
"گڈ مارننگ بےبی"
حیا کو یاد آیا وہ کس طرح اسے کل رات کو من مانی کر کے لے کر آیا تھا
"دور ہٹو تم، دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھکر پیچھے دھکیلتے ہوئے اٹھ کر بیٹھی
"اوکے جانم دور ہوگیا، یہ دو ٹکے کا پولیس والا۔۔۔ چلو آؤ ناشتہ کر لو"
وہ اس کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر سرینڈر کرتا ہوا پیچھے ہوا اور صلح جو انداز اپناتے ہوئے بولا
"نہیں کھانا مجھے کچھ بھی،،، چلے جاو اس وقت روم سے"
بھوگ تو اسے لگی ہوئی تھی مگر اس سے بھی زیادہ اسے شدید غصہ آ رہا تھا
"اوکے جو ہونا تھا ہوگیا اب یہ فضول کی ضد چھوڑو،، اٹھو تم نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔ ناشتہ کرو آکر تاکہ مجھ سے لڑنے کی اور مجھ پر غصہ کرنے کی انرجی اسکے"
معاویہ نے اس کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا
"زہر دے دو تم مجھے کھانے کے لئے تاکہ ایک ہی دفعہ میرا قصہ ختم ہوجائے"
حیا نے چیختے ہوئے کہا اور بیڈ سے اٹھا کر تکیہ اس پر پھینکا جسے معاویہ نے کیچ کر کے بیڈ پر اچھالا
"اسٹاپ اٹ حیا بچوں جیسا ری ایکٹ کرنا بند کرو،، بعد میں دکھانا یہ نخرے،، ٹائم نہیں ہے بالکل میرے پاس،، مجھے ایک ضروری کام سے بھی جانا ہے"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اسے آدھے گھنٹے بعد سہیل سے ملنے جانا تھا مزید اویس شیرازی کے متعلق انفارمیشن حاصل کرنے کے لئے
"تم مجھے یہاں کس لئے لائے ہو ہاں۔۔۔۔ جب تمہیں اپنے کام تھے تو مجھے کیوں لائے ہو یہاں پر۔۔۔ تم یہاں اپنے کام نمٹاتے رہو اور میں اس گھر میں بیٹھ کر سڑتی رہو"
حیا اب اپنے آپے سے باہر ہو رہی تھی شاید کل رات والا غصہ جس میں وہ بھری ہوئی سوگئی تھی جبھی اٹھتے ہی اس نے معاویہ پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کردی
"بے بی بہت امپورٹنٹ کام ہے۔۔۔ ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ۔۔۔ کل کا پورا دن تمہارے نام،،، کل جہاں کہو گی وہاں گھماؤں گا شاباش جلدی سے آو ٹیبل پر"
وہ حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے،، اسے اب بچوں کی طرح بہلانے لگا
"بھاڑ میں جاو تم، تمہارا انجوائے منٹ، اور تمہارا ناشتہ" حیا نے اسکے ہاتھ جھٹک کر کہا
"پیار کی زبان تمہیں سمجھ نہیں آتی،،، کب سے تمہیں سمجھا رہا ہوں، سمجھ میں نہیں آرہا ہے تمہیں،، مت کرو ناشتہ بھوکی رہو"
معاویہ کو اب حیا پر غصہ آیا آسکو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا اور ویسے ہی چھوڑ کر واشروم چلا گیا
چینج کر کے واپس آیا اور اپنی پسٹل رکھ کر اپنی جیکٹ پہنی موبائل اور تمام چیزیں لے کر باہر جانے لگا۔۔۔۔۔ حیا جوکہ خونخوار نظروں سے اس کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی اس کو جاتا دیکھ کر اس کے سامنے آئی اور گریبان پکڑ کر بولی
"کہیں نہیں جا رہے ہو تم جب میں اپنی مرضی نہیں کر سکتی تو تم بھی کہیں نہیں جاسکتے" حیا نے اس کو دیکھ کر غصہ سے کہا
"اگر میں تمھارے ساتھ پیار سے بات کرتا ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمھارے ہاتھ میرے گریبان تک پہنچ جائے۔۔ آئندہ احتیاط کرنا، ورنہ یہ ہاتھ تمہارے کندھے سے الگ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی" معاویہ نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے حیا کے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹائے
"میں نے کہا کہیں نہیں جاو گے تم" حیا نے دوبارہ اس کا گریبان پکڑنا چاہا۔۔۔ معاویہ نے اسکا بھانپ کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اور اسے بیڈ پھینکا
"پڑ گیا تم پر نفسیاتی دورہ"
ڈراز سے ہتھکڑی نکال کر اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتی بیڈ کے کھانچے میں ہتھکڑی لگا کر حیا کے ایک ہاتھ میں لگادی
"تم واقعی دو ٹکے کے پولیس والے ہو" حیا نے غصے میں چیخ کر کہا
معاویہ نے ناشتے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی
"تمہارا باقی کا علاج میں واپس آنے کے بعد اچھی طرح کروں گا"
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا گھر لاک کر کے باہر نکل گیا
***
اس وقت اسکو سہیل سے مل کر اویس شیرازی کے متعلق باقی کی ڈیٹیلس لینی تھی۔۔۔ میٹنگ کا وقت، جگہ، اس کے مہمانوں متعلق معلومات وغیرہ فی الحال۔۔۔ حیا کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک کر وہ گاڑی لے کر سہیل کے بتائے گئے ایڈریس پر چلا گیا کے
**
آج طے شدہ پروگرام کے مطابق بلال اور فضا،، زین اور حور کے ساتھ خضر کے گھر ہادی کا رشتے کی بات کرنے آئے تھے
"بہت اچھا لگ رہا ہے تم دونوں کو دیکھ کر اور بلال اور بھابھی آپ دونوں بھی آئے خوشی ہوئی۔۔۔ شادی کی تقریب میں تو سرسری سی بات ہوئی تھی ہم لوگوں کی"
خضر میزبانی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بولا
"خضر دراصل آج بلال اور فضا تمہارے پاس کسی خاص مقصد کے تحت آئے ہیں۔۔ یوں سمجھ لو کچھ ضروری بات کرنی ہے انہیں"
زین نے اصل بات کا آغاز کرتے ہوئے خضر سے کہا پھر بلال کی طرف دیکھا جس کا مطلب رشتے کی بات کرنا تھی
"ہاں ہاں جو بھی بات کرنی ہے یا جو بھی کام ہو آپ بلا جھجھک بولیں" خضر نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"بات دراصل یہ ہے کہ میں اپنے بیٹے ہادی کے رشتے کے سلسلے میں یہاں آیا ہوں مجھے اور میری وائف کو آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے اپنے بیٹے کے لئے۔۔۔ آپ ہادی سے ملے تھے حیا کے ولیمے والے دن"
بلال نے رشتے کی بات کے ساتھ ساتھ ولیمے والے دن کی ملاقات کا خضر کو یاد دلایا
"جی مجھے یاد ہے بہت اچھا سلجھا ہوا بیٹا ہے آپ کا۔۔ مگر رشتہ میرا مطلب ہے بچوں کی رضامندی بھی اس میں شامل ہو تو"
خضر نے ناعیمہ کو دیکھا پھر بات بنا کر بلال کو بولا
"آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بچوں کی رضامندی کے بغیر تو کوئی قدم اٹھانا بھی نہیں چاہیے،، ظاہری باتیں زندگی بچوں نہیں گزارنی ہے آپ اپنی بیٹی سے اور معاویہ دونوں سے مشورہ کر لیں ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا"
بلال نے طریقہ سے بات کو نبٹاتے ہوئے کہا
"بھابھی معاویہ اور حیا کب تک واپس آ رہے ہیں"
حور نے ناعیمہ کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا
"صبح معاویہ کی کال آئی تھی تو کہہ رہا تھا ایک دو دن میں۔۔۔ کیوں تمہاری بات نہیں ہوئی دونوں سے"
ناعیمہ نے حور سے سوال کیا
"ہاں رات میں آئی تھی معاویہ کی کال میری اور شاہ کی معاویہ سے ہی بات ہوئی تھی حیا کو صبح سے کال ملا رہی ہو مگر وہ ریسیو نہیں کر رہی ہے"
حور نے حیا کو یاد کرتے ہوئے کہا
**
میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ویٹر کے ذریعے منی مائیکرو فون روم میں موجود واس کے اندر چھپا دیا گیا تاکہ ساری گفتگو با آسانی سنی جاسکے میٹنگ میں ہونے والی گفتگو سے شک کی تصدیق ہوگئی۔۔۔ عام بزنس میٹنگ نہیں تھی اس میں جو باہر سے اویس شیرازی کے گیسٹ آئے تھے اویس شیرازی کیڈنیپ کی گئی لڑکیاں انہی کو سپلائی کرتا تھا،، مگر بنا کسی ثبوت کے ایک آڈیو لے کر وہ اویس شیرازی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔۔۔ معاویہ نے کال کرکے ڈی ایس پی افتخار کو میٹنگ میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا اور اپنے اگلے لاہحہ عمل سے بھی اگاہ کیا
***
معاویہ کے گھر سے نکلنے کے بعد حیا کو مزید غصہ آیا مگر ہاتھ بندھا ہونے کی وجہ سے وہ بے بس اتنی تھی کہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی دل ہی دل میں اس کو ملانتیاں کرنے کے بعد جب تھک گئی تو بھوکا احساس ہوا
"شکر ہے ناشتہ یہی رکھ کر گیا ہے بدتمیز انسان"
وہ اپنے دوسرے کھلے ہاتھ سے بریڈ کا پیس مگ میں موجود دودھ میں ڈبو کر کھانے لگی ایک ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے اسے کھانے میں کافی دقت ہو رہی تھی مگر پیٹ کی بھوک مٹانا بھی ضروری تھا اس نے پلیٹ میں موجود بوائلڈ ایگ (انڈا) اٹھانے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔ ہاتھ دودھ کے مگ پر لگا،،، دودھ کے مگ کے ساتھ ایگ بھی نیچے گر گیا۔۔۔۔ کل رات کو بھی کھانا نہیں کھایا تھا دو بریڈ سے پیس سے گزارا ہونا مشکل تھا۔۔۔۔ اس لئے آدھا نیچے جھک کر فرش سے ایگ اٹھانے لگی تو بڑا سا کانچ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں لگ گیا بے اختیار چیخ حیا کے منہ سے نکلی
**
معاویہ صبح کا نکلا ہوا سب کام نمٹاتا ہوا،، اسے واپس آتے آتے چھ بج گئے کام سے دھیان ہٹا تو حیا کی طرف دھیان گیا اسے صبح کا منظر یاد آیا۔۔۔۔ اس کے گھر سے نکلنے سے پہلے وہ کافی غصے میں تھی اور ناراض بھی،،،،
"پتہ نہیں ناشتہ کیا ہوگا کہ نہیں اور اگر کیا بھی ہوگا تو کافی ٹائم ہوگیا اب تو ناشتہ کئے ہوئے"
اپنا صبح والا غصہ جو اسے حیا پر آیا تھا،،، بھول کر اسکے لیے فکر مند ہونے لگا۔۔۔۔ یہی سوچ کر اس نے قریب بیکری سے سینڈوچیز اور کیک پیک کروا کر۔۔۔ گاڑی کا رخ گھر کی طرف کیا گھر کا دروازہ کھولا ہاتھ میں پکڑا ہوا سامان کچن میں رکھ کر بیڈروم میں آیا تو اس کا دماغ بھگ سے اڑ گیا
حیا بے ترتیب سے آڑی ترچھی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی آنکھیں اس کی بند تھی، ،، ہتھکڑی سے بندھا ہوا ہاتھ اوپر تھا جو کے بیڈ کے کھانچے میں اٹکا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا جس کا خون خشک ہوچکا تھا
"حیا"
معاویہ قدم بڑھا کر اس کے پاس آیا سب سے پہلے اس کا ہاتھ ہتھکڑی سے آزاد کیا جو کہ کافی سرخ ہوچکا تھا بے ساختہ اس نے اپنے لب حیا کے ہاتھ پر رکھے،،، اسے اپنے اقدام پر افسوس ہونے لگا حیا نیند سے جاگی
"کیوں آئے ہو تم،، میں مرجاتی تب آتے"
حیا کو اسے دیکھ کر نئے سرے سے دوبارہ غصہ آنے لگا معاویہ نے بے اختیار اس کو سینے سے لگایا جس پر وہ چاہنے کے باوجود نقاہت کی وجہ سے مزاحمت نہ کرسکی
"ہاتھ پر کیسے لگی تمہارے"
وہ حیا کا زخمی ہاتھ اپنے لبوں پر رکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"پیچھے ہٹو واش روم جانا ہے مجھے" حیا اس کو دور کر کے اٹھی۔۔۔ معاویہ نے اس کو راستہ دیا اور نیچے بکھرا ہوا کانچ اٹھانے لگا برتن اٹھا کر کچن میں رکھے واپس آیا تو حیا کی واش روم سے رونے کی آواز آرہی تھی۔۔۔ وہ دوڑ کر واش روم کے دروازے پر پہنچا
"حیا دروازہ کھولو پلیز کیا ہوا ہے"
معاویہ نے دروازے کا ہینڈل گھماتے ہوئے کہا،،، حیا نے دروازہ کھولا
"ٹوتھ برش نہیں ہو رہا مجھ سے مجھے اپنے مما بابا کے پاس جانا ہے" سیدھے ہاتھ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس سے الٹے ہاتھ سے برش کرنے میں پرابلم ہو رہی تھی اور یہاں وہ آنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ اس لئے چوٹ لگنے پر زین اور حور اور بھی یاد آنے لگے ویسے بھی اگر وہ بیمار ہو جائے یا چوٹ لگ جائے تو زین سب کام چھوڑ کر اس کے پاس بیٹھ جاتا تھا حیا کو نازک مزاج اور ہتھیلی کا چھالہ بنانے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
"لاو یہاں دو برش" معاویہ نے اس کے ہاتھ سے برش لیتے ہوئے کہا اور اس کو برش کروایا اس کے بعد اس کا منہ دھلایا۔۔۔ روم میں آکر واپس بیٹھی تو معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر زخم کا جائزہ لیا جو شکر تھا۔۔۔ معاویہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور ڈیٹول سے زخم صاف ہی کیا تو حیا کی چیخ نکل گی
"پیچھے ہٹو تم دو ٹکے کے پولس والے۔۔۔ صرف تکلیف دیتے ہو تم مجھے"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا اور دور ہو کر بیٹھی
"تھوڑا سا تو جلے گا ناں بےبی، لاو ہاتھ یہاں پر دو شاباش" معاویہ نرمی سے اس کو سمجھا رہا تھا۔۔۔ شاید اسے بھی اندر سے گلٹ تھا اتنی دیر کے لئے اس کے ہاتھ باندھ کر نہیں جانا چاہیے تھا
"دور ہٹو بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔ تم مجھے یہاں بھوکا مارنے کے لئے لائے ہو"
حیا کو دوبارہ بھوک کا احساس جاگا تو اسے معاویہ پر مزید غصہ آیا
معاویہ چپ کر کے اٹھا پلیٹ میں سینڈوچ رکھ کر لایا اس کے پاس بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے سینڈوچ اس کے منہ کی طرف بڑھایا تو حیا گھور کر اسے دیکھنے لگی
"ہاتھ زخمی ہوا ہے ہاتھ ٹوٹا نہیں ہے اور دوسرا ہاتھ بھی سلامت ہے"
معاویہ کے ہاتھ سے سینڈوچ لیتے ہوئے الٹے ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرنے لگی تو معاویہ چپ کرکے اس کو دیکھنے لگا۔۔۔ دو نیوالو کے بعد اسے احساس ہوا اس سے صحیح سے نہیں کھایا جارہا۔۔۔ حیا نے بےچارگی سے معاویہ کو دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ آگے ہاتھ بڑھا کر سینڈوچ اس کے ہاتھ سے لیا اور اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا اب حیا چپ کر کے اس کے ہاتھ سے کھانے لگی
پیٹ بھرا تو اب حیا کو اپنے حلیے کی فکر ہونے لگی ڈریس چینج کرنے کا ارادہ ملتوی کرکے آئینے کے آگے کھڑی ہو کر اپنے الجھے ہوئے بال سلجھانے لگی معاویہ پلیٹ کچن میں رکھ واپس آیا تو حیا کو اپنے بالوں کے ساتھ الجھتے دیکھا۔۔۔۔ حیا کے پاس آکر اس سے برش لے کر اس کے بالوں کو نرمی سے سلجھانے لگا پھر سامنے رکھے بینڈ میں اس کے بال قید کیے
"اور کچھ حکم کریں میڈم"
حیا کا رخ اپنی طرف کرکے پیار لٹاتی نظروں سے حیا کو مخاطب کرتے ہوئے بولا
"مجھے واپس جانا ہے"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"حکم وہ کرو جو میں پورا کر سکو،، خود سے تمہیں دور کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے اور ویسے بھی تم پاس ہوکر بھی کون سا میرے پاس ہو"
وہ حیا کو اپنے سے قریب کر کے لو دیتی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے شکوہ کرنے لگا
"مجھے قید پسند نہیں ہے"
حیا نے سنجیدگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اور مجھے یہ دوری پسند نہیں ہے"
معاویہ نے مزید فاصلہ کم کرکے حیا کی گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے کہا
"معاویہ پلیز تم میرے ساتھ اس طرح نہیں کرسکتے" حیا نے اس سے دور ہونے کی کوشش کی
"اور تم میرے ساتھ اس طرح کب تک کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں"
معاویہ نے اس کی کوشش ناکام بناتے ہوئے کہا
"بس ابھی سے تھک گئے ابھی تو شروعات ہے"
حیا نے استہزائیہ ہنستے ہوئے کہا
"تم ٹھیک نہیں کر رہی ہوں بہت ظالم ہو تم"
معاویہ کے لہجے میں بےبسی کا عنصر شامل تھا
"تم سے تو کم ظالم ہو،، تمہیں اپنا کیا ہوا بھی نہیں بھولنا چاہئے جو تم نے میرے ساتھ کیا"
حیا نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو یاد دلایا اور اس کے ہاتھ اپنے کمر سے ہٹاتے ہوئے اپنے آپ کو آزاد کروایا
"تو میں مداوا کرنے کے لیے تیار ہو بولو ایسا کیا کروں جس سے تمہارا دل میری طرف سے صاف ہوجائے"
آج معاویہ کو اپنے اور حیا کے رشتے کے بیچ میں اس دوری کا احساس بری طرح کھل رہا تھا
"مداوا کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔۔۔ مداوے کے طور پر آزادی چاہیے مجھے ہمیشہ کے لئے"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"میں نے پہلے ہی کہا بات وہ کرو جسے پوری کرنا میرے اختیار میں ہو اور ایسا سوچنا بھی مت دوبارہ۔۔۔ میں اپنے اوپر تمہیں یا کسی اور کو یہ ظلم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا"
معاویہ نے حیا کے دونوں بازو تھامتے ہوئے کہا۔۔۔ اب کے بار اس کی گرفت نرمی کی بجائے ہلکی سی سختی تھی
"تو پھر مداوے کی کیا بات کر رہے ہو میرے سامنے، جیسے چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دو اور میرے بازو چھوڑو"
اس کے ہاتھوں کی سختی کو اپنے بازوں میں محسوس کر کے حیا نے کمرے سے نکلنے کا ارادہ کیا
"پہلے اس سزا کی مدت بتاؤ"
اس نے حیا کو دوبارہ کھینچ کر خود سے قریب کیا۔۔۔۔ ہاتھوں کی سختی کے ساتھ ساتھ اب معاویہ کے لہجے میں ضد بھی شامل ہونے لگی
"عمر بھر"
حیا نے بھی اسی کی طرح ضدی انداز اپناتے ہوئے اسی کے لہجے میں جواب دیا
"اپنا حق وصول کرنا مجھے اچھی طرح آتا ہے"
معاویہ نے حیا کو بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا اور اس کے اٹھنے سے پہلے اس کے اوپر جھکا۔۔۔ حیا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جھگڑے اور اس کے مزاحمت کے تمام راستے بند کیے ضد اب شدت پسندی کی شکل میں بدلنے لگی
"یہی سب تو کرتے آئے ہو تم میرے ساتھ آج تک۔۔۔۔ زبردستی کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہو تم۔۔۔۔ کر لو جو بھی کچھ کرنا ہے مگر ایک بات میری ذہن نشین کرلینا۔۔۔۔ اس طرح تم طرف میری جسم تک رسائی حاصل کر سکتے ہو مگر میرے دل تک کبھی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکو گے۔۔۔ اس کے بعد کھو دو گے تم ہمیشہ کے لئے مجھے"
فرار کے راستے بند ہوئے تو حیا کو اپنی بے بسی پہ رونا آیا اور وہ روتے ہوئے معاویہ سے کہنے لگی
معاویہ نے ضبط سے اپنے لب بینچے حیا کے دونوں ہاتھ چھوڑ کر،،،، میٹرس پر اپنے دونوں ہاتھ زور سے مارے، بیڈ سے اٹھ کر سامنے پڑی چیئر کو ٹھوکر ماری اور روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 36
"کیا سوچا جارہا ہے"
حور کھڑکی کے پاس کھڑی ہوکر باہر لان میں دیکھ رہی تھی جب زین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
تھوڑی دیر پہلے ہی معاویہ نے کال کر کے اپنے اور حیا کے مری جانے کے پروگرام کے بارے میں بتایا تھا
"کیا سوچ سکتی ہوں بس یہی سوچ رہی تھی حیا اور معاویہ کی واپسی پر ان کی پوری فیملی کو ڈنر پر انوائٹ کریں گے۔۔۔ کل فضا کے ساتھ مال جانے کا پروگرام بناو گی تو معاویہ اور حیا کے لئے کچھ گفٹز لے لوں گی کیا خیال ہے تمہارا"
حور نے اپنا رخ زین کی طرف کرتے ہوئے زین کو اپنا پلان بتایا اور مشورہ مانگا
"بس تم سب کے بارے میں سوچا کرو مجھ غریب کو چھوڑ کر"
زین نے حور سے شکوہ کیا
"شاہ تم بھی نہ بالکل بچوں کی طرح behave کرتے ہو کبھی کبھی" حور نے گھورتے ہوئے زین سے کہا
"تم نے آب میرے بارے میں سوچنا بالکل چھوڑ دیا ہے، مجھ پر توجہ دینا، مجھ سے پیار کرنا، ساری دلچسپی گھر، حیا، شاپنگ، فون کالز، کچن، میرا نمبر تو شاید اب آخر میں بھی نہیں آتا۔۔۔ بس میری ڈیوٹی اور فرائض میں شامل ہے بیوی سے محبت کرو اس کا خیال رکھو"
زین سنجیدگی سے حور کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔ زین کی شکوے پر حور نے پوری آنکھیں اور منہ کھول کر زین کو دیکھا زین ابھی بھی آنکھوں میں ناراضگی لئے ہوئے حور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ حور نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھاما
"مسٹر شاہ زین آپ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا،،، حور نے اپنی زندگی میں جتنا آپ کو چاہا ہے، جتنی آپ سے محبت کی اور اپنے دل میں جس مقام پر آپ کو فائز کیا ہے وہاں تک کبھی کوئی دوسرا رسائی حاصل نہیں کرسکا، نہ کر سکتا ہے۔۔۔۔ حور کی زندگی اس کی شاہ کے بناء ادھوری ہے۔۔۔ حور کی زندگی شاہ سے شروع ہوکر شاہ پر ختم ہوتی ہے۔۔۔ حور کی زندگی میں اگر شاہ ہے تو حور کی زندگی کے معنی ہیں۔۔ ۔ حور کی زندگی کی تمام تر رونقیں تمام تر خوشیاں ہی اسکے شاہ سے ہیں"
حور نے اپنے اعتراف کے بعد زین کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا پھر اسکے سینے پر لب رکھ کر اپنا چہرہ اونچا کرکے زین کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا تو حور بھی اس کو دیکھ کر مسکرا دی
"اگر اس طرح مہینے میں ایک دفعہ بھی بھاری بھرکم اعتراف کر لو تو میں روز بروز جوان ہو جاؤ"
زین نے حور کا چہرہ تھام کر اپنے لبوں سے اس کے ماتھے کو چھوا۔۔۔۔ اس کا سر ویسے ہی اپنے سینے پر رکھ کر اس کے گرد اپنے بازو حائل کر دیئے
"اچھا شاہ میری ایک بات تو سنو"
حور کو پھر کچھ یاد آیا
"ششش اگر بات صرف میری اور تمہاری ہے تو کرنا،،، ورنہ ایسے ہی خاموش رہو"
زین نے اسے سینے سے لگائے ہوئے کہا اور حور مسکرا کر خاموش ہوگئی
***
معاویہ کل رات ہی ڈی ایس پی افتخار کے کاٹیج حیا کو لے کر پہنچ گیا تھا۔۔۔حیا کا سارے راستے منہ بنا رہا گھر پہنچ کر بھی اس نے معاویہ سے بات نہیں کی۔۔۔ میڈ نے پہلے سے ہی روم کی صفائی کی ہوئی تھی وہ بنا کچھ کہے،،، بنا کچھ کھائے پیے ایسے ہی سوگئی۔۔۔۔ معاویہ نے پہلے سوچا حیا کو کھانے کے لئے اٹھائے مگر یہ سوچ کر اس نے ارادہ ترک کردیا کہ وہ غصہ میں کیا ری ایکٹ کرے
کیوکہ حیا کی برتھ ڈے والے دن اور اپنی شادی والے دن وہ اس کا ری ایکشن دیکھ چکا تھا۔۔۔ اس لئے معاویہ نے اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا
صبح معمول کے مطابق اس کی جلدی آنکھ کھل گئی وہ ابھی جاگنگ کرکے واپس آیا تھا۔۔۔ روم میں آکے دیکھا حیا دونوں پاؤں سمیٹ کر گھٹری بنی ہوئی سو رہی تھی اور کمفرٹر نیچے گرا ہوا تھا۔۔۔ معاویہ نے کمفرٹر نیچے سے اٹھا کر اسے دوبارہ اڑایا
"بابا مما"
وہ نیند میں بول رہی تھی شاید وہ زین اور حور کو خواب میں دیکھ رہی تھی یا ان دونوں کو مس کر رہی تھی۔۔۔ معاویہ کو ایک پل کے لئے افسوس ہوا اسے اپنے ساتھ زبردستی لے آیا وہ نہیں آنا چاہتی تھی۔۔۔ کتنی خوشی خوشی وہ اپنے پیرنٹس کے پاس جانا چاہ رہی تھی مگر وہی بات وہ اپنے دل کا کیا کرتا۔۔۔۔ بے شک وہ اس سے ناراض کھچی کھنچی رہتی تھی،،، مگر معاویہ کے دل کو یہ اطمینان رہتا تھا کہ وہ اس کے پاس ہے اس کی آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔ اب جب کہ اتنی مشکلوں سے اس کو پایا تھا تو اس سے دوری بالکل افورڈ نہیں کرسکتا تھا شاید وہ اس معاملے میں خود غرض تھا
"بےبی میں ہو ناں تمہارے پاس"
معاویہ نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو وہ تھوڑا سا کسمسائی۔۔۔۔ معاویہ اپنے ہونٹوں کو اس کے گالوں سے مس کرتا ہوا اس کی تھوڑی تک لایا اور تھوڑی پر ہلکا سا دانت سے دباو ڈالا۔۔۔۔ حیا نے اپنی آنکھیں کھولی اپنے اوپر جھکے ہوئے معاویہ کو دیکھا اور غائب دماغی سے دیکھتی رہی۔۔۔۔ معاویہ اس کو دیکھ کر مسکرایا
"گڈ مارننگ بےبی"
حیا کو یاد آیا وہ کس طرح اسے کل رات کو من مانی کر کے لے کر آیا تھا
"دور ہٹو تم، دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھکر پیچھے دھکیلتے ہوئے اٹھ کر بیٹھی
"اوکے جانم دور ہوگیا، یہ دو ٹکے کا پولیس والا۔۔۔ چلو آؤ ناشتہ کر لو"
وہ اس کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر سرینڈر کرتا ہوا پیچھے ہوا اور صلح جو انداز اپناتے ہوئے بولا
"نہیں کھانا مجھے کچھ بھی،،، چلے جاو اس وقت روم سے"
بھوگ تو اسے لگی ہوئی تھی مگر اس سے بھی زیادہ اسے شدید غصہ آ رہا تھا
"اوکے جو ہونا تھا ہوگیا اب یہ فضول کی ضد چھوڑو،، اٹھو تم نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔ ناشتہ کرو آکر تاکہ مجھ سے لڑنے کی اور مجھ پر غصہ کرنے کی انرجی اسکے"
معاویہ نے اس کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا
"زہر دے دو تم مجھے کھانے کے لئے تاکہ ایک ہی دفعہ میرا قصہ ختم ہوجائے"
حیا نے چیختے ہوئے کہا اور بیڈ سے اٹھا کر تکیہ اس پر پھینکا جسے معاویہ نے کیچ کر کے بیڈ پر اچھالا
"اسٹاپ اٹ حیا بچوں جیسا ری ایکٹ کرنا بند کرو،، بعد میں دکھانا یہ نخرے،، ٹائم نہیں ہے بالکل میرے پاس،، مجھے ایک ضروری کام سے بھی جانا ہے"
معاویہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اسے آدھے گھنٹے بعد سہیل سے ملنے جانا تھا مزید اویس شیرازی کے متعلق انفارمیشن حاصل کرنے کے لئے
"تم مجھے یہاں کس لئے لائے ہو ہاں۔۔۔۔ جب تمہیں اپنے کام تھے تو مجھے کیوں لائے ہو یہاں پر۔۔۔ تم یہاں اپنے کام نمٹاتے رہو اور میں اس گھر میں بیٹھ کر سڑتی رہو"
حیا اب اپنے آپے سے باہر ہو رہی تھی شاید کل رات والا غصہ جس میں وہ بھری ہوئی سوگئی تھی جبھی اٹھتے ہی اس نے معاویہ پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کردی
"بے بی بہت امپورٹنٹ کام ہے۔۔۔ ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ۔۔۔ کل کا پورا دن تمہارے نام،،، کل جہاں کہو گی وہاں گھماؤں گا شاباش جلدی سے آو ٹیبل پر"
وہ حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے،، اسے اب بچوں کی طرح بہلانے لگا
"بھاڑ میں جاو تم، تمہارا انجوائے منٹ، اور تمہارا ناشتہ" حیا نے اسکے ہاتھ جھٹک کر کہا
"پیار کی زبان تمہیں سمجھ نہیں آتی،،، کب سے تمہیں سمجھا رہا ہوں، سمجھ میں نہیں آرہا ہے تمہیں،، مت کرو ناشتہ بھوکی رہو"
معاویہ کو اب حیا پر غصہ آیا آسکو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا اور ویسے ہی چھوڑ کر واشروم چلا گیا
چینج کر کے واپس آیا اور اپنی پسٹل رکھ کر اپنی جیکٹ پہنی موبائل اور تمام چیزیں لے کر باہر جانے لگا۔۔۔۔۔ حیا جوکہ خونخوار نظروں سے اس کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی اس کو جاتا دیکھ کر اس کے سامنے آئی اور گریبان پکڑ کر بولی
"کہیں نہیں جا رہے ہو تم جب میں اپنی مرضی نہیں کر سکتی تو تم بھی کہیں نہیں جاسکتے" حیا نے اس کو دیکھ کر غصہ سے کہا
"اگر میں تمھارے ساتھ پیار سے بات کرتا ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمھارے ہاتھ میرے گریبان تک پہنچ جائے۔۔ آئندہ احتیاط کرنا، ورنہ یہ ہاتھ تمہارے کندھے سے الگ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی" معاویہ نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے حیا کے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹائے
"میں نے کہا کہیں نہیں جاو گے تم" حیا نے دوبارہ اس کا گریبان پکڑنا چاہا۔۔۔ معاویہ نے اسکا بھانپ کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اور اسے بیڈ پھینکا
"پڑ گیا تم پر نفسیاتی دورہ"
ڈراز سے ہتھکڑی نکال کر اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتی بیڈ کے کھانچے میں ہتھکڑی لگا کر حیا کے ایک ہاتھ میں لگادی
"تم واقعی دو ٹکے کے پولیس والے ہو" حیا نے غصے میں چیخ کر کہا
معاویہ نے ناشتے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی
"تمہارا باقی کا علاج میں واپس آنے کے بعد اچھی طرح کروں گا"
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا گھر لاک کر کے باہر نکل گیا
***
اس وقت اسکو سہیل سے مل کر اویس شیرازی کے متعلق باقی کی ڈیٹیلس لینی تھی۔۔۔ میٹنگ کا وقت، جگہ، اس کے مہمانوں متعلق معلومات وغیرہ فی الحال۔۔۔ حیا کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک کر وہ گاڑی لے کر سہیل کے بتائے گئے ایڈریس پر چلا گیا کے
**
آج طے شدہ پروگرام کے مطابق بلال اور فضا،، زین اور حور کے ساتھ خضر کے گھر ہادی کا رشتے کی بات کرنے آئے تھے
"بہت اچھا لگ رہا ہے تم دونوں کو دیکھ کر اور بلال اور بھابھی آپ دونوں بھی آئے خوشی ہوئی۔۔۔ شادی کی تقریب میں تو سرسری سی بات ہوئی تھی ہم لوگوں کی"
خضر میزبانی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بولا
"خضر دراصل آج بلال اور فضا تمہارے پاس کسی خاص مقصد کے تحت آئے ہیں۔۔ یوں سمجھ لو کچھ ضروری بات کرنی ہے انہیں"
زین نے اصل بات کا آغاز کرتے ہوئے خضر سے کہا پھر بلال کی طرف دیکھا جس کا مطلب رشتے کی بات کرنا تھی
"ہاں ہاں جو بھی بات کرنی ہے یا جو بھی کام ہو آپ بلا جھجھک بولیں" خضر نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"بات دراصل یہ ہے کہ میں اپنے بیٹے ہادی کے رشتے کے سلسلے میں یہاں آیا ہوں مجھے اور میری وائف کو آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے اپنے بیٹے کے لئے۔۔۔ آپ ہادی سے ملے تھے حیا کے ولیمے والے دن"
بلال نے رشتے کی بات کے ساتھ ساتھ ولیمے والے دن کی ملاقات کا خضر کو یاد دلایا
"جی مجھے یاد ہے بہت اچھا سلجھا ہوا بیٹا ہے آپ کا۔۔ مگر رشتہ میرا مطلب ہے بچوں کی رضامندی بھی اس میں شامل ہو تو"
خضر نے ناعیمہ کو دیکھا پھر بات بنا کر بلال کو بولا
"آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بچوں کی رضامندی کے بغیر تو کوئی قدم اٹھانا بھی نہیں چاہیے،، ظاہری باتیں زندگی بچوں نہیں گزارنی ہے آپ اپنی بیٹی سے اور معاویہ دونوں سے مشورہ کر لیں ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا"
بلال نے طریقہ سے بات کو نبٹاتے ہوئے کہا
"بھابھی معاویہ اور حیا کب تک واپس آ رہے ہیں"
حور نے ناعیمہ کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا
"صبح معاویہ کی کال آئی تھی تو کہہ رہا تھا ایک دو دن میں۔۔۔ کیوں تمہاری بات نہیں ہوئی دونوں سے"
ناعیمہ نے حور سے سوال کیا
"ہاں رات میں آئی تھی معاویہ کی کال میری اور شاہ کی معاویہ سے ہی بات ہوئی تھی حیا کو صبح سے کال ملا رہی ہو مگر وہ ریسیو نہیں کر رہی ہے"
حور نے حیا کو یاد کرتے ہوئے کہا
**
میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ویٹر کے ذریعے منی مائیکرو فون روم میں موجود واس کے اندر چھپا دیا گیا تاکہ ساری گفتگو با آسانی سنی جاسکے میٹنگ میں ہونے والی گفتگو سے شک کی تصدیق ہوگئی۔۔۔ عام بزنس میٹنگ نہیں تھی اس میں جو باہر سے اویس شیرازی کے گیسٹ آئے تھے اویس شیرازی کیڈنیپ کی گئی لڑکیاں انہی کو سپلائی کرتا تھا،، مگر بنا کسی ثبوت کے ایک آڈیو لے کر وہ اویس شیرازی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔۔۔ معاویہ نے کال کرکے ڈی ایس پی افتخار کو میٹنگ میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا اور اپنے اگلے لاہحہ عمل سے بھی اگاہ کیا
***
معاویہ کے گھر سے نکلنے کے بعد حیا کو مزید غصہ آیا مگر ہاتھ بندھا ہونے کی وجہ سے وہ بے بس اتنی تھی کہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی دل ہی دل میں اس کو ملانتیاں کرنے کے بعد جب تھک گئی تو بھوکا احساس ہوا
"شکر ہے ناشتہ یہی رکھ کر گیا ہے بدتمیز انسان"
وہ اپنے دوسرے کھلے ہاتھ سے بریڈ کا پیس مگ میں موجود دودھ میں ڈبو کر کھانے لگی ایک ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے اسے کھانے میں کافی دقت ہو رہی تھی مگر پیٹ کی بھوک مٹانا بھی ضروری تھا اس نے پلیٹ میں موجود بوائلڈ ایگ (انڈا) اٹھانے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔ ہاتھ دودھ کے مگ پر لگا،،، دودھ کے مگ کے ساتھ ایگ بھی نیچے گر گیا۔۔۔۔ کل رات کو بھی کھانا نہیں کھایا تھا دو بریڈ سے پیس سے گزارا ہونا مشکل تھا۔۔۔۔ اس لئے آدھا نیچے جھک کر فرش سے ایگ اٹھانے لگی تو بڑا سا کانچ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں لگ گیا بے اختیار چیخ حیا کے منہ سے نکلی
**
معاویہ صبح کا نکلا ہوا سب کام نمٹاتا ہوا،، اسے واپس آتے آتے چھ بج گئے کام سے دھیان ہٹا تو حیا کی طرف دھیان گیا اسے صبح کا منظر یاد آیا۔۔۔۔ اس کے گھر سے نکلنے سے پہلے وہ کافی غصے میں تھی اور ناراض بھی،،،،
"پتہ نہیں ناشتہ کیا ہوگا کہ نہیں اور اگر کیا بھی ہوگا تو کافی ٹائم ہوگیا اب تو ناشتہ کئے ہوئے"
اپنا صبح والا غصہ جو اسے حیا پر آیا تھا،،، بھول کر اسکے لیے فکر مند ہونے لگا۔۔۔۔ یہی سوچ کر اس نے قریب بیکری سے سینڈوچیز اور کیک پیک کروا کر۔۔۔ گاڑی کا رخ گھر کی طرف کیا گھر کا دروازہ کھولا ہاتھ میں پکڑا ہوا سامان کچن میں رکھ کر بیڈروم میں آیا تو اس کا دماغ بھگ سے اڑ گیا
حیا بے ترتیب سے آڑی ترچھی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی آنکھیں اس کی بند تھی، ،، ہتھکڑی سے بندھا ہوا ہاتھ اوپر تھا جو کے بیڈ کے کھانچے میں اٹکا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا جس کا خون خشک ہوچکا تھا
"حیا"
معاویہ قدم بڑھا کر اس کے پاس آیا سب سے پہلے اس کا ہاتھ ہتھکڑی سے آزاد کیا جو کہ کافی سرخ ہوچکا تھا بے ساختہ اس نے اپنے لب حیا کے ہاتھ پر رکھے،،، اسے اپنے اقدام پر افسوس ہونے لگا حیا نیند سے جاگی
"کیوں آئے ہو تم،، میں مرجاتی تب آتے"
حیا کو اسے دیکھ کر نئے سرے سے دوبارہ غصہ آنے لگا معاویہ نے بے اختیار اس کو سینے سے لگایا جس پر وہ چاہنے کے باوجود نقاہت کی وجہ سے مزاحمت نہ کرسکی
"ہاتھ پر کیسے لگی تمہارے"
وہ حیا کا زخمی ہاتھ اپنے لبوں پر رکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"پیچھے ہٹو واش روم جانا ہے مجھے" حیا اس کو دور کر کے اٹھی۔۔۔ معاویہ نے اس کو راستہ دیا اور نیچے بکھرا ہوا کانچ اٹھانے لگا برتن اٹھا کر کچن میں رکھے واپس آیا تو حیا کی واش روم سے رونے کی آواز آرہی تھی۔۔۔ وہ دوڑ کر واش روم کے دروازے پر پہنچا
"حیا دروازہ کھولو پلیز کیا ہوا ہے"
معاویہ نے دروازے کا ہینڈل گھماتے ہوئے کہا،،، حیا نے دروازہ کھولا
"ٹوتھ برش نہیں ہو رہا مجھ سے مجھے اپنے مما بابا کے پاس جانا ہے" سیدھے ہاتھ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس سے الٹے ہاتھ سے برش کرنے میں پرابلم ہو رہی تھی اور یہاں وہ آنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ اس لئے چوٹ لگنے پر زین اور حور اور بھی یاد آنے لگے ویسے بھی اگر وہ بیمار ہو جائے یا چوٹ لگ جائے تو زین سب کام چھوڑ کر اس کے پاس بیٹھ جاتا تھا حیا کو نازک مزاج اور ہتھیلی کا چھالہ بنانے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
"لاو یہاں دو برش" معاویہ نے اس کے ہاتھ سے برش لیتے ہوئے کہا اور اس کو برش کروایا اس کے بعد اس کا منہ دھلایا۔۔۔ روم میں آکر واپس بیٹھی تو معاویہ نے اس کا ہاتھ تھام کر زخم کا جائزہ لیا جو شکر تھا۔۔۔ معاویہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور ڈیٹول سے زخم صاف ہی کیا تو حیا کی چیخ نکل گی
"پیچھے ہٹو تم دو ٹکے کے پولس والے۔۔۔ صرف تکلیف دیتے ہو تم مجھے"
حیا نے چڑتے ہوئے کہا اور دور ہو کر بیٹھی
"تھوڑا سا تو جلے گا ناں بےبی، لاو ہاتھ یہاں پر دو شاباش" معاویہ نرمی سے اس کو سمجھا رہا تھا۔۔۔ شاید اسے بھی اندر سے گلٹ تھا اتنی دیر کے لئے اس کے ہاتھ باندھ کر نہیں جانا چاہیے تھا
"دور ہٹو بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔ تم مجھے یہاں بھوکا مارنے کے لئے لائے ہو"
حیا کو دوبارہ بھوک کا احساس جاگا تو اسے معاویہ پر مزید غصہ آیا
معاویہ چپ کر کے اٹھا پلیٹ میں سینڈوچ رکھ کر لایا اس کے پاس بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے سینڈوچ اس کے منہ کی طرف بڑھایا تو حیا گھور کر اسے دیکھنے لگی
"ہاتھ زخمی ہوا ہے ہاتھ ٹوٹا نہیں ہے اور دوسرا ہاتھ بھی سلامت ہے"
معاویہ کے ہاتھ سے سینڈوچ لیتے ہوئے الٹے ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرنے لگی تو معاویہ چپ کرکے اس کو دیکھنے لگا۔۔۔ دو نیوالو کے بعد اسے احساس ہوا اس سے صحیح سے نہیں کھایا جارہا۔۔۔ حیا نے بےچارگی سے معاویہ کو دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ آگے ہاتھ بڑھا کر سینڈوچ اس کے ہاتھ سے لیا اور اپنے ہاتھ سے کھلانے لگا اب حیا چپ کر کے اس کے ہاتھ سے کھانے لگی
پیٹ بھرا تو اب حیا کو اپنے حلیے کی فکر ہونے لگی ڈریس چینج کرنے کا ارادہ ملتوی کرکے آئینے کے آگے کھڑی ہو کر اپنے الجھے ہوئے بال سلجھانے لگی معاویہ پلیٹ کچن میں رکھ واپس آیا تو حیا کو اپنے بالوں کے ساتھ الجھتے دیکھا۔۔۔۔ حیا کے پاس آکر اس سے برش لے کر اس کے بالوں کو نرمی سے سلجھانے لگا پھر سامنے رکھے بینڈ میں اس کے بال قید کیے
"اور کچھ حکم کریں میڈم"
حیا کا رخ اپنی طرف کرکے پیار لٹاتی نظروں سے حیا کو مخاطب کرتے ہوئے بولا
"مجھے واپس جانا ہے"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"حکم وہ کرو جو میں پورا کر سکو،، خود سے تمہیں دور کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے اور ویسے بھی تم پاس ہوکر بھی کون سا میرے پاس ہو"
وہ حیا کو اپنے سے قریب کر کے لو دیتی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے شکوہ کرنے لگا
"مجھے قید پسند نہیں ہے"
حیا نے سنجیدگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اور مجھے یہ دوری پسند نہیں ہے"
معاویہ نے مزید فاصلہ کم کرکے حیا کی گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے کہا
"معاویہ پلیز تم میرے ساتھ اس طرح نہیں کرسکتے" حیا نے اس سے دور ہونے کی کوشش کی
"اور تم میرے ساتھ اس طرح کب تک کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں"
معاویہ نے اس کی کوشش ناکام بناتے ہوئے کہا
"بس ابھی سے تھک گئے ابھی تو شروعات ہے"
حیا نے استہزائیہ ہنستے ہوئے کہا
"تم ٹھیک نہیں کر رہی ہوں بہت ظالم ہو تم"
معاویہ کے لہجے میں بےبسی کا عنصر شامل تھا
"تم سے تو کم ظالم ہو،، تمہیں اپنا کیا ہوا بھی نہیں بھولنا چاہئے جو تم نے میرے ساتھ کیا"
حیا نے جتاتی ہوئی نظروں سے اس کو یاد دلایا اور اس کے ہاتھ اپنے کمر سے ہٹاتے ہوئے اپنے آپ کو آزاد کروایا
"تو میں مداوا کرنے کے لیے تیار ہو بولو ایسا کیا کروں جس سے تمہارا دل میری طرف سے صاف ہوجائے"
آج معاویہ کو اپنے اور حیا کے رشتے کے بیچ میں اس دوری کا احساس بری طرح کھل رہا تھا
"مداوا کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔۔۔ مداوے کے طور پر آزادی چاہیے مجھے ہمیشہ کے لئے"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
"میں نے پہلے ہی کہا بات وہ کرو جسے پوری کرنا میرے اختیار میں ہو اور ایسا سوچنا بھی مت دوبارہ۔۔۔ میں اپنے اوپر تمہیں یا کسی اور کو یہ ظلم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا"
معاویہ نے حیا کے دونوں بازو تھامتے ہوئے کہا۔۔۔ اب کے بار اس کی گرفت نرمی کی بجائے ہلکی سی سختی تھی
"تو پھر مداوے کی کیا بات کر رہے ہو میرے سامنے، جیسے چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دو اور میرے بازو چھوڑو"
اس کے ہاتھوں کی سختی کو اپنے بازوں میں محسوس کر کے حیا نے کمرے سے نکلنے کا ارادہ کیا
"پہلے اس سزا کی مدت بتاؤ"
اس نے حیا کو دوبارہ کھینچ کر خود سے قریب کیا۔۔۔۔ ہاتھوں کی سختی کے ساتھ ساتھ اب معاویہ کے لہجے میں ضد بھی شامل ہونے لگی
"عمر بھر"
حیا نے بھی اسی کی طرح ضدی انداز اپناتے ہوئے اسی کے لہجے میں جواب دیا
"اپنا حق وصول کرنا مجھے اچھی طرح آتا ہے"
معاویہ نے حیا کو بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا اور اس کے اٹھنے سے پہلے اس کے اوپر جھکا۔۔۔ حیا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جھگڑے اور اس کے مزاحمت کے تمام راستے بند کیے ضد اب شدت پسندی کی شکل میں بدلنے لگی
"یہی سب تو کرتے آئے ہو تم میرے ساتھ آج تک۔۔۔۔ زبردستی کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہو تم۔۔۔۔ کر لو جو بھی کچھ کرنا ہے مگر ایک بات میری ذہن نشین کرلینا۔۔۔۔ اس طرح تم طرف میری جسم تک رسائی حاصل کر سکتے ہو مگر میرے دل تک کبھی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکو گے۔۔۔ اس کے بعد کھو دو گے تم ہمیشہ کے لئے مجھے"
فرار کے راستے بند ہوئے تو حیا کو اپنی بے بسی پہ رونا آیا اور وہ روتے ہوئے معاویہ سے کہنے لگی
معاویہ نے ضبط سے اپنے لب بینچے حیا کے دونوں ہاتھ چھوڑ کر،،،، میٹرس پر اپنے دونوں ہاتھ زور سے مارے، بیڈ سے اٹھ کر سامنے پڑی چیئر کو ٹھوکر ماری اور روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment