Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 33

Itni mohbbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 33


"کتنی دفعہ کہا ہے شاہ یہ اپنے آفس کے کام آفس میں چھوڑ کر آیا کرو.... بس گھر کو آفس بنا کر بیٹھ جاتے ہو تم"
حور زین کو کافی کا مگ پکڑاتے ہوئے بولی

"یہ ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ تم سارا دن تانیہ اور فضا سے باتیں کرو، سارے ڈرامے دیکھو اور جہاں میں مصروف ہوں تمھاری شکایت شروع"
زین laptop بن کرتے ہوئے کہا

"وہ تو میرا حق ہے نا،، نہیں تو اور سارا دن کیا کرو"
حور نے زین کے گلاسز اتار کر سائیڈ پہ رکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے میں تمہارا شکوہ نظر میں رکھتے ہوئے،،، آفس تھوڑے دنوں کے لئے بلال کے حوالے کردیتا تاکہ ہم دونوں ہنی مون پر چلیں کیا خیال ہے"
زین نے کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر معنی خیزی سے کہا جس پر حور اس کو گھور کر رہ گئی

"شرم کرو شاہ اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور خود ہنی مون پر جانے کی بات کر رہے ہو" 
حور نے زین کو گھورتے ہوئے کہا

"تم مجھے سیریس ہی نہیں لیتی ہوں بوڑھا سمجھتی ہوں"
بیڈ کے کراؤن سی ٹیک لگا کر اس نے حور کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا

"تم نہ قسم سے ابھی تک فضول انسان ہوں،، سدھر جاؤ اب"
حور نے سر اٹھا کر زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"سدھارنے والا سین تو تھوڑا مشکل ہے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا

"اچھا بتاؤ حیا سے ہوئی بات آج تمہاری"
زین نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا

"ہاں دوپہر میں آئی تھی اس کی کال دل چاہنے لگا دیکھنے کو"
حور نے ویسے ہی زین کے سینے پر سر رکھ کر کہا

"چلے چلیں گے یار ابھی تو وہ نئی شادی ہوئی ہے گھوم پھر رہے ہوں گے"
زین نے حور سے کہا

"ارے فضا بتا رہی تھی ہادی نے صنم کو پسند کیا ہے"
حور کو یاد آیا تو اس نے زین سے کہا

"ہاں بلال نے مجھے بتایا تھا حیا کی شادی سے فارغ ہونے کے بعد، ہادی کا رشتہ لے کر جائے گا خضر کی طرف"
زین نے سوچتے ہوئے بولا

"اب تم کیا سوچنے لگے"
حور نے اسے چپ دیکھ کر سوال کیا

'ویسے ہی سوچ رہا تھا، پہلے ہادی سے حیا کی منگنی ہونا، پھر معاویہ سے حیا کی شادی ہونا اور اب ہادی سے معاویہ کی بہن کا رشتہ ہونا،،،، پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے بیچ میں کوئی کڑی مسنگ ہے"
زین سوچتے ہوئے کہا

"شاہ تمہاری بات میرے سر پر سے گزر گئی"
حور نے ناسمجھی سے کہا

"میری بات کو چھوڑو یہ کافی گرم کرکے لے آؤ،،، باتوں میں ٹھنڈی ہو گئی"
زین نے حور کو کافی کا کپ تھماتے ہوئے کہا

**

سب کھانے کے وقت ڈائینگ ٹیبل پر پہنچ کر اپنی اپنی چیئر پر بیٹھ گئے

"آنٹی آپ بھی بیٹھ جائے کھانا میں سرو کرتی ہو سب کو"
حیا نائیمہ کو کہہ کر خود بھی کھانا سرو کرنے کے لئے کھڑی ہوگئی جس پر معاویہ نے اس کو ابرو اچکا کر دیکھا

"ارے نہیں بیٹا بیٹھو تم"
ناعیمہ نے حیا کو  بیٹھنے کے لیے کہا

"کوئی بات نہیں آنٹی میں آپ کی ہیلپ کرا دیتی ہوں" حیا نے سہمی ھوئی نظروں سے پہلے خضر کو دیکھا پھر معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کھانے کی ڈش اٹھا کر معاویہ کی طرف بڑھائی۔۔۔۔ معاویہ نے اس ڈرامہ کوئین کو داد دینے والی نظروں سے دیکھا

"حیا بیٹا آپ بیٹھو،، معاویہ حیا کی پلیٹ میں کھانا نکالو"
خضر کے بولنے پر معاویہ چونکا

"میں کھانا نکال کر دو اسے" 
معاویہ نے شہادت کی انگلی سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خضر سے پوچھا

"تو تمہاری شان گھٹ رہی ہے اپنی بیوی کو کھانا نکال کر دینے میں نکالو اس کی پلیٹ میں کھانا"
خضر کے بولنے پر معاویہ حیا کی پلیٹ میں چاولوں کا پہاڑ بنانے لگا۔۔۔ جب سے خضر نے معاویہ کی پسند سے اسکی شادی کروائی تھی تب سے یہ ہوا تھا کہ وہ خضر کی بات تابعداری سے مان لیتا تھا

"پیٹ بھر کر کھانا بہت انرجی ویسٹ ہونے والی ہے آج تمہاری"
معاویہ نے حیا کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے ہلکی آواز میں سرگوشی کی۔۔۔۔ معاویہ کی بات پر اک پل کے لیے حیا کا دل زور سے دھڑکا مگر پھر خود کو مضبوط بنا کر وہ آرام سے کھانا کھانے لگی۔۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب اٹھ کر اپنے روم میں آ گئے،،، حیا جان بوجھ کر وقت لگا رہی تھی اور  آہستہ آہستہ چھوٹے نوالے کھا رہی تھی۔۔۔ معاویہ وہی بیٹھا ہوا بڑے سکون سے اس کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا

"بےبی پانی نہیں پیو گی کیا"
معاویہ نے پانی سے بھرے ہوئے جگ کا پانی اچانک حیا کے اوپر پھینکا حیا ایک دم بوکھلا کر پیچھے ہوئی مگر اس کے سارے کپڑے بھیک چکے تھے

"یہ کیا گھٹیا پن کیا ہے تم نے"
حیا نے غصے میں گھور کر معاویہ کو دیکھا

"اووو یہ تو سارے کپڑے گیلے ہوگئے جاو شاباش جلدی سے چینج کرو ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی"
معاویہ فکرمندی سے بولا

"میں تمہیں دیکھ لوں گی"
حیا نے دانت پیس کر کہا اور بیڈروم میں آکر وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی۔ ۔۔۔۔ معاویہ بھی اس کے پیچھے روم میں آیا اور روم کا دروازہ لاک کیا۔۔۔۔ حیا کے قریب آکر اس نے حیا کے ہاتھ کپڑے چھینے اور بیڈ پر پھینکے۔۔۔۔ اچانک حیا کو قریب کرکے اسے اپنے ایک کندھے پر ڈالا اور اسے واش روم لے گیا

"یہ کیا کر رہے ہو معاویہ اتارو مجھے نیچے"
حیا کے چیخنے کا نوٹس لئے بغیر اسے واش روم میں لے جاکر پانی سے بھرے ٹب میں (جو کہ پہلے سے انتظام کیا ہوا تھا) حیا کو ڈالا

"تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو"
حیا نے ٹب میں سے اٹھتے ہوئے بولا

"سوا سیر جانم۔۔۔ آج تمہیں اپنی کی ہوئی کاریستانی کتنی مہنگی پڑھنی والی ہے اس کا تمہیں خود تھوڑی دیر میں پتہ چل جائے گا"
معاویہ کہتا ہوا واش روم سے باہر نکل گیا اور واشروم کا دروازہ باہر سے لاک کردیا۔۔۔ جب تک حیا پانی کی ٹپ سے نکل کر باہر آئی دروازہ باہر سے لاک ہوچکا تھا

"معاویہ دروازہ کھولو ورنہ میں تمہیں شوٹ کر دوں گی"
حیا کو اس پر مزید غصہ آنے لگا

"ایک شرط پر بےبی سامنے دیوار پر دیکھو میری ساری شرٹس لٹکی ہوئی ہے جلدی سے ان کو اپنے نازک سے پیارے پیارے ہاتھوں سے فٹافٹ دھو دو،،، تب تو یہ دروازہ کھل جائے گا۔۔۔۔ نہیں تو ساری رات واش روم میں انجوائے کرو"

"میں تمہارے ڈیڈ کو سب بتادوں گی تم کس طرح کا سلوک کر رہے ہو میرے ساتھ کمرے میں"
حیا نے معاویہ کو دھمکانا چاہا

"جانم اب یہ بتانے کے لئے تمہیں اس واش روم سے باہر آنا پڑے گا۔۔۔ اب ڈیڈ تو رات کو نئے شادی شدہ جوڑے کے بیڈ روم میں انھیں ڈسٹرب کرنے کو آنے سے رہے،،، شاباش جلدی ہاتھ چلاو اور ساری شرٹز دھوں اور یاد آیا ڈرائر بھی کردینا شرٹز کو"
معاویہ کی بات سن کر حیا کا خون مزید کھولا

"میں تمہیں اس کا مزہ ضرور چکاو گی تم یاد رکھنا"
حیا نے تپ کر کہا

"میں سارے مزے چکنے کے لئے تیار ہوں بےبی۔ ۔۔ مگر تم باتیں کم کرو اور ہاتھ زیادہ چلاؤ،،، یہ نہ ہو کہ میں سو جاؤں اور ساری رات تمہیں گیلے کپڑوں میں واشروم میں ہی بیٹھنا پڑے"
حیا نے غصے میں معاویہ کی دھلی ہوئی شرٹس پر نظر ڈالی اور صاف ستھری شرٹس کو دوبارہ دھونے لگی۔
شرٹس دھو کر،،، وہ ایسے انہیں نچوڑ رہی تھی جیسے وہ شرٹس کی بجائے معاویہ کی گردن ہو۔۔۔ ایک گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد جب اس نے ڈرائیر آن کیا تو کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا وہ واش روم سے باہر آئی تو وہ سامنے بیڈ پر لیٹا ہوا دل جلانے والے مسکراہٹ کے ساتھ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دانت پیستی ہوئی حیا نے اپنے کپڑے اٹھائے اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ چینج کرکے واپس آئی تو وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا

"لو کافی پی لو"
ایک دفعہ تو حیا کہ دل میں آئی کے یہ کافی کا مگ سارا کا سارا اس کے سر پر انڈیل دے مگر پھر اپنے انجام کا سوچ کر اس نے ارادہ ترک کیا اور نہ چاہنے کے باوجود اپنی انا کو تھپکی دے کر سلاتے ہوئے چپ کرکے کافی کا مگ تھام لیا ایک گھنٹے سے وہ مسلسل ٹھنڈ میں پانی میں بھیگی ہوئی تھی اس لیے چپ کر کے صوفے پر بیٹھ کر وہ چھوٹے چھوٹے سپ لیتی رہی۔۔۔ معاویہ نے بیڈ پر لیٹنے سے پہلے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر شرٹ اتاری

"میرے سامنے سنی لیونی بننے کی ضرورت نہیں ہے واپس پہنو اسے"
حیا نے اس کے شارٹ اتارنے پر طنزیہ انداز میں بولا

"کیوں میرے سنی لیون بننے سے تمہارے اندر کا عمران ہاشمی جاگ رہا ہے"
ہار ماننا معاویہ نے سیکھا ہی نہیں تھا

"اگر تمہیں اس طرح کمرے میں بے ہودگی مچانی ہے تو بیڈ پر سونے کی ضرورت نہیں ہے" حیا اس سے نظریں ملائے بغیر بات کر رہی تھی بغیر شرٹ کے اس کو دیکھنے میں جھجک فیل ہو رہی تھی اور اس کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر معاویہ محظوظ ہو رہا تھا

"کیو بےبی کنٹرول نہیں ہو رہا خود پر" 
وہ چلتا ہوا حیا کے پاس آیا

"تم دو ٹکے کے پولیس والے انتہائی بےہودہ انسان ہو،،، اپنی طرح کا سمجھا ہوا ہے کیا تم نے مجھے"
اس کی بات پر حیا بری طرح جل گئی

"اوکے لڑائی بند کرو بیڈ پر چل کر لیٹو سونا ہے مجھے"
معاویہ نے حیا کے تپے تپے چہرے کو دیکھ کر کہا اور اسکو مزید تپانے کا ارادہ ترک کیا

"تمہیں سونا ہے تو جا کر سو جاؤ میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔ مجھے جب سونا ہوگا میں سو جاؤں گی"
تھکن کی وجہ سے وہ لیٹنا بھی چاہ رہی تھی مگر وہی انا آڑے آگئی

"باقی لڑائی بیڈ پر کرلینا"
معاویہ اس کو اٹھا کر بیڈ پر لے آیا

"اگر تم نے کوئی بھی بیہودگی کا مظاہرہ کیا"
حیا نے اس کو وارننگ دینا چاہی

"بار بار چابی دینا بند کرو اور سو جاؤ"
معاویہ نے لائٹ بند کی اور خود بھی بیڈ کے دوسرے سائیڈ پر لیٹ گیا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment