Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 34

Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 34


معاویہ جاگنگ کرکے واپس گھر پہنچا روم میں آیا تو حیا پہلے سے ہی اٹھی ہوئی تھی نائٹ ڈریس کی جگہ وہی پرانی والی ڈریسنگ جینز اور ٹاپ پہنے ہوئے وہ آئینے کے آگے کھڑی بال میں برش کر رہی تھی اس کی ڈریسنگ کو اگنور کرتا ہوا وہ وارڈروب کی طرف بڑھا اس میں سے اینولپ لے کر حیا کے پاس آیا

"گڈ مارننگ بےبی" سر پر کس کرتا ہوا معاویہ آئینے میں سے اسے دیکھ کر مسکرایا

"تمہیں دیکھ کر میری مارننگ کبھی گڈ نہیں ہوسکتی اور مارننگ صرف منہ سے بولا کرو یہی تمہاری صحت کے لیے بہتر ہے
حیا نے تیوری پر بل چڑھا کر آئینے میں سے اس کو دیکھ کر بولا۔۔۔ ویسے بھی کل رات والے قصے پر وہ ابھی تک تپی ہوئی تھی


"یہ چھوٹی چھوٹی گستاخیاں تو میں اپنی مارننگ کو گڈ بنانے کے لیے کرتا ہوں۔۔۔۔۔ جانم اتنا تو تمہیں بھی برداشت کرنا پڑے گا، ،، تاکہ بندے کو یہ احساس تو رہے کہ وہ شادی شدہ ہے"
معاویہ نے آئینے سے ہی حیا کو دیکھ کر آنکھ مارتے ہوئے بولا

"اتنی ہی آگ لگی ہوئی ہے تو کہیں اور جا کے منہ مارو"
حیا جھٹکے سے مڑی اور برش دکھاتے ہوئے اسے کہا اور غصے سے اس کی ناک لال ہونے لگی

"اگر مجھے کہیں اور منہ مارنا ہوتا تو تمہیں اپنے بیڈروم میں لانے کے اتنے جتن کیوں کرتا بھلا"
ہیئر برش نیچے کرکے معاویہ اس کی چھوٹی سی ناک کھینچ کر بولا

"تم دو ٹکے کے پولیس والے اپنی لمنٹ میں رہو"
حیا اپنی ناک پر سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی

"یہ دو ٹکے کا پولیس والا ابھی تک اپنی لمٹ میں ہے،، اگر لمٹ کروس کرتا تو  یہ تمہاری ناک ہی نہیں تم خود پوری لال پیلی ہو رہی ہوتی"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا

حیا نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے اور بغیر اس کا جواب دیے، جانے لگی تو معاویہ نے اس کا ہاتھ پکڑا

"یہ لو شام تک فل کرکے دے دینا مجھے"
معاویہ نے اس کے ہاتھ میں اینولپ پکڑاتے ہوئے کہا

"اس میں کیا ہے" حیا نے آنکھیں سکڑ کر پوچھا

"تمھارے لیے ایڈمیشن فارم لے کر آیا ہو بےبی یقینا تم آگے پڑھنا چاہو گی"
معاویہ وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالتے ہوئے بولا

"تمہیں کس نے کہا کہ مجھے آگے پڑھنا ہے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں"
حیا نے آنکھیں گھماتے ہوئے بولا

"شوہر نے تمہارے css کیا ہے۔۔۔۔ کم سے کم تمہارا گریجویٹ ہونا تو بنتا ہے"
معاویہ ہاتھ میں یونیفارم لیتے ہوئے اس کے پاس آ کر بولا

"تمہارے css کا کوئی فائدہ نہیں،،، میری نظر میں تم دو ٹکے کے پولیس والے ہو"
حیا کے کہنے پر معاویہ مسکرایا

"تم لفظوں سے جنگ کرو میں اس کا جواب تمہیں ہونٹوں سے دوں گا"
معاویہ نے اس کے قریب آکر اس کے ہونٹوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا حیا نے اس کو دور ہٹایا اور گھورنے لگی

