Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 35
"گڈ نون سر آپ نے یاد کیا تھا"
معاویہ نے سلوٹ کرتے ہوئے ڈی۔ایس۔پی افتخار سے کہا
"ہاں بیٹھو معاویہ تم سے ضروری بات کرنی تھی"
ڈی ایس پی افتخار نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"سب سے پہلے تو کانگریجولیشن تمہارا اب تک کا ریکارڈ بہت زبردست رہا ہے،، تم نے بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک سارے کیس solve کیے۔۔۔۔ مگر یہ جو لاسٹ کیس تھا اس پر میں نے تمہیں بات کرنے کے لیے بلایا ہے"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی سر آپ بولیے میں سن رہا ہوں" معاویہ نے ڈی ایس پی افتخار سے کہا
"تم نے اپنی ٹیم کے ساتھ جس طرح اغوا شدہ لڑکیوں کو بازیاب کروایا ہے، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔۔۔ مگر ثبوت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اور مجرموں کے فرار ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چل سکا کے ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ۔۔ اور ساتھ ہی تمہارے اس ایکشن سے اصل مجرم مزید چوکنا ہو گیا ہے،،، اس لیے اب تمہیں بہت محتاط رہ ہوکر اگلا قدم اٹھانا ہوگا اور کافی احتیاط برتنی ہوگی"
"جی سر میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں اور یہ کیس بھی کلوس نہیں ہوا ہے۔۔۔ میں نے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے اور یہ جاننے کے لیے ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔ اپنے بندے لگائے ہیں بہت جلد ان شاءاللہ ہم اصل مجرم تک پہنچ جائیں گے"
معاویہ نے ڈی ایس پی افتخار کو یقین دہانی کروائی
"میں نے اپنے طور پر معلومات کروائی ہے مگر شک کی بنیاد پر ایک نام سامنے آیا ہے اور صرف شک کی بنیاد پر ہم کسی آدمی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے جب تک کہ اس کے خلاف ثبوت ہمارے پاس نہ ہو"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو بتایا
"اور وہ شک کس پر ہے آپ کو"
معاویہ نے ہاتھ کا مکہ بنا کر ہونٹوں پر رکھتے ہوئے پوچھا
"اویس شیرازی"
ڈی ایس پی افتخار نے نام بتایا
"اویس شرازی جس کا ایکسپورٹ امپورٹ کا بزنس ہے"
معاویہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
"رائٹ وہی اویس شیرازی بہت زیادہ چانسز ہیں کہ لڑکیوں کی کڈنیپنگ میں اس کا ہاتھ ہے اور یہی دوسرے ملک لڑکیوں کو اسمگل کرتا ہے اور نئی اطلاعات کے مطابق اس وقت یہ مری میں قیام پذیر ہے کہنے کو تو یہ کسی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں گیا ہوا ہے، دوسرے ممالک کے اس کے کچھ گیسٹ بھی آ رہے ہیں آپ پتہ یہ لگانا ہے یہ واقعی عام بزنس میٹنگ ہے یا اور کوئی دوسرا چکر"
ڈی ایس پی افتخار نے پوری تفصیلات بتاتے ہوئے ڈیٹیلسز والا پرچہ معاویہ کو تھمایا،،، جسے معاویہ دیکھنے لگا
"اس کام کے لیے کوئی بھروسہ والا آدمی چاہیے، جو وہاں پر موجودہ صورتحال کا پتہ لگائے اور اس وقت میں تمہارے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرسکتا،، ویسے بھی یہ کیس تمہارے ہاتھ میں ہے تو تمہیں رات کی فلائٹ سے اسلام آباد نکلنا ہوگا"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اوکے سر میں ریڈی ہو آج رات کو ہی میں اسلام آباد کے لئے روانہ ہو جاؤں گا"
معاویہ نے ڈیٹیلز والا پرچے کو فائل میں رکھتے ہوئے کہا
"یہ میرے کاٹیج کی کیز ہیں جب تک تم مری میں اس کیس کے سلسلے میں رہو گے وہاں ٹھہر سکتے ہو اور اویس شیرازی سے متعلق مزید انفارمیشن تمہیں سہیل سے مل جائے گی جو کہ تمہاری اس کام میں ہر طرح سے مدد کرے گا۔۔۔ مری پہنچ جاو گے تو وہ خود تم سے کانٹیکٹ کرے گا"
ڈی ایس پی افتخار نے چابیاں معاویہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا
"اوکے سر جیسے ہی کوئی خاص انفارمیشن ملتی ہے تو میں آپ کو آگاہ کروں گا"
معاویہ نے اٹھتے ہوئے کہا
**
"یہ آپ کا گھر ہے" ہادی نے کار پورچ میں گھڑی کی تو صنم نے پوچھا تھا
"ہاں آو"
ہادی گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے صنم کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوا
"مما کہاں ہیں آپ" ہادی نے فضا کو آواز دی۔۔۔ تھوڑی دیر میں فضا وہاں آئی اور صنم کو دیکھ کر مسکرائی
"مما اس سے ملیے یہ ہے صنم اگر آپ نے اور بابا نے اس کے مام ڈیڈ کو پٹالیا تو مستقبل میں آپ کی ہونے والی بہو"
ہادی کے تعارف کروانے پر جہاں صنم جھینپ کئی وہی فضا مسکرائی۔۔۔ فضا نے آگے بڑھ کر صنم کو گلے لگایا
"اور صنم یہ ہیں اس دنیا کی سب سے بیوٹی فل لیڈی"
اب کے ہادی نے فضا کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے فضا کا تعارف کروایا۔۔۔ جس پر وہ دونوں ہی مسکرا دیں
"تھوڑا سا مکھن بچا کر رکھو آگے بھی کام آئے گا"
فضا نے ہادی کو چپت لگاتے ہوئے کہا
"آو صنم یہاں بیٹھو"
فضا نے اس کو صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
فضا کو صنم بہت اچھی لگی دیکھ تو اس نے صنم کو حیا کی شادی میں ہی لیا تھا اور اسے وہ پیاری بھی لگی تھی۔۔۔ مگر آج ہادی کے ساتھ یوں کھڑا دیکھ کر فضا کو وہ اور بھی پیاری لگی معصوم سا چہرہ پرکشش آنکھیں بلاشبہ وہ خوبصورت لڑکی تھی
"آپ دونوں خواتین باتیں کریں میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں"
ہادی نے اٹھتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں فضا اور صنم کی اچھی دوستی ہوگئی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ سامنے والے گھر سے فضا کی دوست مسز انصار فضا سے ملنے آگئی۔۔۔۔ ان سے بات چیت کے دوران فضا نے صنم سے کہا
"صنم جاو ہادی کو دیکھ کر آؤ ذرا" صنم کو چپ بیٹھا دیکھ کر فضا نے اس کی بوریت کا احساس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ گردن اثبات میں ہلا کر اٹھ گئی
"شاید اس والے روم میں گئے تھے ہادی" صنم نے سوچتے ہوئے دروازے کا ہینڈل کو گھومایا دروازہ کھل گیا۔۔۔ ہادی سامنے ہی کھڑا آستینوں کے کف فولڈ کر رہا تھا شاید ابھی چینج کرکے نکلا تھا
"کیا ہوا اتنی جلدی بور ہوگئی میری مما سے"
ہادی نے صنم کو اپنے روم میں آتے دیکھ کر مسکرا کر کہا
"کیسی باتیں کر رہے ہیں ہادی میں آپ کی مما سے بور ہو گی بھلا،،، مجھے تو ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور حیرت بھی"
صنم نے اس کے روم کے اندر آتے ہوئے کہا
"خوشی تو سمجھ میں آتی ہے مگر حیرت کیوں ہوئی" ہادی نے صنم سے پوچھا
"آپ نے کبھی بتایا نہیں کیا آپ کے حیا بھابھی سے اتنے کلوز فیملی ٹرمز ہیں۔۔۔ آپ کے پیرنٹس کو تو میں بھابھی کے گھر میں، میں اس دن بھی دیکھ چکی تھی،، جب حیا بھابھی اور بھائی کی بات پکی ہوئی تھی"
صنم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہادی سے کہا
"آج کے لئے اتنی حیرت کافی ہے بعد میں تو اور بھی حیرت کے جھٹکے لگنے ہیں"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا
"کیا مطلب اور ایسی کونسی بات ہے حیرت والی" صنم نے کنفیوز ہو کر ہادی سے پوچھا
"کچھ نہیں مما کیا کر رہی ہیں"
ہادی نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا
"آنٹی کی کوئی فرینڈ آگئی ہیں انہی سے باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ میرے خیال میں اب مجھے چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے"
صنم نے جانے کا ارادہ بنایا
"اوکے چھوڑ آؤں گا تھوڑی دیر میں،، پہلے اپنا مستقبل کا بیڈروم دیکھ لو اور کچھ چینجنگ کروانی ہے تو وہ بھی بتادو"
ہادی کی بات پر وہ اچھا خاصہ بلش کرگئی۔ ۔۔ ہادی نے ایک پل غور سے اس کے سرخ چہرے اور جھکی پلکوں کو دیکھا اور پھر دیکھے گیا ہاتھ بڑھا کر سسٹم ان کیا تو سونگ بجا
"چرالیا"
جیسے ہی سونگ شروع ہوا ہادی نے اسمائل کے ساتھ اپنا ہاتھ صنم کے آگے بڑھایا صنم نے ہلکی جھینپ کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام لیا
"چرا لیا ہے تم نے جو دل کو۔۔۔ نظر نہیں چرانا صنم"
ہادی نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے شولڈر پر رکھے اور صنم کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر ڈانس کے اسٹیپ لیے،،، صنم بھی آہستہ آہستہ اس کا ساتھ دے رہی تھی،،، مگر پلکے ہنوز نیچے جھکی ہوئی تھی اور ہادی کی نظریں صنم کے چہرے پر تھیں
"بہار بن کے آنا کبھی ہمہاری دنیا میں۔۔ گزر نہ جائے یہ پل کہیں اسی تمنا میں۔۔۔ تم میرے ہو۔۔۔ہاں تم میرے ہو۔۔۔ آج تم اتنا وعدہ کرکے جانا
ایک عجیب سی کیفیت نے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔ ہادی نے بےخود سا ہوکر صنم کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔۔۔۔تو صنم وہی اسٹیچو بن گئی اس کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ دوسری طرف ہادی جو اپنے آپ میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ صنم کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے مزید صنم کے قریب آیا۔۔۔ صنم نے اپنی آنکھیں بند کرلی اور جیسے ہی جھگ کر دل میں آئی خواہش پوری کرنے لگا۔۔۔۔
"ہادی یہ غلط ہے پلیز"
صنم کی آواز پر ہادی ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا مگر اس کا چہرہ یونہی دونوں ہاتھوں میں تھاما رہا۔۔۔ صنم نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر ہادی نے اس کا چہرہ تھامے رکھا
"ہاں یہ بالکل غلط ہے بہت غلط۔۔۔۔ ایسا میرے ساتھ نہیں ہونا چاہیے یا تو تمہیں معاویہ کی بہن نہیں ہونا چاہیے تھا یا پھر اتنا معصوم نہیں ہونا چاہیے تھا"
ہادی نے اس کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا
صنم لڑکھڑاتی ہوئی پیچے ہوئی اور اس نے دیوار کا سہارا لیا
"ہادی ایم سوری آپ نے مائنڈ کیا مگر شادی سے پہلےیہ سب"
صنم سمجھی ہادی اس سے ناراض ہو گیا اس لئے اسے وضاحت دینے لگی
"صنم میرے بیڈروم سے پلیز اس وقت جاو"
ہادی نے سنجیدگی سے کہا
صنم اس کے روم سے نکلی تو فضا سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی
"سوری صنم میں تم کو ٹائم نہیں دے سکی۔۔۔ اچھا چلو بیٹھو میں دو منٹ میں آئی"
فضا کچن کی طرف جانے لگی
"ارے نہیں آنٹی آپ تکلف میں نہیں پڑے۔ ۔۔ ویسے بھی مجھے کافی دیر ہوگئی ہے"
صنم نے مسکرا کر کہا
"چلو صنم تمہیں گھر ڈراپ کردو" ہادی نے روم میں سے آتے ہوئے بغیر اسے دیکھے کہا
"ارے ایسے کیسے وہ پہلی دفعہ گھر آئی ہے،، اسے ہی نہیں جانے دوگی" فضا نے ہادی کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
"مما وہ پہلی دفعہ آئی ہے،، آخری دفعہ نہیں صنم باہر آو" ہادی کہتا ہوا باہر نکل گیا
"اس لڑکے کا بھی میں کچھ نہیں کر سکتی"
فضا نے تاسف سے ہادی کو جاتا ہوا دیکھا
"آنٹی آپ پلیز فیل نہ کریں میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے"
صنم نے مسکرا کر کہا
"نہیں اب میں خود آوگی بہت جلد تمہیں لینے"
فضا نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا وہ دونوں ہی مسکرا دی۔۔۔ صنم فضا سے مل کر باہر نکل گئی اور گاڑی میں بیٹھی ہادی نے کار اسٹارٹ کردی دونوں کے درمیان بالکل خاموشی تھی۔۔۔ ہادی بالکل سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا
**
"ہیلو کون"
حیا نے ٹی وی دیکھتے ہوئے مگن انداز میں موبائل اٹھایا
"تمہارا دو ٹکے کا پولیس والا"
معاویہ کی آواز سن کر حیا کا حلق تک کڑوا ہوگیا
"کہوں کیوں فون کیا"
حیا نے نراٹھے پن سے پوچھا
"ایسا ہے بےبی میری وارڈروب کے نیچے والے حصے میں جو بلیک والا بیگ رکھا ہے اس میں میرے چند گرم سوٹ رکھ دو"
معاویہ کو ایک دو کام نمٹانے تھے پھر رات کو نکلنا تھا اس لئے پیکنگ کا حیا سے بول دیا،،، جبکہ جواب اس کو معلوم تھا ٹکا سا ہی ملنا ہے
"واو تم کہیں جا رہے ہو"
حیا نے ایکسائٹڈ ہو کر پوچھا
"ہاں آفیشلی کام آگیا ہے تین سے چار دن کا"
معاویہ نے اس کی ایکسائٹمنٹ کا نوٹس لیتے ہوئے بتایا
"بس تین چار دن کے لئے،،، صرف تین چار دن مجھے آزادی کے نصیب ہوں گے" حیا نے بےدلی سے کہا
"او تو مسسز معاویہ مراد تم کو اپنے شوہر سے آزادی چاہیے"
معاویہ کے ماتھے پر شکن ابھری
"نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا،،، ٹھیک ہے میں پیکنگ کر دونگی ڈونٹ وری"
حیا نے سوچا کہیں یہ تین دن بھی اس سے نہ چھین لیے جائے جبھی جلدی سے بولی اور فون بند کردیا
"چلو تین سے چار دن مما بابا کے ساتھ گزاروں گی اپنے گھر میں پوری آزادی کے ساتھ"
حیا نے خوشی سے معاویہ کے کپڑے بیگ میں ڈالے اور لان میں آگئی جہاں ناعیمہ اور خضر موجود تھے
"ارے حیا آو چائے پیوگی،، میں اپنے لئے بنانے جا رہی تھی"
ناعیمہ نے اس کو آتا دیکھ کر پوچھا
"نہیں آنٹی تھینکیو میں آپ کو بتانے آئی تھی معاویہ کی کال آئی تھی،،، آفیشیلی کام سے انہیں مری جانا ہے۔۔۔۔ اور ساتھ میں، میں یہ بھی پوچھنا چاہ رہی تھی اگر آپ دونوں کی اجازت ہو تو میں مما بابا کے گھر چلی جاؤ"
اس نے پوری فرمابرداری دکھاتے ہوئے خضر اور ناعیمہ سے اجازت لی
"ارے بیٹا اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے اپنے ماں باپ سے ملنے کے لئے کیا پوچھنا،، اچھی بات ہے خوشی خوشی جاو"
خضر کے کہنے پر اس نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا
"اوکے میں اپنی پیکنگ بھی کرلیتی ہوں"
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے بیڈروم میں آگئی
روم میں آکر اس نے میوزک آن کیا اور اپنی پیکنگ کرنے لگی۔۔۔ بے شک تین دن تھے اس کے پاس مگر وہ اس کے اپنے دن تھے۔۔۔ وہ اپنے گھر میں رہے گی مما بابا کے ساتھ،، اپنے بیڈ روم کو بھی وہ مس کر رہی تھی۔۔۔ گانے کی دھن پر گنگنانے کے ساتھ اس نے آئستہ آئستہ اسٹیپ لینا شروع کردیے اور پیکنگ مکمل کی تب تک وہ فل فارم میں آچکی تھی۔۔۔۔
معاویہ اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا تو میوزک کی تیز آواز روم سے باہر تک آرہی تھی روم کا دروازہ کھولا تو سامنے حیا آنکھیں بند کئے ہوئے انگلش گانے کی دھن پر مہارت سے اپنی کمر move کرتی ہوئی ڈانس کے اسٹپ لے رہی تھی،، معاویہ جو کہ بڑی عجلت میں آیا تھا اب دیوار سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے اس کا ایک ایک اسٹیپ غور سے دیکھ رہا تھا گانے کے آخر میں جیسے ہی حیا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر چٹکی بجائی اور ساتھ ہی آنکھیں کھولی۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھوں اوپر ہی رہ گئے سامنے دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے،، معاویہ ابھی بھی سیریز انداز میں اسی کو دیکھ رہا تھا،،، حیا ہاتھ نیچے کر کے خفتگی سے آگے آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔ معاویہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اسکی جینز کے سامنے کی پاکٹ میں اپنی دونوں انگلیاں اٹکا کر حیا کو اپنی طرف کھینچا وہ کھینچتی ہوئی اس کے سینے سے آلگی
"شیرنی کو نچانا ہی نہیں ناچنا بھی اچھا آتا ہے ائیم امپرسٹ"
معاویہ نے گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"شیرنی۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک واہیات ناموں سے مجھے نہیں پکارا کرو اور اپنی غلط فہمی دور کرو ابھی نچانا تو تمہیں شروع ہی نہیں کیا۔۔۔ وہ تو تم جارہے تھے تو اس لئے میں تھوڑا ایکسائٹڈ ہوگئی تھی"
حیا نے اس کو دیکھ کر سر جھٹکتے ہوئے کہا
"اتنی خوشی ہے میرے جانے کی 3 دن کے لئے جا رہا ہوں۔ ۔۔ بےبی دنیا سے نہیں جا رہا"
معاویہ اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے جیسے ہی حیا کے اوپر جھکا
"حد میں رہو"
حیا اس کا ارادہ جان کر پیچھے ہٹی
"وہ میرا مطلب ہے تمہاری پیکنگ میں کر چکی ہوں دیکھ لو ایک نظر کون کون سی ڈریسز رکھے ہیں"
وہ اس وقت اس سے بگاڑ کر اپنا پلان بھی چوپٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ اس لئے فورا بولی اور روم سے نکل گئی
***
"مام چائے تو بنوائے جلدی"
معاویہ نے حیا کے برابر میں صوفے پر آکر بیٹھتے ہوئے کہا خضر بھی وہی بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا
"کتنے بجے کی فلائیٹ ہے تمہاری" خضر نے اخبار میں ہی دیکھتے ہوئے معاویہ سے سوال پوچھا
"ڈیڈ 9بجے کی بس ایک گھنٹے بعد نکلنا ہے گھر سے ہمیں"
لفظ 'ہمیں' پر خضر اور حیا دونوں نے ہی چونک کر معاویہ کو دیکھا
"ہمہیں مطلب اور کون جا رہا ہے تمہارے ساتھ"
نائمہ نے چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"آف کورس مام آپ کی بہو اور کون" معاویہ کی بات پر خضر اور ناعیمہ نے جہاں معاویہ کو کنفیوز ہوکر دیکھا وہی حیا کا دل چاہا وہ اس کا سر پھاڑ دے
"مگر حیا تو زین اور حور کی طرف جا رہی تھی نا"
خضر نے حیا کی طرف دیکھ کر پوچھا مگر اس سے پہلے حیا کچھ بولتی فورا معاویہ بول اٹھا
"جی ڈیڈ ناراض ہو کر جا رہی تھی آپ کی بہو مجھ سے،، جب میں نے دوپہر میں اس کو بتایا کہ تین دن کے لیے آفس کے کام سے جارہا ہو،،، تو ضد کرنے لگی 'میرے تین دن کیسے گزرے گے آپ کے بغیر مجھے بھی جانا ہے'
میں نے منع کیا تو بیگم صاحبہ کا منہ بن گیا۔۔۔۔ جب ہی اپنے ساتھ اس کا بھی ٹکٹ کروا کر آرہا ہوں"
معاویہ کے اس طرح جھوٹی کہانی سنانے پر حیا کا دل چاہا چائے کا کپ اس کے سر پر دے مارے
"نہیں معاویہ آپ ٹھیک کہہ رہے تھے،، میں نے بعد میں سوچا آپ تو آفس کے کام سے بزی ہوں گے،،، میں وہاں جا کر کیا کرو گی۔۔۔ بلاوجہ بور ہوگئی۔۔۔ میں آپ سے بالکل ناراض نہیں ہوں آپ پلیز جائیں"
حیا فورا اس کی بات کے جواب میں بولی اور لفظ 'جاۓ' پر آنکھیں دکھا کر خاصا زور بھی دیا
"دیکھیں ڈیڈ اب آپ اپنی بہو کو،،، دوپہر والی بات اب تک دل پر لے کر بیٹھی ہے۔۔۔ بلاوجہ میں وہاں جا کر اداس ہوگی تو آنٹی انکل بھی پریشان ہوگے۔۔۔ابھی تو نئی نئی شادی ہوئی ہے اور دونوں میں لڑائی بھی ہوگئی"
معاویہ نے حیا کے اپنے ساتھ نا جانے کا دوسرا رخ بھی دکھایا"
حیا حیرت زدہ ہو کر رہ گئی اس کے شیطانی دماغ پر
"ٹھیک کہہ رہا ہے بیٹا معاویہ۔۔۔ اچھا ہے اس کے ساتھ چلی جاو اپنے گھر کا کیا ہے۔ ۔۔ وہ تو وہاں سے آنے کے بعد بھی جا سکتی ہوں" خضر نہ حیا کو مشورہ دیا
"جی انکل میں پیکنگ کرلیتی ہوں" حیا نے بجھے ہوئے دل سے جواب دیا
"وہ تو میں ابھی ابھی کر کے آرہا ہوں۔۔ مطلب اپنے بیگ میں تمہارے سبھی کپڑے رکھ لیے ہیں اور تمہاری ضرورت کی دوسری چیزیں بھی"
آخری جملہ آہستہ سے ایک آنکھ دبا کر بولا
"اوکے مام ڈیڈ اپنا خیال رکھیے گا چلو حیا"
معاویہ نے اٹھتے ہوئے خضر اور ناعیمہ سے ملتے ہوئے کہا اور پھر حیا کو مخاطب کر کے باہر نکل گیا چلو
"بیٹا اپنا خیال رکھنا"
ناعیمہ نے حیا کو بولا
وہ بھی دونوں سے مل کر معاویہ کے پیچھے آگئی
"کیوں کیا تم نے ایسا"
کار میں بیٹھ کر ڈرائیور کا لحاظ کیے بنا وہ شروع ہوگئی
"یہ سوچ کر بےبی کے میرا ان تین دنوں میں تمہارے بنا کیسے گزارہ ہوگا"
معاویہ نے دل جلانے والی اسمائل دے کر حیا کا ہاتھ تھامنا چاہا ہے جسے حیا نے بڑی بےدردی سے جھٹک دیا
معاویہ نے کال ملا کر زین اور حور کو بھی اپنے اور حیا کے جانے کے بارے میں بتایا
جاری ہے
Aaj long epi hai surprice epi ka sochna b mat plz😐😃
By zeenia sharjeel
Epi # 35
"گڈ نون سر آپ نے یاد کیا تھا"
معاویہ نے سلوٹ کرتے ہوئے ڈی۔ایس۔پی افتخار سے کہا
"ہاں بیٹھو معاویہ تم سے ضروری بات کرنی تھی"
ڈی ایس پی افتخار نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"سب سے پہلے تو کانگریجولیشن تمہارا اب تک کا ریکارڈ بہت زبردست رہا ہے،، تم نے بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک سارے کیس solve کیے۔۔۔۔ مگر یہ جو لاسٹ کیس تھا اس پر میں نے تمہیں بات کرنے کے لیے بلایا ہے"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی سر آپ بولیے میں سن رہا ہوں" معاویہ نے ڈی ایس پی افتخار سے کہا
"تم نے اپنی ٹیم کے ساتھ جس طرح اغوا شدہ لڑکیوں کو بازیاب کروایا ہے، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔۔۔ مگر ثبوت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اور مجرموں کے فرار ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چل سکا کے ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ۔۔ اور ساتھ ہی تمہارے اس ایکشن سے اصل مجرم مزید چوکنا ہو گیا ہے،،، اس لیے اب تمہیں بہت محتاط رہ ہوکر اگلا قدم اٹھانا ہوگا اور کافی احتیاط برتنی ہوگی"
"جی سر میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں اور یہ کیس بھی کلوس نہیں ہوا ہے۔۔۔ میں نے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے اور یہ جاننے کے لیے ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔۔ اپنے بندے لگائے ہیں بہت جلد ان شاءاللہ ہم اصل مجرم تک پہنچ جائیں گے"
معاویہ نے ڈی ایس پی افتخار کو یقین دہانی کروائی
"میں نے اپنے طور پر معلومات کروائی ہے مگر شک کی بنیاد پر ایک نام سامنے آیا ہے اور صرف شک کی بنیاد پر ہم کسی آدمی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے جب تک کہ اس کے خلاف ثبوت ہمارے پاس نہ ہو"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو بتایا
"اور وہ شک کس پر ہے آپ کو"
معاویہ نے ہاتھ کا مکہ بنا کر ہونٹوں پر رکھتے ہوئے پوچھا
"اویس شیرازی"
ڈی ایس پی افتخار نے نام بتایا
"اویس شرازی جس کا ایکسپورٹ امپورٹ کا بزنس ہے"
معاویہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
"رائٹ وہی اویس شیرازی بہت زیادہ چانسز ہیں کہ لڑکیوں کی کڈنیپنگ میں اس کا ہاتھ ہے اور یہی دوسرے ملک لڑکیوں کو اسمگل کرتا ہے اور نئی اطلاعات کے مطابق اس وقت یہ مری میں قیام پذیر ہے کہنے کو تو یہ کسی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں گیا ہوا ہے، دوسرے ممالک کے اس کے کچھ گیسٹ بھی آ رہے ہیں آپ پتہ یہ لگانا ہے یہ واقعی عام بزنس میٹنگ ہے یا اور کوئی دوسرا چکر"
ڈی ایس پی افتخار نے پوری تفصیلات بتاتے ہوئے ڈیٹیلسز والا پرچہ معاویہ کو تھمایا،،، جسے معاویہ دیکھنے لگا
"اس کام کے لیے کوئی بھروسہ والا آدمی چاہیے، جو وہاں پر موجودہ صورتحال کا پتہ لگائے اور اس وقت میں تمہارے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہیں کرسکتا،، ویسے بھی یہ کیس تمہارے ہاتھ میں ہے تو تمہیں رات کی فلائٹ سے اسلام آباد نکلنا ہوگا"
ڈی ایس پی افتخار نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"اوکے سر میں ریڈی ہو آج رات کو ہی میں اسلام آباد کے لئے روانہ ہو جاؤں گا"
معاویہ نے ڈیٹیلز والا پرچے کو فائل میں رکھتے ہوئے کہا
"یہ میرے کاٹیج کی کیز ہیں جب تک تم مری میں اس کیس کے سلسلے میں رہو گے وہاں ٹھہر سکتے ہو اور اویس شیرازی سے متعلق مزید انفارمیشن تمہیں سہیل سے مل جائے گی جو کہ تمہاری اس کام میں ہر طرح سے مدد کرے گا۔۔۔ مری پہنچ جاو گے تو وہ خود تم سے کانٹیکٹ کرے گا"
ڈی ایس پی افتخار نے چابیاں معاویہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا
"اوکے سر جیسے ہی کوئی خاص انفارمیشن ملتی ہے تو میں آپ کو آگاہ کروں گا"
معاویہ نے اٹھتے ہوئے کہا
**
"یہ آپ کا گھر ہے" ہادی نے کار پورچ میں گھڑی کی تو صنم نے پوچھا تھا
"ہاں آو"
ہادی گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے صنم کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوا
"مما کہاں ہیں آپ" ہادی نے فضا کو آواز دی۔۔۔ تھوڑی دیر میں فضا وہاں آئی اور صنم کو دیکھ کر مسکرائی
"مما اس سے ملیے یہ ہے صنم اگر آپ نے اور بابا نے اس کے مام ڈیڈ کو پٹالیا تو مستقبل میں آپ کی ہونے والی بہو"
ہادی کے تعارف کروانے پر جہاں صنم جھینپ کئی وہی فضا مسکرائی۔۔۔ فضا نے آگے بڑھ کر صنم کو گلے لگایا
"اور صنم یہ ہیں اس دنیا کی سب سے بیوٹی فل لیڈی"
اب کے ہادی نے فضا کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے فضا کا تعارف کروایا۔۔۔ جس پر وہ دونوں ہی مسکرا دیں
"تھوڑا سا مکھن بچا کر رکھو آگے بھی کام آئے گا"
فضا نے ہادی کو چپت لگاتے ہوئے کہا
"آو صنم یہاں بیٹھو"
فضا نے اس کو صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
فضا کو صنم بہت اچھی لگی دیکھ تو اس نے صنم کو حیا کی شادی میں ہی لیا تھا اور اسے وہ پیاری بھی لگی تھی۔۔۔ مگر آج ہادی کے ساتھ یوں کھڑا دیکھ کر فضا کو وہ اور بھی پیاری لگی معصوم سا چہرہ پرکشش آنکھیں بلاشبہ وہ خوبصورت لڑکی تھی
"آپ دونوں خواتین باتیں کریں میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں"
ہادی نے اٹھتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں فضا اور صنم کی اچھی دوستی ہوگئی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ سامنے والے گھر سے فضا کی دوست مسز انصار فضا سے ملنے آگئی۔۔۔۔ ان سے بات چیت کے دوران فضا نے صنم سے کہا
"صنم جاو ہادی کو دیکھ کر آؤ ذرا" صنم کو چپ بیٹھا دیکھ کر فضا نے اس کی بوریت کا احساس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ گردن اثبات میں ہلا کر اٹھ گئی
"شاید اس والے روم میں گئے تھے ہادی" صنم نے سوچتے ہوئے دروازے کا ہینڈل کو گھومایا دروازہ کھل گیا۔۔۔ ہادی سامنے ہی کھڑا آستینوں کے کف فولڈ کر رہا تھا شاید ابھی چینج کرکے نکلا تھا
"کیا ہوا اتنی جلدی بور ہوگئی میری مما سے"
ہادی نے صنم کو اپنے روم میں آتے دیکھ کر مسکرا کر کہا
"کیسی باتیں کر رہے ہیں ہادی میں آپ کی مما سے بور ہو گی بھلا،،، مجھے تو ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور حیرت بھی"
صنم نے اس کے روم کے اندر آتے ہوئے کہا
"خوشی تو سمجھ میں آتی ہے مگر حیرت کیوں ہوئی" ہادی نے صنم سے پوچھا
"آپ نے کبھی بتایا نہیں کیا آپ کے حیا بھابھی سے اتنے کلوز فیملی ٹرمز ہیں۔۔۔ آپ کے پیرنٹس کو تو میں بھابھی کے گھر میں، میں اس دن بھی دیکھ چکی تھی،، جب حیا بھابھی اور بھائی کی بات پکی ہوئی تھی"
صنم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہادی سے کہا
"آج کے لئے اتنی حیرت کافی ہے بعد میں تو اور بھی حیرت کے جھٹکے لگنے ہیں"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا
"کیا مطلب اور ایسی کونسی بات ہے حیرت والی" صنم نے کنفیوز ہو کر ہادی سے پوچھا
"کچھ نہیں مما کیا کر رہی ہیں"
ہادی نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا
"آنٹی کی کوئی فرینڈ آگئی ہیں انہی سے باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ میرے خیال میں اب مجھے چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے"
صنم نے جانے کا ارادہ بنایا
"اوکے چھوڑ آؤں گا تھوڑی دیر میں،، پہلے اپنا مستقبل کا بیڈروم دیکھ لو اور کچھ چینجنگ کروانی ہے تو وہ بھی بتادو"
ہادی کی بات پر وہ اچھا خاصہ بلش کرگئی۔ ۔۔ ہادی نے ایک پل غور سے اس کے سرخ چہرے اور جھکی پلکوں کو دیکھا اور پھر دیکھے گیا ہاتھ بڑھا کر سسٹم ان کیا تو سونگ بجا
"چرالیا"
جیسے ہی سونگ شروع ہوا ہادی نے اسمائل کے ساتھ اپنا ہاتھ صنم کے آگے بڑھایا صنم نے ہلکی جھینپ کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام لیا
"چرا لیا ہے تم نے جو دل کو۔۔۔ نظر نہیں چرانا صنم"
ہادی نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے شولڈر پر رکھے اور صنم کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر ڈانس کے اسٹیپ لیے،،، صنم بھی آہستہ آہستہ اس کا ساتھ دے رہی تھی،،، مگر پلکے ہنوز نیچے جھکی ہوئی تھی اور ہادی کی نظریں صنم کے چہرے پر تھیں
"بہار بن کے آنا کبھی ہمہاری دنیا میں۔۔ گزر نہ جائے یہ پل کہیں اسی تمنا میں۔۔۔ تم میرے ہو۔۔۔ہاں تم میرے ہو۔۔۔ آج تم اتنا وعدہ کرکے جانا
ایک عجیب سی کیفیت نے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔ ہادی نے بےخود سا ہوکر صنم کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔۔۔۔تو صنم وہی اسٹیچو بن گئی اس کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ دوسری طرف ہادی جو اپنے آپ میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ صنم کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے مزید صنم کے قریب آیا۔۔۔ صنم نے اپنی آنکھیں بند کرلی اور جیسے ہی جھگ کر دل میں آئی خواہش پوری کرنے لگا۔۔۔۔
"ہادی یہ غلط ہے پلیز"
صنم کی آواز پر ہادی ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا مگر اس کا چہرہ یونہی دونوں ہاتھوں میں تھاما رہا۔۔۔ صنم نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر ہادی نے اس کا چہرہ تھامے رکھا
"ہاں یہ بالکل غلط ہے بہت غلط۔۔۔۔ ایسا میرے ساتھ نہیں ہونا چاہیے یا تو تمہیں معاویہ کی بہن نہیں ہونا چاہیے تھا یا پھر اتنا معصوم نہیں ہونا چاہیے تھا"
ہادی نے اس کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا
صنم لڑکھڑاتی ہوئی پیچے ہوئی اور اس نے دیوار کا سہارا لیا
"ہادی ایم سوری آپ نے مائنڈ کیا مگر شادی سے پہلےیہ سب"
صنم سمجھی ہادی اس سے ناراض ہو گیا اس لئے اسے وضاحت دینے لگی
"صنم میرے بیڈروم سے پلیز اس وقت جاو"
ہادی نے سنجیدگی سے کہا
صنم اس کے روم سے نکلی تو فضا سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی
"سوری صنم میں تم کو ٹائم نہیں دے سکی۔۔۔ اچھا چلو بیٹھو میں دو منٹ میں آئی"
فضا کچن کی طرف جانے لگی
"ارے نہیں آنٹی آپ تکلف میں نہیں پڑے۔ ۔۔ ویسے بھی مجھے کافی دیر ہوگئی ہے"
صنم نے مسکرا کر کہا
"چلو صنم تمہیں گھر ڈراپ کردو" ہادی نے روم میں سے آتے ہوئے بغیر اسے دیکھے کہا
"ارے ایسے کیسے وہ پہلی دفعہ گھر آئی ہے،، اسے ہی نہیں جانے دوگی" فضا نے ہادی کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
"مما وہ پہلی دفعہ آئی ہے،، آخری دفعہ نہیں صنم باہر آو" ہادی کہتا ہوا باہر نکل گیا
"اس لڑکے کا بھی میں کچھ نہیں کر سکتی"
فضا نے تاسف سے ہادی کو جاتا ہوا دیکھا
"آنٹی آپ پلیز فیل نہ کریں میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے"
صنم نے مسکرا کر کہا
"نہیں اب میں خود آوگی بہت جلد تمہیں لینے"
فضا نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا وہ دونوں ہی مسکرا دی۔۔۔ صنم فضا سے مل کر باہر نکل گئی اور گاڑی میں بیٹھی ہادی نے کار اسٹارٹ کردی دونوں کے درمیان بالکل خاموشی تھی۔۔۔ ہادی بالکل سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا
**
"ہیلو کون"
حیا نے ٹی وی دیکھتے ہوئے مگن انداز میں موبائل اٹھایا
"تمہارا دو ٹکے کا پولیس والا"
معاویہ کی آواز سن کر حیا کا حلق تک کڑوا ہوگیا
"کہوں کیوں فون کیا"
حیا نے نراٹھے پن سے پوچھا
"ایسا ہے بےبی میری وارڈروب کے نیچے والے حصے میں جو بلیک والا بیگ رکھا ہے اس میں میرے چند گرم سوٹ رکھ دو"
معاویہ کو ایک دو کام نمٹانے تھے پھر رات کو نکلنا تھا اس لئے پیکنگ کا حیا سے بول دیا،،، جبکہ جواب اس کو معلوم تھا ٹکا سا ہی ملنا ہے
"واو تم کہیں جا رہے ہو"
حیا نے ایکسائٹڈ ہو کر پوچھا
"ہاں آفیشلی کام آگیا ہے تین سے چار دن کا"
معاویہ نے اس کی ایکسائٹمنٹ کا نوٹس لیتے ہوئے بتایا
"بس تین چار دن کے لئے،،، صرف تین چار دن مجھے آزادی کے نصیب ہوں گے" حیا نے بےدلی سے کہا
"او تو مسسز معاویہ مراد تم کو اپنے شوہر سے آزادی چاہیے"
معاویہ کے ماتھے پر شکن ابھری
"نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا،،، ٹھیک ہے میں پیکنگ کر دونگی ڈونٹ وری"
حیا نے سوچا کہیں یہ تین دن بھی اس سے نہ چھین لیے جائے جبھی جلدی سے بولی اور فون بند کردیا
"چلو تین سے چار دن مما بابا کے ساتھ گزاروں گی اپنے گھر میں پوری آزادی کے ساتھ"
حیا نے خوشی سے معاویہ کے کپڑے بیگ میں ڈالے اور لان میں آگئی جہاں ناعیمہ اور خضر موجود تھے
"ارے حیا آو چائے پیوگی،، میں اپنے لئے بنانے جا رہی تھی"
ناعیمہ نے اس کو آتا دیکھ کر پوچھا
"نہیں آنٹی تھینکیو میں آپ کو بتانے آئی تھی معاویہ کی کال آئی تھی،،، آفیشیلی کام سے انہیں مری جانا ہے۔۔۔۔ اور ساتھ میں، میں یہ بھی پوچھنا چاہ رہی تھی اگر آپ دونوں کی اجازت ہو تو میں مما بابا کے گھر چلی جاؤ"
اس نے پوری فرمابرداری دکھاتے ہوئے خضر اور ناعیمہ سے اجازت لی
"ارے بیٹا اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے اپنے ماں باپ سے ملنے کے لئے کیا پوچھنا،، اچھی بات ہے خوشی خوشی جاو"
خضر کے کہنے پر اس نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا
"اوکے میں اپنی پیکنگ بھی کرلیتی ہوں"
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے بیڈروم میں آگئی
روم میں آکر اس نے میوزک آن کیا اور اپنی پیکنگ کرنے لگی۔۔۔ بے شک تین دن تھے اس کے پاس مگر وہ اس کے اپنے دن تھے۔۔۔ وہ اپنے گھر میں رہے گی مما بابا کے ساتھ،، اپنے بیڈ روم کو بھی وہ مس کر رہی تھی۔۔۔ گانے کی دھن پر گنگنانے کے ساتھ اس نے آئستہ آئستہ اسٹیپ لینا شروع کردیے اور پیکنگ مکمل کی تب تک وہ فل فارم میں آچکی تھی۔۔۔۔
معاویہ اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا تو میوزک کی تیز آواز روم سے باہر تک آرہی تھی روم کا دروازہ کھولا تو سامنے حیا آنکھیں بند کئے ہوئے انگلش گانے کی دھن پر مہارت سے اپنی کمر move کرتی ہوئی ڈانس کے اسٹپ لے رہی تھی،، معاویہ جو کہ بڑی عجلت میں آیا تھا اب دیوار سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے اس کا ایک ایک اسٹیپ غور سے دیکھ رہا تھا گانے کے آخر میں جیسے ہی حیا نے دونوں ہاتھ اٹھا کر چٹکی بجائی اور ساتھ ہی آنکھیں کھولی۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھوں اوپر ہی رہ گئے سامنے دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے،، معاویہ ابھی بھی سیریز انداز میں اسی کو دیکھ رہا تھا،،، حیا ہاتھ نیچے کر کے خفتگی سے آگے آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔ معاویہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اسکی جینز کے سامنے کی پاکٹ میں اپنی دونوں انگلیاں اٹکا کر حیا کو اپنی طرف کھینچا وہ کھینچتی ہوئی اس کے سینے سے آلگی
"شیرنی کو نچانا ہی نہیں ناچنا بھی اچھا آتا ہے ائیم امپرسٹ"
معاویہ نے گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"شیرنی۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک واہیات ناموں سے مجھے نہیں پکارا کرو اور اپنی غلط فہمی دور کرو ابھی نچانا تو تمہیں شروع ہی نہیں کیا۔۔۔ وہ تو تم جارہے تھے تو اس لئے میں تھوڑا ایکسائٹڈ ہوگئی تھی"
حیا نے اس کو دیکھ کر سر جھٹکتے ہوئے کہا
"اتنی خوشی ہے میرے جانے کی 3 دن کے لئے جا رہا ہوں۔ ۔۔ بےبی دنیا سے نہیں جا رہا"
معاویہ اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے جیسے ہی حیا کے اوپر جھکا
"حد میں رہو"
حیا اس کا ارادہ جان کر پیچھے ہٹی
"وہ میرا مطلب ہے تمہاری پیکنگ میں کر چکی ہوں دیکھ لو ایک نظر کون کون سی ڈریسز رکھے ہیں"
وہ اس وقت اس سے بگاڑ کر اپنا پلان بھی چوپٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ اس لئے فورا بولی اور روم سے نکل گئی
***
"مام چائے تو بنوائے جلدی"
معاویہ نے حیا کے برابر میں صوفے پر آکر بیٹھتے ہوئے کہا خضر بھی وہی بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا
"کتنے بجے کی فلائیٹ ہے تمہاری" خضر نے اخبار میں ہی دیکھتے ہوئے معاویہ سے سوال پوچھا
"ڈیڈ 9بجے کی بس ایک گھنٹے بعد نکلنا ہے گھر سے ہمیں"
لفظ 'ہمیں' پر خضر اور حیا دونوں نے ہی چونک کر معاویہ کو دیکھا
"ہمہیں مطلب اور کون جا رہا ہے تمہارے ساتھ"
نائمہ نے چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے معاویہ سے پوچھا
"آف کورس مام آپ کی بہو اور کون" معاویہ کی بات پر خضر اور ناعیمہ نے جہاں معاویہ کو کنفیوز ہوکر دیکھا وہی حیا کا دل چاہا وہ اس کا سر پھاڑ دے
"مگر حیا تو زین اور حور کی طرف جا رہی تھی نا"
خضر نے حیا کی طرف دیکھ کر پوچھا مگر اس سے پہلے حیا کچھ بولتی فورا معاویہ بول اٹھا
"جی ڈیڈ ناراض ہو کر جا رہی تھی آپ کی بہو مجھ سے،، جب میں نے دوپہر میں اس کو بتایا کہ تین دن کے لیے آفس کے کام سے جارہا ہو،،، تو ضد کرنے لگی 'میرے تین دن کیسے گزرے گے آپ کے بغیر مجھے بھی جانا ہے'
میں نے منع کیا تو بیگم صاحبہ کا منہ بن گیا۔۔۔۔ جب ہی اپنے ساتھ اس کا بھی ٹکٹ کروا کر آرہا ہوں"
معاویہ کے اس طرح جھوٹی کہانی سنانے پر حیا کا دل چاہا چائے کا کپ اس کے سر پر دے مارے
"نہیں معاویہ آپ ٹھیک کہہ رہے تھے،، میں نے بعد میں سوچا آپ تو آفس کے کام سے بزی ہوں گے،،، میں وہاں جا کر کیا کرو گی۔۔۔ بلاوجہ بور ہوگئی۔۔۔ میں آپ سے بالکل ناراض نہیں ہوں آپ پلیز جائیں"
حیا فورا اس کی بات کے جواب میں بولی اور لفظ 'جاۓ' پر آنکھیں دکھا کر خاصا زور بھی دیا
"دیکھیں ڈیڈ اب آپ اپنی بہو کو،،، دوپہر والی بات اب تک دل پر لے کر بیٹھی ہے۔۔۔ بلاوجہ میں وہاں جا کر اداس ہوگی تو آنٹی انکل بھی پریشان ہوگے۔۔۔ابھی تو نئی نئی شادی ہوئی ہے اور دونوں میں لڑائی بھی ہوگئی"
معاویہ نے حیا کے اپنے ساتھ نا جانے کا دوسرا رخ بھی دکھایا"
حیا حیرت زدہ ہو کر رہ گئی اس کے شیطانی دماغ پر
"ٹھیک کہہ رہا ہے بیٹا معاویہ۔۔۔ اچھا ہے اس کے ساتھ چلی جاو اپنے گھر کا کیا ہے۔ ۔۔ وہ تو وہاں سے آنے کے بعد بھی جا سکتی ہوں" خضر نہ حیا کو مشورہ دیا
"جی انکل میں پیکنگ کرلیتی ہوں" حیا نے بجھے ہوئے دل سے جواب دیا
"وہ تو میں ابھی ابھی کر کے آرہا ہوں۔۔ مطلب اپنے بیگ میں تمہارے سبھی کپڑے رکھ لیے ہیں اور تمہاری ضرورت کی دوسری چیزیں بھی"
آخری جملہ آہستہ سے ایک آنکھ دبا کر بولا
"اوکے مام ڈیڈ اپنا خیال رکھیے گا چلو حیا"
معاویہ نے اٹھتے ہوئے خضر اور ناعیمہ سے ملتے ہوئے کہا اور پھر حیا کو مخاطب کر کے باہر نکل گیا چلو
"بیٹا اپنا خیال رکھنا"
ناعیمہ نے حیا کو بولا
وہ بھی دونوں سے مل کر معاویہ کے پیچھے آگئی
"کیوں کیا تم نے ایسا"
کار میں بیٹھ کر ڈرائیور کا لحاظ کیے بنا وہ شروع ہوگئی
"یہ سوچ کر بےبی کے میرا ان تین دنوں میں تمہارے بنا کیسے گزارہ ہوگا"
معاویہ نے دل جلانے والی اسمائل دے کر حیا کا ہاتھ تھامنا چاہا ہے جسے حیا نے بڑی بےدردی سے جھٹک دیا
معاویہ نے کال ملا کر زین اور حور کو بھی اپنے اور حیا کے جانے کے بارے میں بتایا
جاری ہے
Aaj long epi hai surprice epi ka sochna b mat plz😐😃

0 comments:
Post a Comment