Itni mohbaat karo na 2
by zeenia sharjeel
epi # 32
رات کو جو کچھ بھی ہوا اس کا صنم کو کافی دکھ تھا معاویہ سب پر غصہ کرتا تھا مگر آج تک صنم سے تیز لہجے میں بات تک نہیں کی تھی مگر کل رات معاویہ کی آنکھوں میں اپنے لئے غصہ دیکھ کر صنم کا دل کافی خراب ہوا اور غصہ بھی اس نے ہادی کے سامنے کیا تھا، یہ سوچ کر صنم اور زیادہ شرمندگی کا احساس ہوا۔۔۔۔ کل وہ کتنی خوش ہو گئی تھی اچانک ہادی کے آ جانے سے اور کتنا گلٹ فیل ہو رہا تھا اسے، جس طرح معاویہ نے ہادی سے بات کی۔۔۔۔ صبح کے وقت لان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی وہ یہی سوچ رہی تھی جب معاویہ جوگنگ کر کے واپس آیا
"گڑیا یہاں کیا کر رہی ہو اکیلے بیٹھ کر"
معاویہ کے لہجے میں یا چہرے پر کل رات والی بات کا شائبہ تک نہیں تھا وہ بھی دوسری چیئر پر صنم کے پاس ہی بیٹھ گیا
"آنکھ جلدی کھل گئی تھی اس لئے یہاں آگئی اکیلے ہی بیٹھنا ہے مجھے،،، اب ویسے بھی آپ کو تو بزی ہو جانا ہے"
شاید کل کی تلخی کی وجہ سے نہ چاہنے کے باوجود صنم ایسا بول گئی
"یہ کیا بات کر دی تم نے اگر تمہارا اشارہ حیا ہوں لے کر ہے تو ایک بات اچھی طرح سمجھ لو میں ہر رشتے کو بیلنس میں رکھ کر چلنے والا انسان ہوں۔۔۔ مانا حیا میرے لئے بہت ویلیو رکھتی ہے مگر اس کا میری زندگی میں آنے سے تمہاری اور مام کی امپارٹنس کم نہیں ہوگی۔۔۔۔ ویسے بھی شیرنی زرا دوسرے مزاج کی ہے"
سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے آخری جملہ معاویہ نے مسکرا کر بولا صنم بھی ہنس دی
"بھابھی کو بتاؤں گی آپ نے ان کا کیا نام رکھا ہے"
صنم نے ہنستے ہوئے کہا
"تو ڈرتا تھوڑی ہوں میں تمھاری بھابھی سے"
معاویہ نے مسکرا کر اپنے اپر کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا
"بھائی آپ کو کل رات کو غصہ کس بات پر آیا تھا"
صنم نے معاویہ کا فریش موڈ دے کر کل رات کے غصے کا سبب جاننے کی کوشش کی کیونکہ اس کا بھائی کنزرویٹو مائنڈ کا ہرگز نہیں تھا،،، اگر کوئی بھی میل کزن اس سے بات کرے یا پھر وہ بات کرے تو کبھی بھی معاویہ نے اسے روکا ٹوکا نہیں تھا،،، اس لئے کل رات کو وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ معاویہ کو ایسی کیا بات بری لگی جو اس کو غصے میں مبتلا کرگئی۔ ۔۔ صنم کی بات پر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہو گئی اور سنجیدگی چھا گئی
"دیکھو صنم تم میری چھوٹی بہن ہو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ کچھ بھی برا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،،، تم بہت معصوم ہو لوگوں کی پہچان نہیں تمہیں۔۔۔ اس لئے آئندہ تم ہادی سے بات نہیں کروں گی"
اس نے صنم کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا
"مگر بھائی"
صنم نے کچھ بھولنا چاہا
"شش خاموش نو اگر مگر میں اپنی بعد دوبارہ نہیں دہراوں گا،، چلو اندر چلتے ہیں سردی ہے یہاں پر کافی"
اس نے صنم کی بات کاٹ کر آواز میں نرمی رکھی مگر انداز وارن کرنے والا تھا۔۔۔۔ معاویہ اٹھ کر کھڑا ہوا تو صنم بھی بے دلی سے اٹھ گئ وہ صنم کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر اس کے ساتھ اندر چلا گیا
**
جب وہ کمرے میں آیا تو حیا ابھی تک گہری نیند میں سو رہی تھی معاویہ نے گلے میں ڈالا ہوا چھوٹا سا ٹاول،،، جسے تھوڑی دیر پہلے اپنے چہرے اور گردن کا پسینہ صاف کیا تھا گلے سے اتارا ٹاول کا گولا بنا کر حیا کے اوپر پھینکا جس سے وہ ایک دم سے بوکھلا کر اٹھی
"یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے"
حیا نے اپنے چہرے سے ٹاول ہٹا کر معاویہ کے اوپر پھینکتے ہوئے کہا
"اب دو ٹکے کا انسان تو بے ہودہ حرکت ہی کرے گا نا جانم۔۔۔ ویسے تم اسے جگانے کا ایک نیا اسٹائل بھی کہہ سکتی ہوں شاید خاص پسند نہیں آیا تمہیں"
معاویہ نے قدم بڑھا کر بیڈ کے پاس آتے ہوئے پوچھا
"اپنے یہ اسٹائل اپنے پاس ہی رکھو اور مجھے جگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جب مجھے اٹھنا ہوگا میں خود ہی اٹھ جاوں گی"
حیا دوبارہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی،،، معاویہ نے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اور حیا کے اوپر جھک کر کل والے انداز میں اس کو گڈمارننگ کہا۔۔۔۔ جب تک حیا اس کو اپنے ناخن مارتی وہ اپنا کام کر چکا تھا،،،،
"پیچھے ہٹو جنگلی انسان"
حیا کا شرم سے اور غصہ سے چہرہ سرخ ہو گیا
"اب یہ مت کہنا کہ جگانے کا یہ اسٹائل بھی پسند نہیں آیا،،، چلو شاباش اٹھ جاو باہر سب ہمارا ناشتے پر ویٹ کر رہے ہوگے"
معاویہ بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا
"مجھے ابھی سونا ہے میں ناشتہ بعد میں کر لوں گی جب کرنا ہوگا"
حیا نے خفت مٹاتے ہوئے دوبارہ لیٹنا چاہا
"بےبی نیند تمہیں ایسے آرہی جیسے پوری رات میں نے تمہیں جگایا ہوں۔۔۔۔ اور واپس بھی ذرا سوچ سمجھ کے لیٹنا یہ نہ ہوکہ میرا بھی ناشتے کا اور پولیس اسٹیشن جانے کا پروگرام کینسل ہوجائے"
معاویہ نے اس کو دوبارہ لیٹتا دیکھ کر دھمکی دی اور وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا
"کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا" حیا نے تپ کر پوچھا
"مطلب تو میں تمھیں سارے سمجھاؤں گا مگر منہ سے بول کر نہیں اور جس طرح میں سمجھاؤں گا اس طرح تم نے مجھے دو ٹکے کا پولیس والا ہی بولنا ہے"
معاویہ حیا کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا۔۔۔ حیا بیڈ سے اتر کر پیر پٹختی ہوئی معاویہ کے پاس آئی
"اس طرح تم میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں کر رہے معاویہ۔۔ ۔ میں اپنے آپ کو شوٹ کرلوں گی اگر تم نے دوبارہ کوئی چیپ حرکت میرے ساتھ کی"
حیا نے اس کو دھمکی دی تو،، معاویہ نے حیا کی کمر کے گرد ہاتھ باندھ کر اسے خود سے قریب کیا
"جب تمہارا اپنے آپ کو شوٹ کرنے کا ارادہ ہو تو اپنی پسٹل مجھ سے لے لینا،،، وہ کیا ہے نہ میں تمہارے کلج سے اسی رات پسٹل نکال لیا تھا یا پھر سمپل مجھ سے کہہ دینا یہ کام، میں زیادہ اچھا کرلوں گا۔۔۔۔ ڈریس چینج کرو فورا اور باہر چلو، سب ناشتہ ایک ساتھ ہی کرتے ہیں تمہیں بھی ہم سب کے ساتھ ٹیبل پر موجود ہونا چاہیے"
معاویہ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا اور یونیفارم لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا
"چھوڑو گی تو اب میں تمہیں بالکل بھی نہیں"
حیا نے لب بینجتے ہوئے سوچا
معاویہ جب یونیفارم پہن کر باہر آیا تو حیا بھی ڈریس چینج کر چکی تھی اور پھولے ہوئے منہ کے ساتھ کھڑی تھی جسے دیکھ کر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ فورا چھپا گیا
"چلو"
سنجیدگی سے کہتا ہوا خود بھی روم سے نکل گیا
***
وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر آئے جہاں پر خضر ناعیمہ اور صنم پہلے سے ہی موجود تھے تینوں نے ان دونوں کی طرف دیکھا تو حیا نے جھجکتے ہوئے سلام کیا۔۔ ۔ وہ کافی نروس ہورہی تھی،، کل تو زین اور حور اس کے روم سے نکلنے سے پہلے ہی وہاں موجود تھے تو اتنا نیا پن کا احساس نہیں ہوا مگر آج معاویہ کی فیملی میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کر رہی تھی
"وعلیکم اسلام آجاؤ بیٹا آپ کیا لوگی ناشتے میں"
ناعیمہ نے معاویہ کی طرف آملیٹ اور ٹوس بڑھاتے ہوئے حیا سے پوچھا
"تھینکیو انٹی میں لے لوں گی"
حیا نے جھجگتے ہوئے کہا
"زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے اصلی حالت میں آجاؤ اپنی۔۔۔۔ ویسے مام یہ ناشتے میں نہار منہ تازہ خون کا بڑا سا پیالا پیتی ہے"
معاویہ نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی حیا کو نروس ہوتے دیکھا تو کہا
"معاویہ"
ناعیمہ نے آنکھوں سے تنبیہ کرتے ہوئے معاویہ کو ٹوکا
"بیٹا تمہارا اپنا گھر ہے اس طرح شرمانے کی ضرورت نہیں ہے بالکل ریلیکس ہو کر ناشتہ کرو"
خضر نے اس کی جھجھک دیکھتے ہوئے کہا
"اور تم دوسرے دن ہی کہاں چل دیے ابھی نئی شادی ہوئی ہے تمہاری،، کچھ دن چھٹی لے لو، حیا کو کہیں گھمانے پھرانے لے جاؤ"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا
"ڈیڈ چھٹی کی تو ایسی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے جو معرکہ طے کرنا تھا وہ تو کرلیا۔۔۔ فی الحال گھمانے پھرانے کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا تھا،، حوالات کی سیر کروا سکتا ہوں اگر یہ راضی ہو جائے تو"
معاویہ کے بولنے کی دیر تھی حیا نے زوردار پاؤں نیچے ٹیبل سے معاویہ کے پاوں پر مارا۔۔۔ جس پر معاویہ کھانسنے لگا تو صنم نے فورا اسے پانی دیا
"ہر وقت فضول نہیں بولا کرو معاویہ، چپ کرکے ناشتہ کرو"
خضر بولتا ہوا آفس کے لیے اٹھ کھڑا ہوا
تھوڑی دیر بعد معاویہ اور صنم بھی گھر سے نکل گئے حیا ناعیمہ سے ایک دو باتیں کر کے واپس اپنے کمرے میں آگئی
**
"کیسے ہیں آپ ہادی"
ہادی نے کال کی تو پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا وہ ابھی ابھی یونیورسٹی پہنچی تھی
"میں تو ٹھیک ہوں تم اپنی بتاؤ۔۔۔۔ مزید کلاس تو نہیں لی تمہاری اس ڈریگن نے"
ہادی نے بھی اس کی دوسرے اسٹائل میں خیریت دریافت کی
"بہت افسوس کی بات ہے آپ میرے بھائی کو ڈریگن بول رہے ہیں"
صنم نے ناراضگی سے کہا
"یار اس میں ناراض ہونے والی بات نہیں ہے کیوکہ اب ہم جب جب اس کے سامنے ملیں گیں اس نے منہ سے اسی طرح آگ اگلنی ہے"
ہادی نے اسے آرام سے سمجھاتے ہوئے کہا
"کل بھائی کے رویہ کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں، ہادی وہ بالکل کنزرویٹیو مائنڈ کی نہیں ہیں۔ ۔۔ بس کل ویسے ہی انہیں غصہ آگیا تھا اس لیے روڈ ہوگئے تھے" صنم نے معاویہ کی طرف سے صفائی دیتے ہوئے کہا
"تم مجھے اپنے بھائی کے رویے کی وضاحت مت دو صنم میں اس کی نیچر میں اچھی طرح جان گیا ہوں" ہادی نے ٹاپک کلوز کرتے ہوئے کہا
"آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی کے لیے" صنم نہیں چاہتی تھی کہ معاویہ کا امپریشن ہادی کی نظر میں غلط ہوں
"اوکے نہیں غلط سوچ رہا تمہارے بھائی کے لئے۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ اپنے مما بابا کو تمھارے گھر کب بھیجو"
ہادی کام کی بات پر آیا
"اتنی جلدی میرا مطلب ہے ابھی تو بھائی کی شادی ہوئی ہے اگر تھوڑا ٹھہر جاتے تو"
صنم نے تھوڑا ٹائم لینا چاہتا تاکہ وہ معاویہ کو منا سکے
دیکھو صنم میں بہت پریکٹیکل بندہ ہو یہ ڈیٹنگ فون پر لمبی باتیں مجھے خاص پسند نہیں۔۔۔۔تم مجھے اچھی لگی مجھے لگا میں تمہارے ساتھ اپنی لائف اچھی گزار سکتا ہوں تو تمہیں پرپوز کیا اور وہ شادی کرنے کے لئے کیا تھا اور جب شادی ہی کرنی ہے تو اس میں بلاوجہ ٹائم لینا میری سمجھ سے تو باہر ہے"
ہادی نے صنم کو کہا
"ایک بات پوچھوں صنم تم سے"
ہادی نے اپنی بات مکمل کر کے دوبارہ صنم سے خود ہی سوال کیا
"جی پوچھیے"
صنم نے کہا
تم میرے ساتھ اپنی شادی والی بات کو لے کر کتنا سیریز ہو"
ہادی نے صنم سے سوال کیا
"یہ کیسا سوال ہے ہادی کیا آپ کو میں ٹائم پاس کرنے والی لڑکی لگتی ہو"
صنم نے برا مانتے ہوئے کہا
"میں نے ایک سوال کیا ہے اور تم برا مان گئی،،، میں اس لیے پوچھ رہا تھا کہ جان سکو تم مجھے اپنی زندگی میں کتنا سیریس لیتی ہوں"
"ہادی اپ میری زندگی میں آنے والے پہلے شخص ہیں جس پر میں نے آنکھ بند کرکے اعتبار کیا ہے اور سچے دل سے پانے کی تمنا کی ہے،، زندگی میں ہر قدم پر آپ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے میں آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی"
صنم نے ہادی کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے میں تم سے امید کروں گا تم ہمیشہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہو"یہ کہہ کر ہادی نے فون رکھ دیا
صنم اپنے ڈیپارٹمینٹ کی طرف چل دی
***
"ارے بیٹا اپنے روم میں اکیلی کیا کررہی ہوں یہاں آ کر بیٹھو ہمارے ساتھ"
ناعیمہ نے ساجدہ سے کہہ کر حیا کو روم سے بلوایا تو خضر نے کہا
"جی انکل بس آنے والی تھی معاویہ کی دو شرٹز رہ گئی تھی پریس کرنے سے"
حیا نے مسکرا کر سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
"مگر کپڑے تو باہر سے ڈرائے کلین ہوتے ہیں اور پریس ہوتے ہیں تم کیوں کر رہی تھی اس کے کپڑے پریس"
ناعیمہ نے حیرت سے حیا کو ریکھ کر پوچھا
"آنٹی مجھے معاویہ صبح ہی بول کر گئے تھے آج سے میں ان کے سارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرو"
حیا نے مسکراتے ہوئے بولا تو نائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر خضر کو دیکھا جس کے ماتھے پر بل نمایاں ہوگئے
"یہ تم سے معاویہ نے کہا۔۔۔۔ بیوقوف تو نہیں ہے وہ جو دو دن کی آئی ہوئی بیوی کو اپنے کاموں میں لگا رہا ہے"
خضر نے غصے میں ناعیمہ کو گھورتے ہوئے کہا جیسے کہ اس میں ناعیمہ کا ہی قصور ہوں
"ارے بیٹا اس نے مذاق کیا ہوگا تمہارے ساتھ"
ناعیمہ نے حیا کو سمجھانا چاہا
"نہیں آنٹی انہوں نے بالکل اسمائل نہیں دی بہت سیریس ہو کر کہہ رہے تھے میرے کام سے فارغ ہو جاؤں تو ساجدہ کی کچن میں ہیلپ کروانہ،،، جبھی میں نے ان کے کپڑے صبح ہی دھو دیئے تھے،،،، اچھا آپ مجھے بتا دیں آج رات کے ڈنر کا مینیو پھر میں ساجدہ کے ساتھ ہیلپ کرواتی ہوں"
حیا نے سعادتمندی دکھاتے ہوئے کہا
"کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا تمہیں یہ سارے کام کرنے کی، جاو اپنے روم میں اور ریسٹ کرو۔۔۔ معاویہ آجائے تو میرے روم میں بھیجنا"
خضر نے حیا کو ریسٹ کرنے کا بولا اور آخر میں ناعیمہ کو آرڈر دے کر اپنے روم میں چلا گیا
**
"کیسے ہی ڈیڈ اپ۔۔ یاد کیا آپ نے" معاویہ جیسے ہی گھر آیا ناعیمہ نے فورا اسے خضر کا میسج دیا
"شادی کے دو دن بعد ہی اتر گیا تمہارے سر سے عاشقی کا بھوت" خضر نے فائل بند کرتے ہوئے معاویہ کی کلاس لی
"او ڈیڈ آپ ابھی تک صبح کی بات لے کر بیٹھے ہیں،، ابھی بہت ضروری اسائنمنٹ میرے پاس اس پر کام ختم ہو جائے تو لے جاؤں گا آپ کی بہو کو کہیں گھمانے" معاویہ نے سامنے رکھی ہوئی چیئر پر ریلکس انداز میں بیٹھتے ہوئے خضر کو جواب دیا
"معاویہ میرے سامنے آداکاری مت کیا کرو،،، میں نے پہلے ہی بتایا تھا باپ میں ہوں تمہارا،، تمہارے رگ رگ سے واقف ہو۔۔۔ اگر تم نے حیا سے کوئی بھی الٹے سیدھے کام کروائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، گھر کے ماحول کو اور رشتوں کو بگاڑنے کی اجازت میں تمہیں ہرگز نہیں دوں گا"
خضر نے سنجیدہ انداز میں معاویہ سے کہا
"کیا الٹے سیدھے کام کرائے میں نے"
معاویہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
"زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے ایکٹنگ نہیں کرو،،، تم نے حیا سے یہ نہیں کہا کہ وہ تمہارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرے، ،، آج تم نے اس سے اپنے کپڑے دھلواۓ ہیں اور پریس کروائے ہیں۔۔۔۔ ان کاموں کے کروانے کے لیے شادی کی تھی تم نے اس سے۔ ۔۔۔۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو تمہاری شادی میں ساجدہ کی بیٹی سے کروا دیتا"
خضر نے اس پر مزید بگڑتے ہوئے کہا
"ڈیڈ پلیز یہ سب آپ کو حیا نے کہا ہے"
معاویہ نے سیریس انداز اپناتے ہوئے کنفرم کرنا چاہا
"کیوں اب کیا کرو گے جا کر اس کے ساتھ لڑو گے جھگڑو گے یا مارو کے پیٹوں گے اسے" خضر نے تیز لہجے میں کہا
"ڈیڈ پلیز"
معاویہ کو غصہ تو بہت آیا،، حیا کی کارستانی وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا
"معاویہ میری بات کان کھول کر سن لو یہ اپنی پولیس گری پولیس اسٹیشن میں چھوڑ کر آیا کرو،، گھر پر انسانوں کی طرح بی ہیو کیا کرو اور اگر تم نے یہاں سے جا کر حیا کو کچھ بھی کہا تو میں لحاظ نہیں کروں گا کہ اب تم شادی شدہ ہو گئے ہو"
خضر نے دوبارہ اسے وارن کیا
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو سمجھ میں آئی تمھیں میری بات کہ نہیں"
خضر نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا
"جی ڈیڈ آئیندہ میں آگے سے خیال رکھو گا"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا
جب سے اس کی شادی کا سلسلہ چلا تھا اس کے اور خضر کے درمیان تعلقات اچھے ہوگئے تھے جس سے گھر کا ماحول بھی اچھا ہو گیا تھا مگر آج حیا کی وجہ سے خضر نے معاویہ کی اچھی طرح کلاس لی وہ اندر سے کھول کر رہ گیا
"بےبی مجھ سے پنگا لے کر تم نے آج رات خود ہی اپنی شامت بلائی ہے اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا"
معاویہ نے خضر کے روم سے نکلتے ہوئے سوچا
جاری ہے
Surprice epi ka shor na dale ye long epi thi....
by zeenia sharjeel
epi # 32
رات کو جو کچھ بھی ہوا اس کا صنم کو کافی دکھ تھا معاویہ سب پر غصہ کرتا تھا مگر آج تک صنم سے تیز لہجے میں بات تک نہیں کی تھی مگر کل رات معاویہ کی آنکھوں میں اپنے لئے غصہ دیکھ کر صنم کا دل کافی خراب ہوا اور غصہ بھی اس نے ہادی کے سامنے کیا تھا، یہ سوچ کر صنم اور زیادہ شرمندگی کا احساس ہوا۔۔۔۔ کل وہ کتنی خوش ہو گئی تھی اچانک ہادی کے آ جانے سے اور کتنا گلٹ فیل ہو رہا تھا اسے، جس طرح معاویہ نے ہادی سے بات کی۔۔۔۔ صبح کے وقت لان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی وہ یہی سوچ رہی تھی جب معاویہ جوگنگ کر کے واپس آیا
"گڑیا یہاں کیا کر رہی ہو اکیلے بیٹھ کر"
معاویہ کے لہجے میں یا چہرے پر کل رات والی بات کا شائبہ تک نہیں تھا وہ بھی دوسری چیئر پر صنم کے پاس ہی بیٹھ گیا
"آنکھ جلدی کھل گئی تھی اس لئے یہاں آگئی اکیلے ہی بیٹھنا ہے مجھے،،، اب ویسے بھی آپ کو تو بزی ہو جانا ہے"
شاید کل کی تلخی کی وجہ سے نہ چاہنے کے باوجود صنم ایسا بول گئی
"یہ کیا بات کر دی تم نے اگر تمہارا اشارہ حیا ہوں لے کر ہے تو ایک بات اچھی طرح سمجھ لو میں ہر رشتے کو بیلنس میں رکھ کر چلنے والا انسان ہوں۔۔۔ مانا حیا میرے لئے بہت ویلیو رکھتی ہے مگر اس کا میری زندگی میں آنے سے تمہاری اور مام کی امپارٹنس کم نہیں ہوگی۔۔۔۔ ویسے بھی شیرنی زرا دوسرے مزاج کی ہے"
سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے آخری جملہ معاویہ نے مسکرا کر بولا صنم بھی ہنس دی
"بھابھی کو بتاؤں گی آپ نے ان کا کیا نام رکھا ہے"
صنم نے ہنستے ہوئے کہا
"تو ڈرتا تھوڑی ہوں میں تمھاری بھابھی سے"
معاویہ نے مسکرا کر اپنے اپر کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا
"بھائی آپ کو کل رات کو غصہ کس بات پر آیا تھا"
صنم نے معاویہ کا فریش موڈ دے کر کل رات کے غصے کا سبب جاننے کی کوشش کی کیونکہ اس کا بھائی کنزرویٹو مائنڈ کا ہرگز نہیں تھا،،، اگر کوئی بھی میل کزن اس سے بات کرے یا پھر وہ بات کرے تو کبھی بھی معاویہ نے اسے روکا ٹوکا نہیں تھا،،، اس لئے کل رات کو وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ معاویہ کو ایسی کیا بات بری لگی جو اس کو غصے میں مبتلا کرگئی۔ ۔۔ صنم کی بات پر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہو گئی اور سنجیدگی چھا گئی
"دیکھو صنم تم میری چھوٹی بہن ہو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ کچھ بھی برا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،،، تم بہت معصوم ہو لوگوں کی پہچان نہیں تمہیں۔۔۔ اس لئے آئندہ تم ہادی سے بات نہیں کروں گی"
اس نے صنم کو نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا
"مگر بھائی"
صنم نے کچھ بھولنا چاہا
"شش خاموش نو اگر مگر میں اپنی بعد دوبارہ نہیں دہراوں گا،، چلو اندر چلتے ہیں سردی ہے یہاں پر کافی"
اس نے صنم کی بات کاٹ کر آواز میں نرمی رکھی مگر انداز وارن کرنے والا تھا۔۔۔۔ معاویہ اٹھ کر کھڑا ہوا تو صنم بھی بے دلی سے اٹھ گئ وہ صنم کے شولڈر کے گرد ہاتھ رکھ کر اس کے ساتھ اندر چلا گیا
**
جب وہ کمرے میں آیا تو حیا ابھی تک گہری نیند میں سو رہی تھی معاویہ نے گلے میں ڈالا ہوا چھوٹا سا ٹاول،،، جسے تھوڑی دیر پہلے اپنے چہرے اور گردن کا پسینہ صاف کیا تھا گلے سے اتارا ٹاول کا گولا بنا کر حیا کے اوپر پھینکا جس سے وہ ایک دم سے بوکھلا کر اٹھی
"یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے"
حیا نے اپنے چہرے سے ٹاول ہٹا کر معاویہ کے اوپر پھینکتے ہوئے کہا
"اب دو ٹکے کا انسان تو بے ہودہ حرکت ہی کرے گا نا جانم۔۔۔ ویسے تم اسے جگانے کا ایک نیا اسٹائل بھی کہہ سکتی ہوں شاید خاص پسند نہیں آیا تمہیں"
معاویہ نے قدم بڑھا کر بیڈ کے پاس آتے ہوئے پوچھا
"اپنے یہ اسٹائل اپنے پاس ہی رکھو اور مجھے جگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جب مجھے اٹھنا ہوگا میں خود ہی اٹھ جاوں گی"
حیا دوبارہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی،،، معاویہ نے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اور حیا کے اوپر جھک کر کل والے انداز میں اس کو گڈمارننگ کہا۔۔۔۔ جب تک حیا اس کو اپنے ناخن مارتی وہ اپنا کام کر چکا تھا،،،،
"پیچھے ہٹو جنگلی انسان"
حیا کا شرم سے اور غصہ سے چہرہ سرخ ہو گیا
"اب یہ مت کہنا کہ جگانے کا یہ اسٹائل بھی پسند نہیں آیا،،، چلو شاباش اٹھ جاو باہر سب ہمارا ناشتے پر ویٹ کر رہے ہوگے"
معاویہ بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا
"مجھے ابھی سونا ہے میں ناشتہ بعد میں کر لوں گی جب کرنا ہوگا"
حیا نے خفت مٹاتے ہوئے دوبارہ لیٹنا چاہا
"بےبی نیند تمہیں ایسے آرہی جیسے پوری رات میں نے تمہیں جگایا ہوں۔۔۔۔ اور واپس بھی ذرا سوچ سمجھ کے لیٹنا یہ نہ ہوکہ میرا بھی ناشتے کا اور پولیس اسٹیشن جانے کا پروگرام کینسل ہوجائے"
معاویہ نے اس کو دوبارہ لیٹتا دیکھ کر دھمکی دی اور وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا
"کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا" حیا نے تپ کر پوچھا
"مطلب تو میں تمھیں سارے سمجھاؤں گا مگر منہ سے بول کر نہیں اور جس طرح میں سمجھاؤں گا اس طرح تم نے مجھے دو ٹکے کا پولیس والا ہی بولنا ہے"
معاویہ حیا کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا۔۔۔ حیا بیڈ سے اتر کر پیر پٹختی ہوئی معاویہ کے پاس آئی
"اس طرح تم میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں کر رہے معاویہ۔۔ ۔ میں اپنے آپ کو شوٹ کرلوں گی اگر تم نے دوبارہ کوئی چیپ حرکت میرے ساتھ کی"
حیا نے اس کو دھمکی دی تو،، معاویہ نے حیا کی کمر کے گرد ہاتھ باندھ کر اسے خود سے قریب کیا
"جب تمہارا اپنے آپ کو شوٹ کرنے کا ارادہ ہو تو اپنی پسٹل مجھ سے لے لینا،،، وہ کیا ہے نہ میں تمہارے کلج سے اسی رات پسٹل نکال لیا تھا یا پھر سمپل مجھ سے کہہ دینا یہ کام، میں زیادہ اچھا کرلوں گا۔۔۔۔ ڈریس چینج کرو فورا اور باہر چلو، سب ناشتہ ایک ساتھ ہی کرتے ہیں تمہیں بھی ہم سب کے ساتھ ٹیبل پر موجود ہونا چاہیے"
معاویہ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا اور یونیفارم لے کر ڈریسنگ روم کی طرف چلا گیا
"چھوڑو گی تو اب میں تمہیں بالکل بھی نہیں"
حیا نے لب بینجتے ہوئے سوچا
معاویہ جب یونیفارم پہن کر باہر آیا تو حیا بھی ڈریس چینج کر چکی تھی اور پھولے ہوئے منہ کے ساتھ کھڑی تھی جسے دیکھ کر معاویہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ فورا چھپا گیا
"چلو"
سنجیدگی سے کہتا ہوا خود بھی روم سے نکل گیا
***
وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر آئے جہاں پر خضر ناعیمہ اور صنم پہلے سے ہی موجود تھے تینوں نے ان دونوں کی طرف دیکھا تو حیا نے جھجکتے ہوئے سلام کیا۔۔ ۔ وہ کافی نروس ہورہی تھی،، کل تو زین اور حور اس کے روم سے نکلنے سے پہلے ہی وہاں موجود تھے تو اتنا نیا پن کا احساس نہیں ہوا مگر آج معاویہ کی فیملی میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کر رہی تھی
"وعلیکم اسلام آجاؤ بیٹا آپ کیا لوگی ناشتے میں"
ناعیمہ نے معاویہ کی طرف آملیٹ اور ٹوس بڑھاتے ہوئے حیا سے پوچھا
"تھینکیو انٹی میں لے لوں گی"
حیا نے جھجگتے ہوئے کہا
"زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں ہے اصلی حالت میں آجاؤ اپنی۔۔۔۔ ویسے مام یہ ناشتے میں نہار منہ تازہ خون کا بڑا سا پیالا پیتی ہے"
معاویہ نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی حیا کو نروس ہوتے دیکھا تو کہا
"معاویہ"
ناعیمہ نے آنکھوں سے تنبیہ کرتے ہوئے معاویہ کو ٹوکا
"بیٹا تمہارا اپنا گھر ہے اس طرح شرمانے کی ضرورت نہیں ہے بالکل ریلیکس ہو کر ناشتہ کرو"
خضر نے اس کی جھجھک دیکھتے ہوئے کہا
"اور تم دوسرے دن ہی کہاں چل دیے ابھی نئی شادی ہوئی ہے تمہاری،، کچھ دن چھٹی لے لو، حیا کو کہیں گھمانے پھرانے لے جاؤ"
خضر نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا
"ڈیڈ چھٹی کی تو ایسی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے جو معرکہ طے کرنا تھا وہ تو کرلیا۔۔۔ فی الحال گھمانے پھرانے کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا تھا،، حوالات کی سیر کروا سکتا ہوں اگر یہ راضی ہو جائے تو"
معاویہ کے بولنے کی دیر تھی حیا نے زوردار پاؤں نیچے ٹیبل سے معاویہ کے پاوں پر مارا۔۔۔ جس پر معاویہ کھانسنے لگا تو صنم نے فورا اسے پانی دیا
"ہر وقت فضول نہیں بولا کرو معاویہ، چپ کرکے ناشتہ کرو"
خضر بولتا ہوا آفس کے لیے اٹھ کھڑا ہوا
تھوڑی دیر بعد معاویہ اور صنم بھی گھر سے نکل گئے حیا ناعیمہ سے ایک دو باتیں کر کے واپس اپنے کمرے میں آگئی
**
"کیسے ہیں آپ ہادی"
ہادی نے کال کی تو پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کرتے ہوئے کہا وہ ابھی ابھی یونیورسٹی پہنچی تھی
"میں تو ٹھیک ہوں تم اپنی بتاؤ۔۔۔۔ مزید کلاس تو نہیں لی تمہاری اس ڈریگن نے"
ہادی نے بھی اس کی دوسرے اسٹائل میں خیریت دریافت کی
"بہت افسوس کی بات ہے آپ میرے بھائی کو ڈریگن بول رہے ہیں"
صنم نے ناراضگی سے کہا
"یار اس میں ناراض ہونے والی بات نہیں ہے کیوکہ اب ہم جب جب اس کے سامنے ملیں گیں اس نے منہ سے اسی طرح آگ اگلنی ہے"
ہادی نے اسے آرام سے سمجھاتے ہوئے کہا
"کل بھائی کے رویہ کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں، ہادی وہ بالکل کنزرویٹیو مائنڈ کی نہیں ہیں۔ ۔۔ بس کل ویسے ہی انہیں غصہ آگیا تھا اس لیے روڈ ہوگئے تھے" صنم نے معاویہ کی طرف سے صفائی دیتے ہوئے کہا
"تم مجھے اپنے بھائی کے رویے کی وضاحت مت دو صنم میں اس کی نیچر میں اچھی طرح جان گیا ہوں" ہادی نے ٹاپک کلوز کرتے ہوئے کہا
"آپ غلط سوچ رہے ہیں بھائی کے لیے" صنم نہیں چاہتی تھی کہ معاویہ کا امپریشن ہادی کی نظر میں غلط ہوں
"اوکے نہیں غلط سوچ رہا تمہارے بھائی کے لئے۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ اپنے مما بابا کو تمھارے گھر کب بھیجو"
ہادی کام کی بات پر آیا
"اتنی جلدی میرا مطلب ہے ابھی تو بھائی کی شادی ہوئی ہے اگر تھوڑا ٹھہر جاتے تو"
صنم نے تھوڑا ٹائم لینا چاہتا تاکہ وہ معاویہ کو منا سکے
دیکھو صنم میں بہت پریکٹیکل بندہ ہو یہ ڈیٹنگ فون پر لمبی باتیں مجھے خاص پسند نہیں۔۔۔۔تم مجھے اچھی لگی مجھے لگا میں تمہارے ساتھ اپنی لائف اچھی گزار سکتا ہوں تو تمہیں پرپوز کیا اور وہ شادی کرنے کے لئے کیا تھا اور جب شادی ہی کرنی ہے تو اس میں بلاوجہ ٹائم لینا میری سمجھ سے تو باہر ہے"
ہادی نے صنم کو کہا
"ایک بات پوچھوں صنم تم سے"
ہادی نے اپنی بات مکمل کر کے دوبارہ صنم سے خود ہی سوال کیا
"جی پوچھیے"
صنم نے کہا
تم میرے ساتھ اپنی شادی والی بات کو لے کر کتنا سیریز ہو"
ہادی نے صنم سے سوال کیا
"یہ کیسا سوال ہے ہادی کیا آپ کو میں ٹائم پاس کرنے والی لڑکی لگتی ہو"
صنم نے برا مانتے ہوئے کہا
"میں نے ایک سوال کیا ہے اور تم برا مان گئی،،، میں اس لیے پوچھ رہا تھا کہ جان سکو تم مجھے اپنی زندگی میں کتنا سیریس لیتی ہوں"
"ہادی اپ میری زندگی میں آنے والے پہلے شخص ہیں جس پر میں نے آنکھ بند کرکے اعتبار کیا ہے اور سچے دل سے پانے کی تمنا کی ہے،، زندگی میں ہر قدم پر آپ مجھے اپنے ساتھ پائیں گے میں آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی"
صنم نے ہادی کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے میں تم سے امید کروں گا تم ہمیشہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہو"یہ کہہ کر ہادی نے فون رکھ دیا
صنم اپنے ڈیپارٹمینٹ کی طرف چل دی
***
"ارے بیٹا اپنے روم میں اکیلی کیا کررہی ہوں یہاں آ کر بیٹھو ہمارے ساتھ"
ناعیمہ نے ساجدہ سے کہہ کر حیا کو روم سے بلوایا تو خضر نے کہا
"جی انکل بس آنے والی تھی معاویہ کی دو شرٹز رہ گئی تھی پریس کرنے سے"
حیا نے مسکرا کر سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
"مگر کپڑے تو باہر سے ڈرائے کلین ہوتے ہیں اور پریس ہوتے ہیں تم کیوں کر رہی تھی اس کے کپڑے پریس"
ناعیمہ نے حیرت سے حیا کو ریکھ کر پوچھا
"آنٹی مجھے معاویہ صبح ہی بول کر گئے تھے آج سے میں ان کے سارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرو"
حیا نے مسکراتے ہوئے بولا تو نائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر خضر کو دیکھا جس کے ماتھے پر بل نمایاں ہوگئے
"یہ تم سے معاویہ نے کہا۔۔۔۔ بیوقوف تو نہیں ہے وہ جو دو دن کی آئی ہوئی بیوی کو اپنے کاموں میں لگا رہا ہے"
خضر نے غصے میں ناعیمہ کو گھورتے ہوئے کہا جیسے کہ اس میں ناعیمہ کا ہی قصور ہوں
"ارے بیٹا اس نے مذاق کیا ہوگا تمہارے ساتھ"
ناعیمہ نے حیا کو سمجھانا چاہا
"نہیں آنٹی انہوں نے بالکل اسمائل نہیں دی بہت سیریس ہو کر کہہ رہے تھے میرے کام سے فارغ ہو جاؤں تو ساجدہ کی کچن میں ہیلپ کروانہ،،، جبھی میں نے ان کے کپڑے صبح ہی دھو دیئے تھے،،،، اچھا آپ مجھے بتا دیں آج رات کے ڈنر کا مینیو پھر میں ساجدہ کے ساتھ ہیلپ کرواتی ہوں"
حیا نے سعادتمندی دکھاتے ہوئے کہا
"کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا تمہیں یہ سارے کام کرنے کی، جاو اپنے روم میں اور ریسٹ کرو۔۔۔ معاویہ آجائے تو میرے روم میں بھیجنا"
خضر نے حیا کو ریسٹ کرنے کا بولا اور آخر میں ناعیمہ کو آرڈر دے کر اپنے روم میں چلا گیا
**
"کیسے ہی ڈیڈ اپ۔۔ یاد کیا آپ نے" معاویہ جیسے ہی گھر آیا ناعیمہ نے فورا اسے خضر کا میسج دیا
"شادی کے دو دن بعد ہی اتر گیا تمہارے سر سے عاشقی کا بھوت" خضر نے فائل بند کرتے ہوئے معاویہ کی کلاس لی
"او ڈیڈ آپ ابھی تک صبح کی بات لے کر بیٹھے ہیں،، ابھی بہت ضروری اسائنمنٹ میرے پاس اس پر کام ختم ہو جائے تو لے جاؤں گا آپ کی بہو کو کہیں گھمانے" معاویہ نے سامنے رکھی ہوئی چیئر پر ریلکس انداز میں بیٹھتے ہوئے خضر کو جواب دیا
"معاویہ میرے سامنے آداکاری مت کیا کرو،،، میں نے پہلے ہی بتایا تھا باپ میں ہوں تمہارا،، تمہارے رگ رگ سے واقف ہو۔۔۔ اگر تم نے حیا سے کوئی بھی الٹے سیدھے کام کروائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، گھر کے ماحول کو اور رشتوں کو بگاڑنے کی اجازت میں تمہیں ہرگز نہیں دوں گا"
خضر نے سنجیدہ انداز میں معاویہ سے کہا
"کیا الٹے سیدھے کام کرائے میں نے"
معاویہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
"زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے ایکٹنگ نہیں کرو،،، تم نے حیا سے یہ نہیں کہا کہ وہ تمہارے کام خود اپنے ہاتھ سے کرے، ،، آج تم نے اس سے اپنے کپڑے دھلواۓ ہیں اور پریس کروائے ہیں۔۔۔۔ ان کاموں کے کروانے کے لیے شادی کی تھی تم نے اس سے۔ ۔۔۔۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو تمہاری شادی میں ساجدہ کی بیٹی سے کروا دیتا"
خضر نے اس پر مزید بگڑتے ہوئے کہا
"ڈیڈ پلیز یہ سب آپ کو حیا نے کہا ہے"
معاویہ نے سیریس انداز اپناتے ہوئے کنفرم کرنا چاہا
"کیوں اب کیا کرو گے جا کر اس کے ساتھ لڑو گے جھگڑو گے یا مارو کے پیٹوں گے اسے" خضر نے تیز لہجے میں کہا
"ڈیڈ پلیز"
معاویہ کو غصہ تو بہت آیا،، حیا کی کارستانی وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا
"معاویہ میری بات کان کھول کر سن لو یہ اپنی پولیس گری پولیس اسٹیشن میں چھوڑ کر آیا کرو،، گھر پر انسانوں کی طرح بی ہیو کیا کرو اور اگر تم نے یہاں سے جا کر حیا کو کچھ بھی کہا تو میں لحاظ نہیں کروں گا کہ اب تم شادی شدہ ہو گئے ہو"
خضر نے دوبارہ اسے وارن کیا
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو سمجھ میں آئی تمھیں میری بات کہ نہیں"
خضر نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا
"جی ڈیڈ آئیندہ میں آگے سے خیال رکھو گا"
معاویہ نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا
جب سے اس کی شادی کا سلسلہ چلا تھا اس کے اور خضر کے درمیان تعلقات اچھے ہوگئے تھے جس سے گھر کا ماحول بھی اچھا ہو گیا تھا مگر آج حیا کی وجہ سے خضر نے معاویہ کی اچھی طرح کلاس لی وہ اندر سے کھول کر رہ گیا
"بےبی مجھ سے پنگا لے کر تم نے آج رات خود ہی اپنی شامت بلائی ہے اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا"
معاویہ نے خضر کے روم سے نکلتے ہوئے سوچا
جاری ہے
Surprice epi ka shor na dale ye long epi thi....

0 comments:
Post a Comment