"ویل مجھے نہیں لگتا تھا کہ تم اتنی ڈفر ہوگی۔۔۔ خیر آگے پڑھنا نہ پڑھنا تمہاری مرضی ہے" معاویہ نے اس کے ہاتھ سے فارم لیتے ہوئے دراز میں رکھا اور یونیفارم لے کر خود ڈریسنگ روم میں چلا گیا

**

ناشتے کی ٹیبل پر خضر ناعیمہ صنم اور حیا موجود تھے وہ حیا کے برابر والی چیئر پر آکر بیٹھا

"بھابھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن اسٹارٹ ہوگئے ہیں۔۔۔ آپ میری ہی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیں پھر ہم دونوں وہاں پر ایک ساتھ ہی ہوگے"
صنم نے حیا سے مسکراتے ہوئے کہا

"ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے میں غور کرو گی"
حیا نے صنم کو دیکھ کر جواب دیا اور دوسری سائیڈ پر برابر میں بیٹھے معاویہ کو مدد طلب نظروں سے دیکھا جیسے اس ٹاپک سے جان چھڑانا چاہ رہی ہو۔۔۔۔ مگر خضر کے دیکھنے سے پہلے ہی فورا گلاس میں سے جوس کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگی

"ہاں بیٹا صنم کا آئیڈیا برا نہیں ہے اپنی اسٹیڈیز کنٹینیو کرو اور تم دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھو گی تو یہ زیادہ اچھا ہے"
خضر نے صنم کی بات کی تائید کرتے ہوئے حیا سے کہا

"ڈیڈ میرے خیال اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اب شادی کے بعد آگے پڑھنے کی کیا تک بنتی ہے کونسا اس کو جاب کرنا ہے"
معاویہ نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر اپنے گھر والوں کے سامنے اس کی ہیلپ کرنی چاہی

"انکل معاویہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔۔۔ میرا تو آگے پڑھنے کا ارادہ ہے مگر بابا مما نے کہا ہے جو معاویہ کہیں گے وہی ماننا ہے ساری زندگی۔۔۔ اگر انہیں میرا آگے پڑھنا پسند نہیں ہے تو میں آگے نہیں کروں گی"
حیا نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے خضر کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔ جس پر معاویہ اس کا چہرہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کتنی خطرناک تھی اس کی شیرنی بنا پنجوں کے ہی سارے داو پیج سے واقف تھی

"بہت افسوس کی بات ہے معاویہ،، مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم عام مردوں کی طرح ٹیپیکل سوچ کے مالک ہو گے۔۔۔ شادی ہوگئی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ آگے نہ پڑے۔۔۔ صنم تم حیا کے لئے ایڈمیشن فارم لےکر آجانا،،، میں خود جاکر حیا کا ایڈمیشن کرا دوگا"
خضر نے دوبارہ معاویہ کی کلاس لیتے ہوئے صنم کو مخاطب کیا

"جی ڈیڈ"
صنم نے اپنے بھائی کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر چائے کا کپ لبوں سے لگایا

"تھینک یو سو مچ انکل،،، آپ سب لوگ اتنے اچھے ہیں مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔ میں بہت لکی فیل کررہی ہوں خود کو"
حیا نے خضر کو تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا،،، اور سب سے نظر بچا کر معاویہ کو دل جلانے والی اسمائل دی اور پھر آنکھ ماری۔۔۔۔۔ معاویہ اس کی حرکت پر غصہ کی بجائے نیچے منہ کر کے مسکرایا

"بیٹا اب اسے اپنا ہی گھر سمجھو بلکہ تم اس گھر کی ہی فرد ہو۔۔۔۔ اس لئے جو بھی بات تمہارے دل میں ہو بلاجھجک مجھے یا اپنے انکل کو بول دیا کرو۔۔۔۔ ہمارے لئے جیسی صنم ہے ویسے ہی تم ہو اور معاویہ آئندہ اس طرح کی بات کر کے مجھے حیا کے سامنے شرمندہ نہیں کروانا"
ناعیمہ نے بھی معاویہ کو شرمندہ کرنا چاہا مگر اس پرکوئی خاص اثر نہیں ہوا

"اوکے میں چلتا ہوں"
معاویہ اٹھ کر ہال سے باہر نکلا

"بھائی"
صنم اس کے پیچھے آئی

"تمہیں بھی کچھ کہنا باقی رہ گیا"
معاویہ نے صنم کو دیکھ کر پوچھا تو صنم مسکرا دی اور معاویہ کو hug دے کر آئی لو یو کہا تو معاویہ بھی مسکرا دیا 

**

"کیسا ہے میرا بچہ" حیا کی موبائل پر آواز سنتے ہی زین نے سامنے رکھی فائل بند کرتے ہوئے کہا

"میں ٹھیک ہوں بابا مگر آپ کو اور مما کو بہت مس کر رہی ہوں"
ناشتے کے بعد حیا اپنے روم میں آ گئی حور سے بات کرنے کے بعد،،، اس نے زین کو کال ملائی

"بابا بھی اپنی پرینسز کو بہت مس کر رہے تھے۔۔۔۔ حیا سب ٹھیک ہے نا سب کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ" زین اس کی اداسی فیل کرکے پوچھنے لگا

"سب بہت اچھے ہیں بابا، ،، انکل آنٹی بہت خیال رکھتے ہیں صنم بھی بہت اچھی ہے"
حیا نے سب کا بتا کر زین کو مطمئن کیا

"اور معاویہ وہ کیسا ہے۔۔۔ خیال رکھتا ہے نہ تمہارا"
زین نے فکرمندی سے پوچھا

"اوہو بابا آپ اور مما سیم سیم کوئسچن پوچھ رہے ہیں۔۔۔ ابھی مما کی کال آئی تھی وہ بھی یہی سب پوچھ رہی تھیں"
حیا نے زین کا سوال گول کیا

"معاویہ خیال رکھتا ہے تمہارا"
زین نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا۔۔۔ حور کو مطمئن کرنا آسان تھا بانسبت زین کے

"خیال نہیں رکھے گا تو دوڑ کر آپ کے پاس نہیں آجاؤں گی"
حیا نے مسکرا کر بولا

"ایسے نہیں بولتے بیٹا تم بھی سب کا خیال رکھنا اور معاویہ کے ساتھ چکر لگا لینا جب بھی فری ہو تو تمھاری مما بھی یاد کر رہی تھی تمہیں"  زین نے حیا سے کہا

"ٹھیک ہے میں شام میں آپ دونوں کے پاس آرہی ہوں"
حیا نے خود ہی بیٹھے بیٹھے پروگرام بنالیا

"اوکے میری جان میں اور تمھاری مما ویٹ کروں گے"  زین نے حیا کو جواب دیا۔۔۔ تھوڑی دیر باتیں کرکے زین نے فون رکھ دیا۔۔۔ سامنے بیٹھا ہوا بلال زین کو دیکھ کر مسکرانے لگا

"کیا ہوا حیا کی کال تھی،،، کیسی ہے وہ"
بلال نے زین سے پوچھا

"ہاں ٹھیک ہے،، مس کر رہی تھی شاید شام میں آئے معاویہ کے ساتھ،، تم مسکرا کر رہے تھے"
زین نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"چند سالوں پہلے تک تم حور بھابھی سے آفس میں بیٹھ کر موبائل پر باتیں کرتے تھے،، لگتا ہے اب وہ جگہ حیا نے لے لی"
بلال نے اپنے مسکرانے کی وجہ بتائی، تو زین بھی مسکرا دیا

"حور کو تو گھر جاکر دیکھ لوں گا،، بیٹی کی شادی ہو گئی ہے ظاہری بات ہے اب اسی سے بات کروں گا یہاں بیٹھ کر"
زین دوبارہ فائل کھولتے ہوئے بولا

"زین میں چاہ رہا تھا ہادی کے رشتے کے لئے خضر کے گھر جایا جائے"
بلال نے زین کو اپنا ارادہ بتایا

"ہاں تو تم شادی کی وجہ سے روکے ہوئے تھے بنالو پھر اپنا پروگرام"
زین نے مشورہ دیا

"ہاں وہ تو ٹھیک ہے میں چاہ رہا تھا تم اور وہ بھابھی بھی ساتھ ہی چلو تو مناسب رہے گا"
بلال نے زین سے کہا

"ٹھیک ہے میں حور کو بتادوں گا، جب بھی تمہارا پروگرام ہو تو مجھے بتا دینا زین نے بلال سے کہا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment